NaKamil By Ayesha Zulfiqar Readelle50165 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
ناکامل
عائشہ ذوالفقار
دسویں قسط
وہ نومبر کی ایک بڑی خوشگوار رات تھی, پورے دو سال بعد وہ بڑے دل سے تیار ہوئی… مرسلین نے لئے, اس کا ارادہ تھا کہ وہ اور مرسلین کہیں باہر گھوم کر آئیں گے, وہ رات کو گیارہ بجے آیا, اجالا اوپر کمرے میں ہی اس کا انتظار کر رہی تھی, وہ اندر آتے ہی ٹھٹھک گیا
خوشبوؤں کا ایک طوفان اور اس طوفان کے وسط میں کھڑی وہ… اجالا
کاسنی رنگ کی ساڑھی… جو شائد بنی ہی اس کے لئے تھی, ہم رنگ میک اپ, ہلکی پھلکی جیولری, ہائی ہیل سینڈل… اور لمبی سیاہ زلفیں
“مرسلین کہیں باہر گھوم کر آتے ہیں” وہ اس کے قریب آئی تھی
“میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے اجالا… ” وہ نظریں چرا گیا, اپنا کوٹ اتار کر صوفے پر پھینکا اور شیشے کے سامنے کھڑا ہو کر ٹائی اتارنے لگا
“کیا ہوا طبعیت کو… ؟” اجالا نے س کی پشت سے آ کر اسکے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھے تھے
“سر میں درد ہے… ” مرسلین اس کی طرف دیکھ ہی نہیں رہا تھا
“میں چاۓ بنا لاتی ہوں, میڈیسن کھا لو” اجالا نے اسے اپنی طرف موڑا تھا
“مرسلین… ” اس کی مخروطی انگلیاں مرسلین کی شرٹ کے بٹنوں پر رینگنے لگیں
“میری طرف دیکھو تو سہی.. بس ایک بار” وہ اپنی ذات میں تو پوری طرح مکمل تھی, خواہشوں سے بھرپور ایک حسین ترین لڑکی… اپنے شوہر کی محبت پانا کیا اس کا حق نہیں تھا ؟ اس کی تعریفیں سمیٹنا کیا اس کا حق نہیں تھا ؟
“اجالا پلیز… ” مرسلین نے اسے روکنا چاہا تھا
“بس ایک بار مرسل… ایک بار پاس آ لینے دو… پھر کبھی دور نہیں جا سکو گے” اجالا نے اس کی شرٹ کے اوپر والے دو بٹن کھول دئے تھے, اس کی سانسیں مرسلین کی گردن جلانے لگی تھیں
“اجالا… ” اس کی بس ہو گئ, اس نے زور سے اسے پیچھے کو دھکا دیا تھا, وہ لڑکھڑا کر گری اور سر صوفے کے کونے میں لگا, ایک دم خون کے قطرے نمودار ہو گئے
“میں کچھ نہیں دے سکتا تمہیں… کچھ بھی نہیں, یہ ہی سچ ہے کہ بیرسٹر مرسلین مہرا اندرونی طور پر بالکل خالی ہے… وہ اپنی بیوی کو کچھ نہیں دے سکتا, پیار کے دو بول تک نہیں…” وہ بولا, اجالا بس اسے دیکھتی رہ گئی
“مرسلین مہرا کے اندر کوئی جذبات نہیں ہیں اجالا… اسے قدرت نے اس قابل ہی نہیں بنایا کہ وہ کسی کو خوش کر سکے, کسی کی خواہشات کی تسکین کر سکے, کسی کا حق ادا کر سکے, مرسلین مہرا کسی قابل نہیں ہے, وہ تمہیں بانہوں میں نہیں بھر سکتا, وہ تمہارے ہونٹ نہیں چوم سکتا, وہ تمہیں خوش نہیں کر سکتا… وہ ناکارہ ہے… بالکل ناکارہ, جنسی طور پر بالکل یخ بستہ… ادھورا… ناکامل” وہ کہتا چلا گیا, اجالا چپ چاپ اٹھی اور باہر نکل آئی, سینڈل اتار کر دور پھینکے, جیولری اتار کر سیڑھیوں پر پھینکی اور نیچے آ گئی
وہ آخری سیڑھی پر کھڑا تھا…. تقی نور
وہ جیسے ہی اس کے قریب پہنچی, اس کا بازو تھام کر کمرے میں لے گیا
“اجالا چل میرے ساتھ… مہرا کو صرف ثمن سے سروکار ہے نا… تو ثمن دے دے اسے, تو چل میرے ساتھ …” وہ ایک بار پھر منت کر رہا تھا
“نہیں… ” اجالا کے آنسو نکل آۓ
“اجالا ضد کیوں کرتی ہے, اس سے محبت مانگ رہی ہے جس کے پاس ہے ہی نہیں… جو دے ہی نہیں سکتا… اور میں جو خزانے لئے بیٹھا ہوں… میری طرف دیکھتی بھی نہیں ہے” تقی کے جذبات پوری طرح جاگ گئے تھے
“تقی… ” وہ جیسے بے بس ہو گئ
“یوں میری جان نہ نکالا کر… ” وہ اس کی ہر خواہش پوری کرتا جا رہا تھا, اسے اپنی محبت سے مکمل کرتا جا رہا تھا
کمرے کے باہر کھڑے مرسلین سے سب دیکھا تھا… سب سنا تھا
لیکن وہ بس چپ چاپ دوبارہ اوپر چلا گیا… اسے شائد اب چپ ہی رہنا تھا
………………
سات سال بعد وہ رہا ہو گیا
جیل سے باہر نکلا تو سب کچھ پہلے جیسا ہی تھا سواۓ اس کے…وہ اپنے سات بہترین سال کھو چکا تھا
سات سونے جیسے سنہرے سال… گنوا چکا تھا
وہ سید اپنے گھر آیا… وہاں کوئی اور ہی آباد تھا, پوچھتے پوچھتے آخر گجرات پہنچ ہی گیا
وہاں جیسے ایک قیامت آس کی منتظر تھی
چوبیس گھنٹے خون تھوکتاہوا باپ… اور چوبیس گھنٹے اس کا خون صاف کرتی ہوئی ماں
وہ روتا ہوا حلیمہ کے قدموں کی گر گیا
“امی میں نے سنان کو قتل نہیں کیا تھا ” وہ بلک رہا تھا
“میں جانتی ہوں” حلیمہ نے اسے گلے سے لگا لیا
“پھر کس نے کیا ؟” آس نے پوچھا
“پتہ نہیں” حلیمہ نے کہا
“کب سے اس حال میں رہ رہے ہیں آپ لوگ… ؟” اسے ترس آ رہا تھا
“سات سال سے… ” وہ ڈنگ رہ گیا
“سبین نہیں آئی واپس… ؟”
“نہیں…میں نے کونسا اسے کچھ بتایا… اور اسے کونسا الہام ہوا جو وہ آۓ” حلیمہ نےکہا
“تو پھر زندہ کیسے ہیں آپ دونوں اب تک ؟ پیسے کون دیتا ہے ؟ ” وہ حیران تھا
“لاہور کے کسی ٹرسٹ سے ماہانہ وظیفہ آتا ہے” حلیمہ نے بتایا
“کون دے کر جاتا ہے ؟” اس نے پوچھا
“کبھی کوئی… کبھی کوئی ؟” حلیمہ نے کہا
“کونسا ٹرسٹ… ؟” اس نے پھر پوچھا
“پتہ نہیں… میں نے کبھی نہیں پوچھا” حلیمہ کچھ نہیں جانتی تھی… کچھ بھی نہیں
“ابو… ” وہ نصیر حسین کی چارپائی کے قریب آیا تھا, نصیر نے بمشکل اپنی انگلی آس کی طرف بڑھائی, وہ کچھ کہہ رہا تھا, رو رہا تھا… شائد معافی مانگ رہا تھا
“کوئی بات نہیں ابو… ” فدک نے اس کی انگلی تھام کر کہا تھا
“میرے لئے رحم کی اپیل کس نے کی تھی ؟” اس نے حلیمہ سے پوچھا
“پتہ نہیں… ” آس نے نفی میں سر ہلا دیا تھا
………….
“خدا کی قسم سنان… چین سے نہیں بیٹھوں گا میں, بھائی کا نا سہی, دوست کا نا سہی… اپنی محبت کا بدلہ ضرور لوں گا” اس نے سنان کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر قسم کھائی تھی
وہ کچھ نہیں جانتا تھا… سو پہلے اسے سب کچھ جاننا تھا
سب سے پہلے اجالا کا پتہ لگانا تھا
اس نے شروعات اس شخص سے کی جو اگلے مہینے حلیمہ کو پیسے دینے آیا, وہ حیران تھا کہ لاہور کے ایک ٹرسٹ کو آخر کیسے الہام ہو گیا کہ گجرات کے ایک بوڑھے جوڑے کو مدد کی ضرورت تھی ؟
وہ اس کا پیچھا کرتے کرتے لاہور کی بجاۓ اسلام آباد پہنچ گیا
وہ کسی “دعا” نامی ٹرسٹ کا بندہ تھا جس کی چئر پرسن اجالا مہرا نام کی عورت تھی
اپنے شک کو یقین میں بدلنے کے لئے اس نے دن رات مرسلین مہرا کے گھرکے چکر لگاۓ اور… اجالا کو دیکھ ہی لیا
وہ وہی تھی… لیوش نائٹس کی مشہور ڈانسر
وہی ان دونوں میاں بیوی کو پیسے بھیج رہی تھی
لیکن آخر کیوں ؟ یہ وہی بتا سکتی تھی
سو ایک رات جب مرسلین ذرا لیٹ تھا وہ اس کے سر پر پہنچ گیا
“سنان کو کس نے قتل کیا… ؟” اس نے اجالا کی گردن پر چاقو رکھا تھا
“شیری نے ؟” وہ اسے پہچان گئی تھی
“کہاں ہے وہ ؟” اس نے پوچھا
“اسلام آباد میں… ” اجالا نے دھماکہ کیا
“اس کا پتہ بتاؤ”
“میں نہیں جانتی”
“تم سب جانتی ہو… تمہاری وجہ سے سنان اس دنیا سے چلا گیا, تمہاری وجہ سے میں نے سات سال جیل میں کاٹے, تمہاری وجہ سے میرے ماں باپ سڑک پر آگۓ؟” فدک نے چاقو پر دباؤ ڈالا تھا
“نہیں فدک… تم میری وجہ سے آج زندہ ہو ورنہ پھانسی چڑھ گئے ہوتے, تمہارے لئے رحم کی اپیل میں نے کی تھی ” اجالا نے اسے حیران کیا تھا
“شیری اسی شہر میں ہے, وہ ایک بار پھر میرے ساتھ وہی کر رہا ہے جو سات سال پہلے کرتا تھا… چھ ماہ پہلے اس نے میرا سراغ لگایا اور مجھے بلیک میل کرنے لگا, وہ میرے بارے میں سب کچھ جانتا ہے… سب کچھ, میری اسی کمزوری کے بدلے وہ مجھ سے پیسے اینٹھتا ہے” اجالا کہتی چلی گئی
“اس کا ٹھکانہ بتاؤ” آس نے کہا
“نہیں جانتی… وہ اب تک میرے پاس دو بار آ چکا ہے ” اجالا نے کہا
“مجھے اس کا پتہ چاہئے… میں جانتا ہوں سنان تمہاری زندگی میں آنے والا پہلا شخص نہیں تھا, تمہارے تو نہ جانے کتنوں سے رابطے رہے ہوں گے… لیکن میرے پاس, میری ماں کے پاس, میرے باپ کے پاس… وہ بس ایک ہی تھا اور میں اس کا بدلہ ضرور لوں گا… سات سنہرے سالوں کی قربانی ایک بار پھر سہی” فدک نے کہا
“میں کوشش کرتی ہوں ” اجالا نے کہا
“تم برابر کی شریک تھیں نا… سنان کے قتل میں ؟” فدک نے پوچھا تھا
“بیشک پلان میرا اور شیری کا مشترکہ تھا… لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ سنان کو قتل کر دے گا, تم نہیں جانتے فدک کہ صرف تمہارے بھائی کے قتل کے بدلے میں نے کیا کچھ سہا ہے… اور آج تک سہہ رہی ہوں, صرف تمہارے ماں باپ کی خاطر میں سات سال سے ایک ایسے شخص کے ساتھ رہ رہی ہوں جس کے لئے مجھ پر ایک نگاہ محبت ڈالنا بھی حرام ہے… ” اجالا نے اسے شروع سے لیکر آخر تک سب کچھ بتا دیا, اس کا اور شیری کا پلان, سنان کا قتل, اس کا اغواء… تقی نور اور اسکی بے تحاشا محبت, مرسلین سے نکاح اور ثمن کی پیدائش… سب کچھ
……………………..
“تم یہاں کیوں آۓ ہو شیری ؟” وہ ایک بار پھر اجالا کے کمرے میں تھا, مرسلین ابھی گھر نہیں آیا تھا
“مجھے کچھ پیسے چاہئیں ؟” آس نے کہا
“ابھی کچھ دن پہلے میں نے تمہیں دس لاکھ روپے دئے ہیں, اب نہیں ہیں میرے پاس ؟” اجالا نے کہا
“تمہارے پاس ایک نا ختم ہونے والا خزانہ ہے اجالا… اگر اس میں سے اپنی محبت کو چند لاکھ سے دو گی تو کیا بگڑ جاۓ گا تمہارا ؟” وہ آگے کو آیا تھا
“میں تم سے محبت نہیں کرتی شیری… میں شائد روز رات کو اس لمحے کو کوستی ہوں جس میں تم سے دل لگا بیٹھی ” اجالا نے کہا
“دس لاکھ دو گی یا نہیں ؟” شیری نے پوچھا
“نہیں… ” اجالا نے کہا
“ٹھیک ہے… میں ابھی کرتا ہوں ایک اخبار کے صحافی کو کال… اسے بتاتا ہوں کہ بیریسٹر مرسلین مہرا کی ازدواجی زندگی کس طرح کی ہے… “شیری نے اپنا سیل نکالا تھا
“شیری خدا کے لئے… ” اجالا کی بس ہو گئ
“اور صرف اخبار نہیں… ہر نیوز چینل پر بھی تمہارے شوہر کی عزت کا ڈنکا بجواتا ہوں, سب کو پتہ چلے گا کہ مرسلین مہرا کی بیوی اس کے ہوتے ہوئے بھی سات سالوں سے ایک غنڈے کے ساتھ سو…” اجالا نے مرسلین کا ریوالور اس پر تان لیا
“ادھر تم نے کال کی… ادھر گولی تمہارے سینے میں اتار دوں گی” اجالا نے کہا
“تم مجھ پر گولی چلاؤ گی ؟” وہ ہنستے ہوئے اس کے قریب آیا تھا
“یہاں سے چلے جاؤ شیری” اجالا نے ٹرگر پہ ہاتھ رکھا تھا
“چلا کہ دکھاؤ… تمہاری عزت کا جنازہ تو ویسے بھی صبح نکل جاۓ گا…. اجالا مہرا” وہ اس کے بے حد قریب آ گیا تھا
“شیری… ” اس سے پہلے کہ وہ ٹرگر دباتی, شیری اس پر جھپٹا اور اس سے ریوالور چھیننے کی کوشش کی, اسی ہاتھا پائی میں شیری سے گولی چلی اور اجالا کے عین دل میں اتر گئی
افسوس کہ اس رات اسے بچانے کوئی بھی نہ آ سکا
نہ تقی نور
نہ فدک حسین
نہ مرسلین مہرا
………………………
اگلی صبح کا اخبار اس کے ہوش اڑا گیا
اجالا مہرا کو کسی نے قتل کر دیا تھا
کس نے ؟ یقیناً شیری نے
لیکن کیوں ؟ یقیناً پیسوں کی خاطر
اور قتل کرنے کے بعد وہ اس کی پانچ سالہ بیٹی کو پھنسا گیا تھا, اجالا نے اسے جو کچھ بتایا تھا اس حساب سے صرف ایک شخص تھا جو اسے شیری تک پہنچا سکتا تھا
اور وہ تھا تقی نور… لیکن وہ تقی نور کو کس طرح ڈھونڈتا ؟ کہاں ڈھونڈتا ؟
آخر ایک بار پھر سے ایس پی سبین راۓ سے جانے انجانے میں اس کی مدد کر گئی, وہ جیسے ہی ثمن کو جیل لیکر آئی, تقی اپنے بل سے نکل آیا, سبین نے اس پر کیس چلا دیا
اب فدک کو کھیل کھیلنا تھا… کسی نہ کسی طرح تقی تک پہنچنا تھا
سو ایک رات وہ پھر سے مرسلین کے گھر گھسا اورجب وہ پانی پینے کے لئے نیچے آیا تو ثمن کو اٹھا کر انتہائی خاموشی سے اس کے پیچھے پیچھے نیچے آیا اور اسے گیراج سے منسلک چوکیدار والے کمرے میں لے گیا, ثمن کو انجکشن لگا ہوا تھا, اس نے صبح تک بے خبر سونا تھا, اسکی توقع کے عین مطابق مرسلین نے اسے ہر ہر کمرے میں ڈھونڈا اور پھر سبین کو کال کر دی, ثمن دونوں ٹانگوں سے معذور تھی…سو وہ خود تو کہیں نہیں جا سکتی تھی, سبین ایک بار پھر اس کے بند گھر کی جانچ پڑتال کر کہ چلی گئی
صبح نو بجے چوکیدار چھٹی کر کہ گھر چلا گیا, تقریباً ساڑھے نو بجے مرسلین چیمبر کے لئے نکل کھڑا ہوا, ملازمہ اندر اپنا کام نمٹانے لگی, تب وہ انتہائی خاموشی سے ثمن کو لیکر باہر نکلا, اس پوش علاقے میں ہو کا عالم تھا, ثمن کو ایک چادر میں چھپا کر وہ گود میں اٹھا کر سیدھا ڈاکٹر آصف رضوی کے ہسپتال آ گیا
وہ اس پانچ سالہ بچی کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا تھا, اسے انتہائی نگہداشت کی ضرورت تھی
ڈاکٹر صاحب کے اکلوتے بیٹے کو وہ پہلے ہی اغواء کر کہ ان کی شہہ رگ پہ پاؤں رکھ چکا تھا
“بس آپ چپ چاپ اس کی دیکھ بھال کریں… اتنا عرصہ میں آپ کے بچے کی دیکھ بھال کروں گا….وعدہ ہے آپ سے, بس زبان بند رکھئے گا…” نہ کوئی ڈیمانڈ, نہ کوئی تاوان…وہ پولیس کو بتاتے بھی تو کیا…اور وہ کونسا خود ملا تھا ان سے, نہ کال کی تھی… بس ایک کاغذ کا ٹکڑا بھجوا دیا تھا
……………………
ثمن کے اغواء کے دو دن بعد وہ مرسلین سے ملنے چلا آیا
“کہو کیا کام ہے ؟” وہ بے حد مصروف تھا
“تمہاری بیٹی میرے پاس ہے ” آس کے کہتے ہی مرسلین زور سے اچھلا
“وہ جہاں بھی ہے بالکل حفاظت سے ہے, میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہ صحیح سلامت تمہیں واپس مل جاۓ گی لیکن… ” فدک بولتا ہوا آگے کو ہوا
“صرف تب جب تم خاموش رہو گے” اس نے کہا
“کیا چاہتے ہو تم ؟ جلدی بولو… کتنے پیسے چاہئں ؟” مرسلین کی جان پر بنی ہوئی تھی
“ایک پیسہ بھی نہیں چاہئے…. بس تقی نور کی ضمانت کروا دو” فدک نے کہا
“کیا مطلب ؟”
“وہ تمہاری بیوی کا قاتل نہیں ہے… اس کی ضمانت کرواؤ, مجھے بس وہ چاہیے ” فدک نے کہا
“مجھے اس سے ایک کام ہے, میرا تم سے وعدہ ہے جس دن میرا کام ہو گیا…اسی دن ثمن تمہیں واس مل جاۓ گی وگرنہ… ” وہ ذرا دیر کو رکا
“وگرنہ بیرسٹر مرسلین مہرا کی عزت کی دھجیاں پورے شہر میں اڑتی پھریں گی” وہ کہہ کر چلا گیا تھا, چند ہی دنوں بعد مرسلین نے تقی کی ضمانت کروا دی اور فدک کو اس سے ملوا دیا
“کتنی عجیب بات ہے نا… کہ آج تک جو تم لوگوں سے کہتے آۓ ہو وہ اب میں تم سے کہہ رہا ہوں, تمہاری بیٹی میرے پاس ہے” فدک نے کہا
“مجھے یہ شخص چاہیے… اسے ڈھونڈ کر دو” فدک نے شیری کی تصویر آس کے سامنے رکھی تھی, تقی چونک گیا تھا
“میں تمہیں ابھی اسی وقت گولی نہ مار دوں” تقی نے کہا
“مار دو… لیکن تمہاری بیٹی ؟” فدک آگے کو ہوا
“وہ کسی نامعلوم علاقے کے کسی نا معلوم گھر میں بند ہے… اور ہمیشہ بند ہی رہے گی, پھر شائد بھوک پیاس سے مر جاۓ گی” فدک نے کہا
“یہ تمہیں کیوں چاہئے ؟” آس نے پوچھا
“بدلہ لینا ہے ” فدک نے کہا
“کس کا… ؟”
“ایک دوست کا… ” فدک نے کہا تھا
“وہ دوست کب قتل ہوا ؟” تقی نے پوچھا
“سات سال پہلے… 12 اگست 2014 کو” اس نے کہا, اب کہ وہ زیادہ زور سے چونکا تھا
“12 اگست 2014 کو سنان راۓ کا قتل ہوا تھا, اس شخص کے ہاتھوں… ” وہ ذرا آگے کو ہوا
“لیکن قتل کا الزام فدک حسین پر لگا… وہ اس کا بھائی تھا” تقی کہتا چلا گیا
“میں فدک حسین ہوں ” اس نے دھیرے سے کہا تھا
“سنان کے قتل میں اجالا مہرا بھی شامل تھی… تم نے پہلے اسے قتل کیا ہے نا… ؟” تقی نے پوچھا
“نہیں… کاش میں اسے قتل کر پاتا, وہ مجھے اس کا پتہ بتانے والی تھی لیکن… اس سے پہلے ہی اس کا قتل ہو گیا ” فدک نے کہا
” یہ مل گیا تو کیا کرو گے ؟ تقی نے پوچھا تھا
“قتل… سات سال کی سزا اور سہی” اس نے کہا, تقی بس اسے دیکھ کر رہ گیا
“اسے ڈھونڈ دو… اور اپنی بیٹی واپس لے لو” فدک اسے کہہ کر واپس آ گیا تھا
اور تقی نے اے ایس پی سبین راۓ کی مدد سے شیری کو ڈھونڈ لیا
……………………
“تمہارے بھائی کا قاتل اس وقت ” mellow ” نامی ایک ڈرنک فیکٹری میں ہے… جاؤ” فدک کو تقی کی کال آئی تھی
“تمہاری بیٹی ڈاکٹر آصف رضوی کے ہسپتال میں ہے… جاؤ” فدک نے کہا تھا
“وہاں شائد اے ایس پی سبین راۓ بھی موجود ہو گی ” تقی نے اسے آگاہ کر دیا, سارا پلان مکمل کر کہ وہ فیکٹری چلا آیا
اس نے مرسلین کو بھی ثمن کے بارے میں کال کر دی تھی
جاری ہے
