Rate this Novel
Episode 9
حنا مجھے تم سے بات کرنی ہے.
حنا کسی کام سے اندر آئی تھی. جب عارفین اُس کے سامنے آتے بولا.
مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی پلیز میرا راستہ چھوڑیں.
حنا اُس کے یوں اچانک سامنے آجانے کی وجہ سے گھبراتے ہوئے بولی.
حنا مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے پلیز میری ایک بار بات سن لو.
حنا وہاں سے جانے لگی تھی جب عارفین نے اُس کا ہاتھ پکڑتے جانے سے روکا تھا.
کیا ہورہا ہے یہاں.
سفیہ بیگم آنکھوں میں ناگواری لیے اُن دونوں کی طرف دیکھتے قریب آتے بولیں.
ٹھیک کہتی ہیں ہاجرہ بھابھی شکل سے جتنی معصوم لگتی ہو اندر سے اُتنی ہی شاطر ہو تم ماں بیٹیاں اور کچھ نہیں ہوسکا میرے بیٹے کے پیچھے پڑگئی ہو.
بغیر کسی قسم کا لحاظ رکھے سفیہ بیگم حنا کی طرف دیکھتے زہر خند لہجے میں بولیں.
امی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں.
عارفین اپنی ماں کی بات پر تڑپ کراُن کی طرف دیکھتا بولا.
عارفین تم جاؤ یہاں سے تم سے تو میں بعد میں بات کرتی ہوں.
وہ عارفین کو وہاں سے جانے کا کہتی تیز لہجے میں بولیں.
لیکن امی…
اگر تھوڑی سی بھی اپنی ماں کی عزت کرتے ہوتو جاؤ یہاں سے..
سفیہ بیگم کی بات پر عارفین بے بسی سے آنسو بہاتی حنا کی طرف دیکھتا وہاں سے نکل گیا تھا.
تم جو سوچ رہی ہونا ویسا میں کبھی نہیں ہونے دوں گی. بےشک کہنے کو تم لوگ میرے بھائی کی بیٹیاں ہو لیکن جب آج تک اُسی نے تم لوگوں کو قبول نہیں کیا تو میں کیوں اپنے سر ڈالوں تمہیں. آئندہ میرے بیٹے سے دور رہنا اگر آئندہ اُس کے آس پاس بھی نظر آئی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا. سمجھی تم.
نخوت سے اُسے سائیڈ پر جھٹکتی وہ باہر کی طرف بڑھ گئی تھیں.
حنا زلت کے احساس سے روتی اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی. اب اُس میں کسی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بھیا بہت پیاری جوڑی ہے آپ دونوں کی. پرفیکٹ کپل جیسے ایک دوسرے کے لیے ہی بنے ہوں.
حفصہ اِشمل کے ہاتھ پر مہندی لگاتے محبت سے بولی.
تھینکیو گڑیا.
آہان حفصہ کی بات پر مسکرا کر بولا.
حنا کہاں ہے نظر نہیں آئی مجھے.
حنا کی غیر موجودگی نوٹ کرتے اُس نے حفصہ سے پوچھا تھا.
وہ کسی کام سے اندر گئی ہے ابھی آتی ہوگی. میں بھیجتی ہوں اُسے آپ کے پاس.
حفصہ آہان کو جواب دیتی حنا کو بلانے دوسری طرف بڑھ گئی تھی. جب آہان کو فرقان چچا کا بڑا بیٹا اسد حوس باختہ سا اپنی طرف آتا دیکھائی دیا تھا.
کیا ہوا اسد سب خیریت ہے.
آہان اُس کی طرف دیکھتا فکرمندی سے بولا تھا. جب اسد نے جھک کر جو بات آہان کو بتائی تھی سٹیج پر موجود سب لوگ آہان کے چہرے پر اُبھرتے پتھریلے تاثرات دیکھ کر ڈر گئے تھے.
اُس بے غیرت کی اتنی جرأت کہ اُس نے میری حویلی میں قدم رکھا.
آہان غصے سے مٹھیاں بھینچتا وہاں سے اُٹھا تھا. اِشمل بھی اُس کے اتنے غضب ناک انداز پر خوفزدہ ہوتی اُس کی طرف متوجہ ہوئی تھی.
آہان کیا ہوا ہے اتنے غصے میں کہاں جارہے ہو.
ہاجرہ بیگم اُسے بازو سے پکڑ کر روکتے بولیں. جب وہ سہولت سے اُن کا ہاتھ ہٹاتے باہر کی طرف بڑھ گیا تھا.
اسد تم بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے.
ہاجرہ بیگم اسد کی پاس آتے بولیں.
ملک حسیب آیا ہے.
اسد اُنہیں مختصر سا جواب دیتا آہان کے پیچھے بھاگا تھا.
یاﷲ خیر یہ منحوس شخص کیوں آگیا یہاں میرے بیٹے کی خوشیوں کو نظر لگانے.
ہاجرہ بیگم پریشانی کے عالم میں پاس پڑے صوفے پر بیٹھتے بولیں.
آہان رُک جاؤ تم کیا کررہے ہو. اِس طرح کرنے سے معاملہ اور بگڑ جائے گا.
حسنین صاحب آہان کو روکتے ہوئے بولے.
بابا آپ جانتے بھی ہیں کیا کہہ رہے آپ. وہ کمینہ میری حویلی میں گھس آیا ہے اور بجائے اُسے دھکے دے کر باہر نکالنے کے آپ اُس کی خاطر مدارت میں لگ گئے ہیں.
وہ سب اُسے روکنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہے تھے. لیکن وہ کسی کے قابو میں نہیں آرہا تھا. حسنین صاحب کا بازو جھٹکتے وہ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گیا تھا.
کس نے بتایا ہے آہان کو اُس کے آنے کا میں نے منع کیا تھا نا اُسے اِس بات کی خبر نہیں ہونی چاہئے.
حسنین صاحب اُن سب پر چلاتے آہان کے پیچھے بڑھے تھے.
واہ جی دلہا صاحب خود آئے ہیں ہمارا استقبال کرنے.
آہان کو اندر داخل ہوتا دیکھ صوفے پر سکون سے بیٹھا ملک حسیب مسکراتے ہوئے بولا.
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری حویلی میں قدم بھی رکھنے کی.
آہان اُس کی بات سنتا آگے بڑھا تھا. اور اُس کے آگے لوازمات سے سجے ٹیبل کو پاؤں سے ایک طرف اُچھالتے آہان نے اُسے گریبان سے پکڑ کر صوفے سے اُٹھاتے اپنے سامنے کیا تھا. ملک حسیب کے آدمیوں نے آگے بڑھنا چاہا تھا لیکن اُنہیں پہلے ہی آہان کے آدمی روک چکے تھے.
میں تو آپسی دشمنی بھلا کر تمہیں شادی کی مبارک باد دینے آیا تھا لیکن میرے گریبان پر ہاتھ ڈال کر تم اچھا نہیں کررہے آہان رضا میر.
ملک حسیب اُس سے اپنا گریبان چھوڑواتا آہانت کے احساس سے بولا تھا.
دفعہ ہو جاؤ یہاں سے اور آئندہ میرے گاؤں کی طرف نظر اُٹھا کر بھی مت دیکھنا ورنہ وہ حال کروں گا کہ ساری زندگی یاد رکھو گے. اور کچھ نصیحت اپنے بھائی سے بھی لے لینا ایک سال پہلے اُس کا خون بھی ایسے ہی جوش مار رہا تھا. اور اب چارپائی سے اُٹھنے کے قابل بھی نہیں رہا. کہیں تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی نہ کچھ ہوجائے.
آہان نے اُس کا گریبان چھوڑتے زور دار طریقے سے دروازے کی طرف دھکا دیا تھا. جب ملک حسیب کو اُس کے آدمی نے سہارا دیتے گرنے سے بچایا تھا.
تم اچھا نہیں کررہے آہان رضا میر. میں سب کچھ بھلا کر تمہارے طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے آیا تھا. لیکن تم نے میری بے عزتی کرکے مجھے میرے ہی فیصلے پر پچھتانے پر مجبور کر دیا ہے. اب تم دیکھو میں تمہارے ساتھ کرتا کیا ہوں. تمہارا یہ غرور یہ اکڑ مٹی میں نہ ملا دی تو میرا نام بھی ملک حسیب نہیں.
شکر کرو اِس بار پچھتانے کا موقع بھی مل رہا ہے اگر اگلی بار میرے گاؤں کا رُخ کیا تو اِس بات کا بھی موقع نہیں ملے گا اور اپنی یہ دھمکیاں کسی اور کو دینا میں اِن سے ڈرنے والا نہیں ہوں.
آہان اُس کی بات پر استہزایہ انداز میں ہنستے ہوئے بولا تھا. جب ملک حسیب غصے سے بکتہ جھکتا وہاں سے نکل گیا تھا.
آہان جب وہ آرام سے بات کرنے آیا تھا تو تم نے یہ سب کیوں کیا. اِس دشمنی کو ایک بار پھر ہوا کیوں دے رہے ہو.
حسنین رضا میر فکرمندی سے آہان کی طرف دیکھتے بولے.
بہت افسوس کی بات ہے ویسے. اور میں آپ لوگوں کی طرح ڈرپوک نہیں ہوں کہ اپنے گاؤں اپنی حویلی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والوں کی یوں مہمانوں کی طرح بیٹھا کر خاطر مدارت کروں گا.
آہان اُن سب پر غصے اور تاسف بھری نگاہ ڈالتا وہاں سے نکل گیا تھا.
حسنین اب کیا ہوگا وہ لوگ دھمکی دے کر گئے ہیں.
ہاجرہ بیگم کو جب سے پوری بات پتا چلی تھی. وہ پریشانی سے سر پکڑ کر بیٹھی تھیں. مہندی کا فنکشن ختم ہوچکا تھا. آہان شدید غصے میں ہونے کی وجہ سے دوبارہ اِشمل کے پاس نہیں جا پاپا تھا.
ویسے دیکھا جائے تو آہان اپنی جگہ بلکل ٹھیک ہے. وہ لوگ ضرور دوبارہ کسی سازش سے ہی آئے ہوں گے. ہمیں اِس طرح اُنہیں اندر بلا کر نہیں بٹھانا چاہئے تھا.
فُرقان صاحب بھی فکرمندی سے بولے تھے.
ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو تم لیکن میرے خیال میں فلحال اِس بات کو یہیں ختم کر دینا چاہئے. گھر میں شادی کا ماحول ہے اتنے مہمان آئے ہوئے ہیں. اِس معاملے کو بعد میں دیکھتے ہیں.
حسنین بات ختم کرتے وہاں سے اُٹھ گئے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اُف کتنا جنگلی ہے یہ شخص کتنے غصے میں کل اُٹھ کر گیا ہے. لگتا ہے اِس کو لڑائی جھگڑا کرنے دوسروں کو دھمکانے کے علاوہ اور کچھ آتا ہی نہیں ہے.
اِشمل اپنے گیلے لمبے بال ڈرائے کرتے رات کے بارے میں سوچتے بڑبڑاتے ہوئے بولی. کل آہان کا جلالی رُوپ دیکھ کر ایک بار تو وہ بھی ڈر گئی تھی.
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی جب دروازہ ناک ہونے پر چونکتی اُس طرف متوجہ ہوئی تھی.
بی بی جی بڑی بیگم صاحبہ کا حکم ہے کہ یہ ڈریس آپ کو آج پہننا ہے.
ملازمہ ڈریس اُس کے پاس رکھتے بولی تھی اور خاموشی سے روم سے نکل گئی تھی. اِشمل نے بے دلی سے سُرخ رنگ کے بھاری ڈریس کی طرف دیکھا تھا.
میم آپ چینج کر لیں ڈریس پھر آپ کو تیار بھی کرنا ہے.
کافی دیر بعد بیوٹیشن اندر داخل ہوتے اِشمل کو ابھی تک ایسے ہی بیٹھا دیکھ کر بولی. جب اِشمل ناچاہتے ہوئے بھی لہنگا اُٹھاتے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی.
آہان مجھے سچ میں تمہاری سمجھ نہیں آتی. اُس طرف صرف عورتیں ہوں گی اب عورتوں کے سامنے دلہن کا اتنا بڑا گھونگھٹ کرنے کی کیا تُک بنتی ہے. اتنے دور دور سے مہمان آئے ہوئے ہیں میر خاندان کی بڑی بہو دیکھنے کے خواہشمند ہیں.
ہاجرہ بیگم آہان کے ساتھ اُسکی باتوں پر اُلجھتی اِشمل کے روم میں داخل ہوئی تھیں. ڈریسنگ روم میں چینج کرتی اِشمل نے بھی اُن کی بات سنی تھی.
تو دوسرا آپشن بھی تو دیا ہے نا آپ کو ریڈ ڈریس کی جگہ کسی اور کلر کا ڈریس پہنا دیں اُسے.
آہان نے اِشمل کی تلاش میں چاروں طرف نظریں دوڑائی تھیں لیکن روم میں بیوٹیشنز اور ایک دو ملازمیں ہی موجود تھیں. اِشمل جو ڈریس چینج کرچکی تھی کمر پر موجود ڈوریوں سے اُلجھ رہی تھی آہان کی بے تکی بات سن کر مزید تپی تھی.
آہان ہمارے خاندان کی روایت ہے یہ دلہن شادی والے دن سُرخ رنگ کا جوڑا ہی پہنتی ہے.
ہاجرہ بیگم بے چارگی سے بولی تھیں. پورے خاندان میں ہر جگہ حکم چلانے والیں وہ اپنے بیٹے کے سامنے ہمیشہ بے بس ہوجاتی تھیں.
ماں جو میں کہہ رہا ہوں وہی ہوگا. اب یہ آپ پر ہی ہے کہ آپ کیسے مینج کرتی ہیں.
آہان اُن کی مسلسل بحث سے تنگ آکر چڑتے بولا. جب ہاجرہ اُس کے دوٹوک انداز پر بس اُسے دیکھ کر رہ گئی تھیں. اور حسنین رضا میر کے بلاوے پر جلدی سے کمرے سے نکل گئی تھیں.
آہان رضا میر میں نے آج تک تم جیسا ضدی اور خودسر انسان نہیں دیکھا. تم سمجھتے کیا ہو خود کو. ہر جگہ تمہاری مرضی ہی کیوں چلنی چاہئے.
اِشمل ڈوریوں کو ہاتھ سے جھٹکتی پاس پڑا دوپٹہ خود پر اچھے سے اوڑھتی باہر نکل آئی تھی. اُس کے لفظوں کو اگنور کرتے آہان نے پسندیدگی کی نظروں سے اِشمل کی طرف دیکھا تھا جو آج دوسری بار اُس کے سامنے سُرخ لباس میں موجود تھی. بمشکل اِشمل سے نظریں ہٹا کر آہان نے ایک نظر وہاں موجود باقی سب پر ڈالی تھی جو اِشمل کو آہان رضا میر پر چلاتے دیکھ حیرت ذدہ سی کھڑی تھیں. کیونکہ آج تک کوئی اُس سے اُونچی آواز میں بات تک کرنے کی ہمت نہیں کر پایا تھا یہاں تک کے اُس کے ماں باپ بھی. اور اُس کی نئی نویلی دلہن اُس سے کیسے بات کررہی تھی. آہان کے اشارے پر اپنی حیرت پر قابو پاتیں وہ لوگ خاموشی سے وہاں سے نکل گئی تھیں.
ہر جگہ کہاں اپنی مرضی چلا پارہا ہوں. ابھی تو تم سے محبت بھی نہیں ہوئی اور خود کو تمہارے معاملے میں اتنا بے بس محسوس کررہا ہوں اگر محبت ہوگئی تو پتا نہیں مجھ بے چارے کا کیا ہوگا.
آہان اُس کی طرف قدم بڑھاتے بولا.
تم جاؤ یہاں سے مجھے تیار ہونا ہے دیر ہو رہی ہے.
اِشمل اُس کے تیور دیکھ کر جلدی سے بولی. اِس وقت شاید وہ اُسے چھیڑ کر غلطی کر بیٹھی تھی.
میرے لیے تیار ہونے کی اتنی جلدی ہے میری دلہن کو اچھا لگا یہ سن کر.
آہان اُس کے قریب پہنچ چکا تھا. جب اِشمل جلدی سے پیچھے ہوئی تھی لیکن پیچھے موجود ڈریسنگ ٹیبل کی وجہ سے وہ دو قدم ہی پیچھے ہو پائی تھی.
کیا ہوا تم ڈر رہی ہو مجھ سے.
آہان اُس کی گھبراہٹ دیکھ کر بولا تھا. جب اُس کی نظر سامنے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف اُٹھی. اِشمل کا ریشمی دوپٹہ پھسل کر اُس کی کمر سے ہٹ چکا تھا. کھلی ڈوریوں کے ساتھ اُس کی دودھیا کمر آہان کے سامنے تھی.
اُس کی نگاہیں کو خود پر محسوس کرتے اِشمل نے دوپٹہ ٹھیک کرنا چاہا تھا.
اب اِس کا کوئی فائدہ نہیں….
آہان نے اُس کو کمر سے پکڑ کر اپنی گرفت میں لیتے قریب کیا تھا.
یہ کیا کر رہے ہو تم چھوڑو مجھے.
اِشمل کا دوپٹہ نیچے گر چکا تھا. وہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اُس کے سامنے تھی. آہان آج پہلی بار اُس کو ایسے دیکھ رہا تھا.
تمہاری ہیلپ کر رہا ہوں سویٹ ہارٹ.
بمشکل خود کو بہکنے سے بچاتے آہان نے اُسے جواب دیا تھا. اور دونوں بازو اُس کے گرد لپیٹتے اُس کی ڈوریوں کو گرفت میں لیا تھا. اِشمل نے اُس کے ہاتھوں کا لمس اپنی کمر پر محسوس کرکے تڑپ کر اُس کے حصار سے نکلنا چاہا تھا لیکن آہان نے اُسے ایسا نہیں کرنے دیا تھا.
آگے جھکے ہونے کی وجہ سے آہان کی ٹھوڑی اِشمل کے کندھے سے ٹچ ہورہی تھی. اِشمل اُس کے حصار میں پھڑپھڑا کر رہ گئی تھی لیکن کوشش کے باوجود بھی اُس سے دور نہیں ہو پائی تھی. آہان کی اِس قدر قربت پر اے سی کی ٹھنڈک میں بھی اِشمل کے پسینے چھوٹ چکے تھے.
آہان نے ڈوریوں کی گِرا لگاتے اِشمل کی کمر کو ہاتھ سے چھوتے اُس کی نرماہٹوں کو محسوس کیا تھا. اور جھک کر اُس کے کندھے پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے. اُس کے پُرشدت لمس پر اِشمل نے سختی سے آہان کا کالر اپنی مُٹھی میں جکڑا تھا. پہلی بار اُس کی قربت پر اِشمل کا دل زور سے دھڑکا تھا.
اُس کی حرکت پر آہان مسکراتا پیچھے ہٹا تھا. اور اِشمل کے لال ٹماٹر جیسے چہرے کی طرف نگاہ کی تھی. جب کے مسکرانے پر اِشمل نے خونخوار نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
اتنے پیار سے مت دیکھو ڈئیر وائف ایسے نا ہو میں بھول جاؤ کہ ہماری ویڈنگ نائٹ ابھی نہیں کچھ گھنٹوں بعد ہے.
آہان اُس کو مزید چڑاتے بولا.
میرے ساتھ ویڈنگ نائٹ منانے کا موقع تو تمہیں کچھ گھنٹوں بعد بھی نہیں ملے گا آہان رضا میر.
اِشمل نے اُس کی طرف دیکھتے دل میں ہی سوچا تھا. جب آہان اُسے گہری نظروں سے دیکھتا بجتے فون کی طرف متوجہ ہوتے وہاں سے نکل گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے.
