NaKamil By Ayesha Zulfiqar Readelle50165 Last updated: 16 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Na Kamil By
Ayesha Zulfiqar
تقی کو رہا ہوۓ چار دن ہو چکے تھے, آۓ روز مجھے ڈی آئی جی کی غصے سے لبریز فون کالز وصول ہو رہی تھیں اور میرے پاگل ہونے میں بس کچھ ہی دن رہ گئے تھے, اس دن بھی میں پولیس سٹیشن سے گھر واپس جا رہی تھی جب مجھے ایک انجان نمبر سے کال ائی "ہیلو... اے ایس پی سبین راۓ" میں نے کہا "ابھی مل سکتی ہے رانی... " دوسری طرف تقی نور تھا "کہاں آؤں ؟" میں نے اس سے وجہ نہیں پوچھی, اس نے فوراً جگہ کا نام بتا دیا, میں نے اسی وقت گاڑی ک رخ اس طرف موڑ دیا, وہ مجھ سے پہلے وہاں موجود تھا "بس یہ ہے تمہاری محبت... محبوبہ کے شوہر نے ضمانت کروا دی تو اس کے تلوے چاٹتے ہوۓ خاموش ہو کر بیٹھ گئے " میں نے طنز سے کہا "خاموش ہو کر بیٹھا ہوتا تو تو یہاں نہ کھڑی ہوتی... " اس نے کہا "ثمن کا کچھ پتہ چلا ؟" اس نے پوچھا, میں نے نفی میں سر ہلا دیا "اور اجالا کے قاتل کا... ؟" اس نے پھر پوچھا, میں نے ایک بار پھر نفی میں سر ہلا دیا "اسے جانتی ہے ؟" اس نے ایک تصویر میرے آگے کی تھی "نہیں... " میں نے کہا "یہ ٹونی ہے... وہی ٹونی جس نے مجھے حشمت کی بیٹی کے بدلے اجالا لا کر دی تھی " تقی نے کہا "اسے ڈھونڈ کر دے رانی... " اس نے کہا "تم مجھ سے زیادہ ماہر ہو... خود کیوں نہیں ڈھونڈ لیتے" میں نے کہا "میں نے پوری کوشش کر لی پر نہیں ملا... یہ پولیس کا خبری ہوا کرتا تھا, اور پولیس کے خبریوں کا کوئی اتا پتا نہیں ہوتا, انہیں صرف اندر کے لوگ ہی ڈھونڈ سکتے ہیں" تقی نے کہا "اب تمہیں یہ کیوں چاہئے ؟" میں نے پوچھا "پہلے ڈھونڈ... پھر بتاؤں گا " اس نے کہا "اور مجھے کیا فائدہ ہو گا ؟" میں نے پوچھا "شائد تجھے اجالا کا قاتل مل جاۓ" اس نے کندھے اچکاۓ "یعنی تم جانتے ہو کہ اجالا کا قاتل کون ہے ؟" میں نے پوچھا "شائد... " وہ دھیرے سے مسکرایا "تب تو تمہیں یہ بھی پتہ ہو گا کہ ثمن کہاں ہے ؟" میں نے تکا مارا "شائد... " وہ مسکراتا چلا گیا "اسے ڈھونڈ... مل جاۓ تو کال کرنا" وہ کہہ کر چلا گیا اور میں وہ تصویر لیکر وہیں بینچ پر بیٹھ گئی, تقی بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا, پولیس اپنے خبریوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتی, وہ یا تو مشن کے دوران مارے جاتے ہیں یا... مشن ختم ہونے کے بعد مار دئے جاتے ہیں, ان کا کوئی ایک میونسپل ریکارڈ نہیں ہوتا, کوئی ایک شناخت نہیں ہوتی, اگر ان میں سے کوئی فرار ہو جاۓ تو اسے ڈھونڈنا ناممکن ہوتا ہے نہ جانے اس شخص کا اس سارے کھیل سے کہاں کہاں پر تعلق تھا ؟ نہ جانے یہ تقی نور کو اب کیوں چاہئے تھا ؟ اور اس میں ایسا کیا تھا کہ تقی مجھے اجالا کا قاتل اور ثمن مہرا دونوں دینے کا وعدہ کر گیا تھا ؟ میں نے چپ چاپ بڑے خفیہ طریقے سے اس تصویر کی جانچ شروع کر دی, سائبر سیل والے اس سلسلے میں میری زیادہ مدد کر سکتے تھے, تصویر سے وہ شخص بائیس یا تئیس سال کا لگتا تھا اور تقی کے مطابق یہ تصویردس سال پرانی تھی, یعنی اب وہ شخص بتیس یا تینتیس سال کا ہوتا, میں نے نادرا سے بیس سے پینتیس سال تک کے تمام افراد کا ڈیٹا نکلوایا اور ان سب کی تصاویر سائبر والوں کے حوالے کر دیں, کام بہت مشکل تھا اور وقت طلب بھی... ایک ایک شخص کی تصویر کو ٹونی کی تصویر سے میچ کرنا تھا, اور یہ ابھی صرف اسلام آباد کا ڈیٹا تھا, نہ جانے یہ حربہ کارگر بھی ہوتا ہے نہیں... نہ جانے یہ شخص اب زندہ بھی تھا کہ نہیں, نہ جانے اس ملک میں بھی تھا کہ نہیں... میں بس آنکھیں بند کر کے جواء کھیلنے لگ گئی تھی ابھی اس کام کو شروع کئے دو ہفتے ہی گزرے تھے کہ ایک شام مجھے سائبر سیل سے فون آیا "میڈم... آپ ابھی آ سکتی ہیں کیا ؟" فون کرنے والا کافی جوش سے بولا تھا "کچھ ملا ہے کیا؟" میں فوراً جیپ کی چابیاں اٹھا کر باہر کو بھاگی تھی "لگتا تو ہے... " اس نے کہا "میں آ رہی ہوں " میں نے کال کٹ کرتے ہوئے کہ اور دس منٹ میں وہاں پہنچ گئی, وہ لڑکا مجھے لیکر ایک طرف بنے سیکشن کی طرف آ گیا "میڈم ہو سکتا ہے کہ یہ صرف میرا اندازہ ہو... یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ وہ شخص نہ ہو لیکن آنکھوں کی اسقدر پرفیکٹ میچنگ میں نے آج تک نہیں دیکھی" وہ کمپیوٹر سکرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا, سکرین پر موجود آنکھیں واقعی ٹونی کی تصویر سے سو فیصد میل کھا رہی تھیں "کون ہے یہ ؟" میں نے پوچھا "اس کی تصویر اور بائیو ڈیٹا ابھی اپلوڈ ہو جاۓ گا" وہ میرے لئے ایک کرسی کھینچتے ہوۓ بولا تھا, میرے لئے ایک ایک لمحہ گزارنا دوبھر ہو رہا تھا, کچھ دیر بعد سکرین بلینک ہو گئی اور لوڈنگ کا نیلا دائرہ گھومنے لگا, میرے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے تھے اور اگلے ہی لمحے تصویر اپلوڈ ہو گئی "میڈم میں پھر کہہ رہا ہوں کہ صرف آنکھوں کی میچنگ ہر ہم لوگ کوئی فیصلہ نہیں کرتے لیکن... اس قدر پرفیکٹ میچنگ نظر انداز نہیں کی جا سکتی... " وہ لڑکا کہتا جا رہا تھا اور میں... میں دم بخود سکرین کو دیکھ رہی تھی یقین نہیں آ رہا تھا... اور آتا بھی کیسے... ؟ آخر کیسے... ؟
