Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mushaf (Episode 14)

Mushaf by Nimrah Ahmad

میں جانتی ہوں تم ہرٹ ہوئی ہو- ایک گہری سانس لے کر وہ اپنی رو میں کہنے لگی تھی-اور میں اسی ڈر سے تمہیں یہ پہلے نہیں بتا رہی تھی-کہتے کہتے فرشتے نے نگاہیں اٹھائیں اور پھر اگلے الفاظ اس کے لبوں پہ دم توڑ گئے-

محمل کے چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی تھیں-

“محمل کیا ہوا؟” وہ پریشان سی کھڑی ہوئی-

فرشتے- فرشتے-۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہمایوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ رو دینے کو تھی-

کیا ہو ہمایوں کو؟ بتاؤ محمل؟،اس نے فکر مندی سے محمل کو دونوں شانوں سے تھام کر پوچھا،

وہ ہمایوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمایوں مر گیا”

محمل کے شانوں پہ اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی-

اسے لگا وہ اگلا سانس نہیں لے پائے گی-

یہ کیا کہہ رہی ہو؟

میں نے جان۔۔۔۔۔۔ جان بوجھ کے نہیں ۔۔۔۔۔۔ ہمایوں کو- وہ اسے چھری لگ گئی-میں نے غلطی سے اسے میری-

وہ کدھر ہے ابھی ؟فرشتے نے تیزی سے بات کاٹی-

اپنے گھر بیڈ روم میں-

فرشتے نے اگلا لفظ نہیں سنا اور تیزی سے باہر کی طرف بھاگی تھی-وہ کہیں بھی جاتی تھی تو ہمیشہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے کر جاتی تھی-آج اس نے اس کا ہاتھ نہیں تھاما تھا-آج وہ اکیلی بھاگی تھی-

اسے خود بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، بس وہ بھی فرشتے کے پیچھے لپکی تھی-

ہمایوں—— ہمایوں- وہ محمل کے آگے بھاگتی ہوئی ہمایوں کے لاؤنج میں داخل ہوئی تھی-اور اسے آوازیں دیتی سیڑھیاں چڑھنے لگی-

ہمایوں؟

وہ آگے پیچھے گول سیڑھیوں کے دہانے رکی تھیں- ہمایوں کمرے کی بیرونی دیوار کے ساتھ لگا زمین پہ بیٹھا تھا-خون آلودہ چھری اس کے ایک طرف رکھی تھی-ہمایوں تم ٹھیک ہو؟ وہ پریشان سی گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھی ، اس نے جیسے چونک آنکھیں کھولیں-

تم ادھر۔۔۔۔۔۔۔۔؟اپنے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی فرشتے سے اس کی نظر کے پیچھے کھڑی محمل پہ جا رکی-

مجھے محمل نے بتایا کہ-

فرشتے تم جاؤ اس بے وقوف لڑکی کو بھی لے جاؤ-

مگر ہمایوں-

میں نے احمر کو کال کر دیا ہے، پولیس پہنچنے والی ہے،تم دونوں کی ادھر موجودگی ادھر ٹھیک نہیں ہے، جاؤ۔۔۔۔

درد کی شدت سے بدقت بول پا رہا تھا-

مگر ۔۔۔۔۔ فرشتے نے تذبذب سے گردن موڑ کر محمل کو دیکھا جو سفید پڑتا چہرہ لیے ادھر کھڑی تھی-اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا-وہ اس وقت کیا کرے-

میں نے کہا نہ جاؤ-وہ گھٹی گھٹی آواز میں چلایا تھا-

اچھا وہ گھبرا کر کھڑی ہوئی-

نہیں میں نہیں جاؤں گی-بے شک مجھے پولیس پکڑ لے مگر میں-

محمل جاؤ!!!!!!! وہ زور سے چیخا تھا-

چلو محمل-“فرشتے نے جیسے فیصلہ کر کے اس کا ہاتھ پکڑا اور سیڑھیاں اترنے لگی-

ہمایوں میں نے جان بوجھ کے نہیں کیا آئی ایم سوری-۔۔ آئی ایم رئیلی- فر شتے اس سے آگے اس کا ہاتھ کھینچتی ہوئی سیڑھیاں اتر رہی تھی-مگر وہ اسی طرح گردن موڑ کر ہمایوں کو دیکھتی روہانسی سی کہے جا رہی تھی-

جسٹ گو!وہ وہی سے جھنجھلا کر بولا تھا – وہ اب سیڑھیوں کے درمیان میں تھی-وہاں اسے ہمایوں کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا، آنسو اس کی آنکھوں سے ابل پڑے تھے – فرشتے اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے باہر لے آئی تھی-

تم کیوں گئی اس کے گھر محمل؟مجھے بتاؤ، ادھر کیا ہوا تھا ؟مسجد کے گیٹ پر فرشتے نے پوچھا تو اس نے اپنا ہاتھ زور سے چھرایا-

محمل ! ناراض مت ہو- ابھی وہاں میری اور تمہاری موجودگی ٹھیک نہیں ہے-

وہ ادھر مر رہا ہے اور آپ۔ اس کی آنکھوں سے متواتر آنسو گر رہے تھے-

وہ ابھی اسے ہسپتال لے جائیں گے- زخم بہت زیادہ نہیں تھا، وہ ٹھیک ہو جاۓ گا مگر تم نے کیوں مارا اسے؟

بھلا یوں ہمایوں کو مار سکتی ہوں-میں کر سکتی ہوں ایسا؟وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی-فرشتے بری طرح چونکی تھی-محمل کے چہرے پہ چھایا حزن ملال اور آنسو-وہ عام آنسو نہیں تھے-میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا ایسا-آئی سوئیر-

اچھا اندر آؤ،آرام سے بات کرتے ہیں-اس نے خود کو سنبھال کر کہنا چاہا مگر وہ کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھی-

انہوں نے بھی یہی کہا تھا- میرا قصور نہیں تھا- وہ اسی طرح گیٹ پہ کھڑی روۓ چلی جا رہی تھی- ، وہ ٹھیک تو ہو جائے گا فرشتے؟

ہوں-فرشتے نے شاید اس کی بات نہیں سنی تھی بس گم صم اس کی آنکھوں سے گرتے آنسو دیکھ رہی تھی-وہ واقعی عام آنسو نہیں تھے-

میں گھر جا رہی ہوں پلیز-آپ مجھےہمایوں کے بارے میں بتاتی رہیئے گا-

اچھا-اس نے غائب دماغ سے سر ہلا دیا-

محمل اب درختوں کے باڑ کے ساتھ دوڑتی ہوئی دور جا رہی تھی- وہ جیسے نڈھال سی گیٹ سے لگی یک ٹک اسے دیکھے گئی–

ہاں وہ آنسو بہت خاص تھے-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہسپتال کا ٹائلز سے چمکتا کاریڈور خاموش پڑا تھا-

کاریڈور کے اختتام پر وہ بینچ پہ سر جھکائے بیٹھی تھی-

محمل جو دوڑتی ہوئی ادھر آرہی تھی-

اسے بیٹھے دیکھ کر لمحے بھر کو ٹھٹکی رکی،پھر بھاگتی ہوئی اس کے قریب آئی-

فرشتے-فرشتے-“

فرشتے نے ہاتھوں میں گرا سر اٹھایا”وہ کیسا ہے؟

محمل اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھی اور دونوں ہاتھ اس کے گھٹنوں پہ رکھے-

بنائیں نا، وہ کیسا ہے؟وہ بے قراقری سے اس کی سنہری آنکھوں میں دیکھتی جواب تلاش کر رہی تھی،

ٹھیک ہے – زخم زیادہ گہرا نہیں ہے-وہ بھی محمل کی بھوری آنکھوں میں کچھ تلاش کر رہی تھی-

میں اس سے مل سکتی ہوں؟

ابھی وہ ہوش میں نہیں ہے-

کیوں؟وہ تڑپ کر بولی تھی،وہ فجر کا وقت تھا،اور جیسے ہی فرشتے نے اسے اطلاع دی تھی-وہ بھاگتی ہوئی آئی تھی-

ڈاکٹرز نے خود اسے سلایا رکھا ہے-وہ ٹھیک ہوجائے گا محمل تم پریشان نہ ہو-

میں کیسے پریشان نہ ہوں؟َ میں نے ان کو چھری ماری ہے- میں ۔

ایسا کیا ہوا تھا محمل؟تم نے کیوں کیا ایسے؟

میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا- میں ان سے پوچھنے گئی تھی-وہ لب کچلتی ڈبڈباتی آنکھوں سے کہتی چلی گئی-فرشتے اسی تھکے تھکے انداز میں اسے دیکھ رہی تھی-

تم مجھ سے پوچھ لیتی محمل! اس کو۔۔۔۔۔۔۔ خیر چھوڑ دو کوئی بات نہیں-

چند لمحے یونہی سرک گئے وہ اسی طرح فرشتے کے سامنے فرش پر دوزانوں بیٹھی تھی-اس کے ہاتھ ابھی تک فرشتے کے گھٹنوں پر تھے-بہت دیر بعد اس نے خاموشی کو چیر دیا-

آپ نے کہا آپ آغآ ابراہیم کی بیٹی ہیں؟

ہاں میں آغآ ابراہیم کی بیٹی ہوں-

میرے ابا کی،،،،،،،، اس کا گلا رند گیا-

تمہیں یہ انہونی کیوں لگتی ہے؟سوائے تمہارے، تمہارے سب بڑوں کو علم ہے-تمہاری امی کو بھی-

امی کو بھی؟اسے جھٹکا لگا تھا-

ہاں-ابا مجھ سے ملتے تھے–میری امی ان کی فرسٹ وائف تھیں- ڈائیورس کے بعد امی اور ابا الگ ہوگئے تھے- پھر انہوں نے تمہاری امی سے شادی کی- دونوں ان کی پسند کی شادیاں تھیں،ہے نا عجیب بات؟خیر مجھ سے وہ ہر ویک اینڈ پہ ملنے آتے تھے، میں اپنے چچاؤں سے متعارف تو نہ تھی مگر وہ سب جانتے تھے کہ میں کون ہوں، کدھر رہتی ہوں مگر ابا کی ڈیتھ کے بعد انہوں نے مجھے تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا میں بہت دفعہ اپنا حق مانگنے گئی- مگر وہ نہیں دیتے- ابا کی پہلی شادی خفیہ تھی، سواۓ ہمارے بڑوں کے خاندان میں کسی کو علم نہ تھا تم سے بھی چھپا کر رکھا گیا کہ کہیں تم میرے ساتھ مل کر حصہ نہ مانگنے کھڑی ہوجاؤ-

آپ نے کیس کیوں نہیں کیا ان پہ؟َبہت دیر بعد وہ بول پائی تھی-

مجھے جائیداد سے حق نہیں رشتوں سے حق چاہیئے-محمل میں بہت دفعہ تمہارے گھر پہ گئی ہوں مگر اندر داخلہ – خیر یہ لمبی کہانی ہے،کئی برسوں سے اپنے حق کی جنگ لڑ رہی ہوں- وارث اللہ نے بناۓ ہیں، میں ابا کی وارث ہوں-یہی سوچ کر اب میں جائیداد سے حصہ مانگتی ہوں، مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بات ادھوری چھوڑ گئی-

آپ کو پتہ تھا میں آپ کے بارے میں نہیں جانتی؟

ہاں مجھے پتہ تھا-میں نے جب بھی تم سے ملنے کی کوشش کی، کریم تایا نے یہی کہہ کر روک دیا کہ محمل ذہنی طور پہ ڈسٹرب ہوجائے گی اور ابا سے نفرت کرے گی،پھر میں نے صبر کر لیا- میں جانتی تھی جو رب بن یامیں کو یوسف علیہ السلام کے پاس لا سکتا ہے وہ محمل کو بھی میرے پاس لے آئے گا- وہ ہلکا سا مسکرائی تھی- محمل کو لگا اس کی سنہری آنکھیں ببھیگنے لگی تھیں-

فواد بھائی ان کا کیس-

ہمایوں نے مجھے بتایا تھا کہ میرے کزن فواد نے اس کے ساتھ کسی لڑکی محمل کا معاملہ طے کیا ہے -کم عمر ہے اور خوبصورت بھی- میرا دل تب ہی سے کھٹک گیا تھا-مگر ہمایوں ماننے کو تیار نہیں تھا کہ فواد تمہارے ساتھ یہ کر سکتا ہے، اسے گمان تھا وہ کوئی اور لڑکی ہوگی مگر جس لمحے میں نے مسجد کی چھت پہ تمہیں دیکھا تھا میں تمہیں پہچان گئی تھی-

آپ نے تو مجھے کبھی نہیں دیکھا تھا ،پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھا تھا، ایک دفعہ تمہارے اسکول آئی تھی تم سے ملنے-بینچ پہ بیٹھتی تمہیں دیکھتی ہی رہی، تم الجھی الجھی چڑچڑی سی لگ رہی تھی- مجھ سے تمہیں مزید ذہنی ازیت نہیں دی گئی، سو واپس پلٹ گئی-

فرشتے تھک کر چپ ہوگئی-شاید اب اس کے پاس کہنے کو کچھ نہ بچا تھا، وہ یاسیت سے اسے دیکھے گئی جو بہت تھکی تھکی نظر آرہی تھی، بہت دیر بعد اس نے پھر لب کھولے-

تم خوش قسمت ہو محمل!کہ تم رشتوں کے درمیاں رہی ہو-تم یتیم نہیں رہی ہو- یتیموں والی زندگی تو میں نے گزاری ہے-اس کے باوجود میں نے کبھی یتیمی کا لیبل خود پہ نہیں لگایا- میری خالہ اور ہمایوں یہی تھے میرے رشتے اور اب میرے پاس کھونے کو مزید رشتے نہیں بچے ، ایک چیز مانگوں تم سے؟کبھی مجھے اس آزمائش میں مت ڈالنامیں مزید رشتے نہیں کھونا چاہتی-

اے ایس پی صاحب کے ساتھ آپ ہیں؟آواز پہ ان دونوں نے چونک کے سر اٹھایا- سامنے یونیفارم میں ملبوس نرس کھڑی تھی-

جی- محمل اس کے گھٹنوں سے ہاتھ ہٹاتی بے چینی سے گھبرا کے اٹھی-

اے ایس پی صاحب کے ساتھ آپ ہیں؟ آواز پہ ان دونوں نے چونک کے سر اٹھایا- سامنے یونیفارم میں ملبوس نرس کھڑی تھی-

جی- محمل اس کے گھٹنوں سے ہاتھ ہٹاتی بے چینی سے اٹھی-

ان کو ہوش آگیا ہے، اب خطرے سے باہر ہیں۔آپ ان کی؟

میں۔۔۔۔ میں ان کی فرینڈ ہوں-اس نے جلدی سے فرشتے کی طرف اشارہ کر کے بتایا یہ ہمایوں صاحب کی بہن ہیں-

بہن؟اس نے چونک کر محمل کو دیکھا، مگر وہ نرس کی طرف متوجہ تھی-بہن؟وہ ہولے سے زیر لب بڑبڑائی- پھر ہلکا سا نفی میں سر ہلایا-وہ کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر محمل نرس کے پیچھے جارہی تھی- اس نے کچھ بھی نہ سنا-

وہ خالی ہاتھ بیٹھی رہ گئی-اس کی سنہری آنکھوں میں شام اتر آئی تھی، محمل وہ شام نہ دیکھ سکی تھی-وہ دروازہ کھول کر ہمایوں کے کمرے میں داخل ہورہی تھی-

وہ بیڈ پہ آنکھ موندے لیٹا تھا، اور چادر منہ پہ اوڑھی تھی –

آہٹ پہ قدرے نقاہت سے آنکھیں کھولے اسے دیکھ کر حیران رہ گیا-

محمل!

وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے سامنے جا رکی-

بھورے سلکی بالوں کی اونچی پونی ٹیل بنائے فیروزی شلوار قمیض ہم رنگ دوپٹہ شانوں پہ پھیلائے وہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی-

آئی ایم سوری ہمایوں! آنسو آنکھوں سے پھسل پڑے تھے-وہ فقت مسکرایا-

ادھر آؤ-

وہ چند قدم آگے برھی- اتنی غصے میں کیوں تھیں-

مجھے معاف کردیں پلیز-اس نے بے اختیار دونوں ہاتھ جوڑ دئیے- ہمایوں نے بایاں ہاتھ اٹھایا اور اس کے بندھے ہوئے ہاتھوں کو تھام لیا-

تم نے کیوں کہا، تمہیں مجھ سے کوئی امید نہیں؟

تو کیا رکھتی؟اس کے دونوں ہاتھ اور ہمایوں کا ہاتھ اوپر تلے ایک دوسرے میں بند ہوگئے تھے-

تمہیں لگتا ہے میں بیچ راہ میں چھوڑ دینے والوں میں سے ہوں؟

کیا نہیں ہیں؟آنسو اسی طرح اس کی آنکھوں سے ابل رہے تھے-

کیوں اتنی بدگمان رہتی ہو مجھ سے؟

بدگمان تو نہیں بس۔۔۔۔

پھر چھری کیوں لائی تھیں؟تمہیں لگتا تھا تم میرے گھر غیر محفوظ ہوگی؟ وہ نرمی سے کہہ رہاتھا-

آپ مجھے معاف کردیں پلیز،آپ نے معاف کردیا تو اللہ بھی مجھے معاف کردے گا-

کہہ کہ وہ لمحے بھر کو خود بھی چونک گئی- آخری فقرہ ادا کرتے ہوئے دل میں عجیب سا احساس ہوا تھا-ایک دم اس نے اپنے ہاتھ چھڑاۓ تھے،یہ سب ٹھیک نہیں تھا-

آپ آرام کریں، مجھے مدرسہ بھی جانا ہے-وہ دروازے کی طرف لپکی تھی-

مت جاؤ-وہ بے اختیار پکار اٹھا تھا-

میں گھر سے مدرسہ کا کہہ کر نکلی تھی،اگر نہ گئی تو یہ خیانت ہوگی اور پل صراط پہ خیانت کے کانٹے ہوں گے،مجھے وہ پل پار کرنا ہے-

تھوڑی دیر رک جاؤ گی تو کیا ہوجائے گا؟وہ جھنجھلایا تھا-

یہ حقوق العباد کا معاملہ اور ۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ٹھیک ہے مادام آپ جا سکتی ہیں-

وہ مسکراہٹ دبا کر بولا تو اسے لگا وہ کچھ زیادہ ہی بول گئی ہے-

سوری-ایک لفظ کہہ کر دروازہ کھول کر باہر نکل آئی-

فرشتے اسی طرح بینچ پہ بیٹھی تھی-آہٹ پر سر اٹھایا-

میں چلتی ہوں فرشتےمجھے مدرسے جانا ہے،نا محسوس انداز میں اس نے اپنا ہاتھ دوپٹے کے اندر کیا کہ اس پہ وہ کسی کا لمس نہ دیکھ لے-

مل لیں ہمایوں سے؟اس کی آواز بہت پست تھی–ہاں اس نے بے اختیار نگاہیں چرائیں فرشتے اسی طرح گردن اٹھا کر اسے دیکھتی جانے اس کے چہرے پہ کیا کھوج رہی تھی- وہ جیسے گھبرا کر جانے کو پلٹی-

محمل سنو!” وہ جیسے بے چینی سے پکار اٹھی اور اس سے پہلے کہ وہ پلٹتی اس نے نفی میں سر ہلاتے دھیرے سے کہا-نہیں کچھ نہیں جاؤ-

جاؤ تمہیں دیر ہورہی ہے-

اوکے السلام علیکم -وہ راہداری میں تیز تیز قدم اٹھاتی دور ہوتی گئی-فرشتے نے پھر سے سر ہاتھوں میں گرا لیا-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس کا دل بہت بوجھل سا ہورہا تھا-مدرسہ آ کر بھی اسے سکون نہ مل رہا تھا-اسے تھوڑی دیر ہوگئی تھی-اور تفسیر کی کلاس وہ مس کر چکی تھی-سارا دن وہ یونہیں مضحل سی پھرتی رہی-بریک میں سارہ نے اسے جا لیا-وہ برآمدے کے اسٹیپس پہ بیٹھی تھی-گود میں کتابیں رکھے چہرے پہ بیزاری سجائے-

تمہیں کیا ہوا ہے؟سارہ دھپ سے ساتھ آ بیٹھی-

پتا نہیں-وہ جھنجھلائے ہوئے گود میں رکھی کتاب کھولنے لگی-

پھر بھی کوئی مسئلہ ہے؟

ہاں ہ-

کیا ہوا ہے؟

اللہ تعالی۔۔۔۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔۔۔ وہ سر جھٹک کر صفحے پلٹنے لگی-

بتاؤ نا؟

اللہ تعالی ناراض ہیں،دیٹس اٹ!زور سے اس نے کتاب بند کی-

اوہو – تم خواہ مخواہ قنوطی ہورہی ہو-اللہ تعالی کیوں ناراض ہونگے بھلا؟

بس ہیں نا!

اتنی مایوسی اچھی نہیں ہوتی- تمہیں کیسے پتہ کہ وہ ناراض ہیں؟

ایک بات بتاؤ!وہ جیسے کوفت زدہ سی اس کیطرف گھومی-اگر تم چوبیس گھنٹے کسی کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہو،گھر میں داخل ہوتے ہی تمہیں اس شخص کا موڈ دیکھ کر پتہ نہیں چل جاتا کہ وہ ناراض ہے؟

بھلے وہ منہ سے کچھ نہ کہے،بھلے تمہیں اپنی غلطی بھی سمجھ میں نہ آرہی ہو مگر تم جان لیتی ہو کہ ماحول میں تناؤ ہے اور پھر تم دوسروں سے پوچھتی پھرتی ہو کہ اسے کیا ہوا ہے؟اور پھر تم اپنی غلطی سوچتی ہو-میں بھی اس وقت یہی کر رہی ہوں سو مجھے کرنے دو!

مگر محمل”

تمہیں پتا ہے اتنے عرصے سے میں روز ادھر آکر قرآن سنتی تھی-آج میری تفسیر کی کلاس مس ہوگئی ہے-آج میں قرآن نہیں سن سکی-تمہیں پتہ ہے کیوں؟کیونکہ اللہ تعالی مجھ سے ناراض ہیں،وہ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے- سو ابھی مجھے اکیلا چھوڑ دو!

سارہ کے جواب کا انتظار کیے بغیر وہ کتابیں سنبھالتی اٹھی اور تیز تیز قدموں سے چلتی اندر آگئی-

پرئیر ہال خالی پڑا تھا-بتیاں بجھی تھیں-وہ کھڑکی کے ساتھ آ بیٹھی-کھڑکی کے شیشے سے روشنی چھن کر اندر آرہی تھی-اس نے دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے-

اللہ تعالی۔۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الفاظ لبوں پہ ٹوٹ گئے-آنسو ٹپ ٹپ گالوں پہ گرنے لگے-اس نے دعا کے لیے اٹھتے ہاتھوں کو دیکھا-یہ ہاتھ چند گھنٹے پہلے ہمایوں کے ہاتھ میں تھے-لڑکے لڑکی ہاتھ پکڑنا تو اب عام سی بات ہوگئی تھی-مگر قرآن کی طالبہ کے لیے وہ عام سی بات نہ تھی -وہ جیسے جذبات کے ریلے میں بہہ آئی کہ خیال ہی نہ آیا کہ اسے یوں تنہا کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیئے-ہمایوں نے خود کو کیوں نہ روکا؟ مگر نہیں وہ ہمایوں کو کیوں الزام دے؟وہ تو قرآن کا طالب علم نہ تھا،طالبہ تو وہ تھی-سمعنا واطعنا (ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی)کا وعدہ تو اس نے رکھا تھا-پھر؟

آنسو اسی طرح اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے-وہ سر جھکائے آج کا سبق کھولنے لگی-

اللہ تعالی پلیز مجھے معاف کردے ۔ مجھے ہدایت پہ قائم رکھ

وہ دل ہی دل میں دعا مانگتے ہوئے مطلوبہ صفحہ کھولنے لگی

کس طرح اللہ اس قوم کو ہدایت دے سکتا ہے جو ایمان لانے کے بعد کفر کریں

اس کے آنسو پھر سے گرنے لگے ۔ اس کا رب اس سے بہت ناراض تھا اسکی معافی کافی نہ تھی ۔ وہ سسکیوں کے درمیان پھر سے استغفار کرنے لگی

اور انہوں نے رسول کے برحق ہونے کی گواہی دی تھی اور انکے پاس روشن نشانیاں آئی تھیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

وہ جیسے جیسے پڑھتی جارہی تھی اس کا رواں رواں کانپنے لگا تھا ۔ قران وہ آئینہ تھا جو بہت شفاف تھا ۔ اس میں سب کچھ صاف نظر آتا تھا ۔ اتنا صاف کہ کبھی کبھی دیکھنے والے کو خود سے نفرت سی ہونے لگتی تھی ۔

ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ بے شک ان پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور سب کے سب لوگوں کی ۔ ہمیشہ رہنے والے ہیں اس میں ، نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی وہ مہلت دیے جائیں گے ۔

اس نے قران بند کردیا ۔ یہ خالی زبانی استغفار کافی نہ تھا ۔ اس نے نوافل کی نیت باندھی اور پھر کتنی ہی دیر وہ سجدے میں گر کر روتی رہی۔ جس کے ساتھ ہر پل رہو جو رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہو اسکی ناراضی دور کرنے کے لیے اتنا ہی کوشش کرتا ہے جتنی وہ اس سے محبت کرتا ہے

جب دل کو کچھ سکون آیا تو اس نے اٹھ کر آنسو پونچھے اور قران اٹھا کر ٹھیک اسی آیت کو کھولا جہاں سے چھوڑا تھا ۔ آیت روز اول کی طرح روشن تھی ۔ مگر اس کے بعد جن لوگوں نے توبہ کرلی۔۔۔۔۔ (اسکا دل زور سے دھڑکا ) اور انہوں نے اصلاح کرلی تو بے شک اللہ بخشنے والا ، مہربان ہے

بہت دیر سے روتے دل کو ذرا امید بندھی ۔ ذرا قرار آیا

یہ توبہ کی قبولیت کی نوید تو نہ تھی ، مگر امید ضرور تھی ۔ اس نے آہستہ سے قران بند کیا ۔ میڈم مصباح کہتی تھیں اگر قران کی آیات میں آپ کے لیے ناراضی کا اظہار ہو تو بھی بخشش کی امید رکھا کریں کم از کم اللہ آپ سے بات تو کررہا ہے ۔

وہ ٹھیک ہی کہتی ہیں ۔ محمل نے اٹھتے ہوئے سوچا تھا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مہتاب تائی نے کمرے کے کھلے دروازے سے اندر جھانکا-

محمل سے کہو شاپنگ کے لیے چلے-اس کے جوتے کا ناپ لینا ہے-ورنہ بعد میں خود کہے گی کہ پورا نہیں آیا-

وہ بیڈ پر کتابیں کھولے بیٹھی تھی-جبکہ مسرت الماری سے کچھ نکال رہی تھی-تائی کی آواز پر دونوں نے بری طرح چونک کر دیکھا تھا،جو اسے نظر انداز کیے مسرت سے مخاطب تھی-

(تو وہ وسیم والا قصہ ابھی تک باقی ہے؟)اس نے کوفت سے سوچا تھا-پچھلے کچھ دنوں میں پے درپے واقعات نے اسے وہ معاملہ بھلا دیا تھا-یہ بھی کہ حسن کی مخالفت ابھی برقرار تھی-“مگر تائی اماں میں انکار کر چکی ہوں-

لڑکی! میں تمہاری ماں سے بات کر رہی ہوں-اس کا لہجہ نرم مگر مضبوط تھا-

مسرت؟اس سے کہو تیار ہوجائے، میں گاڑی میں اس کا ویٹ کر رہی ہوں-وہ کھٹ کھٹ کرتی وہاں سے چلی گئیں-اس نے بے بسی سے ماں کو دیکھا-وہ اس سے بھی زیادہ بے بس نظر آرہی تھیں-

اماں آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی چلی جاؤ محمل!ورنہ وہ ہنگامہ کر دیں گی-

یہ سمجھتی کیوں نہین ہیں؟وہ زچ سی ہوکر کتابیں رکھنے لگی-

شاید حسن کچھ کر سکے-مجھے حسن سے بہت امید ہے-“

اور مجھے اللہ سے ہے! وہ کچھ سوچ کر عبایا پہننے لگی-پھر سیاہ حجاب چہرے کے گرد لپیٹا اور پن لگائی-خواہ مخواہ ہنگامہ کرنے کا فائدہ نہ تھا، چلی ہی جائے تو بہتر ہے-باقی بعد میں دیکھا جائے گا-

لاؤنج میں سیڑھیوں کے پاس لگ آئینے کے سامنے وہ رکی -ایک نظر اپنے عکس کودیکھا-سیاہ حجاب میں سنہری چہرہ دمک رہا تھا-اونچی پونی ٹیل سے حجاب پیچھے سے اٹھ سا گیا تھا وہ بہت اچھا لگ رہا تھا-وہ یونہی خود کو دیکھتی پلٹی ہی تھی کہ سیڑھی اترتے حسن پہ نظر پڑی-

کدھر جا رہی ہو؟

تائی اماں کے ساتھ شادی کی شاپنگ پہ-

تم راضی ہو محمل؟وہ بھونچکا سا اس کے قریب آیا-وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹی

اس گھر میں مجھے اپنی رضا سے اس فیصلے کا حق نہیں ملا حسن بھائی-

وہ کتنے ہی لمحے خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا-پھر آہستہ سے لب وا کیے-

ہم کورٹ میرج کر لیتے ہیں-

اور محمل کو لگا اس نے تھپڑ دے مارا ہے-

آپ کو پتہ ہے آپ کیا کہہ رہے ہو؟وہ بمشکل ضبط کر پائی تھی-

ہاں میں تمہیں اس دلدل سے نکالنے کی بات کر رہا ہوں-

آپ کورٹ میرج کی بات؟ اناللہ وانا الیہ راجعون-میں سوچ بھی نہین سکتی تھی کہ آپ مجھ سے یہ بات کریں گے-

تمہیں اعتراض کیوں ہے محمل!یہ زبردستی تمہاری شادی وسیم سے کردیں گے اور تم ۔۔۔۔۔۔۔

حسن بھائی پلیز،آپ کو پتہ ہے کورٹ میرج کیا ہوتی ہے؟سرکاری شادی،کاغذوں کی شادی-میں ایسی شادی کو نہیں مانتی جس میں لڑکی کے ولی کی مرضی شامل نہ ہو-

اور میں کیون یوں چھپ کر شادی کروں گی؟نہ اپ سے نہ وسیم سے-میرا رستہ چھوڑیں-وہ بے بس سا سامنے سے ہتا تو وہ تیزی سے باہر نکل گئ-

گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ بیٹھی تائی مہتاب اس کا انتظار کر رہی تھی-وہ اندر بیٹھی اور دروازہ ذرا زور سے بند کیا-

اسی پل ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر کوئی اندر بیٹھا-اس نے ڈرائیور سمجھ کر یونہی بیک ویو میں دیکھا تو جھٹکا سا لگا-

وہ وسیم تھا-اپنے ازلی معنی خیز انداز میں مسکراتے،وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا-اسے لگا اس سے غلطی ہوچکی ہے،مگر اب کیا کیا جا سکتا تھا،،؟

لب کچلتی وہ کھڑکی سے باہع دیکھنے لگی-

تائی مہتاب منگنی کی شاپنگ کر رہین تھیں یا شادی کی،وہ کچھ نہ سمجھ سکی-بس چپ چاپ ان کے ساتھ میٹرو میں چلی آئی-وہ جہاں بیٹھی ان کے ساتھ بیٹھی گئی-

سنا ہے تم نے بہت شور ڈالا تھا-تائی اٹھ کر ایک شو کیس کے قریب گئیں تو وہ اس کے ساتھ صوفے میں دھنس کر بیٹھا- محمل بدک اٹھی-

ارے بیٹھو بیؔٹھو تم سے بات کرنی ہے-

شاپ کی تیز پیلی روشنیاں وسیم کے چہرے پہ پڑ رہی تھیں،گریبان کے کھلے بٹن ، گردن سے لپٹی چین،اور شوخ رنگ کی شرٹ اف،اسے اس سے کراہت آئی تھی-

تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو کس سے کرنا چاہتی ہو؟ وہ استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ پوچھ رہا تھا- اس کے ذہن کے پردے پہ ایک چہرہ سا ابھرا-

ایک اندرونی خواہش-ایک دبتی دباتی محبت کی ادھوری داستان،اس نے بے اختیار سر جھٹکا-

نہ اپ سے نہ کسی اور سے-آپ میرا پیچھا چھوؔر کیوں نہیں دیتے؟

ایسے نہیں محمل ڈئیر،ابھی تو ہم نے بہت وقت ساتھ گزارنا ہے،وہ کھڑے ہو کر اس کے قریب ایا-وہ پھر دو قدم پیچھے ہتی دکان لوگوں سے بھری ہوئی تھی-پھر بھی محمل کو اس کے بے باک انداز سے خوف اتا تھا-نہ معلوم وہ کیا کر ڈالے-

اچھا ادھر آؤ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے-وہ قدم اٹھاتا اس کے نزدیک ارہا تھا”ادھر آئس کریم پارلر میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں-

تائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تائی اماں- بے بس سی وہ بھیڑ میں تائی مہتاب کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھنے لگی-

تمہاری تائی کو ان کی کوئی فرینڈ مل گئی ہے-وہ ابھی نہیں ائیں گی-تم ادھر قریب تو آؤ نا محمل ڈئیر-وسیم نے ہاتھ بڑھا کر اس کی کلائی تھامنا چاہی،اس کی انگلیاں اس کے ہاتھ سے ذرا سی مس ہوئیں- محمل کو جیسے کرنٹ لگا تھا،ہاتھ میں پکڑا ہیند بیگ اس نے پوری قوت کے ساتھ وسیم کے منہ پر دے مارا-

بیگ اس کی ناک پہ زور سے لگا تھا،وہ بلبلا کر پیچھے ہٹا-شور کی آواز پر بہت سے لوگ ادھر متوجہ ہوئے، سیلز بوائے کام چھوڑ کر ادھر لپکے-

یو ۔۔۔۔۔۔۔۔ یو بچ ۔۔۔! وسیم غصۓ سے پاگل ہوگیا-ناک پہ ہاتھ رکھے وہ جارحانہ انداز میں اس کی طرف لپکا ہی تھا کہ ایک لڑکے نے اسے پیچھے سے پکڑ لیا-

کیا تماشا ہے؟ کیوؐں بچی کو تنگ کر رہے ہو؟

میڈم کیا ہوا ہے؟یہ بندہ تنگ کر رہا تھا آپ کو؟

بہت سی اوازیں آس پاس ابھریں-کچھ لڑکون نے وسیم کو بازوؤں سے پکڑ رکھا تھا-

یہ مجھے تنگ کر رہا تھا اکیلی لڑکی جان کر-اس نے بمشکل خود کو سنبھالا اور کہہ کر پیچھے ہٹ گئی-اسے معلوم تھا اب کیا ہوگا-اور واقعی وہی ہوا،اگلے ہی لمحے وہ لڑکے وسیم پر پل پڑے-وہ گالیاں بکتا خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا،مگر وہ سب بہت زیادہ تھے-مارو اسے اور مارو شریف لڑکیوں کو چھیڑتا ہے-

ایک عمر رسیدہ صاحب ہجوم کے پاس کھرے غصۓ سے کہہ رہے تھے-

زور سے مارو اسے عبرت کی مثال بنا دو-

اپنے گھر ماں بہن نہیں ہے کیا۔۔۔؟

اور وہ ماں جب تک دوکان میں لگے ہجوم تک پہنچی،وہ وسیم کو مار کر ادھ پوا کر چکے تھے- تائی اس کی طرف لپکیں-تھوڑی ہی دور صوفے پر محمل بیٹھی تھی-ٹانگ پہ ٹانگ رکھے مطمئن سی وسیم کو پٹتے دیکھ رہی تھی-

محمل یہ اسے کیوں مار رہے ہیں؟

کیوں کہ اس کے باپ کے کہنے پر کبھی مجھے ایسے ہی مارا گیا تھا-

بکواس مت کرو-

بڑی دلچسپ بکواس ہے یہ،آپ بھی انجوائے کریں نا۔۔۔۔ وہ محفوظ سی وسیم کو پٹتے دیکھ رہی تھی- شاپ کا بوکھلایا ہوا مینجر اور سیلز بوائز،مشتعل نوجوانوں کو چھروانے کی کوشش کر رہے تھے-

سر پلیز- سر دیکھیں-سیلز بوائز کی منت کے باوجود لڑکے ان کو دیکھنے کی ذحمت ہی نہیں کر رہے تھے-حواس باختہ سی تائی مہتاب ان کی طرف دوڑیں-

میرے بیٹے کو چھوڑو، پڑے ہتو مردعدو! وہ چلا چلا کر ان لڑکون کو ہٹانے کی سعی کر رہی تھیں-

صوفے پہ بیٹھی محمل مسکراتے ہوئے چپس کا پیکٹ کھول رہی تھی-

اب یہ مرتے دم تک مجھے ساتھ نہین لائیں گی-ساری صورتحال سے لطف اندوز ہوتی وہ چپس نکال کر کترنے لگی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس نے دروازہ ہولے سے بجایا- مدھم دستک نے خاموشی میں ارتعاش پیدا کیا-

آجاو محمل! اندر فرشتے کی تھکن زدہ مسکراتی آواز آئی اس نے حیرت دروازہ کھولا-

السلام علیکم- اور آپ کو کیسے پتہ یہ میں ہوں؟

میں تمہاری چاپ پہچانتی ہوں-وہ بیڈ ہر بیٹھی تھی-گھٹنوں پہ لحاف پڑا تھا-ہاتھ میں کوئی کتاب تھی-بھورے سیدھے بال شانون پہ تھے-اور چہرے پہ ذرا سی تکان تھی- محمل اندر داخل ہوئی تو فرشتے نے کتاب سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی-اور ذرا سا کھسک کر جگہ بنائی- آؤ بیٹھو-

نائس روم فرسٹ ٹائم ائی ہوں آپ کے ہاستل ! محمل ستائشی نظریں اطراف میں ڈالتی بیڈ کی پائنتی کے قریب بیٹھی-وہ اسکول یونیفارم میں ملبوس تھی-، جبکہ فرشتے بالکل مختلف گھر والے حلیئے میں تھی-

پھر کیسا لگا ہاسٹل؟

بہت اچھا اور آپ آج اسکول کیون نہیں ائیں؟

یونہی طبیعت ذرا مضحل سی تھی- وہ تکان سے مسکرائی-اس کا چہرہ محمل کو بہت ذرد سا لگا تھا- شاید وہ بیمار تھی-

اپنا خیال رکھا کرین-پھر قدرے توقف سے گویا ہوئی،آپ ہمارے ساتھ ہمار گھر میں جا کر کیوں نہیں رہتیں؟وہ آپ کا بھی گھر ہے آپ کا حق ہے اس پہ،آپ کو اپنے اس گھر میں سے حصہ مانگنا چاہیئے-

تو ان پر زور دیں نا-

کوئی اور بات کرو محمل!

اف! وہ ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئی- مجھے علم ہی نہیں تھا کہ میری ایک بہن بھی ہے اور ساری عمر میں بہن کے لیے ترستی رہی-

ہم لوگوں کے ساتھ کے لیے نہیں ترستے محمل،ہم لوگوں کے ساتھ کی چاہ کے لیے ترستے ہیں،اور اسی چاہ سے محبت کرتے ہیں-وہ لوگ مل جاتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ وہ تو کچھ نہ تھے-سب کچھ تو وہ چاہ تھی جس کی ہم نے صدیوں پرستش کی تھی-

آپ بیمار ہو کر کافی فلسفی ہوگئی ہیں،سو پلیز، اچھا سنیں، ایک بات بتاؤں-وہ پر جوش سی بتانے لگی-کل تائی اماں مجھے وسیم کے ساتھ شاپنگ پہ لے گئیں،اور میں نے اسے شاپ میں لوگوں سے پٹوایا-

بری بات-قرآن کی طالبہ ایسی ہوتی ہے کیا؟

ارے اس نے میرے ساتھ بدتمیزی کی تھی،، اور اسے سبق سکھانے کے لیے یہ ضروری تھا ، یو نو سیلف ڈیفنس! ہمایوں کیسا ہے؟ایک دم اس نے پوچھا اور خود بھی حیران رہ گئی-

اب بہتر ہے-

اوہ شکر الحمد اللہ-وہ واقعتا خوش ہوئی تھی-چہرہ جیسے کھل اٹھا تھا-فرشتے بغور اس کے تاثرات جانچ رہی تھی-

تم اسے پسند کرتی ہو رائٹ؟

اس کی نگاہیں بے اختیار جھک گئیں-رخسار گلابی پڑگئے-اسے توقع نہ تھی کہ فرشتے اتنےآرام سے اسے پوچھ لے گی-

بتاؤ نا-فرشتے ٹیک چھوڑ کر سیدھی ہوئی اور غور سے اس کا چہرہ دیکھا- پتا نہیں!

مجھے سچ بولنے والی محمل پسند ہے-

ہاں شاید-اس نے اعتراف کرتے ہوئے پل بھر کو نگاہیں اٹھائیں-فرشتے ہنوذ سنجیدہ تھی-

“اور ہمایوں؟

ہمایوں؟اس کے لب مسکرا دئے-وہ کہتا ہے وہ بیچ راہ میں چھوڑ دینے والون میں سے نہیں ہے-

وہ سر جھکائے مسکراتی ہوئی بیڈ شیٹ پہ انگلی پھیر رہی تھی-دوسری طرف دیر تک خاموشی چھائی رہی و اس نے چونک کر سر اٹھایا-

فرشتے بالکل خاموش تھی-اس کے دل کو یونہی شک سا ہوا”کہیں فرشتے تو ہمایوں سے ۔۔۔۔۔۔؟آخر وہ دونوں ساتھ پلے بڑھے ہیں-اس کا دل زور سے دھڑکا-

کیا سوچ رہی ہیں؟

یہی کہ جب میں ہمایوں کے لیے تمہارا رشتہ لینے جاؤں گی تو کریم چچا مجھے شوٹ تو نہین کر دیں گے؟آخر میں ہمایوں کی بہن ہوں نا!

اور محمل کھلکھلا کر ہنس دی-سارے وہم شک و شبے ہوا ہو گئے-فرشتے بھلا ایسی فیلنگز کیسے رکھ سکتی تھی؟وہ عام لڑکیوں سے بہت مختلف تھی-

اچھا یہ دیکھو- اس نے کتاب میں سے ایک لفافہ نکالا- ایک لنچ انوی ٹیشن ہے- مجھے انوائٹ کیا ہے نسیم آنتی نے-وہ اماں کی ایک پرانی فرینڈ ہیں،ان ہی کے کلب میں ہ اس سنڈے کو – تم چلوگی-؟

مگر ادھر کیا ہوگا؟

یہ تو مجھے نہیں پتہ-صرف لنچ ہے آنٹی نے کہا اگر میں آجاؤن تو اچھا ہے،اماں کی کچھ پرانی فرینڈز سے بھی مل لوں گی-تم چلوگی؟

شیور! وہ پورے دل سے مسکرائی، اور پھر کچھ دیر بیٹھ کر واپس چلی آئی-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *