59K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

خانی جیسے ہی باہر کی جانب بڑھی. مردان خانے کی طرف جاتے راستے پر کھڑے گارڈز نے فوراً اُس کے آگے آتے راستہ روک دیا تھا.
” بی بی جی اُس طرف ابھی کسی بھی خاتون کو جانے کی اجازت نہیں ہے.”
گارڈز سر جھکائے بہت ہی احترام سے بولے.
اُن کی بات پر خانی کا غصہ مزید بڑھ گیا تھا.
” کیوں نہیں جاسکتی میں. تمہارے اُس گھٹیا سردار کا گھٹیا فیصلہ مجھے منظور نہیں ہے. وہ زرا سی بات پر کیسے کسی بھی جیتے جاگتے انسان کو اتنی بڑی سزا سنا سکتا ہے. “
خانی بے خوفی سی اُونچی آواز میں چلائی تھی. اُس کی آواز مردان خانے تک تو نہ پہنچی مگر اُس کے پیچھے کچھ ملازمین حواس باختہ سی باہر آگئی تھیں.
جبکہ وہاں کھڑے گارڈز کی شکل سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ کتنی مشکل سے اپنے مالک کی توہین برداشت کررہے ہیں.
” بی بی جی خدا کے لیے آپ اندر آجائیں اگر سردار سائیں نے دیکھ لیا آپ کو یہاں تو وہ بہت غصہ کریں گے. “
خانی کی ضد پر وہاں موجود ملازمہ اور گارڈز اب اپنی شامت آجانے کے خیال سے بہت گھبرا چکے تھے. کیونکہ اُنہیں خانی اسجد بلوچ پر زرا سی
سختی کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی.
” جب تک سیاہل موسیٰ خان سے میری بات نہیں ہوگی میں یہاں سے ہلوں گی بھی نہیں. اگر اُس کا فیصلہ اتنا ہی ٹھیک اور انسانیت بھرا ہے. اتنا ہی ہمت والا ہے وہ تو اب چھپ کیوں رہا ہے.”
خانی سینے پر ہاتھ باندھے ہٹ دھرمی سے وہیں کھڑی رہی تھی. وہ ایسی ہی تھی کبھی کسی کی زرا سی بھی حق تلفی ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی. اور آج تو اُس کی آنکھوں کے سامنے ایک جیتے جاگتے انسان کی زندگی کا فیصلہ اتنی بے رحمی سے کیا گیا. جس پر اب اُس کا ردعمل اتنا شدید تھا.
خانی کو اِس لمحے اُس اَن دیکھے بے حس اور بے رحم انسان سے شدید نفرت محسوس ہورہی تھی. جس نے اپنی شان اپنی عزت اُونچی رکھنے کے لیے اپنی سگی بہن تک کو قربان کردیا تھا.
خانی کو وہیں جما دیکھ چند پل مزید گزرے جب ایک اور ملازمہ نے آکر پہلے سے موجود ملازمہ کے کان میں کچھ بتایا تھا. جس پر وہ سر ہلاتی خانی سے مخاطب ہوئی تھی.
” بی بی جی آپ کو سردار سائیں نے بلایا ہے. آپ آئیں میرے ساتھ. “
ملازمہ کی بات پر خانی کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی. مگر کہیں نہ کہیں ایک خوف بھی اُس کے دل میں کنڈلی مارے بیٹھا تھا. جسے وہ محسوس کرکے ڈرپوک نہیں بننا چاہتی تھی.
لیکن اُس نے جو باتیں بھی سیاہل خان کے بارے میں سن رکھی تھیں. اور ابھی تھوڑی دیر پہلے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا. وہ سب کچھ اُس ظالم شخص سے ملنے پر اندر سے روک رہا تھا.
مگر وہ یہاں موجود باقی لوگوں کی طرح اِس ظلم کے آگے گونگی بہری نہیں بن سکتی تھی.
بہت ساری لمبی چوڑی راہداریاں عبور کرتے وہ ملازمہ ایک کمرے کے دروازے کے سامنے آن رکی تھی.
” بی بی جی آپ اندر جائیں. سردار سائیں اندر ہی ہیں. “
ملازمہ کی بات پر خانی کی سانسیں ایک پل کے لیے بے ترتیب ہوئی تھیں. وہ بہت بہادر بن کر شیر کو پچھاڑنے پہنچ تو گئی تھی. مگر اکیلے ہونے کا ڈر اُسے اندر ہی اندر سہما رہا تھا.
” کیا مطلب تم لوگوں کا سردار اندر اکیلا ہے کیا. میں اُس جلاد کے پاس اندر اکیلے نہیں جاؤں گی تم بھی میرے ساتھ چلو گی. “
خانی نے اپنی گھبراہٹ چھپاتے اُس ملازمہ کو ایسے آرڈر دیا کہ جیسے وہ سیاہل خان کی نہیں بلکہ خانی کی ملازمہ کو.
” بی بی جی مجھے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے. آپ بھی جلدی سے اندر جائیں. سردار سائیں کو انتظار کرنا پسند نہیں ہے.”
خانی کو ایسے لگا تھا کہ جیسے ملازمہ اُس کی گھبراہٹ نوٹ کرتی ہلکا سا مسکرائی ہو.
” ایڈیٹ شخص کے ملازم بھی اُس کی طرح ایڈیٹ ہی ہیں.
کیا سمجھتے ہیں یہ لوگ میں ڈرتی ہوں اِن کے اُس جلاد صفت سردار سے. اب میں بتاتی ہوں اِن سب کو کہ خانی اسجد بلوچ کون ہے.”
زیرِ لب بڑبڑاتے خانی دروازہ دھکیلتی اندر کی جانب بڑھ گئی تھیں.
اندر داخل ہوتے ہی خانی کی نظریں اتنے خوبصورت روم پر پڑتے مبہوت سی ہو گئی تھیں. اِس کمرے کی خوبصورتی اور دلکشی کے آگے باقی حویلی کا حُسن ماند تھا.
مگر خانی اِس وقت اِس کمرے کا جائزہ لینے کے موڈ میں بلکل نہیں تھی.
اِس لیے سیاہل خان کی تلاش میں نظریں پورے روم پر دوہرائی تھیں.
مگر جیسے ہی اُس کی نظر ونڈو کی جانب رُخ کرکے کے کھڑے سردار سیاہل موسیٰ خان پر پڑی اُس کا سارا غصہ نفرت ایک بار پھر اُمڈ آئی تھی.
” سردار سیاہل موسیٰ خان کہتے تو تم خود کو یہاں کا سردار ہو. مگر اندر سے اِس قدر بزدل اور کھوکھلے ہو کہ صرف اپنا شملہ اُونچا رکھنے کی خاطر اپنی سگی اکلوتی بہن کو قربان کردیا. کیسی مردانگی ہے یہ جو ہر بار عورت کو سزا دینے کے لیے ہی سامنے آتی ہے.”
خانی کی بات پر مقابل نے مُٹھیاں بھینچتے اپنے غصے پر قابو پایا تھا. جس بدتمیزی سے اِس لڑکی نے اُس سے بات کی تھی. آج تک کسی اور کی جرأت نہیں تھی. اُسے اِس طرح ایک لفظ بھی بولنے کا.
مگر آج اگر وہ لڑکی سردار سیاہل موسیٰ خان کے سامنے کچھ ایسا بول پا بھی رہی تھی تو وجہ بھی یہ تھی کہ سیاہل خان اُسے ایسا کرنے دے رہا تھا.
کچھ دیر خود کو نارمل کرکے اگلے ہی لمحے وہ پلٹا اور چند قدموں کا فاصلہ طے کرتے آگے بڑھ آیا تھا.
لیکن خانی تو سیاہل موسیٰ خان کی ایک جھلک دیکھ کر ہی ساکت ہوچکی تھی.
اُسے کبھی خوبصورتی نے اِس قدر متاثر نہیں کیا تھا. اُس کے مطابق ﷲ نے ہر انسان کو کوئی نہ کوئی حُسن ضرور بخشا ہوتا ہے. جو اُسے باقیوں کی آگے بہتر بناتا ہے.
لیکن اتنا وجیہہ اور حسین مرد اُس نے آج تک کسی فلم اور کہانی میں بھی نہ دیکھا تھا نہ سنا تھا.
