Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

ناکامل
عائشہ ذوالفقار
آٹھویں قسط
“گاڑی چوری ہو گئی… ” سنان نصیر حسین کے سامنے بس اتنا کہہ کر چپ ہو گیا, اس کا سارا نزلہ فدک پر اترا… لعن طعن, گالم گلوچ… اور چار, پانچ تھپڑ…
فدک بھی چپ چاپ سہتا رہا… گاڑی چوری ہونے کی رپورٹ لکھوا دی… لیکن وہ نہ ملنی تھی نہ ملی
اس دن کے بعد سے سنان راۓ پر جیسے لیوش نائٹس میں حاضری دینا فرض ہو گیا
اجالا تو رات کی رانی تھی… دن میں نہیں ملتی تھی, سو اب آۓ روز لاہور رکنے کے بہانے گھڑنے شروع ہو گیا, آۓ روز ان دونوں کی نصیر حسین کے سامنے پیشی لگی رہتی, اس نے ان دونوں کو سڑ اکے طور پر نئی گاڑی بھی نہیں لے کر دی تھی
“بس سے آیا جایا کرو… ” صاف کہہ دیا تھا اور سنان کو یہ سزا بخوشی قبول تھی
“سنان… تجھے آخر اس لڑکی میں کیا نظر آتا ہے؟” آخر ایک دن فدک نے پوچھ ہی لیا
“محبت… صرف محبت” سنان نے کہا
“تو س سے محبت بھی کرنے لگا… ؟” فدک حیران رہ گیا
“ہاں… میں اس سے محبت کرنے لگا ہوں ” سنان جیسے اپنے حواسوں میں ہی نہیں تھا, پورے دو سال اس لڑکے نے اجالا کو اپنی محبتوں کا یقین دلاتے گزار دئے, نصیر حسین سے جھوٹ بول بول کر اسے مہنگے سے مہنگے تحفے لیکر دئے, بھکاریوں کی طرح اس کی منتیں کرتا رہا, فقیروں کی طرح اس کے در کے چکر لگاتا رہا… وہ اس کے قدموں کی خاک تک بننے کو تیار تھا
لیکن اجالا… وہ تو ایک شمع تھی, جس پر کئی پروانے عاشق تھے, انہیں عاشقوں میں سے ایک پروانے پر اس شمع کا دل بھی آ گیا تھا
شہریار… عرف شیری
……………………
“بڑے دنوں بعد آۓ شیری ؟” وہ پورے ایک ہفتے بعد اس سے ملنے آیا تھا
“ایک کام تھا… ” شیری نے کہا
“تمہارے بنا دل نہیں لگتا میرا… پتہ توہے تمہیں” اجالا نے کہا
“تمہارا دل اپنے ساتھ لے جایا کروں ؟” اس نے شرارت سے کہا تھا
“تم مجھے ہی ساتھ لے جایا کرو تو… ؟” اجالا کی آنکھوں میں صرف خواہش تھی… شیری کی خواہش
“اجالا یار ایک ہیلپ تو کر دو… ؟” اس نے اجالا کی نگاہوں سے نظریں چراتے ہوئے کہا
“دس لاکھ روپے چاہیں مجھے… ” اس نے فرمائش کی تھی
“کیوں ؟” اس نے پوچھا
“ایک غنڈہ پیچھے پڑ گیا ہے, جان کی دھمکی دے رہا ہے, اس سے جان چھڑوانی ہے” شیری نے کہا, وہ اجالا کی محبت کو پچھلے دو سالوں سے یونہی کیش کروا رہا تھا
“شیری میں کہاں سے لاؤں دس لاکھ ؟” وہ پریشان ہو گئی
“وہ لڑکا کون ہے جو تم سے روز ملنے آتا ہے ؟” شیری نے پوچھا
“تم کتنی خبریں رکھتے ہو نا میری ؟” اجالا کو اچھا نہیں لگا تھا
“یار اب اپنی محبوبہ کی خبریں بھی نہ رکھوں تو کس کی رکھوں” شیری نے بڑی لگاوٹ سے کہا تھا
“گوجرانوالہ سے آتا ہے, یونیورسٹی میں پڑھتا ہے اور… مجھ سے محبت کرتا ہے” اجالا نے کندھے اچکا کر کہا تھا
“اس سے کہو… دس لاکھ دے تمہیں ” شیری نے کہا
“شیری… میں نے آج تک کسی سے کچھ نہیں مانگا, ایک پیسہ بھی نہیں” اجالا نے کہا
“مانگ لو گی تو کیا ہو جاۓ گا… ؟” وہ بضد تھا
“مجھے ضرورت ہے یار… جان داؤ پر لگی ہے” وہ کہتا جا رہا تھا, اجالا بس اسے دیکھ کر رہ گئی
…………………….
“فدک… یار میں اجالا کو پروپوز نہ کر دوں ؟” اس شام یونیورسٹی سے فارغ ہو کر باہر نکلتے ہوئے سنان نے کہا, وہ آج کل ہمہ وقت اجالا کے خیالوں میں ہی کھویا رہتا تھا
“کیا مطلب ؟” فدک تھم سا گیا
“میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں یار… ” سنان تو فیصلہ کئے بیٹھا تھا, فدک بول نہ سکا
“ایک انگوٹھی خریدنی ہے فدک… لیکن پیسے کہاں سے لاؤں ؟” وہ کہے جا رہا تھا
“میری بائیک بھی بس پچاس, ساٹھ ہزار کی ہی جاۓ گی, موبائل بھی زیادہ مہنگا نہیں ہے, ابو اتنے پیسے دیں گے نہیں… ” وہ سوچتا جا رہا تھا
“میرا موبائل بھی حاضر ہے… ” کچھ دیر بعد فدک نے کہا, وہ کہاں سنان کو اسقدر پریشان دیکھ سکتا تھا, ایک دو دن میں جگاڑ لگا لگا کر ان دونوں نے دس لاکھ روپے جمع کئے اور اجالا کے لئے ایک ڈائمنڈ رنگ خریدی
“میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں” اس رات سنان اس کے قدموں میں بیٹھ گیا, اجالا چپ رہ گئی تھی
………………………
“یہ لو… دس لاکھ کی ہو گی یہ” اس نے رنگ شیری کے آگے رکھ دی
“یہ اسی نے دی ہے ؟” اس نے پوچھا
“ہاں… “
“کیا کہتا… ؟”
“شادی کرنا چاہتا ہے… ” اجالا نے کہا
“اور تم… ؟” شیری نے کہا
“میں نے انکار کر دیا” اجالا نے کہا
“اجالا میری بات سنو… میں نے اس لڑکے کے بارے میں سارا پتہ کروایا ہے, اس کا باپ گوجرانوالہ کا رئیس ہے, انتہائی امیر شخص… دو کنال کا بنگلہ, ایک ٹیکسٹائل انڈسٹری, ایک بہت بڑا کلاتھ سینٹر اور کئی ایکڑ اراضی… اسے انکار نہ کرو بلکہ اس کے سامنے شرط رکھو کہ پہلے اس کا باپ سب کچھ اس کے نام کرے اور وہ تمہیں حق مہر میں اپنا بنگلہ اور انڈسٹری دونوں سے… تب تم اس سے شادی کرو گی” شیری کہتا چلا گیا
“وہ مان گیا تو ؟” اجالا نے کہا
“تو پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ کیا کرنا ہے” شیری آخر کو ماسٹر مائینڈ تھا
…………………..
اجالا کے انکار کے باوجود سنان نے گھر میں دھماکہ کر دیا
“میں اجالا سے شادی کرنا چاہتا ہوں ” سب سے پہلے حلیمہ کو بتایا
“ایک بار ڈانسر… ” وہ تو مارے صدمے کے چپ ہی رہ گئیں
“ابو سے بات کریں… ” وہ اس کے سر ہو گیا
“نہیں… کبھی نہیں” شائد زندگی میں پہلی بار وہ اس کا کہا نہیں مان رہی تھی سو سنان خود ہی نصیر حسین کے سامنے جا کھڑا ہوا
“ایک بار ڈانسر…؟ ” اس نے بس اتنا پوچھا
“جی… ” سنان تن کر کھڑا تھا
“نہیں… اور دوبارہ میرے پاس مت آنا” نصیر نے کہا
“محبت کرتا ہوں اس سے… ” سنان کے کہنے کی دیر تھی, پہلی بار نصیر حسین کا تھپڑ اس کا گال رنگ گیا, وہ دم بخود اپنے گال پہ ہاتھ رکھے کھڑا رہ گیا, فدک کی جیسے جان نکل گئی تھی
“ابو… غلطی آس کی نہیں ہے, میں نے اسے اجالا سے ملوایا تھا” وہ ایک دم اس کے آگے آ گیا, حلیمہ ایک طرف خاموش کھڑی تھی
“دراصل میں اجالا سے شادی کرنا… ” نصیر حسین کو ایک دم قہر چڑھا تھا
“کہا تھا نا تمہیں کہ اسے یونیورسٹی مت بھیجو… یہ دنیا جہاں کی خاک اٹھا اٹھا کر میرے سر میں ڈالنے لگے گا… اور اس نے وہی کیا” نصیر حسین کے ہاتھ تھے اور فدک کا وجود… وہ تابڑ توڑ اسے مکے اور تھپڑ مارتا چلا گیا
“خبردار جو آئیندہ اس گھر میں اس لڑکی کا ذکر بھی ہوا تو… ” فدک کا برا حال تھا, جگہ جگہ نیل پڑ گئے تھے, ہونٹ بھی پھٹ گیا تھا, سنان تو بس سانس روکے اسے دیکھے جا رہا تھا, جو اس کے ساتھ ہوا, وہ سنان سے کہاں برداشت ہونا تھا, فدک نے ایک نظر اسے دیکھا اور باہر آ گیا
پورا آسمان گھٹا ٹوپ سیاہ بادلوں سے بھرا پڑا تھا, مسلسل گھن گرج اور تیز آندھی… وہ باہر سیڑھیوں پر آ کر بیٹھ گیا, چہرہ جگہ جگہ سے سوج گیا تھا, سنان دھیرے سے س کے برابر میں آ کر بیٹھ گیا
“میں کیسے رہوں گا اس کے بغیر فدک… ہر وقت میرے دماغ پر چھائی رہتی ہے وہ” سنان نے سر جھکایا ہوا تھا, بارش کی موٹی موٹی بوندیں گرنا شروع ہو گئیں تھیں, فدک نے اس کی طرف دیکھا
وہ کتنا اداس تھا… کتنا افسردہ
شائد رو رہا تھا… اس بار فدک اس کے لئے کچھ نہیں کر پایا تھا
“بہت پیار کرتا ہوں میں اس سے… ” بارش تیز ہو گئی تھی, بادل مسلسل گرج رہے تھے, فدک کی بس ہو گئ, وہ ایک دم سنان کے قریب ہوا تھا
“سنان… ” فدک نے اسے پکارا اور وہ جیسے ہی اس کی طرف مڑا, ایک دم اپنے لب آس کے لبوں سے جوڑ دئے, سنان کا جیسے سانس رک گیا تھا, یکدم وہ اس سے دور ہوا…بس بے یقین نظروں سے اسے دیکھتا رہ گیا, پھر ایک دم اٹھا اور اندرچلا گیا لیکن فدک…
اس کی خواہشیں جیسے پوری طرح جاگ چکی تھیں, وہ اس کے پیچھے ہی چلا آیا, سنان اپنے کمرے میں تھا, گیلی شرٹ اتار کر صوفے پر پھینکی ہوئی تھی اور سیف کے پاس کھڑا تھا
“سنان… ” فدک نے سرگوشی کی تھی, وہ ایک دم مڑا, فدک اس کے قریب آ گیا
“فدک تو یہاں سے… ” اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی فدک نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا, وہ اس کا چہرہ چوم رہا تھا, اس کی گردن چوم رہا تھا, اس کے لبوں کو چوم رہا تھا
سنان کی سانس رکنے لگی, وہ فدک کو خود سے الگ نہیں کر پا رہا تھا
“ابو… ” اچانک اس کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی, فدک ایک دم ااسے الگ ہوا تھا , نصیر حسین پھٹی پھٹی نظروں سے دروازے میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا
“میں نے کہا تھا تیری ماں کو کہ اس لعنت کو پیدا ہوتے ہی مار دے… مجھے پتہ تھا ایک نا ایک دن تو یونہی رسوا کرے گا مجھے” وہ ایک موٹا سا ڈنڈہ اٹھا لایا
“تو انسان نہیں ہے فدک… تو شیطان ہے, تو اس دنیا میں شیطان کا دوسرا روپ ہے… وہ کونسا وقت تھا جب میں نے تجھے زندہ درگور نہیں کیا” وہ پے در پے فدک پر ڈنڈے برساۓ جا رہا تھا, سنان بس دیوار کے ساتھ لگا کھڑا تھا… بالکل چپ, بالکل خاموش
نصیر اڈے گھسیٹتا ہوا باہر لے آیا, موسلا دھار بارش نے پورے صحن کو پانی سے بھر دیا تھا
“دفع ہو جا یہاں سے… آج سے تیرا کوئی گھر نہیں, نا کوئی باپ… نا کوئی ماں” فدک خون سے لت پت ہو گیا تھا
“میں تجھے اپنی جائیداد سے بھی عاق کرتا ہوں… مر گیا تو میرے لئے ” آس نے فدک کو گھر سے باہر دھکا دے کر دروازہ بند کر دیا تھا
…………………
اس رات فدک کو ادراک ہوا کہ حقیقت کیا تھی
اس رات اس پر آشکارا ہوا کہ اس کا باپ اس سے اسقدر نفرت کیوں کرتا تھا ؟
کیونکہ وہ نہ تو دنیا کو یہ کہہ سکتا تھا کہ اس کا ایک بیٹا ہے اور… نہ یہ کہ اس کی ایک بیٹی ہے
آس رات فدک کو پتہ چلا کہ اس کی دنیا سنان سے شروع ہو کر سنان پر ہی ختم کیوں ہو جاتی ہے ؟
اس رات اسے ادراک ہوا کہ جس رات سنان نے پہلی بار اجالا کو دیکھا… وہ اسے اچھی کیوں نہیں لگی ؟
وہ مکمل نہیں تھا… ادھورا تھا
وہ سنان کی طرح نہیں تھا
وہ سبین کی طرح بھی نہیں تھا
اسے بھاگ دوڑ پسند نہیں تھی, اسے مار پیٹ سے ڈر لگتا تھا, وہ مشقت والے کام نہیں کر پاتا تھا, وہ بہت جلد تھک جاتا تھا…
وہ قوم لوط میں سے نہیں تھا… نہیں نہیں
وہ ملعون نہیں تھا… بس امپرفیکٹ تھا
لیکن اس کے باپ کو یہی لگتا تھا کہ وہ ایک شیطان ہے حالانکہ… وہ ایک انسان ہی تھا
ایک ادھورا انسان… ایک ناکامل
اب اس کی فطرت ہی ایسی تھی تو وہ کیا کرتا ؟
بس بہک گیا… لڑکھڑا گیا
اپنی خواہشوں کے آگے بند نہیں باندھ سکا, ان سے لڑ نہیں سکا… بس ہار گیا
پہلی بار ہار گیا… اور پہلی بار ہی دھتکارا گیا
……………………
نصیر حسین نے اگلے ہی دن اسے اپنی ساری جائیداد سے عاق کر کہ سب کچھ سنان کے نام کر دیا اور سنان… وہ اگلے ہی دن فدک کے روبرو تھا
نیل و نیل چہرہ, جگہ جگہ سے ادھڑے ہوۓ بازو, پھٹے ہوئے ہونٹ, ماتھے پر بندھی سفید پٹی… اور نہ جانے کیا کچھ
فدک نظریں جھکا گیا
“مجھے نہیں پتہ تو نے کل رات مجھے کیا سمجھ کر گلے لگایا… پر میں نے تجھے ہمیشہ بھائی مان کر ہی گلے لگایا یے” سنان ایک دم اس کے گلے لگا تھا, فدک اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکا, بس نظریں جھکاۓ کھڑا رہا
“آب کیا کرے گا؟” سنان نے پوچھا
“پارٹ ٹائم جاب… آٹھ, دس لڑکوں کے ساتھ ایک سستا سا کراۓ کا کمرہ اور… باقی کا بی بی اے” فدک اسی رات لاہور چلا آیا تھا, سنان چپ رہ گیا
“اور تو کیا کرے گا اب ؟” فدک نے پوچھا
“کورٹ میرج… ” سنان نے دھماکہ کر دیا
“ابو نہیں مانیں گے… کبھی نہیں, اور اس بار امی بھی انہیں نہیں منا سکیں گی… اور میں اجالا کے بنا نہیں رہ سکتا, آج رات میں اسے منانے جاؤں گا اور… منا کر ہی دم لوں گا, بس پھر ہم دونوں کورٹ میرج کر لیں گے” سنان کا پورا پلان تیار تھا
“وہ تجھے بھی عاق کر دی گے سنان… ” فدک نے کہا
“تو کر دیں… یہ سب پہلے بھی کونسا میرا ہے” سنان کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا
……………..
“شادی کر لو مجھ سے ؟” وہ ایک بار پھر اس کے قدموں میں تھا
“کیا دو گے مجھے شادی کے بدلے ؟” اجالا نے پوچھ ہی لیا
“جو تم کہو… ” سنان نے کہا
“وہ سب جو تمہارا ہے ” اجالا نے کہا
“کیا مطلب ؟” سنان سمجھ نہ سکا
“مطلب مجھے سیکیورٹی چاہیے, تمہارا کیا تم کل کو فائدا اٹھا کر چھوڑ دو گے تو میں کیا کروں گی ؟ اپنے باپ سے کہو سب کچھ تمہارے نام کرے ” آس نے کہا
“وہ کر چکے ہیں” سنان نے فوراً کہا تھا
“اور میری شرط بس یہ ہے کہ تم وہ سب میرے نام کرو” اجالا نے کہا
“پھر کر لو گی شادی ؟” سنان پاگل ہو رہا تھا
“ہاں… ” اجالا نے کہا
وہ ایک ہفتے بعد پھر اس کے سامنے تھا, نصیر حسین کے علم میں لاۓ بغیر اپنا گھر, انڈسٹری اور زمین اس کے نام کر دی
“یہ لو… تمہاری سیکیورٹی ” سنان نے کاغذات آس کے سامنے رکھ دئیے تھے
“یہ تینوں چیزیں تمہارے حق مہر میں لکھوا دوں گا” سنان نے کہا
“کورٹ میرج کرو گے ؟” اس نے پوچھا
“ہاں… گوجرانوالہ میں” سنان نے کہا تھا
………………
“اب بتاؤ, میں نے کہا تھا نا کہ وہ مان گیا تو ؟” وہ اور شیری پھر ایک ساتھ تھے
“تم اسے ہاں کر دو… ” شیری نے کہا
“شیری… ” اجالا کو جیسے یقین نہ آیا
“میری بات تو سنو… تم اسے ہاں کر دو, اسے کہو کہ تم اس سے کورٹ میرج کے لئے تیار ہو, جب وہ تمہیں حق مہر کے طور پر وہ کاغذات دے دے گا تو ہم اسی دن اس کا پتہ صاف کر دیں گے ” شیری نے کہا
“وہ کیسے ؟”
“وہ مجھ پر چھوڑ دو” شیری ہنسا تھا
“اسے جان سے نہیں مارنا شیری… وہ بے قصور ہے” اجالا کو اس کی آنکھوں سے خوف آیا تھا
……………….
“اجالا مان گئی ہے فدک…. ” سنان کی خوشی کا کوئی حال نہیں تھا
“میں کل صبح اسے لیکر گوجرانوالہ جاؤں گا, وہاں میرا ایک بہت اچھا دوست وکیل ہے, میری اس سے بات ہو گئی ہے, وہ ہم دونوں ک نکاح کروا دے گا اور پھر میں اجالا کو امی سے ملوا کر واپس لے آؤں گا” سنان کہتا چلا گیا
“یہاں کوئی بندوبست کیا ہے رہنے کا ؟” فدک نے پوچھا
“نہیں یار… ابھی کرنا ہے ” سنان نے کہا
“تو فکر نہ کر… وہ میرے ذمے ہے, تیرا گھر, کمرہ, ولیمہ… سب میں مینیج کر لوں گا, تو بس نکاح کی تیاری کر” فدک کہتا چلا گیا
“تو کہاں سے لاۓ گا اتنے پیسے ؟” سنان نے پوچھا
“میں نے کہا نا فکر نہ کر… میں کر لوں گا” فدک نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
جاری ہے
………………….