Mushaf by Nimrah Ahmad NovelR50633 Mushaf (Episode 06,07)
Rate this Novel
Mushaf (Episode 06,07)
Mushaf by Nimrah Ahmad
اچھا”- وہ متجسس سی تائی کے پاس آئی-
پڑھائی وڑھائی تو اب ختم ہے اور چھت پر تو کبھی بھی نہیں گئی یہ پڑھنے کے لئے- ضرور دال میں کچھ کالا ہے-
اور ان کی سرگوشیوں سے بے خبر وہ باہر ٹیرس پر نکل آئی-آہستہ سے دروازہ بند کیا اور ریلنگ کے ساتھ نیچے زمین پر بیٹھ گئی-کتاب گھتنوں پے رکھے وہ کتنی دیر اس کو دیکھتی رہی-
محرومیوں-نارسائیوں دکھوں کے اس کئی برس پرانے کرب کی اب جیسے انتہا ہو چکی تھی- اس سے اب مزید برداشت نہیں ہوتا تھا غلط ہو یا صحیح وہ زندگی سے اپنا حصہ ضرور وصول کرے گی-
ایک ٹھوس اور حتمی فیصلہ کر کے محمل ابراہیم نے سیاہ جلد والی کتاب پر ہاتھ رکھا-وہ بے حد سرد تھی-ٹھنڈی اور پر سکون-وہ جلد پلٹنے ہی لی تھی کہ ٹیرس کا دروازہ ایک دم دھرام سے کھلا
اس نے گھبرا کر سر اٹھایا-اور ایک لمحے کو زمیں آسمان اس کی نگاہوں میں گھوم گیا-
آغآ جان دونوں چچا تائی مہتاب چچی ناعمہ چچی فضہ لڑکیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مسرت بھی- سب ایک ساتھ باہر آئے تھے
یہ کیا ہو رہا ہے یہاں آغآ جان غصے سے غرائے تھے-محمل کیا کر رہی ہو ادھر-وہ ہکا بکا منہ کھول کر انہیں دیکھتی رہ گئی-
ادھر کیا بیٹھی ہو سامنے آؤ-تائی مہتاب چمک کر بولی-اور اس کی تو جیسے ٹانگوں میں جان ہی نہیں رہی تھی-بمشکل اٹھی اور دو قدم آگے بڑھی-کتاب اسی طرھ ہاتھوں میں پکڑی تھی اور پورا جسم لرز رہا تھا-
وہ آغآ جان میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
میں پوچھ رہا ہوں اتنی رات کو یہاں کیا کر رہی ہو؟
مم میں پڑھ رہی تھی-لفظ لبوں پر ہی دم توڑ گئے-اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں-کیا پڑھ رہی تھی؟ ادھر دکھاؤ-آغآ جان کے لحجے کی سختی کم نہ ہوئی تھی-انہوں نے کتاب لینے کو ہاتھ بڑھایا تو وہ بدک کر پیچھے ہٹی-
کک کک۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کتاب پیچھے کرنا چاہی-اور پھر اس نے دیکھا آغا جان کے پیچھے کھڑی مسرت کی آنکھوں میں آنسو تھے-اور تائی فاتحانہ مسکرئی تھی-
ارے ہم بھی تو دیکھیں بھری رات میں کتابوں میں چھپا کر کونسی خط و کتابت ہورہی ہے-میں تو پہلے ہی کہتی تھی یہ لڑکی کوئی چاند ضرور چڑھائے گی-
اس کے اردگرد جیسے دھماکے ہورہے تھے-
نہیں تائی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی نفی میں سر ہلا رہی تھی- میں نے کچھ نہیں کیا میں تو پڑھ ۔۔۔۔۔۔۔۔
آغا جان نے زور سے اس کے ہاتھ سے کتان چھینی،پڑھ رہی تھی تو دکھاتی کیوں نہیں ہو؟
ایک غصیلی نگاہ اس پہ ڈال کر انہوں نے کتاب اپنے سامنے کی-
میں بھی کہوں کیوں راتوں کو چھت پر آجاتی ہے-کس کے ساتھ منہ کالا کرتی ہے جو اتنی لمبی زبان ہورہی ہے-ارے میں بھی کہوں کوئی تو ہے اس کے پیچھے آغآ صاحب!اسے کہیئے جس مردود کو چٹھیاں ڈالنے یہ یہاں آتی ہے وہ ابھی آئے اور اسے دو بول پڑھوا کر ابھی لے جائے-خاندان بھر میں بدنام کرے گی ہمیں کیا؟
اور اسے لگا آج وہ واقعتا ہار گئی ہے-آغا جان صفحے پلٹ رہے تھے-ہر پلٹتے صفحے ک ساتھ اس کا دل ڈوب رہا تھا- اس نے سر جھکا کر آنکھیں سختی سے میچ لیں-آج وہ اسے یقینا قتل کر ڈالیں گے-وہ سفلی عملیات میں پڑ گئی- کبھی معاف نہیں بخشیں گے-
شرم نہیں آتی تمہیں گٹھیا عورت! آغا جان ایک دم دھاڑے تو اس کی رہی سہی جان بھی نکل گئی-اسے لگا وہ لہرا کے گرنے کو ہے جب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں میں نے کیا کیا ہے؟ تائی کی ہکلاتی آواز نکلی-
محمل نے جیسے کسی خواب سے جا کر سراٹھایا- وہ کھلی کتاب ہاتھ میں پکڑے محمل سے نہیں تائی سے مخاطب تھے-
تمہیں شرم نہیں آئی اس یتیم بچی پر الزام لگا کر ہم سب کو اکٹھا کر کے-ڈوب مرو تم ایسے الفاظ کہنے سے پہلے- وہ اب چھت پر پڑھ بھی نہیں سکتی؟
محمل نے پلکیں زور سے جھپکائیں یہ آغا جان کیا کہہ رہے تھے-
“مگر آغا صاحب وہ اس کتاب میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈوب مرو تم بے دین عورت وہ قرآن پڑھ رہی تھی،تم قرآن کی حرمت کا تو پاس رکھ لیتی- انہوں نے سیاہ کتاب بند کی اسے چوما آنکھوں سے لگایا اور محمل کی طرف بڑھا دیا-
بیٹا نیچے پڑھ لیتی تو سب پریشان نہیں ہوتے- یہ لو ،وہ اسے کتاب تھما کر ایک کٹیلی نگاہ اس عورت پر ڈال کر واپس ہو لیئے-
نہ تو اب چوروں کی طرح پڑھے گی تو بندہ شک تو کرے گا ہی! ورنہ میرا کیا دماغ خراب ہے جہ ایسا کہتی تائی شرمندہ سی پلٹیں-
آغا جان کبھی کبھا انہیں یونہی سب کے بیچ میں جھڑک دیا کرتے تھے-خصوصا جب وہ اپنے رشتے داروں پر بے دریغ پیسے لٹایا کرتی تھی-
“اور نہیں تو کیا سب نادم سے پلٹے تھے-
وہ اسی طرح ساکت سی کتاب ہاتھ میں لیئے کھڑی تھی-ٹیرس خالی ہو چکا تھا- سب جا چکے تھے-پرسکون اور سرخرہ مسرت بھی اور وہ اسی طرح پتھر کا بت بنے وہاں کھڑی تھی-
“اس کتاب کا ہر صفحہ تمہارے گزرے دن کی روداد ہے-
” یہ کتاب کبھی پرانی نہیں ہوگی-
تم سب کو اپنی مٹھی میں کر کے دنیا پر راج کرو گی-
اس سیاہ فام لڑکی کا ایک ایک فقرہ طمانچے کی طرح اس کے منہ پر برس رہا تھا-
تڑاخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تڑاخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تڑاخ
اسے لگا وہ کبی اپنی جگہ سے ہل نہیں سکے گی،یونہی صدیوں اس اندھیرے ٹیرس پر کھڑی رہے گی-؎دھوکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذاق فریب تمسخر قرآن کی بے حرمتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سیاہ فام لڑکی نے کیا نہیں کیا تھا- اتنا بڑا مذاق اس سیاہ فام لڑکی نے ایک پریشان حال لڑکی کو سبز باغ دکھا کر اس کی ہی مقدس کتاب تھما دی-یہ ہوا کیا تھا اس کے ساتھ-
اس کے ہاتھ ابھی تک لرز رہے تھے-نہایت بے یقینی کے ساتھ اس نے سیاہ جلد والی کتاب کو چہرے کے سامنے کیا-
سیاہ جلد صاف تھی- بے داغ’ بے لفظ-اس نے درمیان سے کتاب کھولی-
اوپر عربی کی عبارتیں تھی اور نیچے انگریزی میں-
سب سے اوپر لکھا تھا
الکہف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔the cave
اس نے چند صفحے آگے کھولے
العنکبوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ the spider
اس نے شروع سے دیکھا-
المائدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ the table spread
محمل نے کتاب بندھ کردی-
آغا جان نے ٹھیک کہا تھا وہ قرآن تھا- ان کی مذہبی کتاب مقدس کتاب اور اس فرنگن نے کیسے کیسے قصے گڑ دیئے تھے اس کے ساتھ-
“ذلیل عورت،وہ شاکڈ سے باہر نکلی تو اسے غصہ آگیا تھا-وہ لڑکی تو گھر بیٹی اس پر ہنس رہی ہو گی-اس کا تمسخر اڑا رہی ہوگی- اور وہ بھی کتنی جالدی بے وقوف بن گئی اف۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تیز تیز قدموں سے سیرھی کی طرف لپکی-
“نہ سر پر دوپٹہ نہ وضو نماز اور چلے ہیں قرآن پڑھنے-ہونہہ ۔۔۔۔۔۔ نیچے لاؤنج میں بڑے صوفے پے بیٹھی تائی اسے زینے سے نیچے اترتا دیکھ کر بڑبڑائی-
برے عرصے بعد ؟آغآ جان نے ان کو سب کے سامنے بے عزت کیا تھا اور وہ بھی صرف اور صرف محمل کی وجہ سے انہیں اب کسی نہ کسی طرح غصہ تو اتارنا ہی تھا-مگر محمل کوئی بھی جواب دیئے بغیر سر جھکائے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح پھر وہ جالدی آگئی -سیاہ فام لرکی بہت پہلے سے آکر بینچ پے بیٹھی تھی
اسے دیکھ کر محمل کے قدم تیز ہوگئے
قدموں کی چاپ پر ہی اس نے سر اٹھایا محمل نے دیکھا’ اسے دیکھ کر اس کی سیاہ آنکھوں میں امید کے دئیے جل اٹھے تھے
سڑک خالی تھی دور نارنجی سورج طلوع ہورہا تھا-
محمل اس کے بالکل سامنے آکر کھڑی ہوگئی-سورج کی نارنجی شعاعیں اس کے پیچھے چھپ گئیں،
” تمہیں شرم تو نہیں آئی ہو ی میرے ساتھ ایسا بے ہودہ مذاق کرتے ہوئے- سیاہ فام لڑکی کی نگاہیں اس کے ہاتھ میں پکڑی کتاب پر پڑیں-ایک دم ہی اس کی آنکھوں کی جوت بجھ گئی-
“مصحف واپیس کرنے آئی ہو؟
“مصحف ؟اکھڑی اکھڑی محمل نے ابرو اٹھائی-
ہممم ایرب ورلڈ(عربی دنیا) میں قرآن کو مصحف کہتے ہیں-
تم نے مجھے کیا قصے کہانیاں سنا کر قرآن تھما دیا-یہ کوئی مذاق کرنے کی کتاب تو نہ تھی -یہ تو قرآن تھا-“قرآن نہیں قرآن ہوتا ہے-وہ اداسی سے مسکرائی تو محمل نےشانے اچکائے-
بہر حال تمہیں یہ پریکٹیکل جوک کرکے مجھے شرمندہ کرنے پر شرم آنی چاہیئے-میں تو کیا سوچ رہی تھی اور تم نے مجھے مقدس کتاب تھما دی؟
تو تم کسی غیر مقدس چیز کی توقع کر رہی تھی کیا؟
جی نہیں ،وہ تلملائی پھر قرآن اس کی گود میں رکھا یہ معرے پاس پہلے سے ہے مجھے ضرورت نہیں ہے-
بیٹھ کر بات کر لو-
“میں ٹھیک ہوں وہ اسی طرح سینے پر ہاتھ باندھے اکھڑی اکھڑی سی کھڑی تھی-
اچھا،اس نے پیار سے سیاہ جلد والی مصحف پے ہاتھ پھیرا تو تم نے یہ پڑھ رکھا ہے اس کے لہجے میں صبح کی ساری اداسی سموئی ہوئی تھی-
ہاں اور بچپن میں ہی پڑھ لیا تھا اللہ کا شکر ہے-کہ ہم شروع سے ہی مسلمان ہیں- وہ عادتا جتا کر بولی-اور تمہیں ہماری مقدس کتاب کو لے کر غلط فہمیاں ہین یہ کوئی فال نکالنے والی کتاب نہیں ہے-نہ ہی اس میں معری اور تمہاری سٹوری ہے،،،،،،،، لا حول ولا قوۃ اللہ باللہ-
“اچھا! چلو پھر بیٹھو اور مجھے بتاؤ اس میں کیا کیا ہے؟
” اس میں احکامات ہیں نماز روزے حج زکوۃ کے-وہ اس کے ساتھ بینچ پر بیٹھی کر بہت سمجھداری سے اسے بتانے لگی-اس میں پرانی قوموں کے قصے ہیں قوم نمود قوم عاد اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بنی اسرائیل-
یہ بنی اسرائیل کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
“مطلب؟
وہ ہلکا سا گڑبڑائی-بنی اسرائیل کا مطلب ہوا اسرائیل کے بیٹے وہ بتا رہی تھی یا پوچھ رہی تھی خود بھی نہ سمجھ سکی-
اسرائیل کا مطلب عبداللہ ہوتا ہے ایل اللہ کو کہتے ہیں یہ یعقوب کا نام تھا-
آں ہاں حضرت یعقوب کا قصہ حضرت یوسف کا قصہ سب پڑھ رکھا ہے میں نے،سب پتہ ہے مجھے یوسف اور زلیخا کا قصی تو کورس میں پرھایا گیا یے ہمیں-
یوسف اور کس والا؟سیاہ فام لڑکی کی آنکھوں میں حیرت ابھری-
“یوسف اور زلیخا والا قصہ-
“عزیز مصر کی بیوی کا نام زلیخا تھا؟
کیا نہیں تھا؟وہ کنفیوژڈ ہوگئی-
“کوئی دلیل ہے تمہارے پاس کوئی حجت؟
دلیل حجت؟ وہ ٹکر ٹکر اس کا چہرہ دیکھنے لگی-ہمارے کورس کی گائیڈ بک میں لکھا تھا-
کورس کی گائید بک انسان کی بات ہے اور انسانوں کی بات میں دلیل نہیں ہوتی-دلیل بس قرآن اور حدیث سے بیان کی جاتی ہے’کیونکہ دونوں نازل خداوندی ہوتے ہیں-قرآن اور حدیث میں اور اسرائلیات میں کہیں بھی نہیں بتایا گیا کہ اس عورت کا نام زلیخا تھا-اس کا لہجہ نرم تھا’ مصر کی اس عورت سے ایک جرم سرزد ہوا تھا؛مگر اللہ نے اس کا پردہ رکھ لیا تھا-اس کا فعل تو بتایا پر نام نہیں،پر جس چیز پر اللہ پردہ رکھے وہ کھل نہیں سکتا-مگر ہم نے یوسف و زلیخا کے قصے ہر مسجد و منبر پر جا کے سنائے-ہم کیسے لوگ ہیں؟
ہیں تو کیا اس کا نام زلیخا نہیں تھا؟ وہ ساری خفگی بھلا کر حیرت سے پوچھ رہی تھی-
“اس کا نام ایک راز ہے اور اللہ وہ راز نہیں کھولنا چاہتا-سو یہ ہمیشہ راز ہی رہے گا
“اچھا- اس نے شانے اچکائے-پہلی بار اسے اپنی کم علمی کا احساس ہوا تھا مگر یہ ماننا اس کی انا کی شکست تھی- سو لا پرواہی سے ادھر ادھر دیکھتے بولی-
بہرحال مجھے افسوس ہے قرآن کو لے کر تمہارا کانسیپٹ غلط ہے-یہ کتاب وہ نہیں ہے جیسا تم سمجھتی ہو-
“اور اگر یہ وہ نہ ہوئی جیسا تم اسے سمجھتی ہو تو؟
“میں سہی ہوں مجھے سب پتہ ہے-
“تمہیں جو کوئی اس نور کی طرف بلائے گا تم اسے ایسا ہی کہو گی؟
“مگر تم نے یہ تو نہیں بتایا تھا کہ یہ قرآن ہے-تم نے تو کچھ اور قصے سنئے تھے آخر کیوں؟
” اگر میں تمہیں تبلیغ کرتی تو تم مجھ سے اکتا کر دوہ بھاگ جاتی-
اب بھی تو یہی ہوگا-” وہ جتا کر بولی تو سیاہ فام لڑکی نے مسکرا کر سر جھٹکا-
“لیکن اب تمہاری حجت تمام ہو چکی ہے آگے تمہاری مرضی-
ایک سیاہ مرسڈیز زن کر کے ان کے سامنے سے گزری-تھوڑی دور جا کر اس کے ٹئر چرچرا کر رکے اور وہ تیزی سے ریورس ہوئی-محمل نے چونک کر دیکھا-
ڈرئیونگ سیٹ پر فواد تھا-
وہ حیران سی کھڑی ہوئی-وہ اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کر رہا تھا-ساتھ ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا-
وہ جیسے کھل کے مسکرائی اور بینچ پے رکھا بیگ کندھے پر ڈالا-سیاہ فام لڑکی نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا،اور پھر محمل کی مسکراہٹ کو-
تمہارے پاس دو راستوں کا انتخاب تھا-مصحف یا دل- تم نے اپنا انتخاب کر لیا-مگر مجھے ساری زندگی افسوس رہے گا-کہ میں تمہیں مصحف کی طرف نہیں لا سکی-اب تمہیں جو بھی لے آۓ میرا اس میں کوئی حصہ نہ ہوگا-لیکن میں ہمیشہ تمہارے لیئے دعا کرونگی-
سیاہ مصحف والی کتاب کو سینے سے لگاۓ اپنے بیگ کو کندھے سے لٹکاۓ خالی سڑک پر ایک جانب چل پڑی-محمل نے دیکھا وہ لنگڑا رہی تھی-وہ سر جھٹک کر گاڑی کی طرف چل دی-
جی فواد بھائی؟اسنے فرنٹ سیٹ والے کھلے شیشے سع جھک کر پوچھا-
آؤ بیٹھو-
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ متذبذب ہوئی-گھر تو کالج کا کہہ کر آئی تھی-
کالج کیوں جانا ہے؟
“ایسے ہی فرینڈز گیٹ ٹوگیدر کر رہی ہیں-
“پھر کبھی چلی جانا ابھی بیٹھو-! وہ ھکم دے کر جیسے کچھ سننے کے موڈ میں نہ تھا-وہ مسکراہٹ دبائے بیٹھی اور دروازہ بند کیا-
ونڈ اسکرین کے اس پار سیاہ فام لڑکی لنگڑا کر جاتی ہوئی دور ہوتی جا رہی تھی-
محمل کو نہیں پتہ تھا وہ اسے اس اداس صبح میں آخری بار دیکھ رہی ہے-اس کا نام کیا تھا وہ کدھر سے آئی تھی وہ کچھ نہیں جانتی تھی-مگر اس لمحے اسے جاتے دیکھ کر اسے احساس ہوا کہ وہ بس اسٹاپ پر بس کے لیئے نہیں آتی تھی-اور شاید اس کے بس پکڑ لینے ک بعد یونہی چلی جاتی تھی-
ہم کہاں جا رہے ہیں فواد بھائی؟فواد نے گاڑی آگے بڑھائی تو وہ پوچھ بیٹھی-
“تم مجھے بھائی کہنا چھوڑ نہیں سکتی؟
وہ کیوں؟دھڑکن بے ترتیب ہوئی مگر وہ سادگی سے بولی تھی-
ایسے ہی-
پر ہم جا کہاں رہے ہیں؟
“آفس بتایا تو تھا- اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھے -ذرا سا چہرہ اس کی طرف موڑا اور مسکرایا-
آفس؟اب کے وہ واقعتا حیران ہوئی تھی-مگر آغا جان نے تو منع کیا تھا-
ان سے تو میں نے رسما پوچھا تھا-وہ لاپروا تھا –
اور حسن بھائی نے بھی-
جہنم میں گیا حسن تم آفس جانا چاہتی ہو کہ نہیں؟
” جانا چاہتی ہوں اس کے بگڑنے پر وہ جلدی سے بولی-
وہ کھل کر مسکرادیا-
“ایسے ہی اعتماد سے زندگی گزارو گی تو خوش رہو گی ورنہ لوگ تجھے ہضم کر جائیں گے- زندگی سے اپنا حصہ وصول کرنا سیکھو لڑکی!- وہ بہت موڈ میں ڈرائیو کر رہا تھا-اور وہ یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی-اسے تو کچھ بھی کرنا نا پڑا تھا اور قسمت اس پر مہربان ہوگئی تھی-
اور یہ جوڑا تم نے پہن رکھا ہے میں غالبا پچھلے دو سال سے دیکھ رہا ہوں-
“تین سال سے اس نے تصیح کی-
“امیزنگ-یہ تمہاری کزنز تو 3 بار سے زیادہ جوڑا نہیں پہنتی اور تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ تین سال پہلے عید پر بنوایا تھا-محمل نے کرتے کے دامن پر ہاتھ پھیرتے بغور اسے دیکھا-
“میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ نئے جوڑے بنوا سکوں-آغا جان تو بس عید کے عید کپڑے بنوانے کے پیسے دیتے ہیں- اس کا دل نہ جانے کیوں بھر آیا-آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو پھسلے تھے-
“ارے نہیں محمل ایسے نہیں روتے-اس کے رونے پر وہ پریشان سا ہوگیا اور گاڑی سائیڈ پر رہک دی- ” معرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا-اور جب تک میں ہوں تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے-
اس نے سر اٹھایا تو بھوری آنکھیں بھیگی ہوئی تھی-
اور ابھی آفس نہیں جاتے جناح سپر چلتے ہیں-وہاں سے تمہارے لیئے ڈیزائنر وئر لیں گے-تم بہت خوبصورت ہو محمل-تمہیں خوبصورت چیزیں ہی پہننا چاہیئے-وہ اس کے بہت قریب مخمور سا کہہ رہا تھا- پھر چونکا اور سیدھا ہو کر انگنیشن میں چابی گھمائی- وہ سر جھکاۓ ہتھیلی کی پشت سے گیلے رخسار رگڑنے لگی-ایک دلفریب مسکراہٹ اس کے لبوں پر بکھر گئی-اگر جو تئی ماں کو پتہ چلے کہ ان کا یہ ولی عہد میرے آنسوؤں کی اتنی پرواہ کرتا ہے تو کتنا مزہ آئے
فواد ترپ کا وہ پتا تھا جس کے ثریعے اسنے ان سب سے انتقام لینا تھا-
وہ اسے ڈیزائنرآؤٹ لٹس پہ لے گیا-محمل ایک دو دفعہ ہی ندا سامیہ کے ساتھ یہاں آئی تھی-رنگوں خوشبوؤں اور خوابوں کی سر زمین-چمکتے سنگ مر مر کے فرش اور قیمتی ملبوسات-اسے لگا وہ کسی خواب میں چل رہی ہے-سب کچھ جیسے واقعی اس کے قدمون میں ڈھیر ہو چکا تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج کل ایسی شڑٹس کا فیشن ہے-اور جیسی کرتیاں پہنتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک تنقیدی نگاہ اس پر ڈال کر اس نے ایک جدید تراش خراش کے لباس کا ہینگر اتارا اور اس کے کندھے کے ساتھ لگایا- ہوں یہ ٹھیک ہے! تمہیں کیسا لگا؟
اچھاہے وہ تو جیسے بول ہی نہین پا رہی تھی-
“یہ پیک کر دیں-اس نے ہینگر بے نیازی سے سیلز گرل کی طرف بڑھایا اور دوسرے ریک کی طرف بڑھ گیا-
سدرہ کی منگنی کے لیے بھی کوئی نیا جوڑا تو لینا ہی ہو گا نا؟
سدرہ باجی کی منگنی؟وہ چونکی-
ہاں اس کا رشتہ طے ہو گیا ہے اور نیکسٹ سنڈے اس کی منگنی ہے-تمہیں نہیں پتہ؟وہ فارملز کے ریک پر کپڑے الٹ پلٹ کر رہا تھا-
نہیں-وہ گھر میں غائب دماغ رہتی تھی-یا تائی اماں لوگو نے بات چھپا کر رکھی تھی-وہ فیصلہ نہ کر سکی-
“یہ منگنی کے فنکشن کے لیئے لے لو اچھا ہے نا- اس نے ایک نارمل سا جوڑا نکال کر اس سے پوچھا-
محمل اس کے قری چلی آئی-
پی کاک گرین رنگ کی سیدھی لمبی سی شرٹ اور ساتھ سلور چوڑی دار پائجامہ-گہرے سبز رنگ کی قمیض کے گلے اور دامن پر بھی موتیوں کا نازک کام تھا-
ٹیپکل نہیں ہے،پر بہت کلاسک ہے-یہ بھی پیک کر دیں-اس کے چہرے پر پسندیدگی دیکھ کر اسے بھی سیلز گرل کو تھما دیا-
بس بہت ہے فواد بھائی میں یہ سب کیسے لے کے جاؤں گی گھر؟جب وہ اگلے بوتیک کی طرف بڑھا تو اس نے گھبرا کر روکا-
واقعی یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں-چلو پھر کوئی چھوٹی موٹی چیزیں لے لعتاے ہیں-جوتے،پرفیومز،کاسمیٹکس،جیولری.سبز اور سلور جوڑے کے ساتھ میچنگ کانچ کی چوڑیاں دلوا کر اس کے بصد اسرار بالآخر فواد نے بس کردی-
میرا دل کرتا ہے محمل میں تمہیں پوری دنیا خرید کر دے دوں-پتہ نہیں کیوں وہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے کہہ رہا تھا-اور وہ اہی دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھے گم صم سی اسے دیکھ رہی تھی- یہی سب تو چاہا تھا اس نے پر کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنی آسانی سے ہو جاۓ گا-
پھر وہ اسے فیکٹری لے آیا-
ہیڈ آفس میں پاپا اور حسن ہوتے ہیں-اسد چچا اور غفران چچا پنڈی والی برانچ میں ہوتے ہیں-جبکی میں فیکٹری سائیڈ پر ہوتا ہوں-تم آج سے روز ادھر میرے ساتھ کام کرو گی-میں تمہیں آہستہ آہستہ سب کام سکھا دوں گا ٹھیک؟
“ٹھیک ہے مگر میں گھر میں کیا کہوں گی؟
“تم ٹیوشن پڑھانے جاتی ہو نا؟تو بس تمہیں ایک ٹیوشن اور مل گئی ہے-جس کی پے سے تم نے اتنی ساری شاپنگ کرلی-مسرت چاچی کو شاپنگ کے بارے میں یہی کہہ دینا اور باقیوں کو کچھ دکھانے کی ضرورت ہی نہیں ہے رائٹ؟اب چائے لو گی یا کافی؟وہ سیٹ سنبھالتے بے نیازی سے ہدایت دیتا فون کی طرف بڑھا تو وہ طمانیت سے مسکرا دی-
کافی اور اس کے مقابل کرسی کی پشت سے ٹیک لگالی-
گڈ وہ بھی مسکرایا-مسکراتے ہوئے وہ بہت اچھا لگتا تھا-
اس دن فواد نے اسے کوئی کام نہیں کرنے دیا-بس ادھر بیٹھ کر مجھے ابزرو کرو اور سیکھو-کہہ کر اسے اپنے سامنے بٹھا لیا-کاپ کرتے کرتے گاہے بگاہے وہ اسے مسکرا کر دیکھتا تو وہ ہنس پڑتی-
وہ دن اس کو اپنی زندگی کا یادگار دن لگا-اماں مجھے دوسری ٹیوشن بھی مل گئی ہے سو اب صبح جایا کروں گی-
مسرت اپنے کاموں می/ن الجھی تھیں سو اس نے دھیان نہ دیا اور اس نے سارے کپڑے اور چیریں الماری میں راکھ دیں-
پھر روز کا یہی معمول بن گیا-نادیہ کے والد کی اکیڈمی سے اس نے مہینے بھر کی چھٹی لے لی-اور صبح سے شام ڈھلے واد کے ساتھ فیکٹری چلی جاتی تھی-اس نے آغآ جان سے پیسے مانگنے چھوڑ دیئے تھے-اور جب سدرہ کی منگنی کے کپڑے بنوانے کے لئیے آغآ جان نے چند سو روپے دینے چاہے-تو اس نے بے نیازی سے انکار کر دیا-
تھینک یو آغا جان پر میرے پاس پہلے ہی بہت ہیں- تین تین ٹیوشنز پڑھا رہی ہوں میرے خرچے پورے ہو ہی رہے ہیں-پھر بھی اگر چاہیئے ہونگے تو آپ سے مانگ لونگی-آغا جان اور تائی مہتاب نے پھر کبھی اس کے شام کو گھر آنے پر اعتراض نہیں کیا-محمل ان سے پیسوں کا مطالبہ نہیں کرتی انہیں اور کیا چاہیئے تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سیڑھیوں کے ساتھ لگے قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی وہ کان میں جھمکا پہن رہی تھی-جھمکا چاندی کا تھا اس کے سلور چوڑی دار پائجامے جیسا-اور سبز قمیض پر بھی ایسا کام تھا-اور دوپٹہ تو ایسا تھا جیسے سبز آسمان پر تاراے بکھرے ہوں-چھوٹی آستین سے اس کے نرم گداز بازو نمایاں تھے- اور گوری کلائی میں سبز اور سلور چوڑیاں-ہلکا سا میک اپ اور سنہرے بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے- سیڑھیوں کے ساتھ لگے قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی وہ کان میں جھمکا پہن رہی تھی-جھمکا چاندی کا تھا اس کے سلور چوڑی دار پائجامے جیسا-اور سبز قمیض پر بھی ایسا کام تھا-اور دوپٹہ تو ایسا تھا جیسے سبز آسمان پر تاراے بکھرے ہوں-چھوٹی آستین سے اس کے نرم گداز بازو نمایاں تھے- اور گوری کلائی میں سبز اور سلور چوڑیاں-ہلکا سا میک اپ اور سنہرے بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے-
جھمکا کان میں جا کے ہی نہیں دے رہا تھا-وہ چوڑیوں بھرے دونوں ہاتھوں سے کان کے سوراخ میں جھمکا ڈالنے کی کوشش کر رہی تھی- سب باہر لان میں جمع تھے-منگنی کا فنکشن سروع تھا بس ایک اس کی تیاری باقی تھی-
:اف او-اس نے جھلا کر جھمکا کان سے ہٹایا-کان کی لو سرخ پر چکی تھی-
اب کیا کروں؟
اسی پل آئینے میں اس کے سامنے فواد کا چہرہ ابھرا
فواد بھائی آپ ادھر-وہ حیران سے پلٹی-سب تو باہر ہیں-
تم بھی تو ادھر ہو-وہ اس کے بالکل سامنے آکھڑا ہوا-بلیک سوٹ میں وہ اتنا سمارٹ بندہ بنا پلک جھپکے مبہوت سا اسے دیکھے جا رہا تھا-اس کی نظریں بلا ارادہ ہی جھک گئیں-
“تم کتی خوبصورت ہو محمل-
محمل کا دل زور سے دھڑکا-اس نے بمشکل پلکیں اٹھائیں-وہ ان ہی مخمور نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا-اس کی نظروں کی حدت سے اس کے رخسار سرخ پڑنے لگے تھے-
وہ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جھمکا پہنا نہیں جا رہا -وہ گھبرا کر ادھر ادھر دعکھ کر بولی-
ادھر دکھاؤ-فواد نے اس کے ہاتھ سے جھمکا لیا ذرا سا جھکا-ایک ہاتھ سے اس کا کان پکڑا اور دوسرے سے جھمکا ڈال دیا-
لو۔۔۔۔۔۔ اتنی سی بات تھی اور تم نے پورا کان سرخ کر ڈالا-اس نے نرم لہجے میں کہتے ہوئے اس کے بھورے بالوں کو چھوا اور پیچھے ہٹ گیا-وہ بھی سنبھل کر جھمکے کا سہارا لگانے لگی-
ایک دم ہی فواد کچھ کہے بنا باہر چلا گیا-اور وہ پیچھلے لمحے کے فسوں میں کھوئی ہوئی تھی- چونک کر پلٹی وہ دروازہ بند کر کے جا چکا تھا-
یہ کیا؟ وہ الجھ کر آئینے کی طرف پلٹی تو ٹھٹھک گئی-حسن سیڑھیوں کے اوپر کھڑا تیکھی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا-
وہ گڑبڑا کر جلدی سے بالوں میں برش پھیر کر جانے لگی-مگر حسن سیڑھیاں تیز تیز پھلانگتا بیچے آیا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آج کے بعد میں نے تجھے فواد کے دس فٹ کے قریب بھی دیکھا تو ٹانگیں توڑ گھر بٹھا دوں گا- سمجھیں- غصے سے اس کی کلائی پکڑ کر اس نے اتنی زور سے جھٹکا دیا کہ اس کی چیخ نکل گئی-
حسن بھائی—
آئی سمجھ کہ نہیں؟ اس نے دوبارہ جھٹکا دے کر اس کی کلائی چھوڑی- اور ایک غصیلی نگاہ ڈال کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر چلا گیا-
وہ ساکت سی اپنی جگہ پر کھڑی رہ گئی-اس نے سبز چوڑیوں والی کلائی پکڑی تھی- اور آدھی سے زیادہ چوڑیاں تڑ تڑ ٹوٹ کر گرنے لگی تھی- بہت سا کانچ اسے چبھ گیا تھا-اور جگہ جگہ سے خون کے قطرے رسنے لگے تھے-
یہ۔۔۔۔۔۔۔ حسن بھائی – انہیں کیا ہوا؟ وہ دکھ سے اپنی کلائی دیکھتی رہ گئی تھی- سبز کانچ کے ٹکڑے زمین پر بکھرے پرے تھے-اس کی آنکھون میں آنسو آگئے-
یتیم ہونے کا یہ مطلب تھا-جس کا دل چاہے اس پر ہاتھ اٹھائے- وہ آنسو پیتی آندر کے زخموں کو بمشکل مرہم لگاتی زمین سے کانچ چننے لگی- دل چاہ رہا تھا وہ بہت روئے مگر خود کو سنبھالتے وہ دوسری چوڑیاں پہن کر باہر آگئی-
سدرہ براے صوفے پر دلہن کی طرح سجی سنوری بیتھی تھی-عام سی شکل کی سدرہ بہت میک اپ کے بعد بھی عام سی ہی لگ رہی تھی-اس کا منگیتر خاصا موٹا تھا-اور خاصا شرمایا ہوا بھی- اس مین کچھ ایسا نہین تھا کہ کوئی متاثر ہوتا- اور ندا سامیہ مسکرا مسکرا کر جلاے ہوئے تبصرے بھی کر رہی تھیں- سننے میں آیا تھا وہ مہتاب کی کسی سیکنڈ کزن کا بیٹا تھا-یہی اسلام آباد مین ایک اچھی پوسٹ پر کام کر رہا تھا-جانے کب رشتہ آیا اور ہان ہوئی-اسے اور مسرت کو تو غیروں کیطرح خبر دی گئی-
لان میں قمقموں اور روشنی کی بہار تھی-وہ جس وقت باہر آئی اس وقت رسم ہورہی تھی-اور سمدھنیں ایک دوسرے کو مٹھائی کھلا رہی تھی سب ہنس بول رہے تھے-
وہ خاموشی سے گھاس پر چلتی ہوئی ایک کرسی پر آبیٹھی- اس کا دل اداس اور آنکھیں غمگین تھیں-
فواد بھی وہیں اسٹیج پر کسی بات پر ہنستا ہوا اپنے بہنوئی کو مٹھائی کھلا رہا تھا- محمل نے اردگرد متلاشی نگاہوں سے دیکھا- اسٹیج کے سامنے گھاس پر ساڑھی میں ملبوس فضہ اپنی کسی جاننے والی خاتون سے حسن کا تعارف کروا رہی تھی-حسن کا بازو تھامے بہت فخر سے وہ حسن کے بارے میں بتا رہی تھی- اور وہ مسکراتے ہوۓ اس عورت سے بات کر رہا تھا-اس نے بھی بلیک ڈنر سوٹ پہن رکھا تھا-اور بلا شبہ وہ بھی بہت گڈ لکنگ تھا-
محمل نے اسے دیکھا-اس پل اسے /ھسن سے بڑا منافق اور دوغلا بندہ کوئی نہ لگا-حسن نے اس کی نازک کلائی کو ہی نہیں اس کے دل کو بھی زخمی کیا تھا-سارے فنکشن کا مزہ خراب کر دیا تھا- وہ اتنی بد دل اور غم زدہ ہو کے بیٹھی تھی کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کب وسیم اس کے ساتھ آکر کھڑا ہوگیا-
آج کتنوں کو گرانے کا اراداہ ہے سرکار؟وہ ایک دم پاس آکربولا تو وہ اچھلی- وہ اپنے ازلی لوفرانہ انداز میں مسکرا رہا تھا-
بڑے لشکارے ہیں چھوٹی کزن’ خیریت؟ وہ معنی خیز مسکرایا تو وہ گھبراکر اٹھی- اور لڑکیوں کے گروپ کی طرف بڑھ گئی-ساتھ ہی بار بار پیچھاے مڑ کر دیکھتی- وسیم ادھر ادھر گھومتے مسلسل اسے اپنی نگاہوں کے حصار میں لیئے ہوۓ تھا-
وہ بچتی بچاتی لوگوں میں ہی گھری رہی-وہ سب کزنز بہت خوش اور ایک ساتھ مکمل نظر آرہے تھے- صرف وہ ایک فالتو کردار تھی-حالانکہ کتنی ہی عورتوں نے پوچھا تھا یہ سبز اور سلور سوٹ والی لڑکی کون ہے- وہ تھی ہی اتی منفرد اور دلکش اور ہر شئے سے بے خبر وہ سارا وقت افسردہ ہی رہا-
سدرہ کی منگنی پر جتنے شغل اور مزے کا اس نے سوچا تھا-اس سے بڑھ کر بد مزہ ہوئی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
واد اسے آفس میں چھوٹے موٹے کام دینے لگا-زیادہ تر سپر وژن کا کام دیتا-
“یہ ڈرافٹ بنانا ہے-اپنی نگرانی میں فنانس کے ذاکر صاحب سے بنوا لاؤ- اس چیک پر سائن کروانا ہے مفتی صاحب سے کروا لاؤ-
اور یہ سارے کام بہت اؑتماد طلب ہوتے ہیں-اسے اچھا لگتا تھا وہ اس پر بھروسہ کرتا ہے-اس کا خیال کرتا ہے- وہ ایک ساتھ ہی لنچ کرتے تھے-باقی وقت وہ آفس میں کام کرتا اور محمل اپنے کیبن میں بیٹھی دوسروں کا بغور مشاہدہ کرتی- کبھی کبھی اسے احساس ہوتا کہ اتنے دن گزر جانے کے بعد نہ تو وہ کام کو ٹھیک سے سمجھ پائی اور نہ ہی فواد کے زیادہ قریب آپائی-وہ ہمیشہ اس کی پسند کی چیزیں منگواتا- اس سے اس کے مشاغل اور سٹڈی کے بارے میں ہلکی پھلکی گپ شپ بھی کرتا- مگر اس شام آئینے کے سامنے جھمکا پہنانے جیسی بے خودی اور جراٰت دوبارہ نہیں کی تھی-
اس روز صبح فواد کے ساتھ آفس نہیں گئی تھی-
“دوپہر میں اسٹاپ پرآنا میں پک کرلونگا-
آج مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے-وہ صبح دھیرے سے کہہ گیا تھا- اور اب وہ مسرور دوپہر کا انتظآر کرتی اوپر ٹیرس پر بیٹھی چاۓ پی رہی تھی-
جانے فواد کو کیا بات کرنا تھی-اتنا کیا خاص کام تھا- وہ ٹانگ پے ٹانگ رکھے چائے کے سپ لیتی سوچ رہی تھی-نگاہیں یونہی ساتھ والوں کے لان میں بھٹک رہی تھیں- وہاں گھاس پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی-اور ان پر سفید شلوار قمیض اور سفید ٹوپی پہنے مدرسے کے بچے ہل ہل کر قرآن پاک پڑھ رہے تھے- درمیان میں ایک چھوٹی سی میز پڑی تھی جس پر ایک بڑا قرآن پاک اور کچھ سپارے پڑے ہوے تھے-ساتھ ہی اگر بتیاں جل رہی تھیں-
وہ بلا اراداہ ہی بڑے بند قرآن کو دیکھے گئی-ذہن کے نہاں خانوں سے وہ چہرہ نکل کر اس کے کے سامنے آگیا-
سیاہ فام لڑکی کا چہرہ-سیاہ آنکھیں اور موٹے موٹے سیاہ ہونٹ-وہ مصحف کو سینے سے لگائے لنگراتے ہوئے سڑک پہ دور جا رہی تھی-کبھی کبھی اسے لگتا-جاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے- وہ کیوں رو رہی تھی اسے سمجھ نہیں آئی تھی- اسی طرح بچے ہل ہل کر سیپارے پڑھ رہے تھے-اس نے دیکھا کونے پر بیٹھے ہوئے ایک بچے نے صفحہ پلٹتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا اور دو تین صفحے ایک ساتھ پلٹ دئیے-اور پھر بلند آواز میں لہک لہک کر پڑھنے لگا-
نہ چاہتے ہوئے بھی محمل ہنس دی-وہ چھوٹا سا بچہ اپنی دانست میںآس پاس کے لوگوں کو دھوکہ دے رہا تھا یا پھر رب کو وہ جان نہیں بائی-
بچے آہستہ آہستہ اتھ کر سیپارے رکھنے لگے-یہاں تک کہ سارے سیپاروں کا واپس ڈھیر میز پر لگ گیا-تو قاری صاحب نے پاس کھڑے ملازم کو بلایا-
قرآن خوانی ہو چکی ہے بریگیڈئیر صآحب کو بلا دیں آکر دعا میں شرکت کر لیں-ملازمسر ہلا کر اندر چلا گیا-وہ فواد کو بھول کر دلچسپی اور تجسس سے ریلنگ پر جھکی ساری کاروائی دیکھنے لگی-
“سر کہہ رہے ہیں وہ بزی ہیں دعا میں شرکت نہیں کر سکتے-مگر آپ کا شکریہ کہ آپ نے قرآن پڑھا دیا-سر کہہ رہے ہیں کہ انہیں سکون نہیں ہے باقی سب ٹھیک ہے-بس یہی دعا کروا دیں کے انہیں سکون مل جاۓ-
قاری صاحب نے گہری سانس لی اور دعا کے لیئے ہاتھ اٹھا لیئے-
وہ جیسے شاکد سی سارا منظر دیکھ رہی تھی-دل میں نا معلوم افسوس سا اتر آیا تھا-ایک عجیب سا احساس ندامت،عجیب سی بے کلی-وہ اس احساس کو کوئی نام تو نہ دے پائی پر کپ اٹھا کر نیچے آگئی-
اور پھر دوپہر کو وہ اس واقعے کو بھول بھال چکی تھی-اسٹاپ پر ٹائم پہ فواد کی مرسڈیز آتی دکھائی دی-تو وہ خوش اور پر شوق بینچ سے اٹھی-
کیسی ہو؟ وہ دروازہ کھول کر اندر بیٹھی تو وہ مسکرا کر،جیسے بے تابیسے پوچھ رہاتھا-
ٹھیک ہوں فواد بھائی آپ کیسے ہیں؟وہ سادگی سے کہہ کر بیگ کندھے سے اتارت کر پیچھے رکھنے لگی-اپنے انداز سے اس نے کبھی ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ فواد کے جذبات تک رسائی حاصل کر چکی ہے-وہ خود کو ہمیشہ اس کے احسانوں کے بوجھ تلے ممنون ظاہر کرتی-
آج کا دن بہت اسپیشل ہے محمل-وہ کار سڑک پر ڈال کے بہت جوش سے بتا رہا تھا-آج مجھے تم سے بہت کچھ کہنا ہے-
جی کہیئے؟
اونہوں ابھی نہیں-ابھی سرپرائز نہیں کھول سکتا-
اچھا -ایسا کیا ہے فواد بھائی-
تم خود دیکھ لینا-خیر ابھی تو ہم شاپنگ پر جا رہے ہیں- تمہارے لیئے کچھ بہت سپیشل لینا ہے-
“کپڑے،مگر ابھی تو کوئی فنکشن قریب نہیں ہے-
ہے نا! آج ہے کچھ خاص
“اچھا کون کون ہوگا ادھر؟
میں اور تم-اس نے مبہوم سا مسکرا کر اس کی آنکھوں مین دیکھا-
آفس میں؟ وہ کچھ کچھ سمجھ رہی تھی-مگر انجان بنی رہی..
اونہوں میرٹ میں آج ہم ساتھ ڈنر کریں گے-
“میرٹ لمحے بھر کو تو وہ سانس لینا بھول گئی تھی-میرٹ میں ڈنر تو کیا اس نے تو کبھی میرٹ کی اندر سے شکل بھی نہیں دیکھی تھی-لیکن پھر ڈنر کا لفظ اسے ذرا پریشان کر گیا-
“میں اتنی رات کو کیا کہہ کر باہر رہوں گی فواد بھائی؟
نہیں ہم جلدی آجا ئیں گے-اور آج رات میں خود تمہیں گھر لے کر جاؤں گا مگر تمہارے جواب کے بعد-
جواب؟کس چیز کا جواب؟
کچھ پوچھنا ہے تم سے-
اس کا دل زور سے دھڑکا-کیا وہ جو سمجھ رہی تھی صحیح تھا؟
مگر کیا؟
یہ تو وہی بتاؤں گا-آؤ کچھ کپڑے لیتے ہیں تمہارے-وہ کار پارک کر کے سیٹ بیلٹ ہٹا رہا تھا-
مگر یہ ٹھیک تو ہے-اس نے معمولی سا احتجاج کیا-
” اونہوں آج تمہیں اسپیشل تیار ہونا پڑے گا-
اس کے انداز میں نرم سی دھونس تھیں-وہ ہنس کر اچھا کہتے نیچے اتری-
وہ اسے ایک خاصے مہنگے بوتیک میں لے گیا-
کپڑوں سے زیادہ کپڑوں کی قیمتیں ہو اڑا رہی تھی-وہ خود ہی آگے بڑھ کر کپڑوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا-پھر رک کر پوچھا تمہیں ساڑھیاں پسند ہیں محمل؟
ساڑھیاں وہ حیران ہوئی-جی مگر وہ بہت فارمل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی اگر مگر نہیں،یہ ساڑھی دیکھو،کیسی ہے،
اس نے ایک سیاہ ساڑھی آگے کی سیاہ شفون کی ساڑھی پر سلور مقیش بکھری تھی-یہ اتنی خوبصورت جھلملاتی ساڑھی تھی کہ نظریں خیرہ کرتی تھیں-
اچھی ہے مگر بہت قیمتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم سے زیادہ قیمتی نہیں ہے یہ پیک کر دیں-
پھر میچنگ جوتے اور ایک ناک سلور نگوں والا آرٹیفشل سیٹ لیتے خاصا وقت لگ گیا-دوپہر ڈھلنے لگی تھی جب وہ ایک جیولری کی شاپ میں داخل ہوۓ-گولڈ اینڈ ڈائمنڈ جیولری شاپ میں محمل کا دل ور سے دھڑکا تھا-کیا فواد اس کے لیئے کچھ اتنا قیمتی لینے جا رہا تھا؟کیا وہ اس کے لیئے اتنی خاص تھی؟
“ڈائمنڈ رنگز دکھائیے-وہ کرسی کھینچ کے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا قدرے تحکم و رعب سے بولا تو محمل تو سانس لینا بھول گئی-خدا اس طرح چھپر پھاڑ کر بھی مہربان ہوتا ہے-اسے آج پتہ چلا تھا-
معمر، با ریش سنار صاحب نے فورا کچھ سیاہ کیس آگے کیئے اور جیس جیسے وہ سیاہ کیس کھولے جا رہا تھا جگر جگر کرتی ہیرے کی انگوٹھیوں سے اس کی آنکھیں چندھیا رہی تھی-
سر solitaire میں دکھاؤں؟
ہاں بلکل-
وہ تو بلکل چپ بیٹھی تھی-سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ری ایکٹ کس طرح کرے-
فواد کو کوئی رنگ پسند نہیں آرہی تھی-وہ اس سے رائے بھی نہیں لے رہا تھا-بس دھڑا دھڑ انگوٹھیاں رد کرتا جا رہا تھا-
“یوں کرو تم پہلے تیار ہو جاؤ رنگ بعد میں لے لیں گے-شاپ سے نکلتے ہوۓ اس نے گھڑی دیکھی-
“میری چھے سے سات ایک میٹنگ ہے-بہت ضروری ہے مس نہیں کر سکتا-چھے سے سات تمہیں میرے ساتھ آفس میں بیٹھنا پڑے گا-اور پھر سات بجے ہم اکتھے میرٹ کے لیے نکلیں گے-سو تم ابھی تیار ہو جاؤ-
“کدھر وہ واقعی حیران ہوی تھی-
“پارلر میں اور کدھر؟ میں نے تمہارے لیئے اپائنمنت لے لی تھی-تم صرف اندر جانا اور وہ تمہیں تیار کر دیں گی-
وہ اسے قریبی پارلر لے آیا تھا-اور پھر ویسے ہی ہوا جیسے اس نے کہا تھا-محض ایک گھنٹے بعد جب اس نے پارلر کے قد آدم آئینے میں خود کو دیکھا تو اسے خود پر رشک آیا-
سیاہ مقیش والی دلکش ساری میں اس کا دراز قد سیاہ و سلور پنسل ہیل کے باعث اور نمایاں ہوگیا تھا-
لمبی صراحی سی گردن اونچے جوڑے کے باعث بے حد دلکش لگ رہی تھی- جوڑے سے کچھ لٹیں گھنگھریالی کر ک اس کی گردن اور چہرے پر جھول رہی تھیں- لائٹ لپ اسٹک کے ساتھ بلیک اسموکی آئیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بلیک بلاؤز کی چھوٹی بازو سے جھلکتے اس کے بے حد گورے سنہرے بازو-ذرا سی محنت سے وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ خود کو دیکھ دیکھ کر اس کا دل نہیں بھر رہا تھا-
وہ باہر آئی تو وہ جو اس کے انتظار میں گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا ایک دم سیدھا ہوا-اور پھر مبہوت سا دیکھتا رہ گیا-وہ ساڑھی کا پلو انگلی پر لپیٹے آحتیاط سے پارلر کی باہر کی سیڑھیاں اتر رہی تھی-
“اتنی حسین ہو تم محمل؟مجھے اتنے برس پتہ ہی نہیں چلا-وہ جیسے متاسف ہوا تھا-وہ بے اختیار مسکرا دی-
“تھینک یو،چلیں؟اس نے آسمان کو دیکھا جہاں شام ڈھلنے کو تھی-
“ہاں میری میٹنگ شروع ہونے میں یادہ وقت نہیں ہے چلو- ایک بھرپور مسکراتی نگاہ اس پر ڈال کر وہ کار کا لاک کھولنے ہی لگا تھا کہ اس کا فون بجا-
اس وقت کون کہتے کہتے اس نے اسکرین کو دیکھا اور جلدی سے سیل کان کے ساتھ لگا لیا-
جی ملک صاحب؟خیریت؟جی کیا مطلب اس نے لب بھینچ کر کچھ دیر دوسری طرف ہونے والی بات سنی-مگر آپ نے ان کو بتایا آپکہ میں نے ہی بھیجا ہے؟ مگر کیوں؟انہوں نے سائن کیوں نہیں کیے؟
Episode 7
اس وقت کون کہتے کہتے اس نے اسکرین کو دیکھا اور جلدی سے سیل کان کے ساتھ لگا لیا-
جی ملک صاحب؟خیریت؟جی کیا مطلب اس نے لب بھینچ کر کچھ دیر دوسری طرف ہونے والی بات سنی-مگر آپ نے ان کو بتایا آپکو میں نے ہی بھیجا ہے؟ مگر کیوں؟انہوں نے سائن کیوں نہیں کیے؟اور اسے ایک دم فواد کے چہرے پر ابھرتی غصے کی لہر دکھائی دی-آپ سینئر آفیسر ہیں یا جونیئر انہیں اس سے کیا غرض؟ آپ کو پتہ ہے ملک صاحب اگر انہوں نے فائل سائن نہ کی تو صبح تک ہماری فیکٹری ڈوب جائے گی- ہم برباد ہو جائیں گے- اس نے رک کر کچھ سنا اور ایک دم بدکا-کیا مطلب میں اس وقت کیسے آسکتا ہوں اتنی دور؟میری میٹنگ ہے صدیق صاحب کے ساتھ- چھے سے سات میں ابھی اے ایس پی صاحب سے کیسے مل سکتا ہوں؟کیا بکواس ہے اس نے جھلا کر فون بند کر دیا-
کیا ہوا؟ وہ گھبرا کر قریب آئی-
“معلوم نہیں کیا ہوگا اب-وہ پریشانی سے دوسرا نمبر پریس کرنے لگا-لمحے بھر کو تو وہ جیسے بھول ہی گیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ کھڑی ہے-
جی راؤ صآحب میں نے ملک الیاس کو بھیجا تھا آپ کی طرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر راؤ صاحب اتنی بھی کیا بے اعتباری؟اسنے رک کر دوسری طرف سے سنا اور جیسے ضبط کرتا ہوئے بے بسی سے بولا- آپ کے اے ایس پی کا دماغ تو ٹھیک ہے؟اس کا باپ جاگیردار ہوگا گاؤں کا ہم اس کے مزارعے نہیں ہیں-بورڈ آف ڈائریکٹر میں سے کسی کے پاس بھی اتنا ٹائم نہیں ہے کہ ان کے ایک فون کال پر بھاگا چلا آئے اور نہ ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لمحے بھر کو رکا اور پھر میں کچھ دیر میں آپ کو بتاتا ہوں-
کہہ کر وہ اب کوئی اور نمبر ملانے لگا تھا- اے ایس پی ہمایوں داؤد نہ جانے کیا مسئلہ ہے اس بندے کا-
محمل بددل سی اس کے ساتھ گاڑی کے باہر کھڑی تھی-نجانے کیا ہوا تھا -دل میں عجیب عجیب سے وسوسے آرہے تھے-
خیریت ہے فواد بھائی-
“خیریت ہی تو نہیں ہے-اے ایس پی جان کو آگیا ہے-کہتا ہے کمپنی کے مالکوں کو بھیجو تو فائل اپروو ہوگی-میں ملازموں سے بات نہیں کرتا-اب کس کو بھیجوں ادھر؟ وہ ابھی اسی وقت بلا رہا ہے-اور اس کے گھر پہنچنے کے لئے آغآ جان یا حسن کو ڈیڑھ گھنٹہ تو لگ جائے گا-اور اگر نہ پہنچے تو میرا کڑوڑوں کا پروجیکٹ ڈوب جاۓ گا-؎
وہ جھنجھلا کر کسی کو بار بار فون ملاتا بہت بے بس لگ رہا تھا-اب یہی حل ہے میں ابھی اس کے پاس چلا جاؤں-اور واپس آکر صدیقی صاحب سے میٹنگ کر لوں-
اور ڈنرکینسل؟اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا-
کرنا پڑے گا محمل- اس نے ہاتھ روک کر محمل کا تاریک پڑتا چہرہ دیکھا-آئی ایم سوری میں یوں تمہیں ہرٹ کرنا نہیں چاہتا تھا-مگر میری مجبوری ہے-وہ ملازم سے بات نہیں کرے گا-گھر کے بندے کو ہی جانا پڑے گا-
میں بھی ملازم ہوں فواد بھائی؟ایک خیال سا محمل کے دماغ میں میں ابھرا
کیا مطلب وہ جیسے چونکا-
اگر۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں آپ کے دو کاموں میں سے ایک کر دوں تو تب تو ہم ڈنر پر جا سکتے ہیں نا؟ وہ ہچکچا کر بولی کہ کہی برا نہ مان جائے-
“ارے مجھے یہ خیال کیوں نہیں آیا؟تم بھی تو کمپنی کی اونرز میں سے ہو-تم بھی تو یہ فائل سائن کروا سکتی ہو-بلکہ یوں کرتے ہیں تم فائل کو لے کر ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ- جب تک میں صدیقی صاحب سے نپٹ لیتا ہوں- اور پھر ڈرائیور تمہیں ہوٹل لے آئے گا ٹھیک؟ اس نے منٹوں میں سارا پلان ترتیب دے لیا-وہ گہری سانسیں بھر کے رہ گئی-
:ٹھیک ہے میں پھر چینج کر لوں؟
“نہیں نہیں ایسے ہی ٹھیک ہے-اس طرح تو تم واقعی پر اعتماد ایگزیکٹو لگ رہی ہو- یہ ساری بزنس وومن فارملی ایسے ہی ڈریس اپ ہوتی ہیں- میں ڈرایور کو کال کر لوں-
وہ مطمئن تھا مگر محمل کو قدرے عجیب لگ رہا تھا-وہ اتنی قیمتی اور جھلملاتی ساڑھی میں کسی فنکشن کے لیئے تیار ہوئی لگ رہی تھی-کسی آفیشل معاملے کے لیئے موزوں نہیں-لیکن اگر فواد کہہ رہا ہے تو ٹھیک ہی کہہ رہا ہو گا-
سارا رستہ وہ پچھلی سیٹ سے سر ٹکاے آنکھیں بند کئے ہیرے کی انگوٹھی کے متعلق سوچ رہی تھی- جو فواد نے یقینا اس کے لیئے لے لی ہوگی-اور جب وہ تائی اماں کے سامنے کھڑا محمل سے شادی کا کہہ رہا ہوگا-
تب تو گھر میں سچی میں طوفان آجائے گا-مگر اچھا ہے-ایسا ایک طوفان ان فرعونوں کو لرزانے کے لیئے آنا چاہیئے-
وہ پرسکون پر اعتماد اور مطمئن تھی-
گاڑی طویل ڈرائیو وے عبور کر کے پورچ میں داخل ہوئی-تو وہ ایک پر ستائش نگاہ خوبصورت سے لان پر ڈال کر گاڑی سے اتری-
مین ڈور پر جیسے ایک سوٹڈبوٹڈ ادھیڑ عمر شخص جیسے اس کا منتظر کھڑا تھا-
“اے ایس پی ہمایوں داؤد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ذہن میں اندازہ لگایا-اور فائل ہاتھ میں پکڑے اعتماد سے چلتی ان کے قریب ائی-
” میں آغآ گروپ آف انڈسٹریز سے-
جی میڈم محمل ابراہیم- آئیے اے ایس پی صاحب آپ کا ہی انتظار کر رہے ہیں-اس نے دروازہ کھول کر راستہ دیا-وہ لمحے بھر کو ہچکچائی پھر خود کو ڈپٹتے ہوئے آگے بڑھی-
روشنیوں سے گھرا بے حد نفیس اور قیمتی سامان سے آراستہ گھر اندر سے اتنا خوبصورت تھا کہ خود کو سنجیدہ رکھنے کے باوجود اس کی نظر بار بار بھٹک کر آس پاس کا جائزہ لینے لگتی-
اے ایس پی صاحب کدھر ہیں؟وہ اندر آپکا انتظار کر رہے ہیں-وہ اس کے اگے تیز تیز چلتا ہوا لاؤنج میں لے آیا-سر یہ پہنچ گئی ہیں
اس نے لاؤنج میں قدم رکھا تو ایک شخص کو اپنی طرف متوجہ پایا-
وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے صوفے پہ بیٹھا تھا-تھوڑی تھوڑی سی شیو بڑھی ہوئی تھی- اور بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے-
بلیک کوٹ میں ملبوس جس کے اندر سفید شرٹ کے اوپر والے دو بٹن کھلے تھے-ایک ہاتھ میں اورنج جوس سے بھرا وائن گلاس لیئے وہ اسے غور سے دیکھ رہا تھا-
ایک لمحے کو تو محمل کے قدم ڈگمگائے-اس کا پالا تو ابھی تک بس گھر کے لڑکوں سے پرا تھا-فواد اور حسن خوش شکل تھے-کچھ دولت کی چمک دمک سے بھی سٹائلش لگتے تھے-باقی اس کے چچاؤں میں سے بھی کہئی متاثر کن شخصیت کا مالک نہیں تھا- جتنا صوفے پر بیٹھا وہ مغرور سا دکھنے والا شخص تھا-ہینڈ سم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے حد ہینڈ سم۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا وجیہہ مرد اس نے پہلی بار دیکھا تھا-
وہ نہ چاہتے ہوئئے بھی مرعوب ہوگئی-
وہ خاموشی سے اسے بغور جانچتی نگاہوں سے دیکھتا رہا-یہاں تک کہ وہ آکر سیدھی سامنے والے صوفے پر بیٹھی اور فائل میز پر رکھ دی-یہ فائل اپروو کروانی تھی اے ایس پی صاحب-
وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے اس کے مقابل بیٹھی خاصے اعتماد سے بولی-تو وہ ذرا سا مسکرایا اور پاس کھڑے سوٹڈ بوٹڈ شخص کی طرف دیکھا-
ان کو آغا فواد کریم نے ہی بھیجا ہے راؤ صآحب؟
مسکرا کر کہتے اس نے جوس کا گلاس لبوں سے لگایا-
محمل نے چونک کر راؤ کو دیکھا-
وہ بھی مسکرا دیا تھا-
کچھ تھا ان دونوں کی معنی خیز مسکراہٹ میں-کہ دور اس کے ذہن میں خطرے کا الارم بجا-
تو آپ فائل اپروو کروانے آئی ہیں؟وہ استہزائیہ مسکراتی نگاہوں سے کہہ رہا تھا- محمل کو الجھن ہونے لگی-
“جی یہ آغآ انڈسٹریز کی فائل ہے اور۔۔۔۔۔۔
“اور آپ کی اپنی فائل وہ کہاں ہے؟اس نے گلاس سائیڈ پر رکھ کر جھک کے فائل اٹھائی-
میری کون سی فائل؟کچھ تھا جو اسے کہیں غلط لگ رہا تھا-کہیں کچھ بہت غلط لگ رہا تھا-
“آپ جائیں راؤ صاحب-اس نے فائل کے صفحے پلٹا کر ایک سرسری سی نظڑ ڈآلی-اور پھر فائل اس کی طرف بڑھائی- محمل لینے کے لیئے اٹھی مگر بہت تیزی سے راؤ صاحب نے آگے بڑھ کر فائل تھامی-
اور جا کر آغآ فواد کے ڈرائیور سے کہیں کہ فائل اپرووڈ ہے صبح انہیں رسید مل جائے گی-
بہتر سر! راؤ صاحب فائل لے کر پلٹے تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی-
“مجھے دے دیں میں لے جاتی ہوں-
وہ دونوں ایک دم چونکے تھے-اور پھر رک کر ایک دوسرے کو دیکھا-ہمایوں نے اشارہ کیا تو راؤ صاحب مسکرا کر باہر نکل گئے-
آپ بیٹھیئے مادام ڈرائیور دے آئے گا-
ایک دم ہی اس کے کانوں میں خطرے کی گھنٹی زور زور سے بجے لگی- اسے لگے وہ غلط وقت پر غلط جگہ اور غلط لوگوں میں آگئی ہے-اسے وہاں نہیں آنا چاہیئے تھا-
نہیں میں چلتی ہوں-وہ پلٹنے ہی لگی تھی کہ وہ تیزی سے اٹھا اور زور سے اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف گھمایا-اس کے لبوں سے چیخ نکلی-
” زیادہ اوور سمارٹ بننے کی ضرورت نہیں ہے-جو کہا جا رہا ہے ویسے ہی کرو-اس کے بازو کو وہ اپنی آہنی گرفت میں لیئے غرایا تھا-لمحے بھر کو تو زمین آسمان محمل کی نگاہوں کے سامنے گھوم گیا تھا-
” چھوڑیں مجھے- وہ سنبھل ہی نہیں پائی تھی کہ ہمایوں داؤد نے اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر جھٹکے سے اسے اپنے سامنے کیا-
“زیادہ چالاکی دکھائی تو اپنے پیروں پر گھر نہیں جاؤ گی-
مم۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے چھوڑیں -مجھے گھر جانا ہے محمل نے اسے دھکیلنا چاہا-مگر اس کی گرفت بہت مضبوط تھی-
گھر جانا ہے؟گھر ہی جانا تھا تو یہ اتنا بناؤ سنگھار کس لیئے کیا تھا ہوں؟
اس نے ہولے سے اس کی ٹھوڑی انگلی سے اوپر کی-دوسرے ہاتھ سے کہنی اتنی مضبوطی سے پکڑی تھی کہ وہ ہل نہیں پائی اور گھبرا کر چہرہ پیچھے کیا-
میں فنکشن پر جا رہی تھی-آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں میں ایسی لڑکی نہیں ہوں-آپ فواد بھائی سے میری بات کروائیں- انہیں بتائیں کہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چونکا آغآ فواد تیرا بھائی ہے؟
جی جی ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ میرے بھائی ہیں-آپ بے شک ان سے پوچھ لیں-مجھے یہاں نہیں آنا تھا فواد بھائی کو خود آنا تھا-مگر ان کی میٹنگ تھی- وہ ایک دم رونے لگی تھی-آپ پلیز مجھے گھر جانے دیں میں غلط لڑکی نہیں ہوں میں ان کی بہن ہوں-
“جھوٹ بول رہی ہے-راؤ پیچھے آ کھڑا ہوا تھا- اسی کو ادھر آنا تھا چار ہفتے پہلے تو ڈیل ہوئی تھی سر اور اسی کے نام سے ہوئی تھی-کم عمر خوبصورت اور ان چھوئی-آغآ نے کہا تھا یہ ہماری ڈیمانڈ پہ پوری اترتی ہے-راؤ کا لحجہ سپاٹ تھا-
محمل ابراہیم نام ہے نا تمہارا؟ تم آغآ کی بہن کیسے ہوسکتی ہو؟ وہ تین کڑوڑ کے نفع کے لیے اپنی بہن کو ایک رات کے لیے نہیں بیچ سکتا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ اس کے اردگرد جیسے دھماکے ہورہے تھے-اسے بہت زور کا چکر آیا تھا- وہ گرنے ہی لگی تھی کہ ہمایوں نے اس کی دوسری کہنی سے پکڑ کر اسے کھڑا رکھا-
“اب سیدھی طرح بتاؤ تم ہمیں بے وقوف بنا رہی ہو یا آغآ نے تمہیں بے وقوف بنایا ہے-تم محمل ابراہیم ہو اور وہ فواد کریم-وہ تمہارا سگا بھائی ہے؟اتنے عرصے سے لڑکیاں فراہم کر رہا ہے تو کبھی اپنی بہن کا سودا نہیں کیا-“
“نہیں- اس نے بے یقینی میں نفی میں سر ہلایا-آپ جھوٹ بول رہے ہیں-فواد بھائی میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے-آپ میری ان سے بات کروائیں- آپ خود سن لینا وہ میرا ویٹ کر رہے ہیں- ہمیں ایک فنکشن پہ جانا تھا-
عام انسان کی طرح محمل کو بھی ہلکی پھلکی جھوٹ کی عادت تو تھی ہی-اور اسی پرانی عادت کا کمال تھا کہ اس کے لبوں پپے خود بخود ڈنر کی جگہ فنکشن نکلا تھا- کہیں لا شعوری طور پر اسے احساس تھا کہ اگر فواد اور اپنے خاص ڈنر کا بتاتی تو وہ اسے بری لڑکی سمجھتا-
راؤ صاحب آغآ فواد کو فون ملائیں-
“رائٹ سر! راؤ موبائل پر نمبر مملانے لگا-
اور اسپیکر آن رکھیں-اس نے کہہ کر ایک گہری نظر محمل پر ڈالی-جو بے قرار اور ہراساں سی کھڑی راؤ کے ہاتھ میں پکڑے فون کو دیکھ رہی تھی-
“جی راؤ صاحب- ؟”
ایک دم کمرے میں فواد کی آواز گونجی- مال پہنچ گیا؟
“پہنچ تو گیا ہے مگر پرزے آواز بہت دیتے ہیں-آپ بات کر لیں-اس نے فون اگے پڑھا کر محمل کے کان سے لگایا-
ہیلو فواد بھائی! وہ رو پڑی تھی-فواد بھائی یہ لوگ مجھے غلظ سمجھ رہے ہیں-آپ پلیز ان کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بکواس مت کرو اور میری بات غور سے سنو-
تمہیں وہ ڈائمنڈ رنگ چاہیے یا نہیں؟چاہیئے نا؟تو جیسے اے ایس پی صاحب کہتے ہیں کرتی جاؤ-
فواد بھائی! وہ حلق کے بل چلائی-یہ میرے ساتھ کچھ غلط کر دیں گے-
وہ جو کرتے ہیں کرنے دو-ایک رات کی ہی تو بات ہے- اب زیادہ بک بک مت کرنا صبح تمہیں ڈرائیور لینے آجائے گا-
ساتوں آسمان اس کے سر پر ٹوٹے تھے-
وہ ساکت سی کھڑی رہ گئی-
“صرف ایک رات ہی کی تو بات ہے-صسرف ایک رات ہی کی تو بات ہے- اس کی آواز اس کے ذہن پر ھتوڑے برسا رہی تھی-
بس ایک ڈائمنڈ رنگ کا لارا دیا ہے اس نے تمہیں؟اور تم تو کہتی ہو وہ تمہارا بھائی ہے؟فون اس کے کان سے ہٹا کر بند کرتے ہوۓ ہمایوں نے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا-
وہ اسی طرح پتھر کا بت بنی کھڑی تھی- اس کا ذہن،دل کان آنکھیں سب بند ہو چکے تھے-
“راؤ صاحب پتہ کروائیں یہ واقعی فواد کریم کی بہن ہے یا نہیں؟ اور اس کی بات میں کتنی سچائی ہے،یہ تو ہم بعد میں خود معلوم کر لیں گے-شمس بچل اس نے زور سے آواز لگائی-
اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگے تھے-ساکت کھڑے وجود سے سہمی سہمی جان آہستہ آہستہ نکل رہی تھی-اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرے بادل چھانے لگے تھے-
دو گن مین دوڑتے ہوئے اندر آئے تھے-
“شمس اسے اوپر والے کمرے میں بند کردہ، اور دھیان کرنا بھاگ نہ پائے بچل۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ اس کا فقرہ مکمل ہوتا محمل چکرا کر گری اور اگر اس نے اسے دونوں بازوؤں سے تھام نہ رکھا ہوتا تو وہ نیچے گر پڑتی-
محمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمل! وہ اس کا چہرہ تھپتھپا رہا تھا-
اس کی آنکھیں بند ہوتیی گئیں-اور ذہن گہرے اندھیروں میں ڈوبتا چلا گیا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس کی آنکھوں پے کچھ نمی ڈالی گئی تھی-گیلے پن کا احساس تھا یا کچھ اور اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں-
اٹھ جاؤ بہت سولیا-” وہ گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر سامنے کرسی پر جا بیٹھا تھا-
چند لمحے تو وہ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہی،اور جب آہستہ اہستہ ذہن بیدار ہوا تو وہ چونک کر سیدھی ہوئی-
وہ بڑا سا پر تعیش بیٹ روم تھا-قیمتی صوفے قالین اور بھاری خوبصورت پردے-وہ ایک بیڈ پر لیٹی تھی-اور اس کے اوپر بیڈ کور ڈالا ہوا تھا-
اسے یاد آیا وہ اسے کسی کمرے میں بندھ کرنے کی بات کر رہا تھا-جب وہ شاید بے ہوش ہوگئی تھی-اب وہ کدھر تھی؟اور اسے کتنی دیر بیت چکی تھی- گھر میں سب پریشان ہورہے ہونگے-
وہ گھبرا کر قدرے سیدھی ہوکر بیٹھی-وہ ابھی تک اسی سیاہ جھلملاتی ساڑھی میں ملبوس تھی-اور بیوٹیشن کی لگائی ہوئی ساری پینیں ابھی تک ویسے ہی کس کر لگی ہوئی تھیں-
مم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کدھر ہوں؟کیا وقت ہوا ہے؟صبح ہوگئی؟وہ پریشان سی ادھر ادھر دیکھنے لگی تو سامنے وال کلاک پر نظر ٹکی-
ساڑھے تین بج رہے تھے
:ابھی صبح نہیں ہوئی؟اور آپ وہیں ہیں-جہاں آنے کے لیے فواد نے آپ کو ڈائمنڈ رنگ کا لالچ دیا تھا-
مجھے فواد بھائی نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا تھا،انہوں نے کہا تھا میں فائل سائن کروا کے واپس آجاؤں-
میں جھوٹ نہیں بول رہی-
میں کیسے مان لوں کہ تم سچ کہہ رہی ہوَ آغا فواد تو کہتا ہے تم اس کے گھر میں پلنے والی ایک یتیم لڑکی ہو،نہ کہ اس کی بہن۔۔۔۔۔۔
“یتیم ہوں تبھی تو تم جیسے عیاشوں کے ہاتھوں بیچ ڈالا،اس نے مجھے،میرا سگا تایا زاد بھائی تھا-تم سب گدھوں کا بس یتیموں پر ہی تو چلتا ہے-وہ پھٹ پڑی تھی-
“مجھے یہ آنسو اور جزباتی تقریریں متاثر نہیں کرتیں-وہ اب اطمینان سے سگریٹ سلگا رہا تھا-مجھے بس سچ سننا ہے وہ بھی ٹھیک ٹھیک نہیں تو تمہیں تھانے لے جا کر تمہاری کھال ادھیڑ دوں گا-“
میں جھوٹ نہیں بول رہی-
مجھے یہ بتاؤ اس سے پہلے وہ تمہیں کتنا شئیر دیتا رہا ہے-کدھر کدھر بھیجا ہے اس نے تمہیں- اور تمہارے اس گینگ میں کون کون ہے؟
سگریٹ کا ایک کش لے کر اس نے دھواں چھوڑا تو لمحے بھر کو دھوئیں کے مرغولے ان دونوں کے درمیان حائل ہوگئے-
مجھ سے قسم لے لو میں سچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قسم لے لوں واقعی؟
ہاں لے لیں-
سو بندوں کے سامنے عدالت میں اٹھاؤگی قسم؟وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا سگریٹ لبوں میں دبائے کش لے رہا تھا-
میں تیار ہوںٓمجھے عدالت میں لے جائیں میں یہ سب دہرانے کو تیار ہوں-
وہ تب ہوگا جب میں تیرے کہے پر یقین کروں گا-یقین جو ابھی تک نہیں آیا-اس نے سگریٹ ایش ٹرے پہ جھٹکی-راکھ کے چند ٹکڑے ٹوٹ ک گرے-
:میں سچ کہہ رہی ہوں میرا کسی گینگ سی کوئی تعلق نہیں ہے-مجھے فواد بھائی نے کچھ نہیں بتایا تھا-
تم اسے بچانے کی کوشش کر رہی ہو میں جانتا ہوں-
نہیں پلیز۔۔۔۔۔۔ وہ لحاف اتار کر بستر سے اتری اور گھٹنوں کے بل اس کے قدموں میں آبیٹھی-
اے ایس پی صاحب! اس نے اس کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ دئے
میں لاعلم تھی کہ آپ کا کیا مقصد ہے-کہ فواد بھائی کا کیا مقصد ہے- میں میرٹ میں ڈنر پہ جانے کے لیئے تیار ہوئی تھی- میرا کوئی قصور نہیں ہے- اس کی کانچ سنہری آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرنے لگے تھے اللہ کی قسپ یہ سچ ہے-
اللہ کی قسم کھانے کے لیئے آغآ فواد نے کیا پیش کیا تھا؟ڈائمنڈ سیٹ؟
وہی شکی پولیس آفیسر،اور مخصوص طنزیہ انداز-جتنا وہ شخص وجیہہ تھااس کی زبان اس سے بڑھ کر کڑوی تھی-محمل کا دل چاہا اس کا منہ نوچ لے-اور اگلے ہی پل وہ اس پر جھپٹی اور اس کی گردن دبوچنی چاہی مگر ہمایوں نے اس کی دونوں کلائیاں اپنی گرفت میں لےلیں-اسی کشمکش میں محمل کے دو ناخن اس کے گال سے رگڑے گئے-
صرف آنکھیں نہیں تمہاری تو حرکتیں بھی بلیوں جیسے ہیں وہ کھڑا ہوا اور اس کو کلائیوں سے پکڑے پکڑے بھی کھڑا کیا پھر جھٹکا دے کر چھوڑا- وہ دو قدم پیچھے جا ہوئی-
مجھے گھر جانا ہے- مجھے گھر جانے دو-میں تمہاری منت کرتی ہوں- وہ مڑ کر جانے لگا تو وہ تڑپ کر اس کے سامنے آکھڑی ہوئی-اور پھر سے ہاتھ جور دیئے- صبح ہوگی تو بدنام ہو جاؤں گی-
میں نے کہا نہ بی بی مجھے یہ جزباتی تقریر متاثر نہیں کرتیں-اس نے اپنے گال پر ہلکا سا ہاتھ پھیرا پھر استہزائیہ مسکرایا-پھر کہا-تم بہادر لڑکی ہو-میں تمہیں گھر جانے دوں گا مگر ابھی نہیں-ابھی تم ادھر ہی رہو گی کم از کم صبح تک،،،،،،
میں بدنام ہو جاؤں گی اے ایس پی صاحب-رات گزر گئی تو میری زندگی تباہ ہو جائے گی-
ہوجائے مجھے پروا نہیں ہے-وہ سگریٹ ایش ٹرے میں ڈال کر دروازے کی طرف بڑھا-
وہ ہاتھ جوڑے کھڑی رہ گئی اور وہ دروازہ باہر سے بند کر کے جا چکا تھا-دروازے کی جانب وہ لپکی اور ڈور ناب زور سے کھینچا-وہ باہر سے بند تھا-
دروازہ کھولو ۔۔۔۔۔۔۔ کھولو- وہ دونوں ہاتھوں سے زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی- مگر جواب ندارد ۔۔۔۔۔
وہ بے بس سی زمین پہ بیٹھتی چلی گئی-
فواد ۔۔ فواد اس کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے؟اسے یقین نہ آتا تھا-اس نے کیا بگاڑا تھا فواد کا جو اس نے چند روپوں کے عوض اسے بیچ دیا؟
وہ گھٹنوں پر سر رکھے،آنسو بہاتی وہ شام یاد کر رہی تھی-جب وہ اسے دیکھتے دیکھتے چونکا تھا اور چائے کا کپ لیتے ہوئے اس کی انگلیاں مس ہوئی تھیں-
کم عمر ؛خوبصورت اور ان چھوئی-آغا نے کہا تھا یہ ہماری ڈیمانڈ پر پر پوری اترتی تھی-تو وہ اس لیئے چونکا تھا کہ کسی عیاش شخص کی بتائی گئی ڈیمانڈ پہ اس کے گھر میں پلنے والی یتیم لڑکی پوری اتری تھی-
تم کتنی خوبصورت ہو محمل!مجھے پتہ ہی نہیں تھا -اس کے لہجے کا افسوس اور پھر اس کی ساری عنایتیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی کمزوری کیا ہے،اس نے اس کو اس کی من پسند چیزیں دکھائی یہاں تک جب وہ اس کے مکمل قابو میں اگئی تو فواد نے اسے ادھر بھیج دیا اور وہ بھی کتنی بے وقوف اور سادہ تھی،اسے پتہ ہی نہیں چلا-وہ آفس میں اس کو ادھر ادھر چیزیں سائن کروانے بھیج دیتا ہے اور کوئی کام تو اس نے محمل سے لیا ہی نہیں تھا،وہ تب بھی نہ سمجھ سکی؟
اور اب یہ شخص ہمائیوں داؤد وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ آدمی کون تھا-اس سے یہ سب باتیں کون پوچھ رہا تھا-اور اس کا کیا مقصد تھا-اسے صرف علم تھا تو اتنا کہ اگر رات بیت گئی تو صبح اسے کوئی قبول نہیں کرے گا-اور قبول تو شاید اب بھی کوئی نا کرے-کوئی فواد کے خلاف اس کی بات کا یقین نہیں کرے گا، کوئی اسے بے گناہ نہیں مانے گا اور فواد وہ تو شاید سرے سے ہی مکر جائے کہ وہ کبھی محمل کو آفس لے کر ہی نہی گیا-خدایا وہ کیا کرے؟
اس نے بھیگا چہرہ اٹھایا-کمرے قدرے دھندلا سا دکھائی دیتا تھا- اس نے پلکیں جھپکائیں-تو آنسوؤں کی دھند لڑھکتی چلی گئی-
کمرہ نہایت خوبصورتی سے آراستہ تھا-قیمتی قالین،خوبصورت فرنیچر،اور بھاری مخملیں پردے؟وہ چونکی-کیا انکے پیچھے کوئی کھڑکی تھی؟
وہ پردوں کی طرف دوڑی اور جھٹکے سے انہیں ایک رخ کھینچا- پردہ کھلتا چلا گیا-
باہر ٹیرس تھا-اور اس کی روشنیاں جلی ہوئیں تھیں-جن میں وہ بغیر دقت کے دو گن مین چوکس کھڑے دیکھ سکتی تھی-
اس نے گھبرا کر پردہ برابر کیا-
اللہ تعالی پلیز! وہ رو کر دعا کرنے لگی اور جب دعا کرتے کرتے تھک گئی تو ۔۔۔۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آکھڑی ہوئی- اور اپنا عکس دیکھا-
رونے سے سارا کاجل بہہ گیا تھا،آنکھیں متورم اور قدرے بھیانک لگ رہی تھیں-جوڑا ڈھیلا ہو کر گردن تک آگیا تھا اور گھنگھریالی لٹوں کے بل سیدھے ہونے لگے تھے-
محمل ایک مضبوط اعصاب کی لڑکی تھی،اس کے باوجود فواد کے اس بھیانک روپ کا صدمہ اتنا شدید تھا کہ شروع میں تو اس نے ہمت ہاردی اور اعصاب جواب دے گئے لیکن اب وہ کسی حد تک سوچنے سمجھنے کے قابل ہوئی تھی-فواد سے سارے بدلے تو وہ بعد میں چکائے گی ابھی اسے اس اکھڑ اور سرد مہر اے ایس پی کی قید سے نکلنا تھا-
اس نے ادھر ادھر دیکھا،کچھ خاص نظر نہ آیا- تو پھر وارڈ روب کھولا- اندر مردانہ کپڑے ٹنگے ہوئے تھے- اس نے کچھ ہینگرز الٹ پلٹ کیئے اور کچھ سوچ کر ایک کرتا شلوار نکالا-براؤن کرتا اور سفید شلوار کو پہن کر بال سیدھے کر کے بینڈ میں باندھے-اور باتھ روم میں جا کر منہ اچھی طرح دھویا-باہر نکلنے کے لیئے کسی روزن کو تلاشتی اس کی نگاہوں کو باتھ روم کی کوئی کھڑکی دروازہ نظر نہ آیا تو مایوسی سے پلٹنے ہی لگی تھی کہ ایک دم چونکی-
ایک دیوار میں شیلف تھا-اس میں شیمپو اور شیو کا سامان رکھا تھا-شیلف کے اندر کا رنگ باقی دیوار سے زیادہ چکنا سفید تھا-بھلا کیوں؟
وہ قریب آئی سارا سامان نیچے اتارا،پھر بغور اندر دیکھتے ہاتھ پھیرا تو احساس ہوا اس خانے کے پیچھے دیوار نہیںبلکہ کارڈ بورڈ کے سفید پھٹے تھے جو میخوں سے جڑے تھے-میخیں کچی اور تازہ لگ رہی تھی-
آگے کا کام بہت آسان تھا-اس نے سارے نل کھول دیئے،تاکہ آوازباہر نا جائے اور تھوڑی سی محنت کے بعد پھٹے کھینچ کر اتار لیئے-وہ جلدی میں لگائے لگ رہے تھے،سو اسے زیادہ زور نہیں لگانا پڑا تھا-
ان کے پیچھے کھڑکی تھی- اچھی خاصی چوڑی تھی-وہ اس میں سے با آسانی گزر سکتی تھی-بے حد مطمئن ہو کر محمل نے کھڑکی کھولی اور جب باہر جھانکا تو ایک لمحے کو تو سر چکرایا-کھڑکی سے دو فٹ کے فاصلے پر چار دیواری کھڑی تھی-اور چار دیواری کے درمیان صرف خلا تھا-اور نیچے بہت نیچے پکا فرش تھا-وہ اس گھر کی غالبا تیسری منزل پر موجود تھی- شاید اسی لیئے انہوں نے کچے پکے پھٹے لگا دیئے تھے-اندازہ ہو گا کہ وہ یہاں سے نہیں نکل سکتی-
اس کا ڈوب کر ابھرا-یہ آخری راستی بھی بند ہوتا نظر آہا تھا-وہ مایوسی سے نل بند کرنے ہی لگی تھی کہ سناٹے میں ہلکی سی آواز سنائی دی تھی-
آپ صحن میں کیا کر رہی ہیں؟
باجی وہ میڈم مصباح نے کہا تھا کی ارلی مارننگ منہ پہ گلاس رکھ کر پریکٹس کروں تو آواز اچھی نکلتی ہے-وہی کر رہی ہوں-
لڑکیوں کی باتیں کرنے کی آوازیں بہت قریب نہیں تو بہت دور بھی نہیں تھی- وہ چونکی اور پھر باتھ روم کی لائٹ بند کی-
باہر کا منظر قدرے واضح ہوا-کھڑکی سے دیوار کا فاصلہ دو فٹ کا تھا،مگر وہ دیوار کی منڈیر تھی-اور وہ آوازیں کہیں نیچے سے نہیں برابر سے آرہی تھی-بالکل برابر یعنی اس باتھ روم کے برابر بالکل سامنے صحن تھا-
اگر وہ یہ دیوار پھاند جائے تو ۔۔۔۔۔۔۔؟
اس اچھوتے خیال نے ذہن میں سر اٹھایا تو اس نے جوتے اتارے اور نیچے جھانکا- اگر گر گئی تو نہیں بچے گی-مگر موت اس ذلت سے تو بہتر ہوگی جو صبح یا اس سے بھی بدیر گھر پہنچنے پہ اسے اٹھانی پرے گی-
اس نے دوننوں ہاتھ چوکھٹ پر رکھے ہی تھے- کہ کمرے کا دروازہ کسی نے زور زور سے کھٹکھٹایا-دروازے کی وہ اندر سے کنڈی لگا چکی تھی-سو وہ کھول نہ پا رہے تھے-یقینا کسی نے پھٹے اکھاڑنے کی آواز سن لی تھی-وہ لمحے بھر کو بھی نہ گھبرائی اور ہاتھ برھا کر دیوار کو ٹٹولا- وہ قریب ہی تھی-
اونہوں ۔۔۔۔ برابر والے صحن میں وہ کھنکھاری تھی-اگلے اور لمحے اس کی مدھر مگر ہلکی آواز اندھیری فضا میں گونجنے لگی-
اللھم جعل فی قلبی نورا- (اے اللہ میرے دل میں نور ڈال دے)
محمل نے دیوار پہ دونوں ہاتھ رکھے اور نیچے دیکھے بغیر دونوں پاؤن بھی رکھ دیئے
وفی بصری نورا وفی سمعی نورا-(اور میری بصارت میری سماعت میں نور ہو)
گھوڑے کی پیٹھ پر سوار سی وہ دیوار پر بیٹھی اور نیچے دیکھا- صحن کی زمین بہت قریب تھی-دیوار چھوٹی سی تھی-
وعن یمنی نورا وعن یساری نورا-(اور میرے دائیں اور بائیں جانب نور ہو)
اس نے آہستہ سے دونوں پاؤں زمین پر رکھے-وہ بالآخر برابر والی چھت پر اتر آئی تھی-لمحے بھر کو وہ پلٹ کر بے یقین سی دیوار کو دیکھنے لگی-جس کے اس پار اے ایس پی ہمایوں کا گھر تھا-بلکہ قید خانہ جس سے وہ نکل آئی تھی- اسی پل دیواد کے پار سے روشنی سی چمکی وہ ٹھٹھکی یقینا اس نے باتھ روم کی لائٹ آن کی تھی-اپنی بے وقوفی پے اسے غصہ آیا-اسے باتھ روم کا دروازہ بند کر کےنل کھول کے آنا چاہیئے تھا-
مگر عادی فراری تو نہ تھی یا پھر اس لڑکی کی آواز کے فسوں میں ایسی کھوئی تھی کہ ہوش نہ رہا تھا-
وفوقی نورا وتحتی نورا (اور میرے اوپر اور نیچے نور ہو-)
سامنے ایک برامدہ تھا- جس کے آگے گرل لگی ہوئی تھی-گرل کا دروازہ کھلا تھا اور دروازے سے کافی دور ایک لڑکی زمین پہ بیٹھی،گرل سے ٹیک لگائے-آنکھیں بند کیئے منہ پہ گلاس رکھے گنگنارہی تھی-
وہ دیوار کے ساتھ ساتھ گھٹنوں کے بل رینگتی گرل تک آئی- وہ لڑکی دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنی مناجات میں گم تھی-
واجعل لی نورا- (اور میرے لیے نور بنا دے ۔۔)
محمل چاپ پیدا کیے بغیر کھلے دروازے سے اندر رینگ گئی-لڑکی اسی طرح مگن سی تھی-
اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ ادھر ادھر دیکھا-لمبا سا برآمدہ خالی تھا-بس دور ایک فریج پڑی تھی- اور اس کے ساتھ ساتھ جالی دار الماری تھی-اندھیرے میں مدھم چاندنی کے باعث اسے بس اتنا نظر آیا-وہ بہت آہستہ سے اٹھی اور دبے پاؤں چلتی ہوئی فریج کے پاس آئی-
ولحمی نورا ودمی نورا-” (اور میرے گوشت اور میرے خون میں نور ہو) فریج اور الماری کے درمیان چھپنے کی جگہ تھی- وہ جھٹ ان کے درمیان آ بیٹھی- مگر سامنے ہی دروازہ تھا- وہ لڑکی واپس آتی تو سیدھی اس پر نظر پڑتی-نہیں اسے یہاں چھپنے کی بجائے نیچے جانا چاہیئے-
“وشعری نورا وبشری نورا -(اور میرے بال اور کھال میں نور ہو)
اندر جانے والا دروازہ بند تھا-اگر اسے کھولتی تو آواز باہر جاتی-وہ پریشان سی کھڑی ہوئی-تب ہی جالی دار الماری کے دروازے کے ہینڈل سے کچھ لٹکا ہوا نظر آیا-اس نے جھپت کر وہ اتارا سیاہ جاجٹ کا لبادہ-
اس نے چاند کی روشنی میں آنکھیں پھاڑ پھار کر دیکھنا چاہا
“واجعل فی نفس نورا- (اور میرے نفس میں نور ہو)
