NaKamil By Ayesha Zulfiqar Readelle50165 Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
ناکامل
عائشہ ذوالفقار
ساتویں قسط
آنکھ کھلتے ہی اس نے اپنے ارد گرد بس دو ہی چہرے دیکھے تھے
ایک انتہائی پر محبت ماں
اور ایک انتہائی ظالم باپ
وہ باپ جس نے کبھی اس کا ماتھا نہیں چوما, کبھی اسے گود میں نہیں اٹھایا, کبھی محبت سے بات نہیں کی… جب بھی اسے دیکھا, نفرت سے ہی دیکھا
وہ شائد دنیا کا واحد بچہ تھا جس نے دو سال کی عمر میں ہی اپنے باپ سے پہلا تھپڑ کھا لیا تھا… اور یہ بس شروعات تھی
اس کے بعد تو جیسے ایک سلسلہ ہی چل نکلا, آۓ روز وہ اپنے باپ کے دانتوں تلے آیا رہتا, کسی نہ کسی بات پہ اس کی جھڑائی ہوئی رہتی, اس کی ماں کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ جب تک اس کا باپ گھر پر رہے, وہ اسے نظر نہ آۓ… وہ ہمہ وقت اسے ایک کمرے میں چھپاۓ رکھتی
اس کا باپ ایک انتہائی امیر شخص تھا, روپے پیسے کی ریل پیل تھی, محل نما گھر تھا… لیکن اس کے لئے بس ایک کمرہ تھا, کم از کم اپنے باپ کے ہوتے ہوئے اسے اپنے کمرے سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی
وہ تین سال کا تھا جب وہ اپنے باپ سے خوب پٹا… نہ جانے کس بات پر… لیکن پٹا, ہونٹ پھٹ گیا, دانتوں سے خون نکلنے لگا, گال سرخ ہو گئے, جسم پہ دو, تین نیل پڑ گئے
“مجھے کیوں مارا اتنا… ؟” وہ اپنی ماں سے پوچھے جا رہا تھا اور وہ صبر اور شکر میں گندھی عورت بس اسے سینے سے لگاۓ روۓ جا رہی تھی, اس دن کے بعد اس پر ایک حقیقت تو اچھی طرح آشکارا ہو گئی کہ وہ اپنے باپ کے لئے انتہائی قابل نفرت تھا
اس دن کے بعد وہ خود ہی اس سے دور گیا, اس کے گھر آتے ہی اپنے کمرے میں چھپ جاتا, چار سال کا ہوا تو اس کے سکول جانے کا مسئلہ کھڑا ہوگیا, اس کی ماں نے ڈھکے چھپے لفظوں میں اپنے شوہر سے اس کے سکول جانے کی بات کی رو وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گیا
“کیا کرے گا یہ سکول جا کر… خاک اٹھا اٹھا کر میرے سر میں ڈالے گا, دفع کرو سکول… ” اس نے صاف انکار کر دیا, لیکن ماں تو آخر ماں تھی نا… وہ کیسے اسے جاہل ہوتا دیکھ لیتی, صبح شام شوہر کی منت سماجت کر کر کہ آخر اس کے لئے گھر پر ہی ایک ٹیوٹر کا بندوبست کر دیا… اس پر بھی سو قدغن تھے, وہ صرف دو گھنٹے کے لیے آتا تھا اور اس دوران اس کی ماں کو وہاں سے ہلنے کی اجازت نہیں تھی, وہ بس نظریں جھکاۓ پڑھے جاتا… سوال کرنے یا کچھ بھی پوچھنے کی اجازت نہیں تھی
پانچ سال کی عمر میں ایک دن اس کے باپ نے اسے ٹیوٹر سے ہاتھ ملاتے دیکھ لیا, اس دن اس کی ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی, وہ ٹیوٹر کو گیٹ تک چھوڑنے آیا اور ٹیوٹر نے خدا حافظ کہتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا, بس ایک قیامت تھی جو اس پر ٹوٹ پڑی تھی, تھپڑ, مکے, لاتیں… اور بے دریغ گالیاں
پوری رات وہ صحن کے یخ بستہ برف کی سل نما فرش پر کھڑا رہا… ننگے پاؤں, ننگے بدن…سر جھکاۓ, ہاتھ جوڑے
اسے مسلسل بس ایک ہی لفظ کہنا تھا…”معافی “
پوری رات اس کی ماں شوہر سے نظریں بچا بچ آکر اس کے پیروں تلے موٹی دری بچھاتی رہی, اس کے برہنہ جسم پر موٹے کمبل ڈالتی رہی, اگلی صبح تک بخار ہو گیا… لیکن باپ کو نہ ترس آنا تھا نہ آیا
ستم یہ ہوا کہ ایک سال بعد ماں ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کر گئی… باپ نے آخری بار اس کامنہ تک نہ دیکھنے دیا, بس بازو سے پکڑ کر کمرے میں بند کر دیا, نہ کوئی دلاسہ, نہ کوئی تھپکی, نہ کوئی حوصلہ…
بس اس کے بعد اس نے کبھی بھی غلطی نہ کرنے کی قسم کھا لی, ایک خول بنایا اور اس میں بند ہو گیا, اسے پتہ تھا کہ اب اس کی ڈھال اس دنیا میں نہیں رہی, باپ نے ٹیوٹر کی بھی چھٹی کروا دی
بس سارا دن وہ اپنے کمرے میں بند رہتا, ملازمہ تین وقت کا کھانا اس کے کمرے میں دے جاتی, چوکیدار ہمہ وقت گیٹ پر رہتا, کسی ملازم کو اس سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی, سارا دن بس وہ ہوتا اور اس کے کھلونے جو اس کی ماں نے لیکر دۓ تھے, خود ساختہ کھیل کھیلتا رہتا, خود سے باتیں کرتا رہتا, کبھی نظر بچا کر جو باہر نکل آتا تو باپ کی گاڑی کی آواز سنتے ہی واپس کمرے میں بند ہو جاتا, باہر کی دنیا سے جڑنے کا واحد راستہ آس کے کمرے کی ایک کھڑکی تھی, وہ گھنٹوں اس کھڑکی میں بیٹھا رہتا اور جیسے ہی باپ کی گاڑی نظر آتی… کھٹاک سے بند کر دیتا
وہ بھی ایسی ہی ایک خاموش شام تھی جب اس نے اپنے باپ کی گاڑی آتے دیکھی, ایک دم کھڑکی بند کر کہ وہ وہاں سے اٹھنے ہی لگا تھا کہ ٹھٹھک گیا, گاڑی میں سے ایک عورت اور دو بچے باہر نکلے تھے
ایک لڑکی اور ایک لڑکا… لڑکی تقریباً اسی کی ہم عمر تھی, اورلڑکا اس سے دو سال چھوٹا تھا
وہ بہت حیران ہوا… اس کی ماں کے جانے کے بعد آج پہلی بار کوئی ان کے گھر آیا تھا
……………………..
“حلیمہ… یہ گھر آج سے تمہارا بھی اتنا ہی ہے جتنا میرا… میں تمہارے دونوں بچوں کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہوں بس میری طبیعت میں غصہ اور سختی ذرا زیادہ ہے, اسے برداشت کرنا ہو گا” نصیر حسین نے اپنی بیوی کے مرنے کے ایک سال بعد حلیمہ سے دوسری شادی کر لی تھی, وہ ایک پرائیویٹ ہسپتال میں نرس تھی, اس کا سابقہ شوہر فوت ہو چکا تھا اور اس کے دو بچے تھے
سبین راۓ اور سنان راۓ…!
“میرے گھر میں سواۓ چوکیدار, ڈرائیور اور ایک کام والی ملازمہ کے علاوہ بس میرا ایک سات سالہ بیٹا ہے… اسے شروع سے اپنے کمرے میں بند رہنے کی عادت ہے اور تم اپنے بچوں کو اچھی طرح سمجھا دینا کہ اس سے زیادہ گھلنے ملنے کی کوشش نہ کریں, بس نیچے ہی رہا کریں” نصیر کہتا چلا گیا, حلیمہ کے پاس سواۓ سر ہلانے کے اور کوئی چارہ نہیں تھا
“فدک… ” نصیر نے اسے آواز دی تھی, وہ سہما ہوا سا اپنے کمرے سے نکل کر سب سے اوپر والی سیڑھی پر آ کر کھڑا ہو گیا
“یہ تینوں آج سے اسی گھر میں رہیں گے, خبردار جو تم نے ان دونوں بچوں سے زیادہ دوستی کرنے کی کوشش کی تو… کھال ادھیڑ کر رکھ دوں گا, مجھے اپنے کمرے سے باہر نظر نہ آؤ تم… جاؤ” نصیر کے لحجے میں فقط نفرت تھی… وہ چپ چاپ سر ہلا کر واپس اپنے کمرے میں بند ہو گیا
……………………
نصیر حسین سے شادی کے کچھ دن بعد حلیمہ کو اندازہ ہوا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر بیٹھی ہے, وہ انسان نہیں تھا… شائد جہنم کا کوئی داروغہ تھا جو اس دنیا میں آ گیا تھا, اس کے غصے اور سختی کی کوئی انتہا نہیں تھی, بے شک اس نے حلیمہ کوایک سائبان دیا تھا, اس کے دونوں بچوں کوایک اچھا مستقبل دیا تھا, انہیں بڑے اچھے پرائیویٹ سکول میں داخل کروایا, سکول وین لگوا کر دی, حلیمہ کی مدد کے لئے ایک اور ملازمہ کا بندوبست کر کے دیا لیکن… وہ ایک جلاد تھا, لمحوں میں اس کا پارہ سو تک پہنچ جاتا, نکاح کے ایک ہفتے بعد ہی اس نے حلیمہ کو نہ جانے کس غلطی پر دھنک کر رکھ دیا, یہ ہی حال نوکروں کے ساتھ تھا, لمحوں میں کسی نہ کسی کی درگت بنا دیتا… مار, پیٹ, گالم, گلوچ… اور پتہ نہیں کیا کیا… ان تینوں کے لئے صرف وہ وقت سکھ کا ہوتا جب وہ گھر سے باہر ہوتا… اس کے گھر آتے ہی جیسے کرفیو لگ جاتا, صد شکر حلیمہ کے دونوں بچوں کو وہ صرف زبان کی مار ہی مارتا تھا… کیونکہ تھپڑوں اور مکوں کے لئے اسے فدک ہی کافی تھا
وہ مارچ کی ایک خوشگوار شام تھی, حلیمہ نے بچوں کی فرمائش پر کیک اور پیزا بنایا تھا, ساتھ میں جوس اور کولڈ ڈرنک… اور چاۓ, وہ تینوں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے پوری طرح اپنی پارٹی کر رہے تھے جب وہ ان کی ہنسی اور قہقہوں کی آوازیں سن کر اپنے کمرے سے باہر نکل آیا اور پہلی سیڑھی پر چپ چاپ بیٹھ گیا, اچانک سبین کی نظر اس پر پڑی تھی
“آ جاؤ… پیزاکھا لو” سبین نے اسے آواز دی تھی , وہ چپ چاپ وہیں بیٹھا رہا
“آ جاؤ… ” سنان بھی اسے آوازیں دینے لگا, اس کا بہت دل کر رہا تھا ان کے پاس جانے کے لئے لیکن… باپ کا ڈر حاوی ہو رہا تھا, حلیمہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی, پھر اس کے پاس آ گئی
“دل کر رہا ہے نیچے جانے کو ؟اس نے پوچھا تھا, فدک کو لگا جیسے اس کے پاس اس کی ماں بیٹھی ہے, اس نے اثبات میں سر ہلا دیا
