NaKamil By Ayesha Zulfiqar Readelle50165 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
ناکامل
عائشہ ذوالفقار
چوتھی قسط
“امی… “میں نے دھیرے سے انہیں پکارا, میں ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹی ہوئی تھی اور وہ میرے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھیں, پرسوں پھر سے میرا اور اسجد کا دھواں دھار جھگڑا ہوا تھا, اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا اور میں نے پستول کی نال مار کر اس کا ماتھا چیر دیا تھا, اب وہ نہ جانے کہاں تھا اور میں امی کی طرف آ گئی تھی
“فرض کریں کہ کسی باپ کی بیٹی بہت مشکل میں ہو, بہت ذلیل و خوار ہو رہی ہو, اس کی جان داؤ پر لگی ہو تو وہ کیا کرے گا ؟” میں نے پوچھا
“اپنی بات کر رہی ہے ؟” انہوں نے پوچھا
“نہیں… کوئی اور ہے ” میں نے کہا
“وہ باپ پوری دنیا کو آگ لگا دے گا” امی نے کہا, میں ایک دم چونک گئی
“اگر تیرا باپ زندہ ہوتا تو تجھے یوں سڑکوں پر رلنے دیتا بھلا… وہ تیرے برابر کھڑا ہوتا تو کانٹوں کی مجال تھی کہ تیرے پاس بھی آ جاتے, اس کا ہاتھ تیرے سر پر ہوتا تو کوئی تیرا کیسے کچھ بگاڑ لیتا سبین… ” امی کہتی چلی گئیں اور میرا دماغ جیسے ایک دم روشن ہو گیا
اگلے ہی دن میں نے فنگر پرنٹس کی رپورٹس پر ثمن مہرا کے وارنٹ گرفتاری نکلواۓ اور اس پانچ سالہ معذور بچی کو جیل اٹھا لائی, ہر اخبار اور نیوز چینل پر بریکنگ نیوز چلوا دی, ہر کمرشل چینل کے نیچے پٹی چلوا دی, ڈی آئی جی کی میں فی الحال ایک بھی نہیں سن رہی تھی, اپنا موبائل مستقل بند کر دیا, مرسلین مہرا کے تلوؤں پر جیسے آگ لگ گئی تھی, اس کی بھر پور کوششوں کے باوجود میں نے ثمن مہرا کی ضمانت منسوخ کروا دی اور عدالت سے اسے سات دن حراست میں رکھنے کی اجازت لے لی, مرسلین نے اس کی خاطر جیل کی کال کوٹھری کو کسی فائیو سٹار ہوٹل کا کمرہ بنا دیا تھا , اپنی ہر کوشش ناکام ہوتے دیکھ کر وہ آگ اگلتا ہوا میرے کیبن میں چلا آیا
“یہ کیا کر رہی ہو تم سبین… ؟” وہ سارے آپ جناب لمحوں میں بھول گیا تھا
“میں صرف اپنا کام کر رہی ہوں ” میں نےکہا
“نہیں… تم صرف اپنا کام نہیں ر رہیں, تم مجھ سے بدلہ لے رہی ہو, تمہارے ساتھ دھوکہ میں نے کیا تھا نا… تو سزا بھی مجھے دو, میری بچی پہ اسقدر ظلم کیوں کر رہی ہو ؟” وہ رو رہا تھا
“میں نے اس گڑیا کو کبھی سورج کی تیز دھوپ تک نہیں لگنے دی جسے تم جیل اٹھا لائیں” وہ دھاڑا
“وہ تمہاری بیٹی نہیں ہے مرسلین… ” میں نے کہا
“اس کا لمس سب سے پہلے میرے ہاتھوں نے محسوس کیا تھا… اجالا سے بھی پہلے وہ میری آغوش میں آئی تھی, نہ جانے کتنی ہی بار میں نے اسے اپنے سینے پر سلایا ہے, نہ جانے میں اسے کہاں کہاں لئے پھرا ہوں اور تم… تم اسے جیل لے آئیں” وہ بے بس ہو گیا
“میرے بات سنو مرسلین… وہ تمہاری بیٹی نہیں ہے اس کے باوجود تم اس کے لئے اتنا تڑپ رہے ہو, تو سوچو اس وقت اس کے اصلی باپ کی کیا حالت ہو گی ؟” میں نے کہا
“اس کا اصلی باپ اس دنیا میں نہیں ہے اے ایس پی سبین راۓ… ” وہ زور دے کر بولا تھا
“ایسا لگتا تو نہیں ہے” میں نے کہا, اور میرا تکا اس بار بھی نشانے پر بیٹھا تھا
ثمن کا باپ زندہ تھا
……………………….
ثمن مہرا کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے آۓ تین دن ہو چکے تھے اور مرسلین مہرا اپنا ہر قسم کا کیس ملتوی کر کہ صرف اور صرف ثمن کے ساتھ وقت گزار رہا تھا, تین دن ہو گئے تھے اسے ثمن کے ساتھ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سوتے ہوئے… اس دن بھی میں کام ختم کر کے پولیس سٹیشن سے باہر نکلی تو وہ ثمن کے لئے کھانا لیکر اندر داخل ہو رہا تھا, بس اس نے ایک اچٹتی سی ناراضگی بھری نظر مجھ پر ڈالی اور اندر چلا گیا, اس کا بس چلتا تو شائد مجھے گولی سے اڑا دیتا
“کیا واقعی تم مرسلین کے کئے کا بدلہ اس کی بچی سے لے رہی ہو ؟” میرے اندر سے آواز آئی تھی جسے بری طرح جھٹکتے ہوئے میں گھر آ گئی, رات تقریباً گیارہ بجے کا وقت تھا اور اسجد حسب معمول ندارد تھا, میں نے چابی دروازے کے ہول میں گھسائی اور اندر آ گئی, پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا, پستول صوفے پر اچھالتے ہوۓ میں نے ڈرائینگ روم کی لائیٹ جلائی اور پلٹتے ہی ٹھٹھک گئی, وہ میری طرف پشت کئے ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھا بڑی رغبت سے کل کی بچی ہوئی بریانی کھا رہا تھا, میں دھیرے دھیرے چلتی ہوئی کچن کے دروازے میں جا کھڑی ہوئی
“تمہیں کیا کھانا ملنا بند ہو گیا ہے جو بھوک مٹانے یہاں چلے آۓ ہو ؟” میں نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے پوچھا تھا, اس نے بڑے تحمل سے اپنی پلیٹ صاف کی, پانی کا گلاس بھر کر منہ سے لگایا اور ہاتھ صاف کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا, بڑے اعتماد سے وہ میری طرف مڑا تھا, چند لمحے میری طرف دیکھتا رہا پھر اپنے دونوں بازو میری جانب کھول دئیے
“عرصہ ہو گیا ہے کسی دوست سے ملے… ” وہ بولا
عرصہ تو مجھے بھی بہت ہو گیا تھا کسی دوست سے ملے… سو دھیرے سے مسکراتے ہوئے اس کے گلے لگ گئی
کسی زمانے میں وہ میرا دوست تھا… میرا پہلا دوست
تقی نور…!
……………………….
لاہور … 2004
رات تقریباً ایک بجے کا وقت تھا جب میں لاہور بس اڈے پر اتری, میرا بیگ میرے کندھوں پر تھا, تب میری عمر چودہ سال تھی, اس رات میں ہمیشہ کے لئے اپنی ماں کو چھوڑ آئی تھی… دم گھٹنے لگا تھا میرا اس گھر میں, مرنے کے بعد تو نہ جانے جنت ملے یا جہنم… لیکن جیتے جی جہنم قبول نہیں تھی مجھے… میں جانتی تھی میری آنے والی زندگی پھولوں کا بستر نہیں ہو گی, کھڑے ہونے کے لئے دو فٹ زمین بھی نہیں ملے گی… منزل کہاں خود چل کر ہم تک آتی ہے, ہمیں ہی اس تک جانا پڑتا ہے, ایڑھیاں رگڑتے ہوۓ, خون ابلتے ہوئے, خاک چھانتے ہوۓ…
میں جانتی تھی مجھے اب کم ازکم آنے والے دس, پندرہ سال لاہور کی سڑکوں پر خوار ہونا تھا… اور میں تیار تھی
لاہور آ کر مجھے جو پہلا کام ملا وہ ایک ریسٹورنٹ پر برتن دھونے کا تھا… اور میں نے کیا, میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ مجھے ایک پولیس آفیسر بننا تھا
اس کے لئے سی ایس ایس کرنا تھا
اور سی ایس ایس کے لئے پیسے جمع کرنے تھے
کئی سال تو مجھے اس شہر میں چھت ہی نصیب نہیں ہوئی, سڑکوں کے کنارے بنے فٹ پاتھ, دوکانوں کے آگے بنے شیڈز, بس اڈوں کے برآمدے اور انتظار گاہیں, گھروں کے آگے بنی سیڑھیاں… یہ میرے ٹھکانے ہوتے تھے
وہ بھی ایک کالی سیاہ رات تھی, ہلکی ہلکی کن من ہو رہی تھی, رات تقریباً بارہ بجے کا وقت تھا, میں فٹ پاتھ سے ذرا آگے ایک چاۓ والے کھوکھے کے ساتھ بنی بند دوکان کے شیڈ تلے اپنی کتابیں لیکر بیٹھی تھی, دس دن بعد میرے میٹرک کے امتحان تھے, کھوکھے کی مدھم سی روشنی مجھ تک پہنچ رہی تھی اور میرے لئے وہی کافی تھی, اس سے آگے بند دوکانوں کے شٹرز تھے اور گھپ اندھیرا… اچانک فٹ پاتھ پر سوۓ لوگوں میں ایک ہڑبونگ مچ گئی, بس اڈے سے منسلک ایک پرانے شو روم پر پولیس کا چھاپہ پڑا تھا, پولیس سائرن کے ساتھ ساتھ اکا دکا گولیاں چلنے کی آواز بھی آ رہی تھی, بدحواسی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگتے لوگوں کی زبانی مجھے پتہ چلا کہ پولیس کسی لڑکے کی تلاش میں تھی جو تھوڑی دیر پہلے ہی ایک سنار کی دوکان لوٹ کر فرار ہوا تھا, پولیس نے شبے کی بنیاد پر کئی لوگوں کو دھر لیا, اس سے پہلے کہ میں وہاں سے اٹھ کر کہیں ادھر ادھر ہوتی, مجھے اپنے عین پیچھے ایک سیاہ ہیولہ سا نظر آیا جس نے لمحوں میں مجھے مضبوطی سے جکڑ کر اپنا ہاتھ میرے منہ پر رکھ دیا
“ذرا سی بھی آواز نکالی تو گلا گھونٹ دوں گا” وہ وہی لڑکا تھا… شائد سولہ یا سترہ سال کا, پورا ایک گھنٹہ وہ یونہی میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہا, پولیس مار کٹائی اور تشدد کے بعد آٹھ, دس لوگوں کو گرفتار کر کے لے گئی, ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اس نے میرے منہ پر سے ہاتھ ہٹایا تھا
“تمہاری وجہ سے دس بے گناہ لوگ جیل چلے گئے, اب تمہیں چین کی نیند آۓ گی ؟” میں نے پوچھا تھا
“کونسی چین کی نیند… رات تو گئی” وہ ایک آنکھ دبا کر مسکرایا اور اپنی جیب سے ایک برگر نکال لیا
“لوٹ کا مال کہاں دبا کر آۓ ہو ؟” میں نے پوچھا
“یہ ہی ہے لوٹ کا مال… ” اس نے برگر میرے آگے کر دیا
“تم نے ایک برگر کے لئے پولیس کی گاڑی اپنے پیچھے لگوا لی ؟” میری آنکھیں پھیل گئیں
“اب برگر والا سنار والے کے آگے کھڑا تھا تو میں کیا کرتا… ” اس نے کہا
“تو سنار کو کس نے لوٹا… ؟” میں حیران تھی
“کسی نے بھی نہیں… بس اسے لگا جیسے چوری اس کی دوکان میں ہوئی ہے” وہ بڑے مزے سے بتا رہا تھا
“میں نے تمہاری جان بچائی ہے, کم از کم آدھا برگر ہی دے دو” میں نے کل رات سے کچھ نہیں کھایا تھا, اس نے ہنستے ہوئے آدھا برگر میری طرف بڑھا دیا
اس کا نام تقی تھا… تقی نور
میری اس سے اگلی ملاقات ایک بدنام زمانہ کراٹے کلب میں ہوئی… برگر چوری کرنے کے ٹھیک دو دن بعد اس نے سنار کی دوکان بھی لوٹ لی تھی
“سونے کی چمک دمک تمہارے چہرے پر تو نظر نہیں آ رہی, کہاں لٹا آۓ ہو سارا مال ؟” مجھے اسے دیکھ کر خوشی ہوئی تھی
“جوۓ میں… ” آس نے کہا
“تم نے کیا قسم کھا رکھی ہے سارے دو نمبر کام کرنے کی…؟” میں نے حیرانی سے پوچھا تھا
“شائد بچپن میں کبھی کھائی ہو ” آس نے کہا
“تیرا نام کیا ہے ؟” آس نے جاتے ہوئے پوچھا تھا
“سبین… ” مئ نے کہا
“یہ تو بہت مشکل ہے… بلو رانی رکھ لیتی” وہ ہنستے ہوئے بولا تھا, میں بھی کھل کر ہنس دی
وہ میرا پہلا دوست تھا…!
اس کے بعد ہم نے بہت کام ایک ساتھ مل کر کئے, کراٹے سیکھے, پستول چلانی سیکھی, چاقو چلانا سیکھا, گاڑی چلانی سیکھی, لڑائی کا ہر داؤ پیچ سیکھا… وہ پوری طرح جرم کی دنیا کا حصہ بنتا جا رہا تھا, آۓ روز وہ کسی نہ کسی واردات میں ملوث ہوتا
“تم کبھی گرفتار ہوۓ ہو ؟” میں نے ایک دن اس سے پوچھا تھا
“ہاں… ” آس نے کہا
“کب… ؟” میں نے حیرانی سے پوچھا
“چھ سال کی عمر میں” آس نے کہا
“کیوں ؟” میں نے پھر پوچھا
“میں نے اپنے باپ کو گولی مار دی تھی” اس نے میرے سر پر بم پھوڑا
“کیوں ؟” میں حیران تھی
“کیونکہ اس نے میرے ماں کو میرے آنکھوں کے سامنے چاقو مار مار کر قتل کر دیا تھا ” وہ بتاتا چلا گیا
“تم نے اپنے باپ کو گولی مار دی ؟” مجھے یقین نہیں آ رہا تھا
“کسی جرأت مند نے کہا ہے کہ جو شخص اپنے چھ سالہ بیٹے کے سامنے اس کی ماں کو چاقو مار مار کر قتل کر دے… اسے گولی مار دینی چاہئے ” اس نے کہا
“اور یہ کس جرأت مند نے کہا ہے ؟” میں نے پوچھا
“میں نے… ” وہ ہنسا تھا, میں بس اسے دیکھ کر رہ گئی
“اس کے بعد کبھی گرفتار نہیں ہوۓ ؟” میں نے پھر پوچھا, اس نے نفی میں سر ہلا دیا
“پولیس والی بن گئی تو میں تمہیں گرفتار کروں گی ” میں نے مسکرا کر کہا تھا
“اور گرفتار کر کہ کیا کرے گی ؟” وہ بھی ہنسا تھا
“پھانسی لگاؤں گی ” میں نے کہا اور وہ بس ہنستا چلا گیا تھا, میرے بی اے کے پیپرز میں صرف دو دن رہ گئے تھے جب وہ آخری بار مجھ سے ملنے آیا, وہ کسی بڑے کام سے کراچی جا رہا تھا
“دوبارہ ملو گے ؟” میں نے پوچھا تھا
“زندہ واپس لوٹ آیا تو ضرور… ” آس نے مجھے گلے سے لگایا تھا
اور پھر وہ چلا گیا, اور میں اپنے پیپرز میں مصروف ہو گئی, لڑکپن کے وہ دن جب لڑکیاں کتابوں میں پھول رکھتی ہیں, آنکھوں میں خواب رکھتی ہیں, لبوں پر گیت رکھتی ہیں… میں ان دنوں اپنے سی ایس ایس کے لئے پیسے جوڑ رہی تھی
نوخیز شباب کے وہ دن جب لڑکیاں رومانوی ناول پڑھتی ہیں, محبت شاعری پڑھتی ہیں, عشقیہ داستانیں پڑھتی ہیں… میں سی ایس ایس کی خشک کتابوں کو رٹا مار رہی تھی
پر زور جوانی کے وہ دن جب لڑکیاں سسرال پر راج کرنے کے خواب لیکر ماں باپ کے گھر سے رخصت ہو کر ایک اجنبی شخص کو اپنا سب کچھ مان رہی ہوتی ہیں… میں ان دنوں سی ایس ایس کے پیپرز دے رہی تھی
انہی دنوں مجھے مرسلین ملا… اور میری زندگی تہس نہس کر گیا
اور انہی دنوں ایک نام اٹھا… اور ہر طرف پھیل گیا
تقی نور… دہشت کا دوسرا نام
میری پہلی پوسٹنگ جھنگ ہوئی تھی, پہلے دن جب میں اپنی کرسی پر بیٹھی تو میرے سامنے دو چیزیں پڑی تھیں… نوٹوں سے بھرا بریف کیس اور ڈنڈہ
میں نے بس ایک لمحہ سوچا اور ڈنڈہ اٹھا لیا… اور المیہ یہ ہے کہ لوگ نوٹوں کا بریف کیس اٹھا لیتے ہیں, اس ڈنڈے نے مجھے کہیں بھی ٹک کر کام کرنے نہیں دیا, ہر سال, دو سال بعد ٹرانسفر ہو جاتا تھا, انکوائریاں بھی بہت لگیں… سرینڈر بھی بہت دفعہ ہوئی, لیکن اپنا ڈنڈہ نہیں چھوڑا
دس سال بعد ایک اور نام اٹھا…اور ہر طرف پھیل گیا
اے ایس پی سبین راۓ… ریڈیو سے لیکر ٹیلی ویژن تک, اخباروں سے لیکر نیوز چینلز تک, امیروں سے لیکر غریبوں تک, مجرموں سے لیکر بے قصوروں تک… جب بھی جرم کی بات ہوتی, میرا نام سب سے پہلے آتا
اور پھر دس سال بعد ہم دونوں ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے, میں بس اس کا بازو ہی چیر سکی اور وہ اجالا کو لیکر فرار ہو گیا…
اس کے بعد آج ملا تھا…پورے سات سال بعد
…………………..
“پانچ سالہ معصوم بچی کو پکڑ کر جیل اٹھا لائی تو رانی… اتنی ظالم کب سے ہو گئی ؟” وہ یوں بولا جیسے آج بھی میرا دوست ہو
“بڑی دیر کر دی تم نے بل سے نکلتے نکلتے… ” میں نے کہا
“دیکھ رہا تھا کہ مہرا کی کوششیں جیتتی ہیں یا تیرا تکا… تیرا تکا جیت گیا” وہ ہنسا تھا, میرا تکا عین نشانے پر بیٹھا تھا, ثمن مہرا بدنام زمانہ قاتل تقی نور کی بیٹی تھی
“اب میری گڑیا کو گھر جانے دے اور مجھے گرفتار کر لے… ویسے بھی تجھے تو بچپن سے شوق ہے مجھے گرفتار کرنے کا” آس نے کہا
“کس جرم میں گرفتار کروں تمہیں ؟” میں نے پوچھا
“مہرا کی بیوی کے قتل کے جرم میں ” اس نے کہا
” تم نے اسے قتل کیوں کیا تقی ؟” میں تھوڑا آگے کو آئی تھی
“کیونکہ میں اس سے محبت کرتا تھا ” اس نے دھماکہ کر ہی دیا
“بہت بار میں اس کے پیچھے آیا, ہاتھ جوڑے, معافی مانگی, منت کی کہ شادی کر لے لیکن… اس نے مہرا سے شادی کر لی, بس پھر میں نے گولی چلا دی” اس کے چپ ہوتے ہی میرے لبوں سے ہنسی کا فوارہ چھوٹا تھا
“دس سال ہو گئے ہیں مجھے تم جیسے فرعونوں کو ٹھکانے لگانے ہوۓ… سچ کیا ہے آنکھوں میں دیکھ لیتی ہوں” میں نے کہا
“اور سچ کیا ہے ؟” آس نے پوچھا تھا
“سچ یہ ہے کہ تمہیں حشمت چوہدری کی بیٹی کو اغواء کرنا تھا اور تاوان میں ایک بڑی رقم ہتھیانی تھی, لیکن تم چوک گئے, تم نے جس لڑکی کو اغواء کیا وہ حشمت چوہدری کی بیٹی نہیں تھی بلکہ لاہور کے ایک کلب لیوش نائٹس میں ڈانسر تھی جس کا اسی دن گوجرانوالہ کے ایک لڑکے سنان راۓ سے نکاح ہوا تھا, تم نے اس کے شوہر کو قتل کر دیا اور اسے لاہور لے آۓ…اس کے بعد کیا ہوا ؟” میں نے پوچھا
“جس رات تو نے مجھ پر گولی چلائی, اس رات بھی مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ وہ حشمت چوہدری کی بیٹی نہیں ہے, میں نے کھل کر اس سے اس کے باپ کی غلطی کا بدلہ لیا, وہ کہتی رہی کہ وہ حشمت کی بیٹی نہیں ہے لیکن مجھ پر خون سوار تھا, جب میں اپنی ساری وحشت اس پر نکال چکا تو میرے ایک ساتھی نے آ کر بتایا کہ وہ…واقعی حشمت کی بیٹی نہیں تھی, میں نے ایک دم اسے اپنی بانہوں سے آزاد کیا تھا, اس کا چہرہ پسینے سے بھیگ چکا تھا, اس کے ہونٹ شدت سے لرز رہے تھے, اس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا, اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور کہا کہ
“میں نے کہا تھا نا کہ میں وہ نہیں ہوں” وہ کہتا چلا گیا
“اب مجھے بس ایک اور بات سچ سچ بتاؤ… تم اس رات اجالا کو ساتھ کیوں لے گئے حالانکہ تم جان چکے تھے کہ وہ تمہارے کسی کام کی نہیں ہے” میں نے پوچھا
“کیونکہ مجھے اس لمحے کے ہزارویں حصے میں اس سے محبت ہو گئی تھی جب اس نے کہا کہ “میں نے کہا تھا نا کہ میں وہ نہیں ہوں” تقی کا لحجہ انتہائی دھیما ہو گیا تھا
“میں بس اسے دیکھتا رہ گیا… اور پھر تو آ گئی ” اس نے کہا
“اجالا کو اغواء ہی کرنا تھا تو س کے شوہر کو قتل. کیوں کیا ؟ مار پیٹ کر کسی سڑک کنارے پھینک دیتے تو بھی تمہارا کام چل جاتا” مجھے اس لمحے شدت سے سنان کی یاد آئی تھی
“میں نے اس کے شوہر کو قتل نہیں کیا, وہ مجھے اکیلی ملی تھی ” تقی نے ایک اور دھماکہ کر دیا
“مطلب ؟” میں سمجھ نہ سکی
“میرے آدمیوں میں ایک بڑا چالاک اور شاطر لڑکا ہوا کرتا تھا, اس کے ہزاروں نام تھے, مجھے اس نے اپنا نام ٹونی بتایا, وہ پولیس کا خبری بھی تھا, غنڈوں کی معلومات پولیس کو دے کر پیسہ کماتا اور پولیس کی غنڈوں کو…. ایک دن میں نے اسے حشمت چوہدری کی بیٹی کی تصویر دکھا کر کہا کہ مجھے یہ لڑکی چاہئے, اس نے حامی بھر لی لیکن مجھ سے دس کروڑ مانگے… مجھے اگر حشمت کی بیٹی مل جاتی تو میں آسانی سے پچاس کروڑ مانگ سکتا تھا سو میں نے اسے دس کروڑ سے دئے, اور ٹھیک ایک ہفتے اس کی کال آئی, اس نے مجھے 12 اگست کو لاہور روڈ پر آنے کو کہا, وہ ایک نسبتاً غیر معروف راستہ تھا, جب میں وہاں پہنچا تو وہ اجالا کے ساتھ وہاں موجود تھا, اس نے اجالا کو میرے آگے پھینکا, مجھ سے گلے ملا اور چلا گیا” تقی کہتا چلا گیا
“دوبارہ نہیں آیا…. ؟” میں نے پوچھا
“نہیں… میں نے زمین و آسمان چھان مارے لیکن اس کا کوئی سراغ نہ ملا, اس کا کوئی میونسپل ریکارڈ نہیں تھا, ویسے بھی جو لوگ پولیس کے خبری ہوتے ہیں ان کی کئی کئی شناختیں ہوتی ہیں” آس نے کہا
“اتنی ہی محبت کرتے تھے اجالا سے تو اسے چھوڑ کیوں دیا ؟” میں نے پوچھا
“کیونکہ اس کے دل میں میرے لئے صرف نفرت تھی, وہ صبح و شام مجھ جب سے صرف ایک ہی منت کرتی تھی کہ مجھے چھوڑ دو… اور میں نے چھوڑ دیا” اس نے کہا
“پھر کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا اسے ؟” میں نے پوچھا
“بہت بار… جب وہ کوٹھوں پر خوار ہو رہی تھی تب بھی, جب اس نے اپنا آپ مہرا کو بیچ دیا تب بھی, جس رات میری گڑیا اس دنیا میں آئی تب بھی… اور ابھی کچھ دن پہلے بھی ” اس نے کہا
“قسم کھا کر کہو کہ تم کچھ دن پہلے بھی آۓ تھے ؟” میں نے کہا
“ہاں آیا تھا ” اس نے فوراً کہا, میں اٹھ کر اس کے قریب آئی اور عین اس کے سامنے بیٹھ گئی
“اپنی پانچ سالہ بچی کی قسم کھا کر کہہ کہ تم نے چند دن پے مرسلین مہرا کی گھر میں گھس کر اس کی بیوی کو قتل کیا ہے… اور کہو کہ اگر میں جھوٹ کہوں تو میری بچی مر جاۓ” میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا لیکن وہ اس لمحے نہ تو پولیس کو پچاس سے زائد کیسز میں مطلوب تقی نور بن سکا اور نہ محبت میں ناکام ایک عاشق بن سکا… بس اپنی پانچ سالہ بچی کا باپ بن کر چپ رہ گیا
“محبت میں مر جاتے ہیں تقی… مارے بھی جاتے ہیں, لیکن مارا نہیں کرتے” میں دھیرے سے مسکرائی تھی
“میرے پچاس سے زیادہ قتلوں میں ایک اجالا کا بھی سہی… کیا فرق پڑتا ہے” اس نے کہا, میں بس اسے دیکھتی رہ گئی
“میری بچی کو جیل سے باہر نکال دے بس… ” س نے سر جھکاتے ہوۓ کہا تھا
میں اگلی صبح ہی اسے تھانے لے آئی, اس کے خلاف ایف آئی آر کاٹی, اور اسے سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا
ایک عاشق اگر اپنی بچی کے لئے اپنی محبوبہ کا قتل اپنے سر لے رہا تھا تو مجھے کیا اعتراض تھا, وہ کونسا کوئی دودھ کا دھلا تھا
جاری ہے
