Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

ناکامل
عائشہ ذوالفقار
چھٹی قسط
“اسجد… ” میرے لبوں سے سرگوشی سی نکلی تھی, وہ اسجد خان کی تصویر تھی, اس کی باقی معلومات بھی نیچے اپڈیٹ ہو گئیں
“تو کیا اسجد نے اجالا کو قتل کیا… ؟” مجھ سے سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا
“کیا ثمن اسجد کے پاس ہے ؟” میں سوچے جا رہی تھی
“کیا اسجد اور اجالا کے بیچ کوئی تعلق تھا ؟” میرا سر چکرانے لگا
اچانک میرے ذہن میں ایک کوندا سا لپکا, جس رات ااجالا کا قتل ہوا… اس رات وہ کافی دیر سے گھر آیا تھا
اور جس رات ثمن اغواء ہوئی, اس رات بھی وہ مجھ سے مار کھا کر نہ جانے کہاں نکل گیا تھا
“اس شخص کا پچھلا سارا بائیو ڈیٹا نکالو… ” میں نے اس لڑکے سے کہا
“میڈم اس کا صرف چار سالہ پچھلا ریکارڈ ہے, یہ شخص کچھ عرصہ پہلے امریکہ سے پاکستان آیا ہے, اس کی اسلام آباد میں ایک فیکٹری ہے اور اس کا گھر… ” میرے شک پر مہریں لگتی جا رہی تھیں, وہ اسجد ہی تھا
بمشکل میں وہاں سے باہر نکلی, ذہن مسلسل چکراۓ جا رہا تھا
اسی رات میں نے خفیہ طریقے سے اس کی فیکٹری کا چکر لگایا, شادی کے بعد میں آج دوسری بار اس کی فیکٹری آئی تھی, وہ فیکٹری کھنڈر ہوئی پڑی تھی, مشینوں کو زنگ کھا رہا تھا, یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی بدمعاش کا اڈہ ہو, اگلے ہی دن میں نے اس کی بزنس ریپوٹیشن کا پتہ کروایا, اس کی فیکٹری پچھلے تین سالوں سے بحران کا شکار تھی لیکن وہ اسے بند نہیں کر رہا تھا, بس اس کے اخراجات برداشت کئے جا رہا تھا, صاف لگ رہا تھا کہ اسے اس فیکٹری کی کوئی ضرورت نہیں تھی, فیکٹری کی آڑ میں کچھ اور ہی دھندہ چل رہا تھا
آب اگلا مرحلہ اسجد کی تلاش تھی, مجھ سے مار کھا کر وہ نہ جانے کہاں جا کر چھپ گیا تھا, اگلے دو, تین دن اسے ڈھونڈنے میں لگ گئے, وہ اسلام آباد کے ایک نسبتاً گمنام سے ہوٹل میں رہ رہا تھا, کچھ بھی کرنے سے پہلے مجھے اس کے منہ سے سب کچھ اگلوانا تھا اور ظاہر ہے وہ مجھے تو کچھ نہیں بتاتا…کسی قیمت پر بھی نہیں سو میں نے وہ طریقہ استعمال کیا جو میں انتہائی چھٹے ہوۓ مجرموں پر کیا کرتی تھی, اسی رات میں نے اسلام آباد کے ایک نائیٹ کلب سے ایک انتہائی حسین اور چالاک لڑکی کا بندوبست کیا جس نے اسجد کو اپنے جال میں پھنسا کر اس سے سچ اگلوانا تھا, میں نے کہا نا کہ وہ سو فیصد شریف نہیں تھا, ہر بار مجھ سے لڑنے کے بعد وہ کسی نہ کسی دلربا کی بانہوں میں جا کر سو جاتا تھا, بس اس بار اس کے لئے دلربا میں نے خود ہی ڈھونڈ لی تھی, اس لڑکی کو سب کچھ اچھی طرح سمجھا کر میں ایک دن اسجد سے ملنے چلی آئی
………………….
“گھر آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ؟” وہ مجھے سامنے پا کر پریشان ہو گیا تھا
“ہاں… تاکہ تم اس بار مجھے جان سے ہی مار دو” اس کے چہرے کے زخم ابھی تک تازہ تھے
“تو اب ساری عمر اس ہوٹل میں گزارو گے کیا ؟” میں نے پوچھا
“تمہاری بلا سے… جہاں مرضی گزاروں ” وہ تڑخ کر بولا
“ٹھیک ہے… جہاں مرضی گزارو لیکن میری جان چھوڑ دو” میں نے کہا
“خلع لے لو مجھ سے… ابھی اسی وقت چھوڑ دیتا ہوں تمہاری جان… ” وہ بولا
“اتنی بڑی ڈرنک فیکٹری کے مالک ہو تم, مجھے دس کروڑ دیتے جان کیوں نکل جاتی ہے تمہاری” مجھے غصہ آ گیا
“کب کی مر کھپ گئی وہ فیکٹری… ” اسجد چیخ کر بولا
“تو بند کیوں نہیں کر دیتے ہو اسے… اس بحران ک شکار ہوئی فیکٹری پر لگانے کے لئے ہر ماہ لاکھوں روپے ہیں تمہارے پاس… لیکن مجھے دس کروڑ دیتے تکلیف ہوتی ہے تمہیں” میں بھڑک کر بولی تھی
“تم فیکٹری گئی تھیں ؟” اسے شائد شک ہوا تھا
“میرے پاس اتنا فضول وقت نہیں ہے کہ تمہاری اس اجڑی ہوئی فیکٹری میں تانک جھانک کرتی پھروں, مجھے کیا پتہ نہیں ہے کہ تمہارا سارا کاروبار ٹھپ ہو چکا ہے, میری ایک بات کان کھول کر سن لو اسجد… صرف ایک ہفتہ ہے تمہارے پاس… مجھے میرے دس کروڑ دو اور جان چھوڑو میری ورنہ پورے ایک ہفتے بعد تمہیں گھسیٹتے ہوئے تھانے لے جاؤں گی, ہزاروں حربے آتے ہیں مجھے تم سے دس کروڑ نکلوانے کے سمجھے تم” میں یکدم اس پر چڑھ دوڑی تھی
“صرف ایک ہفتہ… اس کے بعد مجھ سے گلہ نہ کرنا” اسے وارننگ دیتے ہوئے میں واپس آ گئی, اب باقی کا کام اس لڑکی کو کرنا تھا, مجھے پتہ تھا کہ اسجد ایک ہفتے میں دس کروڑ تو کیا… دس ہزار بھی نہیں لا سکتا…
وہ بس اپنی اس پریشانی کو حسن اور شراب میں ڈبو سکتا تھا… اور اس نے ڈبو دیا
پورے ایک ہفتے بعد مجھے اس لڑکی کی طرف سے ایک وائس میسیج ملا… وہ ایک ریکارڈنگ تھی
………….
دس سال پہلے وہ لاہور پولیس کے لئے خبری کے طور پر کام کرتا تھا, ادھر ادھرص سے غنڈوں کی معلومات حاصل کر کہ پولیس کو دیتا تھا… اور پیسہ کماتا تھا, دھیرے دھیرے اسے لگا کہ اس کما میں وہ دو طرف سے پیسہ کما سکتا ہے سو پولیس کے ساتھ ساتھ غنڈوں کا خبری بھی بن گیا, اِدھر کی خبر اُدھر اور اُدھر کی خبر اِدھر…اس پر دو طرف سے پیسہ برسنے لگا, لیکن وہ جانتا تھا کہ یہ حربہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا, جس دن دونوں میں سے کسی ایک بھی دھڑے کو اس کی حقیقت معلوم ہو گئی, وہ اس کا آخری دن ہو گا, سو اس نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ہی بار بڑا ہاتھ مارا جاۓ, جس دن تقی نے اسے حشمت چوہدری کی بیٹی کی تصویر دکھائی, اس دن جیسے اس کا بمپر پرائز نکل آیا
وہ حشمت چوہدری کی بیٹی کو بھلے نہ جانتا ہو… لیکن وہ اجالا کو جانتا تھا
اب سے دس سال پہلے وہ 22 سال کا ایک انتہائی چارمنگ اور پر کشش لڑکا ہوا کرتا تھا, پولیس اور غنڈوں کا خبری ہونے کی وجہ سے اچھا خاصا پر اعتماد بھی تھا, کرائم سے منسلک ہونے کی وجہ سے تھوڑا بہادر بھی تھا, جیب میں پستول رکھتا تھا, ہوڈ والی بلیک جیکٹ پہنتا تھا, منہ میں سگریٹ دباتا تھا… لڑکیاں تو ٹوٹ ٹوٹ کر گرتی ہیں ایسوں پر… اور اس پر فدا ہونے والی ہزاروں لڑکیوں میں ایک اجالا بھی تھی
لیوش نائٹس کی سب سے مہنگی ڈانسر جس کے لئے لوگ پیسہ پانی کی طرح بہایا کرتے تھے
اس نے تقی سے وعدہ کر لیا کہ وہ اسے حشمت چوہدری کی بیٹی لا کر دے دے گا لیکن بدلے میں اس سے دس کروڑ لے لئے, وعدے کے عین مطابق 12 اگست کو وہ اجالا کو لیکر تقی سے طے کی ہوئی جگہ پر آگیا اور اجالا کو اس کے حوالے کر کہ اپنے دس کروڑ لیکر راتوں رات امریکہ فرار ہو گیا, اس کی کوئی واضح شناخت نہیں تھی, کوئی پتہ ٹھکانہ بھی نہیں تھا, میونسپل ریکارڈ بھی ندارد تھا سو کوششوں کے باوجود تقی اس کا کوئی سراغ نہ لگا سکا, امریکہ جا کر جب تک پیسہ چلا… تب تک عیش کرتا رہا اور جب اکاؤنٹ خالی ہونے لگا تو پاکستان واپس آ گیا, بچے کھچے پیسوں سے اسلام آباد میں ایک گھر لیا اور ایک ڈرنک فیکٹری خرید لی… لیکن اس کی آڑ میں نہ صرف شراب کی سمگلنگ کرتا رہا بلکہ ایک دو جوۓ کے اڈے بھی چلاتا رہا اور پھر…
اسے اے ایس پی سبین راۓ مل گئی
میں اس کے تمام تر دھندوں کے لئے ایک ڈھال ثابت ہو سکتی تھی, اس نے مجھے پروپوز کیا اور میں نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہوئے اس سے شادی کر لی, بھلا ایک پولیس آفیسر کے شوہر پر کوئی کیسے شک کرتا جبکہ پولیس آفیسر بھی اے ایس پی سبین راۓ ہو, وہ کھل کر کھیلنے لگا, رفتہ رفتہ پیسہ اجڑتا چلا گیا, فیکٹری ٹھپ ہو گئی, جوۓ میں نقصان ہونے لگا… تو اچانک اسے کہیں سے اجالا کا سراغ مل گیا, وہ کئی بار اس سے ملا, اس کے ماضی کو لیکر اسے بلیک میل کرتا رہا اور بھاری رقم بٹورتا رہا لیکن…
سوال یہ تھا کہ اس نے اجالا کو قتل کیوں کیا ؟ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کو آخر ذبح کیوں کر دیا ؟
اس نے قتل کیا یا کسی اور نے… ؟
اگر اجالا اسے پسند کرتی تھی تو اس نے سنان سے شادی کیوں کی ؟
نکاح کے بعد وہ اور سنان ایک ساتھ گوجرانوالہ سے نکلے جبکہ تقی کے حوالے ٹونی نے صرف اجالا کو کیا… بقول تقی کے اسے اجالا اکیلی ملی تو کیا ٹونی نے سنان کو قتل کیا ؟
لیکن کیوں ؟
اور اب اچانک سے تقی کو ٹونی کیسے یاد آ گیا ؟
اور وہ اس کے لئے اتنا اہم کیسے ہو گیا کہ اس کے بدلے وہ مجھے اجالا کا قاتل اور ثمن دونوں دینے کے لئے تیار ہو گیا ؟
مرسلین مہرا کو اپنی عزت کی کتنی بھی فکر ہوتی لیکن وہ اس قدر شد و مد سے ایک چھٹے ہوۓ بدمعاش کا کیس لڑنے کے لئے کیوں تیار ہو گیا ؟ سینکڑوں مجرموں کو موت کے منہ میں پہنچانے والا دی مرسلین مہرا ایک غنڈے کے لئے اس قدر رحم دل کیسے ہو گیا ؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مرسلین اور تقی دونوں ایک دم سے ثمن کے معاملے میں اتنے مطمئین کیسے ہو گئے ؟
سوالوں کا ایک ہجوم تھا جو میرے دماغ میں گھوم رہا تھا, دور کہیں گھنٹی بج رہی تھی کہ اس کھیل میں کوئی اور بھی شامل تھا لیکن کون… ؟
اب جا کہ صورتحال ذرا میرے قابو میں آئی تھی, اب شائد تھوڑا سا کھیل مجھے کھیلنا تھا, شائد دس کروڑ داؤ پر لگانے کا وقت آ گیا تھا
………………………..
اگلے دن شام پانچ بجے میں نے تقی کو کال کی
“تمہیں اب ٹونی کیوں چاہئے ؟” میں نے پوچھا
“وہ تیرا مسئلہ نہیں ہے” آس نے کہا
“یہ ہی تو پوچھ رہی ہوں کہ وہ اب تمہارا مسئلہ کیوں ہے ؟” میں نے پھر پوچھا
“تو اس بات کو چھوڑ رانی… بس یہ بتا کہ وہ ملا کہ نہیں ؟” اس نے کہا
“مل گیا ؟” میں نے کہا
“کب میرے حوالے کرے گی ؟” آس نے پوچھا
“جب تم ثمن واپس کر دو گے ؟” میں نے کہا
“تو اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہے کہ ثمن میرے پاس ہے ” وہ تڑخ گیا
“چاہے جس کے پاس بھی ہے… مجھے مرسلین کا فون آۓ کہ ثمن اس کے پاس ہے ” میں نے کہا
“ٹھیک ہے ” آس نے حامی بھر لی
“اور دوسری بات… مجھے اجالا کا قاتل چاہئے ؟” میں نے پھر کہا
“رانی وہ شخص سونے کا نہیں ہے جو تیری ساری فرمائشیں پوری ہو جائیں گی, صرف ایک بات بول… یا ثمن یا اجالا کا قاتل ؟” اس نے کہا
“دونوں ” میں اپنی بات پر قائم تھی
“صرف ایک… ” وہ بضد تھا
“ثمن مہرا…” میں نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“اوکے… ” وہ دھیرے سے مسکرایا تھا, اسے شائد اندازہ تھا کہ میں اس سے ثمن ہی مانگوں گی
“مہرا کا فون آ جاۓ تو کال کرنا” وہ کہتے ہوئے کال کاٹ گیا, اس کے فوراً بعد میں نے اسجد کو فون کیا, صد شکر اس نے اٹھا لیا
“کہاں ہو ؟” میں نے پوچھا
“تمہاری بلا سے… جہاں مرضی ہوں ” وہ بھڑک کر بولا تھا
“میرے دس کروڑ کا انتظام ہو گیا ؟” میں نے پوچھا
“میری بات سنو سبین… میں کہاں سے لاؤں دس کروڑ… ؟ ” وہ روہانسا ہو گیا
“جہاں سے مرضی لاؤ… میری بلا سے” میں نے اسی کے انداز سے کہا تھا
“نہیں ہیں میرے پاس… جو کرنا ہے کر لو” وہ بولا
“چلو ایک ڈیل کرتے ہیں اسجد… ” میں نے بات گھماتے ہوۓ کہا
“میں نے خلع کے کاغذات تیار کروا لئے ہیں, آ کر ان پر دستخط کر جاؤ لیکن… بدلے میں مجھے تمہاری فیکٹری چاہئے ” میں فل سودا کر رہی تھی
“تم اس بیکار فیکٹری کا کیا کرو گی ؟” وہ حیران ہو گیا
“تمہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے ” میں نے کہا
“بولو… منظور ہے ؟” میں نے پوچھا تھا, وہ سوچ میں پڑ گیا
“تمہارے پاس رات دس بجے تک کا وقت ہے اسجد….اچھی طرح سوچ لو, دس کروڑ کے بدلے بس تمہاری وہ بیکار سی فیکٹری… اور تم ساری زندگی کے لیے آزاد ہو جاؤ گے, پھر جہاں مرضی جانا, جو مرضی کرنا لیکن… اگر نہیں تو ساری عمر یونہی لٹکے رہو گے, نا تو تمہیں دوسری شادی کرنے دوں گی اور نا دوبارہ سے باہر جانے دوں گی, دیکھنا تمہارے ساتھ کروں گی کیا… ” میں کہتی چلی گئی
“اگر بات سمجھ آ جاۓ تو رات دس بجے اپنی فیکٹری کے کاغذات لیکر وہیں آ جانا… ” میں نے کال کٹ کرتے ہوئے کہا تھا
تقریباً دو گھنٹے بعد مجھے مرسلین کا فون آیا
“ہیلو… اے ایس پی سبین راۓ… ” میں نے کہا
“سبین…ثمن گھر آ گئی ہے, میں اپنے چیمبر میں تھا جب مجھے ملازمہ کی کال آئی, کوئی اسے گھر چھوڑ گیا ہے” وہ کہتا چلا گیا, میں نے چپ چاپ کال کاٹ دی, بس اب مجھے اسجد کی کال کا انتظار تھا… رات تقریباً ساڑھے نو بجے اس کا میسیج آ گیا, وہ مجھے فیکٹری دینے کے لئے تیار تھا
……………………………
میں نے اسی وقت تقی کا نمبر ملاتے ہوئے اپنی جیپ باہر نکال لی, اس نے فوراً کال ریسیو کر لی
“ٹونی کو لے جاؤ” میں نے کہا
“کہاں آؤں ؟” اس نے پوچھا, میں نے اسے فیکٹری کا ایڈرس بتا دیا
“تو بھی ہو گی وہاں ؟” اس نے پوچھا
“نہیں… ” میں نے کہا
“جھوٹی” وہ ہنستے ہوئے کال کاٹ گیا تھا, دس بجنے میں پانچ منٹ تھے جب میں اس کی فیکٹری پہنچ گئی, پوری فیکٹری میں ہو کا عالم تھا, بس اکا دکا لائٹیں جل رہی تھیں جن کی مدھم سی روشنی پوری فیکٹری میں پھیلی ہوئی تھی, میں نے ادھر ادھر گھومتے ہوئے اسجد کا انتظار کرنا شروع کر دیا, دس بج کر پانچ منٹ پر مجھے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی
“کہاں ہیں خلع کے کاغذات ؟” وہ آتے ہی بولا
“بیٹھ جاؤ” میں نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا, وہ بادل نخواستہ ایک گرد آلود کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا
“فیکٹری کے کاغذات کہاں ہیں ؟” میں نے پوچھا
“یہ لو… ” اس نے کاغذات میری طرف بڑھا دئے
“میں نے یہ فیکٹری تمہارے نام کر دی ہے, بس اب خلع کے کاغذات سائن کروا لو” اس نے فیکٹری کے کاغذات میرے سامنے پھینکتے ہوئے کہا
“اسجد… اجالا مہرا کو کیوں قتل کیا ؟” میں نے پوچھا
“یہ کیا بکواس ہے ؟” وہ ایک دم بوکھلا گیا
“اچھا چلو… ثمن مہرا کو کیوں اغواء کیا ؟” میں عین اس کے سامنے آئی تھی
“میں تمہاری اس ساری بکواس کے لئے یہاں نہیں آیا… ” وہ ایک دم کرسی سے کھڑا ہو گیا
“بیٹھ جاؤ اسجد خان عرف ٹونی… ” میرے کہتے ہی اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا
“مجھے اے سے لیکر زیڈ تک سب کچھ سچ سچ بتا دو ورنہ… ” میں نے اپنے ریوالور کا رخ اس کی طرف کرتے ہوئے ٹرگر پر انگلی رکھی تھی
“یہ تمہیں کیا بتاۓ گا اے ایس پی… جتنا یہ جانتا ہے اتنا تو تم بھی جان ہی گئی ہو…میں تمہیں سب کچھ بتاتا ہوں, اے ٹو زیڈ ” مانوس سی آواز پر میں ایک دم کرنٹ کھا کر پلٹی تھی
اس نے دھیرے سے اپنی جیکٹ کا ہوڈ سرکایا تھا, میں بس اسے دیکھتی رہ گئی
کھیل تو اصل میں سارا اس کا تھا
جاری ہے
…………..