Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mushaf (Episode 08)

Mushaf by Nimrah Ahmad

اس نے لبادہ کھولا-وہ سیاہ عبایا تھا اور ساتھ ایک گرے اسکارف-محمل نے پھر کچھ نہیں سوچا اور عبایا پہننے لگی-تبھی اسے احساس ہو وہ مردانہ کرتا شلوار میں کھڑی ہے اور ننگے پاؤں ہے-وہ عبایا بھی اسے غنیمت لگا تھا-

” واعظم لی نورا”-( اور میری ہڈیوں میں نور ہو-)

اسکارف کو اس نے بمشکل چہرے کے گرد لپیٹا-

عادت نہ تھی تو مشکل لگ رہا تھا-اب اسے کسی طرح نیچے جا کر سڑک تک پہھنچنا تھا-آگے اپنے گھر کا رستہ تو آنکھیں بند کر کے بھی آتا تھا-

:الھم اعطنی نورا -” (اے اللہ مجھے نور عطا فرما-)

وہ اسی ترنم میں پڑھ رہی تھی-محمل تیزی سے عبایا کے بٹن بند کر کے اسکارف پر ہاتھ پھیر کے درست کر رہی تھی-کہ ایک دم اسے بہت خاموشی لگی-

باہر صحن بہت چپ سا پوگیا تھا-شاید اس لڑکی کی دعا ختم ہوگئی تھی-

اس نے قدرے گبھراہت قدرے جلد بازی میں دروازہ کھولنا چاہا-اسی پل اس لڑکی نے پیچھے گرل کی چوکھٹ پر قدم رکھا-

اسلام علیکم ۔۔۔۔ کون؟ چوکنی سی آواز اس کے عقب میں ابھری-تو اس کے بڑھتے قدم رک گئے-

دروازے پر ہاتھ رکھے رکھے وہ گہری سانس لے کر پلٹی۔۔۔۔۔

وہ سامنے شلوار قمیض میں ملبوس’سر پے دوپٹہ لپیٹے، ہاتھ میں کتاب پکڑے، الجھی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی-

محمل کا دل زور سے دھڑکا تھا-وہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی جانے اب کیا ہوگا؟

وہ میں آپ ک آواز سن کر آئی تھی بہت اچھی تلاوت کرتی ہیں آپ-

تلاوت نہیں دعاۓ نور تھی-میری آواز نیچے تک آرہی تھی کیا؟لڑکی کا انداز سادہ مگر محتاط تھا-محمل کا دماغ تیزی سے کال کر رہا تھا-اسے کسی طرح اس لڑکی کو باتوں میں الجھا کر وہاں سے نکلنا تھا-ایک دفعہ وہ سڑک تک پہنچ جائے گھر کے تمام راستے اسے آتے تھے-

“خوبصورت آواز ہر جگہ پہنچ جاتی ہے- میں تلاوت سمجھ کر آئی تھی معلوم نہ تھا آپ دعا مانگ رہی ہیں-

دعا مانگ نہیں یاد کر رہی تھی- آپ نے بتایا نہیں آپ کا نام؟

شائستگی سے کہتی وہ لڑکی دو قدم آگے آئی تو گرل سے چھن کر آتی چاندنی میں اس کا چہرہ داضح ہوا-

چکنی سپید رنگت-بے حد گلابی ہونٹ اور بادامی آنکھیں-جن کی رنگت سنہرے پکھراج کی سی تھی-گولڈن کرسٹل یہ پہلا لفظ محمل کے ذہن میں آیا تھا-اور اسے دیکھتے ہی وہ لمحے بھر کو چونکی تھی- بہت شدت سے محمل کو احساس ہوا تھا کہ اس نے اس لڑکی کو کہیں دیکھا ہوا تھا-کہیں بہت قریب-ابھی کچھ وقت پہلے اس کے نقش یہ بھوری آنکھیں تھیں جو شناسا تھیں-

“میں محمل ہوں- جانے کیسے لبوں سے پھسل پڑا-مجھے دراصل راستے نہیں پتا تو بھٹک جاتی ہوں-

اوہ آپ ہوسٹل میں نئی آئی ہیں؟ نیو کمر ہیں؟

اور اسے امید کا ایک سرا نظر آگیا-وہ شاید کوئی گرلز ہاسٹل تھا- جی میں شام میں ہی آئی ہوں-نیو کمر اوپر آتو گئی ہو مگر نیچے جانے کا رستہ نہیں مل رہا ۔۔۔۔۔۔

” نیچے آپ کے رومز تو تھرڈ فلور پر ہی ہے نا؟پھر نیچے ۔۔۔۔۔۔۔ اوہ آپ تہجد پڑھنے کے لیئے اٹھی ہوں گی یقینا – وہ خود سے ہی کہہ کر مطمئن ہوگئی-میں بھی تہجد کے لیئے بڑے ہال میں جا رہی ہوں-آپ میرے ساتھ آجائیں-

اس لڑکی نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا’پھر گردن موڑ کر اسے دیکھا-

