Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mushaf (Episode 15)

Mushaf by Nimrah Ahmad

یہ تو مجھے نہیں پتہ-صرف لنچ ہے آنٹی نے کہا اگر میں آجاؤن تو اچھا ہے،اماں کی کچھ پرانی فرینڈز سے بھی مل لوں گی-تم چلوگی؟

شیور! وہ پورے دل سے مسکرائی، اور پھر کچھ دیر بیٹھ کر واپس چلی آئی-

٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار کی دوپہر مقررہ وقت پہ مدرسے کے برآمدے میں کھڑی تھی-سیاہ عبایا میں ملبوس سیاہ حجاب چہرے کے گرد لپیٹے، وہ کھڑی بار بار کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھتی تھی-عبایا وہ اب کبھی کبھی باہر پہنتی تھی-، ہاں نقاب نہیں کرتی تھی، صرف حجاب لے لیا کرتی تھی-

دفعتا اوپر سیڑھیوں پہ آہٹ ہوئی-محمل نے سر اٹھایا-

فرشتے تیزی سے زینے اتر رہی تھی-ایک ہاتھ سے چابی پکڑے دوسرے سے وہ پرس میں کچھ کنگھال رہی تھی-

“السلام علیکم،تم پہنچ گئیں، چلو! عجلت میں کہتے ہوئے اس نے پرس بند کیا، اور برآمدے کی سیڑھیاں اتر گئی-محمل اس کے پیچھے ہو لی-

ہمایوں گھر میں ہی ہوگا مل نہ لیں؟وہ گیٹ کے باہر رک کر بولی تو محمل مسکرا دی-

شیور!

وہ لاؤنج میں ہی تھا، صوفے پہ بیٹھے پاؤں میز پہ رکھے،چند فائلز کا سرسری سا مطالعہ کر رہا تھا-انہین آتے دیکھا تو فائلز رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا-

خوش آمدید! فرشتے کے پیچھے محمل کو اتا دیکھ کر وہ مسکرا دیا تھا-اس کا چہرہ پہلے سے قدرے کمزور لگ رہا تھا، مگر ہسپتال میں پڑے ہمایون سے وہ خاصا بہتر تھا-

میں ہمایوں کو اتنے سالوں میں بھی السلام علیکم کہنا نہیں سکھا سکی، محمل ! اور کبھی تو مجھے لگتا ہے میں اسے کچھ بھی نہ سکھا سکوں گی-

“اچھا بھئی السلام علیکم – وہ ہنس دیا تھا- بیٹھو-

وہ اس کے سامنے والے صوفے پہ بیٹھ گئی مگر فرشتے کھڑی رہی-

نہیں ہمایوں ہمارے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں ہے-

مگر تمہاری بہن تو بیٹھ گئی ہے-

فرشتے نے مڑ کر محمل کو دیکھا جو آرام سے صوفے پہ بیٹھی تھی-

بہن! اٹھو ہم بیٹھنے نہیں آئے-

محمل ایک دم گڑبڑا کر کھڑی ہوگئی-

فرشتے ہمایون کی طرف پلٹی-

ہم بس تمہارا حال پوچھنے آئے تھے-تم اب ٹھیک ہو؟

میں ٹھیک ہوں ، مگر بیٹھو تو سہی-

” نہیں ۔۔۔۔ ہمیں لنچ پہ جانا ہے،نسیم آنٹی کی طرف-

اماں کی کچھ فرینڈز سے بھی مل لیں گے-

اور محمل؟اس نے سوالیہ ابرو اٹھائی-

محمل ظاہر ہے میری بہن ہے تو میرے ساتھ ہی رہے گی نا-

وہ بے اختیار مسکرا دیا- عبایا میں ملبوس وہ دونوں دراز قد لڑکیاں اس کے سامنے کھڑی تھیں- سیاہ حجاب چہرے کے گرد لپیتے دونوں کی ایک جیسی سنہری آنکھیں تھیں، یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ ان میں سے کون زیادہ خوبصورت ہے-ہاں فرشتے دو انچ زیادہ لمبی ضرور تھی-اس کے چہرے پہ ذرا سنجیدگی تھی- جبکہ محمل کے چہرے پہ کم عمری کی معصومیت برقرار تھی-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ وہ محمل تو نہ تھی جس سے وہ پہلی بار اس لاؤنج میں ملا تھا-سیاہ مقیش کی ساڑھی،چھوٹی آستینوں سے جھلکتے گداز بازو، اور اونچے جوڑے سے نکللتی گھنگھریالی لٹوں والی-اسے اس کا ایک ایک نقش یاد تھا-وہ کوئی اور محمل تھی،اور یہ عبایا اور حجاب والی کوئی اور تھی-

ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟

یہی کہ تم نے محمل کو اپنے رنگ میں رنگ لیا ہے-

یہ میرا رنگ نہیں ہے یہ صبغت اللہ ہے ،اور اللہ کے رنگ سے بہتر کون سا رنگ ہوسکتا ہے-چلو محمل-اوکے ہمایوں اپنا خیال رکھنا- السلام علیکم- وہ محمل کا بازو تھامے مڑی ہی تھی کہ وہ پکار اٹھا-

سنو فرشتے! ہاں! وہ دونوں ساتھ ہی پلٹیں-

تم بولتی بہت ہو،اور تم نے محمل کو ایک لفظ بھی نہیں بولنے دیا-تمہیں معلوم ہے؟

” مجھے معلوم ہے اور تم نے ساری عمر تو اسی کو سننا ہے،یہ کم ہے کہ میں نے تمہیں اس سے ملوا دیا ہے؟

مگر نہیں- بے شک انسان بہت ناشکرا ہے، چلو محمل! وہ محمل کو بازو سے تھامے اسی عجلت میں واپس لے گئی-اور وہ حیرتوں میں گھرا کھڑا رہ گیا-

پھر سر جھٹک کر مسکرا دیا تھا-یہ فرشتے کو کس نے بتایا؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس گول میز کے گرد دونوں اپنی نشستوں پہ بور سی بیٹھی تھیں-

باقی کرسیوں پر آنٹی ٹئپ کچھ خواتین جلوہ افروز تھیں-محمل بار بار کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھتی-وہ واقعی بہت بور ہو رہی تھی-

فرشتے ہی تھی جو اپنے ساتھ بیٹھی نسیم آنٹی سے کوئی نہ کوئی بات کر لیتی تھی، ورنہ وہ تو مسلسل جماہی روکتی بے زاری سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی-

اس ملک میں عورتوں کو وہ حقوق حاصل نہیں جو مردوں کو ہیں- وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مسز رضی کی طرف متوجہ ہوگئی جو ناک چڑھائے اپنا انگوٹھیوں سے مزین ہاتھ ہلا کر کہہ رہی تھیں-

اور یہ اس صدی سب سے بےوقوفانہ بات ہے، اگر کوئی کہے کہ مرد عورت سے برتر ہے-میں تو نہیں مانتی ایسی باتوں کو!

بالکل!وہ سب غرور و تفاخر میں ڈوبی عورتیں ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملا رہیں تھی-محمل کا پرس میز پہ رکھا تھا-اس نے اس کو اٹھا کر گود میں رکھا پھر اندر سے اپنا سفید کور والا قرآن نکالا جو ہمیشہ ساتھ رکھتی تھی-

یہ سب جہالت کی باتیں ہیں مسز رضی،جب تک اس ملک میں تعلیم عام نہیں ہوگی،لوگ عورتوں اور مردوں کے برابر حقوق تسلیم نہ کر سکیں گے-

اور نہیں تو کیا اسی قدامت پرستی کی وجہ سے ہم آج یہاں ہیں- اور دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے-

اس نے سر اٹھایا اور ذرا سا کھنکاری-

مجھے آپ لوگوں سے اتفاق نہیں ہے-

تمام خواتین چونک کر اسے دیکھنے لگیں-

اور میرے پاس اس کے لیے دلیل بھی ہے ، یہ دیکھیں-اس نے گود میں رکھا قرآن پاک اوپر کیا،”ادھر سورہ نسا میں-

نہیں پلیز!

اف نہیں! ناٹ اگین-

اوہ پلیز ڈونٹ اوپن اٹ،

ملی جلی ناگوار،مضطرب سی آوازوں پہ رک کر ناسمجھی کے عالم میں انہیں دیکھنے لگی-

جی؟

خدا کے لیے اس کو مت کھولیں-

وہ کہہ رہی تھی اور وہ حق دق بیٹھی رہ گئی-

یہ مسلمان عورتیں تھیں؟یہ واقعی مسلمان عورتیں تھیں؟ان کو آسمانی کتابوں پہ ایمان نہ تھا؟یہ قرآن کو نہیں سننا چاہتی تھیں جس نے ان کو ان کا مال اور حسن دیا تھا۔۔۔؟جو چاہتا تو ان کی سانسیں روک دیتا،ان کے دل بند کر دیتا-مگر اس نے ان کو ہر نعمت دے رکھی تھی-پھر بھی وہ اس کی بات نہیں سننا چاہتی تھین؟

یہ تو قرآن کی بات ہے اللہ کا کلام ہے آپ سنیں تو سہی، یہ تو-اس نے کہنا چاہا-

پلیز آپ ہماری ڈسکشن میں مخل نہ ہوں-

اور وہ خاموش ہوگئی-اتنی ہٹ دھرمی-شاید وہ بد نصیب عورتیں تھیں،جب کو اللہ اپنی بات سنوانا نہیں چاہتا تھا- اور ہر وہ شخص جو روز قرآن نہین پڑھتا وہ بد نصیب ہوتا ہےاللہ اس سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتا-

پھر وہ ادھر نہیں بیٹھی،تیزی سے اٹھی قرآن بیگ میں رکھا اور فرشتے سے میں گھر جارہی ہوں کہہ کر بغیر کچھ سنے وہاں سے چلی ائی، اس کا دل جیسے درد سے پھٹا جا رہا تھا-آنسو ابلنے کو بے تاب تھے- سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیسے اس غم کو قابو کرے،کیسے-کیسے مسلمان ہوکر وہ یہ سب کہہ سکتی تھیں؟اسے ابھی تک یقین نہیں ارہا تھا-

دل بہت بھر آیا تو آنسو بہہ پڑے، وہ چہرہ پھیرے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی-سڑک کے ایک جانب درخت پیچھے کو بھاگ رہے تھے،گاڑی ڈرائیور چلا رہا تھا جسے وہ ساتھ لے کر آئی تھی-تائی مہتاب کی بہو بننے پہ اعزاز تو اسے ملنا ہی تھا-اور روک ٹوک بھی قدرے کم ہوگئی تھی-مگر ابھی وہ ان باتوں کو نہیں سوچ رہی تھی-اس کا دل تو ان عورتوں کے رویوں پہ اٹک سا گیا تھا- اسے لگا-

ایک دم گاڑی جھٹکے سے رکی-وہ چونک کر آگے دیکھنے لگی-

کیا ہوا؟

بی بی! گاڑی گرم ہوگئی ہے ،شاید ریڈی ایٹر میں پانی کم ہے،میں دیکھنا بھول گیا تھا-ڈرائیور پریشانی سے کہتا باہر نکلا-وہ گہری سانس لے کر رہ گئی-

سڑک سنسان تھی گو وقفے وقفے سے گاڑیاں گزرتی دکھائی دیتی تھیں مگر ارد گرد آبادی کم تھی-وہ کوئی انڈسٹریل ایریا تھا-بہت دور اونچی عمارتیں دکھائی دیتی تھیں-ڈرائیور بونٹ کھول کر چیک کرنے لگ گیا تو وہ سر سیٹ سے ٹکائے، آنکھں موندے انتظآر کرنے لگی-

بی بی!تھوڑی دیر بعد اس کی کھڑکی کا شیشہ بجا-

اس نے چونک کے آنکھیں کھولیں-باہرڈرائیور کھڑا تھا-

کیا ہوا؟ اس نے شیشہ نیچے کیا-

انجن گرم ہوگیا ہے،میں کہیں سے پانی لے کر آتا ہوں،آپ اندر سے سارے دروازے لاک کر لیں،مجھے شاید تھوڑی دیر لگ جائے-

ہوں ٹھیک ہے جاؤ- اس نے شیشہ چڑھایا،

سارے لاک بند کیے اور چہرے پہ حجاب کا ایک پلو گرا کے آنکھیں پھر سے بند کر لیں، ادھیڑ عمر ڈرائیور چھے سات برسوں سے ان کے ہاں ملازمت کر رہا تھا،اور خاصا شریف النفس انسان تھا سو وہ مطمئن تھی-

وہ گرمیوں کی دوپہر تھی-تھوڑی ہی دیر میں گاڑی حبس زدہ ہوگئی-گھٹن اور حبس اتنا شدید تھا کہ اس نے شیشہ کھول دیا- ذرا سی ہوا اندر آئی مگر گاڑی کے ساکن ہونے کی وجہ سے ماحول پہلے سے زیادہ گرم ہوگیا-

وہ تھوڑی ہی دیر میں پسینہ پسینہ ہوگئی-بے اختیار سیٹ پر تہہ کر کے رکھا دوپٹہ اٹھایا اور اس سے ہوا جھلنے لگی-گرمی اتنی شدید تھی کہ اسے لگا وہ بھٹی میں جل رہی ہے-

کافی دیر گزر گئی مگر ڈرائیور کا کوئی نامو نشان نہ تھا-

بے اختیار وہ سورہ طلاق کی تیسری آیت آخر سے پڑھنے لگی-جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے راستہ بنا ہی دیتا ہے-

ڈیڑھ گھنٹے سے اوپر ہونے کو آیا تھا،وہ گرمی سے نڈھال، پسینے میں شرابور کتنی ہی دیر سے دعائیں کر رہی تھی-مگر جانے کیوں آج کوئی راستہ نہیں کھل رہا تھا- پھر جب سورج سر پہ پہنچ گیا اور باہر سے آتی دھوپ و گرمی میں اضافہ ہوتا چلا گیا تو اس نے گھبرا کر شیشے بند کر دئیے-

اور پھر سے وہی ہوا،گھٹن زدہ اور حبس زدہ بند گاڑی جیسے ڈبہ ہو یا قبر ۔۔۔۔۔ یا سمندر میں تیرتی کسی مچھلی کا پیٹ!

مچھلی کا پیٹ؟اس نے حیرت سے دہرایا-یہ میرے دل میں کیسے خیال آیا کہ یہ مچھلی کا پیٹ ہے؟وہ الجھی اور پھر سے اسے وہ کلب کی عورتین یاد آئیں اور ان کا وہ گھمنڈی رویہ!اس کے خیال کی رو بھٹکنے لگی-پتا نہیں وہ کیوں اس رب کی بات سننا نہیں چاہتی تھیں جس کے ہاتھ میں ان کی سانسیں ہیں،اگر وہ چاہیں تو ان منکرین کی سانسیں روک دے،مگر وہ ایسا نہیں کرتا-

“کیوں؟اس نے خود سے سوال کیا-اس کی آواز بند شیشوں سے ٹکرا کر پلٹ ائی-

باہر فضا صاف دکھائی دے رہی تھی-دور سے جھلکتی اونچی عمارتیں،ان کے اوپر آسمان۔جہاں سے پرندے اڑتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے، یہ عمارتیں یہ آسمان زمین یہ اڑتے پرندے ،یہ زمین کو روندتے ہوئے چلتے متکبر لوگ ،وہ سب زندہ تھے-ان کی سانسیں اپنے انکار کے باوجود نہیں رکتی تھیں-

کیوں؟

کیونکہ ان کی سانسیں انکو ملی مہلت کی علامت ہے-محمل بی بی!کسی کے گناہ کتنے ہی شدید ہوں، اگر سانس باقی ہے تو امید ہے شاید کہ وہ لوٹ آئیں-وہ رب تو ان نافرمانوں سے مایوس نہیں ہوا،پھر تم کیوں ہوئیں؟کوئی اس کے اندر بولا تھا-

وہ جیسے سناٹے میں اگئی-

کتنی جلدی وہ نہ ماننے والوں سے مایوس ہوگئی؟

“ان پہ کڑھنے لگی؟پھر کیوں وہ کسی کی ہٹ دھرمی دیکھ کر یہ فرض کر بیٹھی کہ وہ کبھی بدل نہیں سکتیں کیوں اس نے مایوس ہوکر بستی چھوڑ دی-

اس کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑے-بے اختیار اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے-

نہیں کوئی اللہ تیرے سوا،پاک ہے تو بے شک میں ہی ظالموں میں سے ہوں-

ندامت کے آنسو اس کے گال پہ لڑھک رہے تھے-اسے بستی نہیں چھوڑنی چاہیئے تھی-اگر کچھ لوگ قرآن نہیں سننا چاہتے تو کہیں تو ھوگا جو سننا چاہے گا-خود وہ کیا تھی؟قرآن کو اس روز چھت پر کھلتے ہی بدکنے والی،آج کدھر تھی!صرف اس سیاہ فام لڑکی کی ذرا سی کوشش ذرا سے تجسس کو بھڑکانے والے عمل سے وہ کسی نہ کسی طرح آج ادھر پہنچ گئی تھی- کہ اللہ اس سے بات کرتا تھا،پھر اپنی پارسائی پہ غرور اور دوسرے کی تحقیر کیسی؟

اس کے آنسو ابھی بہہ رہے تھے کہ ڈرائیور سامنے آتا دکھائی دیا-اس کے دونوں ہاتھوں میں پانی کی بوتلیں تھیں-

اور جو اللہ سے ڈرتا ہے،اللہ اس کے لیے راستہ نکال ہی دیتا ہے-

بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا تھا-اسے لگا اس کی توبہ شاید قبول ہوگئی تھی-کبھی کبھی اسے لگتا تھا ایمان اور تقوی بھی سانپ سیڑھی کے کھیل کی طرح ہوتا ہے۔ایک صحیح قدم کسی معراج پہ پہنچا دیتا ہے تو دوسرا غلط قدم گہری کھائی میں،اس نے بے ساختہ سوچا تھا-

گاڑی گھر کے سامنے رکی،اور ڈرائیور نے ہارن بجایا-چوکیدار گیٹ کھول ہی رہا تھا جب اس کی نظر ساتھ والے بنگلے پر پڑی-

تم جاؤ میں آتی ہون-وہ سبک رفتاری سے باہر نکلی-

بریگیڈئیر صاحب کا چوکیدار وہی گیٹ ہی کھڑا تھا-اس نے فورا بیگ کھنگالا-

سنو یہ اپنے صاحب کو دے دینا-اور چند پمفلٹس نکال کے اس کی طرف بڑھائے-ان سے کہنا یہ امانت ہے چاہیں تو پڑھ لیں، کوئی دباؤ نہیں، مگر میں واپس ضرور لینے آؤں گی، پکڑ لو نا۔-متذبذب کھڑے چوکیدار کو پمفلٹس زنردستی تھمائے، اور واپس گھر کی جانب ہو لی-

کوئی تو ہوگا جو اسے سننا چاہے گا-آج نہیں – کل نہیں مگر کبھی تو وہ ان پمفلٹس کو کھولیں گے-

٭٭٭٭٭

کاریڈور میں لگا سافٹ بورڈ آج کچھ زیادہ ہی چمک رہا تھا یا شاید وہ اس کیلی گرافی کے کناروں پہ لگی افشاں کی چمک تھی-وہ سافٹ بورڈ کے وسط میں آویزاں تھی-وہ آہستہ آہستہ چلی ہوئی دیوار کے قریب آئی-کیلی گرافی بہت خوبصورت تھی-اس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے موقع پر کہے گئے الفاظ رقم تھے-وہ گردن اٹھائے ان الفاط کو پڑھنے لگی-

“عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ بھی روتے ہیں؟آپ نے فرمایا اے ابن عوف،یہ رحمت اور شفقت ہے-اور آپ پھر سے رو پڑے اور فرمایا-

بے شک انکھ آنسو بہاتی ہے-اور دل غمگین ہے-لیکن ہم زبان سے وہی بات نکالیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو-اے ابراہیم بے شک ہم تیری جدائی پہ بہت غم زدہ ہیں-

وہ مسحور سی اسی طرح گردن اونچی اٹھائے بار بار الفاظ پڑھتی گئی-کچھ تھا ان میں جو اسے بار بار کھینچتا تھا-وہ وہاں سے جا ہی نہ پا رہی تھی-جانے کے لیے الفاظ اٹھاتی مگر وہ الفاظ اسے روک دیتے اور واقعی پھر سے رک جاتی-

جب تفسیر کی کلاس کا وقت ہونے لگا وہ بمشکل خود کو وہاں سے کھینچ لائی-قرآن کھولتے ہوئے نظر درمیان کے کسی صفحے پر پڑی-

ہر نفس موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے-

وہ صفحے پیچھے پلٹنے لگی-انگلی سے صفحے پلٹتے ہوئے ایک جگہ اور یونہی نظر پھسلی-

آج تم ایک موت نہ مانگو، بلکہ آج تم کئی موتیں مانگو،-

وہ سر جھٹک کر اپنے سبق پہ آئی-

آج کی پہلی ایت ہی یہی تھی-

اے لوگو جو ایمان لائے ہو،جب تم میں سے کسی ایک پر موت حاضر ہوجائے-

اوہو، مجھے کیا ہوگیا ہے؟وہ بے بسی سے مسکرا کر رہ گئی-آج تو ساری موت کی آیتیں پڑھ رہی ہوں،کہیں میں مرنے تو نہیں والی؟اف محمل فضول مت سوچو اور سبق پہ توجہ دو-

وہ سر جھتک کر نوٹس لینے لگی-موت کی وصیت کے متعلق آیات پڑھی جا رہی تھیں-

اسے یاد آیا، ابھی اس نے ایک حدیث بھی کچھ ایسی ہی پڑھی تھی-

اچانک لکھتے لکھتے اس کا قلم پھسل گیا-وہ رک گئی اور پھر آہستہ سے سر اٹھایا-

کیا کوئی مرنے والا ہے؟اس کا دل زور سے دھڑکا تھا-وہ جو قرآن میں پڑھتی تھی اس کے ساتھ وہ پیش آجاتا تھا،یا آنے والا ہوتا تھا-کبھی ماضی ، کبھی حال، اور کبھی مستقبل-کوئی لفظ بے معنی بے مقصد اس کی آنکھوں سے نہیں گزرتا تھا- پھر آج وہ کیوں ایک ہی طرح کی آیت پڑھی جا رہی تھی-کیا کوئی مرنے والا ہے؟کیا کوئی اسے چھوڑ کر جانے والا ہے؟کیا اسے قرآن ذہنی طور پر تیار کر رہا ہے؟اسے صبر کرنے کو کہہ رہا ہے،مگر کیوں ؟ کیا ہونے والا ہے؟

وہ بے چینی سے قرآن کے صفحے آگے پلٹنے لگی-

اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے-

ایک سطر پڑھ کر اس نے ڈھیر سارے صفحے پلٹے-

صبر کرنے والے اپنا صلہ۔۔۔

پورا پڑھے بغیر اس نے آخر سے قرآن کھولا-

اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہو-

اور پھر وہ صفحے تیز تیز پلٹتی ایک نظر سے سب گزارتی جا رہی تھی-

اور کوئی نہیں جانتا وہ کونسی زمین پر مرے گا-

محمل کا دم گھٹنے لگا تھا-بے اختیار گھبرا کر اس نے قرآن بند کیا-اسے پسینہ آرہا تھا-دل زور زور سے دھڑک رہا تھا-کچھ ہونے والا تھا-کیا وہ برداشت کر پائے گی؟شاید نہیں اس میں اتنا صبر نہیں ہے-وہ کچھ نہ برداشت کر پائے گی-کبھی بھی نہیں-اس نے وحشت سے ادھر ادھر دیکھا-

میڈم مصباح کا لیکچر جاری تھا-لڑکیاں سر جھکائے نوٹس لے رہیں تھیں-کوئی اس کی طرف متوجہ نہ تھا-اس نے ذرا سی گردن اوپر کو اٹھائی-اوپر چھت تھی- چھت کے پار آسمان تھا-وہاں کوئی اس کی طرف ضرور متوجہ تھا مگر وحشت اتنی تھی کہ دعا بھی نہ مانگ سکی- تب ہی آیا اماں اسے دروازے میں نظر آئیں-ان کے ہاتھ میں ایک چٹ تھی-وہ میڈم مصباح کے پاس گئیں اور چٹ ان کی طرف بڑھا دی-میڈم نے لیکچر روک دیا اور چٹ تھامی-

محمل بنا پلک جھپکے ان کو دیکھ رہی تھی-

میڈم مصباح نے چٹ پڑھ کر سر اٹھایا،ایک نگاہ پوری کلاس پہ ڈالی، پھر چہرہ مائیک کے قریب کیا-

محمل ابراہیم پلیز ادھر آجائیں-

اور اسے لگا وہ اگلا سانس نہیں لے سکے گی-وہ جان گئی تھی -کوئی مرنے والا نہیں تھا-اب کسی کو نہیں مرنا تھا-اس کا نام پکارا جا رہا تھا اور اس کی ایک ہی وجہ تھی-

جسے مرنا تھا ، وہ مر چکا تھا-کہیں کوئی اس کا پیارا وپر چکا تھا-

وہ نیم جاں قدموں سے اٹھی اور میڈم کی طرف بڑھی-

آنکھ آنسو بہاتی ہے-

دل غمگین ہے-

مگر ہم زبان سے وہی کہیں گے جس پہ ہمارا رب راضی ہو-

اے ابراہیم- ۔۔۔۔۔۔ بے شک ہم تیری جدائی پہ بہت غمزدہ ہیں-

صدیوں پہلے کسی کے کہے گئے الفاظ کی باز گشت اسے سارے ہال میں سنائی دے رہی تھی-باقی ساری آوازیں بند ہوگئی تھیں-اس کے کان بند ہوگئے تھے- زبان بند ہوگئی تھی-

بس وہ ایک آواز اس کے ذہن میں گونج رہی تھی-

آنکھ آنسو بہاتی ہے-

دل غمگین ہوتا ہے-

دل غمگین ہوتا ہے-

دل غمگین ہوتا ہے-

وہ بمشکل میڈم مصباح کے سامنے کھڑی ہوئی-

جی میڈم؟

آپ کا ڈرئیور آپ کو لینے ایا ہے، ایمرجنسی ہے،آپ کو گھر جانا۔۔۔

مگر وہ پوری بات سنے بغیر ہی سیڑھیوں کی طرف بھاگی-ننگے پاؤں زینے پھلانگتی وہ تیزی سے اوپر آئی تھی-جوتوں کا ریک ایک طرف رکھا تھا،مگر محمل کو اس وقت جوتوں کا ہوش نہ تھا-وہ سنگ مر مر کے فرش پر ننگے پاؤں دورتی جا رہی تھی-

غفران چچا کی اکارڈ سامنے کھڑی تھی-ڈرائیور دروازہ کھولے منتظر کھڑا تھا،اس کا دل ڈوب کر ابھرا-

بی بی اپ ۔۔۔۔۔۔۔

پلیز خاموش رہو- وہ بمشکل ضبط کرتی اندر بیٹھی-اور جلدی چلو-

اس کا دل یوں دھڑک رہا تھا گویا ابھی سینہ پھاڑ کر باہر آجائے گا-

آغآ ہاؤس کا مین گیٹ پورا کھلا تھا،باہر گاڑیوں کی قطار لگی تھی- ڈرائیو وے پہ لوگوں کا جم غفیر اکتھا تھا-

گاڑی ابھی گیٹ کے باہر سڑک پہ ہی تھ کہ وہ دروازہ کھول کر باہر بھاگی-ننگے پاؤں تارکول کی سڑک پہ جلنے لگے،مگر اس وقت جلن کی پرواہ کسے تھی،

اس نے رش میں گھرےآغا جان کو دیکھا،غفران چچا کو دیکھا،حسن کو دیکھا، وہ سب اس کی طرف بڑھے تھے،مگر وہ اندر کی طرف لپک رہی تھی-لوگوں کو ادھر ادھر ہٹاتی وہ ان کی آوازوں تک پہنچنا چاہتی تھی- جو لان سے آرہی تھیں-عورتوں کے بین ، رونے آہ و بکا کی آوازیں-

لوگ ہٹ کر اس سفید یونیفارم اور گلابی اسکارف والی لڑکی کو راستہ دینے لگے تھے-وہ بھاگتی ہوئی لان تک ائی اور پھر گھاس کے دہانے پہ بے اختیار رک گئی-

لان میں عورتوں کا ایک ہجوم اکٹھا تھا-درمیاں میں چارپائی رکھی تھی،اس پہ کوئی سفید چادر اوڑھے لیتا تھا- چار پائی کے چاروں طرف عورتیں رو رہی تھیں-ان کے چہرے گڈ مد سے ہو رہے تھے-ایک فضہ چچی تھیں،اور ہاں ناعمہ چچی بھی تھیں، اور وہ سینے پہ دو ہتھڑ مار کر روتی رضیہ پھپھو تھیں،اور وہ اونچی آواز میں بین کرتی تائی مہتاب تھیں-سب تو ادھر موجود تھے-

پھر کون تھا اس چارپائی پہ؟کون۔۔۔۔۔۔۔ کون تھا وہ؟

اس نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی،وہاں سارا خاندان اکٹھا تھا بس ایک چہرہ نہ تھا-

اماں! اس کے لب پھڑ پھڑائے-

اس نے انہیں پکارنے کے لیے لب کھولے،مگر آواز نے گویا ساتھ چھوڑ دیا-وہ وحشت سے ادھر ادھر دیکھنے لگی، شاید اس کی ماں کسی کونے میں بیٹھی ہو،مگر وہ کہیں نہ تھیں-اس کی ماں کہیں نہ تھی-

محمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمل- وہ عورتیں اسے پکار رہی تھیں-اٹھ اٹھ کر اسے گلے سے لگا رہی تھیں،کسی نے راستہ بنا دیا ،تو کوئی میت کے پاس سے ہٹ گیا،کوئی اسے ہاتھ سے پکر کر چار پائی کے قریب لے آیا،کسی نے شانوں پہ زور دے کے اسے بٹھایا،کسی نے میت کے چہرے سے چادر ہٹا دی-کون کیا کر رہا ہے اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا،ساری آوازیں آنا بند ہوگئیں،اردگرد کی عورتوں کے لب ہل رہے تھے،مگر وہ سن نہ پا رہی تھی کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں،رو رہی ہیں یا ہنس رہی ہیں، وہ تو بس یک ٹک بنا پلک جھپکے اس زرد چہرے کو دیکھ رہی تھی جو چار پائی پہ آنکھیں موندے لیٹا تھا-نتھنوں میں روئی ڈالی گئی تھی-اور چہرے کے گرد سفید پٹی تھی-وہ چہرہ واقعی اماں سے بہت ملتا تھا-بالکل جیسے اماں کا چہرہ ہو اور شاید۔۔۔۔۔۔۔ شاید وہ اماں کا چہرہ ہی تھا-

اسے بس ایک پل لگا تھا تھا یقین آنے میں اور پھر اس نے چاہا کہ وہ بھی دھاڑیں مار کر رونے لگے،نوحہ کرے بین کرے، زور زور سے چلائے،مگر وہ رحمت العالمین کے کہے الفاظ۔۔۔۔۔۔۔

مگر ہم زبان سے وہی کہیں گے جس پہ ہمارا رب راضی ہو-

اور اس کے لب کھلے رہ گئے،آواز حلق میں ہی دم تور گئی-زبان ہلنے سے انکاری ہوگئی-

اس کا شدت سے دل چاہا کہ اپنا سر پیٹے،سینے پہ دو ہتھڑ مار کر بین کرے-دوپٹہ پھاڑ ڈالے اور اتنا چیخ چیخ کہ روئے کہ آسمان ہل جائے،اور پھر اس نے ہاتھ اٹھائے بھی مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوحہ کرنے والی اگر توبہ کیے بغیر مر گئی تو اس کے لیے تارکول کے کپڑے اور اگ کے شعلے کی قمیض ہوگی-

جو گریبان چاک کرے اور رضساروں پر طمانچے مارے اور بین کرے ہم میں سے نہیں-

یہ ہدایت تو ابد تک کے لیے تھی-

اس کے ہاتھ اٹھنے سے انکاری ہوگئے-آنکھ سے آنسو بہہ رہے تھے لیکن لب خاموش تھے-

اسے رلاؤ ، اسے کہو اونچا رو لے، ورنہ پاگل ہو جائے گی-

اس سے کہو دل ہلکا کر لے-

بہت سی عورتیں اس کے قریب زور زور سے کہہ رہی تھیں-

میری بچی! تائی مہتاب نے روتے ہوئے اسے گلے سے لگا لیا-وہ اسی طرح ساکت سی بیٹھی ماں ک میت کو دیکھ رہی تھی- آنکھوں سے آنسو گر کر گردن پہ لڑھک رہے تھے-اس کا پورا چہرہ بھیگ گیا تھا،مگر زبان۔۔۔۔۔۔ زبان نہین ہلتی تھی-

مسرت تو ٹھیک ٹھاک تھی پھر کیسے۔۔۔۔

بس صبح کہنے لگی سینے میں درد ہے، ہم فورا ہسپتال لے گئے مگر-

ادھوری ادھوری سی آوازیں اس کے اردگرد سے آرہی تھیں،مگر اسے سنائی نہ دے رہی تھی،اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا-اسے لگا اسے چکر آرہے ہیں،عجیب سی گھٹن تھی،اس کا سانس بند ہونے لگا تھا-

وہ ایک دم اتھی اور عورتوں کو ہٹاتی اندر بھاگ گئی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کسی نے دروازے پہ ہلکی سی دستک دی- ایک دفعہ، دو دفعہ ، پھر تیسری دفعہ،اس نے گھٹنوں پہ رکھا سر ہولے سے اٹھایا-دروازہ بج رہا تھا-وہ آہستہ سے اتھی،بیڈ سے اتری، سلیپر پاؤں میں ڈالے اور کنڈی کھولی،باہر فضہ چچی کھڑی تھیں-

محمل بیٹا تمہارے آغا جان تمہیں بلا رہے ہیں-

آتی ہوں-اس نے ہولے سے کہا تو فضہ چچی پلٹ گئیں-وہ کچھ دیر یونہی ادھر کھڑی رہی،پھر باہر آگئی-

سیڑھیوں کے قریب لگے ہوئے آئینے کے پاس سے گزرتی ہوئی وہ پل بھر کو رکی،اس کا عکس بھی رک کر اسے دیکھ رہا تھا-

ہلکے نیلے رنگ کی شلوار قمیض پہ سفید ململ کا دوپٹہ سر پہ لیے وہ کمزور یژمردہ سی محمل ہی تھی؟ہاں شاید وہ ہی تھی-سفید دوپٹے کے ہالے میں اس کا چہرہ کملایا ہوا لگ رہا تھا-آنکھوں کے گرد گہرے حلقے تھے،وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی-

آغا جان کے کمرے میں سب چچا اور چچیاں موجود تھیں، وسیم بھی ایک طرف کھڑا تھا-

آؤ محمل! اسے اتے دیکھ کر اغا جان نے سامنے صوفے کی طرف اشارہ کیا- آج اماں کو گزرے چوتھا دن تھا، اور گھر والوں کا رویہ پہلے کی نسبت اب کافی نرم تھا-

وہ چپ چاپ صوفے پر بیٹھ گئی-

اس صبح جب مسرت کی ڈیتھ ہوئی ، اس نے درد زروع ہوتے ہی یہ کچھ چیزیں وصیت کی تھیں تمہارے لیے-( اسے لگ رہا تھا وہ اب مزید نہیں جی پائے گی)ہم نے سوچا کہ تمہیں دے دی جائیں-انہوں نے ایک طرف رکھا ڈبہ اٹھایا-محمل نے سر اٹھا کر ڈبے کو دیکھا-یہ ڈبہ اماں کے زیورات کا تھا-وہ ہمیشہ اسے تالا لگا کر الماری کے نچلے حصے میں رکھا کرتی تھیں-

یہ ایک ڈبہ تھا اس کی یہ چابی ہے،تم خود دیکھ لو اور ساتھ یہ کچھ رقم تھی،اس کی جمع پونجی، اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں تمہارے اکاؤنٹ میں جمع کروا دوں مگر میں نے سوچا یہ تمہارے حوالے ہی کر دوں، تم بہتر فیصلہ کر سکتی ہو-

انہوں نے ایک پھولا ہوا لفافہ ڈبے کے اوپر رکھا-محمل نے آہستہ سے لفافہ اٹھایا اور کھول کر دیکھا-اندر ہزار ہزار کے کئی نوٹ تھے-شاید اماں نے اس کے جہیز کے لیے رکھے تھے-اس کا دل بھر ایا-اس نے لفافہ ایک طرف رکھا اور چابی سے کاسنی ڈبے کا تالا کھولا-

اندر کچھ زیورات تھے-خالص سونے کے جڑاؤ زیورات،اس نے ڈبہ بند کردیا-معلوم نہیں اماں نے کب سے سنبھال کر رکھے تھے-

وسیم سمیت تمام لوگ اس وصیت کے وقت موجود تھے،تم سب سے پوچھ سکتی ہو میں نے تمہارا حق پورا ادا کر دیا ہے، یا نہیں-

اس نے بھیگی آنکھیں اٹھائیں،سامنے صوفوں اور کرسیوں پہ بیٹھے تمام نفوس کے چہرے مطمئن تھے،مطمئن اور بے نیاز-

چیزیں تو آپ نے ادا کر دیں ہیں آغآ بھائی،مگر مسرت کی وصیت ؟ دفعتا فضہ چچی نے اضطراب سے پہلو بدلا-

اوہو فضہ ! ابھی اس کی ماں کو گزرے دن ہی کتنے ہوئے ہیں-تائی مہتاب نے نگاہوں سے تنبیہہ کی-

مگر بھائی مسرت نے کہا تھا جلد از جلد-

رہنے دو فضہ !ہم اس کا فیصلہ محمل پہ چھوڑ چکے ہیں-اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوگا-

مگر ایٹ لیسٹ اسے بتا تو دیں-

ابھی اس کا غم ہلکا تو ہونے دو پھر۔۔۔۔۔

ان کی دبی دبی سرگوشیاں اسے بے چین کر گئیں-

تائی اماں! کیا بات ہے؟اماں نے کچھ اور بھی کہا تھا؟

سب ایک دم خاموش سے ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے-

محمل میں تمہیں کچھ دن تک بتاؤں گی، ابھی اس قؔصے کو چھوڑ دو-

پلیز تائی اماں مجھے بھی بتائیں-

مگر تمہارا غم ابھی۔۔۔۔

میں ٹھیک ہوں مجھے بتائیں-اس نے بے چینی سے بات کاٹی-

تائی مہتاب نے ایک نظر سب کو دیکھا،پھر قدرے ہچکچا کر گویا ہوئیں،

بات یہ ہے کہ مسرت نے مرنے سے پہلے وسیم کو بلوا کر سب کے سامنے تمہارے آغا جان سے کہا کہ اگر وہ بچ نا سکی تو جلد از اجلد محمل کو وسیم کی دلہن بنا کر سہارا دیں،اس کو بے آسرا نہ چھوڑیں،اور تمہارےآغآ جان نے وعدہ کر لیا کہ وہ ایسا ہی کریں گے،

وہ اپنی جگہ سن سی ہوگئی،زمین جیسے قدموں تلے سے سرکنے لگی تھی- اور آسمان سر سے ہٹنے لگا تھا-

اماں نے یہ سب کہا؟

ہاں یہ سب لوگ جو یہاں ہیں اس بات کے گواہ ہیں،تم کسی سے بھی پوچھ لو-

وہ ایک دم بالکل چپ سی ہوگئی-عجیب سی بات تھی اسے یقین نہ ارہا تھا-

لیکن محمل! ہم نے یہ فیصلہ تم پہ چھوڑ دیا ہے،تم چاہو تو یہ شادی کرو چاہو تو نہ کرو،ہم نے اس لیے تمہیں آگاہ کر دیا کیونکہ یہہ تمہاری ماں کی آخری خواہش تھی-

یہ تم پر منحصر ہے تم اس ک بات رکھتی ہو کہ نہیں-ہم میں سے کوئی تم پر زور نہیں ڈالے گا-

وہ سر جھکائے کاسنی ڈبے کو دیکھ رہی تھی-ذہن میں جیسے جھکڑ چل رہے تھے-

مگر یہ ڈبہ اور یہ لفافہ ثبوت تھا کہ یہ وصیت واقعی اس کی ماں نے کی تھی-

اگر تمہیں منظور ہے تو ہم اگلے جمعے نکاح رکھ لیتے ہیں کہ مسرت کی خواہش تھی یہ کام جلد از جلد کیا جائے،اگر نہیں تو کوئی بات نہیں، تم جو چاہو گی وہی ہوگا-تائی مہتاب اتنا کہہ کر خاموش ہوگئیں-

اس نے ہولے سے سر اٹھایا-سنہری آنکھیں پھر سے بھیگ چکی تھیں-کمرے میں موجود تمام نفوس دم سادھے اسے دیکھ رہے تھے-

میں اپنی ماں کی بات کا مان رکھوں گی-آپ جب کہیں گی میں شادی کے لیے تیار ہوں-

پھر وہ رکی نہیں،ڈبہ اور لفافہ اٹھا کر تیزی سے کمرے سے نکل گئی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ کچن میں کرسی پہ بیٹھی تھی،ہاتھ میں صبح و شام کی دعاؤں اور اذکار کی کتاب تھی،اور وہ منہمک سی پڑھ کر دعا مانگ رہی تھی-

ہم نے صبح کی فطرت اسلام پہ

اور کلمہ اخلاص پہ

اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین پہ

اور اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت پہ

جو یکسو مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے”-

محمل۔! کسی نے زور سے کچن کا دروازہ کھولا-

اس نے چونک کر سر اٹھایا-سامیہ عجلت میں اندر داخل ہوئی تھی-

تم سے کوئی ملنے آیا ہے ڈرائنگ روم میں ہے جاؤ مل لو-

کون ہے؟

وہی پولیس والا! وہ کہہ کر پلٹ گئی-

ہمایوں آیا ہے؟وہ کتنی ہی دیر کتاب ہاتھ میں لیے بیٹھی رہی،پھر آہستہ سے اسے بند کیا،سلیب پہ رکھا، لباس کی شکنیں درست کیں اور سیاہ دوپٹہ ٹھیک سے سر پہ لے کر باہر آگئی-

ڈرائنگ روم سے باتوں کی آواز ارہی تھی جیسے دو لوگ گفتگو میں مشغول ہوں-یہ ہمایوں سے کون باتیں کر رہا ہے؟وہ الجھتی ہوئی اندر آئی ڈرائنگ روم اور ڈائننگ ہال کے درمیان سفید جالی دار پردہ تھا-وہ پردے کے پیچھے ذرا دیر کو رکی-

سامنے بڑے صوفے پہ ہمایوں بیتھا تھا-اس کے بالکل مقابل سنگل صوفے پر آرزو بیٹھی تھی-ٹانگ پہ ٹانگ رکھے،آدھی پنڈلی تک ٹراؤزر پہنے وہ اپنے مخصوص بے نیاز حلیے میں تھی-کٹے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرتی وہ ہنس ہنس کر ہمایوں سے کچھ کہہ رہی تھی-

جانے کیوں اسے یہ اچھا نہ لگا-اس نے ہاتھ سے پردہ سمیٹا اور اندر قدم رکھا-

وہ جیسے اسے دیکھ کر کچھ کہتے کہتے رکا اور پھر بے اختیار کھڑا ہوگیا-بلیو شرٹ اور گرے پینٹ میں ملبوس وہ ہمیشہ کی طرح بہت شاندار لگ رہا تھا-آغا جان اسے پسند نہیں کرتے تھے،مگر پھر بھی اسے اندر آنے دیا گیا-شاید اس لیے کہ اب وہ ان کی بہو بننے والی تھی- اور اس کو وہ ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے-

السلام علیکم-وہ آہستہ سے کہہ کر سامنے صوفے پہ بیٹھی گئی-آرزو کے چہرے پہ ذرا سی ناگواری ابھری-،جسے ہمایوں نے نہیں دیکھا تھا،وہ پوری طرح محمل کی طرف متوجہ تھا-

مجھے مسز ابراہیم کی ڈیتھ کا پتہ بہت دیر بعد چلا ، میں کراچی گیا ہوا تھا، آج ہی آیا ہوں،فرشتے نے جیسے ہی بتایا میں آگیا،آئی ایم ویری سوری محمل! واپس صوفے پہ بیٹھتے ہوئے وہ بہت تاسف سے کہہ رہا تھا-

محمل نے جواب دینے سے پہلے ایک نظر آرزو کو دیکھا-

آرزو باجی !آپ جا سکتی ہیں، اب میں آگئی ہوں-

ہاں شیور- آرزو اٹھ کھڑی ہوئی-مگر جاتے ہوئے ان کو شادی کا کارڈ دے دینا-استہزائیہ مسکرا کر وہ گویا جتا گئی تھی-محمل کے سینے میں ہوک سی اٹھی-

کس کی شادی وہ چونکا تھا-

محمل کی شادی وسیم کے ساتھ آپ کو نہیں پتا اے ایس پی صاحب؟اسی فرائیڈے ان کا نکاح ہے،آپ ضرور آئیے گا میں آپ کا کارڈ نکلوا دیتی ہوں،ٹھہریے ! وہ خوشدلی سے کہتی باہر نکل گئی-

کتنے ہی لمحے خاموشی کی نظر ہوگئے-

یہ کیا کہہ رہی تھی؟وہ بولا تو اس کی آواز میں حیرت تھی- بے پناہ حیرت-

ٹھیک کہہ رہی تھی-وہ سر جھکائے ناخن کھرچتی رہی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *