Mushaf by Nimrah Ahmad NovelR50633 Mushaf (Episode 24)
Rate this Novel
Mushaf (Episode 24)
Mushaf by Nimrah Ahmad
وہ لان میں بیٹھی تھی اور تیمور پانی کا پائپ اٹھائے گھاس پہ پانی کا چھڑکاؤ کر رہا تھا-قطرے موتیوں کی طرح سبز گھاس پہ گر رہے تھے-جب اسے زندگی میں گھپ اندھیرا نظر آنے لگا تھا ،وہیں پہ فجر کی پہلی کرن چمکی تھی-ہمایوں کی بے وفائی کا غم اب اتنا شدید نہیں رہا تھا جتنا اس سے قبل تھا-تیمور کی محبت مرہم کا کام کر رہی تھی-
شام اتر رہی تھی جب اس نے گیٹ پر آہٹ سنی تو گردن موڑ کے دیکھا، فرشتے نے باہر سے ہاتھ اندر کر کے گیٹ کا ہک کھولا تھا اور اب وہ دروازہ کھول کے داخل ہوئی تھی-اس کے ہاتھ میں ہینڈ بیگ تھا اور وہ اپنے مخصوص سیاہ عبایا اور اسکارف میں ملبوس تھی- جس میں اس کا چہرہ دمک رہا تھا- وہ غآلبا مسجد سے آرہی تھی-اس وقت وہ ادھر پڑھانے جاتی تھی-
السلام علیکم، جلدی آگئیں؟اسے آتے دیکھ کر محمل نے مسکرا کر مخاطب کیا-
ہاں بس ذرا تھک گئی تھی-وہ تھکان سے مسکراتی اس کی طرف چلی ائی-
کھانا کھا لیں، آپ نے دوپہر میں بھی نہیں کھایا تھا-
ہاں کھاتی ہوں- اس نے تھکے تھکے انداز میں کہہ کر انگلی سے کنپٹی سہلائی-اس کی مخروطی انگلی میں چاندی کی وہی انگوٹھی تھی جو وہ اکثر دیککھتی تھی-جانے کیوں وہ محمل کو قدرے پریشان لگ رہی تھی-
خیریت فرشتے؟مجھے آپ ٹینس لگ رہی ہیں-
نہیں تو- وہ پھیکا سا مسکرائی-تب ہی فاصلے پہ کھڑے تیمور نے پائپ پھینکا اور ان کی طرف آیا –
وہ ٹینس بھی ہیں تو آپ کیوں کئیر کرتی ہیں؟جسٹ لیو ہر الون! وہ بہت غصے اور بد تمیزی سے بولا تھا- محمل نے فرشتے کی مسکراہٹ کو واضح ماند پڑتے دیکھا، اس کا دل دکھا-
تیمور بیٹا ! وہ تمہاری خالہ ہیں ایسے بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جسٹ گو! چلی جاؤ آپ یہاں سے -وہ پیر پٹخ کر چیخا -بالکل ہمایوں کا پرتو-
سوری سنی! وہ شکستگی سے اٹھی، بیگ ہاتھ میں لیا اور تیز تیز قدموں سے لان کی روش پار کر گئی-
اور جہاں میری ماما ہوں وہاں مت ایا کرو-وہ اس کے پیچھے چلایا تھا- محمل نے تاسف سے برآمدے میں دیکھا، جہاں فرشتے دروازہ بند کر کے غائب ہو گئی تھی-
تیمور ابھی تک لب بھینچے دروازے کو دیکھ رہا تھا-
اف۔۔۔۔۔۔۔ یہ لڑکا ۔۔۔۔۔۔ کیسے سمجھاؤں اسے کہ تمہارے بڑے تمہارے دشمن نہیں ہیں- وہ سر جھٹک کر رہ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ کچن میں اپنی وہیل چئیر پہ بیٹھی تھی-گود میں ٹوکری تھی جس میں مٹر رکھے تھے-تیمور بلقیس کے ساتھ مرکز تک گیا تھا-وہ مٹر چھیلتے ہوئے لا شعوری طور پر اس کا انتظار کر رہی تھی-
کچن کا دروازہ نیم وا تھا-وہ ویسے بھی اس سمت میں بیٹھی تھی کہ لاؤنج میں نظر نا آسکتی تھی- تب ہی اسے بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز ائی اور ساتھ قدموں کی چاپ بھی پھر قریب اتی آوازیں ۔۔۔۔ مٹر چھیلتے اس کے ہاتھ ٹھہر گئے۔۔۔۔۔۔
ایسا کب تک چلے گا ہمایوں؟وہ آرزو تھی اور تنک کر کہہ رہی تھی-
کیا؟
انجان مت بنو-ہم کب شادی کر رہے ہیں؟ان کی آواز قریب آرہی تھیں-وہ دم سادھے بیٹھی رہ گئی-مٹر کے دانے ہاتھ سے پھسل گئے-
کر لیں گے- اتنی جلدی بھی کیا ہے-
کیا مطلب جلدی؟اتنا عرصہ ہو گیا ہے تمہیں اسے طلاق دیئے ہوئے-
اس کی عدت ختم ہو لینے دو-
اور کب ختم ہوگی وہ؟
ایک دو ہفتے رہتے ہیں- وہ رسان سے کہہ رہا تھا- وہ دونوں وہیں لاؤنج کے وسط میں کھڑے باتیں کر رہے تھے-
کیا اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے ہم شادی نہیں کر سکتے؟
نہیں ! اس کا انداز اتنا سرد مہر اور قطعی تھا کہ پل بھر کو آرزو بھی چپ رہ گئی-
مگر ہمایوں۔۔۔۔۔۔ ! اس نے کہنا چاہا-
کہا نا نہیں! وہ اب سختی سے بولا تھا- اگر تمہیں منظور نہیں ہے تو بے شک شادی نہ کرو- جاؤ چلی جاؤ- وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا-
نہیں ، ہمایوں ، سنو ، رکو- وہ بوکھلائی ہوئی سی اس کے پیچھے لپکی-
سیڑھیاں چڑھنے کی اواز مدھم ہو گئیں۔۔۔۔ وہ دونوں اب اس سے دور جا چکے تھے-
ماما!کتنی ہی دیر بعد تیمور نے اسے پکارا تو اس نے چونک کر سر اٹھایا -وہ اس کے سامنے کھڑا تھا-
تم کب آئے؟ وہ سنبھلی-
ماما! وہ آہستہ سے اس کے قریب آیا – آپ رو رہی ہیں؟ اس نے اپنے ننھے ننھے ہاتھ اس کے چہرے پہ گرتے آنسوؤں پہ رکھے- وہ حیران رہ گئی- پتا نہیں کب یہ آنسو پھسل پڑے تھے-
آپ نہ رویا کریں- وہ اب آہستہ سے اس کے آنسو صاف کر رہا تھا – محمل بھگی آنکھوں سے مسکرائی اور اس کے ہاتھ تھام لیے-
میں تو نہیں رو رہی-
آپ رو رہی ہیں- میں بچہ تھوڑی ہوں- وہ اس کی غلط بیانی پر خفا ہوا –
اچھا اب تو نہیں رو رہی – اور شاپ سے کیا لائے ہو؟
چپس! اس نے چپس کا پیکٹ سامنے کیا- اور میں اتنی دیر سے گیا ہوا ہوں پر آپ نے ابھی تک مٹر نہیں چھیلے یو آر ٹو سلو ماما! اس نے مٹر کی ٹوکری اس کی گود سے اٹھائی اور کاؤنٹر پر رکھ دی –
آئیں باہر چلتے ہیں-
رہنے دو تیمور میرا دل نہیں کر رہا –
بلقیس بوا! اس کی سنے بغیر بلقیس کو پکارنے لگا ماما کو باہر لے اؤ-
اور وہ اپنی نا قدری کا غم اندر ہی اندر دباتی رہ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بڑے عرصے سے لائبریری کی صفائی نہیں ہوئی تھی- وہ کتنے دنوں سے سوچ رہی تھی کہ کسی دن کروالے ، آج ہمت کر ہی لی-
بلقیس کو تو کہنے کی دیر تھی- وہ فورا لگ گئی- وہ دروازے کی چوکھٹ پہ وہیل چئیر پہ بیٹھی ہدایات دے رہی تھی-
یہ والی بکس اندر رکھ دو ، اس طرف والی سامنے کر دو- میز سے یہ سب ہٹا لو اور اس والے شیلف میں رکھ دو-
جھاڑ پونجھ سے گرد آڑ رہی تھی- سالوں سے کسی نے کتابوں کو صاف نہیں کیا تھا-
بیبی ان کو تو کیڑا لگ گیا ہے-وہ پریشان سی کچھ کتابوں کے کنارے دکھا رہی تھی- تاریخ کی پرانی کتابیں-
ان کو الگ کر دو- اور وہ دراز خالی کرو،یہ اس میں رکھ دیں گے-
اچھا جی! بلقیس اب اسٹڈی ٹیبل کی درازوں سے کتابیں نکال رہی تھی-
ان کو اس آخری شیلف پہ نا سیٹ کردوں؟ اس نے دراز سے نکلنے والی کتابوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کیا-
ہاں کردو- اسے بھلا کیا اعتراض تھا- بلقیس پھرتی اور انہماک سے کتابیں صاف کر کے اوپر لگانے لگی –
ڈھیر ذرا ہلکا ہوا تو اسے اس کتابوں کے بیچ ایک بھولا ہوا خاکی لفافہ رکھا نظر آیا-
یہ لفافہ اٹھا کر دو- شاید ہمایوں کے کام کا ہو-
کتابیں سیٹ کرتی بلقیس رکی اور خاکی لفافہ اٹھا کر اسے تھمایا-
لفافہ وزنی نہیں تھا ، مگر بھولا ہوا تھا- اس نے الٹ پلٹ کر دیکھا-
کوئی نام پتہ نہیں لکھا تھا- اوپر اکھڑی ہوئی سی ٹیپ لگی تھی جیسے کھول کر پھر لگا دی گئی ہو-
پتا نہیں کس کا ہے- بنا کسی تجسس کے ٹیپ اتاری اور لفافہ گود میں الٹ دیا – ایک عدالتی کاغذ اور ساتھ ایک سفید خط کا کور گود میں گرا- اس نے زرد عدالتی کاغذ اٹھایا-
اس کی تہیں کھولیں اور چہرے کے سامنے کیا-
اسٹمپ پیپر کی تحریر کے نیچے بہت واضح دستخط تھے-
محمل ابراہیم-
فرشتے ابراہیم-
وہ بری طرح سے چونکی اور تیزی سے اوپر تحریر پہ نگاہیں دوڑائیں-
یہ وہی کاغذ تھا جو فواد نے اس سے اور فرشتے سے سائن کروایا تھا- وسیم سے نکاح نہ کروانے کی شرط پہ، اس کی گردن پستول رکھ کر-
مگر یہ ادھر ہمایوں کی لائبریری میں کیا کر رہے ہیں؟وہ تو اس معاملے سے قطعی لا علم تھا-یہ موضوع کبھی زیر بحث ایا ہی نہیں، بس ایک دفعہ آغآ جان کے گھر سے واپسی پہ ہمایوں نے اسے اپنا حصہ لینے کے لیے کہا تھا مگر وہ ٹال گئی تھی-اگر وہ روہ راست پوچھتا تو وہ بتا دیتی -پھر فرشتے نے بھی نہیں بتایا کہ یہ کاغذ اس کے ہاتھ کیسے لگا اور کیا وہ اس کی وجہ سے اس سے بدظن تھا؟مگر یہ اتنی بڑی وجہ تو نہیں تھی-اور یہ کاغذ ہمایوں کے ہاتھ لگا بھی کیسے یہ تو اس کے پاس تھا-
اس نے دوسرا سفید لفافہ اٹھایا- وہ بے دردی سے چاک کیا گیا تھا اس نے اس کے کھلے منہ میں جھانکا اندر کچھ فوٹو گراف تھے شاید-
محمل نے لفافہ گود میں الٹ دیا- چند تصویریں اس کے گھٹنے پر پھسلتی فرش پہ جا گریں اس نے ہاتھ جھکا کر تصویروں کو اٹھایا اور سیدھا کیا-
وہ فواد اور محمل کی تصاویر تھیں-فواد۔۔۔۔۔۔۔ اور محمل ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ساکت سی ان تصویروں کو دیکھ رہی تھی-ان میں وہ کچھ تھا جو کبھی وقوع پذیر نہیں ہوا تھا- گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا فواد اور اس کے کندھے پہ سر رکھے محمل۔۔۔۔۔ ریسٹورنٹ میں ڈنر کرتا فواد اور محمل۔۔۔۔۔ ایک ساتھ کسی شادی میں رقص کرتے ۔۔ قابل اعتراض تصاویر۔۔قابل اعتراض مناظر۔۔ وہ سب جو کبھی نہیں ہوا تھا۔۔۔
اس نے پھر سے تصویر کو الٹ پلٹ کر دیکھا-
اس کا لباس اور چہرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر تصویر میں ذرا الگ تھا-کوئی بچہ بھی بتا سکتا تھا کہ وہ کوئی فوٹؤ شاپ یا ایسی ہی کسی ٹرک کا کمال ہے-پہلی نظر میں واقع پتا نہیں چلتا تھا-مگر بغور دیکھنے سے سب ظاہر ہو جاتا تھا کہ وہ سب نقلی ہے ہمایوں خود ایک پولیس آفیسر تھا، وہ ان بچوں والی باتوں میں نہیں آسکتا تھا-اور کس نے لا کر دیں اس کو یہ تصاویر؟
کیا معیز جو ایک دفعہ آیا تھا، اسی لیے آیا تھا؟اس کے ذہن میں جھماکا سا ہوا-
پزل کے سارے ٹکڑے ایک ساتھ جڑنے لگے-
آرزو نے کہا تھا کہ وہ ہمایوں کو اس سے چھین لے گی- محمل کو سجا سنورا اور ہنستا بستا دیکھ کر شاید شدید حسد کی آگ میں جلنے لگی تھی-اس سے اس کی خوشیاں برداشت نہیں ہو رہی تھیں، پھر اسد چچا کی ناگہانی موت کے بعد یقینا وہ لوگ مالی کرائسز کا شکار ہوئے ہونگے-ایسے میں محمل کی طویل بے ہوشی نے آرزو کو امید دلائی ہوگی-اور شاید یہ سب ایک سوچا سمجھا پلان تھا-
یہ جعلی تصاوہر بنا کر، محمل اور فرشتے کا دستخط شدہ کاغذ ہمایوں کو دکھا کر اس نے ہمایوں کو بھڑکایا ہوگا- مگر کیا ہمایوں چھوٹا بچہ تھا جو ان کی باتوں میں آجاتا؟کیا ایک منجھا ہوا پولیس آفیسر اس قسم کے بچکانہ کھیل کا شکار بن سکتا تھا؟کیا بس اتنی سی باتوں پہ ہمایوں اتنا بدظن ہو گیا تھا؟اپنی بیوی سے دوری اور آرزو سے بڑھتا ہوا التفات۔۔۔۔۔۔۔۔ پزل کا کوئی ٹکڑا اپنی جگہ سے غائب تھا-پوری تصویر نہیں بن رہی تھی-
اس نے بے اختیار ہو کر سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا-دماغ چکرا کر رہ گیا تھا-
بی بی تسی ٹھیک ہو؟بلقیس نے اس کا شانہ ہلایا تو وہ چونکی-
ہاں مجھے باہر لے جاؤ-اس نے جلدی سے تصویریں لفافے میں ڈالیں،مبادا بلقیس انہیں دیکھ نہ لے-
پزل کا کوئی ٹکڑا واقعی غائب تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے، جب بیرونی گیٹ پہ ہارن کی آواز سنائی دی- وہ جو دانستہ لاؤنج میں بیٹھی تھی، فورا الرٹ ہوگئی-
ہمایوں کی گاڑی زن سے اندر داخل ہونے کی آواز آئی- پھر لاک کی کھٹ کھٹ، وہ سر جھکائے بیٹھی تمام آوازیں سنتی گئی، یہاں تک کہ دروازے کے اس طرف بھاری بوٹوں کی چاپ قریب آگئی -اس نے بے چینی سے سر اٹھایا-
وہ اندر داخل ہو رہا تھا،یونیفارم میں ملبوس ، کیپ ہاتھ میں لیے ، وہ چند قدم چل کر قریب آیا، اسے وہاں بیتھا دیکھ کر لنحے بھر ککو رکا-
السلام علیکم۔مجھے آپ سے بات کرنی ہے-اس نے آہستہ سے کہا-
بولو-وہ اکھڑے تیوروں سے سامنے اکھڑا ہوا- آپ بیٹھ جائیں-
میں ٹھیک ہوں بولو-
محمل نے گہری سانس لی اور الفاظ ذہن میں مجتمع کیے-
مجھے صرف ایک بات کا جواب چاہیئے ہمایوں!بس ایک بار مجھے بتا دیں کہ میرے ساتھ اپ ایسا کیوں کر رہے ہیں-آنسوؤں کا گولا اس کئ حلق میں پھنسنے لگا تھا-
کیا کر رہا ہوں؟
آپ کو لگتا ہے آپ کچھ نہیں کر رہے؟
علیحدگی چاہتا ہوں ، یہ کیا کوئی جرم ہے؟وہ سنجیدہ اور بے نیاز تھا-
مگر۔۔۔۔۔۔ آپ اتنے بدل کیوں گئے ہیں؟آپ پہلے تو ایسے نہیں تھے-نہ چاہتے ہوئے بھی وہ شکوہ کر بیٹھی-
پہلے میں کاٹھ کا الو تھا،جس کی انکھ پہ پٹی بندھی تھی-ہوش اب ایا ہے، دیر ہوگئی ، مگر خیر-
ہو سکتا ہے کسی نے اب آپ کی آنکھوں پہ پٹی باندھ دی ہو-آپ مجھے صفائی کا ایک موقع تو دیں-
اس نے سوچا تھا وہ اس کی منت نہیں کرے گی ، مگر اب وہ کر رہی تھی،یہ وہ شخص تھا جس سے اسے بے حد محبت تھی،وہ اسے نہیں چھوڑنا چاہتی تھی-
صفائی کا موقع ان کو دیا جاتا ہے جن پر شک ہو-مگر جن پر یقین ہو، ان پہ صرف حد جاری ہوتی ہے-وہ بہت چبا چبا کر بولا تھا-
یہ آپ کی اپنی بنائی گئی حدود ہیں ایس پ صاحب!لوگوں کو ان کے اوپر نہ پرکھیں-کھوٹے کھرے کو الگ کرنے کا پیمانہ دل میں ہوتا ہے،ہاتھوں میں نہیں،کہیں آپ کو پچھتانا نہ پڑ جائے-
کھوٹے کھرے کی پہچان مجھے بری دیر سے ہوئی ہے محمل بی بی!جلدی ہوتی تو اتنا نقصان نہ اٹھاتا-
ان تین ماہ میں پہلی دفعہ اس نے محمل کا نام لیا تھا-وہ اداسی سے مسکرا دی-
“اگر میں کھوٹی ہوں تو جس کے پیچھے مجھے چھوڑ رہے ہیں ، اس کے کھرے پن کو بھی ماپ لیجئے گا-کہیں پھر دھوکا نہ ہوجائے-
وہ تم سے بہتر ہے-چند لمحے خاموش رہ کر وہ سرد لہجے میں بولا اور ایک گہری چبھتی ہوئی نگاہ اس پہ ڈال کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا-
وہ نم آنکھوں کے ساتھ اسے زینے چڑھتے دیکھتی رہی- آج ہمایوں نے اپنی بے وفائی پہ مہر لگادی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے برش لیے مغموم ، گم صم سی بیتھی تھی، جب فرشتے نے کھلے دروازے سے اندر جھانکا-
میری چھوٹی بہن کیا کر رہی ہے؟اس نے چو کھٹ سے ٹیک لگا کے مسکراتے ہوئے پوچھا-
کچھ خاص نہیں- محمل نے مسکرا کے گردن موڑی-اس کے کھلے بال شانوں پہ گرے تھے-
تو کچھ خاص کرتے ہیں-وہ اندر چلی آئی-فیروزی شلوار قمیض پہ سلیقے سے دوپٹہ لیے ہوئے وہ ہمیشہ کی طرح بہت ترو تازہ لگ رہی تھی-
تمہارے بال ہی بنا دوں لاؤ-اس نے رسان سے کہتے ہوئے برش محمل کے ہاتھ سے لےا لیا اور اس کے کھلے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیتا –
بس اب تم بہت جلد ٹھیک ہو جاؤ گی- وہ اب پیار سے اس کے بالوں میں اوپر سے نیچے برش کر رہی تھی-وہ محمل کی وہیل چئیر کے پیچھے کھڑی تھی،محمل کو ائینے میں اس کا عکس دکھائی دے رہا تھا-
تم نے اگے کا کیا سوچا؟
پتا نہیں ، جب عدت ختم ہو جائے گی تو چلی جاؤں گی- وہ بے زار سی ہوئی-
لیکن کدھر؟فرشتے نے اس کے بالوں کو سلجھا کر سمیٹ کر اونچا کیا-
اللہ کی دنیا بہ وسیع ہے ، پہلے اغا جان کو ڈھونڈوں گی، اگر وہ نہ ملے تو مسجد چلی جاؤں گی-مجھے امید ہے کہ مجھے ہاسٹل میں رہنے دیا جائے گا-
ہوں-اس نے اونچی سی پونی باندھی، پھر ان بالوں کو دوبارہ سے ذرا سا برش کیا-
اور آپ نے کیا سوچا؟میرے بعد تو آپ کو بھی جانا ہگا-
میں شاید ورکنگ ویمن ہاسٹل چلی جاؤں, پتا نہیں ابھی کچھ ڈیسائیڈ نہیں کیا، خیر چھوڑو، آج میں نے چائینیز بنایا ہے، تمہیں منچورین پسند ہے نا؟اب فٹا فٹ چلو کھانا کھاتے ہیں-اس نے محمل کی وہیل چئیر پیچھے سے تھام کر اس کا رخ موڑا-
اب وہ کیا بتاتی کہ عرصہ ہوا ذائقے محسوس کرنا چھوڑ دیئے ہیں، اسی لیے چپ رہی-ہمایوں کی طرف سے دل اتنا دکھا ہوا تھا کہ ایسے میں فرشتے کا دھیان بٹانا اچھا لگا-
ڈائننگ ٹیبل پہ کھانا لگا ہوا تھا-گرم گرم چاولوں کی خوشبو سارے میں پھیلی ہوئی تھی-
تیمور کدھر ہے؟وہ پوچھتے پوچھتے رک گئی- پھر تھک کر بولی – میں کیا کروں جو وہ آپ کو نا پسند کرنا چھوڑ دے؟
یہ چاول کھاؤ بہت اچھے بنے ہیں- فرشتے نے مسکرا کر ڈش اس کے سامنے رکھی ، اس کا ضبط بھی کمال کا تھا-
تیمور کی ساری بد لحاظیوں پہ میں آپ سے معافی مانگتی ہوں-نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ بھیگ گیا-اونہوں، جانے دو ، میں مائنڈ نہیں کرتی ، خالہ بھی ماں جیسی ہی ہوتی ہے-
محمل بھیگی آنکھوں سے ہنس دی-
فرشتے نے رک کر اسے دیکھا- کیوں؟کیا نہیں ہوتی؟
میرے بھانجے نہیں ہیں، ورنہ ضرور اپنی رائے دیتی۔لیکن چونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ہے تو آف کورس ، ٹھیک ہے-
کیا؟فرشتے الجھی-
یہ ہی کہ خالہ ماں جیسی ہوتی ہے-یہ ایک حدیث ہے نا-
اوہ اچھا؟مجھے بھول گیا تھا- فرشتے سر جھٹک کر مسکرا دی اور چاول اپنی پلیٹ میں نکالنے لگی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اپنی دانست میں ” ہمایوں کے گھر میں” اسکا آخری دن تھا-کل دوپہر اس کی عدت کو تین قمری ماہ مکمل ہوجانے تھے اور تب وہ شرعی طور پر ہمایون کی بیوی نہ رہتی اور پھر اس گھر میں رہنے کا جواز بھی ختم ہو جاتا-
آج وہ صبح اترتے ہی لان میں آبیٹھی تھی- چڑیاں اپنی مخصوص بولی میں کچھ گنگنا رہی تھیں- گھاس شبنم سے گیلی تھی- سیاہ بادلوں کی ٹکڑیاں آسمان پہ جابجا بکھری تھیں-امید تھی کہ اج رات بارش ضرور ہو گی-
شاید اس کی اس گھر میں آخری بارش-
فرشتے صبح جلدی ہی کسی کام سے باہر گئی تھی-ہمایوں رات دیر سے گھر آیا تھا اور صبح سویرے نکل گیا تھا- تیمور اندر سو رہاتھا-بلقیس اپنے کواٹر میں تھی-سو وہ لان میں تنہا اور مغموم بیٹھی چڑیوں کے اداس گیت سن رہی تھی-آنسو قطرہ قطرہ اس کی کانچ سی بھوری آنکھوں سے ٹوٹ کر گر رہے تھے-
اس گھر کے ساتھ اس کی بہت سی یادیں وابستہ تھیں-زندگی کا ایک بے حد حسین اور پھر ایک بے حد تلخ دور اس نے اس گھر میں گزارا تھا-یہاں اسی ڈرائیو وے پہ وہ پہلی بار سیاہ ساڑھی میں اتری تھی، اس رات جب اس کی مشکلات کا آغاز ہوا تھا-پھر ادھر ہی وہ سرخ کامدار جوڑے میں دلہن بنا کر لائی گئی تھی- کبھی وہ ادھر ملکہ کی حیثیت سے بھی رہی تھی، مگر خوشی کے دن جلدی گزر جاتے ہیں، اس کے بھی گزر گئے تھے-ایک سیاہ تاریک نیند کا سفر تھا اور وہ بہت نیچے لا کر پھینک دی گئی تھی-
ماما- تیمور نیند بھری آنکھیں لیے اس کا شانہ جھنجھوڑ رہا تھا- اس نے چونک کر اسے دیکھا، پھر مسکرا دی-
ہاں بیٹا! اس نے بے اختیار پیار سے اس کا گال چھوا-
کیوں رو رہی ہیں اتنی دیر سے ؟کب سے دیکھ رہی ہوں-وہ معصومیت بھری فکر مندی لیے اس کے ساتھ ابیٹھا- وہ نائٹ سوت میں ملبوس تھا-غالبا ابھی جاگا تھا-
نہیں کچھ نہیں- محمل نے جلدی سے آنکھیں رگڑیں-
آپ بہت روتی ہیں ماما- ہر وقت روتی رہتی ہیں- وہ خفا تھا-
مجھے لگتا ہے آپ دنیا کے سارے لوگوں سے زیادہ روتی ہونگی-
نہیں تو اور تمہیں پتا ہے کہ دنیا کے سارے لوگوں سے زیادہ آنسو کس نے بہائے تھے؟
کس نے؟ وہ حیرت اشتیاق سے اس کے قریب ہوا-
ہمایرے باپ آدم علیہ السلام نے جب ان سے اس درخت کو چھونے کی غلطی ہوئی تھی- وہ نرمی سے اس کے بھورے بالوں کی سہلاتی بتا رہی تھی، اسے تیمور کو اپنی وجہ سے پریشان نہیں کرنا تھا، اسکا ذہن بٹانے میں وہ کسی حد تک کامیاب ہوگئی تھی-
اچھا! وہ حیران ہوا-اور ان کے بعد؟
ان کے بعد داؤد علیہ السلام نے، جب اس سے ایک فیصلے میں ذرا سی کمی رہ گئی تھی-
اور ان کے بعد؟
ان کے بعد اس نے گہری سانس لی- پتا نہیں بیٹا ! یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے- آپ بھی بہت روتی ہو مما ، مگر آپ کو پتا ہے آپ جیسی مدر کسی کی نہیں ہیں- میرے کسی فرینڈ کی بھی نہیں، کوئی ٹیچر بھی نہیں-
میرے جیسی کیسی ؟ اسے حیرت ہوئی-
آپ جیسے nobel اور Honourable- آپ کو پتا ہے میرے لیے پوری دنیا میں سب سے زیادہ آنریبل اور نوبل ہیں-
جبکہ میں ایسی نہیں ہوں- تمہیں پتا ہے نوبل کون تھے؟
محمل نے ایک گہری سانس لی-
یوسف علیہ السلام جو پیغمبر کے بیٹے ، پیغمبر کے پوتے اور پیغمبر کے پڑ پوتے تھے”
وہ کیوں ماما؟
وہ کیوں؟ اس نے زیر لب سوال کو دہرایا- بے اختیار آنکھوں میں اداسی چھاگئی – کیونکہ شاید وہ بہت صبر کرنے والے تھے اور الفاظ لبوں پہ توٹ گئے اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہے-ہر بات سمجھانے والی نہیں ہوتی-
بتائیں نا ماما- وہ بے چین ہوا- میں جب بھی آپ سے حضرت یوسف کی سٹوری سنتا ہوں آپ یوں ہی اداس ہو جاتی ہیں-
پھر کبھی بتاؤں گی، تمہارے اسکول کب کھل رہا ہے؟ اس نے بات پلٹی-
منڈے کو-
اور تمہارا ہوم ورک ڈن ہے؟
یہ باتیں چھوڑیں ، مجھے پتا ہے آپ اپ سیٹ ہیں – کل آپ اور ڈیڈی ہمیشہ کے لیے الگ ہوجائیں گے،ہے نا؟وہ ہتھیلیوں پہ چہرہ گرائے ، اداسی سے بولا-
ہاں! ہو تو جائیں گے، تم میرے ساتھ چلو گے یا ڈیڈی کے پاس رہو گے؟اس نے خود کو بے پرواہ ظاہر کرنا چاہا-
میں آپ کے ساتھ جاؤں گا، اس چریل (چڑیل) کے ساتھ نہیں رہوں گا-مجھے پتا ہے ڈیڈی فورا شادی کر لیں گے-اسے شاید آرزو بہت بری لگتی تھی-وہ محمل کو اس پر ترجیح دے رہا تھا-اسے یاد آیا ہمایوں نے کہا تھا وہ اس سے بہتر ہے-
وہ مجھ سے بہتر ہے تیمور؟وہ ہمایوں کی اس زہریلی بات کو یاد کر کے پھر سے دکھی ہو گئی-
کون؟تیمور کی سفید بلی بھاگتی ہوئی اس کے قدموں میں آ بیٹھی تھی-وہ جھک کر اسے اٹھانے لگا-
آرزو- بہت دفعہ سوچا تھا کہ بچے سے یہ معاملہ ڈسکس نہیں کرے گی، مگر رہ نہیں سکی-
آرزو آنٹی ؟تیمور بلی کو بازوؤں میں اٹھا کر سیدھا ہوا -وہ جو اپ کی کزن ہیں جو ادھر آتی ہیں؟
ہاں وہی-
وہ آپ سے اچھی تو نہیں ، بالکل نہیں-وہ سوچ کر نفی میں سر ہلانے لگا-
پھر تمہارے ڈیڈ کیوں اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں؟کیا تم اسے ماں کے روپ میں قبول کرسکو گےے؟کتنا خود کو سمجھایا تھا کہ بچے کو درمیان میں انوالو نہیں کرے گی، مگر ہمایوں کی اس روز کی بات کہیں اندر چبھ رہی تھی، لیکن پھر کہہ کر خود ہی پچھتائی-
چھوڑو جانے دو یہ بلی ادھر دکھاؤ-
مگر تیمور الجھا الجھا سا اسے دیکھ رہا تھا-بلی ابھی تک اس کے بازوؤں میں تھی-
ڈیڈی آرزو آنٹی سے شادی کر رہے ہیں؟اس کی آواز میں بے پناہ حیرت تھی-
تمہیں نہیں پتا؟
آپ کو یہ کس نے کہا ہے؟وہ کنفیوزد بھی تھا اور حیرت زدہ بھی-
تمہارے ڈیڈی نے بتایا تھا اور ابھی تم خود کہہ رہے تھے کہ وہ اس سے شادی کر لیں گے-
تیمور اسی طرح الجھی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا-موٹی بلی اس کے ننھے ننھے ہاتھوں سے پھسلنے کو بے اب کسمسا رہی تھی-
آرزو آنٹی سے ؟ نہیں ماما،ڈیڈی تو ان سے شادی نہیں کر رہے-
مگر تم نے-مگر تیمور کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی-
وہ تو فرشتے سے شادی کر رہے ہیں- آپ کو نہیں پتا؟
تیمور!وہ درشتی سے چلائی تھی-تم ایسی بات سوچ بھی کیسے سکتے ہو؟
بلی سہم کر تیمور بازوؤں سے نیچے کودی-
آپ کو نہیں پتا ماما؟وہ اس سے بھی زیادہ حیران تھا-
تم نے ایسی بات کی بھی کیسے؟مائی گاڈ، وہ میری بہن ہے ، تم نے اتنی غلط بات کیوں کی اس کے بارے میں؟غصہ اس کے اندر سے ابلا تھا-وہ گمان بھی نہیں کر سکتی تھی تیمور ایسے کہہ سکتا ہے-
ماما آپ بے شک ڈیڈی سے پوچھ لیں، فرشتے سے پوچھ لیں،وہ دونوں شادی کر رہے ہیں-
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ تم اس لڑکی کے بارے میں ایسی باتیں کر رہے ہو جو میری بہن ہے؟
جی ماما! اسی لیے تو ڈیڈی نے آپ کو ڈائیورس دی ہے،بی کاز شی از یور سسٹر اور مسلم ایک ٹائم پہ دو سسٹرز سے شادی نہیں کر سکتے-
محمل کا دماغ بھک سے اڑ گیا-وہ شل سی بیٹھی رہ گی