“تو جاتے کیوں نہیں ہو ؟” اس نے پھر کہا
“ابو ماریں گے” وہ ڈر رہا تھا
“ابو کے آنے سے پہلے واپس اوپر چلے جانا” حلیمہ نے اس کے گال پر تھپکی دی تھی, وہ ایک نظر اس کی طرف دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور نیچے آ گیا
“یہ لو تمہارا پیزا اور تمہارا کیک… ” سبین نے پلیٹ اس کے سامنے کر دی, وہ چپ چاپ کھانے لگا
“تم سکول کیوں نہیں جاتے ؟” وہ دونوں بہن بھائی اس کا فل انٹرویو کر رہے تھے
“ابو نہیں جانے دیتے… ” اس نے کہا
“امی آپ اس کے ابو سے کہیں نا کہ اسے بھی ہمارے ساتھ سکول جانے دیں” سنان تو ماں کے پیچھے ہی پڑ گیا
“اچھا کہوں گی” حلیمہ نے بمشکل اسے چپ کروایا تھا
…………………
اوروہ بس شروعات تھی, اس دن کے بعد سے فدک کا ڈر آہستہ آہستہ کم ہونے لگا, اپنے باپ کی غیر موجودگی میں وہ ان دونوں کے پاس بھاگ آتا, کھیل, کھلونے, بھاگنا, دوڑنا, ٹی وی, کارٹون… وہ اپنے خول سے باہر آنے لگا, سبین اور سنان آس سے پوری طرح گھل مل گئے تھے, حلیمہ کے چوکیدار کو خاص ہدائت کی تھی کہ جیسے ہی نصیر کی گاڑی گلی کا موڑ مڑے, فوراً اندر اطلاع دے, اور اس کے کہتے ہی فدک اوپر دوڑ جاتا, نصیر کی بڑی منت سماجت اور خوشامد کر کر کہ حلیمہ نے اس کے سکول جانے کی اجازت لے لی لیکن انتہائی سخت شرائط پر
“یہ نہ تو کسی سے دوستی کرے گا, نہ کسی سے بات کرے گا, نہ اپنے کلاس روم سے باہر نکلے گا, بس ناک کی سیدھ میں سکول جاۓ گا اور واپس آجاۓ گا وغیرہ وغیرہ… ” حلیمہ بس سر ہلاتی چلی گئی
وہ اپنی ماں کی وفات کے بعد دو سال کچھ بھی نہیں پڑھ سکا تھا اسلئے بجاۓ سبین والی کلاس کے, اس کا داخلہ سنان والی کلاس میں ہوا… گھر سے باہر نکلتے ہی نصیر حسین کی کہی ساری باتوں کی ایسی تیسی پھیرتے وہ تینوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے, قہقہے لگاتے ہوۓ سکول جاتے, وہ اور سنان ہمیشہ ایک ہی بینچ پر بیٹھتے, سنان پوری کلاس میں ہر دل عزیز تھا لیکن اس کا صرف ایک ہی دوست تھا… سنان راۓ, اس کے ہوتے فدک نے کسی اور کو دوست بنایا ہی نہیں, بریک ہوتے ہی سبین ان کی کلاس میں دوڑی چلی آتی, تینوں مل کر لنچ کرتے اور پھر سکول کے گراؤنڈ میں بھاگنے دوڑنے میں لگ جاتے, جب نصیر حسین دوپہر کا کھانا کھا کر واپس چلا جاتا تو حلیمہ ان تینوں کو پاس بٹھا کر ہوم ورک کروا دیتی, وہ پڑھائی میں سنان اور سبین دونوں سے اچھا تھا, دھیرے دھیرے ان تینوں کی دوستی پکی ہوتی چلی گئی
…………………
وہ ستمبر کی ایک ابر آلود شام تھی, وہ تینوں لان میں کھیل کود میں لگے ہوئے تھے, چوکیدار نہ جانے کس کام سے ادھر ادھر ہوا, اور نصیر حسین نہ جانے کس کام سے جلدی گھر آ گیا
اس نے بس فدک کو سنان کا ہاتھ تھام کر بھاگتے ہوئے اور ہنستے ہوئے دیکھا تھا
بس اس کے بعد اس کے ہاتھ تھے اور فدک… اس ظالم شخص نے مار مار کر اسے نیل و نیل کر دیا, سنان سہم کر حلیمہ کے پیچھے چھپ گیا تھا
“اسے مت ماریں… میں اسے باہر لیکر آئی تھی ” سبین نے چیخ چیخ کر اسے روکا تھا, فدک بیچارہ بھاگ کر اپنے کمرے میں بھی نہ جا سکا, اس کی ناک اور منہ سے خون بہنے لگا تھا, چوکیدار اسے اٹھا کر اوپر چھوڑ گیا, ایک ایک کر کہ سب کی شامت آ گئی
نصیر اپنے کمرے میں گیا تو حلیمہ اوپر آ گئی, وہ اپنے بستر پر اوندھا پڑا سسکیاں بھر رہا تھا, حلیمہ کے اسے بہت محبت سے اپنی آغوش میں بھرا
پھٹا ہوا ہونٹ, خون رستی ناک, نیل و نیل چہرہ… وہ رو ہی پڑیں, اس کا منہ دھلوایا, زخموں پر مرہم لگایا, اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا بنا کر کھلاۓ
فدک کے لئے وہ سب ایک روٹین کی طرح تھا لیکن اس دن سبین کی بس ہو گئ, اس دن کے بعد سے وہ بار بار حلیمہ کو وہاں سے جانے کا کہتی رہتی
ظاہر ہے وہ گھر دنیا میں ایک جہنم تھا… اور جیتے جی اسے جہنم برداشت نہیں تھی, اس نے بمشکل پانچ سال اس گھر میں گزارے… اور اس کے بعد ایک رات چپ چاپ اپنا بیگ باندھا, گھر کی دیوار پھلانگی اور ان سب کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلی گئی
تب وہ بارہ سال کی تھی
………………..
سبین کے جانے کے بعد فدک, سنان کے اور قریب ہو گیا, اب وہ دو ہی تو رہ گئے تھے, ان دونوں کی دوستی گہری سے گہری ہوتی چلی گئی, فدک کو وہ ہنس مکھ سا لڑکا بہت عزیز ہوتا چلا گیا, وہ اس کے سارے چھوٹے موٹے کام خود کرتا, روز رات کوشاں ک بیگ سیٹ کرتا, اسکا یونیفارم استری کرتا, اسکے جوتے پالش کرتا… اس کا بے حد خیال رکھتا
وہ حلیمہ کی بھی بہت عزت کرتا تھا, اس کی ہر بات مانتا, اس کے سامنے ہمیشہ نظریں جھکا کر بات کرتا… پھر دھیرے دھیرے یوں ہو کہ نصیر حسین کے ظلم و ستم کے خلاف وہ ایک طرح سے ڈھیٹ ہوتا چلا گیا… باغی ہوتا چلا گیا, اسکی مار کھا لیتا, اس کے تھپڑ سہہ لیتا, اس کی گالیاں سن لیتا… لیکن اگلے ہی پل پھر سنان کے پاس ہوتا
وہ آخر کو بارہ سال کا ہو گیا تھا… اتنی من مانی تو کر ہی سکتا تھا, میٹرک کے بعد جب ان دونوں نے کالج میں ایڈمیشن لینا تھا تو ایک بار پھر ہنگامہ برپا ہو گیا
“فدک کالج نہیں جاۓ گا” نصیر ک فیصلہ اٹل تھا
“تو پھر میں بھی نہیں جاؤں گا” پہلی بار سنان اس کے سامنے تن کر کھڑا ہو گیا
“کیوں ؟ اس کے پیچھے جاہل رہو گے کیا ؟” اس نے پوچھا
“ہاں… جاہل ہی رہ لوں گا, یہ بھی تو جاہل رہ کر آپ کی کمائی ہی کھاۓ گا, تو میں کیوں نہیں کھا سکتا ” سنان ہر حد ہی پھلانگ گیا, حلیمہ جانتی تھی کہ اب کیا طوفان آۓ گا…فدک نے اپنے باپ کے متوقع غصے کے پیش نظر سنان کے آگے آنا چاہا تھا لیکن….
زندگی میں پہلی بار اس نے اپنے سخت گیر باپ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ رینگتے دیکھی… وہ شائد آمادگی کا اظہار تھا
“اور مجھے بائیک چاہیے ؟” سنان کی اگلی فرمائش حاضر تھی
“دو, دو گاڑیاں کھڑی ہیں گھر پر… ” نصیر نے کہا
“وہ کونسا میری ہیں” سنان کا حوصلہ قابل دید تھا
“نو بائیک… ” نصیر نے فیصلہ سنا دیا اور سنان نے بھوک ہڑتال کر دی… ایک دن, دو دن… اور تیسرے دن شام کو اس کی نئی ہونڈا 70 گھر کھڑی تھی
اس شام فدک کو ادراک ہو اکہ سنان راۓ اس کے باپ کو اس کی نسبت کہیں زیادہ عزیز تھا
…………………………
انٹر کے بعد نصیر نے ان دونوں کا ایڈمیشن گوجرانوالہ پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس میں کروا دیا, سنان ایک بار پھر ہتھے سے اکھڑ گیا
“پاؤں بھی نہیں رکھوں گا اس کیمپس میں… لاہور ایڈمیشن لینا ہے” ایک بار پھر سے ضد… بھوک ہڑتال… اور کیا کچھ
“صرف تم جاؤ گے لاہور… فدک نہیں جاۓ گا” نصیر نے کہا
“پھر میں بھی نہیں جاؤں گا” سنان ایک بار پھر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا
“تو اس کے ساتھ بندھا ہوا ہے کیا ؟ حلیمہ کو بھی غصہ آ گیا
“ہاں… میری اسائنمنٹس اور نوٹس کون بنایا کرے گا ؟ مجھے پاس کون کرواۓ گا ؟” وہ کہتا چلا گیا
“لاہور ہاسٹل میں نہیں رہنا… روز شام کو گھر واپس آیا کرنا” نصیر نے کہا تھا اور وہ مان گیا
گوجرانوالہ سے نکلتے ہی گاڑی کا ایکسیلیریٹر ہوتا… اور سنان کا پاؤں ہوتا, کار کو ہوائی جہاز بن کر لاہور لیکر آتا, فدک کی دو دن میں ہی بس ہو گئی
“اگر مجھے ساتھ لانا ہے تو گاڑی میں چلاؤں گا ” شائد پہلی بار وہ سنان کے آگے کھڑا ہو گیا تھا اور اس زندہ دل لڑکے نے اسی وقت ہنستے ہوئے کار کی چابی فدک کی طرف اچھال دی تھی
یونیورسٹی جا کر سنان ایک دم نکھر گیا, وہ قد کاٹھ نکالا کہ حلیمہ نظریں ہی اتارتی رہتی, اوپر سے اسے بن ٹھن کر رہنے کا بھی بیت شوق تھا, روز صبح یونیورسٹی جانے کے لئے یوں تیار ہوتا جیسے کسی فنکشن میں جا رہا ہو, لڑکیاں اس پر ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگی تھیں, ہزاروں میں سے کسی یک آدھ کو بھاؤ دیتا… اور چند دن بعد ٹاٹا باۓ باۓ… کوئی اور سہی, آۓ روز وہ حلیمہ کو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر لاہور رک جاتا, کبھی کسی دوست کی نائٹ پارٹی, کبھی سینیما میں فلم, کبھی کوئی نائٹ فنکشن… وہ آپ ی زندگی کو پوری طرح انجواۓ کر رہا تھا اور فدک… اس کا یونیورسٹی آ کر بھی بس ایک ہی دوست رہا
سنان راۓ
اور وہ یہ سب اسلئے کرتا تھا کیونکہ سنان کو یہ سب پسند تھا, ورنہ ذاتی طور پر اسے وہ سب بالکل اچھا نہیں لگتا تھا, سواۓ پڑھائی کے وہ ہر کام میں ہی سنان سے پیچھے تھا, ہر وقت ڈرا ڈرا سا رہتا, نہ کوئی انجوائمنٹ, نہ کوئی گیم, نہ کوئی خاص پسند, ناپسند… سنان پرجوش طبیعت کا مالک تھا, لمحوں میں تن فن ہو جاتا, لڑائی بھڑائی کا شوقین… اور وہ لڑائی سے کوسوں دور بھاگتا تھا
رفتہ رفتہ اسے اچھی طرح اس بات کا ادراک ہو گیا کہ وہ سنان کی طرح نہیں تھا… وہ شائد پیدائشی بیمار تھا, وہ سب جو سنان کر سکتا تھا… اس سے نہیں ہو پاتا تھا, شائد اسی لئے اس کا باپ اس سے اسقدر نفرت کرتا تھا
سنان بولڈ سے بولڈ ہی ہوتا چلا گیا, یہ نہیں تھا کہ وہ غلطیاں نہیں کرتا تھا, یا کوتاہیاں نہیں کرتا تھا, لیکن اسے اس بات کا اچھی طرح ادراک تھا کہ ہر بار اس کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے فدک اس کے ساتھ ہو گا, ہر بار نصیر حسین کے غیض و غضب کے سامنے فدک اس کے سامنے ڈھال بن جاۓ گا… اور یہ سچ تھا, فدک نے اسے کبھی نصیر حسین کا ایک تھپڑ بھی نہ لگنے دیا, ہر بار اس کا کیا اپنے سر لے لیتا, ہر بار اسے بچا لیتا… نتیجہ یہ ہوا کہ سنان کو اپنی من مانی کرنے کی عادت پڑتی چلی گئی, اسے اچھی طرح باور ہو گیا کہ وہ چاہے کچھ بھی کرے… فدک اسے بچا لے گا
……………………
اس دن بھی وہ کلاس لیکر باہر نکلا تو سنان اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا, اس نے آج پھر کلاس بنک کی تھی, وہ بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے اس کی طرف آ گیا
“چلیں… ؟” اس نے سنان کا کندھا ہلاتے ہوئے پوچھا
“ایک سیکنڈ ادھر آ ذرا… ” وہ اسے ساتھ لئے ایک طرف آ گیا
“طاہر آج رات اپنی منگنی کی پارٹی دےرہا ہے” سنان نے کہا
“تو پھر… ؟”
“تو پھر یہ کہ ہم آج رات یہیں تک جاتے ہیں, وہ اتنا اصرار کر رہا ہے, امی کو فون کر دیتے ہیں کہ ایک سیمینار ہے” سنان کہتا چلا گیا, فدک نے ایک لمبی سانس بھری تھی, یہ کونسا پہلی بار تھا, دو سال سے ہر ہفتے کا اس کا یہ ہی معمول تھا, حلیمہ کو سیمینار کا بہانہ لگا کروہ دونوں رات لاہور میں ہی رک گئے, تقریباً دس بجے کا وقت تھا جب وہ طاہر کے بتاۓ ہوۓ ایڈرس پر پہنچے
“یہ کوئی ریسٹورنٹ تو نہیں لگ رہا سنان… یہ تو کوئی کلب ہے” فدک نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا
“تو چل… آج تھوڑا ڈانس کر لیں گے ” سنان نے ہنستے ہوئے اس کا بازو پکڑا تھا
وہ لاہور کا ایک بدنام زمانہ ڈانس کلب تھا
دی لیوش نائٹس…!
وہ دونوں اندر آ گئے, طاہر اور اس کے دوست فل انجواۓ کر رہے تھے, وہ ان دونوں کو بھی ایک ایک ٹن پکڑا گیا
“بس اس کی کسر رہ گئی تھی ” فدک نے سنان کی طرف دیکھا
“مجھے تو الٹی آ رہی ہے اس کی بو سے… ” اس نے ٹن ایک طرف پھینک دیا
“مجھے بھی… ” سنان اپنا ٹن ایک طرف رکھتے ہوئے اسے حیران کر گیا
یہ پہلی بار نہیں تھا… بہت بار فدک نے اسے وہاں سے مڑتے دیکھا تھا جہاں سے اسے امید نہیں ہوتی تھی کہ وہ مڑ جاۓ گا
اچانک کلب کی ساری لائٹس بند ہو گئیں
کیونکہ وہ آ گئی تھی… وہ جس کے ہوتے ہوئے کسی روشنی کی کیا ضرورت تھی
اس رات سنان نے اسے پہلی بار دیکھا
اجالا… لیوش نائٹس کا زمرد
وہ جس کے چند لمحوں کے ساتھ کے لئے لوگ پانی کی طرح پیسہ بہا دیتے تھے
وہ جس کے حسن کی کوئی انتہا نہیں تھی… جو ایک قیامت تھی…انتہائی حسین قیامت
وہ اکیلی ڈانس فلور پر تھرک رہی تھی… ہرے, ہرے, لال, لال نوٹ بارش کی طرح اس پر برس رہے تھے
سنان بس اسے دیکھتا رہ گیا… بنا کچھ کہے, بنا پلکیں جھپکاۓ
وہ اپنے تین منٹ کے ڈانس سے فارغ ہوئی تو وہ سیدھا کلب کے مالک کے پاس آ گیا
“اس کا نام کیا ہے ؟”
“اجالا… “
“اس کے ساتھ ایک منٹ مل سکتا ہے… ؟” سنان نے پوچھا تھا, فدک دور کھڑا اسے دیکھ رہا تھا
“اس ایک منٹ کی قیمت چکا سکو گے ؟” وہ ہنسا تھا
“کتنی ؟” سنان نے پوچھا
“دس لاکھ… ” مالک نے کہا, سنان کسی بھی چیز کی پرواہ کئے بغیر فدک کے پاس آیا, اس کے ہاتھ سے گاڑی کی چابی لی اور مالک کے سامنے رکھ دی
“24 لاکھ کی گاڑی ہے… دو منٹ لے دو” مالک ایک لمحے کو حیران رہ گیا تھا, پھر گاڑی کی چابیاں اٹھا کر اجالا کی طرف چلا آیا… چند لمحوں بعد وہ اس کی بانہوں میں تھی
سنان کا ایک ہاتھ اس کی مرمریں کمر کے گرد تھا اور دوسرے ہاتھ میں اس کا نرم و نازک ہاتھ تھاما ہوا تھا, وہ بس اجالا کی خوابناک آنکھوں میں ڈوبتا جا رہا تھا, پورے دو منٹ وہ ایک لفظ نہیں بولا… بس اس کے چاند چہرے کو حفظ کرتا رہ گیا
فدک کچھ دور کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا
اسے وہ لڑکی بالکل اچھی نہیں لگی تھی… بالکل بھی نہیں
جاری ہے
