Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

ناکامل
عائشہ ذوالفقار
پانچویں قسط
تقی نور کی گرفتاری کو میں نے حتی المکان راز میں رکھا, صرف میں, ڈی آئی جی اور مرسلین اس کی گرفتاری سے واقف تھے, اس نے اجالا کے قتل کی پوری ذمہ داری اپنے سر لے لی تھی, ثمن کو میں نے اگلے ہی دن ضروری کارروائی کر کہ گھر واپس بھجوا دیا تھا, خلاف توقع تقی کے اعتراف جرم پر مرسلین بالکل خاموش تھا, اس نے کسی بھی قسم کا کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا…دو دن بعد تقی کی عدالت میں پیشی تھی
اس دن میں کام ختم کر کہ گھر پہنچی تو اسجد مجھ سے پہلے گھر آ چکا تھا, رات کے گیارہ بج رہے تھے
“اب تمہارا ساری عمر یہ ہی وطیرہ رہے گا کیا ؟ اس نے طنز سے کہا تھا
“کونسا وطیرہ ؟” میں نے کہا
“یہ گشتی عورتوں والا… رات کو بارہ بارہ بجے گھر آنے والا ” اس نے کہا
“زبان کو لگام دے لو… اچھا ہو گا” مجھے غصہ آ گیا
“میں اپنی زبان کو لگام دے لوں لیکن تم اپنے کرتوتوں سے باز نہ آنا… ” اس کی آواز اونچی ہو گئی
“چاہتے کیا ہو تم؟” میری بس ہو گئی
“یا تو شریف عورتوں کی طرح گھر پر ٹک کر رہو یا پھر میری جان چھوڑ دو” اس نے کہا
“نہ تو میں شریف عورتوں کی طرح گھر پر ٹکوں گی اور نا تمہاری جان چھوڑوں گی… اب بتاؤ” میں تیر کی طرح اس کی طرف آئی تھی
“تم سمجھتی کیا ہو خود کو… ؟” اس نے مجھے نہ جانے کیا سمجھ کر ایک تھپڑ جڑ دیا, بس پھر وہ تھا اور میں تھی
اس رات سے پہلے میں نے اخباروں اور نیوز چینلز پر ہی سنا تھا کہ فلاں شخص نے اپنی بیوی کی کٹائی کر دی اور فلاں بیوی نے اپنے شوہر کی جھڑائی کر دی… لیکن میں نے واقعی اس رات اسجد کی دھلائی کر دی, اس کی ناک اور منہ سے خون بہنے لگا تھا, اس حالت میں بھی اس کا حوصلہ قابل ستائش تھا کہ اس کے منہ سے طلاق کے تین بول نہیں نکلے… دس کروڑ جان سے زیادہ پیارے تھے اسے, اور اس رات میں نے اپنے حوصلے کو بھی خوب داد دی کہ دس دفعہ خلع کا کیس دائر کرنے کے لئے وکیل کو فون کرنے کا ارادہ کیا… اور دس دفعہ ارادہ بدل دیا, آخر کو دس کروڑ کا نقصان تھا, اسجد مجھ سے اچھی خاصی مار کھا کر چیختا چلاتا گھر سے باہر نکل گیا, میں وہیں صوفے پر گر گئی, ہر شے کو آگ لگانے کو دل کر رہا تھا, نہ جانے کب وہیں پڑے میری آنکھ لگ گئی, موبائل کی تیز گھنٹی بجی تو یکلخت میری آنکھ کھلی, رات کے دو بج رہے تھے, مرسلین کی کال تھی
“ہیلو… اے ایس پی سبین راۓ… ” میں کافی پریشان ہو گئ تھی
“سبین جلدی میرے گھر پہنچو… ثمن کو کسی نے اغواء کر لیا ہے” مرسلین نے میرے سر پر دھماکہ کیا تھا
“کب ہوا یہ سب… ؟” میں گاڑی کی چابیاں اٹھاتے ہوئے باہر کو بھاگی تھی
” تقریباً دس منٹ پہلے… جلدی آؤ پلیز” مرسلین نے کہا, میں رات کے اس پہر دھواں دھار گاڑی چلاتے ہوئے اس کے گھر پہنچی تھی, وہ لان میں ادھر سے ادھر ٹہل ٹہل کر ہلکان ہو رہا تھا, اس سے پہلے کہ وہ مجھے دیکھ کر کچھ کہتا… اسجد کا سارا غصہ اس پر اتر گیا
“تم سے بڑا کم عقل اور بے وقوف شخص میں نے آج تک نہیں دیکھا, ابھی کچھ دن پہلے کسی نے تمہارے گھر میں گھس کر تمہاری بیوی کو قتل کر دیا, تمہاری بیٹی پورے چار دن سلاخوں کے پیچھے رہ کر آئی, دو دن ہوۓ تمہاری بیوی کا قاتل گرفتار ہوا ہے… اور تم ابھی تک صرف ایک چوکیدار پر اکتفا کر کہ بیٹھے ہو, احمق آدمی بندہ کچھ دنوں کے لئے پرائیویٹ سیکیورٹی ہی بلوا لیتا ہے, یا آس پاس دو, تین گن مین پی تعینات کروا لیتا ہے… اور پتہ نہیں تمہارا گھر ہے یا سراۓ… جہاں جس کا دل کرتا ہے منہ اٹھا کر چلا آتا ہے اور اپنی مرضی کی چیز اٹھا کر چلتا بنتا ہے” میں پھٹ پڑی, وہ بس منہ کھولے, آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھتا رہ گیا اور میں جیسے ہی خاموش ہوئی, ایک دم میرے سامنے گھٹنوں کے بل گر گیا
“سبین… خدا کے لئے, مجھے میری بچی ڈھونڈ دو, بس ایک بار اسے میرے پاس لے آؤ آس کے بعد میں یہ شہر ہی چھوڑ دوں گا, بھاڑ میں گیا سب کچھ… بھاڑ میں گیا اجالا کا قتل اور اس کا قاتل… بس میری بچی مجھے واپس لا دو” وہ گڑگڑا رہا تھا, میں بس تاسف سے اسے دیکھ کر رہ گئی, کچھ دیر بعد ہی سب انسپکٹر سرمد باقی کے عملے کے ساتھ پہنچ گیا
“ثمن جب سے بازیاب ہو کر گھر آئی ہے میں اس کے ساتھ ہی سو رہا ہوں, رات آٹھ بجے ہی میں گھر آ گیا تھا اور تب سے اس کے ساتھ ہی تھا, تقریباً دو بجے کا وقت تھا جب پیاس کی شدت سے اچانک میری آنکھ کھلی, بوتل خالی ہو چکی تھی, میں بس پانی پینے نیچے آیا تھا, زیادہ سے زیادہ مجھے پانچ منٹ لگے اور… جب واپس اوپر آیا تو ثمن اپنے بستر پر نہیں تھی, میرے ہوش اڑ گئے, کمرے کی دونوں کھڑکیاں اندر سے بند تھیں, چوکیدار نے کسی کو بھی اندر جاتے نہیں دیکھا… ” وہ کہتا چلا گیا, عجیب صورتحال تھی
پانچ منٹ میں کوئی کیسے ثمن کو لے گیا ؟
ایک دن بعد تقی کی عدالت میں پیشی تھی, میں نے حتی المکان اس خبر کو اس تک پہنچنے سے روکے رکھا, اپنی بیٹی کی خاطر تو وہ اجالا کا قتل اپنے سر لے رہا تھا, اب اگر اسے پتہ چل جاتا کہ ثمن اغواء ہو گئی ہے تو کیا ہوتا… ؟ میں یہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی, اب تک وہ صرف ایک باپ تھا… لیکن لمحہ لگنا تھا اسے تقی نور بننے میں اور پورا شہر اس کی لپیٹ میں آ جانا تھا
یہ تو صاف ظاہر تھا کہ جس نے اجالا کو قتل کیا… اسی نے ثمن کو اغواء کیا لیکن…وہ آخر کون تھا ؟
اور کیا چاہتا تھا… ؟
میری بھر پور کوششوں کے باوجود تقی کی پیشی سے پہلے ثمن کا کوئی سراغ نہ ملا
اور عین اس کی پیشی والے دن ایک نیا پنگا پڑ گیا
……………………..
میں تقی کو لیکر عدالت جانے ہی والی تھی جب سب انسپکٹر سرمد بھاگتا ہو میرے کیبن میں داخل ہوا
“تقی کے لئے پی آئی ایل (رحم کی اپیل) فائل ہوئی ہے میڈم… ” اس نے میرے سر پر دھماکہ کیا تھا
“کس نے فائل کی ہے ؟” میں حیران تھی کہ آخر تقی جیسے غنڈے پر کس کو رحم آ گیا
“بیرسٹر مرسلین مہرا نے… ” سرمد کی بات سن کر میں دم بخود رہ گئی
“انہوں نے اجالا مہرا کا کیس اپنے ایک ساتھی وکیل کے سپرد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ تقی نور کا کیس وہ خود لڑیں گے” سرمد مجھے حیران کرتا جا رہا تھا
“لیکن کیوں ؟” میں نے کہا
“پتہ نہیں میڈم… ” سرمد نے کہا, مرسلین سے بات کرنے کا وقت نہیں تھا, سو میں بمشکل اپنے غصے کو پیتی ہوئی تقی کو لیکر عدالت پہنچ گئی, عدالت کے باہر لوگوں کا ایک جم غفیر لگا ہوا تھا, میں تقی کو حراست میں لئے اندر آ گئی, مرسلین پہلے سے کورٹ روم میں موجود تھا, میں نے بس ایک قہر بھری نظر اس پر ڈالی اور تقی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا
پھر وہی ہوا جس ک سمجھے ڈر تھا
مرسلین نے بھر پور کوشش کر کہ تقی نور کی شنوائی چار دن کے لئے ملتوی کروا کے اس کی ضمانت کے لئے وقت لے لیا… باہر نکلے تو پورا میڈیا عدالت کے سامنے کھڑا تھا
“مسٹر مہرا… آپ آخر اپنی بیوی کے قاتل کو کیوں بچا رہے ہیں ؟ سب کا ایک ہی سوال تھا
“کیونکہ وہ میری بیوی کا قاتل نہیں ہے, اے ایس پی سبین راۓ اسے خوامخواہ میری بیوی کے قتل میں پھنسا رہی ہیں, بے شک س نے ماضی میں بہت سے قتل کئے ہیں لیکن اس نے اجالا مہرا کا قتل نہیں کیا… اور میں اسے ایک ایسےجرم کے لئے پھانسی نہیں چڑھنے سے سکتا جو اس نے کیا ہی نہیں, میری سبین راۓ سے درخواست ہے کہ اصلی قاتل کو ڈھونڈیں… ” اس نے پورے میڈیا کا رخ میری طرف کر دیا, بمشکل بچ بچا کر میں اس کے چیمبر پہنچی تھی
“تم آخر کر کیا رہے ہو ؟” میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے گولی سےاڑا دیتی
“وہی جو تم کر رہی ہو… الٹے سیدھی حرکتیں ” اس نے کہا
“میں نے کیا کیا ہے ؟” میں برس پڑی
“تم نے اجالا کا قتل ایک بدنام زمانہ غنڈے کے سر تھوپ دیا… یہ الٹا سیدھا نہیں ہے کیا… ؟ پورا میڈیا مجھ سے پوچھے گا کہ آخر لاہور کے ایک چھٹے ہوۓ بدمعاش نے آپ کی بیوی ک قاتل کیوں کیا ؟ کیا وہ دونوں پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے ؟ تمہیں خدا کا واسطہ ہے سبین… نا میرے پاس بیوی رہی اور نا بیٹی… بس ایک عزت بچی ہے, اسے یوں مت اچھالو” وہ کہتا چلا گیا
“تمہیں پتہ بھی ہے کہ وہ چھٹا ہوا بدمعاش کون ہے ؟ وہ تمہاری سو کالڈ بیٹی کا اصلی باپ ہے مرسلین مہرا… ” میں ایک دم پھٹ پڑی
“یہ سچ ہے کہ لاہور شہر کا ایک چھٹا ہوا بدمعاش تمہاری بیوی کو جانتا تھا, اور نہ صرف جانتا تھا بلکہ اس سے محبت کا دعویدار بھی تھا… اب اگر ایک عاشق اپنی محبوبہ کا قتل اپنے سر لیکر اپنی بچی کو بچا رہا ہے تو تمہیں کیا تکلیف ہے ؟ ” میں کہتی چلی گئی
“خود تو محبت کو سرخرو کر نہیں سکے تم… پاؤں تلے روند کر رکھ دیا اسے, کم از کم جو عشق میں قربان ہو رہا ہے اسے تو ہو لینے دو” میں نے کہا
“تم آخر کب تک مجھے میری محبت کا طعنہ دیتی رہو گی ؟” اس نے کہا
“جب تک میں سنانے کے قابل ہوں اور تم سننے کے… ” میں نے انتہائی سرد لحجے میں کہا تھا
“تم کچھ نہیں جانتیں سبین… جو رات تم نے میرے چیمبر کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر گزاری… وہ میں نے اپنے آفس کی کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر گزاری تھی… مسلسل باہر دیکھتے ہوئے… مسلسل تمہیں دیکھتے ہوئے… تم روۓ جا رہی تھیں اور میں جانتا تھا کہ سبین راۓ اب ساری عمر مجھ سے نفرت کرے گی” وہ بولا
“کوئی ایک وجہ دو کہ میں تم سے نفرت کیوں نہ کروں ؟” میں نے کہا
“میرے پاس ہزاروں وجوہات ہیں سبین… لیکن تم ایک کا بھی یقین نہیں کرو گی” اس کا لحجہ دھیما ہو گیا
“دو سال آنکھیں بند کر کہ یقین کیا تھا تم پر… بدلے میں کیا ملا… ؟ آنسو, آنسواور صرف آنسو” میری آنکھیں بھیگ گئیں
“تمہیں ایک بات بتاؤں مرسلین… تم ایک انتہائی خود غرض شخص ہو, تمہیں صرف اپنی فکر ہے, تمہارا کئریر, تمہارا مرتبہ, تمہاری عزت… بس یہ ہی عزیز ہیں تمہیں… تمہیں آج بھی نہ تو اپنی قتل ہو جانے والی بیوی کی پرواہ ہے اور نہ اغواء ہو جانے والی بیٹی کی… تمہیں آج بھی صرف اپنی فکر ہے” مجھ سے ایک بار پھر اپنے آنسو روکنا دوبھر ہو رہا تھا
“جہاں تک بچا سکتے ہو بچا لو اپنی یہ نام نہاد عزت اور شہرت… لیکن یاد رکھنا مرسل… قیامت کے روز سب سے پہلے تمہارا گریبان میں پکڑوں گی” میں اسے کہہ کر باہر نکل آئی, ہر بار میری آنکھوں میں آنسو اسی کی وجہ سے آتے تھے, میں وہاں سے نکل کر سیدھی امی کی طرف آ گئی, دل ہر چیز سے اچاٹ ہو رہا تھا, چار دن بعد تقی کی دوبارہ پیشی ہوئی اور مرسلین مہرا نے اس کی ضمانت کروا لی…
پچاس سے زائد قتل کیسز میں انوالو ہونے کے باوجود وہ بری ہو گیا اور ایک بار پھر میرا نام میڈیا میں اچھل گیا, مرسلین تو پہلے ہی سلیبرٹی تھا, اب ہر دل عزیز بھی ہو گیا, لوگوں کی پوری ہمدردیاں س کے ساتھ تھیں اور میں… میں ایک بار پھر ناکام ہو گئی, ہر ہر نیوز چینل اور ہر ہر اخبار میں خبر چل گئی
“اے ایس پی سبین راۓ کی منہ توڑ ناکامی… اجالا مہرا کے قاتل کا کوئی سراغ نہیں… ثمن مہرا ابھی تک لا پتہ… ” میرے آگے صرف اندھیرا تھا… گھپ اندھیرا
کوئی سرا ہاتھ نہیں آ رہا تھا
………………………….
تقی کو رہا ہوۓ چار دن ہو چکے تھے, آۓ روز مجھے ڈی آئی جی کی غصے سے لبریز فون کالز وصول ہو رہی تھیں اور میرے پاگل ہونے میں بس کچھ ہی دن رہ گئے تھے, اس دن بھی میں پولیس سٹیشن سے گھر واپس جا رہی تھی جب مجھے ایک انجان نمبر سے کال ائی
“ہیلو… اے ایس پی سبین راۓ” میں نے کہا
“ابھی مل سکتی ہے رانی… ” دوسری طرف تقی نور تھا
“کہاں آؤں ؟” میں نے اس سے وجہ نہیں پوچھی, اس نے فوراً جگہ کا نام بتا دیا, میں نے اسی وقت گاڑی ک رخ اس طرف موڑ دیا, وہ مجھ سے پہلے وہاں موجود تھا
“بس یہ ہے تمہاری محبت… محبوبہ کے شوہر نے ضمانت کروا دی تو اس کے تلوے چاٹتے ہوۓ خاموش ہو کر بیٹھ گئے ” میں نے طنز سے کہا
“خاموش ہو کر بیٹھا ہوتا تو تو یہاں نہ کھڑی ہوتی… ” اس نے کہا
“ثمن کا کچھ پتہ چلا ؟” اس نے پوچھا, میں نے نفی میں سر ہلا دیا
“اور اجالا کے قاتل کا… ؟” اس نے پھر پوچھا, میں نے ایک بار پھر نفی میں سر ہلا دیا
“اسے جانتی ہے ؟” اس نے ایک تصویر میرے آگے کی تھی
“نہیں… ” میں نے کہا
“یہ ٹونی ہے… وہی ٹونی جس نے مجھے حشمت کی بیٹی کے بدلے اجالا لا کر دی تھی ” تقی نے کہا
“اسے ڈھونڈ کر دے رانی… ” اس نے کہا
“تم مجھ سے زیادہ ماہر ہو… خود کیوں نہیں ڈھونڈ لیتے” میں نے کہا
“میں نے پوری کوشش کر لی پر نہیں ملا… یہ پولیس کا خبری ہوا کرتا تھا, اور پولیس کے خبریوں کا کوئی اتا پتا نہیں ہوتا, انہیں صرف اندر کے لوگ ہی ڈھونڈ سکتے ہیں” تقی نے کہا
“اب تمہیں یہ کیوں چاہئے ؟” میں نے پوچھا
“پہلے ڈھونڈ… پھر بتاؤں گا ” اس نے کہا
“اور مجھے کیا فائدہ ہو گا ؟” میں نے پوچھا
“شائد تجھے اجالا کا قاتل مل جاۓ” اس نے کندھے اچکاۓ
“یعنی تم جانتے ہو کہ اجالا کا قاتل کون ہے ؟” میں نے پوچھا
“شائد… ” وہ دھیرے سے مسکرایا
“تب تو تمہیں یہ بھی پتہ ہو گا کہ ثمن کہاں ہے ؟” میں نے تکا مارا
“شائد… ” وہ مسکراتا چلا گیا
“اسے ڈھونڈ… مل جاۓ تو کال کرنا” وہ کہہ کر چلا گیا اور میں وہ تصویر لیکر وہیں بینچ پر بیٹھ گئی, تقی بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا, پولیس اپنے خبریوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتی, وہ یا تو مشن کے دوران مارے جاتے ہیں یا… مشن ختم ہونے کے بعد مار دئے جاتے ہیں, ان کا کوئی ایک میونسپل ریکارڈ نہیں ہوتا, کوئی ایک شناخت نہیں ہوتی, اگر ان میں سے کوئی فرار ہو جاۓ تو اسے ڈھونڈنا ناممکن ہوتا ہے
نہ جانے اس شخص کا اس سارے کھیل سے کہاں کہاں پر تعلق تھا ؟
نہ جانے یہ تقی نور کو اب کیوں چاہئے تھا ؟ اور اس میں ایسا کیا تھا کہ تقی مجھے اجالا کا قاتل اور ثمن مہرا دونوں دینے کا وعدہ کر گیا تھا ؟
میں نے چپ چاپ بڑے خفیہ طریقے سے اس تصویر کی جانچ شروع کر دی, سائبر سیل والے اس سلسلے میں میری زیادہ مدد کر سکتے تھے, تصویر سے وہ شخص بائیس یا تئیس سال کا لگتا تھا اور تقی کے مطابق یہ تصویردس سال پرانی تھی, یعنی اب وہ شخص بتیس یا تینتیس سال کا ہوتا, میں نے نادرا سے بیس سے پینتیس سال تک کے تمام افراد کا ڈیٹا نکلوایا اور ان سب کی تصاویر سائبر والوں کے حوالے کر دیں, کام بہت مشکل تھا اور وقت طلب بھی… ایک ایک شخص کی تصویر کو ٹونی کی تصویر سے میچ کرنا تھا, اور یہ ابھی صرف اسلام آباد کا ڈیٹا تھا, نہ جانے یہ حربہ کارگر بھی ہوتا ہے نہیں… نہ جانے یہ شخص اب زندہ بھی تھا کہ نہیں, نہ جانے اس ملک میں بھی تھا کہ نہیں… میں بس آنکھیں بند کر کے جواء کھیلنے لگ گئی تھی
ابھی اس کام کو شروع کئے دو ہفتے ہی گزرے تھے کہ ایک شام مجھے سائبر سیل سے فون آیا
“میڈم… آپ ابھی آ سکتی ہیں کیا ؟” فون کرنے والا کافی جوش سے بولا تھا
“کچھ ملا ہے کیا؟” میں فوراً جیپ کی چابیاں اٹھا کر باہر کو بھاگی تھی
“لگتا تو ہے… ” اس نے کہا
“میں آ رہی ہوں ” میں نے کال کٹ کرتے ہوئے کہ اور دس منٹ میں وہاں پہنچ گئی, وہ لڑکا مجھے لیکر ایک طرف بنے سیکشن کی طرف آ گیا
“میڈم ہو سکتا ہے کہ یہ صرف میرا اندازہ ہو… یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ وہ شخص نہ ہو لیکن آنکھوں کی اسقدر پرفیکٹ میچنگ میں نے آج تک نہیں دیکھی” وہ کمپیوٹر سکرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا, سکرین پر موجود آنکھیں واقعی ٹونی کی تصویر سے سو فیصد میل کھا رہی تھیں
“کون ہے یہ ؟” میں نے پوچھا
“اس کی تصویر اور بائیو ڈیٹا ابھی اپلوڈ ہو جاۓ گا” وہ میرے لئے ایک کرسی کھینچتے ہوۓ بولا تھا, میرے لئے ایک ایک لمحہ گزارنا دوبھر ہو رہا تھا, کچھ دیر بعد سکرین بلینک ہو گئی اور لوڈنگ کا نیلا دائرہ گھومنے لگا, میرے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے تھے اور اگلے ہی لمحے تصویر اپلوڈ ہو گئی
“میڈم میں پھر کہہ رہا ہوں کہ صرف آنکھوں کی میچنگ ہر ہم لوگ کوئی فیصلہ نہیں کرتے لیکن… اس قدر پرفیکٹ میچنگ نظر انداز نہیں کی جا سکتی… ” وہ لڑکا کہتا جا رہا تھا اور میں…
میں دم بخود سکرین کو دیکھ رہی تھی
یقین نہیں آ رہا تھا… اور آتا بھی کیسے… ؟
آخر کیسے… ؟
جاری ہے