میں فرشتے ہوں-آجا ئیں- وہ دروازہ دھکیل کر آگے بڑھ گئی-تو محمل بھی متذبذب پیچھے ہو لی-

سامنے سنگ مر مر کی طویل راہداری تھی-دائیں طرف اونچی کھڑکھیاں تھیں جن سے چھن کر آتی چاندنی سے راہداری کا سفید مرمری فرش چمک رہا تھا-

فرشتے راہداری میں تیز تیز آگے چلتی جا رہی تھی-

وہ ننگے پاؤں اس کے تعاقب میں چلنے لگی-مردانہ کھلے پائنچے اس کے پاؤن میں آرہے تھے- مگر اوپر عباۓ نے ڈھانپ رکھا تھا-

راہداری کے اختتام پر سیڑھیاں تھیں-سفید چمکتے سنگ مر مر کی سیڑھیاں جو گولائی میں نیچے جا رہیں تھی-

اس نے ننگے پاؤں زینے پہ رکھے-رات کے اس پہر زینوں کا سنگ مر مر بے حد سرد تھا-یخ ٹھنڈا- وہ محسوس کیے بغیر تیز تیز سیڑھیاں اترنے لگی-

تین منزلوں کے زینے ختم ہوئے تو سامنے ایک کشادہ برآمدہ تھا-برآمدے کے آگے بڑے بڑے سفید ستون تھے اور سامنے لان نظر آرہا تھا-ہلکی چاندنی میں برآمدہ نیم تاریک سا لگ رہا تھا-

ایک کونے میں چوڑی بے حد چوڑی سیڑھیاں نیچے جاتی دکھائی دے رہی تھیں-فرشتے ان سیڑھیوں کی طرف بڑھی-تو لمحے بھر کو تو اسے خوف آیا-وہ بے حد چوڑی سیڑھیاں کافی نیچے جا رہی تھیں-مدھم چاندنی میں چند زینے ہی دکھائی دیتے تھے-آگے سب تاریکی میں گم تھا جانے کیا تھا نیچے؟

فرشتے کے پیچھے وہ نیم تاریک زینے سہج سہج کے اترنے لگی-بہت نیچے جا کر فرش قدموں تلے آیا تو محسوس ہوا-کہ نیچے نرم سا قالین تھا-جس میں اس کے پاؤں دھنس گئے تھے-وہ ایک بے حد طویل و عریض کمرے میں کھڑی تھی-وہ کدھر شروع کدھر ختم ہوتا تھا کچھ پتہ نہ چلتا تھا-وہ ادھر ادھر گردن گماتی اندھرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی-

فرشتے نے دیوار پر ہاتھ مارا-بٹن دبانے کی آواز آئی-اور اگلے ہی لمحے جیسے پورا آسمان روشن ہوگیا-محمل نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا-

وہ ایک بہت بڑا سا ھال تھا-چھت گیر فانوس اور اسپاٹ لائٹس جگمگا اٹھی تھیں-ہال چھے اونچھے ستونوں پہ کھڑا تھا- بے حد سفید ستون ، دیواریں رہشنیوں سے جگمگاتی اونچھی چھت اور دیواروں میں اونچی گلاس ونڈوز-

وضو کی جگہ وہ سامنے ہے-فرشتے نے اپنے دوپٹے کو پن لگاتے ہوئے ایک طرف اشارہ کیا-ٓ تو وہ جیسے چونکی -پھر سر ہلا کر اس طرف بڑھ گئی-

وضو کی جگی نیم تاریک تھی-سنگ مر مر کی چونکیاں اور سامنے ٹونٹیاں-ایک ایک ٹائل چمک رہی تھی-وہ ہر شئے کو ستائش سے دیکھتی ایک چوکی پر بیٹھ گئی اور جھک کر ٹونٹی کھولی-

فواد اور وہ اے ایس پی ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمل ابراہیم کو سب فراموش ہو چکا تھا-

سنو کھلے دروازے سے فرشتے نے جھانکا-

بسم اللہ پڑھ کر وضو کرنا-

محمل نے یونہی سر ہلا دیا-پھر اپنے گیلے ہاتھوں کو دیکھا جن پر ٹونٹی سے پانی نکل کر پھسل رہا تھا-وہ سر جھٹک کر وضو کرنے لگی-

فرشتے جیسے اس کے انتظآر میں کھڑی تھی-

محمل اس کے برابر نماز کے لیئے کھڑی ہو گئی شاید تہجد پڑھنی تھی- اس نے ہاتھ اٹھائے تو رات بھر کے تمام مناظر ذہن میں تازہ ہو گئے-درد کی ایک تیز لہر سینے میں اٹھی تھی-

دھوکہ دہی اعتماد کا خون،فراڈ بے وقوف بنائے جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا احساس ،کیا کچھ فواد نے نہیں کیا تھااس کے ساتھ؟وہ کس کس کا ماتم کرتی؟

سلام پھیر کے دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائے تو ساری عمر کی محرومیاں اور نارسائیاں سامنے آگئیں-

میں کیا مانگوں؟مانگنے کی ایک طویل فہرست ہے میرے سامنے-مجھے کبھی وہ نہ ملا جس کی میں نے تمنا کی تھی-جو ایک اچھی زندگی گزارنے کے لیئے انسان کے پاس ہونا چاہیئے،مجھے کبھی بھی وہ نہ ملا جو لوگ جمع کرتے ہیں-کیوں؟کیوں میرے پاس وہ سب نہیں ہے جو لوگ جمع کرتے ہیں؟

اور جب کوئی جواب نہ دیا تو اس نے چہرے پر ہاتھ پھیر کے آنسو خشک کیئے اور سر اٹھایا-

سامنے ہال کے سرے پر ایک بڑا سا اسٹیج بنا تھا-درمیان میں میز اور کرسی رکھی تھی-ایک طرف فاصلے پر ڈائس بھی پڑا تھا-شاید وہاں درس و تدریس کا کام بھی ہوتا تھا-

کرسی کے پیچھے دیوار پر ایک بے حد خوبصورت خطاطی سے مذین فریم آویزاں تھا-اس پر وہ سرسری سی نگاہ ڈالتی ایک دم ٹھٹک کر رکی-

خوب صورت عربی کے نیچے اردو میں خوشخط لکا تھا-

“پس لوگوں کو چاہیئے اسی میں خوشی منائیں-

قرآن ان سب چیزوں سے بہتر ہے-جنہیں لوگ جمع کر رہے ہیں-

(یونس: 58)

وہ یک لخت چونکی-

کیا دیکھ رہی ہو محمل؟فرشتے بغور اسے دیکھ رہی تھی-

“یہی کہ میں نے بھی ابھی کچھ ایسا سوچا تھا-جو ادھر لکھا ہے کتنا عجیب اتفاق ہے نا-

اتفاق کی کیا بات ہے؟یہ فریم اسی لیئے تو ادھر لگا تھا-کیونکہ تم نے آج صبح یہی یہ بات سوچنی تھی-

مگر فریم لگانے والے کو تو علم نہیں تھا کہ میں یہی سوچوں گی-

لیکن اس آیت کے اتارنے والے کو تو تھا نا-“

وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی-کیا مطلب؟

جس نے قرآن اتارا ہے وہ جانتا ہے تم نے کب کیا سوچنا ہے اور یہ تمہاری سوچ کا جواب ہے-“

“نہیں اس نے شانے اچکائے-میری سوچ کا اس سے کوئی تعلق نہیں،میں تو بہت کچھ سوچتی رہتی ہوں-

مثلا کیاَ؟ وہ دونوں دو زانو ہو کر بیٹھی تھیں-اور فرشتے بہت نرمی سے اسے دیکھ رہی تھی-

“یہی کہ اچانک کسی بے قصور آدمی پہ مصیبت کیوں آجاتی ہے؟

غلط بالکل غلط ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نہیں مانتی-وہ جیسے بھڑک اٹھی-ایک لڑکی کو اس کا تایا زاد پرپوز کرنے کے بہانے ڈنر کا جھانسہ دے کر خوب بننے سنورنے کا کہہ کر اپنے کسی عیاش دوست کے گھر جا کر ایک رات کے لیئے بیچ آئے یہ خواہ مخواہ کا ظلم خواہ مخواہ کی مصیبت نہیں کیا؟

نہیں-“

“نہیں؟ محمل نے بے یقینی سے پلکیں جھپکائیں-

ہاں قطعا نہیں-اسی صورت حال سے بچنے کے لیئے تو اللہ تعالی نے بہت پہلے بتا دیا تھا-

یقینا اس لڑکی کو علم ہوگا کہ اسے ایک نامحرم کے لیئے تیار نہیں ہونا چاہیئے-اس کے ساتھ ڈنر پر نہیں جانا چاہیئے-کزن بھی تو نا محرم ہے-اور اسے یہ بھی پتہ ہوگا کہ اسے اپنا چہرہ ایسے ڈھکنا چاہیئے کہ کسی نامحرم بلفرض کزن کو بھی علم نہ ہوسکے کہ وہ اتنی خوبصورت ہے کہ وہ اسے بیچنے کا سوچے-

اب یہ بتاؤ ظلم ہے یا اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی؟

وہ دھواں دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ بنا پلک جھپکے فرشتے کو دیکھ رہی تھی-

اور یقینا “اپنے کزن کے جھانسے میں آنے سے پہلے اللہ کے ؔحکم سے کسی نے اسے خبردار ضرور کیا ہوگا-اس کے ضمیر نے یا شاید کسی انسان نے مگر اس نے پھر بھی نہیں سنا اور اس کے باوجود اللہ تعالی اسے عزت اور حفاظت سے رکھے-یہ تو اللہ تعالی کا بہت بڑا احسان ہےٓ-ہم اتنے بے قصور ہوتے نہیں محمل جتنا ہم خود کو سمجھتے ہیں-

وہ کہے جا رہی تھی اور اس کے ذہن میں دھماکے ہو رہے تھے-

چچاؤں کا قطیعت سے فواد کے آفس میں کام کرنے سے منع کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن کے الفاظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ تنبیہہ جو سدرہ کی منگنی والے روز اس نے کی تھی-

اس نے اپنی دائیں کلائی دیکھی-اس پر ادھ مند مل ہوئے زخم کے نشان تھے-ہاں حسن نے اسے خبردار کیا تھا-

میں فرشتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔۔۔ واقعی مجھے-“

اپنی نادانیوں پر کسی کو گواہ نہیں بناتے محمل!

ــــــــــــــــــــــــــــــ چلو فجر کی اذآن ہورہی ہے نماز پڑھتے ہیں-

آگہی کا آئینہ بہت بھیانک تصور پیش کر رہا تھا

اسے ایک ایک کر کے تمام باتیں پھر سے یاد آنے لگیں-فرشتے ٹھیک کہہ رہی تھی-سب سے زیادہ قصور تو خود اسی کا تھا-وہ آخر فواد کی گاڑی میں بیٹھی ہی کیوں تھی-اس نے دل اور مصحف میں سے دل کا انتخاب کیوں کیا تھا؟

اس نے بھیگی آنکھیں اٹھائیں- فرشتے اسی سکون سے رکوع میں کھڑی تھی- اور سامنے وہی الفاظ چمک رہے تھے-قرآن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ جمع کر رہے ہیں-

اس کا دل رو دیا تھا-

کیسے ڈھٹائی سے اس نے اس سیاہ فام لڑکی کو مصحف واپس کیا تھا-اس سمے اس کی آواز میں کیسی بے رخی تھی-

ٹی وی پر اذان لگتی، یا تلاوت ہوتی تو وہ چینل بدل دیا کرتی تھی- سیپارے پڑھنا کتنا کٹھن لگا کرتا تھا-اور فجر تو سوائے پیپروں کے اس نے کبھی نہیں پڑھی تھی- اب وہی فجر پڑھنے کے لیئے وہ فرشتے کے برابر کھڑی ہو گئی تھی-

میرے اللہ مجھے گھر واپس پہنچا دے- وہ پھر سے رو دینے کو تھی- مجھے تیری قسم ہے میں پھر کبھی فواد بھائی کو کہیں بھی اکیلے نہیں ملوں گی- میں قسم کھاتی ہوں آئی سوئیر!

دعا مانگ کر قدرے پر سکون ہوئی تو چہرے پر ہاتھ پھیر کر اٹھی-

ایک بات پوچھوں فرشتے؟وہ دونوں ساتھ ساتھ ہال کی سیڑھیاں چڑھ رہیں تھیں-

پوچھو!

قسم کھانے سے اللہ مان جاتا ہے؟

“قسم نا پسندیدہ چیز ہے یہ قسمت نہیں بدلتی-جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے-

اور اگر قسم کھا لی جائے تو؟

تو مرتے دم تک اس کو نبھانا پڑتا ہے-آخری سیڑھی چھڑھتے فرشتے ذرا سا چونکی-کوئی الٹی سیدھی قسم مت کھانا کہ یہاں سے رہائی ملنے پہ تم فلاں اور فلاں کام کرو گی-

رہائی؟برآمدے کی چوکھٹ پار کرتے ہوئے محمل گڑبڑا گئی-دل زور سے دھڑکا-

ہاں تمہیں گھر جانا ہے نا؟میں تمہیں چھوڑ آتی ہوں-وہ ساکت سی اسے دیکھے جا رہی تھی-

رک کیوں گئی آؤ نا؟

آپ کو ۔۔۔۔۔۔ آپ کو کیسے پتا چلا؟

بات یہ ہے محمل -اول تو تہجد کے وقت یہاں کوئی عبایا پہن کر نہیں پھرتا-دوم یہ کہ تم نے میرا عبایا اور اسکارف پہن رکھا ہے-اور سوئم میں نے تمہیں صحن پھلانگتے دیکھ لیا تھا-

محمل نے بوکھلا کر اپنے جسم پہ موجود عبایا کو دیکھا-جس سے لمبی مردان شلوار کے پائنچے ذرا ذرا سے جھانک رہے تھے-

وہ دراصل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہمایوں کی باتھ روم کی کھڑکی ہماری چھت پر کھلتی ہے- اس نے تمہیں باتھ روم میں بند کر دیا تھا؟میں اس سے بات کروں گی-اسے ایسے نہیں کرنا چاہیئے تھا-تھورا سا خشک مزاج ہے-مگر دل کا برا نہیں ہے-آؤ-پھر اس کی شاکڈ شکل دیکھ کر وضاحت کی- “ہمایوں میرا فرسٹ کزن ہے وہ برا آدمی نہیں ہے آؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی پل گیٹ کسی نے زور سے بجایا- ساتھ ہی بیل بھی دی-فرشتے نے گہری سانس لی-آؤ لڑکی – اور اس کا ہاتھ پکڑ کر گیٹ تک لائی،پھر ہاتھ چھوڑ کر دروازہ کھولا-

فرشتے ادھر وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم اور یہ کیا غلط حرکت ہے؟تمہیں مسئلہ اس کے کزن کے ساتھ ہے تو اس کو کیوں باتھ روم میں بند کیا تھا؟

” بالکل ٹھیک کیا تھا ہے کدھر وہ؟ وہ جوابا بگڑ کر بولا تھا-

محمل سہم کر قدرے اوٹ میں ہوگئی-یہ تو وہی تھا وہ اس کی آواز پہچانتی تھی-

وہ میرے ساتھ ہے-مگر تمہیں اس س عزت کے ساتھ پیش آنا چاہیئے تھا-فرشتے کے لہجے میں دبی دبی سختی تھی-

جو بھی ہے تم اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“نہیں ہمایوں! تم اسے مجرم کی طرح ٹریٹ مت کرو-اس کا کیا قصور ہے؟وہ تو اپنے بھائیوں جیسے کزن پر ٹرسٹ کر کے معصومیت میں چلی آئی تھی-

وہ حق دق سنے جا رہی تھی-ابھی تو فرشتے کو بالواسطہ ساری کتھا سنا آئی تھی-اور تب فرشتے فواد کو نامحرم کہہ رہی تھی-اور اب ہمایوں کے سامنے اس کی نادانیوں پر کیسے پردہ ڈال رہی تھی-

اس کا قصور یہ ہے کہ یہ فواد کریم کی کزن ہے-

اسے لے کر آؤ-اب کے ہمایوں داؤد کا لہجہ متوازن تھا-فرشتے اسے راستہ دینے کے لیئے چوکھٹ پار کر کے باہر چلی گئی تو وہ دھڑکتے دل کے ساتھ گیٹ کی اوٹ سے نکلی-

سامنے ہی وہ کھڑا تھا-یونیفارم میں ملبوس’مکمل طور پر تیار،اکھڑ تیور اور ماتھے پر بل لیے-

جب میں نے بکواس کی تھی کہ وہاں رہو تو تم نے قدم کیوں باہر نکالا؟

نوکر نہیں ہوں میں آپ کی، جو آپ کا حکم مانوں- آپ ہے کون مجھے حکم دینے والے،ہاں؟وہ بھی جوابا غرائی تھی-

وہاٹ؟تم-“

زبان سنبھال کر بات کریں اے ایس پی صاحب!

میں مسجد میں کھڑی ہوں اور اب آپ کا مجھ پر کوئی زور نہیں ہے-اس نے گیٹ کا کنارہ مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا-

تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ سخت کہتے کہتے ضبط کر گیا-پھر فرشتے کی طرف پلٹا جو خاموشی سے سب دیکھ رہی تھی-

اس سے کہو میرے ساتھ آئے میں اس کا دشمن نہیں ہوں-

فرشتے نے خاموشی سے ہمایوں کی بات سنی اور جب وہ چپ ہوا تو وہ محمل کی طرف مڑی-

اس کے ساتھ چلی جاؤ یہ تمہارا دشمن نہیں ہے-

مجھے ان پر رتی برابر بھروسہ نہیں ہے-

ہونا بھی نہیں چاہیئے مگر تمہارے تنہا گھر جانے اور پولیس موبائل میں جانے میں فرق ہوگا-آگے تم اپنے فیصلوں میں آزاد ہو-

بات کچھ ایسی تھی کہ وہ خاموش سی ہو گئی-

ٹھیک ہے آئیں- اس نے باہر قدم رکھے،پھر پلٹ کر فرشتے کو دیکھا جو گیٹ کے ساتھ سینے پہ ہاتھ باندھے کھڑی تھی-

اس کی پشت پر وہ عالیشان تین منزلہ عمات تھی- جس کے اونچے سفید ستون بہت وقار سے کھڑے تھے-جیسے کوئی بلند و بالا سفید محل ہو- اس کا گنبد نہ تھا مگر فرشتے اسے مسجد کہہ رہی تھی-

اس سے متصل بنگلہ اپنی خوبصورت آرائش کے ساتھ وہیں موجود تھا-جہاں اس نے رات میں دیکھا تھا-

تھینکس وہ کہہ کر رکی نہیں-

ہمایوں سامنے کھڑی پولیس موبائل کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا-وہ اعتماد سے چلتی ہوئی آئی اور فرنٹ ڈور کھول کر نشست سنبھالی-

آپ مجھے میرے گھر لے کے جا رہے ہیں؟

نہیں-سرد سا کہہ کر وہ گاڑی سڑک پر ڈال چکا تھا-

پھر؟پھر ہم کہاں جا رہے ہیں؟

تھانے!

مگر مجھے گھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی بی مجھے بحث پسند نہیں ہے خاموش رہو-

اس کو جھڑک کر ہمایوں نے سپیؔڈ اور بڑھا دی-

وہ نم آنکھوں سے سامنے سڑک کو دیکھنے لگی-

جانے اس کی قسمت اس کو اب کیا کیا دکھانے والی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

آج آغا ابراہیم کی عالیشان محل نما کوٹھی کے لان میں صبح سے ہی سب جمع تھے-

آغا ابراہیم چہرے پہ ڈھیروں غیض و غضب لیے پر رعونت انداز میں کرسی پر برا جمان تھے- مہتاب تائی فضہ چاچی اور ناعمہ چاچی بھی پاس ہی کرسیوں پر بیٹھی معنی خیزی سے مدھم سرگوشیاں کر رہی تھیں- غفران چچا اور اسد چچا بھی پاس ہی پریشان بیٹھے تھے-

برآمدے کئ مختصر زینے پر آرزو بیٹھی تھی- گھٹنوں پہ پلیٹ رکھے، وہ اپنی ازلی بے نیازی سے توس پر جیم لگا رہی تھی-

اس کے پیچھے برآمدے میں بچھی کرسیوں پہ باقی لڑکیاں بیٹھی کھسر پھسر کر رہی تھیں-

حسن مضطرب سا گھاس پر ٹہل رہا تھا-بار بار اپنے سیل پر کوئی نمبر پریس کرتا وہ جھنجھلا رہا تھا-وسیم اپنے کمرے میں تھا اور ۔۔۔۔۔۔۔

فواد آغا جان کے برابر کرسی پر بیٹھا سرسری سا اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا- گاہے بگاہے سر اٹھا کر سب کے چہروں کے تاثرات دیکھتا-اس کے انداز میں اطمینان و سرشاری تھی-

بس ایک مسرت تھی جو کچن میں کرسی پر بیٹھی خاموش آنسو بہا رہی تھی- اس کی ساری زندگی کی ریاضت رائیگاں گئی تھی-محمل کل اکیڈمی کا کہہ کر باہر نکلی تھی اور جب شام تک واپس نہ آئی تو ان کا دل بیٹھنے لگا تھا- کتنے نوافل پڑھ ڈالے کتنی دعائیں کی مگر وہ واپس نہیں آئی-

یہ بات چھپنے والی کہاں تھی بھلا؟سب کو خبر ہو ہی گئی-آغا جان تو سراپا غیض و غضب بن گئے-تھانے جانے کی بات کی تو فواد نے ہی انہیؔؔں سمجھایا کہ گھر کی عزت داؤ پر لگانے کا فائدہ تھوری دیر مزید انتظار کر لیتے ہیں-

حسن اور اسد چچا ساری رات اسے ہسپتالوں ،مردہ خانوں اور سڑکوں پر تلاشتے رہے تھے-مگر جب تین بجے کے قریب ناکام گھر واپس لوٹے تو گھر میں جیسے صف ماتم بچھ گیا تھا-

عورتوں کی معنی خیز نگاہیں،مردوں کے ملامت بھرے فقرے مسرت کو اپنی روح میں گڑتی محسوس ہوئی تھی- وہ اسی وقت سے روئے چلی جا رہی تھی- کوئی صفائی کوئی دہائی نہیں ،بس لبوں پر ایک دعا محمل کی لاش کسی ندی نالے کسی ہسپتال سے مل جائے-وہ نہ ہو جو ان کی ساری محنت ساری ریاضت رائیگاں جائے-

بھاگ گئی کسی کے ساتھ،ارے میں تو پہلے ہی کہتی تھی-صبح کا سورج طلوع ہونے لگا تھا-جب تائی مہتاب کی آواز کچن میں سنائی دی تھی-

شک تو مجھے بھی یہی ہے-ناعمہ چاچی نے بلند سر گوشی کی-وہ سب رات سے جاگ رہے تھے- البتہ حسن کے علاوہ دوسرے لڑکے لڑکیاں بھر پور نیند لے کر ابھی بیدار ہوئے تھے-

“بس ! آغآ جان ایک دم دھاڑے اندر کچن میں روتی مسرت نے ایک دم دہل کر بھیگا چہرہ اٹھایا-

سب نے چونک کر آغآ جان کو دیکھا جن کا سرخ و سفید چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا-

“اب اگر وہ زندہ اس دہلیز پر آئی تو میں اسے زندہ یہی گاڑھ دوں گا سن لیا سب نے۔۔۔۔

ارے ایسی بیٹیوں کا تو پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ دینا چاہیے-ابراہیم اس کو بھی ساتھ لے کر مرتا ہماری عزٹ داغ دار کرنے کے کیئے چھوڑ گیا اسے توبہ توبہ-

ضرور کسی کے ساتھ چکر تھا-قرآن اٹھا کر چھت پر جاتی تھی-تا کہ ہمیں اس پر شک نہ ہو-اسی لیئے تو میں نے اس دن کہا تھا-مگر کوئی سنے تو نہ- تائی مہتاب کو اپنا غم یاد آگیا تھا-

مسرت کا دل ڈوبتا چلا گیا-

“تم مر جاؤ محمل خدارا مر جاؤ مگر واپس نہ آؤ-ان کا دل درد سے چلا اٹھا-

آج کے بعد کوئی اس کا نام اس گھر میں نہیں لے گا اور اگر ۔۔۔۔۔۔ آغآ جان کی بات ادھوری رہ گئی-

کسی نے زور سے گیٹ پر دستک دی تھی-

سب نے چونک کر گیٹ کو دیکھا،یہاں تک کہ برآمدے کے زینے پر بیٹھی آرزو نے بھی اپنا سر اٹھایا-

مسرت دھڑکتے دل کے ساتھ کھڑکی میں آ کھڑی ہوئی-صبح کے سات بجے پہلے تو کبھی ایسے دستک نہیں ہوئیں تھی-

حسن دروازہ کھولو- اسد چچا نے کہا تو حسن نے آگے بؔڑھ کر گیٹ کے چھوٹے دروازے کا ہک کھولا اور پیچھے ہوا-

دروازہ کھلتا چلا گیا-ایک مرمریں سپید ہاتھ دروازے پہ دھرا اور پھر چوکھٹ پہ اندر آتے سپید ننگے پاؤں دکھائی دیئے-

آغا جان بے چینی سے اٹھ کھڑے ہوئے-باقی سب بھی ساتھ ہی اٹھے سب کی نظریں گیٹ پر جم تھیں جہاں چھوٹے دروازے کو کھول کر وہ اندر داخل ہورہی تھی-

سیاہ پاؤن تک آتا عبایا اور چہرے کے گرد سختی سے لپیٹا سرمئی اسکارف،ننگے پاؤں ،سر جھکائے محمل ابراہیم نے قدم اندر رکھا-

حسن اس سے کہو یہاں سے دفعہ ہو جائے،ورنہ میں اس کا خون کر دونگا-آغآ جان زور سے دھاڑے تھے-ابھی اور اسی وقت یہاں سے نکل جاؤ بے شرم لڑکی ورنہ -“

آپ کے باپ کا گھر ہے جو نکل جاؤں؟

وہ جو سر جھکائے اندر داخل ہوئی تھی ایک دم سر اٹھا کر بے خوفی سے غرائی کہ لمحے بھر کو سب بھونچکا رہ گئے-تائی مہتاب نے تو ششدر سی ہو کر منہ پر ہی ہاتھ رکھ لیا-

حسن الجھ کر محمل کو دیکھ رہا تھا اور فواد ۔۔۔

فواد اپنی جگہ ساکت رہ گیا تھا-

وہ اب پلٹ کر گیٹ کھول رہی تھی-

دوسرے ہی لمحے زن سے پولیس مونائل آگے پیچھے ڈرائیووے پہ اندر آئیں-کھٹا کھٹ دروازے کھلے اور سپاہی اتر کر تیزی سے اردگرد پھیلتے چلے گیے- پورے گھر کی تلاشی لو- بلند حکمیہ کہتا وہ ڈرائیونگ سیٹ سے نیچے اترا-یونیفارم میں ملبوس ،چہرے پر مدھم سی فاتحانہ مسکراہٹ لیئے وہ گھاس پہ کھڑے ان پتھر ہوئے لوگوں کے پاس آیا

وہ سب اتنا اچانک اور غیر متوقع تھاکہ کوئی اپنی جگہ سے ہل نہ سکا-فواد کو ہی سب سے پہلے ہوش آیا-اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگائی جا رہی تھی-

کیا بکواس ہے؟اس نے غرا کر ہاتھ پیچھے کرنا چاہے-

اس بکواس میں لکھا ہے کہ تمہاری ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ ہو چکی ہے-اور یہ کہ تمہیں فوری گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے-

مسئلہ کیا ہے آفیسر؟کیا کیا ہے میرے بیٹے نے؟

آغا صاحب آپ کے بیؔٹے نے اپنی کزن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمایوں نے ایک نگاہ محمل پہ ڈالی جو گیٹ کے ساتھ سینے پہ ہاتھ باندھے کھڑی نفرت بھری نظروں سے فواد کو دیکھ رہی تھی-محمل ابراہیم کو اپنی ایک پھنسی ہوئی فائل نکلوانے کے عوض ایک رات کے لیئے بیچا اور ابھی ناشتا کرتے ہوئے وہ غالبا اسی فائل کے اپروو ہونے کا انتظار کر رہے تھے-

آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے سر میرا بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

:آپ کا بیٹا شمالی علاقہ جات کی لڑکیوں کے اغوا اور خریدو فروخت میں ملوث ہے،یہ آپ بھی جانتے ہیں اور ہم بھی- اس دفعہ انہوں نے چالاکی کی اپنی کزن کا سودا کر کے انہیں متعلقہ پارٹی کے پاس بھیجا البتہ آپ کی بھتیجی پولیس کی حفاظت میں ہی رہی-کیونکہ وہ سب پولیس کے پلان کے تحت تھا-آغا فواد نے گینگ کو منظر عام پہ نہ لانے کے لیئے ال تو اچھی چلی تھی-مگر ہر چال کامیاب نہیں ہوتی-

محمل کا اس اے ایس پی کے ساتھ چکر تھا-فواد خاموشی سے سن کر آرام سے بولا” میں نے انہیں رنگے ہاتھوں پکڑا ہے-اب اپنے کرتوت پر پردہ ڈالنے کے لیئے یہ مجھے پھنسا رہے ہیں تا کہ-

خاموش ہو جائیں- وہ پھٹ پڑی تھی-ایک لفظ بھی آپ نے میرے متعلق بولا تو منہ نوچ لوں گی آپ کا-آپ نے میرے ساتھ کیا کیا،آپ کو اندازہ ہے؟

ارے یہ کیا چپ رہے میں بتاتی ہوں تائی مہتاب کو جیسے ہوش آیا تھا-ایک دم سینے پر ہاتھ مارتی سامنے آئیں- سارا فساد اسی لڑکی کا مچایا ہوا ہے-یہ میرے بیٹے کو پھنسا رہی ہے-تا کہ اس کے کرتوت نہ کھلیں،آغا صاحب- انہوں نے تائید طلب نظروں سے آغا جان کو دیکھا اور پھر ادھر ادھر گردن گھنائی-سب خاموش کھڑے تھے- کسی نے ہاں یا ناں نہیں کی-

لڑکی کا نام محمل ابراہیم ہے- ہمایوں نے موبائل کا بٹن دبا کر ان کے سامنے کیا-اسپیکر سے آواز گونجنے لگی-فواد کی ؔآواز- جو بنا دقت پہچانی جاتی تھی-

” تین تاریخ،ہفتے کی شام وہ آپ کے پاس ہو گی- معصوم ان چھوئی اور نوجوان ہے- آپ کی ڈیمانڈ پہ پوری اترتی ہے– اور قہقہہ ۔۔۔۔۔۔

محمل کو اپنا چہرہ تمتماتا ہوا محسوس ہوا-

ذرا سے وقفے سے مختلف آوازیں گونجی تھیں-

فواد بھائی یہ لوگ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں-

“فواد بھائی یہ لوگ میرے ساتھ کچھ غلط کر دیں گے-

بکواس بند کرو اور میری بات غور سے سنو-

تمہیؔں وہ ڈائمنڈ رنگ چاہیئے ہے نا؟ تو جیسے وہ کہیں کرتی جاؤ-بس ایک رات ہی کی تو بات ہے-صبح تمہیں ڈرائیور لینے آجئے گا-

ہمایوں نے بٹن دبایا،اور موبائل نیچے کیا- فواد نے سر جھٹکا-

آڈیو قانون کی عدالت میں قابل قبول نہیں ہوتا اے ایس پی صاحب-“

گھر کی عدالت میں تو ہوتا ہے-

اور وہ ٹھیک کہہ رہا تھا-ان سب کو سانپ سونگھ گیا تھا-ہر شخص اپنی جگہ ساکت و متاسف کھڑا تھا-

دیکھ لوں گا میں ایک ایک کو دیکھ لوں گا-

فی الحال تو تمہیں ایک لمبے عرصے تک جیل کی دیواروں کو دیکھنا ہوگا-

اسی دن کے لیئے-حسن ایک دم تیزی سے سامنے آیا اسی دن کے لیئے کہتا تھا کہ اس سے دور رہو،ساری دنیا جانتی ہے یہ کس قماش کا آدمی ہے-لڑکیوں کا کاروبار کرتا ہے-اسی لیئے تمہیں منع کرتا تھا-

مجھے منع کر سکتے تھے اس کے ہاتھ نہیں توڑ سکتے تھے؟ میری جگہ اپنی بہن ہوتی تو بھی کچھ نہ کرتے؟وہ جوابا ایسے تڑخ کر بولی کہ حسن کھڑا کا کھڑا رہ گیا-محمل کبھی ایسے نہ بولی تھی-

محمل ۔۔ میں-

مجھے آپ کی کوئی وضاحت نہیں چاہیئے- سب ایک سے ہیں-اس نے منہ پھیر لیا تھا- ان کے قریب برآمدے کی سیڑھی پہ بیٹھی ؟آرزو بنا پلک جھپکے مبہوت سی اس مغرور اور وجیہہ سے اے ایس پی کو دیکھ رہی تھی-توس کا ٹکڑا اس کئ ہاتھ میں رہ گیا تھا-

ؔآغا صاحب ! انہیں روکیں یہ میرے بیٹے کو کدھر لے جا رہے ہیں-وہ فواد کو لے جانے لگے تو تائی مہتاب آغا جان کا بازو جھنجھور کر رو پؔڑی تھیں-آغا جان چپ کھڑے تھے،بالآخر غفران چچا آگے بڑھے-

بھابھی بیگم! حوصلہ کریں ان شاءاللہ فواد شام تک گھر ہوگا-ان کی بات پر ہمایوں نے استہزائیہ سر جھٹکا اور پلٹا-

ایک منٹ) اے ایس پی صاحب-

آغا جان ٹھہرے ہوئے انداز مین مخاطب ہوئے تھے-وہ چونک کر پلٹا-

“یہ لڑکی رات باہر گزار آئی ہے-ہم شریف لوگ ہیں اسے قبول نہیں کر سکتے-آپ اسے بھی بھلے ساتھ ہی لے جائیے-

محمل ساکت رہ گئی-اسے لگا وہ کبھی اپنی جگہ سے ہل نہیں پائے گی-

واقعی ہمایوں نے ابرو اٹھائی-برآمدے کے ستون سے لگی محمل کے آنسو پھر سے ابل پڑے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *