Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mushaf (Episode 13)

Mushaf by Nimrah Ahmad

مجھے ہمایوں نے کچھ بتایا تھا-وہ کہنے لگی تو محمل خاموشی سے اسے دیکھنے لگی-

لمبے سیدھے بھورے بال جو اس نے کانوں کے پیچھے کر رکھے تھے- دمکتی رنگت والا چہرہ اور کانچ سی سنہری آنکھیں، اس کے نقش مختلف تھے،مگر آنکھیں اور بال یوں تھے جیسے آئینہ دیکھ رہی ہو-

تو تمہارا رشتہ انہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ طے کر دیا ہے؟

محمل نے اثبات مین سر ہلایا-

تو تم انکار کر دو-

کس کے لیے انکار کروں؟ اس کے لیے جو بیچ راہ میں چھوڑ جاتا ہے؟وہ کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہ سکی-یہ تو ابھی اس نے اپنے دل سے بھی نہیں کہا تھا،فرشتے سے کیسے کہتی؟

میں کیوں انکار کروں؟کیا میں صبر کر کے اجر نہ لوں؟

محمل ! مظلومیت اور صبر میں فرق ہوتا ہے-اور وہ فرق احتجاج کرنے کا حق رکھنے کا ہوتا ہے-بجائے اپنی زندگی خراب کرنے کے،تم ایک بہتر راستہ چن لو،صاف صآف انکار کر دو-

مجھے ان کے ری ایکشن سے ڈر لگتا ہے-

اس پہ تم صبر کر لینا-وہ ہلکی سی مسکرائی-رشتے داروں ساتھ بہت صبر سے گزارہ کرنا پڑتا ہے لڑکی-

آپ کرتی ہیں صبر؟

کیا مطلب؟

آپ کے رشتے دار ہیں فرشتے؟آپ کے پیرنٹس؟اور ہمایوں کے پیرنٹس-اس نے سوال ادھورا چھوڑ دیا-جانتی تھی فرشتے کو ادھورے سوال پڑھنے آتے ہیں-

میری امی کی ایک ہی بہن تھی-ہمایوں ان کا بیٹا ہے-ان کی ڈیتھ کے بعد امی نے ہمایوں کو گود لے لیا تھا-بہت پرانی بات ہے- ڈیڑھ سال پہلے میری امی کی ڈیتھ ہوگئی- پھر میں نے اور ہمایوں نے فیصلہ کیا کہ گھر میں ہمایوں رہے اور میں ہاسٹل میں رہوں-

اور آپ کے ابو؟

میں میٹرک میں تھی جب ان کی ؔڈیتھ ہوگئی تھی-

آپ کے ابو کی کوئی بہن تو ہوگی؟اس نے اندھیرے میں تیر چلایا-

ہاں ایک بہن ہیں-فرشتے کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی-

کدھر رہتی ہیں؟

یہیں اسی شہر میں-

وہ آپ سے ملتی ہیں؟

نہیں کچھ پرابلمز کی وجہ سے وہ لوگ مجھ سے نہیں ملتے-

اور آپ؟”

میں کوشش تو کرتی ہوں ہر عید پر ان کے گھر ہو آؤں،لیکن وہ میرے اوپر دروازے بند کر دیتے ہیں-

پھر؟وہ بنا پلک جھپکے اس کو دیکھتی آگے ہوئی-پھر میں کیک اور پھول دے کے واپس آجاتی ہوں-میری اتنی ہی استطاعت ہے آگے کیا کر سکتی ہوں؟ وہ سادگی سے مسکرائی-

(کیک اور پھول؟عید پہ بہت سی جگہوں سے مٹھائی اور کیک پھول وغیرہ آتے تھے،کیا وہ بھی بھیجتی تھی؟)

آپ کی پھپھو کے کتنے بچے ہیں؟

ایک ہی بیٹی ہے-اور اسے پتہ تھا فرشتے جھوٹ نہیں بولتی،اس کا تجسس تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا-

کیا عمر ہوگی اس کی؟

مجھ سے تو چند سال چھوٹی ہی ہے-

نام کیا ہے؟

یہ ضروری تو نہیں ہے محمل!فرشتے ذراسی مضطرب ہوئی تھی-

” ہوسکتا ہے میں آپکی فیمیلز کو لانے میں مدد کر سکوں؟

نہیں-فرشتے نے بغور اسے دیکھتے نفی میں سر ہلایا-تم میری پھپھو کی بیٹی کو نہیں جانتیں-

پھر بھی۔۔۔۔۔

کیا ہم ٹاپک چینج کر سکتے ہیں؟

اس کے ٹھوس ازلی اور قطعی انداز پہ وہ گہری سانس لے کر رہ گئی-

“یہ کھڑکیاں بہت خوبصورت ہیں-وہ کہہ کر پر سوچ انداز میں کھڑکی کے باہر اترتی صبح کو دیکھنے لگی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رات کھانے کے بعد اس نے سب کے کمروں میں چلے جانے کا انتظآر کیا،یہاں تک کہ لاؤنج میں ٹی وی کے سامنے جمی بیٹھی لڑکیاں بھی اٹھ اٹھ کے جانے لگیں،اور لاؤنج خالی رہ گیا تو وہ دبے قدموں باہر نکلی-آج اسے آغآ جان کو صاف انکار کرنا تھا-

لاؤنج اندھیرے میں ڈوبا تھا-آغآ جان کے بیڈ روم کے دروازے سے روشنی کی لکیر آرہی تھی-وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی دروازے تک آئی-قریب تھا کہ دستک دیتی اندر سے آتی آوازوں نے اس کا ہاتھ روک لیا-

کون فرشتے؟تائی کا حیران کن لہجہ-پھر وہی پرانی بات کرنے کہ محمل کی جائیداد میں اس کا بھی حصہ نکالیں؟

محمل کو لگا پوری چھت اس پر آن گری ہے-

ہاں، آج وہ آفس آئی تھی، اور یہ بھی کہہ رہی تھی اگر ہم نے وسیم سے محمل کا رشتہ کرنے کی کوشش کی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تایا جان کچھ کہہ رہے تھے اور چند دن پہلے کی پڑھی حدیث اس کے کانوں میں گونج رہی تھی-جس کا فہم کچھ اس طرح تھا، ک اگر کوئی تمہاارے گھر میں جھانکے اور تم پتھر مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں-

نہیں- وہ گھبرا اٹھی اسے نہیں دیکھنا چاہیئے-وہ غلط کر رہی ہے،وہ کسی کی پرائیویسی میں جھانک رہی ہے-اگلے ہی لمحے وہ واپس کمرے کی طرف بھاگی تھی-

دروازے کی کنڈی لگا کر وہ پھولی سانسوں کو قابو کرکے بیڈ پہ گر سی گئی، او دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا-

محمل کی جائیداد میں فرشتے کا حصہ؟

گوکہ اسے شک تھا فرشتے کا اس سے تعلق ضرور ہے اور شاید بلکہ یقینا وہ اس کے ان ننھیالی رشتہ داروں میں سے ہے جو ان سے قطع تعلق کیے ہوئے ہیں،لیکن پھر بھی تائی کے منہ سے اس کا نام سن کر اسے بہت بڑا جھٹکا لگا تھا-اس سے بھی بڑا جھٹکا فرشتے کا مطالبہ جان کر،کیا فرشتے نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ محمل کے حصے میں سے اسے بھی کچھ دیا جائے؟مگر کیوں؟فرشتے ایسے کیوں کرے گی؟

اس کی نگاہوں میں ایک سراپا لہرایا-

سیاہ عبایا میں ملبوس گرے اسکارف میں ملائم چہرے کو مقید کیے سنہری آنکھین جھکائے دونوں ہاتھوں میں چھوٹا قرآن پکڑے بال پوائنٹ سے صفحے پہ کچھ مارک کرتی فرشتے-

وہ کون تھی؟اس کا پورا نام کیا تھا؟وہ ہمایوں سے زیادہ ملتی نہ تھی-مگر محمل کے متعلق ہر خبر اس کے پاس ہوتی تھی-اور وہ کیوں آغا جان سے ملتی تھی؟

بہت سی الجھنوں کے سرے وہ سلجھا نہ پا رہی تھی-لیکن ایک بات طے تھی فرشتے کا عظمت بھرا وہ تصور جو اس نے ذہن میں بنا رکھا تھا گر کر پاش پاش ہوگیا تھا،پتا نہیں کیوں-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ چینی کی پلیٹیں احتیاط سے کیبنٹ سے نکال کر کاؤنٹر پہ رکھ رہی تھی-جب آہٹ پہ چونک کر پلٹی-کچن کے کھلے دروازے میں فضہ چاچی کھڑی اس کو بغور دیکھ رہی تھیں-

جی چچی؟وہ قدرے الجھی-پھر ایک نظر خود پہ ڈالی،سادہ سی شلوار قمیض پر سیاہ دوپٹی کاندوٓھوں پہ لپیٹے سلکی بالوں کو اونچی پونی ٹیل میں مقید کیےوہ ہر دن کی طرح ہی لگ رہی تھی،پھر چچی کو کیا ہوا تھا؟

کچھ چاہیئے چچی؟اس نے پھر پوچھا-ان کی نطریں اب اس کو پریشان کرنے لگی تھیں-

ہوؐ،نہیں-فضہ چچی نے سر جھٹکا اور واپس چلی گئیں- جاتے سمے اسے ان کے چہرے پہ ہلکا سا تنفر نظر آیا تھا-

ان کو کیا ہوا ہے؟وہ پلیٹیں کپڑے سے صاف کرتے ہوئے سوچنے لگی،پھر شانے اچکا کر کام میں مصروف ہوگئی-ڈنر کا ٹائم ہونے والا تھا اور اسے میز لگانی تھی–سب آتے ہی ہونگے-

” میں نے اور مسرت نے وسیم اور محمل کا رشتہ طے کردیا ہے-آپ سب کو یقینا علم ہوگا-وہ رائتہ کا ڈونگا میز پر رکھ رہی تھی-جب آغا جان نے سب کو مخاطب کیا-

ڈائننگ ہال میں سناٹا چھاگیا-گو کہ سب کو معلوم ہی تھا- پھر بھی سب چپ تھے-وہ سر جھکائے اپنی آخری کرسی پر آبیٹھی اور پلیٹ اپنی جانب کھسکائی-

یہ فیصلہ آپ نے بالا ہی بالا کر لیا مسرت چاچی سے پوچھنے کی بھی زحمت نہیں کی؟حسن کے طنزیہ لہجے نے سب کو چونکا دیا تھا-وہ بھی بے اختیار سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی،جو اکھڑے تیوروں کے ساتھ آغا جان کو دیکھ رہا تھا-

کیا مطلب؟مسرت کی مرضی سے ہوا ہے اشتہ-آغا جان برہم بھی ہوئے اور حیران بھی-

کیوں چچی؟اس نے خاموشی سے سر جھکائے بیبیٹھی مسرت کو مخاطب کیا-آپ کو اس وسیم کا رشتہ منظور ہے جس خاندان میں کوئی بیٹی دینے کو تیار نہیں ہے؟

مسرت کا جھکا سر مزیڈ جھک گیا،فضہ نے ناگواری سے پہلو بدلا-

بتائیے چچی!اگر آپ خاموش رہیں تو اس کا مطلب آغا جان نے آپ کے ساتھ زبردستی کی ہے-

کیا بکواس ہے یہ حسن؟

آغآ جان مجھے مسرت چچی سے بات کرنے دیں-حسن کی آواز بلند ہونے لگی تھی-سب دم بخود اسے دیکھ رہے تھے-بتائیے چچی آپ کو یہ رشتہ منظور ہے؟

نہیں! محمل نے قطعی انداز میں کہا-اسے معلوم تھا اس کی ماں کچھ بھی نہ بول سکے گی-

سب نے چونک کر اسے دیکھا-خود حسن بھی قدرے ٹھٹکا-

تم بیچ میں مت بولو-آغآ جان برہم ہوئے-

” ابھی نہیں بولی تو نکاح کے وقت انکار کردوں گی-

یہ حق مجھے میرے دین نے دیا ہے-آپ نے میرے ساتھ زبردستی کی تو میں کورٹ تک چلی جاوں گی-

مگر تمہیں کیا مسئلہ ہے وسیم سے؟غفران چچا جھنجھلائے-ایسی ہی جھنجھلاہٹ فضہ چچی کے چہرے پر بھی تھی-

“اگر وسیم اتنا ہی اچھا ہے تو غفران چچا آپ ندا یا سامیہ باجی کا رشتہ کیوں نہیں کر دیتے اس کے ساتھ؟

بہت دنوں بعد پورے گھر نے پرانی محمل دیکھی تھی-

شتاپ!

میں انکار کر چکی ہوں،اگر آپ لوگوں کو اپنی بے عزتی کروانے کا شوق ہے تو میں نکاح والے دن اس سے بھی زور دار انکار کروں گی-

“ارے شکر کرو ہم تمہیں اپنی بہو بنا رہے ہیں-بہت دیر سے خاموش بیٹھی تائی مہتاب ضبط نہ کر پائیں- جو لڑکی ایک رات گھر سے باہر رہ چکی ہو اسے کوئی نہیں قبول کرتا،ہم بہو نہ بنائیں تو کون قبول کرے گا تمہیں-

میں!حسن جیسے بھڑک کر بولا تھا-میں قبول کروں گا محمل کو-وہ وسیم سے شادی نہیں کرنا چاہتی میں اپنا نام مسرت چچی کے سامنے رکھ رہا ہوں اور چچی!میں آپ کے جواب کا منتظر رہوں گاا-

ہرگز نہیں فضہ پھٹ پڑیں-میں اس لڑکی کو کبھی قبول نہیں کروں گی جو کسی کے ساتھ بھاگ گئی تھی-

ممی! وہ زور سے چیخاتھا-

اس سے مزید کچھ سنا نہیں گیا، وہ کرسی دھکیل کر بھاگتی ہوئی ڈائننگ ہال سے باہر نکل گئی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بریگیڈئیر فرقان کا بنگلہ،جس کے ٹیرس پہ بوگن ویلیا کی بیلوں کا راج تھا،آج بھی اسے ویسا ہی اداس اور ویران لگا تھا،بلکہ وہ شاید ہمیشہ ہی ایسا ہوتا تھا-مکین کے خود قرآن پڑھنے اور مکان کو محض سنوانے میں بہرحال فرق تو ہوتا ہے-

آج پھر وہ چند پمفلٹس ہاتھ میں پکرے ان کے گیٹ پہ کھڑی تھی-

بیل پر ملازم نے بھاگ کے چھوٹا دروازہ کھولا-

جی بی بی اس نے سر باہر نکالا-

“مجھے بریگیڈئیر فرقان سے ملنا ہے وہ اندر ہیں؟

جی وہ کام کر رہے ہیں-

ان سے کہو محمل آئی ہے!قدرے تحکم سے کہہ کر وہ سینے پہ ہاتھ باندھے وہی کھڑی ہوگئی-فورا ملازم اندر کو دوڑا-چند لمحے ہی بعد اس کی واپسی ہوگئی-صاحب کہہ رہے ہیں آپ اپنے یہ کاغذ لے لیں-اس نے پرانے پمفلٹس اس کی طرف بڑھائے-

انہوں نے پڑھ لیے ہیں؟

نہیں جی وہ مصروف تھے-

اپنے صاحب کو بولو یہ ان پر میری امانت تھی- جب انہوں نے لیے تھے تو ان پر سونپی گئی میری ذمے داری بھی انہیں نبھانی تھی،ورنہ لینے سے انکار کر دیتے-انہوں نے خیانت کر کے یہ لوٹائے ہیں اور اگر میں نے معاف نہیں کیا تو انہیں معافی نہیں ملے گی-ملازم ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگا اور پھر اندر کی طرف لپکا-

صاحب آپ کو اندر بلا رہے ہیں-وہ پیغام دے کر جلد ہی اندر آیا تھا-

شکریہ- وہ پورے اعتماد سے اندر چلی آئی-

اسٹڈی کا دروازہ کھلا تھا-محمل نے چوکھٹ پہ کھڑے کھڑے دروازہ انگلی سے بجایا-

اسٹڈی ٹیبل کے پیچھے ریوالونگ چئیر پہ بیٹھےبریگیڈئیر فرقان نے کتاب پہ جھکا سر اٹھایا اور عینک کے پیچھے سے اسے دیکھا جو دروازے کے بیچ کڑی تھی-

یونیفارم کی سفید قمیض اور چہرے کے گرد نفاست سے لپیٹا تروتازہ گلابی اسکارف جہ پیچھے سے جو پیچھے سے اونچی پونی کے باعث ذرا سا اٹھ گیا تھا-ہاتھ میں چند پمفلٹس پکڑے وہ دراز قد سنہرئ آنکھوں والی لڑکی منتظر کھڑی تھی-

کم ان-بریگیڈئیر فرقان نے چشمہ اتار کے میز پہ رکھا،کتاب بند کی اور کرسی پہ قدرے پیچھے کو ٹیک لگائی-

میں کچھ پمفلٹس دے کے گئی تھی-

اور میں نے واپس کر دیے تھے،اور کچھ؟ان کے بارعب چہرے پہ قدرے ناگواری تھی-

“جی یہ کچھ اور ہیں-وہ آگے بڑھی اور چند پمفلٹس ان کی میز پر رکھ دئیے-یہ آپ پڑھ کر مجھے واپس کر دیجیئے گا-

مگر مجھے یہ نہیں چاہیئے-وہ بے زار سے بولے-

میں نے آپ کو چوائس تو نہیں دی سر!آپ کو یہ لینے پڑئں گے،میں کچھ عرصہ بعد آ کے لے جاؤں گی- پڑھ کر سنبھال لیجیئے گا- ان پر اللہ کا نام لکھا ہے،امید ہے آپ پھینکیں گے نہیں، وہ کھڑی کھڑی کہہ کر واپس پلٹ گئی-

برگیڈئیر فرقان نے تلملا کر ایک نظر ان پمفلٹس کو دیکھا،پھر دراز میں ڈال کر اپنی عینک اٹھائی اور کچھ بڑ بڑاتے ہوئے کتاب کھول لی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ اپنی دھن میں راہداری میں چلتی جارہی تھی-کہ اچانک دوسری طرف سے آتی فرشتے پر نگاہ پڑی،اس کے لب بھینچ گئے،بے اختیار ہی وہ پیچھے ہوئی تھی-

فرشتے نے اسے نہیں دیکھا تھا-وہ اپنے ساتھ ساتھ چلتی ٹیچر سے کچھ فکر مندی سے کہتی جا رہی تھی–محمل الٹے قدموں واپس ہوئی اور برآمدے میں رخ موڑ کر کھڑی ہوگئی-توقع کے عین مطابق فرشتے نے اس کی موجودگی نوت نہیں کی-ساتھی ٹیچر کے ساتھ پرئیر ہال کی سیڑھیاں اترتی چلی گئی تھی-

پرئیر ہال میں ملک کے نامور مذہبی اسکالر ڈاکٹر سرور مرزا کے لیکچر کا انعقاد تھا-وہ بھی سست روی سے چلتی ہوئی ایک درمیانی نشست پہ آبیتھی-ابھی لیکچر شروع نہیں ہوا تھا-محمل نے ہاتھ مین پکڑا پاکٹ سائز قرآن کھولا اور یونہی پڑھنے کے لیے صفحے پلٹنے لگی-

فرشتے نے ایسا کیوں کیا؟یہ سوال مسلسل اس کے ذہن میں گردش کر رہا تھا-

اس نے آغا جان سے محمل کی جائیداد میں سے حصہ کیوں مانگا؟فرشتے جیسی لڑکی اتنی مادہ پرست ہوسکتی ہے؟وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی-

اس نے مظلوبہ صفحہ پلٹا اور وہ آیات نکالیں جو آج پڑھائی جانے والی تھی- مگر ڈالٹر سرور کے لیکچر کے باعث آج تفسیر کی کلاس نہیں ہونا تھی-

” اور ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کرو جو اگر ظآہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں-

اوہ!گہری سانس لے کر محمل نے قرآن بند کر دیا-

میرا کچھ بھی پرائیویٹ نہیں ہے-اس نے آہستہ سے گردن اوپر کو اٹھائی، اور پھر اوپر دیکھتے ہوئے مسکرا کر سر جھٹکا، جب بھی اایسا کچھ ہوتا ہے قرآن پر بے حد پیار آتا تھا-اسے لگتا تھا دنیا میں اس سے بڑا کوئی کمیونیکیشن ایجاد نہیں ہوا تھا-

مگر ایسا کیا ہے جو مجھے اس سوال کا جواب برا لگے گا؟

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پھر سے سوچنے لگی تھی-

ڈاکٹر سرور لیکچر شروع کر چکے تھے پورا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، دور دور تک پنک اسکارف سے ڈھکے سر دکھائی دے رہے تھے-اسٹیج کے قریب چئیرز پر اسٹاف موجود تھا-فرشتے بھی وہی ایک کرسی پہ بیٹھی تیز تیز ڈائری پہ لیکچر نوٹ کر رہی تھی- اسے نوٹس لیتے دیکھ کر وہ بھی چونک کے ڈاکٹر سرور کی طرف متوجہ ہوئی جو روسٹرم پہ کھڑے تھے- سر پہ جناح کیپ، سفید داڑھی، شلوار قمیض اور واسکٹ میں ملبوس وہ خاصے منجھے ہوئے اسکالر تھے وہ اکثر ان کو ٹی وی پہ دیکھتی رہتی تھی-

اپنی سوچوں کو جھٹک کر وہ بغور لیکچر سننے لگی-

بعض لوگ قرآن پر کر بھٹکتے ہین-واقعی ایسا ہوتا ہے-وہ اپنے مخصوص انداز میں کہہ رہی تھے

“اس لیے بہتر ہے کہ قرآن کسی اچھے غیر متعصب عالم سے زندگی میں ایک بار ضرور پڑھ لینا چاہیئے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کسی کا دامن پکڑنا ضروری ہے-نہیں- بلکہ کسی غیر متعصب تفسیر کو پڑھ کر بھی کسی حد تک قرآن کی سمجھ بوجھ پیدا کی جا سکتی ہے-؎

قرآن کو پڑھ کر ہم ہر آیت کے اپنے حالات کے مطابق کئی مطلب نکال لیتے ہیں، وہ مطلب نکالنا غلط نہیں ہے،مگر ظآہر کو باطن سے تشبیہہ دینا قطعا غلط ہے-

مثلا بنی اسرائیل کو جو گائے ذبح کرنے کا حکم اللہ سبحآنہ و تالی’ نے موسی ؐ کے ذریعے دیا تھا،وہ ہم سب جانتے ہیں-اس واقع سے ہم یہ سبق تو نکال سکتے ہیں کثرت سوال سے حکم مشتبہہ ہوجاتا ہے-مگر اس سے یہ مطلب ہرگز نہیں نکلتا کہ وہاں گائے سے مراد ایک صحابیہ ہیں نعوذ باللہ،معض لوگوں نے واقعتا یہاں گائے سے مراد صحانیہ کو لیا ہے-ایک اور مثال سورہ ہجر کی آخری آیات میں ہے کہ اپنے رب کی عبادت کرو، یہاں تک کے تمہارے پاس یقین آجائے-

اب یہاں یقین سے مراد موت ہے-یعنی موت آنے تک عبادت کرتے رہو-مگر بعض لوگ یہاں یقین سے مراد belief لے کر اپنی عبادت کو کافی سمجھ کر بس کر دیتے ہیں کہ جی، ہمیں اپنی عبادت پر یقین آگیا ہے تو سب عبادتین بس ختم!

سورہ حجر کہاں تھی بھلا؟اس نے آہستہ سے اپنا چھوٹا قرآن کھولا اور صفحے پل؎ٹنے لگی-سورہ حجر ملی تو اس نے اس کی آخری آیات کھولیں-آیت وہی تھی جو وہ کہہ رہے تھے- مگر آخر تین الفاظ حتی یاتی الیقین تھے-(حتی کہ یقین آجائے)

یقین؟ اس نے الیقین پہ انگلی پھیری، پھر الجھ کر ڈاکٹر سرور کو دیکھا- وہ کہہ رہے تھے-

یہاں پہ یقین سے مراد یقین نہیں بلکہ موت ہے- سو اس طرح کے الفاظ کا من چاہا مطلب نکالنا انسان کو بھٹکا سکتا ہے-اینی کوئسچن؟انہوں نے رک کر ایک گہری نظر ہال پہ ڈالی-محمل نے ہاتھ ہوا میں بلند کیا-

یس؟انہوں نے سر کے اشارے سے اجازت دی، وہ ہاتھ میں قرآن پکڑے اپنی نشست سے اٹھی-

سر مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آئی میرے پاس بغیر ترجمے والا مصحف ہے، اس میں مذکورہ آیت میں واقعتا “یقین” کا لفظ استعمال ہوا ہے-سو اس کا مطلب موت کیسے ہوا؟دونوں الفاظوں میں خاصآ فرق ہے-“

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس کا مطلب موت ایسے ہے کہ-وہ ذرا دیر کو رکے،اور بغور اسے دیکھا”میں نے اس کا مطلب موت نکالا ہے-

جی سر میرا یہی سوال ہے کہ کیسے؟اس کی دلیل کیا ہے؟

“دلیل یہ ہے کہ میں نے ڈاکٹر سرور مرزا نے اس کا مطلب موت نکالا ہے-میں اس ملک کا سب سے بڑا اسلامی اسکالر ہوں- آپ میرے کیڈنشلز اتھا کے دیکھیں،میری ڈگریز دیکھیں-کیا میری بات بطور ایک ٹھوس دلیل کے کافی نہیں؟

اگلی صفحوں میں بیٹھی لڑکیاں اسے گردنیں موڑ کر دیکھنے لگیں- جو ہاتھ میں چھوٹا قرآن پاک پکڑے کھڑی تھی-

سر آپ کی بات یقینا اہم ہے مگر قرآن کا بعض اس کے بعض کی تفسیر کرتا ہے،حدیث بھی یہ کرتی ہے-کیا قرآن حدیث میں کہیں یہ زکر ہے کہ یہاں یقین سے مراد موت ہے؟وہ بہت شائستگی و لحاظ سے مؤدب سی پوچھ رہی تھی-ڈاکٹر سرور کے چہرے پر واضح ناگواری ابھری-

یعنی اگر میں آپ کو اس بات مطلب کی دلیل نہ دوں تو اسے محض میری بات سمجھ کر جھٹلا دیں گی؟

یعنی آپ کو میری بات کے مزید دلیل چاہیئے؟

جی! اس نے ہولے سے سر ہلا دیا-

پورے ہال میں ایک اضطراب کی لہر دوڑ گئی-

لڑکیاں قدرے پریشان ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں-

“یعنی آپ ایک دینی اسکالر کو چیلنج کر رہی ہیں؟

” سر میں بہت ادب سے صرف دلیل مانگ رہی ہوں-

اگر اس کی دلیل قرآن حدیث میں نہ ہو تو کیا آپ یقین کا مطلب “موت تسلیم کریں گی؟

نہیں سر کبھی بھی نہیں-

ہوں ڈاکٹر سرور نے ایک گہری سانس لے کر ہال پر نظر دوڑائی،کیا کوئی اور بھی ہے جو اپنی عمر سے زیادہ طویل تجربے کے حامل ایک اسکالر کو چیلنج کرے؟

کسی اور کو بھی دلیل چاہیئے؟

بہت سے سر نفی میں ہل گئے، وہ اکیلی کھڑی تھی-

یعنی تین سو لڑکیوں میں سے ایک کو دلیل چاہیئے،یہی پڑھا رہے ہیں آپ لوگ اس مسجد میں؟کون ہے آپ کی کلاس انچارج؟

میڈم مصباح کھڑی ہوئیں-

کیا آپ اس ناکام کلاس رپورٹ کی ذمے داری لیتی ہیں؟ ون آؤٹ آف تھری ہنڈرٹ کی؟

جی سر! میڈم مصباح کا سر قدرے جھک گیا-ڈاکٹر سرور نے محمل کو دیکھا-کیا آپ کو ابھی بھی دلیل چاہیئے؟

جی سر!

وہ کچھ دیر خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتے رہے،پھر ہلکے مسکرائے-

المدثر آیت 47-43 میں یقین کا لفظ موت کے لیے استعمال ہے،وہاں سے ہم دلیل لیتے ہیں کہ یہاں بھی یقین سے مراد موت ہی ہے-مجھے خوشی ہے کہ آپ نے مرغوب ہوئے بغیر ادب کے دائرے میں رہ کر مجھ سے دلیل مانگی،اور مجھے افسوس ہے کہ صرف ایک بچی نے یہ جرآت کی باقی سب خاموش رہیں-دو سو ننانوے لڑکیوں میں یقینا ابھی یہ کمی موجود ہے- جو کہ ایک قرآن کلاس کی ناکام کار کردگی کا ثبوت ہے-

کیا کوئی شخص ڈگڑیوں کا پلندہ لے کر آپ کے پاس آئے- خود کو سب سے بڑا مذہبی اسکالر بتائے-تو آپ اس کی بات کو بطور دلیل مان لیں گے،کیا آپ کو پہلے ہی دن نہیں بتایا گیا تھا کہ دلیل صرف قرآن یا حدیث ہوتی ہے؟کسی عالم کی بات دلیل نہیں ہوتی پھر؟

بہت سے گلابی اسکارف میں لپٹے سر جھک گئے-

محمل سرخرو سی اپنی نشست پہ بیٹھی گئی-

ڈاکٹر سرور اور بھی بہت کچھ کہہ رہے تھے،مگر وہ سورہ المدثر کھول کر اس آیت کو کاؤنٹر چیک کر رہی تھی-

(سورہ المدثر کی 43-47 تک کا ترجمہ ڈاکٹر سرور کی تصدیق کر رہا تھا)

محمل!

لیکچر کے بعد کاریڈور سے گزر رہی تھی-جب فرشتے نے پیچھے سے اسے پکارا-اس کے قدم وہیں تھم گئے-مگر وہ مڑی نہیں-فرشتے تیز تیز چلتی اس کے قریب آئی-

آئی ایم پراؤڈ آف یو محمل!وہ یقینا بہت خوش تھی-گرے اسکارف میں مقید اس کا چہرہ دمک رہا تھا-

محمل اجنبی نظروں سے اسے دیکھتی رہی-

ڈاکٹر سرور تم سے بہت خوش ہیں،انہوں نے ایک سیمینار کے لیے تمہارا نام دے دیا ہے،اور تم میرے ساتھ جا کر ادھر اسپیچ کروگی،

آپ کے ساتھ؟وہ بولی تو اس کی آواز میں خزاؤں جیسی خشکی تھی،پھر مجھے نہیں جانا-

کیا مطلب؟فرشتے کی مسکراہٹ پہلے مدھم ہوئی پھر آنکھوں میں حیرت ابھری-

مجھے جھوٹے لوگ سخت ناپسند ہیں!

محمل ! وہ ششدر رہ گئی،میں نے کون سا جھوٹ بولا ہے؟

یہ سوال آپ خود سے کیوں نہیں کرتیں؟

تم سے کسی نے کچھ کہا ہے؟

میں بچی نہیں ہوں فرشتے- وہ گویا پھٹ پڑی تھی- اندر ابلتے لاوے کو باہر کا راستہ مل گیا تھا-

آپ کیوں گئی میرے آغآ جان کے پاس ؟کیا لگتے ہیں وہ آپ کے؟میں ایک یتیم لڑکی ہوں،کیا آپ کو یتیم کے مال میں سے حصہ چاہیئے؟کیوں کی آپ نے ایسی حرکت؟آپ کو جانے کس اونچی مسند پہ بٹھا رکھا تھا میں نے،بہت بری طرح گرایا ہے خود کو آپ نے-

میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی آپ ایسے کریں گی،کیا رشتہ ہے آپ کا مجھ سے؟آپ جھوٹ نہیں بولتیں مگر سچ چھپانا بھی تو جھوٹ ہی ہوتا ہے؟میں نے پوچھا آپ کی پھپھو کی بیٹی کا کیا نام ہے آپ نے نہیں بتایا آخر کیوں؟

فرشتے کا چہرہ سفید پڑگیا تھا-جذبات سے عاری بالکل ساکت ،جامد وہ بنا پلک جھپکے محمل کو دیکھ رہی تھی-کتنی ہی دیر وہ کچھ کہہ نہ سکی پھر آہستہ سے لب کھولے-

کیونکہ میری پھپھو کی بیٹی کا نام فائقہ ہے-

جی؟اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا-

میں نے کہا تھا نہ کی تم نہیں جانتیں-میری پھپھو کی بیٹی کا نام فائقہ ہے- میں فرشتے ابراہیم ہوں، آغآ ابراہیم کی بیٹی جاؤ اپنے گھر میں سے کسی سے بھی پوچھو،مگر وہ کیوں بتائیں گے؟وہ میری تسلیم نہیں کرتے تو کیسے بتائیں گے-

وہ تھکے تھکے انداز میں کہہ کر اس کے ایک جانب سے نکل کر چلی گئی- محمل مڑ کر اسے جاتا بھی نہ دیکھ سکی -اسے تو جیسے ادھر ہی کسی نے برف بنا دیا تھا-وہ دھواں دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ بیچ کاریڈور می بت بنی کھڑی تھی-

فرشتے ابراہیم-

آغآ ابراہیم کی بیٹی-

اسے پوری مسجد میں ان الفاظ کی گونج پلٹ پلٹ کر سنائی دے رہی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اسے نہیں معلوم وہ کن قدموں پہ چل کر مسجد کے

گیٹ تک آئی تھی-بس وہ پتھر کا بت بنی خود کو گھسیٹتی ہر شے سے غآفل چلتی جارہی تھی- اس کا بیگ اور کتابیں کلاس میں رہ گئیں تھیں-اس نے اہیں ساتھ نہیں لیا تھا-اسے لگا تھا اس کا بہت کچھ مسجد میں کھو گیا ہے وہ کیا کیا سمیٹتی؟

برابر والے بنگلے ساتھ نصب بینچ پر وہ گر سی گئی-

آغآ ابراہیم کی بیتی-فرشتے ابراہیم-

اس کا دماغ انہیں دو جملوں پہ منجمد ہوگیا تھا-آگے بڑھتا تھا نہ پیچھے-

دور کہیں یاد کے پردے پر آغا جان کی آواز لہرائی-

اس لڑکی سے کچھ بعید نہیں آج پھر میرے آفس میں آگئی تھی-

پھر آگئی تھی-اس کا ذہن جیسے چونک کر بیدار ہونے لگا تھا-پھر کا مطلب تھا،وہ پہلے بھی ادھر جاتی رہتی تھی-وہ سب اس کو جانتے تھے-اور شاید اس سے خائف بھی تھے- تو کیا وہ واقعی آغا ابراہیم کی بیٹی تھی؟

نہیں! اس نے تنفر سے سر جھٹکا ” آغا ابراہیم کی صرف ایک بیٹی ہےاور وہ ہے محمل ابراہیم-میری کوئی بہن نہیں ہے-میں نہیں مانتی-

وہ زور زور سے نفی میں سر ہلا رہی تھی-اسے لگ رہا تھا آج اس کے دماغ کی رگ پھٹ جائے گی-غصہ تھا کہ اندر ہی اندر ابلا جا رہا تھا-

کیا واقعی وہ ابا کی بیٹی ہے؟مگر اس کی ماں کون ہے؟ میری اماں ۔۔۔۔۔؟ نہیں ۔۔۔۔۔۔ مگر مجھے کون بتائے گا؟آغا جان اور تائی تو کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔ اماں کو تو شاید پتہ بھی نہ ہو! پھر کس سے پوچھوں؟

وہ چکرا کر رہ گئی اور سر دونوں ہاتھوں میں گرا دیا- مگر اگلے ہی لمحے جیسے جھٹکے سے سر اٹھایا-

ہمایوں! اور پھر اس نے کچھ نہیں سوچا اور گیٹ کی طرف لپکی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

صاحب اندر ہیں؟ مجھے اندر جانا ہے-

” جی آپ چلی جاؤ- چوکیدار فورا سامنے سے ہٹا-وہ اندر کی طرف دوڑی-شاہانہ طرز کا لاؤنج خالی تھا-وہ ادھر ادھر دیکھتی آگے بڑھی پھر کچن کے کھلے دروازے کو دیکھ کر رک گئی- کچھ سوچ کر وہ کچن میں آئی-

ماربل فلور کا چمکتا صاف ستھرا کچن خالی پڑا تھا- چمچوں کا اسٹینڈ سامنے ہی تھا-اس نے لپک کر ایک بڑی چھری نکالی اور آستین میں چھپا کر باہر آئی-

ہمایوں؟لاؤنج میں کھڑے ہو کر گردن اوپر کر کے اس نے پکارا-آواز گونج کر لوٹ آئی- اس کا کمرہ اوپر تھا – اسے یاد تھا-وہ تیز تیز سیڑھیاں چڑنے لگی-سیاہ ماربل کی چمکتی سیڑھیاں گولائی میں اوپر جا رہیں تھیں-وہ بالائی منزل پر رکی،ادھر ادھر جھانکا،پھر تیسری منزل کی سیڑھیوں کی طرف جانے لگی-دفعتا سامنے والے کمرے سے اس کی آواز آئی-

بلقیس؟وہ اندر سے غالبا ملازمہ کو آواز دے رہا تھا-وہ دوڑ کر اس کمرے کے دروازے تک آئی-

دروازہ کھولیں!اس نے دروازہ زور سے بجایا اور پھر دھرا دھر بجاتی چلی گئی-

کون؟ہمایوں نے حیران سا ہوکر دروازہ کھولا-اسے دیکھ کر وہ بری طرح چونکا تھا-

تم خیریت؟

مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے،ٹھیک ٹھیک بتائیے گا- ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا!

وہ اتنے جارحانہ انداز میں غرائی تھی کہ وہ پریشان ہی ہوگیا-

کیا ہوا محمل؟

میری بات کا جواب دیں-

اچھا اندر آجاؤ-وہ اسے راستہ دیتے ہوئے پیچھے ہوا-بلیک ٹراؤزر پر گرے آدھے بازوؤں والی شرٹ پہنے،ہاتھ میں تولیہ پکڑے وہ غالبا ابھی نہا کر نکال تھا- ماتھے پہ بکھرے گیلے بالوں سے پاتی کے قطرے ٹپک رہے تھے

وہ دو قدم اندر آئی،یوں کہ اب دروازے کی چوکھٹ میں کھڑی تھی-

آپ فرشتے کے کزن ہیں؟

ہاں کیوں؟

فرشتے کس کی بیٹی ہے؟اس کا باپ کون ہے؟

باپ؟وہ ذرا سا چونکا،اس نے تم سے کچھ کہا ہے؟

میں نے پوچھا ہے-فرشتے کس کی بیٹی ہے؟وہ دبی دبی سی غرائی تھی-

ادھر بیٹھو، آرام سے بات کرتے ہیں-وہ اس کو راستہ دیتا اس کی بائیں طرف سے قریب آیا-

میں بیٹھنے نہیں آئی مجھے جواب چاہیئے؟

ادھر بیٹھو تو سہی،ٹھنڈے دماغ سے میری بات سنو-وہ بچوں کی طرح اسے بہلاتے ہوئے آگے بڑھا- اور نرمی سے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا-

ہاتھ مت لگائیں مجھے-وہ بدک کر پیچھے ہٹی-

محمل ادھر آؤ-وہ دو قدم آگے اس کے قریب آیا ہی تھا کہ محمل نے اچانک آستین میں چھپی چھری نکال لی-

مجھے آپ پہ ذرا بھروسہ نہیں ہے-دور رہیں – وہ چھری کی نوک اس کی طرف کیے مزید دوقدم پیچھے ہٹی تھی-

چھری کیوں لائی ہو؟مجھے مارنے؟اس کے ماتھے پہ بل پڑے اور آنکھوں میں غصے کی لہر ابھری-وہ تیزی سے بڑھا اور محمل کا چھری والا ہاتھ مڑورا-

چھوڑیں مجھے، ورنہ میں آپ کو مار دوں گی-وہ اس کی مضبوط گرفت کے باوجود کلائی چھروانے کی کوشش کر رہی تھی-دوسرے ہاتھ سے اس نے اس کے کندھے کو پیچھے دھکیلنے چاہا-ہمایوں اس کے چھری والے ہاتھ کا رخ دوسری طرف موڑ رہا تھا،اور پھر اسے پتہ بھی نہیں چلا چھری کی تیز دھار گوشت میں گھسی چلی گئی-

محمل کو لگا وہ مرنے والی ہے-اس نے خون ابلتے ہوئے دیکھا-اور پھر اپنی چیخ سنی-مگر نہیں اسے چھری نہیں لگی تھی- پھر؟

وہ کراہ کر پیچھے ہٹا تو محمل کی کلائی آزاد ہوگئی-ہمایوں کے دائیں پہلو میں سے خون ابل رہا تھا-وہ چھری پہ ہاتھ رکھے لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہٹا تھا-

اوہ میرے خدا یہ میں نے کیا کر دیا- خوف سے اس کی آنکھیں پھٹ گئیں-

چھری پہ رکھا ہمایوں کا ہاتھ خون سے سرخ پڑنے لگا تھا-وہ درد کی شدت سے دیوار کے ساتھ بیٹھتا چلا گیا-

وہ وہشت زدہ سی اسے دیکھ رہی تھی- اس کا پورا جسم کانپنے لگا تھا-یقین ہی نہیں آرہا تھا یہ سب اس نے کیا ہے خدایا یہ اس نے کیا کر دیا تھا-

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کو دیکھتی قدم قدم ہٹنے لگی اور پھر ایک دم مڑی اور سیڑھیاں پھلانگتی گئی- پوری قوت سے لاؤنج کا دروازہ کھول کر باہر بھاگی تھی-

چوکیدار گیٹ پہ نہیں تھا،کہاں تھا اسے پرواہ نہیں تھی-وہ تیز دوڑتی ہوئی مسجد میں داخل ہوئی تھی-

فرشتے فرشتے کدھر ہیں؟ پھولی سانسوں کے ساتھ درمیان پوچھتی وہ ذرا دیر کو ریسپشن پہ رکی تھی-

فرشتے باجی لائبریری میں ہونگی یا

اس نے پوری بات نہیں سنیں اور راہداری میں دوڑتی گئی-

لایبریری کے اسی کونے میں وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے بیٹھی تھی–وہ بدحواس سی بھاگتی ہوئی اس کے سامنے جا رکی-

آہٹ پر فرشتے نے چہرے سے ہاتھ ہٹائے اسے دیکھ کر اس کی نگاہیں جھک گئیں-

میں جانتی ہوں تم ہرٹ ہوئی ہو- ایک گہری سانس لے کر وہ اپنی رو میں کہنے لگی تھی-اور میں اسی ڈر سے تمہیں یہ پہلے نہیں بتا رہی تھی-کہتے کہتے فرشتے نے نگاہیں اٹھائیں اور پھر اگلے الفاظ اس کے لبوں پہ دم توڑ گئے-

محمل کے چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی تھیں-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *