Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mushaf (Episode 09)

Mushaf by Nimrah Ahmad

“جی واقعی! ان کے چبا کر کہنے پہ وہ مسکرایا-

“ٹھیک ہے محمل بی بی ! تھانے چلیئے آپ سلطانی گواہ ہیں،گواہی دیں اور فواد کریم کو ساری زندگی جیل میں سڑتا دیکھیں- میں نے تو سوچا تھا گھر کی بات گھر میں رہ جائے،لیکن اگر آپ چاہتے ہو کہ ساری دنیا کو علم ہو کہ فواد نے گھر کی بچی کا سودا کیا ہے تو ٹھیک ہے،ہم اس سلطانی گواہ کو ساتھ لے چلتے ہیں نہ آپ اس بچی کو سمجھا بجھا کر چپ کرا سکیں گے،نہ ہی فواد کبھی باہر آئے گا- چلو محمل-

ارے نہیں اے ایس پی صاحب محمل ہماری بچی ہے-بھائی صاحب بس یونہی ناراض ہیں،ہمیں یقین ہے کہ یہ پولیس کی حفاطت میں رہی ہے-عزت سے گھر آئی ہے-غفران چچا نے بوکھلا کر بات سنبھالی-

نہ بھی یقین کریں ،تو بھی ہم نے محمل کو مسجد بجھوا دیا تھا-عورتوں کی مسجد ہے- میری بہن ادھر پڑھاتی ہے- اس نے آغا جان کو بغور دیکھتے ہوئے بہن پر زور دیا اور ایک سخت نظر ڈالتا ہوا پلٹ گیا-

وہ ابھی تک ویسے ہی شاکڈ ساکت کھڑی تھی-جیسے اسے آغا جان کے الفاظ کا ابھی تک یقین نہیں آیا تھا-

گاڑیاں گیٹ سے باہر نکل گئیں ۔۔۔۔ غفران چچا موبائل پر کوئی نمبر ملانے لگے- تائی مہتاب زور زور سے رونے لگیں-

یہ سارا اسی منحوس کا کیا دھرا ہے-اسے گھر سے نکالیئے آغا صاحب،کمبخت نے میرے بچے کو پھنسا دیا- اپنے باپ کے ساتھ کیوں نہیں مر گئی؟

وہ جارحانہ انداز میں اس کی طرف بڑھی مگر حسن درمیان میں آگیا-

کیا کر رہی ہیں آپ تائی اماں؟ان کے دونوں ہاتھ گرفت میں لیئے اس نے بمشکل انہیں باز رکھا-

“بھلا ایک لڑکی کے کہنے پر فواد کریم جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے آدمی کے اریسٹ وارنٹ جاری ہو سکتے ہیں؟

یہ جھوٹ بکتی ہے میں اسے جان سے مار دوں گی-

محمل اندر جاؤ – فضہ چاچی نے آہستہ سے کہا تو وہ چونکی پھر اندر کی طرف دوڑی-

فضہ اور ناعمہ نے معنی خیز نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا-آغا جان ڈرائیووے کی طرف بڑھ گئے تھے-تائی اماں ابھی تک حسن کے بازوؤں میں رو اور چیخ رہی تھیں-

وہ بھاگتی ہوئی برآمدے کے سرے پر رکی ستون سے لگی کھڑی مسرت نے منہ پھیر لیا- اسے دھکا سا لگا-

اماں ۔۔۔۔۔ ! اس کی آنکھوں میں مرچیں سی چبھنے لگیں-

اے محمل ۔۔۔۔۔! آرزو نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ ذرا سا چونکی-

یہ ہینڈسم آفیسر کون تھا؟

یہ ہمایوں تھا ہمایوں داؤد-

ہوں نائس نیم-کدھر رہتا ہے؟

جہنم میں-ایڈریس چاہیئے؟وہ زہر خندہ ہوئی تو آرزو نے منہ سا بنا لیا- محمل اس کا ہاتھ جھٹک کر ایک شکوہ کناں سی نظر ماں پر ڈال کر اندر بھاگتی گئی-

ہمایوں داؤد ۔۔۔۔۔۔۔ ! آرزو زیر لب مسکرائی- اور پھر توس کھانے لگی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر میں اگلے کئی روز تک خاموشی چھائی رہی-بس ایک حسن تھا جو ہر وقت ہر ایک کے سامنے اس کا دفاع کرتا نظر آتا تھا-

اگر محمل کی جگہ آرزو ہوتی تو بھی آپ یہی کہتی چچی؟وہ ناعمہ کی کسی بات پر بھڑک کے بولا – تو وہ جو سر منہ لپیٹے اندر پڑی تھی-جھٹکے سے اٹھی اور تیزی سے باہر آئی-

آپ کو کوئی ضرورت نہیں ہے ہر ایک کے سامنے میری صفائی دینے کی-وہ لاؤنج میں آ کر ایک دم چکا کر بولی تو سب چونک کر اسے دیکھنے لگے-

مگر محمل!

اگر ان لوگوں نے یونہی مجھے پورے خاندان میں بے عزت کرنا ہے تو ٹھیک ہے-اگر عزت ایک دفعہ چلی گئی تو میں کس عزت کو بچانے کے لیئے کورٹ میں چپ رہوں گی؟ میں بھی بھری عدالت میں پورے شہر کو بتاؤں گی سن لیں آپ سب-

اپنے پیچھے دھاڑ سے دروزہ بند کر کے اس نے پھر سے خود کو کمرے میں بند کر لیا-

اندر مسرت بستر کی چادر درست کر رہی تھیں-

اسے آتا دیکھ کر لمحے بھر کو سر اٹھایا،پھر واپس کام مصروف ہوگئیں-

” آپ بھی مجھ سے ناراض ہیں اماں؟ مسرت خآموشی سے تکیئے پہ غلاف چڑھاتی رہی-

“اماں ! اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے- وہ تکیئے درست کر کے دروازے کی طرف بؔڑھی-

میں نے کیا کیا ہے اماں؟وہ رو پڑی تھی-

دروازے کی طرف بڑھتی مسرت نے گردن موڑی-

“تم نے اچھا نہیں کیا محمل- وہ بہت دنوں بعد بولی تھیں-

اماں- وہ تڑپ کر ان کے قریب آئی- فواد بھائی نے مجھے فنکشن کا کہہ کر ۔۔۔۔۔۔۔

مجھے پتا ہے-

پتہ ہے مگر یقین نہیں ہے؟

” میں برسوں ان کی خدمت کرتی رہی کہ شاید کبھی یہ ہمیں کچھ عزت دیں، مگر میری بیٹی ان ہی کے بیٹے کو پکڑوا کر کورٹ کچہری میں گواہی دیتی پھرے ۔۔۔۔۔۔ پہلے زندگی کم مشکل تھی محمل جو تم نے اور مشکل بنا دی؟ وہ تھکی تھکی سی پلٹ گئی-

وہ نم آنکھوں سے انہیں جاتے ہوئے دیکھتی رہی-

ایک غلط قدم اسے یہاں لا پہنچائے گا اس نے سوچا بھی نہ تھا-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پھر کتنے ہی دن وہ ماتم کرتی رہی، اس کے پاس رونے کو بہت کچھ تھا- پھر کئی دنوں بعد اسے عبایا اسکارف اور مردانہ شلوار قمیض کا خیال آیا تو دہنوں کو الگ الگ شاپر میں ڈال کر فرشتے کو واپس کرنے نکلی-

کوئی ضرورت نہیں ہے ہمایوں داؤد کے منہ لگنے کی فرشتے کو واپس کر دوں گی-وہی آگے پہنچا دے گی-اس نے سوچا تھا-

بس اسٹاپ کا بینچ اب ویران ہوتا تھا-وہ سیاہ فام لڑکی مڑ کر کبھی واپس نہیں آئی تھی-جانے کون تھی کہاں سے آئی تھی وہ اکثر سوچتی رہ جاتی-

بس سے اتر کر اس نے سڑک پر کھڑے گردن اونچی کر کے دیکھا-وہ دونوں عمارتیں ساتھ ساتھ تھیں-ہمایوں داؤد کا کا بنگلہ سبز بیلوں سے ڈھکا تھا اور ساتھ موجود سفید ستونوں والی عمارت کوئی انسٹیٹیوٹ تھا شاید-

کوئی ضرورت نہیں ہے اس فضول انسان کا دروازہ کھٹکھٹانے کی-میں مسجد میں ہی چلی جاتی ہوں- وہ مسجد کے سیاہ گیٹ کے سامنے آئی-گیٹ کا سیاہ لوہا چمک رہا تھا-اسے اس چمکتے لوہے میں اپنا عکس نظر آیا-

بلیو جینز کے اوپر گھٹنوں تک آتا کرتا’گردن سے لپٹا دوپٹہ،اونچی بھوری پونی ٹیل بانھے ماتھے پر بل ڈالے وہ اپنے مخصوص حلیئے میں تھی-

گیٹ کے اس طرف ایک بورڈ لگا تھا جس کو وہ پہلے نہ دیکھ سکی تھی- اس پر واضح لکھا تھا-

No men Allowed (مردوں کا داخلہ ممنوع ہے)

ساتھ باوردی گارڈ بیٹھا تھا- اس نے گہری سانس لے کر اندر قدم رکھا-

بڑا سا سر سبز کالین- سامنے سفید سنگ مر مر کا چمکتا برآمدہ -برآمدے کے کونے میں ریسپشن ڈیسک کے پیچھے کھڑی لڑکی’ جو سیاہ عبایا کے اوپر سرمئی اسکارف میں ملبوس فون کان سے لگائے محو گفتگو تھی-

سامنے سے سفید شلوار قمیض میں ملبوس ایک لڑکی چلی آرہی تھی-اس نے عنابی اسکارف لے رکھا تھا-جیسے یونیفارم ہو-محمل کے قریب سے گزرتے ہوئے اس نے مسکرا کر اسلام علیکم کہا ۔۔۔۔۔

“جی؟” وہ چونکی-وہ لرکی مسکرا کر اس کے پاس سے گزرتی چلی گئی-

ہیں اس نے مجھے سلام کیں کیاَ؟کیا یہ مجھے جانتی ہے؟ وہ الجھ ہی رہی تھی کہ ریسپشنسٹ کی آواز آئی-

اسلام علیکم کین آئی ہیلپ یو؟

جی- مجھے فرشتے سے ملنا ہے- وہ ڈیسک کے قریب آئی-

فرشتے باجی کلاس میں ہونگی-اندر کاریڈور میں رائٹ فرسٹ ڈور ۔۔۔۔۔۔۔

اچھا-

وہ ادھر ادھر دیکھتی سنگ مر مر کے فرش پر چلتی جارہی تھی–

مرتین سے مراد بنی اسرائیل میں ہونے والا دو مرتبہ کا فساد ہے-مفسر کے مطابق پہلی دفعہ سے مراد زکریا کا قتل، جبکہ دوسری دفعہ سے مراد عیسی کے قتل کی سازش مراد ہے-

اس نے کھلے دروازے سے گردن اندر کی-سامنے بنے پلیٹ فارم پہ کرسی پہ وہ بیٹھی اپنے آگے میز پر کتاب کھولے مصروف سی پڑھا رہی تھی-اس کے سامنے قطار در قطار لڑکیاں کرسیوں پہ بیٹھئی تھیں- عنابی اسکارف میں لپٹے بہت سے جھکے سر اور چلتے قلم-وہ واپس پلٹ گئی-

برآمدے میں ریسیپشن ڈیسک کے سامنے دیوار سے لگے کاؤچ پہ بیٹھی کے وقت کاٹنا اسے بہتر لگا،سو کتی ہی دیر وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی پاؤں جھلاتی چیونگم چباتے ہوئے تنقیدی نگاہوں سے اردگرد گزرتی لڑکیوں کا جائزہ لیتی رہی-

وہاں ایک منظم سی چہل پہل ہمہ وقت ہورہی تھی-وہ جیسے کوئی اور ہی دنا میں تھی- یونیفارم میں ملبوس ادھر ادھر تیزی سے آتی جاتی لڑکیاں-وہاں ہر طرف لڑکیاں ہی لڑکیاں تھیں-اسٹوڈنٹس کی شلوار قمیض اور اوپر کسی رنگ کا اسکارف تھا،جبکہ تمام ٹیچرز اور آفیشلز کے سیاہ عبائے اور سرمئی اسکارف تھے – ان کئ عباۓ اور اسکارف لینے کا انداز نبے حد نفیس تھا-

بہت پر اعتماد ،ایکٹو اور مصروف سی لڑکیاں جیسے وہ الگ سی دنیا لڑکیاں ہی چلا رہی تھیں-کچھ تھا اس مسجد میں جو محمل کو کہیں اور نظر نہیں آیا-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ا سلام علیکم- اگر آپ بور ہورہی ہیں تو اس کا مطالعہ کرلیں-

شیور- اس نے شانے اچکا کے اس ریسپشنسٹ کے ہاتھ سے وہ دبیز کتاب لے لی-

چند صفحے پلٹتے ہی اسے وہ شام یاد آئی جب آغا جان نے اسے ٹیرس پہ اس سے وہ سیاہ جلد والا مصحف چھینا تھا-

وہ قرآن کی سادہ ٹرانسلیشن تھی-

وہ یونہی درمیان سے کھول کر پڑھنے لگی-

اور اس نے ہی غنی کو اور مالدار بنایا ہے-اور وہی ہے جو شعری(ستارے) کا رب ہے اور بلا شبہ اس نے ہی پہلی قوم عاد کو ہلاک کیا اور قوم ثمود کو بھی-باشبہ یہ سب انتہائی ظالم و سرکش لوگ تھے اور اسی نے پلٹا الٹی ہوئی بستیوں کو- پھر ان پر چھا گیا جو چھانا تھا-تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں پہ جھگڑو گے؟یہ تو تنبیہہ تھی- پہلی تنبیہات میں سے-آنے والی قریب آگئی-اللہ کے علاوہ! کوئی ظاہر کرنے والا نہیں تو کیا تم اس قرآن سے تعجب کرتے ہو ہنستے ہو،روتے نہیں اور کھیل تماشا کر رہے ہو؟

محمل؟ ارے ۔۔۔۔۔ !

وہ جو بالکل کھو کے پڑھتی جا رہی تھی،بری طرح چونکی –

فرشتے سامنے کھڑی تھی-اس نے قرآن بند کیا اور میز پہ رکھ کر کھڑی ہوئی-

اسلام علیکم کیسی ہو؟

فرشتے اس کے گلے لگ کر الگ ہوئی اور اسے شانوں سے تھام کر مسکرا کر دیکھا-وہ محمل سے دو انچ لمبی تھی-شفاف سپید چہرہ سرمئی اسکارف میں مقید اور وہ کانچ سی بھوری آنکھیں-

میں ٹھیک ، آپ کیسی ہیں؟

الحمد للہ- اتنے دنوں بعد تمہیں دیکھ رہی ہوں،گھر میں سب ٹھیک ہے؟

جی- اس نے نگاہیں جھکائیں اور بہت سی نم اپنے اندر اتاری-

چلو کوئی بات نہیں،سب ٹھیک ہوجائے گا-

آپ کی چیزیؔں تھی میرے پاس- اس نے شاپر اوپر کیا-

“میں سمجھی، تم میرے لیئے کوئی گفٹ لائی ہو- “وہ ہنسی اور شاپر لے لیا- کوئی تکلف نہیں کوئی خالص سا اندازہ – سچا اور خالص-

لیکن اگر تم یہ رکھنا چاہو تو ۔۔۔۔۔۔

نہیں میں یہ عبایا وغیرہ نہیں لیتی –

نو پرابلم – بہت شکریہ -وہ خوش دلی سے مسکرائی تو محمل کو اچھا لگا-

بہت مذہبی لوگ عموما اتنے سنجیدہ اور سخت نظر آتے ہیں کہ جیسے ایک وہی نیک مومن ہوں اور باقی سب گناہگار کافر -اسے ایسے لوگوں سے شدید چؔڑ تھی-جن کے سامنے اسے لگے کہ وہ بہت گناہگار سمجھ رہا ہے-مگر فرشتے اور اس کی مسجد کی لڑکیاں اس روایتی امیج سے بہت مختلف تھیں-

یہ ان کا ہے-اس نے دوسرا شاپر آگے کیا-ہمایوں کا ؟

جی-

“اچھا ہمایوں کبھی شہر میں ہوتا ہے کہیں نہیں-

میرا اس سے ایزسچ کونٹیکٹ نہیں رہتا- میں بھول بھی جاتی ہوں بہت اگر تم یہ اس کے چوکیدار کو دے دو تو وہ پہنچا دے گا-

فرشتے انہوں نے آپ کو اپنی اور فواد بھائی کی ڈیل کے بارے میں بتایا تھا؟

ڈیل نہیں ،وہ دراصل آغا فواد سے بہت تنگ تھا- اور اسے اس کی گینگ کی کسی لڑکی کے ذریعے پکڑنا چاہتا تھا-

وہ گینگ کی لڑکی کی توقع کر رہے تھے تو آپ کو کیسے علم ہوا کہ ان کی کزن ہوں؟

تم نے خود بتایا تھا جب ہم پرئیر ہال میں تہجد پڑھ رہے تھے-

اوہ کئی دن کی الجھن سلجھ گئی-میں تو گینگ کی لڑکی نہیں تھی،پھر انہوں نے فواد بھائی کو کیسے اریسٹ کرلیا؟

یہ تو تم ہمایوں سے پوچھنا- میری تو عرصے سے اس سے بات نہیں ہوئی-

ٹھیک دو بجنے کو ہیں فرشتے میں پھر آؤں گی-

اور وہ سوچ رہی تھی کہ اس کا ہمایوں سے زیادہ رابطہ نہیں رہتا،مگر اسے فواد کے کیس کی ہر بات معلوم تھی-

عجیب بات تھی-

اور میں دعا کروں گی کہ کبھی تم ہمارے ساتھ آ کر قرآن پڑھو-

معلوم نہیں-شاید میں کچھ عرصے تک انگلینڈ چلی جاؤں-

اوہ فرشتے کے چہرے پر سایہ سا لہرایا-

آپ مسجد میں قرآن پڑھاتے ہیں؟

ہاں،یہ در اصل ایک اسلامک اسکول ہے-ہوں میں چلتی ہوں-وہ اسے لان تک چھوڑنے آئی-

تمہیں کبھی کسی نے اس کتاب کی طرف نہیں بلایا محمل؟ جاتے سمے اس نے پوچھا تو اس کے قدم رک گئے- یادوں کے پردے پر ایک سیاہ فام چہرہ لہرایا تھا-

بلایا تھا، مگر میں نے دل کا انتخا ب کیا اور میں خوش تھی-اس نے کہا تھا یہ کتاب سحر کر دیتی ہے-اور مجھے مسحور ہونے سے ڈر لگتا ہے-

“کتاب سحر نہیں کرتی پڑھنے والا خود سحر زدہ محسوس کرتا ہے-ان دونوں میں کیا فرق ہے؟

“بہت سے لفظوں کو الگ الگ پرکھنا سیکھو نہیں تو زندگی کی سمجھ نہیں آئے گی-

فرشتے چلی گئی اور وہ شاپر اٹھائے خود کو گھسیٹتی ہوئی باہر نکلی-

ساتھ والے گیٹ میں اندر جاتی گاڑی لمحے بھر کو رکی- شیشہ نیچے ہوا-سر پر کیپ اور وجیہہ چہرے پر ڈارک گلاسز لگائے اس نے اسے دیکھا تھا جو گیٹ کے سامنے کھڑی تھی- وہ چوکیدار کو کچھ کہہ کر گاڑی زن سے اندر لے گیا-

چوکیدار بھاگتا ہوا اس کے قریب آیا-

صاحب کہہ رہے ہیں آپ کو اندر ڈرائنگ روم میں بٹھایئں وہ آتے ہیں-

تمہارے صاحب نے سوچا بھی کیسے کہ میں اس سے ملنے آئی ہوں-مائی فٖٹ- یہ پکڑو اور اپنے صاحب کے منہ پر مارنا-غصے سے اس کی آواز بلند ہونے لگی- سارا کیا دھرا اس شخص کا تھا-اسے اس پے بے طرح غصہ ایا تھا- اس نے شاپر اسے تھمایا-

اسی پل وہ کیپ ہاتھ میں لیئے تیزی سے چلتا ہوا اس تک آیا-

“خان گیٹ بند کردہ اور بتول سے کہو چائے پانی کا بندوبست کرے- مہمان ہیں-اور آپ پلیز اندر آجائیں- شائستہ و ہموار لحجہ وہ قطعا مختلف لگ رہا تھا-

مجھے اندر آنے کا کوئی شوق نہیں ہے-“لیکن آغا فواد کے باہر آنے کی خبر سننے کا ہوگا؟

وہ متذبذب سی سوچتی رہ گئی تو ہمایوں نے مسکراتے ہوئے راستہ چھوڑ دیا-

دن کی روشنی میں اس کا لاؤنج اتنا ہی نفیس جتنا اس دن رات کو لگا تھا-

اونچی دیوار گیر کھڑکیوں کے ہلکے پردے نفاست سے بندھے تھے’سنہری روشنی چھن کر اندر آرہی تھی- کونوں میں نفاست سے لگے مغلیہ دور طرز کے سنہری گملوں میں لگے پودے بہت ترو تازہ لگ رہے تھے-

بیٹھیے-وہ ہاتھ سے اشارہ کرتا سامنے صوفے پر بیٹھا-اس کے چہرے پہ کھڑکی سے روشنی سیدھی پڑ رہی تھی-

تھینک یو-وہ ذرا تکلف سے بیٹھی-اس کا صوفہ اندھیرے میں تھا-ہمایوں کو اس کا وجود بھی اسی تاریکی کا حصہ لگا تھا-

آپ نے جو بھی کہنا ہے ذرا جلدی کہیئے؟

ڈر گئی ہیں؟ وہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے ٹیک لگائے مسکرایا-

میں ڈرتی نہیں ہوں- بلکہ آپ کو بے حد نا قابل اعتبار سمجھتی ہوں-

شوق سے سمجھیں-مگر میں نے آپ کو اغوا نہیں کیا تھا-آپ کورٹ میں میرے خلاف بیان نہیں دے سکتیں-

آپ کو کس نے کہا کہ میں آپ کے خلاف بیان دے رہی ہوں-

آپ کے تایا نے-

محمل نے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھا- بات کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی تھی-

وہ کہتے ہیں آپ کورٹ مین یہ بیان دیں گی کہ میں نے آپ کو حبس بے جا میں رکھا تھا-اور یقینا وہ اس کے لیئے آپ پر دباؤ ڈالیں گے-

آپ کو کیوں لگا کہ انہیں مجھ پر دباؤ ڈالنا پڑے گا؟وہ اب مطمئن سی ٹانگ پہ ٹانگ رکھے جھلا رہی تھی- انداز میں ہلکا سا طنز تھا-ہمایوں ذرا چونک کر سیدھا ہوا- کیا مطلب؟

حبس بے جا میں تو آپ نے مجھے رکھا تھا اے ایس پی صاحب ۔۔۔۔۔

مس محمل ابراہیم اتنی آسانی سے اتنے بڑے بیان نہیں دیئے جا سکتے-حالانکہ اپ جانتی ہیں کہ میں بے قصور ہوں-

بے قؔصور؟اگر آپ مجھے گھر جانے دیتے تو میں یوں بدنام نہ ہوتی-

پہلے آپ بے ہوش ہوئیں،حالانکہ آپ اس وقت ایک اے ایس پی کی تحویل میں تھیں- ہمایوں داؤد کی نہیں-اگر آپ دیوار نہ بھلانگتی تو میں رات میں ہی اپ کا بیان لے کر آپ کو اکیلے گھر چھور آتا-

مجھے کمرے میں بند کرتے وقت تو آپ نے کسی بیان کا ذکر نہیں کیا تھا-

مجھے قانون مت سکھائین-وہ میرا تفتیش کا طریقہ تھا-

اور آپ کے اس طریقے میں بھلے کوئی بدنام ہو جائے؟

تو ہوجائے مجھے پرواہ نہیں-

آپ ۔۔۔۔۔۔ اس کا دل چاہا وہ گملے اس کے سر پر پھوڑ دے-

“میم اس وقت آپ کو آپ کے گھر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا-ہم فواد کو ڈھیل دے رہے تھے-میں جانتا تھا آپ مسجد گئی ہیں- اور فجر سے پہلے مسجد کے دروازے نہیں کھلتے-سو میں اذان سنتے ہی آپ کو لینے ایا تھا-

مجھے آپ کی کہانی نہیں سننی -وہ پیر پٹختی اٹھی-وہ ابھی تک تاریکی میں تھی-جس سے اس کے چہرے کے نقوش مدھم پڑ گئے تھے-

نہ سنیں مگر میرا کارڈ رکھ لیں-ہوسکتا ہے آپ کو میری مدد کی ضرورت پڑے ۔۔۔۔

اس نے ایک کارڈ اس کے ہاتھ میں گویا زبردستی رکھنا چاہا-

مجھے ضرورت نہیں ہے-اس نے پکڑ تو لیا مگر جتانا نہ بھولی اور پھر اسی طرح کارڈ پکرے باہر نکل گئی-

وہ لاؤنج میں تنہا کھڑا رہ گیا-کھڑکی سے چھن کر اتی روشنی ابھی تک اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *