Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mushaf (Episode 20)

Mushaf by Nimrah Ahmad

میں نے بدلہ کب مانگا ہے؟وہ نرمی سے اس کا گال تھپتھپا کر باہر نکل گئی

دن پژمردگی سے گزرنے لگے-وہ سارا دن کمرے میں پڑی رہتی، یا فرشتے کے زبردستی مجبور کرنے پہ باہر لان میں آتی اور وہاں بھی گم صم ہی رہتی، فرشتے ہی کوئی نہ کوئی بات کرکے ذہن بٹارہی ہوتی اور یہ باتیں عموما فرشتے اس سے نہیں کرتی تھی- بلکہ اس کی وہیل چئیر دھکیلتے ہوئے کبھی کیاری میں گوڈی کرتے مالی سے مخاطب ہوتی، تو کبھی برآمدے کا فرش دھوتی ملازمہ سے ۔ فرشتے اب اتنا نہیں بولتی تھی،جتنا پہلے بولتی تھی-اس کا انداز پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہوگیا تھا-اور یہ وقت کا اثر تھا، وہ اثر جو نہ چاہتے ہوئے بھی وقت ہر انسان پہ چھوڑے ہی جاتا ہے-

فرشتے نے گھر کو اچھی سے سنبھالا ہوا تھا-گو کہ ہر کام کے لیے جزوقتی ملازمائیں رکھی ہوئیں تھیں- مگر تمام انتظام اس کے ہاتھ میں تھا- اس کے باوجود وہ نہ کسی پہ حکم چلاتی تھی نہ اس گھر کی پرائیوسی میں دخل دیتی تھی-محمل ملازموں سے بات کرنے کے علاوہ زیادہ کلام بھی نہ کرتی تھی،وہ بھی شدید ضرورتا اور تیمور تو ویسے بھی ہر شے سے چڑا ہوا لڑکا تھا-سو وہ اسے مخاطب نہیں کرتی تھی-کبھی جو کر لیتی تو تیمور اس بدتمیزی سے پیش اتا کہ الامان-

محمل نے نوٹ کیا تھا کہ تھوڑی بدتمیزی کر کے تیمور چیخنے چلانے پہ آجاتا تھا اور اگر مزید کچھ کہا جائے تو چیزیں اٹھا کرتوڑ پھوڑ کرنے سے بھی گریز نہ کرتا تھا-فرشتے بہت محتاط طریقے سے اس گھر میں رہ رہی تھی،جیسے اس کے ذہن میں تھا اسے جلد ہی یہاں سے چلے جانا ہے- ملازمہ بلقیس نے اسے بتایا تھا کہ فرشتے اپنے پیسوں سے ماہانہ راشن کی چیزیں لے آتی ہے،خصوصا چکن اور گوشت وہ ہمیشہ خود ہی خریدتی تھی-جب ہمایوں کو پتا چلا اور اس نے فرشتے کو روکنا چاہا تو فرشتے نے صاف کہہ دیا کہ اگر اس نے اسے روکا تو وہ واپس اسکاٹ لینڈ چلی جائے گی-نتیجتا ہمایوں خاموش ہوگیا-صاف ظآہر تھا وہ ان پر بوجھ بننا نہیں چاہتی تھی اور شاید اس کے ذہن میں ہو کہ کہیں کوئی اسے مفت خورا نہ سمجھ لے-اپنی عزت نفس اور وقار کو اس نے ہمیشہ قائم رکھا تھا،محمل خود کو اس کا زیر بار سمجھنے لگی،

ہمایوں سے اس کی ملاقات نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی-وہ کبھی دوپہر میں گھر آتا تو کبھی رات کو-کھانا وہ اپنے کمرے میں کھاتا-اور پھر وہی رہتا اکثر بہت رات گئے گھر واپس اتا -وہ انتظار میں لاؤنج میں وہیل چئیر پہ لاؤنج میں بیٹھی ہوتی-وہ آتا سرسی سا حال پوچھتا اوپر سیڑھیاں چڑھ جاتا اور وہ اس کی پشت کو نم آنکھوں سے دیکھتی رہ جاتی –

تیمور دوپہر میں اسکول سے آتا تھا-وہ کھانا ڈائنگ ٹیبل پر اکیلے کھاتا تھا-اگر محمل کو ادھر بیٹھے دیکھتا تو فورا واپس چلا جاتا نتیجتا بلقیس اسے اس کے کمرے میں کھانا دے آتی – وہ جنک فوڈ کھاتا تھا- برگر پنیر کے ڈبوں سے فریزر اور فرنچ فرائیز کے لیے آلوؤں سے سبزی والی ٹوکری بھری رہتی -کھانے پینے کا وہ بہت شوقین تھا- اسکول سے لائے چپس کے پیکٹس اور چاکلیٹس عموما کھاتا نظر آتا -شام کو ٹی وی لاؤنج میں کارٹون لگائے بیٹھا رہتا – اگر محمل کو آتا دیکھتا تو اٹھ کر چلا جاتا- وہ جان ہی نہ پا رہی تھی کہ وہ اتنا ناراض کس بات پہ ہے؟ آخر اس نے کیا ہی کیا ہے؟

اس گھر کے تینوں مکیں اجنبیوں کی طرح رہ رہے تھے، اور اب وہ چوتھی اجنبی ان کی اجنبیت بٹانے اگئی تھی-

فرشتے شام میں مدرسے جاتی تھی-وہ غالبا اب شام میں کلاسز لے رہی تھی-محمل نے ایک بار پوچھا تو وہ اداسی سے مسکرا دی تھی-

صبح کی کلاسز لینا اسپتال کی وجہ سے ممکن نہ تھا-مختصرا بتا کر وہ حجاب صحیح کرتی باہر نکل گئی تھی-

وہ محمل کا بہت خیال رکھتی تھی-اس کی دوا ، مساج ، مفلوج اعضاء کی ایکسر سائز، فریوتھراپسٹ کے ساتھ اس پہ محنت کرنا،پھر غذآ کا خیال ، وہ انتھک لگی رہتی، بلا کسی اجر کی تمنا کیے یا احسان جتائے-

اس شام بھی فرشتے مدرسے گئی ہوئی تھی-جب سیاہ بادل آسمان پر چھانے لگے-ہمایوں تو کبھی بھی شام میں گھر نہیں ہوتا تھا-تیمور جانے کہاں تھا-وہ اپنے کمرے سے باہر کا منطر دیکھ رہی تھی-

دیکھتے ہی دیکھتے دن میں رات کا سماں بندھ گیا،بادل زور سے گرجنے لگے-موٹی موٹی بوندیں ٹپ ٹپ گرنے لگیں،بجل کڑکتی تو ایک لمحے کو خوف ناک سی روشنی بکھر جاتی-

اسے بارش سے پہلے کبھی نہیں ڈر لگا تھا-مگر آج لگ رہا تھا، ہمایوں نہیں تھا، فرشتے بھی نہیں تھی ، اسے لگا وہ اکیلی ہے، تنہا ہے-

بجل بار بار کڑک رہی تھی- ساتھ ہی اس کی دھڑکن بھی تیز ہورہی تھی-بے اختیار اسے پسینہ آنے لگا تھا،کیا کرے کسے بلائے؟

وہ تیزی سے دونوں ہاتھو ں سے وہیل چئیر چلاتی لاؤنج میں آئی-فون ایک طرف تپائی پہ دھرا تھا-اس کے ساتھ ہی ایک چٹ بھی تھی جس پر ہمایوں اور فرشتے کا نمبر لکھے تھے-وہ غالبا تیمور کے لیے لکھے گئے تھے-اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے رسیور اٹھایا اور فرشتے کا نمبر ڈائل کیا، پھر رسیور کان کے ساتھ لگایا-

گھنٹی جا رہی تھی، مگر وہ اٹھا نہ رہی تھی- غالبا کلاس میں تھی-اس نے مایوسی سے فون رکھ دیا،اس کی نگاہ دوبارہ چٹ پر پڑی-

کچھ سوچ کر اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ رسیور دوبارہ اٹھایا- نمبر ڈائل کرتے ہوئے اس کی انگلیاں لرز رہی تھیں-

تیسری گھنٹی پر ہمایوں نے ہیلو کہا تھا-

ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیوں -وہ بمشکل بول پائی تھی- کون؟

میں محمل-

دوسری جانب ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا-

ہاں بولو- مصروف ، سرد مہر سی آواز ابھری-

آپ ۔۔۔۔ آپ کدھر ہیں؟

پرابلم کیا ہے؟قدرے بے زاری-

وہ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ باہر اسٹورم(طوفان) آرہا ہے- مجھے ڈر لگ رہا ہے پلیز آپ گھر آجائیں-اس کا گلا رندھ گیا آنکھیں ڈبڈبا گئیں-

اوہو- میں میٹنگ میں بیٹھا ہوں-ابھی کہاں سے آجاؤں-

مجھے نہیں پتہ پلیز اجائیں جیسے بھی ہو-باہر طوفان کا شور بڑھ رہا تھا، ساتھ ہی اس کے آنسوؤں میں شدت آگئی تھی-

میں نہیں آسکتا، فرشتے یا کسی ملازمہ کو بلالو- وہ جھلایا تھا-

فرشتے گھر پہ نہیں ہے، آپ آجائیں ہمایوں پلیز-

کیا بکواس ہے؟ اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم معذوری کا ڈرامہ رچا کہ میری ہمدردی حاصل کر سکتی ہو تو اس خیال کو دل سے نکال دو اور مجھے میری زندگی جینے دو ، خدا کے لیے اب پیچھا چھوڑ دو میرا -اور ٹھک سے فون بند ہوگیا-

وہ سکتے کے عالم میں ریسیور ہاتھ میں لیے سن سی بیٹھی رہ گئی-کتنے لمحے گزرے ، کتنے بادل گرجے کتنی بجلی چمکی ، کتنے قطرے برسے ، وہ ہر شے سے غافل ، بنا پلک جھپکے شل سی بیٹھئ تھی-لب ادھ کھلے آنکھیں پھتی پھٹی اور ہاتھ میں پکڑا رسیور کان سے لگائے۔۔۔۔۔۔ وہ کوئی مجسمہ تھا جو ٹیلی فون اسٹینڈ کے ساتھ اس وہیل چیئر پہ بے حس و حرکت پڑا تھا-

پھر کتنی ہی دیر بعد رسیور اس کے ہاتھ سے پھسلا اور نیچے لڑھک گیا-اس کے زمین سے ٹکرانے کی آواز پہ بے اختیار اس نے پلکیں جھپکیں اور آن کی آن میں اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں-

اس کی ہچکی بندھ گئی تھی، اور پورا وجود لرز رہا تھا، وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی-

ہمایوں نے اسے وہ سب کہا تھا؟اتنے غصے اور بے زاری سے، جیسے وہ اس سے اکتا چکا تھا- ہاں وہ مرد تھا-وجیہہ ، شان دار سا مرد، کب تک ایک کومے میں بے ہوش پڑی نیم مردہ بیوی کی پٹی سے لگا رہتا؟اس کو اب محمل کی ضرورت نہ تھی-شاید وہ اب اس سے شادی کرنے پہ پچھتا رہا تھا-اپنی وقتی جزباتیت پہ پچھتا رہا تھا-

دفعتا آہٹ پہ اس نے آنکھیں کھولیں-

تیمور سامنے صوفے کے اس طرف کھڑا اسے دیکھ رہا تھا-چبھتی خاموش نگاہیں جن میں عجیب سا تنفر تھا-

“تیمور!” اس کی زخمی مامتا بلبلائی- ادھر میرے پاس آؤ بیٹا! اس نے دونوں ہاتھ پھیلائے-شاید وہ اس کے گلے سے لگ جائے،شاید کہ ہمایون کے روئیے کی تپش کچھ کم پڑ جائے-

آئی ہیٹ یو- وہ تڑخ کر بولا اور اسے دیکھتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹا -ہمایوں کے الفاظ کیا کم تھے جو اوپر سے اس سات سالہ لڑکے کا انداز، اس کی روح تک چھلنی ہوگئی-

میں نے کیا کیا ہے تیمور؟تم ایسے کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ؟کیوں ناراض ہو مجھ سے؟

یو لیفٹ می وین آئی نیڈ یو-(آپ نے مجھے اس وقت چھوڑا جب مجھے آپ کی ضرورت تھی-)

وہ زور سے چیخا تھا-آئی ہیٹ یو فار ایوری تھنگ –

اور مڑ کر بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا- لمحے بھر بعد اس نے تیمور کے کمرے کا دروازہ زور سے بند ہوتے سنا-

کیا تمہیں چھوڑنے میں میرا اپنا اختیار تھا تیمور؟ تم اتنی سی بات پہ مجھ سے ناراض نہیں ہو سکتے-شاید تمہارے باپ نے تمہیں مجھ سے بد ظن کیا ہے-وہ دکھی دل سے سوچتی واپس کمرے تک ائی تھی-اس کے ripple بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پہ سیاہ کور والا قرآن رکھا تھا-اس نے آہستہ آہستہ سے اٹھایا اور دونوں ہاتھوں میں تھامے اپنے سامنے کیا-

سیاہ کور پہ مدھم سا مٹا مٹا سا “م ” لکھا تھا-جانے اس نے کیوں اور کب ادھر لکھا تھا؟وہ کوشش کے باوجود نا یاد کر پائی،پھر سر جھٹک کر اسے وہاں سے کھولا جہاں سے فجر کے بعد تلاوت چھوڑی تھی-اس نے وہ آیت دیکھی جہاں ایک بار مارک لگا تھا،پھر تعوذ تسمیہ پڑھا اور اگلی آیت سے پڑھنا شروع کیا-

” ہم جانتے ہیں کہ تمہیں ان کی بات غمگین کرتی ہے-

اس نے بے یقینی سے اس آیت کو دیکھا-

ہم جانتے ہیں کہ تمہیں ان کی بات غمگین کرتی ہے،پس بے شک وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے،بلکہ وہ ظالم تو اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں-اس نے پھر سے پڑھا اور پھر سے دم بخود سی ہو کر ایک ایک حرف کو انگلی سے چھونے لگی-کیا وہ واقعی ادھر لکھا تھا؟

اوہ اللہ تعا لی-اس ک آنسو پھر سے گرنے لگے تھے-آپ کو۔۔۔۔ آپ کو ہمیشہ سے پتا چل جا تا ہے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کبھی بھی آپ سے کچھ نہیں چھپا سکتی-وہ بری طرح رو دی تھی-اب کی بار یہ دکھ کے آنسو نہ تھے،بلکہ خوشی کے تھے،سکون کے تھے رضا کے تھے- اگر آپ مجھ سے یونہی بات کرتے رہیں تو آپ مجھے جس حال میں بھی رکھیں میں راضی ! میں راضی! میں راضی!” اس نے چہرہ اٹھایا اور ہتھیلی کی پشت سے آنسو صاف کیے-

اب اسے رونا نہیں تھا-اب اسے صبر کرنا تھا، طائف کے پتھر دراصل اب لگنے شروع ہوئے تھے- صبر اور شکر ۔۔۔۔۔ اس نے ان دو سہاروں کو بالآخر تھام ہی لیا تھا-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شام بہت سہانی سی اتری تھی- کالونی کی صاف سڑک کے اطراف سبز درختوں کے تازہ پتوں کی مہک ، ٹھنڈی ہوا سے بکھر گئی تھی-

بلقیس اس کی وہیل چئیر دھکیلتی سڑک کے کنارے آگے بڑھ رہی تھی- وہ ساتھ ساتھ چھوٹی موٹی ادھر ادھر کی باتیں بھی کر رہی تھی-مگر محمل کا دھیان کہیں اور تھا-وہ گم صم سی دور افق کو دیکھ رہی تھی-جہاں پرندوں کے غول اڑ رہے تھے-اس روز کے طوفان کے بعد موسم بہت ٹھنڈا ہوگیا تھا اور اس ٹھندی ہوا میں باہر نکلنا بہت اچھا لگ رہا تھا-

بلقیس اس کی وہیل چئیر دھکیلتی دور پارک تک لے آئی تھی-اس سے آگے ان کے سیکٹر کا مرکز تھا،وہاں بوتیکس، شاپس اور ریسٹورنٹ کی چہل پہل ہوتی تھی اور ایسی جگہوں پہ جاتے ہوئے اس کا دل گھبراتا تھا، سو اس نے بلقیس کو آگے جانے سے منع کردیا-

بس یہیں پارک تک ٹھیک ہے، اسی میں چلتے ہیں-

بلقیس سر ہلا کر وہیل چئیر اندر لے جانے لگی –

” جب آپ کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا نا محمل بی بی تو صاحب بہت روئے تھے-میں نے خود انہیں روتے دیکھا تھا-بہت دھچکا لگا تھا ان کو-

کون ؟ ہمایوں ؟ وہ چونکی تھی-

ہاں جی! انہوں نے چھٹی لے لی تھی، کئی ماہ تو وہ اسپتال میں آپ کے ساتھ ہی رہے تھے-تیمور بابا کو تو بھلا ہی دیا تھا، میں نے بڑا کیا ہے جی تیمور با با کو-بڑا پیارا بچہ تھا ہمارا بابا،جب چار سال کا تھا تو آپ کے لیے پھول لے کے جاتا تھا، اور وہاں اسپتال میں آپ کے سرہانے بیٹھ کر گھنٹوں بولا کرتا تھا-

پھر اب کیا ہوا ہے اسے بلقیس؟ اس نے دکھ سے پوچھا تھا-بلقیس آہستہ آہستہ پارک کی پتھریلی روش پر وہیل چئیر چلا رہی تھی-دور گھاس پر بچے کھیل رہے تھے-ایک طرف ایک بچہ ماں کی انگلی پکڑے رو رہا تھا-اسے ہر بچے میں اپنا تیمور نظر آرہا تھا-

تیمور بابا ایسا نہیں تھا بی بی!وہ تو بہت پیار کرنے والا بچہ تھا،مگر پھر اب دو ایک سالوں میں بہت چڑ چڑا ہوگیا ہے-صاحب بھی تو اسے توجہ نہیں دیتے، پہلے تو چھوٹا تھا پر اب بہت سمجھدار ہوگیا ہے، ساری باتیں سمجھتا ہے،اسی لیے سب سے ناراض رہتا ہے-

اور تمہارے صاحب؟وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟

پتا نہیں بی بی!وہ شروع میں آپ کا بہت خیال رکھتے تھے، پھر آپ کے حادثے کے چھٹے برس ان کی پوسٹنگ کراچی ہوگئی تھی-وہ سوا سال ادھر رہے-وہاں سے واپس آئے تو بہت بدل گئے تھے جی-اب تو ڈیڑھ سال ہوگیا ہے جی ان کو واپس آئے ہوئے، مگر اب تو آپ کا یا تیمور بابا کا حال تک بھی نہیں پوچھتے-

کراچی میں ایسا کیا ہوا جو بدل گئے؟وہ کھوئی کھوئی سی بولی تھی-

معلوم نہیں بی بی ، مگر ۔۔۔۔۔۔۔ وہ لمحے بھر کو ہچکچائی-

ان کے کراچی جانے کے کوئی دو ہفتے پہلے مجھے یاد ہے، ادھر آپ کے گھر آپ کا کوئی رشتے دار آئے تھے، ان سے بہت بہت لڑائی ہوئی تھی صاحب کی-

کون ؟ کون آیا تھا؟اس نے وحشت زدہ سی ہو کر گردن گھمائی- بلقیس کے چہرے پر تذبذب کے اثار تھے-

اصل میں بی بی! آپ کے رشتے دار کبھی آئے ہی نہیں، تو وہ جو بس ایک ہی دفعہ آئے تو مجھے یاد رہ گیا، آپ کے تایا کے بیٹے تھے-

کون؟فو۔۔۔۔ فواد ؟ اس کا دل زور سے دھڑکا تھا-نام وام تو نہیں معلوم ، مگر صاحب نے ان سے بہت لڑائی کی تھی-دونوں بہت دیر تک اونچا اونچا لڑتے رہے تھے-

مگر کیا ہوا تھا؟جھگڑا کیوں ہوا ان کا؟وہ مضطرب اور بے چین سی ہوگئی تھی-

میں کچن میں تھی بی بی!کچھ سمجھ میں تو نہیں ایا کہ وہ کیوں لڑ رہے تھے، مگر شاید کوئی کچہری وغیرہ کا معاملہ تھا اور دونوں آپ کا نام بار بار لیتے تھے، پھر صاحب نے فرشتے بی بی کو بھی ادھر بلوا لیا-وہ پتا نہیں کچھ بولیں یا نہیں، ان کی اواز ہی نہیں آئی مجھے، پھر وہ آپ کے تایا زاد چلے گئے اور صاحب دیر تک فرشتے بی بی پر چلاتے رہے، میں کھانے کا پوچھنے گئی تو دیکھا فرشتے بی بی رو رہی تھیں اور اپنا سامان پیک کر رہی تھیں، میرے پوچھنے پہ انہوں نے بتایا کہ وہ جا رہی ہیں، میں نے پوچھا کہ کدھر تو بولیں ، پتا نہیں اور روتی جا رہی تھیں، پھر اگلے دن رشید نے بتایا کہ صاحب اپنا ٹرانسفر کراچی کروارہے ہیں، پھر صاحب چلے گئے اور فرشتے بی بی رک گئیں-

وہ دم سادھے ساری تفصیلات سن رہی تھی- اس کے پیچھے کیا، کیا ہوتا رہا ، اسے خبر ہی نہیں ہو سکی- کیا فواد نے ہمایوں کو اس کے خلاف بہکایا تھا؟ اور فرشتے کو اس نے ایسی کیا بات کہی کہ وہ روئی؟وہ تو بہت مضبوط لڑکی تھی- یوں کبھی نہیں روتی تھی- اس نے تو اس کی انکھوں میں کبھی آنسو نہیں دیکھے تھے، اوہ خدایا اس نے سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا-

وہ کیا کرے؟ کس سے پوچھے؟ فرشتے تو کبھی نہ بتاتی- ہمایوں سے امید بھی نہ تھی اور تیمور تو اس کا دیکھنے کا روادار نہ تھا پھر؟کیا کرے؟صبر اور نماز کا سہارا- اس کے دل سے آواز اٹھی تھی-

بلقیس کو کوئی جاننے والی مل گئی تو وہ اس سے باتیں بگھارنے ذرا فاصلے پر کھڑی ہوگئی-

محمل نے قرآن اٹھالی، وہ قرآن لیے گھر سے نہ نکلتی تھی اسے آہستہ سے کھولا- کل جہاں سے تلاوت چھوڑی تھی ان آیت پر نشان لگا تھا-وہ بہت غور سے دھیان سے آگے پڑھنے لگی-

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر ظآہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں (مائدہ 10)

لمحے بھر کو اس کا دماغ چکرا کر رہ گیا- مگر فورا خود کو سرزنش کی-

یہ کوئ فال نکالنے کی کتاب تو نہیں ہے، اسی لیے اس نے مجھے ایسے سوال کرنے سے منع کیا ہے، میں بھی خواہ مخواہ ۔۔۔۔ وہ سر جھٹک کر آہستہ سے آگے تلاوت کرنے لگی –

اگلی ایات دوسری چیزوں کے متعلق تھیں-اس کی سوچوں پہ بالکل خاموش ، لب ــــــ سے کسی اور طرف توجہ مبذول کرواتیں- اس کے الجھے دماغ کو سکون آنے لگا – جو بھی ہوا کبھی نہ کبھی کھل ہی جائے گا، اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہ تھی-

وہ زیر لب ترنم سے تلاوت کرنے لگی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رات کے دو بج چکے تھے اور ہمایوں ابھی تک گھر نہیں آیا تھا- وہ مضطرب سی لاؤنج میں بیٹھی تھی-بار بار دیوار ہی آویزاں گھڑی کو دیکھتی اور پھر دروازے کوگھڑی کی سوئیاں آگے بڑھتی جا رہی تھین-مگر درازہ ہنوز ساکت و جامد تھا- باہر بھی خاموشی تھی-

اس کے دل میں وسوسے سے آنے لگے تھے-نا جانے وہ ٹھیک بھی ہیں یا نہیں، کیا پتہ اس کی گاڑی خراب ہوگئی ہو، کیا پتا کسی مشکل میں پھنس گئے ہوں-اس نے بے اختیار اس کے لیے دعا کی تھی-

دفعتا گاڑی کا ہارن سنائی دیا اور پھر گیٹ کھلنے کی آواز آئی، وہ مڑکر دروازے کو پیاسی نگاہوں سے دیکھنے لگی-قدموں کی آواز اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھاری چر چراہٹ کے ساتھ دروازہ کھلا، کیپ اور اسٹک ہاتھ میں لیے وہ تھکا تھکا سا یونیفارم میں چلا آرہا تھا-اندر داخل ہو کر اس نے مڑ کر دروازہ بند کیا اور پھر چند قدم اگے آیا- دفعتا اسے بیٹھا دیکھ کر ہمایوں کے قدم تھمے- چہرے پہ حیرت بھری ناگواری ابھر آئی-

تم ادھر کیوں بیٹھی ہو؟

السلام علیکم، آپ کا ویٹ کر رہی تھی- آپ نے بہت دیر لگا دی – وہ اہستہ سے بولی تھی-

میں دیر سے آؤں یا جلدی آؤں خدا کے لیے میرے انتظار میں ادھر مت بیٹھا کرو-

اس نے بہت تحمل سے اس کا بے زار لہجہ سنا،پھر دھیرے سے بولی- میں پریشان ہوگئی تھی کہ خیریت۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مر نہیں گیا تھا میں سو کام ہوتے ہیں، اگر آئیندہ مجھے تم یہاں بیٹھی ملیں تو میں گھر ہی نہیں آیا کروں گا- خدا کے لیےمیرا پیچھا چھوڑ دو محمل! وہ جھڑک کر کہتا تیزی سے اوپر سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا-

اس نے بڑے صبرو ضبط سے آنسو پی لیے ، یہاں تک کہ وہ اپنے دروازے کے پیچھے گم ہوگیا- تب اس نے گود میں دھرے ہاتھ اٹھائے اور اپنی وہیل چئیر کو کمرے کی طرف موڑنے لگی-

کبھی تو اسے احساس ہوگا کہ یہ وہی محمل ہے جو کبھی اس کی من چاہی بیوی تھی اور جب وہ یہ محسوس کرے گا تو لوٹ آئے گا- اسے یقین تھا اور یہ ہی یقین اس نے دل میں اٹھتے درد کو دلایا تھا-

وہ تارکول کی سڑک پر آج پھر بلقیس کے ساتھ وہیل چئیر پر جا رہی تھی-باہر کا موسم اس کی طبیعت پہ بہت اچھا اثر ڈالتا تھا-یہ الگ بات تھی کہ اس کی معزوری میں رتی بھر بھی فرق نہ آیا تھا-

بلقیس ادھر ادھر کی باتیں کرتی اس کی وہیل چئیر دھکیل رہی تھی-وہ آج بھی اسے نہیں سن رہی تھی،بس خاموش مگر پرسکون نگاہوں سے دور افق کو دیکھ رہی تھی- آہستہ آہستہ یہ ٹھہراؤ اس کی شخصیت کا حصہ بنتا جا رہا تھا-

بلقیس تمہں میرے تایا کے گھر کا پتا ہے؟ایک دم ہی وہ کسی خیال کے تحت چونکی اور پھر پوچھ لیا-

” نہ بی بی ! میں تو ادھر کبھی نہیں گئی-

اچھا۔۔۔۔۔۔۔ مگر مجھے راستہ یاد ہے، تم مجھے ادھر لے چلو گی؟

پیدل؟

ہاں زیادہ دور نہیں ہے، جتنا فاصلہ یہاں سے مرکز تک ہے اتنا ہی ہے میں پیدل بھی آجایا کرتی تھی-

اسے بے اختیار وہ شام یاد ائی جب وسیم سے اپنے رشتے کی بات سن کر روتی ہوئی پیدل ہی مدرسے کے سامنے سڑک پہ اگئی تھی-اور اس نے ہمایوں سے کہا تھا کہ وہ بیچ راہ میں چھوڑ دینے والوں میں سے نہیں ہے اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” چلیں پھر ٹھیک ہے۔ آپ راستہ بتائیں-بلقیس کی آواز پر وہ یادوں کے ہجوم سے باہر نکلی اور راستہ بتانے لگی- چھوٹی سڑک سے ایک راستہ پل سے ہوتا ہوا ان کے سیکٹر میں جا اترتا تھا، جس سے وہ بیس منٹ میں ادھر پہنچ سکتی تھیں-

آج وہ بیس منٹ پوری صدی لگ رہے تھے- وہ اس راستے پہ جاتے ہی دور کہیں کھو گئی تھی- نا جانے وہ سب کیسے ہونگے؟اتنے ہی عیش و ارام سے رہ رہے ہونگے؟ جتنے پہلے تھے؟کیا ان میں سے کسی نے اس کو یاد کیا ہوگا؟کبھی وہ اسپتال بھی آئے ہونگے کہ نہیں؟اور نہ جانے فواد نے جا کر ہمایوں سے کیا کہا تھا جس پہ فرشتے روتی رہی؟بہت یاد کرنے پر بھی ایسی کوئی بات ذہن میں نہیں آئی جو وہ ہمایوں سے یوں کہہ سکتا تھا یا شاید اس کی سوچنے کی صلاحیت اب سست ہوتی جا رہی تھی-

“یہ آپ کا گھر ہے جی؟ بڑا سوہنا ہے-

بلقیس کہہ رہی تھی اور وہ چونک کر اس اونچے عالیشان محل نما گھر کو دیکھنے لگی اس کا پینٹ ، کھڑکیوں کے شیشے اور بیرونی گیٹ بدل گیا تھا- وہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہوگیا تھا-

یہ وہ گھر تھا جہاں اس نے اپنی زندگی کے اکیس سال گزارے تھے اور اسی سے وہ ایک رات نکالی گئی تھی- بظآہر رخصتی کی آڑ میں اسے اس گھر سے بے دخل کر دیا گیا تھا-

بیل بجاؤ بلقیس!

بلقیس آگے برھی اور گھنٹی بجائی-چند لمحوں بعد قدموں کی چاپ سنائی دی، جیسے کوئی دوڑتا ہوا گیٹ کھولنے آرہا ہو-اس کے دل کی دھڑکن ٹھہر سی گئی-وہ اتنے سالوں بعد کسے دیکھنے جا رہی تھی؟ فواد حسن آغآ جان؟

دروازہ آہستہ سے کھلا اور کسی نے سر باہر نکال کر دیکھا-

جی کس سے ملنا ہے؟وہ حلیے اور لہجے سے ملازم لگتا تھا-

بلقیس نے جوابا محمل کو دیکھا تو وہ ہمت مجتمع کر کے بولی-

آغآ کریم گھر پہ ہیں؟

ملازم کے چہرے پہ ہلکی سی الجھن ابھری-

کون آغا کریم؟

آغا۔۔۔۔۔۔ آغاکریم جو اس گھر کے مالک ہیں، جن کا یہ گھر ہے – اور ۔۔۔۔۔۔ یہ ہاؤس نمبر ٹو تھرٹی ہے نا؟

آہو جی یہ ٹو تھرٹی ہے، مگر یہ تو چوہدری نذیر صاحب کی کوٹھی ہے-ادھر تو کوئی آغاکریم نہیں رہتے-

بی بی کہیں ہم غلط گھر میں تو نہیں آگئے؟بلقیس نے ہولے سے کہا تو اس نے سختی سے نفی میں سر ہلایا- نہیں یہی گھر ہے، آغا کریم سات سال پہلے ادھر ہی رہتے تھے-

سات سال تو بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے میڈم جی جانے اب وہ کدھر گئے-

اچھا آپ ٹھہرو، میں بیگم صاحبہ سے پوچھ کر آتا ہوں-وہ انہیں وہیں چھوڑ کر اندر چلا گیا -چند لمحوں بعد اس کی واپسی ایک نوجوان کے ساتھ ہوئی-

جی فرمائیے؟وہ بیس اکیس برس کا مہذب اور شائستہ سا نوجوان تھا-

وہ ۔ ادھر آغا کریم اور ان کی فیملی رہتی تھی- وہ لوگ کدھر گئے؟

میم! ہم دو سال سے ادھر رہ رہے ہیں، دو سال پہلے ایک شیخ عامر سے ہم نے یہ گھر خریدا تھا- ہو سکتا ہے ان کو آغآ کریم نے یہ بیچا ہو، مگر میں ان کے بارے میں قطعی لاعلم ہوں-

آغا جان نے یہ گھر بیچ دیا؟مگر کیوں؟وہ شاکڈ سی رہ گئی-

معلوم نہیں میم کیا آپ کے لیے کچھ کر سکتا ہوں؟

اس کا سر نفی میں دائیں سے بائیں ہلا- لڑکا معذرت کر کے واپس چلا گیا اور وہ پریشان سی بیٹھی رہ گئی-

بی بی! ہمسایوں سے پوچھتے ہیں-اور اس کے منع کرنے سے قبل بلقیس ساتھ والے گھر کی گھنٹی بجا چکی تھی- اس گھر میں کون رہتا تھا؟خاصا جانا پہچانا سا گھر تھا ، مگر یاد نہیں آرہا تھا-

بمشکل ایک منٹ بعد ہی گیٹ کھل گیا -محمل نے گردن اٹھا کر دیکھا-

ادھر کھلے گیٹ کے اس پار بریگیڈئیر فرقان کھڑے تھے-

شلوار قمیض میں ملبوس، چہرے پر نفاست سے تراشیدہ دارھی اور بھر پور مسکراہٹ لیے وہ اسے دیکھ رہے تھے- انہیں دیکھ کے اسے بہت کچھ یاد انے لگا-

السلام علیکم لٹل گرل! میں کافی دیر سے آپ کو ٹیرس سے دیکھ رہا تھا- آئیے اندر آجائیں-انہوں نے گیٹ پورا کھول دیا اور ایک طرف کو ہت گئے-

بلقیس اس کی وہیل چئیر دھکیلتی اندر روش پے لے آئی-

ادھر آجائے- وہ لان میں گھاس پہ رکھی لان چئیرز کو جوڑنے لگے، یوں کے وہیل چیئر کی جگہ بن جائے-

کیسی ہیں اپ؟وہ اس کی سامنے والی کرسی پہ بیٹھے اور بہت ہی شائستگی سے پوچھنے لگے ان کا مخصوص لب و لہجہ اسی طرح بھاری تھا، البتہ سختی کی جگہ نرمی نے لے لی تھی-

ٹھیک ہوں الحمد اللہ- وہ ذرا سا مسکرائ اور سر جھکا لیا، پھر کچھ سوچ سوچ کر اسی جھکے سر کے ساتھ کہنے لگی- میرا کچھ سال پہلے ایکسیڈنت ہوگیا تھا، تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” میں جانتا ہوں، میں آپ کو دیکھنے اسپتال اتا تھا-

اس نے ہولے سے سر اٹھایا- سنہری آنکھوں میں حیرت اتر آئی تھی-

اچھا؟اور پھر اسے یاد آگیا-ہاں مجھے نرس نے بتایا تھا – تو وہ اپ تھے؟

جی ہاں- وہ دھیمے سے مسکرائے- آپ کی امانت نے میری زندگی بدل دی بیٹا-

وہ بنا پلک جھپکے انہیں دیکھ رہی تھی-

میں نے دو سال وہ پمفلٹ نہیں کھولے،پھر زندگی میں ایک موڑ ایسا آیا کہ ہر جگہ اندھیرا دکھنے لگا تو نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے ان کو کھول لیا-میرا خیال تھا اس میں کسی تنظیم کا لٹریچر ہوگا یا کسی سیاسی پارٹی کا منشور، مگر ان میں تو صرف قرآن کی آیات تھیں اور ان کا سادہ ترجمہ-میں پڑھتا چلا گیا اور پھر سب بدل گیا، سب ٹھیک ہوگیا-

مختصر الفاظ میں انہوں نے ساری بات سمیت دی-وہ چپ چاپ انہیں سنتی چلی گئی-

آپ کچھ عرصہ پہلے گھر شفٹ ہوگئی تھیں، مجھے پتا چلا تھا- اب طبیعت کیسی ہے آپ کی؟

ایم فائن-پھر لمحے بھر کے توقف کے بعد بولی- آغآ جان وغیرہ کدھر گئے؟انہوں نے گھر کیوں بیچ دیا؟

جن دنوں وہ گئے تھے میں ملک سے باہر تھا،بس ملازم سے ہی تھوڑا بہت سنا تھا کہ شاید تینوں بھائیوں نے جائیداد کا بٹوارہ کیا ہے اور گھر بیچ کے رقم تقسیم کر کے الگ الگ جگہوں پہ شفٹ ہوگئے ہیں-آپ کے ایکسیڈنٹ کا بھی میرے ملازم نے ہی بتایا تھا-

کب کی بات ہے یہ کب بیچا انہوں نے گھر؟

آپ کے ایکسیڈنٹ کے تقریبا سال ڈیڑھ بعد-

اوہ! اس کے لب سکڑے اور پھر اس نے ایک گہری سانس لی-کوئی اندازہ ہے آپ کو کہ وہ کہاں گئے؟

اب میں ان سے کدھر ملوں؟

اونہوں قطعی نہیں-انہوں نے معذرت خواہانہ انداز میں نفی میں سر ہلایا-ہمارے کبھی اتنے تعلقات تھے ہی نہیں، ہاں آغا اسد کے بارے میں ، میں نے ایک دوست سے سنا تھا-وہ کلب میں آغا اسد کے ساتھ ہوتا تھا-

ان کے الفاظ پہ وہ چونکی، دل زور سے دھڑکا-

کیا؟ کیا سنا تھا؟

یہ ہی کہ ان کو کینسر ہوگیا تھا، اور پھر ان کی ڈیتھ ہوگئی- آپ کو نہیں پتا چلا؟

وہ سانس روکے ہکا بکا سی رہ گئی-

آئی ایم ویری سوری محمل-انہیں افسوس ہوا- کب؟ کب ہوا یہ؟چند لمحے بعد اس کے لب پھرپھرائے-آنکھیں پتھرا سی گئیں تھیں-

غالبا پانچ سال قبل، ان کے گھر بیچنے کے چھ سات ماہ بعد-

اور ،، ان کے بچے؟معاذ اور معیز تو بہت چھوٹے تھے-

معلوم نہیں یتیم بچے تو پھر مجبورا رشتے داروں کے تسلط میں ہی رہتے ہیں-اللہ ان پر رحم کرے-

اور وہ لفظ یتیم بچے محمل کے دل میں کھب گیا-

بہت پہلے پڑھی گئی ایک آیت ذہن میں گونجی-ان لوگوں کو اس بات سے ڈرنا چاہیئے کہ اگر وہ اپنے پیچھے کمزور یتیم بچے چھوڑ جاتے- (نساء9)

یتیم بچے؟اسد چچا کے بچے یتیم ہوگے؟آرزو معاذ معیز- وہ ابھی تک بے یقین تھی-

اور پھر کب وہ بریگیڈئیر فرقان کو خدا حافظ کہہ کر بلقیس کے ہمراہ باہر آئی اسے کچھ پتہ نہ چلا-دل و دماغ بس ایک ہی نقطے پر منجمد ہوگئے تھے-اسد چچا کے بچے یتیم ہوگئے-

بے اختیار ہی اسے لاؤنج کا وہ منظر یاد اگیا-

صوفے پہ گری محمل اور اس کو تھپڑوں اور جوتوں سے مارتے اسد چچا اور غفران چا-

غفران چچا نہ جانے کہاں گئے؟ اور آغآ جان۔۔۔۔۔۔۔ سب کدھر چلے گئے؟وہ ان لوگوں کو کدھر ڈھونڈے؟

مگر وہ ان لوگوں کو کیوں ڈھوندنا چاہتی ہے؟اس نے خود سے پوچھا، کیا وہ یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ان لوگوں کو ان کے کیے کی سزا ملی یا نہیں کہ آخر یہ قانون فطرت ہے-یا وہ ان خون کے رشتوں کی محبت میں انہیں یاد کر رہی تھی-؟

شاید خون کی محبت غالب آگئی تھی یا شاید اپنے سب سے قریبی رشتوں شوہر اور بیٹے کے ٹھکرائے جانے کے بعد اسے کسی رشتے کی ضرورت تھی، ہاں شاید یہی بات تھی-

وہ انہیں سوچوں میں الجھتی گھر واپس آئی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سارے میں فجر اتری تھی جب وہ وہیل چیئر کو خود گھسیٹتی کھینچتی لان میں لائی– شبنم کے قطرے گھاس پر بکھرے تھے-دور کہیں پرندوں کی حمد کی آواز سنائی دے رہی تھی-مختلف بولیاں،مگر ایک ہی بات انسانوں کی سمجھ میں نہ ائے، وہ اور بات ہے-

تب ہی وہ آہستہ آہستہ وہیل چئیر خود ہی چلاتی دیوار کے ساتھ آگے بڑھنے لگی-دیوار کے اس پار مدرسے کی عمارت تھی-صبح کے وقت مدرسے کے صحن میں ناظرہ کی کلاس ہوتی تھی-

وہاں بچے بلند آواز میں قرآن پڑھا کرتے تھے-ان کی تجوید کی ہلکی ہلکی آواز ان کے لان مین بھی سنائی دیتی تھی-

وہ آواز آج بھی آ رہی تھی-وہ وہیں دیوار کے ساتھ وہیل چئیر روکے کان لگا کر سننے لگی-

وہ سب مل کر بلند آواز میں پڑھ رہے تھے-ترجمہ”اور داخل ہو جاؤ دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے، اور کہو حتطۃ-ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے اور عنقریب ہم احسان کرنے والوں کو زیادہ دیں گے-

آج اس نے بہت عرصے بعد یہ دعا سنی تھی-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *