Mushaf by Nimrah Ahmad NovelR50633 Mushaf (Episode 10)
Rate this Novel
Mushaf (Episode 10)
Mushaf by Nimrah Ahmad
لاؤنج میں سب بڑے موجود تھے-وہ سر جھکائے کارڈ کو احتیاط سے پاکٹ میں چھپا کر اندر جانے لگی-
محمل! غفران چچا نے قدرے رعب سے پکارا-
آغا جان نے تو اسے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا تھا-وہ اس دن سے اس سے مخاطب نہیں ہوئے تھے-
جی؟ وہ ناگواری سے رکی ۔۔۔۔
کدھر سے آرہی ہو؟
پرچہ کٹوانے گئی تھی تھانے!
واٹ؟ غفران چچا غضب ناک سے اس کی طرف بڑھے-
” جی آپ کے فواد آغا کے خلاف پرچہ کٹوانے گئی تھی- کیوم؟نہیں کٹوا سکتی؟وہ ان کے بالکل سامنے کھڑی بلند آواز میں بد لحاظی سے بول رہی تھی- اور مجھ سے آئندہ سوال جواب مت کیجیئے گا،میں جدھر بھی جاؤں میری مرضی-آپ لوگ ہوتے کون ہیں مجھ سے ۔۔۔۔۔۔
چٹاخ کی آواز کے ساتھ اس کے منہ پر تھپڑ لگا تھا-
وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹی تھی- اور چہرے پہ ہاتھ رکھے بے یقینی سے غفران چچا کو دیکھا-
پرچہ کٹواؤ گی تم؟ہاں؟ انہوں نے اس کو بالوں سے پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا-
ہاں ہاں کٹواؤں گی- مجھے نہیں روک سکتے آپ لوگ-وہ حلق پھاڑ کے چلائی تھی-
دوسرے ہی لمحے اسد چچا اٹھے اور پھر ان دونوں بھائیوں نے کچھ نا دیکھا-تابڑ توڑ اس پر تھپڑوں کی برسات کردی ۔۔۔۔
آغاجان بڑے صوفے پر آرام سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے اسے پتتے دعکھتے رہے تھے- تائی مہتاب ناعمہ اور فضہ بھی قریب ہی بالکل خاموش بیٹھی تھیں- سامیہ کچن کے کھلے دروازے میں کھڑی تھی-اوپر سیڑھیوں سے ندا جھانک رہی تھی-
وہ اسے بری طرح گالیاں بکتے مارتے چلے گئے-وہ صوفے پر بے حال سی گری چیخ چیخ کر رو رہی تھی،مگر ان دونوں نے اسے نہیں چھوڑا-
بول کٹوائے گی پرچہ؟وہ دونوں بار بار یہی پوچھتے، یہاں تک کے نڈھال سی محمل میں جواب دینے کی سکت نہ رہی تو انہوں نے ہاتھ روک لیا- صوفے کہ ایک ٹھوکر مار کر غفران چچا باہر چلے گئے-
امی امی- وہ صوفے پر گری منہ پہ بازو رکھے گھٹی گھٹی سسکیوں سے رو رہی تھی-مسرت ادھر کہیں بھی نہیں تھی-آہستہ آہستہ سب بڑے ایک ایک کر کے اٹھ کر باہر چلے گئے-سیڑھیوں سے لگی تماشا دیکھتی لڑکیاں بھی اپنے کمروں کو ہو لیں-
” مر جاؤ تم سب اللہ کرے تم سب کے بچے مر جائیں،چھت گرے تم لوگوں پر -گردن کاٹ دوں میں تمہارے بچوں کی ۔۔۔۔ وہ ہچکیوں سے روتی گھٹ گھٹ کے بد دعائیں دیئے جا رہی تھی-
کتنی ہی دیر بعد لاؤنج کا دروازہ کھلا اور دن بھر کا تھکا ہارا حسن اندر داخل ہوا- کوٹ بازو پر ڈالے ٹئی کی ناٹ ڈھیلی کرتا وہ ممی ممی پکارتا ذرا آگے آیا تو ایک دم ساکت رہ گیا-
کارپٹ پہ بکھرے کشن اور ایک صوفہ جسے ٹھوکر مار کر جگہ سے ہٹا دیا گیا تھا- اس پے عجیب طرح سے گری محمل ۔۔۔۔۔۔ بکھرے بال چہرے پر نیل ۔۔ باذوؤں پر سرخ نشان ۔۔۔ وہ بازوؤں سے آدھا چہرہ چھپائے سسکیوں سے رو رہی تھی-
وہ متحیر سا چند قدم آگے آیا-
محمل! وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہا تھا کس نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس نے کیا یہ سب؟
مر جاؤ تم ! ایک دم بازو ہٹا کر اس نے حسن کو دیکھا اور پھر چلائی تھی-خدا کرے تم سب مر جاؤ،یتیموں پر ظلم کرتے ہوخدا کرے تمہارے بچے مر جائیں – سب کے-
محمل مجھے بتاؤ یہ کس نے کیا ہے میں-
مرجاؤ تم سب وہ پوری قوت سے چلائی اپھر یکدم بلک کر رودی اور اٹھ کر لڑکھڑاتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات کا تیسرے پہر اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا-مدھم سی چرچراہٹ سنائی دی اور پھر خاموشی چھا گئی-لا ؤنج سنا ٹے اور تاریکی میں ڈوبا تھا-
وہ دکھتے جسم کو زبردستی گھویٹتی ٹی وی لاؤنج تک لائی-ساتھ ہی فون اسٹینڈ رکھا تھا-اس نے لارڈ لیس نکالا اور ادھر ادھر احتیاط سے دیکھتی واپس آئی-
مسرت آج گھر پے نہ تھی-صبح جب وہ مسجد جانے کے لیئے نکلی تھی تب مسرت گھر میں ہی تھی-مگر شاید اس کے جاتے ہی ان کو کہیں بھیج دیا گیا تھا-غالبا رضیہ پھپھو کے گھر-
وہ دروازے کی کنڈی لگا کر بیڈ پر بیٹھی تھی-لایٹ آن کر رکھی تھی-سامنے دیوار پر آئینہ لگا تھا-اسے اپنا عکس سامنے ہی دکھائی دے رہا تھا-
لمبے بال چہرے کے اطراف میں گرے سوجے ہونٹ- ماتھے اور گال پہ سرخ سے نشان جو نیلے پر رہے تھے-اس نے بے اختیار بال کانوں کے پیچھے اڑسے-وہ کارڈ ابھی تک جینز کی جیب میں تھا-اس نے مڑا تڑا سا وہ کارڈ نکالا اور نمبر ڈائل کرنے لگی-
پہلی گھنٹی پوری بھی نہ گئی تھی کہ چوکنی سی ہیلو سنائی دی-
اے ۔۔۔۔ اے ایس پی صاحب؟اس کی آواز لڑکھڑائی-
کون؟ وہ چونکا تھا-
مم ۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔۔ محمل – اسے اپنا گھمنڈی انداز یاد کر کے رونا آیا-
محمل کدھر ہو تم خیریت ہے؟
وہ چپ رہی آنسو اس کے چہرے پہ لڑھکتے گئے-
محمل بولو-
مجھے مجھے انہوں نے ٹارچر کیا ہےا مارا ہے-“
اوہ- وہ چپ ہوگیا- پھر آہستہ آہستہ بولا-اب کیسی ہو؟
مجھے نہیں پتہ- وہ رونے لگی تھی- مجھے بتائیں فواد بھائی جیل میں ہیں؟
ہے تو سہی مگر شاید جلد اس کی ضمانت ہو جائے وہ لوگ عنقریب تمہیں میرے خلاف گواہی دینے پہ اکسائیں گے-
پھر میں کیا کروں؟
مان جاؤ-
کیا؟اس نے بے یقینی سے فون کو دیکھا-عجیب سر پھرا شخص ہے-
تم جھوٹا وعدہ کر لو کہ تم میرے خلاف گواہی دو گی-ورنہ یہ تمہیں کورٹ میں نہیں پہنچنے دیں گے-
اور کورٹ میں جا کر مکر جاؤں؟
ہاں وہاں سچ بتا دینا-
اور وہ اس دھوکے پے میرا کیا حشر کریں گے آپ کو اندازہ ہے؟
تم اس کی پرواہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سب مجھے اپنے اپنے مقصد کے لیئے استعمال کر رہے ہو- آپ کو مجھ سے کوئی سچی ہمدردی نہیں ہے-
چندلمحے خاموشی چھائی رہی،پھر ہمایوں نے ٹھک سے فون بند کر دیا- وہ دکھی سی فون ہاتھ میں لیئے بیٹھی رہ گئی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مسرت اگلی صبح ہی آگئی تھی-انہوں نے کوئی سوال نہیں کیا- کوئی جواب نہ مانگا-بس اسے دیکھ کر ایک جامد سی چپ ہونٹوں پہ لگ گئی-بہت دیر بعد آہستہ سے بولی تو بس اتنا کہ
تم فواد کے خلاف ضرور گواہی دوگی-انہوں نے میری بیٹی کے ساتھ اچھا نہیں کیا- اور پھر چپ چاپ کام میں لگ گئیں-
پورے گھر کا اس سے سوشل بائیکاٹ تھا-وہ کمرے میں کھانا کھاتی اور سارا دن اندر ہی بیٹھی رہتی- باہر نہ نکلتی- اگر نکلتی بھی تو کوئی اس سے بات نہ کرتا تھا-
اس روز بہت سوچ کے وہ فرشتے سے ملنے مسجد چلی آئی-
کالونی کی سڑک گھنے درختوں کی باڑ سے ڈھکی تھی-
درختوں نے سارے پہ ٹھنڈی چھایا کر رکھی تھی- آہنی گیٹ کے سامنے رک کر اس نے گردن اوپر اٹھائی-
سفید اونچےستونوں والی وہ عالیشان عمارت اپنے ازلی وقار و تمکنت کے ساتھ کھڑی تھی- برابر میں سبز بیلوں سے ڈھکا بنگلہ تھا جس کی بیرونی دیوار کے ساتھ ایک خالی سنگی بینچ نصب تھا-محمل جب بھی ادھر آتی وہ بینچ ویران نظر آتا- اسے بے اختیار ہی بس اسٹاپ کا بینچ اور وہ سیاہ فام لڑکی یاد آئی تھی-نہ جانے کیوں-
سفید سنگ مر مر کی لش پش چمکتی راہداریاں آج بھی ویسے ہی پر سکوں تھیں جیسی وہ ان کو چھوڑ کے گئی تھی-
باب دجال مدینہ طیبہ میں نہ آ سکے گا-
آخری کھلے دروازے سے اسے فرشتے کی آواز سنائی دی- اس نے ذرا سا جھانکا-
وہ کتاب ہاتھ میں لیئے منہمک سی پڑھا رہی تھی
سیاہ عبایا کے اوپر سرمئی اسکارف میں اس کا چہرہ دمک رہا تھا-اور وہ سہری چمکدار کرسٹل سی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔ اس نے کہیں دیکھ رکھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کہاں؟
وہ ان ہی سوچوں میں گھری دروازے کی اوٹ میں کھڑ تھی جب فرشتے باہر آئی-
ارے محمل اسلام علیکم-
اور اسے دیکھ کر خود وہ بھی بہت خوش ہوئی تھی-
تم کیسی ہو محمل؟آؤ بلکہ یوں کرو میرے ساتھ اندر آفس میں چلتے ہیں-فرشتے نے اس کا ہاتھ ہولے سے تھاما اور پھر اسے تھامے ہی مختلف راہداریوں سے گزرتی اپنے آفس تک لائی-
اور یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے؟
پتا نہیں- اس نے بیٹھتے ہوئے میس کے شیشے کی سنک میں اپنا عکس دیکھا- بھوری اونچی پونی ٹیل سے نکلتی لاپروا لٹیں،آنکھوں تلے گہرے حلقے، ماتھے اور گال پہ گہرے نیل اور ہونٹون کے سوجے کنارے-
یکدم روشنی اس کے چہرے پہ پڑی تو اس نے آنکھیں چندھیا کر چہرہ پیچھے کر لیا- فرشتے اپنی کرسی کی پشت پہ کھڑکی کے بلائنڈز کھول رہی تھی-
ہمایوں نے بتایا تھا تم نے اسے کال کی تھی؟
وہ ذرا سی چونکی-ہمایوں ہر بات کیوں اسے بتاتا تھا؟
اسے نہیں بتانا چاہیئے تھا-
ہمایوں کو تمہاری بہت فکر تھی-وہ واپس کرسی پہ آ بیٹھی تھی-
انہیں میری نہیں اپنی فکر ہے-بہت خود غرض ہیں آپ کے کزن-
جانے دو وہ نرمی سے مسکرائی-کسی کے پیچھے اس کا برا ذکر نہیں کرتے-
جو بھی ہے اس نے شانے اچکائے-وہ یقینا اپنے کزن کی برائی نہیں سن سکتی تھی-
اچھا یہ بتاؤ-وہ ذرا کرسی پہ آگے کو ہوئی-آگے پڑھائی کا کیا پروگرام ہے؟
ستمبر میں یونیورسٹی جوئن کرنی ہے-
تو ابھی گرمیوں کی چھٹیوں میں ادھر اسکول آجاؤ-
قرآن پڑھنے ۔۔۔۔۔۔۔
آ ۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایکچوئلی ۔۔۔۔۔ میرے پاس قرآن ہے ترجمے والا گھر میں پڑھ لون گی-
بی ایس سی میں کون سا سبجیکٹ تھا؟
میتھس-
کس سے پڑھا تھا؟
کالج میں پروفیسر سے اور شام میں ایک باجی کے پاس ٹیوشن جاتی تھی-
میتھس کی بک تھی تو تمہارے پاس پھر دو دو جگہ سے کیوں پڑھا؟گھر بیٹھ کر پڑھ لیتی؟
گھر میں خود سے کہاں پڑھا جاتا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر رک گئی اور جیسے سمجھ کر گہری سانس لی-قرآن اور نصابی کتابوں میں فرق ہے-
اس لیئے ہم چار سال کی عمر سے گھنٹوں نصاب کو پڑھتے رہتے ہیں،اور قرآن کو اللہ نے آسان بنا کر اتارا ہے تاکہ ہر کوئی سمجھ سکے-میتھس ٹیچر کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا-قرآن آجاتا ہے سمجھ؟
ہاں کیوں نہیں-
فرشتے نے جھک کر دراز سے ایک سیاہ جلد والی دبیز کتاب نکالی-
یہ انجیل مقدس کا ایک عظیم حصہ ہے-اس میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی پیش گوئی ہے-کافی دلچسپ ہے یہ پڑھو- اس نے ایک صفحہ کھول کر اس کے سامنے کیا- محمل نے کتاب اپنی جانب کھسکا لی-
اس کی امت کی اناجیل ان کے سینوں میں ہوں گی-وہ بے اختیار رکی- اناجیل؟ اس نے پوچھا-
انجیل کی جمع-مراد ہے قرآن مجید- یہ یہاں سے پڑھو-فرشتے نے ایک جگہ انگلی رکھی-مخروطی سپید انگلی جس کا ناخن نفاست سے تراشیدہ تھا-اس نے انگلی میں زمرد جڑی چاندی کی انگوٹھی پہن رکھی تھی-
اوہ اچھا-وہ ادھر سے پڑھنے لگی-
وہ بازاروں میں شور کرنے والا ہوگا،نہ بے ہودہ گو ۔ نام احمد ہوگا-وہ آفتاب کے سایوں پر نظر رکھنے والا ہوگا-اس کے ازان دینے والے کی پکار دور تک سنی جاۓ گی-وہ رک کر جیسے الجھ کر پھر سے شروع سے پڑھنے لگی-
“ملک شام ہوگا؟
بعد میں مسلمانوں کی حکومت شام تک پھیل جاۓ گئی تھی اسی طرف اشارہ ہے ۔۔۔۔
اور آفتاب کے سایوں پر نظر رکھنا ۔۔۔۔۔۔؟
نمازوں کے اوقات کے لیئے۔۔۔
اور آزان دینے والا ۔۔۔۔ ؟
بلال ۔۔ فرشتے جواب دیتے ہوئے مسکرائی-
گھر بیٹھ کر پڑھو گی تو یہ سوال کس سے پوچھو گی؟
قرآن کی تفاسیر بھی تو پڑھی جا سکتی ہے ۔۔۔
علم پڑھنے سے نہیں سمجھنے سے آتا ہے-
آخر گھر بیٹھ کر پڑھنے میں کیا ہے؟
موسی کو خضر کے پاس جانا پڑتا ہے میری جان،خضر موسی کے پاس نہیں آتے ۔۔۔اچھی کوالٹی کے علم کے لیئے اتنا ہی سفر کرنا پڑتا ہے-
آپ ۔۔۔۔ آپ کی ساری باتیں ٹھیک مگر، مگر میری بات بھی ٹھیک ہے- مذبذبین بین ثالک،لاالی ھولاء ولاالی ھولاء-
فرشتے پین کو انگلیوں کے درمیان گھماتی مسکرا کر گہری سانس لے کر بولی-وہ ان کے دریاں تذبذب میں ہیں،نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں-
آپ نے عربی میں کچھ کہا نا؟اب عام بندے کو عربی کہاں سمجھ میں آتی ہے؟قرآن اردو میں کیوں نہیں اترا؟
اچھا سوال ہے-وہ اپنی نشست سے اٹھی اور سامنے کتابوں کے ریک کی طرف گئی-پھر سیدھی کھڑی کتابوں کی جلد پر انگلی گزارتی کسی کتاب کی تلاش کرنے لگی-
تو تمہارا نقطہ یہ ہے کہ صرف خالی محاورتا’ترجمہ دیکھ کر قرآن پڑھنا بھی کافی ہے- اس نے ایک کتاب پر انگلی روکی اور اسے کھینچ کر باہر نکالا-
یہ سورۃ بنی اسرائیل میں ابلیس کے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرنے کا قصہ ہے-یہاں ابلیس نے اولاد آدم کے لیئے کیا لفظ استعمال کیا ۔۔۔۔۔۔ یہ پڑھو اس نے بڑا سا ترجمے والا قرآن اس کے سامنے کھول رکھا اور اپنی زمرد جڑی انگوٹھی والی انگلی ایک لفظ پر رکھی-مؔحمل بے اختیار قرآن پر جھکی-
لاحتنکن’ البتہ میں ضرور قابو کروں گا-اس نے لفظ اور ترجمہ دونوں پڑھے-
رائٹ- اگر البتہ اور ضرور کے ضمائر کو نکال دو تو تین حرفی لفظ رہ جاتا ہے-ح ن ک یعنی حنک’ حنک کے تین معنی ہیں-کسی چیز کو خوب باریکی میں سمجھنا’ ٹڈیوں کے کھیت کا صفایا کرنا اور گھوڑے کے جبڑوں کے درمیان سے لگام گزار کر گھوڑے کو قابو کرنا اردو میں بس اتنا لکھا ہے قابو کرنا-
جسے انگریزی میں کنٹرول کہتے ہیں- جبکہ عربی کی وسعت ہمیں بتاتی ہے- کہ شیظان کس طرح ہماری نفسیات سمجھ کر،ہمارے ایمان کا صفایا کر کے ہمیں لگام ڈالتا ہے اور وہ لگام عموما منہ کے راستے ڈالی جاتی ہے اور قرآن اسی لیئے عربی میں اترا اور ۔۔۔۔ تم میری بات سے بور ہورہی ہو- چلو جانے دو- ابھی تمہارے پاس ٹائم ہے،اس لیئے کہہ رہی تھی،ورنہ بعد میں دنیاوی تعلیم میں کھو کر تمہیں اس کا ٹائم نہیں ملے گا-
“یعنی آپ بھی ٹیپکل مولویوں کی طرح دنیاوی تعلیم کو گناہ سمجھتی ہیں؟
میں دنیاوی تعلیم میں کھو کر مادہ پرست بننے کو گناہ سمجھتی ہوں-
ہاں- تمہیں دیر ہو رہی ہے،گھر میں سب پریشان ہورہے ہونگے-
پریشان وریشان کوئی نہیں ہوتا،یتیموں کی پرواہ کسی کو نہیں ہوتی-
کون یتیم؟
میں! میرے ابا نہیں ہیں-
عمر کیا ہے تمہاری؟
بیس سال-
پھر تو تم یتیم نہیں ہو- یتیم تو اس نابالغ بچے کو کہتے ہیں جس کا باپ فوت ہوجائے،بلوغت کے بعد کوئی یتیمی نہیں ہوئی-اپنی اس خود ترسی کو اپنے اندر سے نکال دو محمل!
آپ کیا کہہ رہی ہیں؟محمل بے یقینی سے پیچھے ہٹی اور چند لمحے اسے یونہی بے اعتبار نگاہوں سے دیکھ کر بنا کچھ کہے تیزی سے بھاگ گئی-
فرشتے کی بات نے ایک دم اسے بہت ڈسٹرب کردیا تھا-
“بھاڑ میں گئی ڈکشنری،میں یتیم ہوں! وہ تیزی سے راہداری عبور کر کے برآمدے میں آئی-آگے نکل ہی نا پائی تھی کہ ریسپشنسٹ نے روک لیا-
اسلام علیکم- یہ آپ کا ایڈمیشن فارم،فرشتے باجی نے کہا تھا آپ کو اس کی ضرورت ہے-
اف! وہ گہری سانس بھر کر ڈیسک کے قریب آئی-
دکھایئے-
بس دیکھ کر واپس کر دوں گی مجھے مولوی نہیں بننا۔ماسٹرز کرنا ہے اس نے سوچا-
نیا پیچ کونسا ہے؟وہ اب پراسپیکٹس کے صفحے پلٹ کر دیکھ رہی -تھی-
علم الکتاب پرسوں پہلی کلاس ہے-
میں فرشتے کو صاف انکار کردونگی،بھلے وہ برا منائے،بس پورا دیکھ کر واپس کر دونگی-وہ سوچ رہی تھی-
اور یہ فارم فل کر کے کدھر دینا ہے؟
اسی ڈیسک پر-
اور فیس؟
علم کی فیس نہیں ہوتی-
پھر بھی کچھ چارجز تو ہونگے-
ہم قرآن پاک کے چارجز نہیں لیتے-
تو نہ لیں،مجھے کونسا ادھر داخلہ لینا ہے-میں تو پورا دن اسکارف لپیٹ کر قرآن نہیں پڑھ سکتی-آئی ایم سوری فرشتے،مگر میں یہ نہیں کروں گی-اس نے خود کلامی کی تھی-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ بیگ کو اسٹریپ سے تھامے ہاتھ گرائے یوں تھکے تھکے قدموں چل رہی تھی کہ بیگ لٹکتا ہوا میں کو چھو رہا تھا-کالونی کے گھنے درخت خاموشی سے جھکے کھڑے تھے-وہ آہستہ سے بینچ پہ جا بیٹھی جو آج بھی اداس تھا-وہ فارم جمعع کروا کے فرشتے سے ملے بغیر وہاں سے نکلی تھی،تب ہی کسی کے دوڑتے قدم اس کے قریب آ کے سست پڑے-
“کیسی ہو؟ کوئی اس کے پاس ا کھڑا ہوا تھا-
اس نے ہولے سے سر اٹھایا-
ہمایوں بہت سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا-سیاہ ٹراؤزر پہ رف سی شرٹ پہنے،ماتھے کے گیلے بال اور چہرے پہ نمی پھولی سانس جیسے تیز جاگنگ کرتا ادھر آیا تھا-
کیا فرق پڑتا ہے آپ کو؟
فرق تو پڑتا ہے- تمہیں ایسے دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا ہے کہ تم میرے خلاف کورٹ میں پیش ہونے کے لیئے تیار ہوگئی ہو-
“ہونا پڑے گا – مگر اب کیا کروں-
“کچھ نہ کرو-وہ اس کے ساتھ بیٹھ گیا-محمل چہرہ موڑ کے اسے دیکھنے لگی-جو سامنے درختوں کی باڑ کو دیکھ رہا تھا- جب تک تم عدالت میں جاؤ گی ہمارا پھندا فواد کی گردن کے گرد مزید تنگ ہوچکا ہوگا-بس ابھی ان کی مانتی جاؤ اور کورٹ میں سچ بول دینا-
استعمال کر لیں سب مجھے اپنے اپنے مقصد کے لیئے- وہ دکھ سے اسے جھٹکتی اٹھی اور زمین پر گرا بیگ اسٹریپ سے اٹھایا-
کمزور ہوگئی ہو بہت اپنا خیال رکھا کرو-
“آپ کی فکر میں بھی غرض چھپا ہے- کاش میں آپ کے خلاف بیان دے سکوں-وہ تیز تیز قدموں سے سڑک پر آگے بڑھ گئی-
وہ شانے اچکا کر گیٹ کی طرف آیا-گیٹ بند کرتے ہوئے اس نے لمحہ بھر کو مڑ کے اس کی طرف دیکھا ضرور تھا جو سر جھکائے تیز تیز سڑک کے کنارے چلتی جا رہی تھی-
ہمایوں پلٹ کر ڈرائیووے پر جا گنگ کی طرح بھاگتا ہوا اندر بڑھ گیا-
درختوں کی بھاڑ اور بینچ پھر سے ویران ہوگئے-
٭٭٭٭٭٭٭٭
ہیلو!
وہ بیڈ سے ٹیک لگائے،گھٹنوں پہ پراسپیکٹس رکھے پڑھ رہی تھی جب دروازہ کھلا-آواز پہ محمل نے سر اٹھایا-
چوکھٹ پہ آرزو کھڑی تھی-ریڈ ٹراؤزر کے اوپر سلیو لیس سفید شرٹ،یہ اس کا مخصوص ایکسرسائز کا لباس تھا-کٹے ہوئے بال شانوں تک آئے تھے-پتلی کمان سی بھنوئیں اؔٹھائے وہ مسکرا تے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی-
کیسی ہو؟ انداز دوستانہ تھا-محمل بمشکل سنبھل پائی-
ٹھیک ہوں آپ کیسی ہو؟وہ سیدھی ہو بیٹھی اور پراسپیکٹس نا محسوس طریقے سے ایک طرف کھسکا دیا-
فٹ! وہ بے تکلفی سے بیڈ کے کنارے ٹک گئی-اندر آتے ہوئے اس نے دروازہ پورا بند کردیا تھا-محمل بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی- جو عادتا بالوں میں انگلیاں پھیرتے بھنوئیں سکیڑتے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی-
“کتنا چھوٹا کمرہ ہے تمہارا محمل؟ایٹلیسٹ آغآ جان کو تمہیں پراپر بیڈ روم دینا چاہیئے تھا-بعد دفعہ آغا جان بہت زیادتی کر جاتے ہیں-ہے نا؟اس نے رائے مانگی-محمل نے ایک نظر دروازے کو دیکھا جو بند تھا-
معلوم نہیں-
تم کہو تو میں ابا سے کہہ کر تمہیں بڑا روم دلوا دوں؟
(یہ خیال اتنے سالوں میں تو آپ کو نہیں آیا آج کیوں؟)
اٹس اوکے-میں خوش ہوں-اس نے پھر سے بند دروازے کو دیکھا-مجھے آغا جان سے کوئی شکایت نہیں-
خیر آغآ جان کی ہی کیا بات-خود فواد نے تمہارے ساتھ کتنی زیادتی کی-کم از کم گھر کی عزت کا ہی خیال کر لیا ہوتا-
“آپ کو، آپ کو میرا یقین ہے؟اسے جھٹکا لگا تھا-
“آف کورس- فواد کو کون نہیں جانتا اور اب تو یہ لوگ تمہارے خلاف سازشیں کر رہی ہیں-
“کیسی سازشیں؟وہ محتاط ہوئی-
یہ تم سے اے ایس پی کے خلاف بیان دلوائیں گے-کیا نام تھا اس کا؟ہمایوں؟اس کا انداز بے حد سرسری تھا-
ہمایوں داؤد-بات کچھ کچھ اس کی سمجھ میں انے لگی تھی-
ہاں اس کے گھر فواد تمہیں لے گیا تھا نا؟کدھر رہتا ہے وہ؟اب آرزو بہت ہی لاپرواہی سے کہتی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی-
یہ تو مجھے نہیں پتہ آرزو باجی کہ وہ کس کا گھر تھا-
فون نمبر تو ہوگا تمہارے پاس؟
جی ہے-آپ کو چاہیئے؟
ہاں بتاؤ! آرزو یکدم الرٹ سی ہوئی-سارا سرسری پن اڑن چھو ہوگیا-
ون فائیو پہ کال کر لیں،یہی نمبر ہوتا ہے پولیس والوں کااس نے مسکراہٹ دباۓ پراسپیکٹس پھر سے اٹھا لیا-
خیر رہنے دو-مجھے کام ہے،چلتی ہوں-آرزو ناگواری سے کہتی ہوئی تیزی سے اٹھ کر باہر نکل گئی-
ان کا بھی کیسا دل ہے فٹ بال کی طرح فواد اور ہمایوں کے درمیاں لڑھکتا رہتا ہے-ہونہہ-اس نے استہزائیہ سر جھٹک کر پھر سے پراسپیکٹس اٹھالیا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج کتنے ہی دنوں کے بعد وہ خود سے ناشتے کی میز پہ موجود تھی-کسی نے اس کو مخاطب نہیں کیا-وہ خود بھی خاموشی سے تیز تیز لقمے لے رہی تھی-سفید شلوار قمیض پہنے اور بے بی پنک اسکارف گردن میں ڈالے بالوں کی اونچی پونی ٹیل بنائے وہ اپنی پلیٹ پر جھکی تھی-
محمل فضہ چاچی نے خود ہی اسے مخاطب کیا-
وہ بغور اسے دیکھ رہی تھی-کالج جوئن کرلیا ہے؟
توس پر جام لگاتے حس نے چونک کر اسے دیکھا جو سر جھکائے ناشتے میں مگن تھی-اونچی بھوری پونی سے ایک لٹ نکل کر گال چھو رہی تھی-فضہ کے پکارنے پر اس نے گردن اٹھائی-
نہیں ایک انسٹی ٹیوٹ میں ایڈمشن لیا ہے-
کیا پڑھتی ہو ادھر؟
میں بتانا ضروری نہیں سمجھتی-وہ کرسی دھکیلتی اٹھ گئی تھی-حسن کی نگاہوں نے دور تک اسے باہر جاتے دیکھا تھا-
اسکول کی ایک راہداری میں لگے ایک قد آدم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اسکارف کو سر پر رکھا اور چہرے کے گرد نفاست سے لپیٹ کر پن لگائی،یوں کہ دمکتی سنہری رنگت والا چہرہ بےبی پنک بیضوی ہالے میں مقید ہوگیا-اونچی پونی ٹیل کے باعث پیچھے سے اسکارف کافی اوپر اٹھ گیا تھا-
ہوں نائس- وہ خود کو سراہتی واپس برآمدے تک آئی-گھر سے اسکارف لے کر آنا اسے عجیب سا لگ رہا تھا،سو یہیں اکر اس نے اسے سر پر لیا تھا-
برآمدے سے چوڑی سیڑھی نیچے حال تک جاتی تھیں- ساتھ ہی جوتوں کا ریک پڑا تھا-اس نے جوتے ریک پر اتارے اور ننگے پاؤں سنگ مر مر کے ٹھنڈے زینے اترنے لگی-
وسیع و عریض prayer hall بھرا ہوا تھا-قالین پر سفید چادریں بچھی ہوئی تھیں-ان سے بہت سلیقے سے صفوں میں ڈیسک لگے تھے-وہ ڈیسک زمیں سے بازو بھر ہی اونچے تھے-عموما مدرسوں میں ہوتے ہیں-
ڈیسکوں کے پیچھے سفید یونیفارن اور بے بی پنک اسکارف سے ڈھکے سروں والی لڑکیاں سفید چادروں ہی دو زانو مؤدب سی بیٹھی تھیں-
محمل نے آہستہ سے آخری سیڑھی پر پاؤن رکھا- وہ ہال کے آخر میں تھی-ان کے سامنے اب ساری صفوں میں بیٹھی لڑکیوں کی پشت تھی-سامنے اونچے پلیٹ فارم پر میڈم کی کرسی اور میز تھا-ان کے پیچھے دیوار پہ کیلی گرافی آویزاں تھی-
قرآن سب چیزوں سے بہتر ہے- جنہیں لوگ جمع کر رہے ہیں-
اسے لگا وہ ان لڑکیوں کی طرح نیچے نہیں بیٹھ سکے گی-سو ہال کے آخر میں دیوار ساتھ لگی کرسیوں کی طرف بڑھ گئی-
اس کی کتابیں خاصی انٹرسٹنگ تھیں-کتاب الطہارۃ، کتاب الزکوۃ،کتاب العلم،کتاب الصلوۃ،کتاب الصیام، کتاب الحج و عمرہ-چھوٹے چھوٹے کتابچے تھے-باقی ایک سیپارہ تھا-پہلا سیپارہ بہت بڑے سائز کا ،ہر صفحے پر بڑے بڑی پانچ عربی کی سطریں تھی-اور ہر دو کے درمیاں خالی دو لائینیں تھیں-غالبا نوٹس لینے کے لیئے- عربی کے ہر لفظ کے نیچے اس کا اردو ترجمہ ایک چوکور ضانے میں لکھا ہوا تھا-یون ہر لفظ الگ الگ نظر آتا تھا-
وہ دس منٹ لیٹ تھی-میڈم مصباح کا لیکچر شروع ہو چکا تھا-
سب سے پہلے تو آپ لوگ یہ ذہن میں رکھ لیں کہ یہاں آپ کو دین پڑھایا جائے گا-مذہب نہیں- دین اور مذہب میں بڑا فرق ہوتا ہے- دین religion کہ کہتے ہیں-اور مذہب عقیدے یا اسکول آف تھاٹ کو،
ــــــــــــــــــــــــــــــ دین پڑھنے سے قبل ایک بات ذہن میں نقش کر لیں اور گرہ باندھ لیں-دین میں دلیل صرف قرآن کی ؔآیت یا حدیث صلی اللہ علیہ وسلم سے دی جاتی ہے-
اب وہ سورہ فاتحہ سے آغاز کر رہیں تھی-
الحمد للہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عربی کے لفظ تین یا چار حروف سے بنتے ہیں جنہیں ہم روٹ ورڈ کہتے ہیں-الحمد میں روٹ ورڈ حامیم دال (ح م د) ہے- یعنی تعریف ،اسی حمد ‘سے حآمد حماد احمد محمد حمید،محمود بنتے ہیں- حامد تعریف کرنے والا،احمد تعریف والا،حمید خوب خوب تعریف والا جب آپ قرآن کو کولسٹرل ورڈ ڈفینیشن پہ پڑھیں گے تو آپ اینجوئے کریں گے کہ بس -جیسے سجدہ” کا روٹ ورڈ “سجد” ہے اس سے مسجد،ساجد بنتا ہے-
پڑھانے کا انداز دلچسپ تھا- محمل تیزی سے نوٹس لے رہی تھی–اس نے بارہا سوچا کہ یہ فیؔصلہ صحیح تھا یا غلط مگر اندر سے متذبذب ہی رہی تھی-
اگلے کچھ روز وہ پڑھائی میں اتنی مصروف رہی-فرشتے سے ملی ہی نہ سکی-تجوید تفویر،حدیث کی پڑھائی ۔۔۔۔ پڑھائی ٹھیک تھی اور بس ٹھیک ہی تھی-کوئی غیر معمولی چیز تو اسے ابھی تک نظر نہیں آئی تھی-
البتہ اپنی راۓ اسے صحیح لگی تھی قرآن می وہی کچھ تھا جو اس نے سوچا تھا- نماز کا حکم،زکواۃ دینا مال خرچ کرنے کی تاکید- مومن،کافر ،منافق کی تعریف وہی،مدینہ کے منافقوں کا ذکر- نھئی اب مسلمان ہیں اتنا تو پڑھ ہی رکھا ہے-ہاں وہ باتیں ہرگز نہیں تھیں جس کا ذکر وہ سیاہ فام لڑکی کیا کرتی تھی-
البتہ وہ قرآن کو بہت دھیان سے پڑھتی،الفاظ کے معنی یاد کرنے کی کوشش کرتی، نوٹس لیتی، اور روٹ ورڈ سمجھتی-آہستہ آہستہ اسے احساس ہوا وہ کتنا قرآن پڑھتی تھی-الفاظ کا مجہول ادا کرتی تھی-
مثلا ب (بازیر) بی ہوتا ہے-مگر وہ بازیر (بے) پڑھتی تھی اور یہ ساری امیاں نانیاں اور دادیاں جو ہمیں قرآن سکھاتی ہیں-س ص اور ث کا فرق ہی نہین پتا چلتا-جب ہم زیر زبر کوبہت لمبا کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم قرآن میں ایک حرف کا اضافہ کر رہے ہیں،
قرآن میں تحریف کر رہے ہیں-معانی بدل رہے ہیں- انگریزی کو تو خوب برٹش امریکن لہجے مین بولنے کی کوشش کرتے ہیں اور قرآن جس کو عربی لب و لہجے میں پڑھنے کاحکم ہے اور جس زیر زبر کا اصل سے زائد کھینچنا بھی حرام درجے کی غلطی شمار ہوتا ہے،اس کے سیکھنے کو اہمیت ہی نہیں دیتے-
مسجد میں ایک اور عجیب رواج تھا-اسے شروع میں تو عیب ہی لگااور بعد میں اچھا-وہاں ہر کسی کو سلام کیا جاتا تھا-راہداریوں میں سے گزرتے،سیڑھیوں پہ اترتے چڑھتے،جو بھی لڑکی نظر آتی اس کو مسکرا کر سلام کیا جاتا-بھلے کسی کو آپ جانتے ہیں یا نہیں مگر سلام فرض تھا-کسی کو مخاطب کرنے کے لیئے بھی” ایکسکیوزمی” کی جگہ اسلام علیکم کہہ کر مخاطب کیا جاتا-
:ایکسکیوزمی کہہ کر معافی کس غلطی کی مانگیں جو ہوئی ہی نہیں؟دعا کوں نہ دیں؟فرشتے نے بہت پہلے اسے بتایا تھا تو وہ سوچتی رہ گئی تھی-
ان تمام سوزوں کے برعکس محمل قرآن کو عزت دیتی- اس وقت بھی وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی صبح کے نوٹس پڑھ رہی تھی-جب دروازہ ہولے سے بجا-
اس نے حیرت سے سر اٹھایا-یہ کھٹکھٹآ کر کون آۓ گا بھلا اس کے کمرے میں؟
جی؟ دروازہ ہولے سے کھلا- وہ الجھ کر آہستہ آہستہ کھلتے دروازے کو دیکھے گئی-یہاں تک کہ وہ پورا کھل گیا اور لمحے بھر کو تو وہ سن سی رہ گئی-پھر جیسے بوکھلا کر نیچے اتری-
آ ۔۔۔ آغآ جان – آپ؟
وہ دہلیز میں کھڑے تھے اطراف کا جائزہ لیتے کمر پہ ہاتھ باندھے اندر داخل ہوئے-
آپ ۔۔۔۔۔۔ آپ بیٹھیں آغا جان! چھوٹا سا کمرہ تھا وہ انہیں کہاں بٹھاتی-جلدی سے سیپارہ اوپر شیلف پہ رکھا اور بیڈ کی چادر ٹھیک کی-وہ خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئے-
ادھر آؤ بیٹا مجھے تم سے بات کرنی ہے-
یہ اس واقعہ کے بعد پہلی دفعہ تھا جب وہ اس سے مخاطب ہوئے تھے-اور انداز میں کافی نرمی تھی-وہ کسی معمول کی طرح ان کے سامنے آبیٹھی-
جج ۔۔۔۔۔۔ جی-
محمل! وہ بغور اس کا چہرہ دیکھتے آہستہ سے بولے- محمل سانس روکے ان کو دیکھے گئی-
فواد نے تمہارے ساتھ برا کیا بہت برا-میں تم سے اس کی طرف سے معافی مانگتا ہوں-
نہیں نہیں آغا جان پلیز-
انہوں نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے-تو وہ موم کی طرح پگھلنے لگی- بے اختیار ان کے ہاتھ پکڑ لیئے-
تمہارے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئیں میں جانتا ہوں-اور اب میں ان کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں-
جیَ وہ کچھ سمجھ نہ پا رہی تھی-
میں جائیداد میں تمہارا حصہ الگ کرنا چاہ رہا ہوں-تا کہ تم اس کی دیکھ بھال کر سکو-ففٹی پرسنٹ کی تم مالک ہو- تم وہ حصہ لے لو-میں نے وکیل کو پیپرز تیار کرنے کا کہہ دیا ہے-
وہ حق دق ان کا چہرہ دیکھ رہی تھی-
” کیا تم اپنا حصہ لینا چاہتی ہو؟
جج جیسے آپ کہیں۔۔۔ بعد دفعہ اپنے حقوق کی بات اکیلے میں کہنا آسان ہوتا ہےبہ نسبت اپنے مخالفین کے سامنے- وہ اور کچھ کہہ ہی نہ سکی بس یک ٹک انہیں دیکھے گئی جو اس کے سامنےبیڈ پائنتی ہی بیٹھے تھے-
میں آج جائیداد کے کاغذات سائن کر دیتا ہوں-مگر تم میری ایک شرط ہےوہ لمحے بھر کو رکےان کی نگاہیں اس کے چہرے پر جمی تھیں وہ پلک نہیں جھپک رہے تھے اسے دیکھ رہے تھے جو دم سادھے انہیں دیکھ رہ تھی-
“مگر تم فواد کے خلاف نہیں بلکہ اے ایس پی ہمایوں داؤد کے خلاف گواہی دو گی کورٹ میں-“
وہ ادھ کھلے لب اور پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھے گئی-
عدالت نے ہمیں تاریخ دے دی ہے اگلے ماہ کی تاریخ میں چاہتا ہوں تم عدالت میں اپنے بیان سے نہ پھرو- تا کہ میں جائیداد کے کاغذات تمہارے حوالے کردوں-جیسے ہی تم کورٹ مین بیان دوگی میں دستخط کر دونگا-
وہ اٹھ کھڑے ہوئے-وہ انہیں دیکھنے کے لیئے گردن بھی نہ اٹھا سکی-تمہارے پاس وقت ہے خوب اچھی طرح سوچ لو-اور اسے ایک بزنس ڈیلنگ سمجھو-یہ تمہیں آئندہ ابراہیم کی بزنس ایمپائر سنبھالنے میں مدد دے گی- وہ دروازے کی طرف بڑھے-
مجھے منظور ہے-وہ تیزی سے بولی فیصلہ کرنے میں اسے ایک پل لگا تھا-بھاڑ میں جائے ہمایوں حبس بے جا میں تو اس نے بھی مجھے رکھا تھا-
انہوں نے ذرا سا مڑ کر فاتحانہ مسکراہٹ سے اسے دیکھا-
تم اچھی بزنس وومن بن سکتی ہو ٹیک کئیر- اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئے-
کیا یوں ہمایوں گرفتار ہوجائے گا؟اور۔۔۔۔ اورفواد کیا گھر آجائے گا؟نہیں ۔۔۔۔۔۔ مگر جائیداد- اپنے مقام کو پالینے کی خواہش۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی وہ بھی تائی پر یونہی حکومت کرے-سب اس کی عزت کریں-اس کے حکم سے گھر میں کام ہوں اس کی موجودگی ہر جگہ ضروری سمجھی جائے-وہ الجھ کر رہ گئی تھی-
کیا اس نے صحیح کیا ؟کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح آٹھ بجے وہ مسجد کے گیٹ پر تھی-اندر داخل ہونے سے قبل اس نے بیلوں سے ڈھکے بنگلے کو دیکھا جس کا سنگی بینچ آج بھی ویران تھا-
بابا! تمہارا صاحب ہے؟کچھ سوچ کر اس نے باوردی گارڈ کو مخاطب کیا-
وہ تو شہر سے باہر گیا ہے-
کب آئے گا؟
معلوم نہیں-
“اچھا اس نے ذرا سی ایڑی اونچی کر کے گیٹ کے پار دیکھا-ہمایوں کی گاڑی کھڑی تھی-
وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بیبی ! وہ جہاز پہ گیا ہے- گارد قدرے گربڑایا-
بھاڑ میں گیا تمہارا صاحب میری طرف سے-
اس سفید سر پر جھوٹ تو نہ بولو – نہیں ملنا چاہتا تو منع کردو-جھوٹ بولنا منافقت کی نشانی ہے-ایمان کی نہیں ہمایوں نے اس کے لیئے یہ کیوں کہہ رکھا تھا-
( اور پتا نہیں میں نے صحیح کیا یا غلط -مگر وہ ایسے میری جائیداد کبھی نہیں دیں گے،پھر اور کیا کرتی؟)
بے زار سا تاشر چہرے پہ سجائے،بیگ اٹھائے وہ سست روی سے برآمدے کی طرف چل رہی تھی-
(اور یہ جھوٹ تو نہیں ،اس نے مجھے حبس بے جا میں رکھا تھا-)
اس نے چپل ریک میں اتاری اور خود کو گھسیٹتی ہوئی نیچے سیڑھیان اترنے لگی-
(مگر اغوا تو نہیں کیا تھا ،میں ادھر اپنی مرضی سے ہی گئی تھی تو اس پر یوں اغواء کا الزام لگادینا جھوٹ نہیں ہوگا؟)
وہ سر جھکائے آہستہ آہستہ زینے سے نیچے اتر رہی تھی-
(نہیں جھوٹ کہاں،اس نے ڈیل تو کی تھی،اغوا اور خریدنا ایک ہی بات ہے-اگر ذرا سا لفظوں کا ہیر پھیر کردوں توکیا ہے؟)
اس نے کرسی پر بیٹھ کر کتابیں سائیڈ ٹیبل پر رکھیں، اور ساتھ بیٹھی لڑکی کے سیپارے پہ جھا نکا اور پھر مطلوبہ صفحہ کھولنے لگی-تفسیر شروع ہو چکی تھی-وہ آج بھی لیٹ تھی-
(فواد کے خلاف گواہی نہ بھی دوں تو بھی وہ سزا پائے گا،اور وہ اتنا بڑا اے ایس پی کوئی میرے بیان سے اسے سزا تھوڑی نا ملئ گی؟بس لفظوں کوتھوڑا سا ینٹر چینج کردیا جائے تو کیا ہے،میری نیت تو صاف ہے)
مطلوبہ صفحہ کھول کر اس نے پین کا کیپ اتاری اور آج کی تاریخ لکھنے لگی-
اور تم جھوٹ کو سچ کے ساتھ نہ ملاؤ اور نہ تم سچ کو چھپاؤ حالانکہ تم خوب جانتے ہو-
میڈم مصباح کی بات پہ جیسے کرنٹ کھا کر اس نے سر اٹھایا-وہ اپنی چئیر پر بیٹھی کتاب سے پڑھ رہی تھی-اس نے بے اختیار اپنے سیپارے کودیکھا-اس صفحے پر سب سے اوپر یہی لکھا تھا-
تم میری آیات کے بدلے تھوڑی قیمت نہ لو،اور صرف مجھ سے ہی ڈرو-اور تم جھوٹ کو سچ سے نہ ملاؤ-اور نہ تم حق کو چھپاؤ حالانکہ تم جانتے بھی ہو-
وہ سن سی بے حد ساکت سی پھٹی پھٹی نگاہوں سے ان الفاظ کو دیکھ رہی تھی-مگر اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا-ساری آوازیں جیسے بند ہو کر رہ گئی تھیں-وہ بنا پلک جھپکے ان ہی الفاظ کو دیکھے جا رہی تھی-
“کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو؟اور اپنے نفس کو بھول جاتے ہو؟حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو-کیا پھر تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے-ذرا دیر پہلے گارڈ کو کی گئی نصیحت اس کے کانوں میں گونجی- اسے لگا وہ کتاب اسے اس سے زیادہ جانتی ہے-(پھر ۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔ میں کیا کروں؟)اس کا دل کانپنے لگا تھا- بے اختیار اس نے رسی تھامنا چاہی-کلام کی رسی-وہ نہ جانتی تھی کہ دوسرے سرے پر کون ہے،مگر اسے یقین تھا کہ دوسرے سرے پر کوئی ضرور موجود ہے-
“صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو-بے شک وہ (نماز) سب پہ بھاری ہے- سوائے ان کے جو ڈرنے والے ہیں-
اس نے وحشت زدہ سی ہو کے سر اٹھایا-پنک اسکارف والے بہت سے سر اپنی کتابوں پر جھکے تھے-کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہ تھا-
اس نے پھر سے ان الفاظ کو پڑھا-وہ کوئی مضمون نویسی نہ تھی-بات”او مائی گاد” اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا-
it’s talking to me
ساتھ بیٹھی لڑکی نے سر اٹھایا-
تو یہ ٹاک ہی تو ہے-کلام-اس کو ہم کلام پاک اسی لیئے تو کہتے ہیں-وہ سادگی سے کہہ کر اپنے سیپارے پہ جھک گئی-
محمل نے سیپارہ بند کردیا،اور کچھ بھی اٹھائے بنا،تیزی سے بھاگتی ہوئی سیڑھیاں چڑھتی گئی-
فرشتے اپنے آفس میں آئی تو وہ اس کاانتظار کر رہی تھی-
محمل تم؟
میں ۔۔۔۔ میں آئندہ نہیں آؤن گی،میں مدرسہ چھوڑ رہی ہوں- وہ جو کرسی پہ بیٹھی تھی،بے چینی سے کھڑی ہوئی-اس کی آنکھوں میں عجیب سا خوف اور گھبراہٹ تھی-فرشتے نے آرام سے فائل میز پہ رکھی اور کرسی کی دوسری جانب جگہ سنبھالی،کھڑکی کے بلائنڈز بند تھے،کمرے میں چھاؤں سی تھی-
آپ میری بات سن رہی ہیں؟
بیٹھو- وہ میز کی دراز کھول کر جھکی کچھ تلاش کرنے لگی تھی-محمل بمشکل ضبط کرتی کرسی پہ ٹکی اس کا بس نہین چل رہاتھا وہ ادھر سے بھاگ جائے-
میں نہیں آؤں گی آئندہفرشتے! اس نے دہرایا-وہ ابھی تک دراز میں مصروف تھی-
پھر کہاں جاؤ گی؟
بس قرآن چھوڑ رہی ہوں-
اسے چھور کر کہاں جاؤ گی محمل! وہ کچھ کاغذات نکال کر سیدھی ہوئی اور اسے دیکھا-
اپنی نارمل لائف میں
تمہیں یہ ابنارمل لائف لگتی ہے؟
یہ مجھ سے بات کرتی ہے فرشتے! وہ دبی دبی سی چیخی-آپ سمجھ نہیں سکتیں میں کتنے کرب سے گزر رہی ہوں-مجھ سے یہ برداشت نہیں ہورہا-آپ سمجھ نہیں سکتیں-
” میں سمجھتی ہوں -جب قرآن مخاطب کرنے لگتا ہے تو سب ہی اس کرب سے گزرتے ہیں-
نہیں-اس نے سختی سے نفی میں سر ہلایا-وہ کسی کے ساتھ نہیں ہوسکتا جو میرے ساتھ ہوا،آپ تصور نہیں کر سکتیں-
تمہیں لگتا ہے تم پہلی ہو؟
اس نے گہری سانس لے کر آنکھں بند کیں اور سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا-
ہم انسان ہی تو یہ بوجھ اٹھانے کے قابل ہیں،پھر تم اتنی کمزور کیوں پر رہی ہو؟ہم پہار ہوتے تو نہ سہار سکتے دب جاتے-
وہ میری سوچیں پڑھ رہی ہے فرشتے!
وہ مخلوق نہیں ہے وہ کلام ہے -بات ہے اللہ کی بات،اور اللہ ہی تو سوچیں پڑھ سکتا ہے-“
وہ گم صم سی پوگئی-
میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اللہ تعلی سے بات کر رہی تھی؟
تمہیں کوئی شک ہے؟
مگر یہ چودہ سو سال پرانی کتاب ہے،یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پاسٹ (ماضی) میں ہوکر ہم سے چودہ سو سال بعد کے فیوچر (مستقبل) سے کونٹیکٹ کرلے؟ اٹس لائیک اے میریکل-( یہ تو معجزے کی طرح ہے)-
