NaKamil By Ayesha Zulfiqar Readelle50165 Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
ناکامل
عائشہ ذوالفقار
پہلی قسط
رات تقریباً دو بجے کا وقت تھا جب میرے موبائل کی گھنٹی بجی, میں نے بمشکل نیند بھری آنکھیں کھولتے ہوئے تکیے کے نیچے پڑا موبائل باہر کھینچا تھا, ڈی آئی جی کی کال تھی, میں نے ریسیو کرتے ہوئے موبائل کان سے لگا لیا
“اے ایس پی سبین راۓ… ” میری آواز پوری طرح نیند میں ڈوبی ہوئی تھی
“سبین… بیرسٹر مرسلین مہرا کی بیوی کا قتل ہو گیا ہے, فوراً ان کے گھر پہنچو, میں بھی تھوڑی دیر تک پہنچ جاؤں گا” انہوں نے رات کے اس پہر میری نیند حرام کی تھی
“سر اگر آپ کسی اور کو وہاں بھیج… ” میں کسی صورت وہاں نہیں جانا چاہ رہی تھی, حالانکہ پولیس سروس میں وکیلوں سے ٹاکرا ایک عام سی بات ہوتی ہے لیکن… اپنی سات سالہ سروس میں میں آج تک مرسلین مہرا سے نہیں ملی تھی
“کوئی اور فون اٹھاۓ تو پھر ہے نا… سب گھوڑے بیچ کر سوۓ ہوۓ ہیں” ڈی آئی جی شائد خود ستے پڑے تھے
“اوکے سر” نا کا تو سوال ہی نہیں تھا سو کال کاٹتے ہوئے میں نے موبائل ایک طرف پھینکا اور بستر سے نیچے اتر آئی, اسجد تھوڑی دیر پہلے ہی فیکٹری سے واپس آیا تھا اور دوسری طرف کروٹ لئے جاگ رہا تھا
“بس یہ ہی معمول رکھنا تم اپنا… میرے آنے سے پہلے اپنی نیند پوری کر لیا کرو اور میرے آتے ہی مٹر گشتی کرنے نکل پڑا کرو” اسجد کے منہ میں زبان تھوڑی تھی, ایک تیز دھار آری نما نشتر رکھا ہوا تھا
“یہ مٹر گشتی میری ڈیوٹی ہے سمجھے تم, اور اتنا ہی شوق ہے نا بیوی کے پہلو میں لیٹنے کا تو جلدی گھر آ جایا کرو” میں اس وقت بحث کے بالکل موڈ میں نہیں تھی سو ایک نظر اس کے سوجے ہوۓ چہرے کو دیکھ کر باہر نکل آئی
یخ بستہ جنوری کے اوائل دن تھے, کہرے اور دھند کے باعث ہر شے سفید ہوئی پڑی تھی, دھیرے دھیرے سرسراتی ہوئی یخ بستہ ہوا بدن کے آر پار ہو رہی تھی, میں نے سردی سے بچنے کے لئے ایک موٹی سی بلیک جیکٹ پہن رکھی تھی جس کے ہوڈ سے اپنا سر چھپایا ہوا تھا, میرا پروفیشنل پستول بھی میرے پاس ہی تھا, ہر طرف ہو کا عالم تھا, بیرسٹر مرسلین مہرا کا بنگلہ شہر کے ایک انتہائی پوش علاقے میں تھا, میں وہاں پہنچی تو میرا عملہ اور فارینسک والے مجھ سے پہلے ہی وہاں موجود تھے,ڈی آئی جی نے سب کو الرٹ کر دیا تھا, مجھے گیٹ سے اندر آتا دیکھ کر سب انسپکٹر بھاگتا ہوا میرے قریب آگیا, گھر کا بڑا بیرونی دروازہ کھلا ہوا تھا
“کیا صورتحال ہے ؟” میں نے پوچھا, مرسلین مہرا کچھ دور کھڑا فارینسک ٹیم کے انچارج سے باتیں کر رہا تھا
“میڈم قتل اوپر بیڈ روم میں ہوا ہے, ابھی تک ہم نے لاش کو ہاتھ نہیں لگایا, ڈی آئی جی کا آرڈر تھا کہ آپ کے آنے کا انتظار کیا جاۓ” سب انسپکٹر نے کہا, میں گردن ہلاتے ہوئے اس کے ساتھ اوپر بیڈ روم میں آ گئی, اجالا مہرا کی لاش کمرے کے بیچوں بیچ نیچے فرش پر اوندھی پڑی تھی اور اس کے آس پاس بے تحاشا خون جم چکا تھا
“قتل کے وقت آپ کہاں تھے مہرا صاحب ؟” میں نے حتی الامکان اس کے چہرے کی طرف دیکھنے سے گریز کیا تھا
“میں نے ایک دو ضروری کیسز کے سلسلے میں کچھ فائلیں تیار کرنی تھیں اسلئے میں چیمبر میں ہی رک گیا تھا, اجالا کو میں نے کال کر کے بتا دیا تھا کہ مجھے گھر آنے کی تھوڑی دیر ہو جاۓ گی, پہلے بھی اکثر مجھے کام کے سلسلے میں گھر آتے آتے دیر ہو جاتی ہے, تقریباً رات ایک بجے کا وقت تھا جب مجھے چوکیدار کا فون آیا, اس نے اچانک اوپر گولی چلنے کی آواز سنی لیکن جب تک وہ اوپر پہنچا, قاتل فرار ہو چکا تھا, گھر کی کل وقتی ملازمہ بھی دو دن سے نہیں آ رہی, صرف چوکیدار ہی گیٹ پر تھا, اس نے فوراً مجھے فون کر دیا لیکن… ” مرسلین کہتے کہتے رک گیا
“…لیکن شائد مجھے جلدی چیمبر سے نکلنا چاہیے تھا, شائد مجھے زیادہ تیز گاڑی چلانی چاہئے تھی, بلکہ شائد مجھے دیر تک وہاں رکنا ہی نہیں چاہیے تھا کیونکہ میں جب تک گھر پہنچا… اجالا کی سانسیں تھم چکی تھیں ” مرسلین کا لحجہ دھیما ہو گیا
“میڈم یہ ریوالور لاش کے پاس سے ملا ہے, گولی شائد اسی ریوالور سے چلائی گئی ہے اور مہرا صاحب کا کہنا ہے کہ اس کا لائسنس ان کے اپنے نام پر ہے” سب انسپکٹر نے ریوالور رومال سے اٹھا کر پلاسٹک کے لفافے میں ڈال دیا
“یعنی یہ خود کشی بھی ہو سکتی ہے ” میں نے کہا
“میری اور اجالا کی شادی کو چھ سال ہو چکے تھے اے ایس پی… اور میرا نہیں خیال کہ اسے ان چھ سالوں میں کبھی خود کشی کی کوئی وجہ ملی ہو ” مرسلین نے کہا
“خود کشی کی وجہ تلاشنے کے لئے گزرے چھ سال کوئی معنی نہیں رکھتے مہرا صاحب… بعض اوقات ایک پل ہی کافی ہوتا ہے زندگی سے منہ موڑ لینے کے لیے ” وہ میری بات سن کر چپ کر گیا
“آپ کے اور اجالا کے علاوہ اور کون کون ہوتا ہے گھر پر ؟” میں نے ایک نظر اس کے ستے ہوۓ چہرے کو دیکھ کر پوچھا
“میری پانچ سالہ بیٹی… ثمن مہرا” اس نے کہا
“اس نے بھی گولی چلنے کی آواز سنی ہو گی ؟” میں نے پھر پوچھا
“نہیں… ” مرسلین نے سر جھکا کر کہا
“حیرت ہے… گیٹ پر کھڑے چوکیدار نے گولی چلنے کی آواز سن لی لیکن آپ کی بیوی کے پہلو میں لیٹی پانچ سالہ بچی ڈر کر نہیں اٹھی… ” میں نے طنزاً کہا تھا
“کیونکہ وہ اجالا کے ساتھ نہیں سوتی, وہ ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے, اسے راتوں کو شدید قسم کے ہسٹریائی دورے پڑتے ہیں جن کی وجہ سے وہ زور زور سے چیخیں مارنا شروع کر دیتی ہے, فی الحال ڈاکٹر آصف رضوی سے اس کا علاج چل رہا ہے اور ان کے مشورے سے ہم ثمن کو نیند کا انجکشن لگا دیتے ہیں تاکہ وہ پرسکون ہو کر سوئی رہے… میں جب گھر پہنچا وہ تب بھی سو رہی تھی ” مرسلین کے لحجے سے صاف ظاہر تھا کہ اسے میری بات اچھی نہیں لگی تھی
“لاش کو سیدھا کرو سرمد… ” میں نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے سب انسپکٹر سے کہا, اس نے ایک کانسٹیبل کی مدد سے اجالا مہرا کی لاش کو سیدھا کر دیا, گولی عین اس کے دل میں لگی تھی, میں اس کی شکل دیکھ کر دم بخود رہ گئی
وہ ” وہی ” تھی
وہی جو میرے لئے پچھلے چھ سالوں سے ایک معمہ بنی ہوئی تھی
“تقی… چھوڑ دو اسے” میرے کانوں میں یکلخت میری اپنی ہی آواز لہرائی تھی اور ذہن کے پردے پر دریاۓ راوی کے کنارے بنے اس زیر تعمیر مکان کی چھت پر کھڑا تقی نور ابھر آیا تھا
تقی نور… اپنے وقتوں کا انتہائی درندہ صفت غنڈہ
اس نے ایک ہاتھ سے اجالا کو جکڑا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی کنپٹی پر پستول کی نال رکھی ہوئی تھی
“لے… چھوڑ دیا ” اس نے پستول میری طرف اچھالتے ہوۓ اجالا کو راوی میں دھکا دے دیا تھا, بس اس کے بعد میرے کانوں میں راوی کی روانیوں کا شور گونجتا رہ گیا, میں نے ایک نظر پھر اجالا کی لاش کو دیکھا تھا, پتھرائی آنکھوں سے چھت کی طرف دیکھتی ہوئی وہ زندگی کے ہر دکھ اور جھمیلے سے آزاد ہو چکی تھی
“لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھجواؤ اور ریوالور کو فنگر پرنٹس کے لئے بھیجو” سب انسپکٹر سے کہتے ہوئے میں نیچے آ گئی, کاروائی مکمل کرتے کرتے صبح کے پانچ بج گئے, ڈی آئی جی بھی پہنچ گئے تھے
مرسلین مہرا کوئی عام شخص نہیں تھا, وہ ایک سلیبرٹی تھا, صرف بتیس سال کی عمر میں ہی وہ اسلام آباد شہر کے ان چند وکیلوں میں سے ایک تھا جن کی فیسیں کروڑوں میں تھیں, اپنے دس سال کے کیرئیر میں وہ صرف ایک بار ہارا تھا… وہ بھی جان بوجھ کر, تب اس نے ابھی اپنے کئیرئر کی شروعات کی تھی اور جلدی میں دولت اور شہرت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ دیکھ نہ سکا کہ اس کا پاؤں ایک انتہائی غریب شخص کی گردن پر آ گیا ہے, لیکن جب پتہ چلا تو باقیوں کی طرح اس ایک کی قربانی نہیں دے دی بلکہ عین فیصلے والے دن بھری عدالت کے سامنے سچ بول کر اسے بچا لیا… بس پھر اس کے بعد کبھی نہیں چوکا, پے در پے کامیابیاں سمیٹتا چلا گیا, پچھلے دس سالوں میں اس کی ذاتی زندگی کبھی عوام کے سامنے یوں عیاں نہیں ہوئی تھی, پولیس کو دی اس کی سٹیٹمنٹ کافی جارہانہ تھی
“مجھے اپنے ہر حریف وکیل پر, سلاخوں کے پیچھے بیٹھے ہر اس مجرم پر جسے میں نے وہاں پہنچایا اور اس مجرم کی سات پشتوں کے ہر ہر فرد پر شک ہے”
میڈیا کو دیا اس کا بیان بھی کافی سخت تھا
“یا تو مجھے کسی پر شک نہیں… یا پھر پورے شہر پر شک ہے, میرا پیشہ اگر میرے لئے چار نئے دوست پیدا کرتا ہے تو چالیس نئے دشمن بھی کھڑے کر دیتا ہے”
کیس کافی پیچیدہ تھا, آلہ قتل اس کا ذاتی ریوالور تھا, اس کے بیڈ روم میں آنے کے گیٹ کے علاوہ ہزاروں اور راستے تھے, اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سب کچھ اس کی غیر موجودگی میں ہوا تھا, مجھے بس پوسٹ مارٹم اور فنگر پرنٹس کی رپورٹس کا انتظار تھا
…………………………
لاہور…2014
وہ گرمیوں کی ایک حبس زدہ شام تھی, تب میری پوسٹنگ لاہور میں تھی, میری سروس کو ابھی صرف دو سال ہی ہوۓ تھے, مجھے گوجرانوالہ سے لاہور جانے والے ایک نسبتاً سنسان راستے پر سمگلنگ کی مخبری ہوئی تھی سو میں نے ایک ایس آئی اور دو, تین کانسٹیبلوں کے ساتھ وہاں ناکہ لگایا ہوا تھا
“میڈم… آپ کا موبائل بج رہا ہے ؟” ایس آئی نے غریب آتے ہوئے کہا تھا
“ذرا دھیان سے تلاشی لینا ہر گاڑی کی… ” آس سے کہتے ہوئے میں گاڑی کی طرف آ گئی
“ہیلو.. اے ایس پی سبین راۓ” میں نے موبائل کان سے لگاتے ہوئے کہا
“حشمت چوہدری عرض کر رہا ہوں میڈم ” دوسری طرف سے آواز آئی, حشمت چوہدری لاہور کا ایک انتہائی مشہور بزنس ٹائیکون تھا
“جی حشمت صاحب.. خیریت تو ہے نا ؟” میں نے پوچھا
“عوام جب پولیس کو کال کرے تو خیریت تو نہیں ہوتی ناں سبین میڈم” حشمت نے کہا
“کیا ہواحشمت صاحب ؟” میں نے پھر پوچھا
“آپ سے ایک ملاقات ہو سکتی ہے ؟” اس نے کہا
“ضرور… بتائیں میں آؤں یا آپ تشریف لائیں گے ؟” میں نے کہا
“آپ ہی آجائیں, میرے گھر پر مل لیتے ہیں, لیکن سادہ کپڑوں میں آئیے گا اور پولیس کی جیپ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے, میں گاڑی بھجوا دوں گا” حشمت چوہدری سسپنس بڑھاۓ جا رہا تھا, میں نے اوکے کہتے ہوئے کال کاٹ دی, رات کے دس بج رہے تھے جب میں اپنے کوارٹر پہنچی, حشمت چوہدری کی گاڑی میرے دروازے پر کھڑی تھی, میں نے اندر آ کر صرف کپڑے تبدیل کئے, اپنا موبائل اٹھایا اور باہر آ گئی, پستول وہیں چھوڑ دیا, ابھی اسے ہمہ وقت ساتھ رکھنے کی عادت نہیں ہوئی تھی اور میری اس حرکت سے میرا پورا ڈپارٹمنٹ نالاں تھا, ڈی ایس پی صاحب کہتے تھے کہ…
“سبین… تم جس حساب سے دشمن بناتی ہو اس حساب سے تو تمہیں چوبیس گھنٹے بلیٹ پروف جیکٹ پہننی چاہئے” لیکن میں شائد ذرا زیادہ اوور کانفیڈینٹ تھی, اب بھی میں یونہی سادہ کپڑوں میں حشمت چوہدری کے گھر چلی آئی, انہوں نے کھانے کا انتظام کیا ہوا تھا, کھانے سے فارغ ہوۓ تو چاۓ آ گئی, اس کے بعد وہ مجھ سے مختلف موضوعات پر بحث کرتا رہا
“حشمت صاحب… اب تو میرے پیٹ میں درد ہونے لگا ہے, اب تو بلی تھیلے سے باہر نکال ہی دیں ” آخر میری بس ہو گئی, اس نے قہقہہ لگایا تھا
“تقی نور کا نام سنا ہے آپ نے ؟” اس نے کہا
“لاہور آ کر میں نے سب سے پہلا نام سنا ہی اس کا ہے, اس کا ذکر آ جاۓ تو میرے کانسٹیبلوں کے ہونٹ دیر تک کانپتے رہتے ہیں ” میں نے کہا, اور یہ سچ تھا
“وہ صرف ایک نام نہیں ہے میڈم… وہ ایک دہشت ہے, جہاں وہ نہیں پہنچتا, وہاں اس کی دہشت پہنچ جاتی ہے” حشمت نے کہا, اور یہ بھی سچ تھا, تقی نور کی دہشت پورے لاہور میں پھیلی ہوئی تھی, وہ سو سے زائد وارداتوں میں ملوث تھا, اس پر پچاس سے زائد قتل کے مقدمات درج تھے, چوری, سمگلنگ, ایکسٹارشن, بلیک منی, مرڈر… ایسا کچھ نہیں تھا جس میں اس کا نام نہ آتا ہو
“وہ پچھلے بیس سالوں میں صرف ایک بار گرفتار ہوا ہے میڈم… وہ بھی چھ سال کی عمر میں… اپنے باپ کے قتل کے جرم میں” حشمت نے کہا
“میں جانتی ہوں, اس نے اپنے باپ کو اسلئے قتل کر دیا کیونکہ اس نے تقی کی ماں کو مار دیا تھا ” میں نے کہا, دس سال پہلے میری اس سے ایک ملاقات ہو چکی تھی
“لیکن اس کے باوجود وہ کھلے عام لاہور کی سڑکوں پر پھرتا ہے, اسے معلوم ہے کہ اس کے خلاف پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے” حشمت نے کہا
“آج تقریباً دو بجے کے قریب مجھے اس کی کال آئی, اس نے کہا کہ میری بیٹی اس کے قبضے میں ہے اور اگر میں اسے زندہ سلامت واپس پانا چاہتا ہوں تو پچاس کروڑ کا انتظام کر لوں” حشمت چوہدری نے کہنا شروع کیا
“لیکن کہانی میں ٹوسٹ یہ ہے کہ میری ایک ہی بیٹی ہے جو اس وقت اپنے کمرے میں موجود ہے, وہ ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے اسلئے عرصہ ہوا اس نے گھر سے باہر ایک قدم بھی نہیں نکالا… ” حشمت نے کہا
“تو پھر تقی کے پاس کون ہے ؟” میں حیران ہو گئی
“یہ ہی تو معمہ ہے… ” حشمت نے کہا
“اب آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟” میں نے پوچھا
“اسے پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیں ” حشمت نے بڑے سکون سے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی تھی
“دو باتیں ممکن ہیں… پہلی یہ کہ ہو سکتا ہے کہ یہ اس کی کوئی چال ہو, اگر یہ چال مجھے پھنسانے کے لئے ہے تو میں تیار ہوں لیکن اگر یہ چال آپ کے لئے ہے تو کیا آپ تیار ہیں ؟ ایک ذہنی طور پر مفلوج بیٹی کے ہوتے ہوئے ؟ ” میں نے پوچھا
“میں تیار ہوں ” اس نے فوراً کہا تھا
“”لیکن یہ بھی تو ممکن ہے کہ شائد اس بار وہ واقعی چوک گیا ہو… ” حشمت نے کہا
“اگر ایسا ہے نا حشمت صاحب… تو یقین کریں کہ اس بار پھانسی کا پھندا اس کا حق ہے” میں نے کہا
“آپ بس ایک کام کریں, اسے کال کر کہ کہیں کہ آپ نے پیسوں کا انتظام کر لیا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ پیسے لینے وہ خود آۓ گا, ظاہر سی بات ہے کہ وہ پیسے لینے کے بعد اس لڑکی کو آپ کے حوالے کرے گا جسے وہ آپ کی بیٹی سمجھ رہا ہے, آپ مقررہ وقت پر اپنے ڈرائیور کو ایک خالی بریف کیس دے کر اس کی بتائی ہوئی جگہ پر بھیج دیں… باقی میرا کام ہے” میں نے کہا
“ٹھیک ہے میڈم… ایسا ہی ہو گا” حشمت نے کہا
“کیا میں ایک نظر آپ کی بیٹی کو دیکھ سکتی ہوں ؟” میں نے پوچھا
“ضرور… “حشمت چوہدری مجھے اپنی بیٹی کے کمرے تک لے آیا, وہ اپنے ارد گرد رنگ بکھراۓ ایزل کے سامنے بیٹھی تھی, بلاشبہ وہ لڑکی بہت حسین تھی
ڈی ایس پی صاحب سے اجازت لینے کا وقت نہیں تھا, وہ کبھی بھی مجھے اس آپریشن کی اجازت نہیں دیتے سو میں نے ان سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی, بس اپنے ایک ایس آئی اور پانچ, چھ کانسٹیبلوں کے ساتھ اپنے مشن کی تیاری شروع کر دی, حشمت چوہدری نے مجھے مقررہ جگہ اور وقت دونوں بتا دئیے تھے, اس نے رات ایک بجے پیسے لینے آنا تھا اور پیسے لینے کے بعد حشمت چوہدری کو اس کی بیٹی کا پتہ دینا تھا, میں نے اپنے سپاہیوں کو اس جگہ کے آس پاس تعینات کر دیا, ایس آئی میرے ساتھ تھا, رات تقریباً پونے ایک بجے کا وقت تھا جب حشمت چوہدری کا ڈرائیور گاڑی لیکر وہاں پہنچ گیا اور پور ایک بجے تقی نور بھی اپنے ساتھ تین غنڈے لیکر وہاں پہنچ گیا, اسے گاڑی سے اترتا دیکھ کر میرے ساتھ بیٹھے ایس آئی کی انگلیاں لرز گئیں تھیں
وہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا پچاس لوگوں کے قاتل کو ہونا چاہیے… سفاک
حشمت چوہدری کا ڈرائیور ابھی گاڑی میں ہی تھا جب میں نے ایس آئی کو اشارہ کرتے ہوئے اپنی پستول کا ٹرگر دبا دیا, میری گولی اس کا بازو چیر گئی تھی
“ہاتھ اوپر کرو… فوراً ” میں نے اپنے پستول کا رخ اس کی طرف کیا تھا, اس نے ایک نظر میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوۓ دونوں ہاتھ اوپر کر دئیے
“کیا کرے گی پکڑ کے ؟” اس نے پوچھا تھا
“پھانسی لگاؤں گی ” میں نے کہا
“بچپن سے شوق ہے تجھے مجھے پھانسی لگانے کا… ” ہنس کر کہتے ہوئے اس نے لمحے کے ہزارویں حصے میں دائیں طرف کھڑے ایس آئی کو ٹانگ مار کر اس کا پستول چھینا اور مجھ پر تان لیا
“اور یہ ہمیشہ تیرا شوق ہی رہے گا رانی… ” اس نے کہا
“سرینڈر کر دو… ورنہ گولی مار دوں گی” میں نے کہا
“مجھ سے سیکھی ہوئی گولی مجھ ہی پر چلاۓ گی ؟” اس نے کہا
“تو نہ سکھاتے… تمہیں پتہ تو تھا کہ ایک دن یہ گولی تم پر ہی چلے گی” میں اس کے قریب ہوئی تھی اور اس نے اسی لمحے مجھ پر حملہ کر دیا, پوراایک گھنٹہ میں اس کے پیچھے بھاگتی ہوئی اس سے لڑتی رہی
“دس سال پیچھے مڑ کر تو دیکھ رانی… ہم دوست ہوا کرتے تھے ” اس نے کہا
“دس سال پیچھے مڑ کر دیکھ لیا تقی… ایک برگر چرانے والا لڑکا اور اسے پناہ دینے والی لڑکی آپس میں دوست تھے… پچاس سے زیادہ قتل کرنے والا تقی نور اور بیس سے زیادہ قاتلوں کو پھانسی لگانے والی سبین راۓ دوست نہیں ہیں” میں نے کہا
“میں نے تجھے آدھا برگر دیا تھا رانی… ” وہ کوششوں پہ کوششیں کر رہا تھا
“وہ برگر تمہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پورا کر کے لوٹاؤں گی… یہ وعدہ ہے میرا” میں ہار نہیں مان رہی تھی, آخر ایک مکان کی چھت پر مجھ سے لڑتے ہوئے وہ نیچے کودا اور مین روڈ پر چڑھ گیا, میں اس کے پیچھے بھاگی تھی, وہ لمحوں میں روڈ کراس کر گیا اور دائیں طرف سے آتے ایک تیز رفتار ٹرک نے مجھے اٹھا کر دور پھینک دیا, اس نے بس ایک بار پلٹ کر دیکھا تھا
مجھے جب ہوش آیا تو میں ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں تھی, مجھے دو, تین گہری چوٹیں آئی تھیں
“ایس آئی کو بلاؤ… ” میں نے ہوش میں آتے ہی نرس سے کہا تھا
“کیا بنا ؟” ایس آئی باہر ہی کھڑا تھا
“نکل گیا میڈم… ” آس کا سر جھک گیا, میرے غصے کی کوئی انتہا نہیں تھی, وہ میری انگلیوں میں آ کر نکل گیا تھا
“آس کے ساتھ جو آدمی تھے ان کا کیا بنا ؟” میں نے پوچھا
“وہ تینوں مارے گئے میڈم” ایس آئی نے کہا
“سالا کسی ایک کو تو زندہ پکڑ لیتے… ” مجھے بہت طیش چڑھ رہا تھا
“میڈم آب کیا ہو سکتا… ” میں نے ایس آئی کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی
“ابھی بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے, ایسے ہی تو نہی چھوڑوں گی اسے” میں اپنے بازو پہ لگی ڈرپس اکھاڑتے ہوۓ بیڈ سے نیچے اتر آئی
“میم آپ کی حالت ٹھیک… ” نرس آگے کو آئی تھی
“بکواس بند کرو اور کوئی تیز پین کلر ہے تو دے دو” میں نے غصے سے کہا, اس نے چپ چاپ سہم کر پوری شیشی میری طرف بڑھا دی, میں نے دو, تین گولیاں پانی کے ساتھ نگلیں, بلیٹ پروف جیکٹ پہنی اور اپنے پستول کا میگزین بھرتے ہوئے باہر آ گئی, میرے کندھے سے خون رسنے لگا تھا, ایس آئی کو ساتھ لیکر میں دوبارہ اسی جگہ آ گئی لیکن سینکڑوں بار بھی تقی نور اور اس کے ساتھیوں کی گاڑی کی تلاشی لینے کے باوجود بھی مجھے کوئی سراغ نہ ملا, میں بے بس ہوتی جا رہی تھی, اچانک میری نظر اس کی گاڑی کے ٹائروں پر پڑی, میں چونک گئی, ان پر گیلی ریت چمٹی ہوئی تھی
“یہ گیلی ریت… ” میں دھیرے سے کہتی ہوئی نیچے بیٹھی تھی
“یہ گیلی ریت کہاں سے آئی ؟” میں نے کہا
“میڈم ہو سکتا ہے کسی سڑک کنارے سے لگ گئی ہو” ایس آئی نے کہا
“نہیں… سڑک کنارے سے لگنے والی ریت اتنی گیلی نہیں ہوتی, اور اتنی ٹھنڈی بھی نہیں ہوتی, اتنی گیلی اور ٹھنڈی ریت یا تو ان علاقوں میں ہوتی ہے جہاں کثرت سے بارشیں ہوتی ہیں یا پھر وہاں جہاں پانی کھڑا رہتا ہو… لاہور میں ایسی کونسی جگہ ہے بھلا ؟” میں حیرانی سے بولی تھی
“میڈم جی راوی… ” ایس آئی کے لبوں سے نکلا, میں ایک دم چونک گئی
“جلدی چلو” میں اندھا دھند اپنی جیپ کی طرف بھاگی تھی, میری جیپ کا سپیڈ میٹر 150سے بھی اوپر جا رہا تھا
“میڈم جی خود زندی بچیں گے تو اسے پکڑیں گے نا ؟” میرے ساتھ بیٹھے ایس آئی کے پسینے چھوٹ رہے تھے, ابھی صبح ہونے میں کافی دیر تھی جب ہم لوگ راوی کے کنارے پہنچ گئے
“پورے علاقے میں ادھر ادھر پھیل جاؤ, وہ یہیں کہیں ہو گا, اس کے بازو میں گولی لگی تھی, یقیناً کہیں نا کہیں خون کے دھبے ضرور ہوں گے” میں اپنے سپاہیوں سے کہتی ہوئی خود بھی ایک طرف کو نکل آئی, وہ پورا علاقہ چھوٹے بڑے مکانوں سے بھرا پڑا تھا, میں بغور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے راوی کے کنارے کی طرف آ گئی, وہاں ساحلی پودوں کی لمبی لمبی جڑیں پھیلی ہوئی تھیں, ان پر مجھے خون کا ایک دھبہ نظر آ گیا, میں اپنی پستول نکالتے ہوئے اس سمت دوڑ پڑی, وہاں درختوں کی اوٹ میں ایک دو منزلہ زیر تعمیر عمارت چھپی ہوئی تھی, میں دیوار پھلانگ کر اندر آ گئی, عمارت کے فرش پر بھی جا بجا خون کے دھبے لگے ہوئے تھے, انتہائی خاموشی سے چلتی ہوئی میں عمارت کے اندر داخل ہو گئی… ہر طرف گھپ اندھیرا اور سناٹا… صرف راوی کا شور گونج رہا تھا, یونہی چلتے چلتے اچانک میری نظر فرش کے ایک ابھرے ہوئے حصے پر پڑی, وہ ایک تہہ خانہ تھا, میں نیچے اتر آئی اور…
وہ وہیں تھا… اجالا اس کے ساتھ تھی
بے بس… رسیوں میں جکڑی ہوئی
“ہاتھ اوپر کرو… ” میں نے پستول کا رخ تقی کی طرف کیا تھا, اس نے فوراً اجالا کو اپنے آگے کرتے ہوئے اپنی پستول کی نال اس کے سر سے لگا دی
“رانی تو ایک قدم بھی اور آگے آئی تو اسے گولی مار دوں گا” وہ اسے لیکر تہہ خانے کی سیڑھیاں چڑھا تھا, “تقی یہ حشمت چوہدری کی بیٹی نہیں ہے, چھوڑ دو اسے” میں نے کہا
“مجھے پتہ چل گیا ہے” وہ اسے لیکر چھت پر آ گیا
“تقی…چھوڑ دو اسے” میں نے پھر کہا تھا
“لے چھوڑ دیا” اس نے اپنا پستول میری طرف اچھالا اور اجالا کو لیکر راوی میں کود گیا, اس کے ساتھیوں کی موٹر بوٹس لمحوں میں ان دونوں کو وہاں سے نکال کر لے گئیں اور میں…
میں اس عمارت کی چھت پر حق دق کھڑی رہ گئی
یہ جانتے ہوئے بھی کہ اجالا حشمت چوہدری کی بیٹی نہیں تھی, یہ جانتے ہوئے بھی کہ اجالا کے بدلے اسے پچاس کروڑ تو دور کی بات ایک پیسہ بھی نہ ملتا, یہ جانتے ہوئے بھی وہ اس کے کسی کام کی نہیں… وہ اسے ساتھ کیوں لے گیا؟
اگر یہ کہوں کہ اپنے فائدے کے لئے لے گیا تو فائدہ اٹھانے کے لئے اسے پورے لاہور کے ڈانس کلبز اور کوٹھوں کی لڑکیاں کم تھیں کیا جو وہ ایک پولیس کیس میں انوالو لڑکی کو ساتھ لے گیا…!
اور اگر یہ کہوں کہ گرفتار ہونے کے ڈر سے لے گیا تو اس کے پچھلے پچاس قتل سر اٹھا کر کھڑے ہو جاتے ہیں جب عینی شاہدین ہونے کے باوجود وہ نہیں ڈرا…!
میں اپنی سن کھڑی بس یہ ہی سوچتی رہ گئی کہ وہ اس لڑکی کو ساتھ کیوں لے گیا
یہ معمہ حل ہی نہ ہو سکا, کوششوں کے باوجود میں اس کے بعد اجالا کو ڈھونڈ نہ سکی, تقی کا بھی کوئی سراغ نہ ملا, بات چھوٹی نہیں تھی سو اوپر تک پہنچ گئی, میری انکوائری لگ گئی, ڈی ایس پی صاحب بہت گرجے, بہت برسے… اور آخر میں میرا گوجرانوالہ ٹرانسفر کر دیا
“تمہارا ٹرانسفر کر رہا ہوں, یہاں رہی تو تقی نور تمہیں زندہ کو گاڑھ دے گا” انہوں نے کہا تھا
اور میں دو دن بعد اپنا بوریا بستر گول کر کہ گوجرانوالہ چلی آئی, سروس کے شروع میں ہی کیریر پر دھبہ لگ گیا تھا
……………………………
میں اپنے کیبن میں تھی جب سب انسپکٹر سرمد بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا
“میڈم یہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ اور یہ فنگر پرنٹس کے نتائج… ” اس نے دونوں چیزیں میرے آگے رکھ دیں, پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میری توقع کے عین مطابق تھی, گولی انتہائی نزدیکی سے عین اس کے دل میں ماری گئی تھی جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی لیکن فنگر پرنٹس کی رپورٹ نے مجھے چکرا کر رکھ دیا
ریوالور پر انگلیوں کے نشان پانچ سالہ ثمن مہرا کے تھے
میں کچھ دیر بعد میں نے اپنی جیپ نکالی اور مرسلین مہرا کی گھر چلی آئی, وہ گھر پر ہی تھا, میں نے چپ چاپ فنگر پرنٹس کی رپورٹ اس کے سامنے رکھ دی, وہ تو ایک دم پھٹ پڑا, انتہائی غصے سے اٹھ کر اوپر گیا اور اپنی پانچ سالہ بیٹی کو بازوؤں میں اٹھا کر نیچے لے آیا
“یہ دیکھیں…کیا واقعی آپ کو لگتا ہے کہ اس نے اجالا کا قتل کیا ہو گا ؟” اس نے ثمن کو میرے آگے کر دیا, میں اسے دیکھ کر سن رہ گئی, وہ بچی دونوں ٹانگوں سے معذور تھی
“اسے ابھی تک ٹھیک سے اپنا فیڈر بھی پکڑنا نہیں آیا اے ایس پی سبین راۓ” مرسلین کے لحجے سے طنز صاف ظاہر تھا, میں چپ چاپ واپس آ گئی
معاملہ بہت زیادہ سنگین ہو گیا تھا, ڈی آئی جی ننگی تلوار کی طرح میرے سر پر سوار تھے, میں نے اپنی ہر ممکن کوشش کر لی, سینکڑوں بار اجالا کی لاش کے پاس سے برآمد شدہ ثبوتوں کی جانچ کر لی, ہزاروں بار مرسلین مہرا سے تفتیش کر لی, لاکھوں بار اس کے آس پڑوس سے چھان بین کر لی لیکن بے سود… اس رات کسی ایک نے بھی نہ تو مرسلین مہرا کے گھر کسی کو جاتے ہوئے دیکھا اور نہ باہر نکلتے ہوئے… اول تو اتنی رات کو بند کمروں اور لحافوں میں چھپے لوگوں کی اکثریت نے گولی چلنے کی آواز سنی ہی نہیں اور اگر بالفرض کسی نے سنی بھی تھی تو قتل کا سن کر ہی زبان بند کر گیا تھا, صرف چوکیدار ہی واحد گواہ تھا اور بقول اس کے کوئی بھی گیٹ سے اندر نہیں گیا, میڈیا اجالا مہرا کے قتل کے کیس کو خوب اچھال رہا تھا, دو ہفتے گزر گئے لیکن اجالا کے قاتل کا کوئی سراغ نہ مل سکا, اسی پریشانی میں اس دن میرا اوراسجد کا دھواں دھار جھگڑا ہو گیا, میری اور اس کی شادی کو کئی سال ہو چکے تھے اور شادی کے دو ماہ بعد ہی میرے اور اس کے جھگڑے شروع ہو گئے تھے, میں بعض اوقات خود کو بہت کوستی تھی کہ آخر میں نے اس شخص سے شادی کیوں کی ؟ وہ بہت ہی عجیب و غریب انسان تھا, شادی کے چھ ماہ بعد ہی یہ بھی آشکارا ہو گیا کہ میں کبھی اسے اولاد نہیں دے سکتی تھی لیکن اس کے باوجود اس نے کبھی مجھے طلاق دینے کا نہیں سوچا… وجہ وہ دس کروڑ روپے تھے جو اس نے شیخی میں آ کر حق مہر کے طور پر لکھواۓ ہوۓ تھے, اور ہزاروں بار اس سے تو تو میں میں کرنے کے باوجود میں نے بھی کبھی خلع کا مقدمہ دائر نہیں کیا کیونکہ… دس کروڑ کسے پیارے نہیں ہوتے صرف ان دس کروڑ کی وجہ سے میں اور اسجد کئی سالوں سے اپنی اس انتہائی بے تکی شادی کو کھینچتے چلے آ رہے تھے, ہر بار مجھ سے لڑنے کے بعد وہ کئی کئی دنوں کے لئے غائب ہو جاتا تھا اور میں اس کی عیاش طبیعت سے خوب واقف تھی…فیکٹری سے آنے والی ساری کمائی وہ شراب, جوۓ اور عورتوں پر ہی خرچ کرتا تھا
جاری ہے
