Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mushaf (Episode 11,12)

Mushaf by Nimrah Ahmad

یہی تو ہم اسے کہتے ہیں-معجزہ!

اور جب یہ ختم ہوجائے گی؟

تو پھر سے شروع کر لینا-رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہا کرتے تھے،قرآن کے معجزے بار بار دہرانے سے پرانے نہیں ہوں گے-فہما” بتا رہی ہوں-

میں ۔۔۔۔۔۔ میں اسے چھوڑ دوں تو؟

فرشتے نے تاسف سے اسے دیکھا-

محمل!روز قیامت جب اللہ زمین آسمان کو بلائے گا تو ہر چیز کھینچی چلی آئے گی طاعا” یا کرہا” خوشی سے یا نا خوشی سے- جب ہم اللہ کے بلانے پر نماز قرآن کی طرف نہیں آتے تو اللہ ہمارے لیئے ایسے حالات بنا دیتا ہے-دنیا اتنی تنگ کر دیتا ہے کہ ہمیں خاموشی کے عالم میں آنا ہی پڑتا ہے-

پھر وہ مزید کوئی بحث نہ کر سکی-

اسے فرشتے کی بات سے بے حد خوف آیا تھا-اسے لگا وہ اب کبھی قرآن چھوڑ نہ سکے گی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگر اسے پتہ ہوتا اس ایک لفظ میں اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان چھپا ہے-تو وہ اسے کبھی مس نہ کرتی،اور نہیں تو اس کا مطلب لغت میں ہی تلاش کر لیتی- مگر جانے کیسے وہ اس سے لکھنا رہ گیا تھا-

آج کا یہ رکوع میڈم مصباح کے علاوہ کوئی اور ٹیچر پڑھا رہی تھیں-میڈم ذکیہ آیات بنئ اسرائیل کے ہیکل میں داخل ہونے کا قصہ بیان کر رہی تھیں-

اور دروازے میں داخل ہو جاؤ سجدہ کرتے ہوئے اور کہو حطتہ”ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے-اور عنقریب ہم محسنین کو زیادہ دیں گے-

وہ آیت پڑھ کر اب لفظوں کی گہرائی میں جا رہیں تھی-حطتہ کا مطلب گرانا مراد گناہ گرانے یعنی بخشش مانگنے سے پے، اب بنی اسرائیل نے کیا یہ کہ انہوں نے جیسا کہ اگلی آیت میں ذکر ہے منہ ٹیڑھا کرکے بات کو بدل دیا،وہ سجدہ کرتے یعنی جھک کر حطتہ” کہہ کر داخل ہونے کے بجائے حنطتہ کہہ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ داخل ہوئے حنطتہ کہتے ہیں-“

وہ تیز تیز قلم چلا کر لکھ رہی تھی کہ کسی نے برہمی سے پین اس کے رجسٹر پہ رکھا-اس نے ہڑبڑا کر سر اٹھایا-

ایک کلاس انچارج اس کے سر پہ کھڑی تھیں-

” بعض لوگ قرآن پڑھتے ہیں ،اور قرآن ان کے لیئے دعا کرتا ہے-اور بعض لوگ قرآن پڑھتے ہیں تو قرآن ان پر لعنت کرتا ہے-

“کیا ہوا میم؟

“آپ رجسٹر قرآن پر رکھ کر لکھ رہی ہیں-انچارج نے صدمے سے اسے دیکھاتو اس نے گھبرا کر قرآن نیچے سے نکالا-یہ اس کا تجوید کا قرآن تھا-سمپل آف وائٹ جلد والا-

سوری میم-اس نے قرآن احتیاط سے ایک طرف رکھا اور رجسٹر پر جھک گئی- پھر ادھر ادھر ساتھ والی لڑکیوں کے رجسٹر پہ جھانکا تا کہ دیکھ سکے حنطتہ کا کیا مطلب میڈم نے لکھوایا ہے- مگر اس نے کچھ نہ لکھا تھا-قرآن کی کلاس تھی وہ بول نہ سکتی تھی- سو مایوسی سے واپس اپنے نوٹس کو دیکھا-صفحے کی لائن یہاں ختم ہوتی تھی،وہاں اس نے لکھا تھا حنطتہ” یعنی گند ۔۔۔۔۔۔ گند کے دال کے ؟آگے صفحہ ختم تھا-

بعض دفعہ ہم میکانکی انداز میں کچھ لکھتے ہوئے جب صفحہ ختم ہوجاۓ تو آگے جو بھی چیز ہو بھلے نیچے رکھی ہوئی کتاب ہو یا ڈیسک کی لکڑی اس پر لکھ دیتے ہیں اور بعد میں یاد ہی نہیں آتا-

“گند” اس کا مطلب ہے؟وہ اس ادھورے لفظ پہ حیران ہوئی- کوئی سینس نہ بنتا تھا،مگر خیر و آگے لکھنے لگی-سوچا بعد میں کسی سے پوچھ لے گی-مگر بعد میں یاد ہی نہیں رہا-

چھٹی کے وقت اس نے ہمایوں کو اپنا گیٹ بند کرتے دیکھا-وی ہک چڑھا کے پلٹا ہی تھا کہ وہ سامنے آکھڑی ہوئی-

پنک اسکارف میں مقید چہرہ کندھے پہ بیگ،سفید یونیفارم اور سینے پہ ہاتھ باندھے وہ تیکھی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی-

یہ تبدیلی کیسے آئی؟وہ بے اختیار مسکرا دیا- غالبآ اچھے موڈ میں تھا-محمل اسی طرح تیکھی نظروں سے اسے دیکھے گئی-

خیریت؟ وہ دو قدم آگے بڑھا-اس کے پیچھے سیاہ گیٹ کے باہر اس کا مستعد چوکیدار کن اکھیوں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا-جو آمنے سامنے کھڑے تھے-ہمایوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور وہ سخت تیوروں ساتھ سینے پہ بازو لپیے-

آپ کو مسئلہ کیا ہے فواد بھائی کے ساتھ؟

شاطر مجرم کسی بھی پولیس آفیسر کے لیئے چیلنج ہوتا ہے-اور مجھے چیلنج لینے میں مزہ آتا ہے-

اس مزے میں آپ الٹا پھنس گئے تو؟

میں کیوں پھنسوں گا؟تم نے کورٹ میں مکر جانا ہے نا؟

آپ کو کس نے کہا کہ میں مکر جاؤں گی؟

کیا مطلب وہ یک لخت چونکا-

وہ اسی طرح اسے چبھتی نگاہوں سے دیکھتی ہوئی پلٹی اور سینے پہ بازو لپیٹے سر جھکائے سڑک پر چل دی- عقل کے سارے راستے دھوئیں میں گم ہوتے تھے،وہ کچھ سمجھ نہ پا رہی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کتنے دنوں بعد وہ شام کی چائے سرو کرنے ٹرالی دھکیلتے لان میں لائی تھی-لان میں سب سے بڑے یونہی بیٹھے تھے-ادھر ادھر کی خوش گپیاں تبادلہ خیال چل رہے تھے

محمل، آغآ جان نے اسے مسکرا کر دیکھ کے غفران چچا سے بات کرنے میں مصروف ہوگئے،ناعمہ اور فضہ نے معنی خیز نگاہوں سے ایک دوسرے کودیکھا-جب سے فواد جیل گیا تھا ان دونوں کا الائنس (اتحآد) تائی مہتاب سے ہٹ کر بن چکا تھا-دونوں کے خواب اسے داماد بنانے کے چکنا چور ہوچکے تھے-اور وہ اب مزید تائی کی خوشامدیں کرنے کی بجاے انہیں بے رخی دکھانے لگی تھیں-

یہ لیجئے آغآ جان-اس نے بھی پورے اعتماد سے کپ انہیں تھمایا اور پھر تائی مہتاب کو جو الگ سی گم صم سی بیٹھی تھیں-

تھنک یو محمل-جانے انہوں نے کس دل سے بظاہر مسکرا کر کہا-فضہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ناعمہ کو ہلکا سا اشارہ کیا،ناعمہ نے ہونہہ کہہ کے سر جھٹکا-ان کی سجھ میں نہیں ارہا تھا کہ یہ اچانک وہ اس پے اتنی مہربان کیوں ہورہے ہیں-

وہ خالی ٹرالی لیئے اندر آئی تو سیڑھیوں سے اترتا حسن جو شرٹ کے کف بند کر رہا تھا-اسے دیکھ کے لمحے بھر کو رک گیا-محمل!”

ایک پرانا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا-فواد کا یوں اترنا پھر اس کا اسے چائے دینا اور وہ انگلیوں کا ٹکرانا- کیا تب فواد نے یہ سوچا تھا کہ یہ لڑکی بھی اس کا ہتھیار بن سکتا ہے- اتنی آرزاں تھی وہ؟

منظر وہی تھا، بس چہرہ بدل چکا تھا اس کی آنکھوں کرچیاں سی چبھنے لگیں-

مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جا سکتا-وہ تیزی سے کچن کی طرف آئی-محمل رکو سنو- وہ سرعت سے اس کے پیچھے لپکا-اور کچن کے دروازے پہ ٹھہر سا گیا-

اندر مسرت کپڑے سے سلیب صاف کر رہی تھی- محمل ساتھ ہی کرسی پر رخ موڑے بیٹھی تھی- اونچی بھوری پونی ٹیلجس سے اس کی گردن پیچھ سے جھکتی تھی اور کرتے کے اوپر دوپٹے کو شانوں پہ ٹھیک سے پھیلائے،ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے وہ چہرہ موڑے بیٹھی تھی-اس کے اس سائیڈ پوز سے بھی حسن کو اس کے جھکی آنکھون کا سوگوار سا رنگ دکھائی دیا تھا ،اسے وہ بہت بد ل گئی ہے-

محمل ! مجھے تم سے بات کرنی ہے-مسرت کاسلیب کو رگڑتا ہاتھ تو رک گیا ،انہوں نے حیرت سے گردن موڑی-

حسن-

چچی محمل کو کہیں ذرا میری بات سن لے-

انہوں نے اسے دیکھا جو بے تاثر سی لب بھینچے سر جھکائے کرسی پہ بیٹھی تھی-

محمل حسن بلا رہا ہے-

میں ان کے باپ کی نوکر ہوں جو آؤں – اس کا دل چاہا وہ یہ کہہ دے، مگر صبح ہی تو فرشتے نے اسے کچھ کہا تھا-

محمل- مسرت نے پھر پکارا-

انہیں جو کہنا ہے یہیں کہہ لیں-منظور نہیں ہے تو بے شک نہ کہیں” وہ سر جھکائے ٹیبل کو دیکھ رہی تھی،وہ قسم اسے اب آخری سانس تک نبھانی تھی-

“محمل تم سمجھتی کیوں نہیں ہو”- وہ بت بس سا اس کے سامنے آیا-وہ تمہیں فواد کے لیئے استعمال کر رہے ہیں-تم خود کو اس کیس میں مت الجھاؤ-اس نے گردن اٹھائی-وہ سامنے کھڑا فکر مندی سے اسے دیکھ رہا تھا-

محملا چہرہ بے تاثر تھا،بالکل سپاٹ-

آپ نے کہہ لیا جو کہنا تھا؟ اب آپ جا سکتے ہیں-

اس نے آلوؤن کی ٹوکری قریب کھسکا کر چھری اٹھا لی،وہ چند لمحے بے بس سا اسے دیکھتا رہا پھر تیزی سے باہر نکل گیا-مسرت الجھی سی اس کے قریب آئیں-

کس کیس کی بات کر رہا ہے حسن؟

آلو گوشت میں بناؤں گی،آپ قورمہ دیکھ لیجیئے گا اور کھیر بھی،کیونکہ میں نہیں چاہتی کسی کوکوئی شکایت ہو-وہ اب مگن سی الو چھیل رہی تھی-

مسرت گہری سانس لے کر سلیب صاف کرنے لگیں – وہ جانتی تھیں اب وہ نہیں بتائے گی-

اور وہ چھیلتے اس عجیب بات کے بارے میں سوچ رہی تھی جو صبح اس کو فرشتے نے کہی تھی- جب وہ رشتے داروں اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کیآیتیں پڑھ کر تڑپ گئی تھی-اور پوچھا تھا کہ جو لوگ یتیموں کامال کھاتے ہیں ان کے لیے کیا سزا بتائی گئی ہے-

یتیموں سے پہلے قرابت داروں کا ذکر ہے محمل- میں اور میری ماں ان قرابت داروں کی جیسے خدمت کرتی ہیں آپ سوچ بھی نہیں سکتیں-

“تو اس خدمت کا کبھی ان کو احساس بھی دلایا؟

اماں تو ہر وقت جتی رہتی ہیں،مگر میں ادھار رکھنے کی قائل نہیں ہوں،وہ ایک کہیں تو میں دس سناتی ہوں-ایک ایک آئٹم گنواتی ہوں جو بناؤں-

اس نے فخر سے کہا اور پھر فرشتے کا سنجیدہ چہرہ دیکھا تو لگا کچھ غلط کہہ دیا ہے-

“یعنی سب کیا کرایا ملیا میٹ کر دیتی ہو،یہ تو ان پہ ظلم ہے-

“ظلم؟میں ظلم کرتی ہوں ان پہ؟ وہ شاکڈ رہ گئی-ظلم کی تعریف کیا ہوتی ہے؟کسی کے حق میں کمی کرنا -ایک کی ایک سنانا برابر کا بدلہ ہے،مگر نواد پر سنانا زیادتیہے ان کے حق میں کمی ہے-

وہ مجھے جو بھی بول دیں اور میں آگے سے چپ کر جاؤں؟ایک بھی نہ سناؤں؟

تم اگر سنا دوگی تو سب برابرکر دو گی،پھر تم ان کے کیے کا شکوہ کسی سے کرنے کی حق دار نہیں ہوگی-معاف کر دیا کرو-اور جانتی ہو-معاف کرنا کیا ہوتا ہے؟

اس کا سر خود بخود نفی میں ہل گیا –

اس کو دکھ نہ دینا جس نے آپ کو دکھ دیا ہو،ان کو ان کے رشیے کا احساس تک نہ دلانا- کچھ نہ بتانا- یہ معاف کرنا ہوتا ہے-تم معاف کر دیا کرو صبر کیا کرو-

“ساری زندگی صبر ہی تو کیا ہے میں نے-

وہ صبر نہیں ہوتا جو تم کرتی ہو-صبر وہ ہوتا ہے کہ اگر سر بھاری پتھر لگ جائے تو لبوں سے اف تک نہ نکلے صبر وہ ہوتا ہے جو تمہاری ما ں کرتی ہے-

صبر اور معاف کرنے کے بعد کسی کے برے رویے کے جواب میں اچھا رویہ دو-

میں کیوں کروں یہ سب وہ کیوں نہیں کرتے؟رشتے داروں کے ساتھ ویسا ہی رویہ رکھنا چاہیئے جیسا وہ ہمارے ساتھ رکھتے ہوں-

مگر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا کرتے تھے کہ بدلے کی صلہ رحمی کرنے والا صلہ رحمی نہیں کرتا-اس پر تو آپ کو اجر ہی نہیں ملے گا-اجر تو تب ملے گا جب آپ برے کے جواب میں اچھا کریں-تم انہیں معاف کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو-

انہوں نے میری جائیداد کھائی ہے-وہ چیخ پڑی تھی “ابا اپنی ساری پراپرٹی میرے نام کر کے گئے تھے-

بہت غلط کر کے گئے تھے پھرانہیں حق ہی تہیں تھا کہ ساری پراپرٹی وصیت کرتے-ان کا حق تو بس ایک تہائی پہ تھا اس کو بے شک تمہارے نام وصیت کر جاتے مگر باقی دو تہائی حصے کی شرعا تقسیم کی اجازت دے جاتے،تو شاید تمہارے چچا لوگ اپنے حصے پر قناعت کر لیتے-وارث تو اللہ تعالی نے بنائے ہیں جانے والے کو برا بھلا نہیں کہہ رہی،مگر ایک غلط فیصلہ بہت سو کی زندگی برباد کر دیتا ہے- محمل! تم کچھ لوگوں کے غلط فیصلوں کو بنیاد بنا کر اپنے رشتے داروں پر ظلم کرو گی تو یہ مت بھو لو کہ پل صراط پہ رحم اور امانت کے کانٹے ہمارا انتظآر کر رہے ہونگے،ہر خائن اور قطع رحمی کرنے والے کو وہ پل صراط سے نیچے جہنم میں گرائیں گے-اور ہر صلہ رحمی کرنے والا اور امانت دار پل پار کر جائے گا،تم وہ پل پار نہیں کرنا چاہیتیں؟

وہ سر جھٹک کر تیزی سے آلو چھیلنے لگی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میڈم مجھے ایک بات پوچھنی ہے؟جی ضرور پوچھیئے-

میم-مجھ سے نماز پڑھی نہیں جاتی،تو خیر ہے؟

ہاں کیوں نہیں خیر ہے-اٹس اوکے،اگر آپ نہیں پڑھ سکتیں تو-محمل کو لگا منوں بوجھ اس کے کندھے سے اتر گیا ہو-وہ ایک دم کسی قید سے آزاد ہو گئی تھی-

وہی تو میم!میں باقی نیکیاں کرلوں ،قرآن پڑھ لوں،ٹھیک ہے نا نماز پڑھنا بہت ضروری تو نہیں ہے؟

نہین اتنا ضروری تو نہیں ہے-اگر آپ نہین پڑھنا چاہتیں تو نہ پڑھیں-میم کوئی فرق تو نہیں پڑے گا نا؟

قطعاَ فرق نہیں پڑے گا-یہ بیلکل آپ کی اپنی مرضی پہ ہے-

اوہ اوکے-وہ بے حد سی آسودہ سی مسکرائی-مگر – میڈم مصباح کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی- یقین کرئں محمل کوئی فرق نہیں پڑے گا اسے-آپ بے شک نماز نہ پڑھیں بے شک سجدہ نہ کریں-جو ہستیاں اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتیں-اگر آپ کر لیں اسے کیا فرق پؔڑے گا-اس آسمان کا بالشت بھر بھی حصہ خالی نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ سجدہ نہ کر رہا ہو-اور فرشتہ جانتی ہو کتنا بڑا ہو سکتا ہے؟جب اس پہاڑ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےجبرائیل علیہ السلام کے پکارنے پر پلٹ کر دیکھا تھا،تو جبرائیل علیہ السلام کا قد زمیں سے آسمان تک تھا-اور ان کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمان نظر نہیں آرہا تھا-ایسے ہوتے ہیں فرشتے-70 ہزار فرشتے کعبہ کا طواف کرتے ہیں یہ تعداد عام سی لگتی ہے مگر جانتی ہو،جو 70 ہزار فرشتے روز طواف کرتے ہین ان کی باری پھر قیامت تک نہیں ائے گی- اس رب کے پاس اتنی لاتعداد ہستیاں ہیں عبادت کرنے کے لیئے،آپ نماز نہ بھی پڑھیں تو اسے کیا فرق پڑے گا؟

میڈم مصباح جا چکی تھیں اور وہ دھواں دھواں چہرے کے ساتھ کتابیں سینے سے لگائے ساکت سی کھڑی تھی-اس کو لگا وہ اب کبھی نماز چھوڑ نہ سکے گی-

شام میں اس نے بہت اہتمام کے ساتھ نماز عصر پڑھی-پڑھ کے لاؤنج میں فون اسٹینڈ کے ساتھ بیٹھی ہی تھی کہ نادیہ کا فون کو فون کرے-ناعمہ چاچی معاذ کو کان سے پکڑے بے بس سی ڈانٹ رہی تھیں-اور وہ کان چھرا کر چھپاک سے منہ چڑاتا بھاگ گیا تھا-

اتنا شیطان ہوگیا ہے یہ لڑکا،میں کیا کروں میں اس کا- وہ کمر پہ ہاتھ رکھ کے پریشانی سے بولیں اور محمل کی فون نمبر پریس کرتی انگلیاں رک گئیں-

شیطان ہوگیا ہے یہ لڑکا ! اس نے زیر لب دہرایا-

لفظ شیطان کا روٹ ورد کیا تھا؟شین طا نون (ش ط ن )شطن-یعنی رحمت سے دور،اللہ کی رحمت سے دور،دھتکارا ہوا-اوہ گاڈ،انہوں نے اپنے بچے کو اللہ کی رحمت سے دور ہوا کہہ دیا؟

چچی – اس نے ہولے سے انہیں پکارا فون کا رسیور ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا-

ہاں؟ناعمی چاچی نے پریشانی سے چونک کر اسے دیکھا-

معاذ کو شیطان تو نہ کہیں-چچی اللہ! نہ کرے وہ شیطان ہو-شیطان تو اللہ کی رحمت سے دور ہونے کو کہتے ہیں-

اچھا اچھا ۔۔۔۔ بس کرو دو سیپارے کیا پڑھ لیئے اب ہمیں سیکھائے گی یہ-ہونہہ ان کا تو قبلہ ہی بدل گیا ہے-وہ استہزائیہ کہتی باہر نکل گئیں اور وہ جہاں تھی وہی سن سی بیٹھی رہ گئی-

ان کا تو قبلہ ہی بدل گیا ہے-وہ تکرار اس کے ذہن میں گونج رہی تھی-

بہت پہلے ملنے والی سیاہ فام لڑکی ایک دم اسے یاد آئی تھی-

اس میں تمہارا ماضی ہے،حال ہے اور مستقبل لکھا ہے-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ سر جھکائے خاموشی سے برتن دھو کر ریک میں لگارہی تھی- دھلی پلیٹوں سے پانی کے قطرے ٹپ ٹپ گر رہے تھے-اس کے ہاتھ سست روی سے کام کر رہے تھے-وہ کچن میں اکیلی تھی،اماں جانے کہاں تھیں-باقی لوگ تو کام کے وقت کچن میں آنا مزاج کے خلاف سمجھتے تھے،مگر خیر اس نے سر جھٹکا-وہ اب کوشش کرتی تھی کہ ایسی سوچوں کو دل میں جگہ نہ دے -اب محسوس ہوتا تھا کہ اس نے اپنے بدصورت رویئے سے اپنے اور ان کے درمیاں فرق نہ رکھا تھا، پہلے وہ ہر چیز اس دنیا میں برابر کرنے پہ تلی تھی،اب اس نے “صبر کرنا شروع کر دیا تھا-

زندگی ویسے بھی اب ٹف تھی-اب مسجد کی ٹیچرز نے اسے دیر سے آنے پر الٹی میٹم دے دیا تھا،وہ خود بھی اپنی تجوید درست کرنے فجر کے بعد آنا چاہتی تھی- کہ تب لڑکیاں اکٹھی بیٹھ کے تجوید پریکٹس کرتی تھیں-صرف یہ مسئلہ تھا فجر کے وقت فریج لاک ہوتا تھا- اس کے لاکھ کہنے پر بھی کسی پہ اثر نہیں ہوا تھا، اس کے پاس اپنے ناشتے کے پیسے نہ تھے، یا تو وہ ٹرانسپورٹ کا کریہ ادا کرتی یا اپنا ناشتی لا کر کرتی- سو اس نے ناشتہ قربان کر کے وین والے کو فیس دے دی- اور روز صبح تہجد پہ اٹھ کر وہ آدھے گھنٹے اپنا ہوم ورک کرتی،پھر فجر پڑھ کر نکل جاتی-عصر کے قریب واپس آتی- ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے علم فقر و فاقے کے بغیر نہیں آتا،ٹھیک ہی کہتے تھے-

اس نے آخری پلیٹ ریک پہ رکھی،ٹونٹی بند کی اور ہاتھ خشک کرتی اپنے دھیان میں پلٹی تھی- کہ کچن کے کھلے دروازے میں کسی کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹکی اور پھر دوسرے ہی پل ساکت رہ گئی-

کیسی ہو؟َ فواد سینے پہ ہاتھ باندھے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا-

وہ گنگ سی بنا پلک جھپکے اسے دیکھے گئی-یہ کب واپس آیا؟

تم مجھے بہت یاد آئی محمل! میں ایک بہت بڑی سازش کا نشانہ بنا ہوں-

اماں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اماں- وہ ایک دم بلند آواز میں پکارنے لگی-خون ابلنے لگا تھا، اسے محسوس ہوا اس کا جسم کپکپا رہا ہے-

کیا ہوا؟مسرت بوکھلا کر اندر آئیں،اور پھر فواد کو دیکھ کر چپ سی ہوگئیں-فواد بیٹا تم؟

چاچی – وہ ان کی طرف بے قراری سے پلٹا- میرے ساتھ بہت بڑی سازش ہوئی ہے،یہ سب اس اے ایس پی کا کیا دھرا ہے-میں بھلا محمل کے ساتھ ایسا کر سکتا ہوں؟

٭٭٭

محمل! تم – وہ اب اس کی جانب مڑا -تم جانتی ہو میں بے قصور ہوں-

ریکارڈنگ جو انہوں نے تمہیں سنائی وہ ان کے کسی فنکار کی تھی-ہم ان پولیس والوں کو بھتہ نہیں دیتے-اس لیئے انہوں نے ایسا کیا-تم یاد کرو تم نے خود کہا تھا میں سائن کروانے چلی جاتی ہوں-میں نے اگر سودا کیا ہوتا تو مین خود تجھے مجبور کرتا-

وہ ایک دم چونکی وہ ٹھیک کہہ رہا تھا مگر-

“آپ نے مجھ پر الزام لگایا کہ آپ نے مجھے رنگے ہاتھوں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے اس سے بولا نہیں گیا-

وہ سب مجھے اے ایس پی نے رات کو کہا تھا- کہ میں تمہارے اور اس کے درمیان آنے کی کوشش نہ کروں-بھلا بتاؤ میں ایسا کر سکتا ہوں؟ پھر مجھے یقین آہی گیا تم جیسی باکردار اور پارسا لڑکی ایسا کر ہی نہیں سکتی-میں پورے گھر کے سامنے تمہارے کردار کی قسم کھانے کے لیئے تیار ہوں-چاچی آپ میرا یقین کریں-

وہ بے بس سا مسرت کے پاس جھکا اور ان کے دونوں ہاتھ پکڑ لیئے-

یقین کریں میں نے کچھ نہیں کیا،لیکن اگر آپ سمجھتی ہیں کے محمل میری وجہ سے بدنام ہوئی ہے تو میں محمل سے شادی کرنے کے لیئے تیار ہوں- آپ جب کہیں آغا جان دھوم دھام سے محمل کو اپنی بہوبنائیں گے-

آپ ہاں تو کریں-ایک دفعہ میری محمل سے شادی تو ہوجائے پھر دیکھیں ہوگی کسی میں ہمت محمل پر انگلی اٹھانے کی؟ہم وہ انگلی کاٹ دیں گے-اللہ گواہ ہے چچی ہم ایسا کریں گے-

فواد ۔۔۔۔۔! تم سچ کہہ رہے ہو؟فرط جذبات سے مسرت کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑے-

وہ جو ساکت سی سلیب کا سہارا لیئے کھڑی تھی- ایک دم بھاگتی ہوئی باہر نکل گئی-

اس نے رات کا کھانا نہیں کھایا،بس سر منہ لپیٹے پڑی رہی-باہر چہل پہل کی آوازیں آرہی تھیں-

ہنسی مذاق باتیں شور قہقہے دعوت کی طرح کا سماں تھا اشتہا انگیز کھانوں کی مہک اس کے کمرے تک آرہی تھی،مگر اس کا کسی چیز کے لیئے دل نہیں چاہ رہاتھا-

وہ چت لیتی دیر تک چھت پر گھومتے پنکھے کو دیکھتی رہی تھی-تینوں پر گول گول گھوم رہے تھے-بار بار ایک ہی مدار کے گرد چکر کاٹتے،آخر میں وہی پہنچ جاتے جہاں سے چلے تھے-وہ بھی وہیں پہنچ گئی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

صبح پرئیر ہال کی کشادہ سفید سیڑھیاں وہ ننگے پاؤں سست روی سے اتر رہی تھی-سفید شلوار قمیض کے اوپر پنک اسکارف نفاست سے اورھے ،ایک ہاتھ ریلنگ پر رکھے وہ جیسی پانی پہ چلتی غائب دماغی سے نیچے اتری تھی- اس کو آج کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہاتھا،وہ چپ چاپ اپنی جگہ پر آئی- بئگ ڈیسک پہ رکھا اور گرنے سے انداز میں بیٹھی–

اگر کالج ہوتا تو یقیناَ آج نہ آتی،اتنی ڈپریسڈ ہوگئی تھی کہ وہ پڑھ نہ سکی تھی-مگر وہ کالج نہ تھا،نہ ہی وہ پڑھنے آئی تھی-وہ تو سننے آئی تھی-

بعض چیزیں اتنی حیرت انگیز ہوتی ہیں کہ انسان ان پر حیران ہونا ترک کر دعتا ہے-معجزانہ کتاب بھی ایسی ہی تھی،عاجز کر دینے والی- وہ جو سوچتی تھی اس کتاب میں لکھا آجاتا تھا-اب محمل نے حیرتان ہونا ترک کر دیا تھا-اسے لگا وہ اب کبھی حیران نہیں ہو سکے گی،مگر آج کی آیات پر وہ پھر چونکی تھی-

” اور لوگوں میں سے کوئی ہے ،اچھی لگتی ہے تمہیں اس کی بات دنیا کی زندگی کے متعلق ۔۔۔۔۔ اس نے سر گھٹنوں پہ رکھ دیا اور بازو کھٹنوں کے گرد لپیٹ لیئے-

اور وہ اپنی بات پر اللہ کو گواہ بنا لیتا ہے،جبکہ حقیقت میں وہ بے حد جھگڑالو ہے-

اس نے سر اٹھایا چہرہ دایئں جانب گھمایا،پنک اسکارف میں ملبوس لڑکیاں سر جھکائے تیزی سے قلم پیپر پر چلا رہی تھیں-وہاں کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کے دل پر کیا گزر رہی ہے- کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ وہ کیا محسوس کر رہی ہے-

بس وہی جانتا تھا جس نے یہ کتاب اس کے لیے اتاری تھی-اسے کبھی کبھی لگتا تھا یہ بس اس کی کہانی ہے،کسی اور کی سمجھ میں آ ہی نہیں سکتا-

“اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے-اس نے دونوں کنپٹیوں کو انگلیوں سے سہلایا-

اچھی لگتی ہے تمہیں-

وہ آہستہ سے اٹھی سیپارہ بند کیا اور کچھ بھی لیے بغیر سیڑھیوں کی طرف بڑھی-

اس کی بات-

وہ دھیرے دھیرے زینے چڑھ رہی تھی-

دنیا کی زندگی کے متعلق ۔۔۔۔۔۔۔

وہ آخری زینہ عبور کر کے برآمدے کی طرف بڑھی-

اور وہ اپنی بات پر اللہ کو گواہ بنا لاتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ سخت جھگڑالو ہے- وہ تھکاوٹ سے باہر برآمدے کے اسٹیپس پر بیٹھ گئی-سامنے ہرا بھرا لان تھا-وہ ستون سے سر ٹکائے لان کے سبزے کو خالی خالی نظروں سے دیکھے گئی-

یہ تو اس نے اپنے دل سے بھی نہ کہا تھا کہ اسے فواد کی بات اچھی لگی تھی-اس کی آفر دلفریب تھی،دلکش تھی- وہ اپنے دل سے اقرار کرنے سے ڈرتی تھی،مگر وہ تو ہر نگاہوں کی خیانت بھی جانتا ہے،اس سے کیسے چھپ سکتی تھی کوئی بات مگر اس نے اسے ڈانٹا نہیں ذلیل نہیں کیا جیسے لوگ کرتے تھے-اس کا تماشا نہیں بنایا تھا جیسے خاندان والے بناتے تھے-اس کی بات سنی ان سنی نہیں کی جیسے نادیہ کرتی تھی،کوئی ڈانٹ ڈپٹ لعن طعن نہیں کیا- بس وہی ایک نرم مہربان انداز جس کی تڑپ میں وہ قرآن سننے آئی تھی،وہ ڈانٹتا ہی تو نہیں تھا،اس کی طرح کوئی سمجھاتا ہی نہیں تھا-کوئی اس کی طرح تھا ہی نہیں-

وہ وہی بیٹھی تھی جب ساتھ میں وہ لڑکی آ بیٹھی-غالبا مڈ بریک تھی-اور لڑکیاں اس میں بھی بیٹھ کر تجوید کرتی تھیں-

وہ ٹھڑی ہتھیلی پہ رکھے چہرہ موڑے یونہی اسے دیکھے گئی-

وہ لڑکی گھٹنوں پہ قرآن رکھے بائیں ہاتھ سے صفحے پلٹ رہی تھی،دایاں ہاتھ یونہی ایک طرف گرا پڑا تھا-مطلوبہ صفحہ کھول کر اس نے بائیں ہاتھ سع گرے ہوئے ہاتھ کو اٹھایااور گود میں رکھا،پھر ٹھیک ہاتھ سے صفحے کا کنارہ پکڑے پڑھنے لگی-

“ان المسلمین والمسلمات۔۔۔۔

وہ رک رک کر اٹک اٹک کر پڑھتی،بار بار آواز ٹوٹ جاتی-وہ پھر سے شروع کرتی،مگر ہکلاہٹ زدہ زبان پھر ساتھ چھوڑ جاتی-مخارج صحیح نہ نکل پاتے وہ بدقت تمام ایک لفظ بولتی تو ساتھ گاں گاں آواز بھی اتی-

یکدم محمل کو احساس ہوا وہ رونے لگی تھی- اس کا مفلوج دایاں ہاتھ بار بار نیچے گر جاتا، وہ بائیں ہاتھ سے اسے اٹھاتی،پھر سے تجوید سے پڑھنے کی کوشش کرتی- اس کی آنکھیں سرخ ہوگئی اور آنسو ابل کر گال پہ لڑھکنے لگے-وہ بائیں ہاتھ سے آنسو رگڑتی،دبی دبی سسکیوں کے ساتھ پھر سے کوشش کرنے لگی-

محمل گم صم اسے دیکھے گئی-وہ اپاہج لڑکی اپنے اللہ سے بات کر رہی تھی، وہ اس کا بہت ہمدرد تھا-اسے محمل کی ہمدردی کی اس وقت ضرورت نہ تھی-لمحے بھر کو بھی اسے اس پر ترس نہیں آیا تھا،بلکہ رشک ہوا تھا،کوئی ایسے بھی تڑپ کر قرآن پڑھتا ہے جیسے وہ پڑھ رہی تھی؟اور ایک ہم ہیںبرسوں اس مصحف کو لپیٹ کر سب سے اونچے شیلف میں سجائے رکھتے ہیں اور بس سجائے ہی رکھتے ہیں-وہ ایسے ہی ہتھیلی ٹھوڑی تلے دبا ئےگردن پوری اس کی طرف موڑے پلک جھپکے بنا اسے دیکھے جا رہی تھی-

وہ پھر سے ہکلاتی زبان میں پڑھنے لگی،مگر ٹھیک پڑھا نہ جا رہا ھا،آنسو ٹپٹپ اس کی آنکھوں سے گر رہے تھے-دبی دبی سسکیوں کے درمیاں وہ مسلسل استغفراللہ کہے جارہی تھی-عام سی شکل کی اپاہج لڑکی-اسے بے اختیار وہ سیاہ فام لنگڑی لڑکی یاد آگئی-

وہ کتنوں کو سہارا دئیے ہوئے تھا،اور وہ کتنے بد نصیب ہوتے ہیں جو تلاوت کی آواز سن کر کان بند کر لیتے ہیں-کبھی میں بھی ان بد نصیبوں میں تھی-

وہ آہستہ سے اتھی اور سر جھکائے چل دی-

برآمدے کی سیڑھیون پہ بیٹھی اپاہج لڑکی اسی طرح رو رہی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ گیٹ بند کر کے اندر داخل ہوئی تو لان میں کرسیاں ڈالے تقریبا تمام کزنز بیٹھے ہوئے تھے-فواد بھی ان کے ساتھ ہی تھ-وہ کسی بات پہ ہنس رہاتھا-شرٹ کا اوپری بٹن کھولے، قیمتی رست واچ پہنے،اس کے پررفیوم کی مہک یہاں تک آرہی تھی-

وہ کرسیوں کا دائرہ بنا کر بیٹھے تھے-یہ ندا تھی جو اس کی بات دلچسپی سے سن رہی تھی،جبکہ آرزو بھی اسی دائرے میں لا تعلق سی بیٹھی تھی اور فائقہ بھی-رضیہ پھپھو کی فائقہ،وہ بھی جیسے فواد سے احتراز برت رہی تھی-جیل جانے کے بعد بھلے تائی مہتاب جتنی تادیلیں پیش کرتیں، فواد کی اہمیت اب وہ نہ رہی تھی-وہ کتابیں سینے سے لگائے سر کو جھکائے تیز تیز چلنے لگی-

محمل! وہ برآمدے کے اسٹیپ پر تھی جب فواد نے اسے بے اکتیار پکارا تھا-اس نے ایک پاؤں سیڑھی پر رکھے گردن موڑی-وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا-آؤ بیٹھو-

مجھے کام ہے وہ روکھے تاثرات دے کر برآمدے کا دروازہ پار کر گئی- لان میں بہت سی معنی خیز نگاہوں کا تبادلہ ہوا تھا-

اس کی ہمت کیسے ہوئی یوں مجھے سب کے سامنے بلائے- مائی فٹ! وہ پیر پٹختی اندر آئی تھی-لاؤنج میں حسن نظر آیا تو ایک دم ٹھٹک کر رکی،پھر سر جھٹک کر اندر جانے لگی-

محمل! اس کے قدم رک گئے مگر پلٹی نہیں-

تمہیں فواد کی ہر بات پہ یقین ہے؟

مجھے آپ پہ بھی یقین نہیں ہے-اس کا گلا رندھ گیا تھا،تیزی سے کہہ کر اس نے دروازہ کھولا اور پھر دھڑام سے اپنے پیچھے بند کیا تھا-

حسن نے تاسف و بے بسی سے چند لمحے ادھر دیکھا پھر سست روی سے سیٹھیاں چڑھنے لگا-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس نے چمچہ ہلا کر پتیلی کا ڈھکن بند کیا،جھک کر چولہا قدرے آہستہ کیااور واپس کٹنگ بورڈ کی طرف آئی جہاں سلاد کی سبزیوں کا ڈھیر لگا تھا-وہ وہی کھڑے سر جھکائے کھٹ کھٹ سبزیان کاتنے لگی-

ادھر ہو محمل! رضیہ پھپھو نے اندر جھانکا-

محمل نے سر اٹھایا- آج اس نے پونی نہیں باندھی تھی اور بھورے کمبے بال شانوں پہ گر رہے تھے جنہین اس نے کانوں کے پیچھے اڑس سکھا تھا-

جی پھپھو؟وہ آہستہ سے گویا ہوئی،یہ محمل کے اندر ایک واضح تبدیلی تھی وہ پہلے جیسی بد لحاظ نہیں رہی تھی- ورنہ پہلے تو اسے مخاطب کرتے ہوئے ڈر لگتا تھا-

میں نے سوچا تمہاری کوئی ندد کروا دوں-مسرت کو تو بھابھی نے دوسرے کاموں میں لگا رکھا ہے-کوئی تک ہے بھلا؟جب دیکھو بے چاری سے کام ہی کرواتی رہتی ہیں-

تو کوئی بات نہیں پھپھو ، ہمارا فرض ہے- وہ نرمی سے مسکرا کر پھر سے سبزیاں کاٹنے لگی تھی-

یہ فواد رہا کب ہوا؟پھپھو سامنے کاؤنٹر سے ٹیک لگائے گویا ہوئیں-

معلوم نہیں-

ہک ہا-بڑا ظلم کیا اس نے تمہارے ساتھ-میرا تو مانو اس کی شکل دیکھنے کو دل نہیں کرتا-

وہ سر جھکائے کھٹا کھٹ پیاز کاٹتے جا رہی تھی-

آنکھوں میں آنسو گرنے لگے تھے-

بڑا دل تھا میرا اپنی فائقہ کے لیے مگر دل ایسا ٹوٹا تھا کہ پھر ادھر آنے کو ہی نہیں چاہتا تھا،کتنے چہرے نکلتے ہیں نا لوگوں کے محمل!

جانے دیں پھپھو اناللہ پڑھ لیں- فائقہ باجی کوئی کم تھوڑی ہیں-وہ کسی اچھے بندے کے قابل ہیں اچھا ہی ہوا جو بھی ہوا-

اسے پھپھو کے آزردہ چہرے کو دیکھ کے دکھ ہوا تھا- یہ پہلی دفعہ تھا کہ وہ اس سے ایسے بات کر رہی تھیں-ورنہ پہلے تو محمل نے درمیاں میں اتنی دیواریں کھڑی کر رکھی تھیں کہ انہیں پاٹنا مشکل تھا، وہ اس کے ابا کی ایک ہی بہن تھی-وہ کیوں لوگوں سے شکایت کرے؟اس نے خود بھی تو کبھی بنا کے رکھنے کی کوشش نہ کی تھی-

ہاں وہ تو ٹھیک ہے مگر ۔۔۔۔۔

اسی لمحے فواد نے کچن کا دروازہ کھولا-ان دونوں نے چونک کے ادھر دیکھا، محمل کے لب سختی سے بھینچ گئے تھے وہ تیز تیز سبزی کاٹنے لگی –

محمل! ایک کپ چائے مل سکتی ہے؟

یہ فارغ نہیں ہے- اپنی بہنوں سے کہہ دو۔۔۔۔۔۔ وہ فارغ ہی بیٹھیں تھیں باہر-پھپھو نے نہایت بے رخی سے کہا، وہ چند لمحے کھڑا رہا پھر مڑ گیا-

ہونہہ ،حکم دیکھو کیسے چلا رہاہے- تم ذرا بھی اس کی نہ سنا کرو-میرے بھی کتنے خواب تھے، ہمیں کوئی کمی تھوڑی ہے- فائقہ کے پاپا کے بزنس کا تو تمہیں پتا ہے کڑوڑوں میں کھیلتے ہیں- ان کی طرح یتیموں کا مال نہیں کھاتے،

میں یتیم نہیں ہوں پھپھو! میں بالغ ہوں- اور بلوغت کے بعد یتیمی نہیں ہوتی-

وہ اب سلاد میں لیموں نچوڑ رہی تھی-

ہاں ہاں، تمہیں پتہ ہے؟ ابھی فائقہ کے پاپا نے نیا گھر بنوایا ہے،دوسرا گھر تو پھر فرنش کرکے فائقہ کو دیں گے جہیز میں-

محمل کی لیموں نچوڑتی انگلیاں تھمیں-ایک خیال کے پیش نظر اس نے چونک کر سر اٹھایا-

پھپھو!اس کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا-آپ کو مدد کی ضرورت ہوگی نا-گھر شفٹ کیا ہے آپ اکیلے کیسے کریں گی سب؟نوکروں پہ بھروسہ کر ہی نہیں سکتے-میں آجاؤں آپ کے پاس ہیلپ کرادوں گی-

ہاں ہاں کیوں نہیں-پھپھو تو نہال ہوگئیں-میں تم سے کہنے ہی لگی تھی پھر سوچا تمہاری پڑھائی ہے- (تو اسی لیے اتنا پیار جتا رہیں تھیں، خیر)

کوئی بات نہیں ویک اینڈ ہے اور پھر آپ کی ہیلپ بھی تو کرانی ہے نا-

اسے فواد سے دور رہنے کا یہی طریقہ نظر آیا تھا،پھپھو نے تو فورا ہامی بھرلی-وہ جلدی سے اپنا بیگ تیار کرنے لگی-

تیاری کیا تھی دو جوڑے رکھے چند ضروری چیزیں اور پھر قرآن رکھتے رکھتے رہ گئی-

قرآن تو وہاں ترجمے والا مل ہی جائے گا،دودن کی تو بات ہے،اب ساتھ کیا رکھوں -کوئی بات نہیں اس نے بیگ کی زپ بند کردی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پھپھو کا سامان شفٹ ہوگیا تھا،بس ڈبوں میں بند تھا-وہ جاتے ہی کام میں لگ گئی فائقہ تو ٹی وی میں ہی مگن تھی-ڈش بھی لگ گئی تھی اور وہ بہت شوق سے کچھ دیکھ رہی تھی-پھپھو نے اس سے کچھ نہ کہا،محمل ہی ساری چیزیں نفاست سے سیٹ کرتی رہی –

رات بارہ بج گئے جب اس نے آج کے لیے بس کی- اور پھر نہا کر نیا سوٹ پہنا- پھر نئے سرے سے وضو کیا،اور دوپٹہ سر پر لپیٹے وہ پھپھو کے پاس چلی آئی-پھپھو آپ کے پاس ترجمے والا مصحف ہوگا؟

کیا ترجمے والا؟وہ اپنے کپڑوں کی الماری سیٹ کر رہی تھیں-

قرآن ۔۔۔۔۔ قرآن ہوگا- اس نے جلدی سے وضاحت کی-

ترجمے والا تو فائقہ کی دادی کا تھا پیچھلے گھر مین-مگر وہ کسی نے مانگ لیا تھا،ترجمے بغیر والا ہوگا-اچھا چلیں وہی دے دیں-

کتابوں کے ڈبے سے نہیں نکلا؟

نہیں تو میں نے خود ساری کتابیں ادھر رکھی ہیں-

پھر شاید کہیں مس پلیس ہوگیا ہو، فائقہ سے پوچھ لو-وہ پھر سے کام میں مگن ہوگئیں-

وہ بے دلی سے فائقہ کے پاس آئی-

فائقہ باجی آپ کے پاس قرآن ہوگا؟

میرے پاس؟مجھے کیا کرنا ہے؟وہ الٹا حیران ہوئی- اماں سے پوچھو ان کو ہی پتا ہوگا-

وہ مایوس سی خود ہی ڈھونڈنے لگی- کتابوں کے ریک کو پھر سے دیکھا، ایک ایک چیز چھان ماری مگر قرآن نہ تھا نہ ملا-

وہ اپنے کمرے میں ائی اور اپنا بیگ پھر سے کھولا- شاید کوئی معجزہ ہوجائے اور شاید اس نے قرآن رکھ دیا ہو،سارے کپڑے اوپر نیچے کیے مگر وہ ہوتا تو ملتا-

وہ پھر سے لاؤنج میں آگئی-

فائقہ باجی آپ کے پاس کوئی کیسٹ ہوگی تلاوت کی؟

نہیں فائقہ نے لاپرواہی سے شانے جھٹکے-

کوئی چینل ہوگا جس پہ تلاوت آتی ہو؟

تنگ مت کرو محمل میں مووی دیکھ رہی ہوں-

وہ اکتا کر رخ پورا ٹی وی کی طرف کر کے بیٹھ گئی-

محمل تھکے تھکے قدموں سے واپس آئی اور پھر بیڈ پر گر کر نہ جانے کیوں رونے لگی تھی-

رات وہ بے چین سی نیند سوئی-اگلادن کام کرواتے وہ مغموم، بے چین رہی،کھانے کے بھی چند لقمے لے سکی-اس سے کھایا ہی نہیں جا رہا تھا-

ہفتے اور اتوار کے وہ دودن جیسے اس کی زندگی کے بدترین دن تھے-اس کا بس نہیں چلتا تھا وہ اڑ کر گھر پہنچ جائے اور اپنا قرآن تھام لے- کوئی ایسا اتفاق تھا کہ رضیہ پھپھو کا ڈرائیور چھٹی پہ چلا گیا،وہ اب ان کے میاں نفیس انکل سے کہہ بھی نہیں سکتی تھی-گھر سے بھی کوئی دے کر نہیں جائے گا وہ جانتی تھی-

اللہ اللہ کر کے اتوار کی رات گھر سے گاڑی اسے لینے آئی-

پھر جس لمحے وہ گھر آئی بجائے کسی سے ملنے کے بجائے کہیں اور جانے کے وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں گئی- شیلف پہ بیگ ایک طرف ڈالا اور شیلف پر سے قرآن اٹھا کر سینے سے لگا لیا- اسے لگا اب وہ زندگی بھر قرآن کے بغیر کہیں نہ جا سکے گی- لوگ چابی بٹوہ اور موبائل کے لیے آتے ہیں، قرآن کے لیے کوئی واپس نہیں اتا نہ جانے کیوں-

محمل! اماں پکارتی ہوئی آئیں تو اس نے آنسو خشک کیئے اور اپنے مصحف کو احتیاط سے شیلف پر رکھا-

محمل- یہ لو-اماں نے دروازہ کھولا اور ایک خط کا لفافہ اس کی طرف بڑھایا-تمہاری ڈاک آئی تھی-کل-

میری ڈاک ؟اس نے حیرت سے لفافہ تھاما- مسرت جلدی میں اسے لفافہ دے کر پلٹ گئی-اس نے الجھتے ہوئے لفافہ چاک کیا اور اندر موجود کاغذات نکالے-

وہ اسکالر شپ تھا جو اس کو دیا گیا تھا-انگلینڈ میں اعلی تعلیم کا اسکالر شپ-

وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محمل تمہاری ڈاک ائی تھی کیا یہ وہ اسکالر شپ تھا؟

کھانے کی میز پر آغا جان نے پوچھا تو یکدم سناٹا چھا گیا-محمل نے جھکا ہوا سر اٹھایا-سب ہاتھ روکے اسے ہی دیکھ رہے تھے-

جی- اسے اپنی آواز کہیں دور سے آتی سنائی دی-خوشی یا جوش سے خالی آواز-

ہوؐ-تو کلاسز کب اسٹارت ہونگی؟آغآ جان بات کرنے کے ساتھ ساتھ چمچہ کانٹا پلیٹ میں چلا رہے تھے-باقی سب دم سادھے محمل کو دیکھ رہے تھے-بلا شبہ وہ ایک بڑی خبر تھی-

ستمبر میں-

تمام اخراجات وہی اٹھائیں گے؟

جی-وہ بھی جواب دینے کے ساتھ ساتھ کھانے لگی تھی-ڈائننگ ہال میں اب اس کے چمچے کی آواز بھی آرہی تھی-

ویری گڈ-

انگلینڈ میں؟

اسکالر شپ؟

محمل انگللینڈ چلی جائے گی؟

سرگوشیاں چہ میگوئیاں شروع ہوچکی تھیں-اس نے سر جھکائے خاموشی سے کھانا ختم کیا،پھر کرسی کھسکا کر اٹھی اور بنا کچھ کہے ڈائننگ ہال سے چلی گئی-

اسے نہیں معلوم تھا وہ خوش تھی یا نا خوش-اسے ایک نئی زندگی گزارنے کا موقع مل رہا تھا،اسے خوش ہونا چاہیئے-لیکن پھر یہ ناخوشی؟دل ڈوبنے کا یہ احساس؟شاید یہ اس لئیے تھا اس صورت میں اسے علم الکتاب اور مسجد چھوڑنی پڑے گی-قرآن کی تعلیم ادھوری رہ جائے گی-لیکن وہ تو میں بعد میں بھی کر سکتی ہوں-انگلینڈ جانے کا موقع بعد میں نہیں ملے گا-

ان ہی سوچوں میں گم نیند نے اسے آلیا-

Episode 12

صبح کلاس میں سیپارہ کھولتے وقت اسے امید تھی کہ آج کے سبق میں اس کے اسکالرشپ کے بعد کے خیالات کے متعلق آیات ضرور آجائیں گی،لیکن آج کی آیات سورہ بقرہ میں بنی اسرائیل کے کسی قدیم قصے کی تھیں-

یہ پہلی دفعہ ہوا تھا کہ اسے اس کا جواب نہیں مل رہا تھا-اور وہ واقعہ جو بیان کیا جا رہا تھا وہ بھی قدرے ناقابل فہم تھا-بلکہ تھا نہیں اسے لگا تھا-وہ اسکالر شپ بھلا کر اس واقعے میں ہی الجھ گئی-

واقعہ کچھ یوں تھا کہ جب طالوت کا لشکر جالوت سے مقابلے کے لیے نکلا،تو راستے میں آنے والی نہر میں ان کے لیے آزمائش ڈال دی گئی-اللہ نے اس نہر کے پانی کو سوائے ایک چلو کے پینے سے منع کیا،تو جو لوگ پانی پینے گئے اور جنہوں نے چلو سے زیادہ نہ پیا،وہ آگے نکل گئے اور انہیں میں حضرت داؤد علیہ السلام تھے، جنہوں نے جالوت کو قتل کر کے اسے اس کے انجام تک پہنچایا-

پوری تفسیر سن کے بھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ نہر کا پانی کیوں نہیں پینا تھا؟ پانی تو حرام نہیں ہوتا پھر کیوں؟وہ پورا دن یہی سوچتی رہ گئی تھی،یہاں تک کہ رات جب میٹھا لینے کچن میں آئی تب بھی یہی سوچ رہی تھی-

کچن خالی تھا،اس نے فریزر کا دھکن کھولا،سویٹ ڈش کے ڈونگے نکالے،ٹرے میں رکھے اور ٹرے اٹھا کر باہر آئی-

پھر جب طالوت اپنے لشکر کے جدا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔

وہ ٹرے اٹھائے ڈائننگ ہال میں آئی-اونچی پونی جھکے سر سے اور اٹھ جاتی تھی-کندھوں پر پھیلایا دوپٹی،اور شفاف چہرے پہ سنجیدگی لیے اس نے ٹرے ٹیبل پر رکھی-سب وقفے وقفے سے اسے ہی دیکھ رہے تھے- متاثر جلن زدہ نگاہیں-

اس نے کہا بے شک اللہ تمہیں آزمانے والا ہے ایک نہر کے ساتھ-

وہ خاموشی سے ٹرے سے ڈونگے نکال رہی تھی-

پہلا ڈونگا اس نے آغآ جان کے سامنے رکھا-

تو جو کوئی اس نہر سے پئیے گا وہ مجھ سے نہیں ہے-

دوسرا ڈونگا دونوں ہاتھوں سے ہی اٹھا کر اس نے ٹیبل کے وسط میں رکھا-

اور جو کوئی اس نہر سے نہیں پئیے گا،سوائے اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر پینے کے،وہ بے شک مجھ میں سے ہے-

اس نے آخری ڈونگا ٹیبل کے آخری سرے پہ رکھا اور واپس اپنی کرسی پر آگئی-

تو سوائے چند ایک کے انہوں نے اس (نہر میں) سے پی لیا-

سب سویٹ ڈش شروع کر چکے تھے-شیشے کے پیالوں اور چمچوں کے آوازیں وقفے وقفے سے آرہیں تھیں، ان آوازوں کے درمیان وہ مدھم نرم آواز بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھی-اور وہ تو ابھی دور کہیں اس آواز میں کھوئی ہوئی تھی-

تو سوائے چند ایک کے انہوں نے اس میں سے پی لیا-

اس نے پیالہ آگے کیا، اور تھوڑی سی کھیر اپنے پیالے میں ڈالی-

تو سوائے چند ایک کے انہوں نے اس میں سے پی لیا-

وہ اب آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے چمچ لے رہی تھی-

تو تمہیں کب تک جانا ہوگا محمل؟

آغا جان نے پوچھا تو یکدم پھر سے ہال میں سناٹا چھا گیا-چمچوں کی آواز رک گئی-بہت سی گردنیں اس کی طرف مڑیں-اس نے سر اٹھایا-سب اس کی طرف متوجہ تھے-

اگست کے اینڈ تک-

یعنی تم ستمبر کے پہلے تک نہیں ہوگی؟

نہیں!

کیا مطلب؟آغا جان چونکے-

میں نہیں جا رہی-اس نے چمچ واپس پیالے میں رکھا اور نیپکن سے لب صاف کرنے لگی-

کیا مطلب؟

تم اتنا بڑا اسکالرشپ چھوڑ دوگی؟فضہ چاچی نے تحیر سے کہا تھا-

میں چھوڑ چکی ہوں-

مگر ۔۔ مگر کیوں؟

وہ نیپکن ایک طرف رکھ کر کھڑی ہوئی-

“کیونکہ ہر جگہ رکنے کے لیے نہیں ہوتی،اگر میں نے اس نہر سے پانی پی لیا تو میں ساری زندگی بیٹھی رہ جاؤں گی- اور طالوت کا لشکر دور نکل جائے گا-بعض حلال چیزیں کسی خاص وقت میں حرام ہوجاتی ہین-اگر اس وقت آپ اپنے نفس کو ترجیح دیں،تو خیر کا کام کرنے والے لوگ دور نکل جاتے ہیں-می نہر پر ساری عمر بیٹھی نہیں رہنا چاہتی-مجھے وہ داؤد بننا ہے جو جالوت کو مار سکے-

وہ سوچ کر رہ گئی اور کہا تو بس اتنا،

“مجھے ابھی قرآن پڑھنا ہے اور تیز تیز قدم اٹھاتی باہر نکل گئی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شام کی ٹھنڈی ہوا اپنی لے پر بہہ رہی تھی-وہ ٹیرس پہ کرسی ڈالے دور آسمان کو دیکھ رہی تھی-جہاں شام کے پرندے اپنے گھروں کو اڑتے جا رہے تھے-

ٹیرس سے سامنے والوں کا گھر نظر آتا تھا-ان ہی بریگیڈیر صآحب کا گھر جن کی قرآن خوانی اس نے ایک دن دیکھی تھی-قرآن کو بھی پتا نہیں کیا کیا ہم لوگوں نے بنا دیا ہے-

اس نے کسی خیال کے تحت کپ سائیڈ پے رکھا اور اٹھی-ابھی مڑی ہی تھی کہ سامنے فواد کا چہرہ دکھائی دیا-وہ گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹی-

وہ اندر کھلنے والے دروازے میں کھڑا تھا-سینے پہ ہاتھ باندھے لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا-

تم مجھ سے کتراتی پھر رہی ہو؟حالانکہ جانتی ہو معرا قسور نہیں ہے- وہ چپ رہی-

کل دوپہر تین بجے میں تمہارا اٹاپ پر انتظآر کروں گا،مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے-آئی ہوپ کہ تم ضرور میری بات سننے آؤ گی-وہ کہہ کر ایک طرف ہوگیا-محمل کا رستہ کھل گیا-وہ بنا اسے دیکھے تیزی سے دہلیز پار کر گئی-

ایک قسم تھی جو اس نے کھا لی تھی-وہ اسے توڑ نہیں سکتی تھی-اور اس لمحے سیڑھیاں اترتے اسے محسوس ہوا کہ شاید وی اس قسم کے بوجھ سے اب نجات چاہتی ہے-اب اس سے وہ قسم نبھائی نہیں جا رہی-بس اگر ایک دفعہ وہ فواد سے باہر مل لے تو کیا ہوجائے گا؟بس ایک دفعہ ۔ کل دوپہر تین بجے-نہیں میں قسم نہیں توروں گی اس نے گھبرا کر سر جھٹکا-اس کے اندر کی سوچیں اسے وحشت زدہ کرنے لگی تھیں-پھر اسے یاد آیا وہ ٹیرس سے بھلا کیوں نیچے آنے لگی تھی؟اور ہاں وہ قرآن خوانی والا گھر وہ کچھ سوچ کے گھر سے باہر آئی-

ساتھ والا بنگلہ بیلوں سے ڈھکا خوبصورت بنگلہ تھا، اس نے گیٹ کے ساتھ نصب بیل پر ہاتھ رکھا،دوپٹی شال کی طرح کندھے کے گرد لپیٹے اونچی کسی ہوئی پونی ٹیل ادھر ادھر جھلاتی-وہ اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی-

قدموں کی چاپ سنائی دی-اور پھر گیٹ کھلا-اسی ملازم کی شکل نظر آئی-

جی؟

بریگیڑیر صاحب گھر پر ہیں؟

“نہیں آپ کون؟

میں محمل ابراہیم ہوں،ساتھ والے گھر میں رہتی ہوں،آغا ہاؤس مین-یہ کچھ پمفلٹس ہیں پریگیڈیر صاحب کو دے دینا ،وہ پڑھ کر مجھے واپس کردیں،میں ان سے واپس لینے ضرور آؤں گی-یہ ذمے داری میں تمہیں دے رہی ہوں،اور ذمے داری امانت ہوتی ہے-اگر امانت میں خیانت کی تو پل صراط پار نہیں کر پاؤ گے سمجھے؟

چند پمفلٹس اور کارڈ اسے تھما کر اس نے تنبیہہ کی تو ملازم نے گھبرا کر اچھا جی کہہ کر سر اندر کر لیا-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ شام وہ رات اور اگلی صبح بہت کٹھن تھی-وہ لمحے بھر کو بھی نہ سو سکی تھی- ساری رات بستر پر کروٹین بدلتے گزری-مستقبل بہت سے اندیشوں میں لپٹا ہوا نظر آرہا تھا-وہ کیا کرے کس سے مشورہ کرے کس سے پوچھے؟

اور جواب تو اسے سوچنے کی ضرورت ہی نہ تھی-جب صبح کے قریب اس نے قسم توڑنے کا سوچا تو بستر سے نکلی اور معاملہ اللہ پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا-

کل ان کی کلاس میں سورہ بقرہ ختم ہوئی تھی-،اور آج آل عمران شروع ہونا تھی -غالباَ پہلی گیارہ آیات پڑھنی تھیں-اسے پکا یقین تھا کہ کوئی حل آج کے سبق میں موجود ہوگا-سو اس نے آج کی ایات کھولیں-

پھر ان تمام آیات کو اس نے دو تین دفعہ پڑھا- دل میں عجیب سی بے چینی پیدا ہوئی-وہاں کوئی ذکر نہ تھا-نہ قسم کا نہ قسم توڑنے کے کفارے کا-

کفارہ؟ وہ چونکی-تو کیا میں قسم توڑنا چاہتی ہوں؟

ہاں دل نے واضح جواب دیا تو اس نے خود سے نگاہیں چرا کر مصحف بند کر دیا اور اوپر رکھ دیا-

فرشتے ایک فائل پر سرسری نگاہ ڈالتے کوریڈور سے گزر رہی تھی جب وہ پھولی سانس کے تقریبا دوڑتی ہوئی اس کے سامنے آئی-

فرشتے مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے؟

فائل کے صفحے کا کنارہ فرشتے کی انگلیوں میں تھا، اس نے سر اٹھایا-

اسلام علیکم!کیا بات ہے؟

وعلیکم السلام-وہ پھولی سانسوں کے درمیان تیز تیز بول رہی تھی-وہ ایک فتو’ی لینا ہے-

میں مفتی نہیں ہوں-مگر بس ایک فقہی مسئلہ ہے-

ضرور پوچھنا، مگر آج کی تفسیر سن لو اس میں ہے تمہارا مسئلہ-” محمل کو جھٹکا لگا-

آپ کو میرے مسئلہ کا کیسے پتا ہے؟

ارے نہین مجھے تو آج کی آیات کا بھی نہیں پتہ ،میڈم مصباح لیتی ہیں نا آج کل اپ کی کلاسز؟

پھر آپ کو کیسے پتہ کہ۔۔۔۔۔۔۔۔

کیونکہ یہی ہمیشہ ہوتا ہے-تفسیر کا ویٹ کرلو،تمہارا مسئلہ کلیر کٹ لفظوں می آجائے گا- اس نے فائل کا صفحہ پلٹا اور سرسری سا اوپر نیچے دیکھنے لگی-

مگر میں نے آج کی آیات پڑھ لی ہیں،ان میں میرا مسئلہ نہیں ہے مجھے پتا ہے-

صبر لڑکی علم صبر کے ساتھ آتا ہے-تفسیر کے بعد پوچھ لینا مگر اس کی یقینا نوبت نہیں ائے گی- وہ ہلکا سا اس کا گال تھپتھپاتی فائل دیکھتی آگے بڑھ گئی- محمل نے اپنے گال کو چھوا اور پھر سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

یہ کبھی نہیں ہوا تھا وہ جو سوچے وہ قرآن میں لکھا ہوا نہ ہو-لوگ اس کی بات نہیں سنتے تھے، توجہ نہیں کرتے، اگر توجہ بھی کرتے تو سمجھتے نہیں تھے، اور ایک قرآن تھا اسے کہنا بھی نہیں پڑھتا اور وہ دل کی بات دھیان سے سنتا توجہ کرتا،سمجھتا اور پھر دانائی اور حکمت کے ساتھ اسے سمجھاتا تھا،اور اس جیسا کوئی نہ سمجھاتا تھا-

مگر اسے لگا آج کی آیات میں ایسی کوئی بات نہیں تھی- جو اس سے متعلق ہو-

بہت بے دلی اور رنج سے اس نے سیپارہ کھولا-وہ سفید چادر پر دو زانو ھو کر بیٹھی تھی-سامنے ڈیسک پر سیپارہ کھلا پڑا تھا-ایک طرف رجسٹر تھا جس کی طرف جھکی وہ تیزی سے لکھ رہی تھی-

محکمات وہ آیات تھی جن کا مطلب ہم سمجھ سکتے ہیں،مثلا احکامات،اس دنیا کی باتیں دنیا کے کسی باغ کی مثال،تاریخی واقعات اور متشابہات وہ آیات تھیں جو ہم تصور کر سکتے ،ان پر ایمان بالغیب لانا ضروری ہے-مثلا،جنت دوزخ اللہ کا ہاتھ، فرشتوں کی ہئیت، مشابہات کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیئے-اور جو پڑے اس سے دور رہنا چاہیئے-میڈم مصباح یہی سمجھا رہیں تھیں-سست روی سے تمام پوائنٹ رجسٹر پہ لکھ رہی تھی-

متشابہات پر ایمان بالغیب ایسا ہونا چاہیئے جیسے ۔۔۔۔ میڈم کی آواز ہال میں گونج رہی تھی-جیسے اگلی آیات میں ذکر ہے راسخون فی العلم ان پر ایمان لاتے ہیں-اب یہ راسخون فی العلم کون ہوتے ہیں؟

ایک ہوتا ہے طالب علم ایک صاحب علم اور اس سے بڑا درجہ راسخ علم والے کو ہوتا ہےیہ کون لوگ ہوتے ہیں؟ان کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ راسخون فی العلم کون ہوتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا-

وہ جو قسم پوری کرتے ہیں-

محمل کے ہاتھ سے پین گر پڑا-سیاہی کے چند چھینٹے چادر کو بگھو گئے-

میڈم آگے بھی کہہ رہی تھیں- جن کے دل مستقیم ہوں-

مگر وہ یک ٹک پھٹی پھٹی آنکھوں سے سیپارے پہ لکھے راسخون فی العلم کے الفاظ کو دیکھے جا رہی تھی- ایک ہی تکرار اس کے کانوں میں گونجے جا رہی تھی-

وہ جو قسم پوری کرتے ہیں-

وہ بس سکتہ کی کیفییت میں سیپارے کو دیکھے جا رہی تھی-

راسخون فی العلم-سیپارے کے الفاظ دھندلا گئے اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے تھے-

صدیوں پہلے عرب کے صحراؤں میں کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا کہ پختہ علم والے کون ہوتے ہیں-اور تب انہوں نے بتایا تھا کہ وہ جو قسم پوری کرتے ہیں-اسے لگا صدیوں پہلے کہی گئی بات کسی اور کے لیے نہیں صرف اسی کے لیے تھی-وہ انگلیوں کے پوروں سے ان تین الفاظ کو بار بار چھو رہی تھی- انہیں محسوس کر رہی تھی- آنسو اس گالوں سے لڑھک کر گردن پہ پھسل رہے تھے-

ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی-اس نے ہتھیار ڈال دئیے تھے-قسم کھانا ناپسندیدہ تھا مگر اب وہ اسے ہمیشہ نبھانی تھی-اور جانتی تھی کہ یہی اس کے لیے بہتر ہے-

اس روز وہ تین بجے سے پہلے ہی گھر آگئی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ صبح بہت زرد سی طلوع ہوئی تھی-آئینے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی-آج اس نے اونچی پونی کی بجاے سادہ سی چوٹی بنائی تھی- شفاف سے چہرے پہ ذرا سی یژمردگی چھائی تھی- وہ چند لمحے خود کو دیکھتی رہی پھر سیاہ چادر سر پر رکھی-آج اسے گواہی دینی تھی-فواد کے خلاف یا اپنے خلاف۔۔۔

لاؤنج میں تینوں چچا انتظآر کر رہے تھے-کلف لگے سفید شلوار قمیض میں آغآ جان کمر پر ہاتھ باندھے ادھر ادھر بے چینے سے ٹہل رہے تھے-اسے راہداری سے آتے دیکھا تو رک گئے-

چلیں-وہ سپاٹ چہرہ لیے ان کو دیکھے بغیر دروازے کی طرف بڑھی اور اسے کھول کر باہر نکلی- وہ سب اکٹھے باہر نکلے-

گیٹ کھلا یکے بعد دیگرے دونوں گاڑیاں پورچ سے باہر سڑک پہ رواں دواں تھیں- اس اونچے گھر کی بہت سی کھڑکیوں سے بہت سی عورتیں انہیں جاتا دیکھ رہیں تھیں-گاڑیاں گم ہوگئیں تو لڑکیوں نے پردے چھوڑدئیے-

زرد سی راہداری میں وہ سمٹی سمٹائی نگاہیں نیچی کیے آغآ جان کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی-ادھر ادھر پولیس والے وکلاء اور کتنے ہی لوگ گزر رہے تھے- بہت ؤحشت ناک جگہ تھی وہ-اس سے سر نہیں اٹھایا جا رہا تھا-بس لمحے بھر کو اس نے چہرہ اوپر کیا تو کاریڈور کے اختتام پہ وہ کھڑا تھا،اپنے کسی سپاہی کو اکھڑتے تیور لیے غصے سے کچھ کہتا یونیفارم میں ملبوس، سر پہ کیپ-وہ بہت وجیہہ تھا-اور زندگی میں پہلے دفعہ محمل کو اس پہ غصہ نہیں آیا تھا-اسے تمام لوگوں میں ایک وہی اپنا ہمدرد لگا تھا-

اس نے نگاہیں جھکا لیں،کاریڈور کے موڑ کے قریب ہی تھی جب ہمایوں کی نگاہیں اس پر پڑی اور وہ ٹھہر گیا-آغآ کریم کے بائیں کندھے کے پیچھے چھپی ہوئی گردن جھکائے آئی سیاہ چادر میں لپٹی لڑکی جس کے چہرے پہ زمانوں کی تھکن رقم تھی-اس نے سر نہیں اٹھایا-وہ اسے دیکھتا رہا،یہاں تک کے وہ اس کے قریب سے سر جھکائے گزر گئی-

ہاں آغآ کریم نے ایک متنفر نگاہ اس پر ضرور ڈالی تھی-

وہ اب گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگا- شاید وہ اس کی آنکھیں دیکھنا چاہتا تھا-انہیں پڑھنا چاہتا تھا-کاریڈور کے درمیان میں اچاک اس سیاہ چادر والی لڑکی نے گردن پیچھے موڑی-دونوں کی نگاہیں لمحے بھر کو ملیں، محمل کی آنکھوں میں زمانے بھر کی تھکن اور دکھ تھا، پھر اس نے چہرہ موڑ لیا – اور اسی طرح سر جھکائے اپنے چچاؤں کے ترغے میں آگے چلی گئی-

کمرہ عدالت میں وہ قطار کے بائیں نشست پر سب سے آخر میں بیٹھی تھی-آغآ جان اس کے دائیں طرف تھے اس کے بائیں طرف کچھ نہ تھاقطار خالی تھی-وہ سر جھکائے ساری کاروائی سنتی رہی اس سے نظر تک نہ اٹھائی جاتی تھی-یوں جیسے ہر کوئی اسے ہی دیکھ رہا ہو-

اور پھر ایک ساعت کو اس نے جیسے ہی سر اٹھایا- وہ دوسرے اسٹینڈ میں بیٹھا گردن ترچھی کیے اسے ہی دیکھ رہا تھا-وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے-ہمایوں کی نگاہوں میں سوال تھے-چبھتے ہوئے،

پریشان کن سوال-اس سے زیادہ دیر دیکھا نہیں گیا-وہ گردن موڑ کر آغآ جان کو دیکھنے لگی جو لب بھینچے وکلاء کے دلائل سن رہے تھے-نگاہوں کے ارتکاز پر چونک کر محمل کو دیکھا-

کیا؟وہ جس طرح انہیں دیکھ رہی تھی، وہ ذرا سے الجھے-

“جائیداد میں میرا حصہ مجھے مل جائے گا؟اس نے سرگوشی کی نگاہیں ان پر سے ہٹئے بغیر-

ہاں کیوں نہیں؟

یہیں اگر میں پوچھتی کہ کیوں نہیں تو؟

کیا مطلب؟

میں ابھی جا کر ہمایوں داؤد کے خؒاف بیان دوں تو کیا گارنٹی ہے کہ آپ مکر نہیں جائیں گے؟

تمہیں مجھ پر شک ہے؟

اگر ہے تو؟

آغآ جان کے ماتھے پر غصے کی لکیر ابھری جسے وہ ضبط کرگئے-تم اب کیا چاہتی ہو؟

یہ! اس نے کالی چادر میں سے بیگ نکالا زپ کھولی اور ایک کاغذ اور پین نکال کر ان کی طرف بڑھائے-

میری صرف فیکٹری می شئیر کی قیمت نو کڑور کے لگ بھگ ہے-باقی کا حساب میں ابھی نہیں مانگ رہی-یہ آپ کی چیک بک کا چیک ہے رقم میں نے بھر دی ہے آپ سائن کر دیں- اس نے پین ان کے سامنے کیا،وہ کبھی اس کو دیکھتے کبھی پین کو-

آغآ جان! محمل بچی نہیں ہے-آپ مجھ سے میری آخرت خرید رہے ہیں-اگر میں نے جھوٹی گواہی دی تو پل پار کرنے سے پہلے ہی گر جاؤں گی-اگر گرنا ہے تو کچھ ورتھ تو ہونا چاہیئے نا؟آپ یہ سائن کریں-میں ابھی جا کر جھوٹی گواہی دیتی ہون-

اس نے پین اور چیک ان کے ہاتھ پہ رکھا-

اس ہال میں کوئی میرے اشارے کا منتظر ہے، میں چیک سائن کروا کر ابھی اسے بینک بھیجتی ہوں، جیسے جیسے ہی چیک کیش ہوگا،وہ مجھے سگنل کرے گا تب میں گواہی دے دوں گی ورنہ نہیں-

انہوں نے چیک کو ایک نظر دیکھا-اور پھر پین کو- دوسری طرف محمل کا نام پکارا گیا-وہ انہیں متنبہ نگاہوں سے دیکھتی اٹھی اور سر اٹھائے پورے اعتماد سے کٹہرے کی طرف بڑھی-

آغآ کریم کبھی چیک کو دیکھتے اور کبھی اسے جو کٹہرے میں کھڑی تھی-اور اس کے سامنے غلاف میں لپٹا قرآن لایا گیا تھا- وہ نگاہیں ان پہ جمائے پلک جھپکے بغیر قرآن پہ ہاتھ رکھ کر چند فقرے دہرا رہی تھی-

انہوں نے آخری بار چیک کو دیکھا اور پھر طیش میں اکر اسے مڑور کر دو ٹکڑے کیے-

محمل تلخی سے مسکرئی،سر جھٹکا اور وکیل کی طرف متوجہ ہوئی-وہ اس سے کچھ پوچھ رہا تھا-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

فواد کی ضمانت منسوخ ہوگئی،اس کے خلاف ثبوت بہت سے تھے-وہ واپس جیل بھیج دیا گیا-

واپسی کا سفر بہت خاموشی سے کٹا- آغآ جان کی لینڈ کروزر کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی وہ بہت خاموشی سے سارا رستہ باہر دیکھتی آئی تھی–جب گاڑی پورچ میں رکی تو وہ سب سے پہلے اتری-

لان میں بہت سی عورتیں ان کی طرف بڑھی تھیں-

کیا ہوا؟وہ کسی کو دیکھے بغیر تیزی سے اندر چلی گئی-

اس احسان فرانوش لڑکی نے فواد کے خلاف گواہی دے دی-

ذلیل نہ ہو تو-

مگر فکر کی بات نہیں ہے-وہ جلد باہر آجائے گا،کیس اتنا مضبوط نہیں ہے-

غفران چچا اور اسد چچا انہیں تسلی دینے لگے،مگر تائی مہتاب کا چہرہ سفید بڑ گیا-

ہائے میرا فواد- وہ سینے پہ دو ہتڑ مار اونچا اونچا رونے لگیں،روتے روتے وہ لڑھکنے کو تھیں کہ فضہ اور ناعمہ نے بڑھ کر انہیں سہارا دیا- پل بھر میں لان میں کہرام مچ گیا تھا-اپنے کمرے میں پردے کو ہاتھ میں پکڑ کر ذرا سی جھری سے دیکھتی وہ پر سکون کھڑی تھی-کالی چادر سر سے پھسل کر پیچھے گردن پہ پڑے بالوں پہ پھسل گئی تھی-بھورے بال چہرے کے اطراف میں گرے تھے-وہ کانچ سی سنہری آنکھیں سکیڑے پر سوچ نگاہوں سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ ستون سے ٹیک لگائے ننگے پاؤں گھاس پہ رکھے بیٹھی تھی-جوتے ساتھ اترے پڑے تھے-سفید شلوار قمیض اور سر پر پنک اسکارف کس کر باندھے وہ گردن جھکائے دونوں ہاتھوں میں چھوٹا قرآن لیے پڑھ رہی تھی-اسے سورہ کہف پڑھنی تھی آج جمعہ تھا-

السلام علیکم-سارہ آہستہ سے آئی اور اس کے ساتھ پاؤں لٹکا کر سیڑھی پہ بیٹھی- اس نے صفحے کا کنارہ پکڑے سر کے اثبات سے جواب دیا اور صفحہ پلٹا-ربیعہ اپنی گود میں رکھی اسائنمنٹ کمپلیٹ حل کرنے لگی-گیٹ کے قریب فرشتے کھڑی ایک لڑکی سے بات کر رہی تھی-وہ لڑکی منمنتاے ہوئے کچھ کہہ رہی تھی-،مگر فرشتے نفی میں سر ہلا رہی تھی- اس کا ازلی پر اعتماد مضبوط اور دو ٹوک مگر نرم انداز-

کیا کر رہی ہو سارہ؟

فرشتے باجی کی اسئنمنٹ کر رہی ہوں-فرشتے باجی نے دی ہے؟الجھ کر سر اٹھایا-یہ دین اور مذہب میں کیا فرق ہوتا ہے؟

دین ریلجن کو کہتے ہیں، جیسے اسلام اور مذہب کسی بھی دین کے کسی اسکول آف تھاٹ کو کہتے ہیں- مسلک کسی دین مذہب کے اندر کسی طریقے کا نام ہوتا ہے،مثلاَ فقہی مسالک جیسا کہ شافعی، حنفی وغیرہ-آئی سمجھ؟

ہوں- تمہارا فہم اچھا ہے محمل!

“فرشتے نے سمجھایا تھا اس دن-اس نے ذرا سی گردن موڑی-فرشتے اسئ طرح اس سے بات کر رہی تھی-سارہ بھی اس کی نگاہوں کے تعاقب میں اسے دیکھنے لگی-

فرشتے کی آئیز (آنکھیں) مجھے بہت پسند ہیں-

محمل کے لبوں سے پھسلا-

ہاں بہت مشابہت ہے آئی نو-وہ بری طرح چونکی-

مشابہت؟وہ ایک دم بہت پرجوش ہوکر اس کی طرف مڑی-مشابہت ہے نا سارہ! مجھے ہمیشہ فرشتے کی آنکھیں دیکھ کر لگا ہے کہ یہ کسی سے ملتی ہیں؟

تو تمہیں نہیں پتہ؟ربیعہ حیران ہوئی-

کیا ان کے کزن سے؟

کزن کون؟

چھوڑو تم بتاؤ کس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس سے ملتی ہیں؟

ربیعہ کچھ دیر حیرت سے اسے دیکھتی رہی،پھر ہنس پڑی-

تم سے ملتی ہیں محمل ۔۔۔ بالکل تمہارے جیسی ہیں- کیا تم آئینہ نہیں دیکھتی؟

مجھ سے؟محمل ساکت رہ گئی-اپنا چہرہ ہر وقت نگاہوں کے سامنے نہیں رہتا شاید اس لیئے وہ اتنے عرصے میں اندازہ نہ کر سکی-

اس لڑکی کی کسی بات پہ فرشتے ذرا سا مسکرائی-اس کی آنکھیں مسکراتے ہوئے کناروں سے “ذرا سی چھوٹی ہوجاتیں-بالکل اس کی اپنی طرح-ہوبہو-وہ پلک جھپکے بنا اسے دیکھے گئی-

وہ میڈ کراؤن سے ٹیک لگاے گھٹنوں پہ کتاب رکھے سوچ میں گم تھی-بھورے بال کھلے شانوں پر گرے تھے-مسرت اندر داخل ہوئیں-تو وہ اسی طرح خلاء میں گھور رہی تج-آہٹ پہ چونکی-

اماں۔۔۔۔۔۔۔۔ بات سنیں-

ہاں بولو-مسرت الماری کھول کر کچھ تلاش کر رہی تھیں-

آپ ماموں لوگوں سے پھر کبھی نہیں ملیں؟

نہیں- ان کے ہاتھ لمحے بھر کو رکے،پھر دوبارہ کپڑے الٹ پلٹ کرنے لگے-

ماموں کی ایک ہی بیٹی ہے نا؟

ہاں شاید-

اس کا کیا نام ہے؟

پتہ نہیں وہ میری شادی کے بعد ہوئی تھی-وہ مطلوبہ کپڑا نکال کر کھلے دروازے سے باہر چلی گئیں-

اور یہ تو وہ جانتی تھی کہ اماں شادی کے بعد ماموں سے کبھی نہیں ملی تھیں-اور نہ ہی وہ خود ملی تھی-اس نے تو ان کو دیکھا تک نہیں تھا،اماں اور ابا کی پسند کی شادی تھی-اور اماں کے خاندان والوں نے پھر کبھی کوئی رابطہ نہ رکھا تھا-آج فرشتے کی آنکھیں دیکھ کر اسے یونہیں کچھ لگا تھا کہ شاید ۔۔۔۔۔ مگر خیر ۔۔۔۔

ہم نے فیصلہ کر دیا ہے-باہر تائی کے زور سے بولنے کی آواز پہ یکدم اس کا دل دھڑکا- وہ کتاب بند کیے لحاف اتار کر تیزی سے ننگے پاؤں باہر آئی-اس نے دروازہ کھول کر دیکھا-

آغآ جان اور تائی مہتاب بڑے صوفے پہ رعونت بھرے انداز میں بیٹھے تھے- اور مسرت ان کے سامنے جیسے بے بس سی کھڑی تھی-دروازہ کھلنے کی آواز پہ مسرت نے اسے دیکھا-بے بسی آنکھوں میں آنسو-

اپنی بیٹی کو بھی بتا دینا-تائی نے ایک تنافر بھری نگاہ اس پہ ڈالی ہم اس کو بہو بنا رہے ہیں ہمارا احسان ساری زندگی بھی تم دونوں چاہو تو نہیں اتار سکتیں-

وہ جہاں تھی وہی کھڑی رہ گئی-تو کیا فواد واقعی جیل سے باہر آجائے گا؟

مگر بھابھی- مسرت کی آنسوؤں میں ڈوبی آواز آئی-محمل ۔۔۔۔۔۔ محمل کبھی نہیں مانے گی وسیم کے کیے –

وسیم؟وہ جھٹکے سے دو قدم پیچھے ہٹی-

اور چند دنوں پرانی ہی تو بات ہے جب فریدہ پھپھو نے گھر آکر خوب مزے لے کر وسیم کے آنکھوں دیکھے قصے سنائے تھے-فریدہ پھپھو محمل کے ابا کی کزن تھیں-اور ہر خبر پورے خاندان میں سب سے پہلے ان کے پاس پہنچتی تھی-گھر میں تو چلو تائی نے انہیں چپ کرا دیا تھا- مگر ہفتے بعد ایک شادی کی تقریب میں انہوں نے وہی قصے پھر سے چھیڑ دیئے- ابھی فواد کی گرفتاری کے چرچے پرانے نہیں ہوئے تھے کہ خاندان والوں کے ہاتھ ایک اور شوشہ لگ گیا-

پوری تقریب گویا اکھاڑہ بن گئی- تائی مہتاب ان عورتوں کو جتنا لعن طعن کر سکتی تھیں کیا، مگر وہ اکیلی تھیں اور مقابل پورا جتھا تھا-معنی خیز نگاہیں اور طنزیہ انداز-

برا نہ ماننا مہتاب بھابھی! مگر وسیم کو میرے سمیع نے ہی نشے کی حالت میں رات کو دو بجے سڑک سے اٹھا کر تمہارے گھر پہنچایا تھا

“ہان تو سمیع خود اس وقت وہاں کیا کر رہا تھا؟تائی ہاتھ نچاتے ہوئے غصے سے بے قابو ہو کر بولیں تھیں-

وسیم کی بات بچپن سے آغآ جان کے چچا زاد آغآ سکندر کی بیٹی سے طے تھی- کچھ ؑعرصہ سے آغآ سکندر کی فیملی کھنچی کھنچی سی رہنے لگی تھی- اور جب یہ باتیں سامنے آئیں تو انہوں نے فون پر ہی دوٹوک رشتہ ختم کردیا-

گزرے برسوں کی ایک نادانی تھی،وی مہتاب بھابھی! بھلا کیسے ہم اپنی بیٹی کو اس لڑکے سے بیاہ دیں جسے پورے خاندان میں کوئی رشتہ دینے کو تیار نہیں؟

اور میں بھی آپ کو خاندان کی سب سے خوبصورت لڑکی وسیم کی دلہن بنا کے دکھاؤں گی- تائی نے بھی کھولتے ہوئے فون پٹخا تھا-

محمل کو قابو کرنے اس کی جائیداد پر قبضہ کرنے اور وسیم کی شادی کر کے خاندان میں گردن اونچی کرنے کا بہترین حل تائی مہتاب کو مل ہی گیا تھا-انہوں نے ایک تیر سے تین شکار کرلیے تھے-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ سر جھکائے تیز تیز سڑک کے کنارے چلتی جارہی تھی-آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے- لمبے لمبے بھورے بال شانوں پر پھیل کر کمر پہ گر رہے تھے،کہاں کدھر اسے کچھ پتہ نا تھا-

زندگی اس کے ساتھ یوں بھی کر سکتی ہے اس نے سوچا بھی نہ تھا ایک تنگ پھندا تھا جو اسے اپنی گردن کے گرد کستا ہوا محسوس ہورہا تھا-

اداس درختوں کی گھنی بھاڑ آج بھی ویسے ہی کھڑی تھی-شام کے پرندے شاخوں پہ لوٹ آئے تھے-وہ راستہ جانا پہچانا تھا-وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی- جب اس کی سماعتوں نے وہ آواز سنی-

محمل ۔۔۔۔۔ رکو۔۔۔۔

مگر وہ نہیں رکی، اسے رکنا نہیں تھا،وہ رکنے والا راستہ تھا ہی نہیں-

محمل! وہ تیز دوڑتا اس کے ساتھ آملا- بات تو سنو-

پھولی سانسوں سے اس کے بائیں جانب اس کی رفتار سے بمشکل مل پاتا وہ ہمایوں تھا،ٹریک سوٹ میں ملبوس وہ شاید جاگنگ سے آیا تھا-

کیا ہو محمل؟ مجھے بھی نہیں بتاؤ گی؟

اس کے قدم تھمے،بہت آہستہ سے اس نے گردن اٹھائی، بھیگی سنہری آنکھوں سے مسلسل آنسو گر رہے تھے-

میرا اور آپ کا کیا رشتہ ہے جو میں آپ کو بتاؤں؟

کیا انسانیت کا رشتہ کچھ نہیں ہوتا؟

کچھ نہیں ہوتا- وہ تیزی سے چلنے لگی تھی-

مگر ہوا کیا ہے؟

میری تائی نے میرا رشتہ اپنے آوارہ بیٹے سے طے کر دیا ہے،

تو تم رو کیوں رہی ہو؟

پھر کیا خوشی مناؤں؟وہ پوری اس کی طرف گھومی-غصہ بہت شدت سے ابلا تھا-یہی شخص تھا اس کی ہر مشکل کا ذمے دار-

ٹھیک ہے تم صاف انکار کر دو-کچھ اور کر لو، لیکن اگر یونہی اپنے آپ پر ظلم سہتی روتی رہوگی تو گھٹ گھٹ کر مر جاؤگی-اس نے بھیگی آنکھوں سے ہمایوں کا چہرہ دیکھا مغرور مگر فکر مند چہرہ-

” میں مروں یا جیؤں آپ کو کیا فرق پڑتا ہے؟

اس کے انداز پہ وہ چند لمحے لب بھینچے خاموش کھڑا رہا،پھر گہری سانس اندر کو کھینچی-ہاں مجھھے نہیں فرق پڑتا-اور واپس پلٹ گیا-

ہونہہ! محمل نے استہزائیہ سر جھٹکا-آپ وہ ہی ہیؔں نا بیچ راہ میں چھوڑنے والے-وہ جیسے چونک کر پلٹا-

اسی پل ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا تھا اس کے بھیگے چہرے اطراف میں گرنے والے بال پیچھے کو اڑنے لگے تھے-

اور آپ کو پتہ ہے ہمایوں اس لیے آپ سے کبھی میں نے امید ہی نہیں لگائی تھی،پھر کیا میں نہ روؤں-وہ کہہ کر واپس پلٹ گئی،ہوا بھی پلٹ گئی شام کے پرندے بھی پلٹ گئے-

وہ ساکت سا تارکول کی ویران سڑک پہ کھڑا رہ گیا-

درختوں کی بھاڑ اب بھی اداسی سے سر جھکائے کھڑی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس نے اسٹاف روم کے دروازے پہ ہلکی سی دستک دی-چند لمحے منتظر سی کھڑی رہی،پھر جواب نہ پاکر اندر جھانکا اسٹاف روم خالی تھا-

وہ کتابیں سینے سے لگائے متذبذب سی واپس پلٹ گئی-اسی پل سامنے سے ایک گروپ اجچارج آتی دکھائی دی-

السلام علیکم ، باجی میم فرشتے کہاں ہیں؟

فرشتے باجی ہاسٹل میں لائبریری میں ہوں گی ان کو کوئی کام تھا آج اس لیے نہیں آسکیں-

اچھا- وہ تیزی سے سیڑھیاں پپھلانگنے لگی-

لائبریری کا گلاس ڈور کھلا تھا-اس نے قدرے جھجھکتے ہوئے اندر قدم رکھا-

کتابوں کے اونچے ریکس، اور دیوار گیر فرینچ ونڈوز لائبریری کا مخصوص خاموش ماحول-

فرشتے؟اس نے ہولے سے پکارا-خاموش لائبریری کا تقدس زخمی ہوا تو وہ گڑبڑا کے چپ ہوگئی-

ادھر-لائبریرین کسی کونے سے نکل آئی اور ایک طرف اشارہ کیا ، وہ شرمندہ سی ادھر لپکی-

چند ریکس سے گزر کر اس نے دوسری ترف جھانکا-

وہ کتاب اٹھائے کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی- ہلکئ گلابی شلوار قمیض پہ گرے دوپٹہ شانوں کے گرد لپیٹے ،فرشتے کی اس کی طرف پشت تھی، محمل کو اس کی کمر پر گرتے سیدھے بھورے بال دکھائی دئیے تھے-

وہ ذرا سی حیران ہوئی تھی-اس نے ہمیشہ حجاب میں ملبوس فرشتے کو دیکھا تھا-سر ڈھکے بغیر تو وہ قطعا مختلف لگ رہی تھی-

فرشتے؟وہ جیسے چونک کر مڑی اسے دیکھا تو مسکرا دی-ارے ماشاءاللہ آج تو لوگ لائبریری آئے ہیں-

مگر صرف آپ سے ملنے-

بیٹھو-وہ کھڑکی سے لگی کرسی پہ آ بیٹھی،جس کے سامنے میز تھی-میز کے اس طرف ایک خالی کرسی رکھی تےتھی-وہ محمل نے سنبھال لی اور کتابیں میز پر رکھ دیں-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *