Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mushaf (Episode 16)

Mushaf by Nimrah Ahmad

محمل کی شادی وسیم کے ساتھ آپ کو نہیں پتا اے ایس پی صاحب؟اسی فرائیڈے ان کا نکاح ہے،آپ ضرور آئیے گا میں آپ کا کارڈ نکلوا دیتی ہوں، زراٹھہریے ! وہ خوشدلی سے کہتی باہر نکل گئی-

کتنے ہی لمحے خاموشی کی نظر ہوگئے-

یہ کیا کہہ رہی تھی؟وہ بولا تو اس کی آواز میں حیرت تھی- بے پناہ حیرت-

ٹھیک کہہ رہی تھی-وہ سر جھکائے ناخن کھرچتی رہی

مگر کیوں محمل؟

آپ غالبا تعزیت کے لیے آئے تھے-

پہلے میری بات کا جواب دو،تم ایسا کیسے کر سکتی ہو؟

میں آپ کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں-اس نے تلملا کر سر اٹھایا-یہ میری ماں کی آخری خواہش تھی-مرتے وقت انہوں نے یہی وصیت کی تھی-

تمہیں کیسے پتہ تم تو ان کی ڈیتھ کے وقت مدرسے میں تھی،

ہاں مگر انہوں نے آغا جان سے کہا تھا،سب لوگ وہاں موجود تھے سب گواہ ہیں۔۔۔

تم! وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا-اس کا بس نہیں چل رہا تھا،وہ کیا کر ڈالے-تم انتہائی بے وقوف اور احمق ہو-

میں اپنی ماں کی بات کا مان رکھنا چاہتی ہوں،اس میں کیا حماقت ہے؟وہ چڑ گئی-

نادان لڑکی!تمہیں یہ لوگ بے وقوف بنا رہے ہیں،استحصال کر رہے ہیں-

کرنے دیں آپ کو کیا ہے؟وہ پیر پٹخ کر کھڑی ہوگئی-آپ میرے کون ہو جو مجھ سےپوچھ گچھ کر رہے ہو؟

میں جو بھی ہوں مگر تمہارا دشمن نہیں ہوں-وہ بھی ساتھ ہی کھڑا ہوا،اس کی آواز میں بے بسی تھی-کبھی یہی بات اس نے بہت اکھڑ لہجے میں بھی کہی تھی-جب وہ مدرسے کے باہر اسے لینے آیا تھا، اس رات کی صبح جو اس کی زندگی اجاڑ گئی تھی-

اگر آپ کے دل میں میری ماں کا ذرا سا بھی احترام ہے تو مجھے وہ کرنے دیں جو میری ماں چاہتی تھی- ماں باپ کبھی اولاد کا برا نہیں چاہتے-اسی میں کوئی بہتری ہوگی، آپ جا سکتے ہیں-وہ ایک طرف ہٹ کر کھڑی ہوگئی-

اسی پل پردہ ہٹا کر آرزو نمودار ہوئی-

آپ کا کارڈ،آائیے گا ضرور-اس نے مسکرا کر کارڈ ہمایوں کی طرف بڑھایا-ہمایوں نے ایک قہر آلود نظر محمل پہ ڈالی، اور دوسری محمل پہ اور لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر نکل گیا-

نو پرابلم- آرزو شانے اچکا کر کارڈ لیے واپس مڑگئی-

اماں ! وہ کراہ کر صوفے پہ گر سی گئی-یہ اماں اسے کس منجھدھار میں چھوڑ کے چلی گئی تھیں؟کیوں کیا انہوں نے یہ فیصلہ؟کیوں اماں؟دونوں ہاتھوں میں سر جھکائے وہ سوچتی رہ گئی-

٭٭٭٭

سارے گھر میں دبا دبا سا شادی کا شور اٹھ چکا تھا،گو کہ ابھی ؟صرف نکاح تھا،مگر مہتاب تائی بھرپور تیاریاں کر رہی تھیں-شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ فواد جلد ہی گھر واپس آرہا تھا-اس خبر سے محمل پہ تو کوئی اثر نہ ہوا،البتہ مہتاب تائی اپنی اندرونی خوشی چھپائے سب کچھ محمل پہ ڈال گئی تھیں،

سوچ رہیں ہیں تھوڑا سا گہما گہمی والا فنکشن رکھیں، تاکہ محمل کا دل بہل جائے،ورنہ سچ پوچھو تو مسرت کے جانے کے بعد وہ بجھ سی گئی ہے-اب ہمارا دل نہیں چاہتا کہ شور ہنگامہ ہو۔مگر بس محمل اچھا محسوس کرے ، اس لیے-

وہ کسی نہ کسی کو ہر وقت فون پہ وضاحتیں دے رہی ہوتی تھیں-

محمل چپ چاپ کچن میں کام نمٹا تی رہتی،جیسے وہ خاموش ماتم کر رہی تھی،نمازیں، تسبیحات ، دعائیں،وہ سب کر رہی تھی،ہاں مدرسے وہ ابھی نہیں جا رہی تھ،وہ صرف اور صرف ماتم چاہتی تھی-مسر ت کا یا شاید اپنا،وہ نہیں جانتی تھی-

فون کی گھنٹی بجی تو وہ جو رومال سے میز صاف کر رہی تھ،آہستہ سے رومال چھوڑ کے اٹھی-

اسٹینڈ پہ رکھا فون مسلسل بجے جا رہا تھا-وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی قریب آئی اور رسیور اٹھایا-

السلام علیکم!

وعلیکم السلام، محمل؟نسوانی آواز رسیور میں گونجی،وہ لمحے بھر میں ہی پہچان گئی-

فرشتے کیسی ہیں آپ؟

میں ٹھیک ہوں،ہمایوں نے مجھے بتایا ہے کہ تم ۔۔۔۔۔۔۔۔ فرشتے قدرے پریشانی سے کہہ رہی تھی کہ اس نے تیزی سے بات کاٹی-

ہمایوں ہر بات آپ کو کیوں جا کے بتاتے ہیں؟ان سے کہیں ایسا مت کیا کریں-

مگر محمل تم اس طرح سے کیسے؟

آپ لوگ مجھے احمق کیوں سمجھتے ہیں؟کیوں میرے لیے پریشان ہورہے ہیں؟میری ماں میرے لیے کچھ غلط نہیں سوچ سکتی،پلیز مجھے میری زندگی کے فیصلے خود کرنے دیں-

محمل اب میں تمہیں کیا کہوں!اچھا ٹھیک ہے جو کرنا ، سوچ سمجھ کے کرنا، اوکے،چلو اب ہمایوں سے بات کرو-

ارے نہیں-وہ روکتی رہ گئی،مگر فرشتے نے فون اسے پکڑا دیا تھا-

” اگر تم نے فیصلہ کر ہی لیا ہے اور تمہارے وہ فیری ٹیل سسرال والے اجازت دیں تو کیا میں اور فرشتے تمہاری شادی کے فنکشن میں آ سکتے ہیں؟

اونہوں ہمایوں! پیچھے سے فرشتے کی تنبیہی آواز ابھری-

ہاں شیور کیوں نہیں-جمعہ کو رات آٹھ بجے فنکشن ہے-ضرور آئیے گا اللہ حافط-

اس نے کھٹ سے فون بند کردیا-غصہ اتنا ابل رہا تھا کہ فرشتے سے بھی بات کرنے کو جی نہیں چاہا تھا-

فون کی گھنٹی پھر سے بجنے لگی،مگر وہ سر جھٹک کر میز کی طرف بڑھ گئی جہاں جھاڑ پونچھ کا رومال اس کا انتظار کر رہا تھا-

٭٭٭٭٭

بیوٹیشن نے کام دار دوپٹہ اس کے سر پہ رکھا۔اور پھر اسے ایک ہاتھ سے پکڑے،وہ جھک کر ڈریسنگ ٹیبل سے پنیں اٹھانے لگی-محمل بت بنی اسٹول پہ بیٹھی سامنے آئینے میں خود کو دیکھ رہی تھی،بیوٹیشن اس کے پیچھے کھڑی اس کا دوپٹہ سیٹ کر رہی تھی-

وہ کام دار شلوار قمیض گہرے سرخ رنگ کی تھی- جس پہ سلور سلمہ ستارے کا کام تھا-دوپٹے کے بارڈر پہ بھی چوڑی پٹی کی صورت میں سلور کام کیا گیا تھا-ساتھ میں نازک سا وائٹ گولڈ اور روبی کا نیکلس تھا اور ایک خوبصورت قیمتی سا ٹیکہ جس میں بڑا سا سرخ روبی جڑا تھا،اس کے ماتھے پہ سجا تھا-جانے تائی نے کب یہ سب بنوایا تھا،وہ بھی چپ چاپ ہر چیز پہنتی گئی-

گھر میں ہونے والے ہنگاموں سے کہیں نہیں لگتا تھا کہ مسرت کو مرے ابھی بیس دن بھی نہیں ہوئے،

مگر وہ شکوہ کس سے کرتی؟مسرت کی زندگی میں بھی ان کی اتنی اہمیت کہاں تھی کہ مرنے کے بعد کوئی انہیں یاد رکھتا؟اور سنا تھا آج تو فواد بھی گھر آگیا تھا،پھر کاہے کا ماتم؟

وہ اپنے کمرے کی بجائے تائی کے کمرے میں تھی، تاکہ وہ ٹھیک سے تیار ہو جائے-اسے تیار کرنے کے لیے تائی نے وہ ماہر بیوٹیشن بلوائی تھی جو کافی دیر سے اس پہ لگی ہوئی تھی-

دقعتا باہر لاؤنج سے چند آوازیں گونجیں-وہ ذرا سی چونکی، کیا فواد آگیا تھا؟مگر نہیں، یہ آواز تو ۔۔۔۔۔۔

سنو،یہ دروازہ تھورا سا کھول دو-بے چینی سے اس نے بیوٹیشن سے کہا،تو وہ سر ہلاتی آگے بڑھی اور لاؤنج میں کھلنے والا دروازہ آدھا کھول دیا-

سامنے لاؤنج کا منظر آدھا نظر آرہا تھا اور اس کا شک درست تھا-

تم ۔۔۔۔۔۔۔ تم ادھر کیوں آئی ہو؟تائی مہتاب کی تلملاتی بلند آواز اندر تک سنائی دے رہی تھی-

فکر مت کریں میں رنگ میں بھنگ ڈالنے نہیں آئی،محمل کی شادی ہے میرا آنا فرض بنتا تھا- وہ اطمینان سے کہتی باہر صوفے پہ بیٹھ گئی تھی-ادھ کھلے دروازے سے وہ محمل کو صاف نظر آرہی تھی-

سیاہ عبایا کے اوپر سیاہ حجاب ک تنگ ہالے کو چہرے کے گرد لپیٹے وہ اب بے نیازی سے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھی اطراف کا جائزہ لے رہی تھی-

محمل نے لمحے بھر کو محسوس کرنا چاہا کہ اسے فرشتے کے آنے کی خوشی ہوئی ہے-،مگر اسے اپنے محسوسات بہت جامد لگے تھے،برف کی طرح ٹھنڈے-

اندر باہر خاموشی ہی خاموشی تھی،فرشتے آئے یا فواد اب اسے کوئی فرق نہ پڑتا تھا-

مگر ہم تمہارا اس گھر سے کوئی رشتہ تسلیم نہیں کرتے-

نہ کریں مجھے پرواہ نہیں ہے-وہ اب ہاتھ میں پکڑے موبائل کے بٹن دباتی اس کی طرف یوں متوجہ تھی جیسے سامنے غصے سے بل کھاتی تائی مہتاب کی کوئی اہمیت نہ ہو-فرشتے کے پاس موبائل نہیں تھا،وہ شاید ہمایوں کا موبائل لے کر آئی تھی-

دیکھو لڑکی تمہارا محمل سے کوئی تعلق نہیں ہے،بہتر ہے کہ تم چلی جاؤ اس سے پہلے کہ میں گارڈ کو بلواؤں-

پھر آپ گارذ کو بلوا لیں،کیونکہ میں تو ایسے جانے والی نہیں ہوں، سوری-

مسز کریم! میں موبائل پہ بزی ہوں،آپ دیکھ رہی ہیں،مجھے ڈسٹرب مت کریں،اور پلیز محمل کو بلا دیں-

وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھی موبائل پہ چہرہ جھکائے ہوئے مصروف تھی،محمل کے لبوں کو ہلکی سی مسکراہٹ چھو گئی-فرشتے بدتمیز یا بد لحاظ نہ تھی، بلکہ ازلی ٹھنڈے اور باوقار انداز میں تائی مہتاب کو بہت آرام سے جواب دے رہی تھی-البتہ محمل بدتمیزی کر جاتی تھی،اسے لگتا تھا وہ کبھی بھی فرشتے کی طرح پر اعتماد اور باوقار نہیں بن سکے گی-

محمل تم سے نہیں ملے گی، تم جا سکتی ہو-

آغآ جان کی آواز پہ موبائل پہ مصروف فرشتے نے چونک کر سر اٹھایا-وہ سامنے سے چلے آرہے تھے-کلف لگے شلوار قمیض میں ملبوس کمر پہ ہاتھ باندھے وہ غیض و غضب کی تصویر بنے ہوئے تھے-

السلام علیکم چچا! وہ موبائل رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی-چہرے پر ازلی اعتماد اور سکون تھا-

فرشتے تم یہاں سے جا سکتی ہو-

آپ مجھے نکال سکتے ہیں؟ وہ ذرا سا مسکرائی-آپ کو لگتا ہے کریم چچا کہ آپ مجھے نکال سکتے ہیں؟

میں نے کہا یہاں سے جاو-وہ ایک دم غصے سے ڈھارے تھے-

میں بھی اتنا ہی اونچا چیخ سکتی ہوں،مگر میں ایسا نہیں کروں گی،میں یہاں یہ کرنے نہیں آئی،میں صرف محمل سے ملنے آئی ہوں-وہ سینے پہ ہاتھ باندھے پر اعتماد سی ان کے سامنے کھڑی تھی-

لاؤنج میں سب اکٹھے ہونے لگے تھے-لڑکیاں ایک طرف لاعلم سی کھڑیں اشاروں میں ایک دوسرے سے پوچھ رہیں تھیں،حسن بھی شور سن کے سیڑھیوں سے نیچے اتر آیا تھا- لاؤنج کے بیچوں بیچ آغآ جان کے سامنے کھڑی وہ دراز قد سیاہ عبایا والی لڑکی کون تھی-؟

بہت سی آنکھوں میں سوال تھا-

تمہارا محمل سے کوئی تعلق نہیں ہے،وہ تم سے نہیں ملے گی سنا تم نے؟

آپ یہی بات محمل کوبلوا کر پوچھ لیں نا کریم چچا! کہ وہ مجھ سے یہ ملے گی یا نہیں-

ہم تمہیں نہیں جانتے کہ تم کون ہو،کہاں سے اٹھ کر اگئی ہو- تم فورا نکل جاؤ، ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا-

آغآ جان! یہ کون ہیں؟حسن الجھا ہو آگے بڑھا-

تم بیچ میں مت بولو-انہوں نے پلٹ کر اتنی بری طرح سے جھڑکا کہ حسن خائف ہوگیا-

ہٹو-بیوٹیشن کا ہاتھ ہٹا کر وہ اٹھی اور کامدار دوپٹہ سنبھالتی ننگے پاؤں باہر لپکی-

آپ مجھ سے ملنے ائی ہیں؟لاؤنج کے سرے پہ وہ رک کر بولی تو سب نو چونک کر اس کی طرف دیکھا -فرشتے ذرا سا مسکرائی-

کریم چچا کہہ رہے تھے کہ تم مجھ سے نہیں ملو گی؟

محمل! تم اندر جاؤ-تائی مہتاب پریشانی سے آگے بڑھیں-

آغآ جان! تائی اماں! فرشتے کو میں نے خود شادی میں انوائیٹ کیا ہے،آپ گھر آئے مہمان کو کیسے نکال سکتے ہیں؟

تم نے؟ تائی مہتاب بھونچکی رہ گئی-تم جانتی ہو اسے؟

ہاں میں انہیں جانتی ہوں-

اور یہ کیسے نہیں جانتی ہونگی،ان کے اس عاشق کی عزیزہ ہیں نا یہ۔۔۔

کوئی تمسخرانہ انداز میں کہتا ہوا سیڑھیوں سے اتر رہا تھا- محمل نے چونک کر گردن اٹھائی-وہ فواد تھا-ہشاش بشاش چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ لیے ،وہ ان کے سامنے آکھڑا ہوا تھا-

یہ کون ہیں؟فرشتے نے قدرے ناگواری سے اسے دیکھ کر محمل کو مخاطب کیا-

یہ اس ملک میں قانون کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے،جن کو قانون زیادہ دیر تک حراست میں نہ رکھ سکتا،،،

ایک جتاتی نگاہ فواد پہ ڈال کر اس نے چہرہ موڑ لیا تھا-آپ اندر آجائیں فرشتے! بیٹھ کر بات کرتے ہیں-

ہرگز نہیں-تائی تیزی سے اگے بڑھیں-

محمل! یہ لڑکی فراڈ ہے، یہ صرف ابراہیم کی جائیداد کے پیچھے ہے-

وہ تو آپ بھی ہیں مہتاب آنٹی!اور شاید اسی لیے آپ محمل کو بہو بنا رہی ہیں؟

اس نے فرشتے کو کسی سے اتنا درشتی میں بات کرتے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا،مگر اسے حیرت نہیں ہوئی تھی-

یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے، تم بیچ میں مت بولو- میں بیچ میں بولوں گی،محمل کے لیے میں ضرور بولوں گی! وہ پلٹی اور محمل کو دونوں کندھوں سے تھام کر اپنے سامنے کیا-

محمل! مجھے بتاؤ ان لوگوں نے تمہارے ساتھ زبردستی کی ہے؟یہ تمہیں کیوں مجبور کر رہے ہیں اس شادی کے لیے؟

مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا یہ میرا اپنا فیصلہ ہے،میں اس پہ خوش ہوں-

فرشتے ایک دم چپ ہوگئی-اس کے شانوں پہ اس کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے-

سن لیا تم نے؟اب جاؤ- آغآ جان استہزائیہ سر جھٹکا اور دروازے کی طرف اشارہ کیا، مگر وہ ان کی طرف متوجہ نہ ہوئی-

محمل تم نے اتنا بڑا فیصلہ اکیلے کیسے کر لیا؟وہ دکھ سے اسے دیکھ رہی تھی- جب کسی کو اپنا مخلص دوست کہا جاتا ہے اور اپنے دوست کی محبت اور خلوص کے دعوے کیے جاتے ہیں تو اتنے بڑے فیصلوں سے قبل اسے مطلع بھی کیا جاتا ہے-

میں آپ کو بتانے ہی۔۔۔۔۔۔۔

میں اپنی بات نہیں کر رہی-

پھر ؟ کون؟ وہ چونکی- کیا ہمایوں؟اس کا نام اس نے آہستہ سے لیا تھا-

میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مزیڈ اس کے قریب آئی اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے دھیرے سے بولی -میں اس مصحف کی بات کر رہی ہوں جس کے اتارنے والے سے تم نے سمعنا واطعنا(ہم نے سنا اور ہم نےاطاعت کی) کا وعدہ کیا تھا-کیا تم نے اسے بتایا؟

فرشتے!وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہی تھی-

“اللہ کو سب پتا ہے میں کیا بتاؤں؟

کیا تمہیں دن میں 5 بار اسے اپنی اطاعت کا بتانا نہیں پڑتا؟پھر اپنے فیصلوں میں تم اسے کیسے بھول سکتی ہو؟

محمل ٹکر ٹکر اس کا چہرہ دیکھنے لگی-اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ فرشتے کیا کہہ رہی ہے،کیا سمجھنا چاہ رہی ہے۔۔۔

مگر میں نے نماز تسبیح کچھ نہیں چھوڑا،میں ساری نمازیں پڑھتی ہوں-وہ دونوں بہت مدھم سرگوشی میں بات کر رہی تھیں-

لیکن کیا تم نے اس کی سنی؟اس نے کچھ تو کہا ہوگا تمہارے فیصلے پر-فرشتے نے ابھی تک اسے کندھوں سے تھام رکھا تھا اور وہ یک ٹک اسے تکے جا رہی تھی-

محمل! تم اس کی بات سنتی تو سہی، اس سے پوچھتی تو سہی!تم قرآن کھولو اور سورہ مائدہ کا ترجمہ دیکھو-

-اس کی آواز میں تاسف گھل گیا-محمل نے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ اپنے شانوں سے ہٹائے اسے لگا اس سے غلطی ہو گئی ہے-

میں ابھی آتی ہوں آپ جائیے گا نہیں-

وہ کام دار دوپٹے کا پلو انگلیوں سے تھامے ننگے پاؤں بھاگتی ہوئی کمرے کی طرف گئی-

محترمہ آپ جا سکتی ہیں-فواد نے دروازے کی طرف اشارہ کیا-

یہ میرے باپ کا گھر ہے ، اس میں ٹھہرنے کے لیے مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں، وہ رکھائی سے کہتی صوفے پہ بیٹھی اور پھر سے موبائل اٹھا لیا-

فواد اور آغا جان نے ایک دوسرے کو دیکھا،نگاہوں میں ۔۔۔۔۔ اشاروں کا تبادلہ کیا اور آغا جان بھی گہری سانس لیتے ہوئے صوفے پہ بیٹھ گئے-تقریب کے شروع ہونے میں دو ڈھائی گھنتے باقی تھے-مہمانوں آمد کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا-

محمل دوڑتے قدموں سے اپنے کمرے میں آئی تھی-دروازے کی چٹخنی چڑھا کر شیلف کی طرف لپکی-

سب سے اوپر والے خانے میں اس کا سفید جلد والا مصحف رکھا تھا-اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے اوپر رکھا،مصحف اٹھایا اور آہستہ سے اسے دونوں ہاتھوں میں تھامے اپنے چہرے کے سامنے لائی،اسے سب یاد رہا تھا،صرف یہ بھول گیا تھا کیوں؟

وہ اسے مضبوطی سے پکڑے بیڈ پہ آبیٹھی اور کور کھولا-

وہ سورہ مائدہ کی 106 آیت تھی-

اے ایمان والوں جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو-

چند الفاظ پڑھ کر ہی اس کادل بری طرح دھڑکا -اس نے زور سے پلکیں جھپکیں،کیا وہ سب کچھ واقعی ادھر لکھا تھا؟وصیت ۔۔۔ موت کا وقت، وصیت “مسرت نے مرتے وقت وصیت کی تھی۔۔۔۔

تمہارا رشتہ وسیم سے۔۔۔ بہت سی آوازیں ذہن میں گڈ مڈ ہونے لگیں-وہ سر جھٹک کر پھر سے پڑھنے لگی-

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو اس کے لیے کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں دوصاحب عدل آدمی گواہ لے لیے جائیں پھر اگر (ان کی بتائی ہوئی وصیت میں)کوئی شک پڑجائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو ( مسجد میں روک لیا جائے اور وہ قسم کھا کر کہیں کہ ہم کسی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں اور خواہ کوئی ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو(ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں)اور نہ خدا واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں،اگر ہم نے ایسا کیا تو گناہگاروں میں شمار ہوجائیں گے-

وہ ساکت سی ان الفاظ کو دیکھ رہی تھی-اس کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں-قرآن کو تھامے دونوں ہاتھ بے جان سے ہوگئے تھے-کیا وہ سب واقعی یہاں لکھا تھا؟مگر ۔۔۔ مگر کیسے؟وصیت ۔۔۔ دو افراد کا قسم کھا کر گواہی۔۔۔ رشتہ دار یہ سب تو ۔۔۔۔ یہ سب تو اس کے ساتھ ہورہا تھا-

وہ پلک تک نہ جھپک پارہی تھی-اس کا دل جیسے رعب سے بھر گیا تھا-رعب سے اور خوف سے-

یکایک اسے لگا اس کے ہاتھ کپکپا رہے ہیں،اسے ٹھنڈے پسینے آرہے ہیں،وہ بہت بھاری کتاب تھی،

بہت بھاری، بہت وزنی وہ جس کا بوجھ پہاڑ بھی نہ اٹھا سکتے ہوں،وہ کیسے اٹھا سکتی تھی؟اسے لگا اس کی ہمت جواب دے جائے گی-وہ اب مزید یہ بوجھ نہیں اٹھا پائے گی-وہ عام کتاب نہ تھی،اللہ کی کتاب تھی۔۔۔ اسے اللہ نے اس کے لیے خاص ، خاص اس کے لیے اتارا تھا-ہر لفظ ایک پیغام تھا-ہر سطر ایک اشارہ تھی-

اس نے اتنی زندگی ضائع کردی-اس نے یہ پیغام کبھی دیکھا ہی نہیں-

محمل تم نے اتنی عمر بے کار گزار دی-یہ کتاب غلاف میں لپیٹ کر بہت اونچی سجانے کے لیے تو نہ تھی- یہ تو پڑھنے کے لیے تھی-

ہر دفعہ کی طرح آج بھی پھر اس کتاب نے اسے بہت حیران کیا تھا-سوچنا سمجھنا تو دور کی بات وہ تو متحیر سی ان الفاط کو تکے جا رہی تھی،یہ سب کیا تھا؟کیسے اس کتاب کو سب پتہ ہوتا تھا؟

کیونکہ یہ اللہ کی کتاب ہے نادان لڑکی! یہ اللہ کی بات ہے،اس کا پیغام ہے، خاص تمہارے لیے،تم لوگ نہ سننا چاہو تو یہ الگ بات ہے-کسی نے اس کے دل سے کہا تھا-

وہ کون تھا وہ نہ جانتی تھی ۔۔۔۔۔۔

دروازہ کھلنے کی آواز پر سب نے چونک کر اسے دیکھا-وہ آہستہ سے چلی آرہی تھی-کام دار دوپٹے کا کنارہ ٹھوڑی کے قریب سے اس نے دو انگلیوں میں رکھا تھا-اس کے چہرے کی رنگت قدرے سفید پڑی ہوئی تھی یا شاید یہ کچھ اور تھا جو انہیں چونکا گیا تھا،وہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی ان کے سامنے آکھڑی ہوئی-

آغا جان ! اس نے ان کی آنکھوں میں جھانکا-وہ اس کے اجنبی لہجے پہ چونک سے گئے-

ہاں بولو-

میری ماں کی وصیت کے وقت موجود لوگوں میں سے کون سے دو لوگ عصر کی نماز کے بعد اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر گواہی دیں گے کہ انہوں نے یہ وصیت کی تھی یا نہیں؟

پل بھر میں لاؤنج میں سکوت سا چھا گیا، فرشتے نے مسکراہٹ دبا کر سر نیچے کر لیا-

آغا جان حیران سے کھڑے ہوئے-

کیا مطلب؟

آپ کو پتہ ہے سورہ مائدہ میں لکھا ہے نماز کے بعد آپ میں سے دو لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر گواہی دینی پڑے گی-

کیا بکواس ہے؟ وہ بھڑک اٹھے- تمہیں ہماری بات کا اعتبار نہیں؟

نہیں ہے!

تم! وہ غصہ ضبط کرتے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئے-

تب ہی نگاہ فرشتے پر پڑی تو اس نے فورا شانے اچکا دیے-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *