NaKamil By Ayesha Zulfiqar Readelle50165 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
ناکامل
عائشہ ذوالفقار
دوسری قسط
اس دن بھی میں اپنے کیبن میں بیٹھی اجالا مہرا کے کیس کی فائل پڑھ رہی تھی (جو شائد میں پہلے بھی سو بار پڑھ چکی تھی) جب اچانک میرا ماتھا ٹھنکا, چھ سال پہلے تقی نور اجالا کو اغواء کر کے اپنے ساتھ لے گیا تھا لیکن مرسلین مہرا نے اس بات کا سرے سے ہی کوئی ذکر نہیں کیا, جبکہ میری سوئی مسلسل اجالا کے اغواء میں پھنسی ہوئی تھی, دال میں کچھ تو کالا ضرور تھا
“آخر اجالا مرسلین کو کہاں ملی ؟
اور اس کے ساتھ ماضی میں کیا ہوا ؟
یہ دونوں باتیں جاننا بہت ضروری تھا سو میں ایک بار پھر مرسلین مہرا کی گھر چلی آئی
“بڑی شہرت سنی ہے میں نے آپ کی سبین راۓ… لیکن لگتا ہے اس بار اس شہرت کو میری وجہ سے داغ لگ جاۓ گا” اس نے بڑی بھگو کر مجھے لگائی تھی
“داغوں کا کیا ہے مہرا صاحب… وہ تو لگتے ہی رہتے ہیں, لگ کر دھل بھی جاتے ہیں” میں نے مسکرا کر کہا
“اس بار کیا پوچھنے آئی ہیں آپ… ؟” مرسلین نے چاۓ منگوا لی تھی
“آپ کی اور اجالا کی شادی کب ہوئی ؟” میں نے پوچھا
“چھ سال پہلے ” اس نے کہا
“وہ آپ کو کہاں ملی تھی ؟” میں نے پھر پوچھا
“لاہور…میں ایک دوست کی شادی پر گیا تھا, وہ وہاں ملی تھی مجھے, میں نے اسی دوست کے توسط سے اس تک اپنا پروپوزل پہنچا دیا, وہ اپنی ایک خالہ کے ساتھ رہتی تھی, ماں, باپ دونوں ہی گزر چکے تھے, اجالا نے میرا پروپوزل قبول کر لیا اور ہماری شادی ہو گئی ” مرسلین کہتا چلا گیا
“بس… ؟” میں نے کندھے اچکا کر کہا
“کیا مطلب بس… ؟” اسے شائد اچھا نہیں لگا
“میرا مطلب ہے اجالا کی شادی سے پہلے کی زندگی کیسی تھی ؟” میں نے پوچھا
“وہ ایک ڈپارٹمنٹل سٹور پر کام کرتی تھی اور اس کاماضی انتہائی شفاف تھا” مرسلین نے زور دے کر کہا تھا
“یعنی شادی سے پہلے یا بعد میں اس کا کوئی افئیر وغیرہ… ” مرسلین نے میری بات درمیان میں ہی کاٹ دی
“میں ایک وکیل ہوں سبین راۓ… میرے ساتھ یہ چوہے بلی کا کھیل کھیلنا بند کریں, جو سچ تھا وہ میں نے بتا دیا, اب عام پولیس والوں کی طرح مجھے پریشان مت کریں” اسے غصہ آ گیا
“اگر آپ کو پریشان نہیں کروں تو اور کس سے تفتیش کروں …؟ بتائیں مجھے… آپ کی پانچ سالہ معذور بیٹی سے یا گیٹ پر کھڑے اس ان پڑھ چوکیدار سے ؟” مجھے بھی غصہ آ گیا, مرسلین چپ ہو گیا, میں ہزار کوششوں کے باوجود اجالا کے اغواء کا کوئی سرا نہ ڈھونڈ سکی اور مزید ایک ہفتہ گزر گیا
اس دن بھی میں اجالا مہرا کے قتل کیس کی فائل کھولے بیٹھی تھی, سب کچھ میری نظروں کے سامنے تھا پوسٹ مارٹم کی رپورٹس, فنگر پرنٹس کی رپورٹ, اجالا مہرا کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ, مرسلین اور اجالا ک نکاح نامہ, چوکیدار کا بیان, مرسلین کی سٹیٹمنٹس…سب کچھ, میرا ذہن مسلسل اجالا کے اغواء کے بارے میں سوچ رہا تھا, ان دونوں کا نکاح اب سے چھ سال قبل 5 دسمبر 2014 کو ہوا تھا اور مرسلین کے مطابق ثمن مہرا پانچ سال کی تھی, میں یکدم چونک گئی
“سرمد… ” میں نے فوراً سب انسپکٹر کو آواز دی تھی
“جی میڈم… ” وہ بھاگ کر آ گیا
“مجھے فوری طور پر ثمن مہرا کا پیدائشی سرٹیفکیٹ چاہئیے ” میں نے کہا, وہ سر ہلا کر باہر نکل گیا اور کچھ ہی دیر بعد ثمن کا پیدائشی سرٹیفکیٹ میرے سامنے تھا, میں اس کی تاریخ پیدائش دیکھ کر چونک گئی
15 مئی 2015
وہ بچی پانچ سال کی نہیں تھی
5 دسمبر کو اجالا اور مرسلین کا نکاح اور 15 مئی کو ثمن کی پیدائش…!
یہ آخر کس طرح ممکن تھا, صرف چار ماہ میں وہ بچی کس طرح اس دنیا میں آ گئی ؟ آخر سرا میرے ہاتھ آ ہی گیا تھا, مرسلین مہرا چاہے جتنا بھی پھونک پھونک کر قدم رکھتا, یہاں آ کر وہ چوک ہی گیا تھا, اس نے شائد کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا کہ ثمن کا پیدائشی سرٹیفکیٹ ایک دن اس کی پرسنل لائف کی دھجیاں اڑا دے گا, میں اسی وقت وہ سرٹیفیکیٹ لیکر اس کے چیمبر چلی آئی, وہ مجھے دیکھ کر بڑے طنز سے مسکرایا تھا
“بس میرے گھر اور چیمبر کے پھیرے ہی لگاتی رہیں گی یا کچھ کریں گی بھی ؟” اس نے کہا
“آپ کا اور اجالا کا نکاح کب ہوا ؟” میں نے پوچھا
“5 دسمبر 2014 کو اوریہ بات میں آپ کو ہزاروں بار بتا چکا ہوں ” اسے غصہ آ گیا
“اور ثمن کی پیدائش کب ہوئی ؟” میں نے پھر پوچھا
“ظاہر ہے… نکاح کے ایک سال بعد ” اس کے چہرے کا ہلکا سا رنگ اڑا تھا
“نکاح کے ایک سال بعد یہ تاریخ تو نہیں بنتی مرسلین مہرا…” میں نے ثمن کا پیدائشی سرٹیفکیٹ اس کے سامنے رکھ دیا, وہ فوراً سے میری طرف دیکھ بھی نہ سکا
“آپ نے جھوٹ بولا مہرا صاحب… وہ بچی پانچ سال کی نہیں ہے” میں آگے کو ہو کر بولی تھی
“بلکہ وہ بچی آپ کی ہے ہی نہیں… ہے نا ؟” میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا
“جب میرا اور اجالا کا نکاح ہوا تو وہ امید سے تھی” مرسلین نے دھماکہ کر ہی دیا
“خد ا کے لئے… اس بار سچ کہئیے گا ” میرا لحجہ کافی سخت ہو گیا تھا
“یہ سچ ہے کہ میں ایک دوست کے توسط سے ہی اس سے ملا تھا…وہ تب امید سے تھی, میں اس کے بارے میں صرف اتنا جانتا تھا کہ اس کا ماضی پوری طرح تاریکی اور غلاظت میں ڈوبا ہوا تھا , میں نے مزید کچھ بھی پوچھے بنا اس سے نکاح کر لیا” مرسلین نے کہا
“نکاح کے بعد بھی اس نے اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا…؟” میں نے پوچھا
“صرف اتنا کہ چند ماہ پہلے اس نے کسی لڑکے سے محبت کی شادی کی تھی لیکن شادی کے کچھ دن بعد ہی اس لڑکے کو کسی نے قتل کر دیا اور… اجالا امید سے ہو گئی” مرسلین نے کہا, میں نے تاسف سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا, اس کی باتیں مجھے سراسر جھوٹ کا پلندہ لگ رہی تھیں, اجالا کے اغواء کا پھر سے کہیں کوئی ذکر نہیں تھا
“مہرا صاحب آپ کسی اخبار کے صحافی یا کسی نیوز چینل کی اینکر کو کوئی کہانی نہیں سنا رہے کہ وہ اسے مزید تڑکہ لگا کر عوام کے سامنے پیش کر دیں, آپ کی بیوی کا قتل ہو اہے اور آپ اس سلسلے میں پولیس کو بیان دے رہے ہیں… مجھے بس یہ بتا دیں کہ آخر شہر کا نامی گرامی بیرسٹر دی مرسلین مہرا اتنا مجبور کیسے ہو گیا کہ اسے ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنی پڑ گئی جس کے وجود میں نہ جانے کس کی اولاد جنم لے رہی تھی ؟” میری بس ہو گئی
“میں چاہے کسی کنواری لڑکی سے شادی کروں, کسی طلاق یافتہ سے یا کسی ایسی لڑکی سے جس کے وجود میں کسی انجان شخص کی اولاد جنم لے رہی ہو… یہ سراسر میرا ذاتی مسئلہ ہے” مرسلین نے دو ٹوک الفاظ میں کہا
“تو بس پھر… کیس تو ختم ہو گیا نا… آپ کی ڈارلنگ بیوی کے کسی چاہنے والے نے فرط جذبات میں آ کر اسے گولی مار دی” میں نے کندھے اچکا کر کہا
“جسٹ شٹ یور ماؤتھ (بکواس بند کرو)” اسے غصہ آ گیا
“کیوں ؟ابھی آپ نے ہی تو بتایا کہ اس کا ماضی بہت تاریک تھا تو یہ کیوں ممکن نہیں ہے کہ اس کے انتہائی تاریک ماضی سے اچانک ایک ہیولہ نکل کر آیا اور اجالا کو نگل گیا؟” میں نے کہا
“آخر یہ ہیولہ ابھی کیوں آیا ؟ تب کیوں نہیں آیا جب میں نے اجالا سے شادی کی ؟ تب کیوں نہیں آیا جب ثمن پیدا ہوئی؟ پچھلے چھ سالوں میں کیوں نہیں آیا ؟” مرسلین تپ گیا
“ہو سکتا ہے اسے اجالا کا سراغ ہی اب ملا ہو, آپ کونسا کبھی اپنی ذاتی زندگی عوام کے سامنے لیکر آۓ ہیں ” میں نے کہا
“میڈم پلیز… اپنے یہ بے تکے حربے آزمانا بند کریں” مرسلین بیزار ہو گیا
“ٹھیک ہے مہرا صاحب… جیسے آپ کی مرضی, سچ تو آپ نے اب بھی نہیں بولا” میں ایک نظر اسے دیکھتی ہوئی کھڑی ہو گئی تھی
معاملہ پیچیدہ سے پیچیدہ ہی ہوتا جا رہا تھا, مجھے مرسلین کی باتوں پر ایک فیصد بھی یقین نہیں تھا, اب یہ لڑکا نہ جانے کون تھا…؟
مرسلین کی مزید کڑوی کسیلی باتیں سن کر میں نے دو دن کے اندر اندر اس کے اس دوست کا سراغ لگایا جس کے توسط سے اسے اجالا ملی تھی, یہاں بھی اس نے جھوٹ بولا, وہ اس کا دوست نہیں تھا بلکہ درپردہ لڑکیوں کی سمگلنگ میں ملوث تھا, بقول اس کے مرسلین نے اسے کہا تھا کہ وہ ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے جو امید سے ہو, بدلے میں وہ اسے بھاری رقم سے نوازے گا, اس نے مرسلین کو اجالا سے ملوا دیا جو ان دنوں لاہور میں کسی شیلا نامی عورت کے کوٹھے پر کام کر رہی تھی, وہاں اس جیسی اور بھی کئی لڑکیاں تھیں جو اپنا آپ بیچ بیچ کر پیسہ کما رہی تھیں, اجالا نے مرسلین کی آفر قبول کر لی اور بدلے میں مرسلین نے اسے پچاس لاکھ روپے دئیے, یہ سب مجھے شیلا نے بتایا
“کیا اجالا کا نکاح بھی ہوا تھا کسی سے ؟” میں نے پوچھا
“جی میڈم… جب وہ میرے پاس آئی تو امید سے تھی, تقریباً تیسرا مہینہ تھا, اس نے مجھے بتایا کہ اس نے گوجرانوالہ کے ایک لڑکے سے لو میرج کی تھی لیکن چند دن بعد اسے کسی نے قتل کر دیا, اجالا امید سے ہو گئی تھی سو ادھر ادھر کی ٹھوکریں کھاتی ہوئی میرے پاس چلی آئی” شیلا نے کہا
“گوجرانوالہ… ؟” میں چونک گئی
“کیا نام تھا اس لڑکے کا ؟” میں نے فوراً پوچھا
“پتہ نہیں میڈم… ” شیلا تھر تھر کانپ رہی تھی
“تمہارے پاس آنے سے پہلے اجالا کیا کرتی تھی ؟” میں نے پھر پوچھا
“وہ کسی کلب میں کام کرتی تھی میڈم… ” مرسلین کا ایک اور جھوٹ پکڑا گیا
“کس کلب میں ؟” میں نے اسے بالوں سے پکڑ کر کھینچا
“پتہ نہیں میڈم… لیکن میں آپ کو ایک دو دن میں پتہ کر دیتی ہوں ” شیلا نے کہا, میں اسے کافی ڈرا دھمکا کر واپس آ گئی اور دو دن بعد ہی اس کی کال آ گئی
“لیوش نائٹس… میڈم وہ لیوش نائٹس میں ایک ڈانسر تھی” شیلا نے بتایا, میں اسی وقت سرمد کو ساتھ لیکر لیوش نائیٹس پہنچ گئی اور وہاں جاتے ہی ایک ایک بندے پر ڈنڈہ چلوا دیا
“اس لڑکی کو جانتے ہو ؟” میں نے اس کلب کے مالک کے سامنے اجالا کی تصویر رکھی تھی
“یہ کچھ عرصہ پہلے یہاں کام کرتی تھی میڈم… ” مالک کی روح فنا ہو رہی تھی
“اس کے بارے میں جو کچھ جانتے ہو بتا دو” میں نے کہا
“میڈم یہ لڑکی یہاں ڈانسر تھی, سب سے خوبصورت اور سب سے مہنگی ڈانسر… لاکھوں لوگ اس کے حسن کے دیوانے تھے, اس کی کئی لڑکوں سے دوستی تھی لیکن جس لڑکے سے اس نے نکاح کیا… وہ گوجرانوالہ کا رہائشی تھا” مالک کہتا چلا گیا
“پھر کیا ہوا ؟” میں نے پوچھا
“پتہ نہیں میڈم.. میں اور کچھ نہیں جانتا, اجالا یہاں پھر کبھی واپس نہیں آئی ” مالک نے کہا
“تمہارے پاس صرف دو دن ہیں, مجھے اس لڑکے کے بارے میں سب کچھ پتہ کر کے دو” میں اس کے کلب میں توڑ پھوڑ کر کے واپس آ گئی, سب سے زیادہ طیش مجھے مرسلین مہرا پر تھا, کچھ بھی سوچے بنا میں ایک بار پھر اس کے چیمبر چلی آئی
“ویسے آپ کو یہ کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے مرسلین مہرا کہ آپ پہلے دن سے میرے ساتھ جھوٹ بول رہے ہیں…آخر کو ایک وکیل ہیں آپ… جھوٹ بولنا تو سرشت ہے آپ کی.. ” مجھے بے حد غصہ تھا
“اب کیا کر دیا میں نے ؟” وہ حیران ہو کر بولا
“قسم سے مرسل اگر آج مجھے پتہ چلتا نا کہ مرسلین مہرا کی بیوی اسلام آباد کی مشہور ترین وکیل یا مہنگی ترین ڈاکٹر ہے تو دس سال پہلے اپنے ٹھکرا ۓ جانے کا رتی برابر بھی دکھ نہیں ہوتا… لیکن تم نے مجھے ٹھکرا کر کسے چنا ؟ ایک بار ڈانسر کو, ایک ایسی لڑکی کو جس کے وجود میں نہ جانے کس کا بچہ پل رہا تھا ” میری آواز بھیگ گئی, مرسلین بول نہ سکا
“میں مانتی ہوں کہ میں کسی طور تمہارے قابل نہیں تھی, رات کے اندھیرے میں تن تنہا اپنے گھر کی دہلیز پار کرنے والی ایک آوارہ لڑکی آخر کیسے تمہارے پہلو میں کھڑی ہو جاتی ؟ فٹ پاتھ پر رہتے ہوۓ اس نے نہ جانے کس کس کو آسیں لگائی ہوں گی ؟ نہ جانے کتنوں کے ساتھ رنگ رلیاں منائی ہوں گی ؟ لیکن اگر چننا ہی تھا تو میرے مقابلے میں کسی پاکباز کو تو چنتے, کسی مجھ سے بہتر کو تو چنتے مرسل… ؟” میری آنکھیں خود بخود گیلی ہوتی جا رہی تھیں, وہ بس سر جھکاۓ میری باتیں سنتا رہا, میں بیدردی سے اپنی نم آنکھوں کو رگڑتے ہوۓ واپس پلٹ گئی
“سبین… ” اس نے پیچھے سے آواز دی تھی, میں پتہ نہیں کیوں رک گئی
“تم نے بالکل ٹھیک کہا کہ جھوٹ میری سرشت میں لکھا ہے لیکن… میری زندگی کا اکلوتا سچ آج بھی یہ ہی ہے کہ میں لاہور شہر کی سڑکوں پر تن تنہا خوار ہونے والی سبین راۓ سے محبت کرتا ہوں ” وہ اقرار کر گیا
“اور سبین راۓ شائد تمہارا ہر گناہ معاف کر سکتی ہے لیکن وہ ایک رات معاف نہیں کر سکتی جب وہ ننگے پاؤں, ننگے سر تمہارے چیمبر کی سیڑھیوں پر گری رو رہی تھی اور تم اندر خدا بن کر بیٹھے تھے ” میرے لحجے میں نہ جانے کیسے نفرت امڈ آئی تھی
جی ہاں… عمر کا وہ حصہ جسے اہل دل شباب کہتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس حصے میں بے موسمی پھول کھلتے ہیں… میرے دل میں بھی مرسلین مہرا کی محبت کا پھول کھلا تھا
……………………………………
لاہور… 2010
ان دنوں میں سی ایس ایس کی تیاری کر رہی تھی, اکیڈمی کا وقت صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک تھا, اسے پہلی بار میں نے اپنی اکیڈمی کی سیڑھیوں پر کھڑے دیکھا… اور نظر انداز کر کہ گزر گئی لیکن چند دن بعد مجھے محسوس ہوا کہ اس کا وہاں آنا کوئی ایک, دو دفعہ کا اتفاق نہیں تھا, وہ بڑے معمول سے صبح میرے آنے سے پہلے اکیڈمی کے دروازے پر آ موجود ہوتا تھا اور شام کو میرے نکلنے سے پہلے وہاں حاضر ہو جاتا تھا, کچھ دن تو میں اس کی اس مستقل مزاجی کو نظر انداز کرتی رہی لیکن…اب میں کوئی تتلی تو تھی نہیں کہ اس کے کے کندھے پر جا کر بیٹھ جاتی, آس پاس سے پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ موصوف پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کر رہے تھے, نہ جانے کیسے مجھ پر نظر ٹک گئی سو صبح و شام میرے درشن کرنا اس پر فرض ہو گیا تھا, میں بس چند روز ہی برداشت کر سکی اور پھر شیشم کا چار فٹ لمبا ڈنڈہ لیکر اس کے سر پر پہنچ گئی, وہ اپنی بائیک سے ٹیک لگاۓبنا پلکیں جھپکاۓ اکیڈمی کے دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا, میں عین اس کے پیچھے کھڑی ہو گئی, دھیرے دھیرے اکیڈمی خالی ہو گئ, وہ ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے پلٹا تھا اور مجھے دیکھتے ہی ٹھٹھک گیا
“کیا ہے ؟” میں نے پھاڑ کھانے والے لحجے میں پوچھا تھا
“وہ ڈنڈہ ایک طرف رکھ کر میری بات سن لو” اسے پسینہ آ گیا
“کہو… ؟” میں نے ڈنڈہ ایک طرف پھینک دیا
“مجھے تمہیں دن میں دو دفعہ دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے, تم اجازت دے دو” فرمائش ہوئی تھی
“گڑیا تو ہوں نہیں میں کہ تم جیسے چاہو دیکھتے رہو, آنکھیں نہ نکال دوں تمہاری… ” مجھے غصہ آ گیا
“پھر پورے حق سے دیکھنے کی اجازت دے دو” اس نے کہا
“شادی کر لو مجھ سے… پھر ساری عمر جیسے مرضی دیکھتے رہنا” میں نے کہا
“چلو… ” آس نے فوراً میری طرف ہاتھ بڑھا دیا
“کہاں ؟” میں نے پوچھا
“کورٹ… ابھی پانچ بجنے میں دس منٹ باقی ہیں” آس نے کہا
“تم جیسے ہاتھ پکڑ کر کورٹ ہی لیکر جاتے ہیں, کیونکہ ماں, باپ کے سامنے لیکر جانے کی جرأت تو ہوتی نہیں ہے تم میں ” میں نے تاسف سے کہا تھا
“قسم سے میرے ماں, باپ اس دنیا میں ہوتے تو سب سے پہلے تمہیں ان کے سامنے ہی لیکر جاتا… لیکن وہ دونوں گزر چکے ہیں, مڈل کلاس کا کوئی ٹائم پاس کرنے والا ہوتا تو تمہارے پیچھے اتنے دن غارت نہیں کرتا…” وہ کہتا چلا گیا
اور وہ سچ کہہ رہا تھا, اس کا ایک کنال کا ذاتی بنگلہ تھا, بے بہا بینک بیلنس تھا, کئی ایکڑ کی پراپرٹی تھی, وہ اپنے ڈپارٹمنٹ کا ذہین ترین لڑکا تھا… ٹاپر, ایل ایل بی کے تیسرے سال میں ہی وہ اپنا ذاتی چیمبر بھی خرید چکا تھا
اور میں کیا تھی… ؟ رات کے اندھیرے میں گھر سے بھاگی ہوئی ایک لڑکی جس کی جیب میں دو وقت کا کھانا کھانے کے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے, جو یا تو فٹ پاتھ پر سوتی تھی یا پھر دوکانوں کے آگے بنے شیڈز تلے…لیکن وہ پھر بھی کہتا تھا کہ
“مجھے تم سے محبت ہے سبین”
مجھے اس کی محبتیں کبھی جھوٹ نہیں لگیں, اس کی چاہتوں میں کبھی کھوٹ نہیں نظر آیا
بس میرے سوچنے کی دیر ہوتی تھی کہ کاش… مرسلین اس وقت میرے پاس ہوتا اور… وہ آ جاتا تھا
بس میرے کہنے کی دیر ہوتی تھی کہ… مرسلین یہ کر دو اور… وہ کر دیتا تھا
یخ بستہ سردیوں میں اس کی شال کی گرم آغوش ہمہ وقت میرے لئے حاضر تھی, جھلستی گرمیوں میں اس کی ہتھیلیوں کے ساۓ ہمیشہ میرے اوپر سائبان بن کر موجود تھے, ہزاروں بار اس نے مجھ سے اصرار کیا کہ ” میرے ساتھ میرے گھر چل کر رہو سبین… ” اور میں نے ہر بار اسے ٹال دیا
“شادی کے بعد جاؤں گی تمہارے گھر…” میرا یہ جواب ہوتا
“تو پھر کر لو نا شادی…؟” اس کا اصرار دن بدن بڑھتا چلا گیا
“سی ایس ایس کے رزلٹ کے بعد کروں گی ” میں نے اسے ڈیڈ لائن دے دی تھی
“اچھا جب تک تمہارا رزلٹ نہیں آ جاتا تم میرے گھر چل کر رہو, میں اپنے چیمبر میں سو جایا کروں گا” اس نے کہا
“نہیں… ” میں نہیں مانی تھی اور اس کے بعد وہ لڑکا ایک دن بھی اپنے گھر نہیں گیا, میرے ساتھ فٹ پاتھ پر آ کر بیٹھ جاتا, اس کی گرم شال کا لمس مجھے ہمیشہ یاد رہا, پوری رات اس کا چوڑا سینہ ہوتا اور میرا سر… اپنے بالوں میں اس کی انگلیوں کی سرسراہٹ آج بھی یاد ہے مجھے, کھوجنے کے باوجود میں اس کی چاہت میں خود غرضی کی کوئی رمق نہیں ڈھونڈ پائی تھی, کوشش کے باوجود اس کی زندگی کی اپنے علاوہ کسی اور کا عکس نہیں ڈھونڈ پائی
پھر وہ دن بھی آ گیا جب میر رزلٹ اناؤنس ہوا, میرا نام پندرھویں نمبر پر تھا, میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا, اخبار کا وہ حصہ مٹھی میں دباۓ میں اندھا دھند اس کے چیمبر کی طرف دوڑ پڑی
“مرسل کہاں ہے ؟” خوشی سے میری آواز کانپ رہی تھی
“وہ کورٹ روم میں ہیں… آج ان کے پہلے کیس کی سماعت ہے” س کے اسسٹنٹ کے کہتے ہی میں کورٹ روم کی طرف دوڑ پڑی, ہر قانون اور ہر اصول کی ایسی تیسی پھیرتے ہوۓ میں بھری عدالت کے سامنے اس سے لپٹ گئی تھی
“میں پاس ہو گئی مرسل… ” میری آواز پھٹ رہی تھی, آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا, اس نے مجھے ایک لفظ نہیں کہا, نہ کوئی سخت فقرہ, نہ کوئی جھڑکی, نہ کوئی سرزنش… بس بہت نرمی سے مجھے خود سے الگ کیا, بہت محبت سے میری آنکھوں میں آیا پانی صاف کیا اور پورے حق سے اپنی کرسی پر بٹھا کر بولا بھی تو صرف اتنا کہ
” تھوڑی دیر تک چلتے ہیں “
کورٹ کو ڈسٹرب کرنے کے جرم میں مجھے کئی ہزار روپے جرمانہ ہوا جو اس نے ماتھے پر ایک بھی شکن لاۓ بنا بھر دیا
“اب تو شادی کر لو” اس رات اس نے میرے گرد اپنے بازوؤں کا گھیرا تنگ کرتے ہوۓ کہا تھا اور میں بس چپ چاپ اس کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی, نکاح کا سارا انتظام اس نے خود کیا, میری طرف سے تو خیر کوئی تھا ہی نہیں… اس کی طرف سے بھی بس اس کے دوست اور کولیگز ہی مدعو تھے, نکاح سے دو دن پہلے مجھے آفر لیٹر آ گیا, میں نے پولیس سروس سلیکٹ کی تھی, نکاح کے اگلے ہی دن سے میری ٹریننگ شروع تھی, اس نے میرے ذمے بس ایک ہی کام لگایا
“تم بس پورے دل سے میرے لئے تیار ہو جانا… ” اور میں زندگی میں پی بار بیوٹی پارلر چلی آئی, مرسلین کے لئے اپنا آپ سجانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی, تقریباً تین بجے کاوقت تھا جب میں تیار ہو کر ہال چلی آئی, نکاح صر کے بعد تھا, خلاف توقع نہ وہاں مرسلین تھا اور نہ کوئی مہمان… میں اس کا نمبر ملاتے ہوئے برائیڈل روم کی طرف آ گئی لیکن نمبر بند… پورے دو گھنٹے میں وہاں بیٹھی اس کا انتظار کرتی رہی لیکن وہ نہیں آیا, ہال کے عملے سے پوچھا تو وہ بالکل لا علم… اس کے گھر فون کیا تو مسلسل مصروف… اس کے چیمبر فون کیا تو اسسٹنٹ نے کہہ دیا کہ سر آفس میں نہیں ہیں, میں رونے والی ہو گئی
“کہاں رہ گئے ہو مرسل… ؟” میری پریشانی اپنی انتہا کو پہنچ گئی, بمشکل ٹیکسی لیکر دلہن کے لباس اور بھاری جیولری کے ساتھ اس کے گھر پہنچی تو وہ ندارد… مزید دو گھنٹے انتظار کرتی رہی لیکن وہ نہیں آیا, وہاں سے ٹیکسی پکڑ کے اس کے چیمبر پہنچی تو وہاں بھی غائب… اسسٹنٹ بالکل بے بہرہ, کسی کو کچھ پتہ ہی نہیں, کافی دیر اس کا انتظار کرنے کے بعد واپس ہال آ گئی. وہاں کسی اور کا فنکشن شروع ہو چکا تھا, مجھے رونا آنے لگا, سب مجھے پاگلوں کی طرح دیکھ رہے تھے, مرسلین کو کال کر کر کہ میں تھک گئی, رات کے پوری طرح پر پھیلا لئیے تھے, ایک بار پھر ہمت کر کہ میں اس کے چیمبر چلی آئی
“خدا کا واسطہ مجھے بتا دو کہ مرسل کہاں ہے ؟” میں رو پڑی تھی, اسسٹنٹ کو شائد مجھ پر ترس آ گیا تھا
“سر اندر ہیں…” اس کے کہتے ہی میں اس کے آفس کی طرف دوڑ پڑی, وہ اندر ہی تھا, پورے آفس میںگھپ اندھیرا کئے, سگریٹ دانتوں میں دباۓ, آنکھیں موندے, کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ جھول رہا تھا
“یہ سب کیا ہے مرسل ؟” میری حالت دیکھنے والی تھی
“سبین یار جاؤ یہاں سے… مجھے تم سے شادی نہیں کرنی ” الفاظ نہیں تھے, برچھے تھے جو میرے آر پار ہو گئے تھے
“کیا ہوا مرسل ؟” میں ششدر سی آگے کو آئی تھی
“دل بھر گیا ہے تم سے… یہ ہوا ہے” وہ ایک دم کھڑا ہو گیا
“زہر لگنے لگی ہو تم… یہ ہوا ہے” وہ چیخ پڑا
“پاگل نہیں ہوں میں جو منہ اٹھا کر تم سے شادی کر لوں, پتہ نہیں کون ہو تم ؟ کس کا خون ہو ؟ کہاں سے آئی ہو ؟ ” وہ کہتا چلا گیا
“مرسل ایسے مت کرو, میں بہت محبت کرتی ہوں تم سے… یوں تو نہ دھتکارو” میں نے اس کے دونوں بازو پکڑے تھے, میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کے قدموں میں گر جاتی
“جتنا وقت گزارنا تھا تمہارے ساتھ گزار لیا… اب دفع ہو جاؤ” اس نے میرے دونوں ہاتھ جھٹکتے ہوئے میرا بازو جکڑا اور گھسیٹتا ہوا اپنے آفس سے باہر لے آیا
“دوبارہ شکل مت دکھانا مجھے” اس نے مجھے دھکا دیا تھا, میں فرش پر گر گئی
“مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے اب…” چلا کر کہتے ہوئے اس نے زور دار آواز سے اپنے آفس کا دروازہ بند کر لیا,
میں وہاں سے اٹھ نہیں سکی, فرش میرے آنسوؤں سے گیلا ہوتا چلا گیا, کاش اس لمحے کوئی آگ آتی اور مجھے راکھ کر جاتی, کاش اس لمحے زمین پھٹ کر مجھے اپنے اندر سما لیتی…
“میڈم…سر کہہ رہے ہیں جائیں یہاں سے ” اس کا اسسٹنٹ میرے سر پر آ کر بولا تھا, میں بمشکل اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور اس کے چیمبر سے باہر نکل آئی, پیروں میں اونچی ہیل والا جوتا پہنا ہوا تھا, ایک دم لڑکھڑائی اور اس کے چیمبر کی سیڑھیوں پر گر گئی, اپنا سارا ضبط کھوتے ہوۓ میں پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
وہی ہوا تھا جس سے میں ڈر رہی تھی
محبت کر کہ دھتکار دیا تھا اس نے…!
عادی بنا کر چھوڑ دیا تھا اس نے…!
یونہی ماتم کرتے ہوئے میں نے سارا زیور اتار کر وہیں سیڑھیوں پر ڈھیر کر دیا, جوتے اتار کر ایک طرف پھینکے, اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی, بڑی آس سے میں نے اس کے آفس کی کھڑکی کے طرف دیکھا تھا… وہ ہنوز بند تھی, میں اپنی آنکھیں رگڑتے ہوۓ, ننگے پاؤں اور ننگے سر وہاں سے واپس آ گئی
وہ صرف ایک رات نہیں تھی… قیامت تھی میرے لئے
بمشکل خود کشی کے خیال کا گلا گھونٹتے ہوۓ اگلے دن میں نے اپنا سامان باندھا اور ٹریننگ اکیڈمی چلی آئی… چھ ماہ بعد میری پہلی پوسٹنگ جھنگ ہوئی تھی
مرسلین مہرا میرے لئے نفرت کا دوسرا نام بن چکا تھا
جاری ہے