دیوتاؤں جیسا حُسن رکھنے والا یہ سامنے کھڑا شخص اُسے واقعی اِس محل کا بادشاہ معلوم ہوا تھا. چہرے پر چٹانوں جیسی سختی اور ضبط سے سُرخ ہوتی خانی پر گڑہی سرد نگاہیں, گھنی مونچھوں کے نیچے سختی سے آپس میں پیوست عنابی ہونٹ, کھڑی مغرور ناک جو شاید کبھی کسی کے آگے جھکنے کا ارادہ نہ رکھتی ہو.
مقابل کی شخصیت میں ایک عجیب سی مقناطیسی کشش تھی جو خانی کو اُس کی جانب کھینچ رہی تھی. خانی نے جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ تھا. کیونکہ اُسے ڈر تھا کہ اگر وہ مزید کچھ دیر اِس سحر میں جکڑی رہی تو کہیں دل میں موجود اِس شخص کے لیے اُمڈ آنے والی نفرت نکل نہ جائے.
اِس لیے اپنے حواسوں پر قابو پاتے خانی اُس کی شخصیت کے طلسم میں کچھ دیر کے لیے ہی رہی تھی. اگلے ہی لمحے ابھی تھوڑی دیر پہلے کیا گیا اِس بظاہر انتہائی خوبصورت مگر دل کے کالے شخص کا فیصلہ یاد آتے ہی خانی کی آنکھوں میں واپس نفرت لوٹ چکی تھی.
” کاش کے تم جیسے باہر سے ہو اندر سے بھی ویسے ہی ہوتے. “
خانی کے اندر سے آواز اُٹھی تھی. جسے وہ فوراً دل میں ہی دبا گئی تھی.
” تو خانی اسجد بلوچ یہاں یہ بتانے آئی ہیں کہ مجھے سردار سیاہل موسیٰ خان کو کیا کرنا چاہیے.”
سیاہل کا لہجہ بلکل سپاٹ اور سرد تھا. اور آنکھیں بلکل بے تاثر. اُس نے ایک بار کے علاوہ خانی کی جانب نظریں اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا.
خانی سے بات کہہ کر سیاہل خان ٹیبل پر پڑے آئس سے بھرے پانی والے گلاس کو اُٹھاتے پاس رکھے صوفے پر جا بیٹھا تھا.
” بتانے نہیں تمہیں وارن کرنے آئی ہوں. اپنا یہ فیصلہ واپس لے لو. ورنہ میں تمہارے خلاف کیس کر دوں گی. تم مرد سمجھتے کیا ہو اپنی انا کی تسکین کے لیے عورت کو بے دردی سے کوئی بھی سزا سنا دو. کیا عورت کو اپنی مرضی سے عزت اور محبت بھری زندگی بھی نہیں گزار سکتی.
یہاں کے باقی لوگ شاید آپ کے اِس ظلم کے عادی ہیں مگر میں یہ سب برداشت نہیں کروں گی. اپنی آنکھوں کے سامنے اتنا ظلم ہوتے نہیں ہونے دوں گی. چاہے میں یہاں کچھ دیر کی مہمان ہوں مگر اِس دوران بھی میں اپنے ضمیر کو مار نہیں سکتی. “
خانی اندر ہی اندر اتنے سخت الفاظ بولنے سے ڈر بھی بہت رہی تھی. کیونکہ اِس وقت وہ اِس شخص کے محل میں کھڑی اِسی کو کوس رہی تھی. جو بلوچستان کے شاہی جرگے کے سرداروں میں سے تھا.
خانی نے بھی جواب اُسی کے انداز میں دیا تھا.
مگر اپنی اتنی ساری باتوں کے جواب میں مقابل کی خاموشی پر اُسے حیرت کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آیا تھا.
کیونکہ اُسے سیاہل خان کے ایکسپریشنز سے لگ رہا تھا کہ جیسے اُس کے سامنے کوئی پاگل انسان کھڑا فضول باتیں کررہا ہے. جس میں اُسے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے.
لیکن خانی کو حیرت کا جھٹکا اُس وقت لگا جب سیاہل خان نے ہاتھ میں پکڑا وہ حد سے زیادہ ٹھنڈے آئس سے بھرے پانی کا گلاس ایک ہی سانس میں منہ میں اُنڈیل دیا تھا.
اُس پانی کو دور سے ہی دیکھتے خانی کو اپنے دانتوں اور گلے میں درد ہوتا محسوس ہوا تھا. اتنا ٹھنڈا پانی ایک سانس میں تو کیا گھنٹوں لگا کر پینا بھی بہت مشکل تھا.
مگر خانی کو اِس شخص کی ایک بھی حرکت انسانوں جیسی نہیں لگی تھی.
خانی سمجھ نہیں پارہی تھی وہ خود کو اتنی اذیت کیوں دے رہا ہے.
” کیا تم ہو ہی ایسی یا میرے سامنے بن رہی ہو.”
سیاہل خان خانی کی جانب اب بھی دیکھنے سے گریزاں تھا. مگر اُس کے لہجے کا سپاٹ اور سرد پن ہنوز تھا.
خانی کو اُس کی ہر حرکت پر حیرت کا جھٹکا ہی لگ رہا تھا. سیاہل خان نے اُس کی اتنی لمبی بکواس کے جواب میں بنا غصہ کیے اتنے نارمل انداز میں جواب کیوں دیا تھا.
” یہ تو تم اچھے سے جانتے ہو گے. جس طرح میری ہر حرکت پر نظر رکھی تم نے میرے مزاج کے بارے میں پتا بھی لگوا لیتے.”
خانی کا لہجہ ایک بار نخوت بھرا ہوا تھا. اُسے لگا رہا تھا یہ شخص اُسے اپنی کوئی حقیر باندی سمجھ رہا ہے. جس کی طرف دیکھنا یا اُس کی باتوں کا جواب دینا سیاہل خان اپنی توہین سمجھتا ہے.
لیکن وہ اِس بات سے ناواقف تھی یا شاید سمجھ نہیں پارہی تھی کہ اگر خانی کی جگہ اُس کا کوئی ملازم یا باندی ایسی باتیں اور حرکتیں کرتی تو اِس وقت اپنے انجام کو پہنچ چکی ہوتی.
جس کے بارے میں سیاہل خان نے اپنے اگلے الفاظ میں بیان کر ہی دیا تھا.
” مزاج سے واقف ہوں. تبھی تو تمہاری اتنی گستاخیوں کے باوجود تم یہاں کھڑی ہو. اور دوسری بات میں اپنے کئے گئے فیصلوں کے بارے میں کسی کو بھی جواب دہ نہیں ہوں. آج جو حرکت کی ہے نیکسٹ ٹائم ایسا بولنے سے پہلے سوچنا ضرور ورنہ انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی.
مجھے نہیں معلوم تھا کہ میران بلوچ کی بہن اور شہرام بلوچ کی کزن اتنی بے وقوف ہے. کہ خود ہی میرے سامنے آنے کی ضد کرنے لگی. تم جانتی ہو میرے کمرے میں اِس طرح اکیلے آنے کا انجام کیا ہوسکتا ہے.”
ایک طرف لگی پینٹنگ پر نظر گاڑھے سیاہل خان کی کہی بات خانی کو بے انتہا خوف میں مبتلا کر گئی تھی.
” تم نہیں جانتی مگر تمہارے وہ بھائی جانتے ہیں. اِسی لیے شہرام بلوچ پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے تمہیں یہاں سے لے جانے کی خاطر میری حویلی کے گیٹ پر موجود ہے. اور میران بلوچ بھی پہلی ہی فلائیٹ سے بلوچستان پہنچ چکا ہے. اور پچھلے پندرہ منٹ سے وہ بھی گیٹ کے باہر کھڑا اپنی لاڈلی بہن کی فکر میں تڑپ رہا ہے. کیونکہ تمہاری سیکیورٹی کے لیے بھیجے گئے وہ لالچی لوگ تو میرے آگے پہلے دن ہی بک گئے تھے. “
سیاہل خان کی بات پر خانی کے چہرے کا رنگ بدلہ تھا. اُسے اب سچ میں اِس شخص سے خوف محسوس ہونے لگا تھا.
اگر اُس کا بھائی پریشانی کے عالم میں باہر کھڑا تھا تو ضرور کوئی بات تھی.
” مجھے جانا ہے یہاں سے.”
خانی اپنے خوف پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتی دروازے کی جانب بڑھی تھی. مگر اُسے لاک دیکھ خانی کو اپنی سانس رُکتی محسوس ہوئی تھی.
” ی یہ کیا بدتمیزی ہے دروازہ کھولواؤ.”
خانی کے لہجے کی لڑکھڑاہٹ پر سیاہل خان نے اب کی بار نظر اُٹھا کر خانی کی جانب دیکھا تھا. جہاں اپنے حوالے سے اُس کے چہرے پر اُمڈ آنے والے خوف پر اُس کے ہونٹوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی. چاہتا بھی تو وہ یہی تھا نا.
” اتنی بھی کیا جلدی ہے سردارنی صاحبہ ابھی تو آپ کو مجھ سے اور بھی بہت باتیں کرنی تھیں. میرے ملازمین سے اتنی دیر آپ مجھ سے ملنے کی ضد ہی کرتی رہی نا.
میں نے تو وہی پوری کی ہے. کیونکہ میری حویلی میں خانی اسجد بلوچ کی خواہش پوری نہ ہو یہ کیسے گوارہ ہے مجھے. “
دروازے کا لاک کھولنے کی ناکام کوشش کرتی خانی کا ہاتھ سیاہل خان کی بات پر ساکت ہوا تھا.
” مجھے اِن فضول ناموں سے پُکارنا بند کرو. نہیں ہے میرا تم سے اور اِس گھر سے کوئی رشتہ. “
خانی طیش کے عالم میں چلائی تھی.
اُسی لمحے سیاہل خان کا موبائل بجا تھا.
” خان سائیں. بی بی سائیں ابھی آپ سے ملنا چاہتی ہیں آپ کے کمرے کے باہر کھڑی ہیں. “
دوسری جانب سیاہل کی کزن کی بیوی شاہدہ تھی جو بی بی سائیں کا پیغام پہنچا رہی تھیں.
” اُنہیں کہہ دو ابھی میں مصروف ہوں. کسی سے ملنا اور بات کرنا نہیں چاہتا. “
سیاہل خان دوٹوک الفاظ میں بات کرتے کال کاٹ گیا تھا.
” جانا چاہتی ہو یہاں سے. آؤ لے لو کیز.”
سیاہل خان نے ہاتھ میں پکڑی کیز اُوپر کرتے. خانی کو اپنی جانب بلایا تھا.
کچھ دیر اُس کے چہرے سے کوئی مفہوم اخز کرنے کی ناکام کوشش کرتے خانی نے ناچاہتے ہوئے بھی قدم آگے بڑھا دیئے تھے.
مگر جیسے ہی سیاہل کے قریب پہنچتے خانی نے ہاتھ بڑھایا اُس نے خانی کا ہاتھ تھام کر ہلکا سا جھٹکا دیتے اپنے قریب صوفے پر گرایا تھا.
اِس اچانک حملے پر خانی کی سانس حلق میں اٹک چکی تھی. اور بے اختیار اُس لمحے کو کوسا تھا جب اُس نے سیاہل خان سے ملنے کی ضد کی تھی.
” کتنی نفرت کرتی ہو مجھ سے. “
سیاہل خان نے اپنی مقابل بیٹھی خانی کے خوف سے ذرد ہوتے چہرے پر نظریں گاڑھتے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے سوال کیا تھا. جو وہاں سے اُٹھنے کی کوشش کرتے سیاہل خان کی سخت گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑوانے میں مصروف تھی.
” بے حد بے انتہا نفرت کرتی ہوں تم سے.”
اُس کے ایک دم آنکھوں میں جھانکنے پر خانی کا دل بے اختیار دھڑکا تھا. اِس لیے وہ نظریں چراتے ابھی کیے جانے والے سیاہل خان کے سلوک پر غصے سے بولی. ورنہ ابھی تک اُس کا اِس شخص سے نہ ہی محبت کا رشتہ تھا اور نہ ہی نفرت کا.
خانی کے جھوٹ پر سیاہل خان کی سیاہ آنکھیں جیسے مسکرائی تھی.
سرد آنکھوں کی چند پل کی مسکراہٹ نے جیسے خانی کو ہپنوٹائز کردیا تھا. اِس شخص کا طلسماتی سحر خانی کو آہستہ آہستہ اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا.
” میں چاہتا ہوں تم جا کر اپنے خاندان والوں سے پوچھو مجھ سے نفرت کرنے کی وجہ تاکہ اگلی بار جب میں تم سے پوچھوں تو تمہیں جھوٹ نہ بولنا پڑے. “
سیاہل کی بات پر خانی نے اُلجھ کر اُس کی جانب دیکھا تھا.
” تمہاری ہر اُلجھن کا جواب تمہارے معزز خاندان کے پاس ہے. اب جاسکتی ہو تم. کیونکہ تمہارے خاندان والے تمہاری فکر میں وہاں تڑپ رہے ہیں کہ کہیں میں سیاہل موسیٰ خان خانی اسجد بلوچ کو کوئی نقصان نہ پہنچا دوں.”
آخری جملے پر زور دیتے سیاہل خان کی آنکھوں میں خانی کو ہلکی سی اذیت کی جھلک نظر آئی تھی.
یا شاید اُسے کچھ غلط فہمی ہوئی تھی. وہ سمجھنے سے قاصر تھی.
خانی کے چہرے پر ایک بھرپور نظر ڈال کر سیاہل خان اُس کا ہاتھ چھوڑتے واپس اجنبی بن چکا تھا. وہی سرد اور سپاٹ انداز.
سیاہل خان مزید وہاں نہ ٹھہرتے لمبے لمبے ڈُگ بھرتا اُسی روم سے ملحقہ ایک اور روم میں داخل ہوگیا تھا.
لیکن خانی پہلے اُس کی بات اور اب اُس کے ہاتھ میں موجود وہی بریسلٹ دیکھ کر مزید اُلجھ چکی تھی. اُس کی کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی
ساری صلاحیتیں جیسے مفلوج ہوچکی تھیں.
ایسا کیا تھا جو سیاہل موسیٰ خان سے شدید نفرت کرنے کا سبب بننا تھا.
تو کیا اُس دن ساحل پر اُس سے ٹکرانے والا شخص سیاہل موسیٰ خان تھا. کیونکہ سیاہل کے ہاتھ میں موجود وہ بریسلٹ اِسی جانب اشارہ کررہا تھا.
آخر ایسی کونسی سچائی تھی. جو سیاہل خان اُسے اپنے خاندان والوں سے پوچھنے کے لیے کہہ رہا تھا. اور جس کی وجہ سے میران بلوچ اور ماہناز بی بی نے اتنے سالوں سے اُسے بلوچستان اپنے خاندان والوں کے قریب بھی نہیں آنے دیا تھا.
خانی اپنی ہی سوچوں میں اُلجھتی سیاہل موسیٰ خان کی شاندار حویلی سے نکل آئی تھی.
عینا کا پوچھنے پر ملازمہ نے اُس کا کب سے وہاں سے چلے جانے کا بتا دیا تھا.
قدم باہر کی جانب بڑھاتے وہ دل میں ٹھان چکی تھی کہ اُسے اب ہر حال میں ساری سچائی جاننی تھی.
سیاہل خان سکرین پر نظریں گاڑھے خانی کو میران بلوچ اور شہرام بلوچ کے قریب جاتا دیکھ رہا تھا. جو بہت ہی فکرمندی اور پریشانی سے تڑپ کر خانی کی جانب بڑھے تھے.
سیاہل خان اُن کے انداز پر قہقہ لگائے بنا نہیں رہ سکا تھا.
” یہ سمجھتے ہیں سردار سیاہل موسیٰ خان خانی اسجد بلوچ کو نقصان پہنچائے گا. “
زیرِ لب اپنے الفاظ دوبارہ دوہراتے اب کی بار سیاہل خان کے لب مسکرائے تھے.
سیکیورٹی کے تحت حویلی کے ہر کونے پر سی سی ٹی وی کیمراز نصب تھے. اِس وقت سیاہل خان کے پاس گیٹ کی بیرونی طرف لگے کیمرا کی فوٹیج اوپن تھی.
جب ایک بار پھر اُس کا موبائل بجنے لگا تھا. سکرین پر جگمگاتا نمبر دیکھ سیاہل خان نے گہری سانس لیتے فون کان سے لگایا تھا.
” سائیں یہ آپ ٹھیک نہیں کررہے. “
سلام دعا کے بعد سپیکر پر مقابل کا شکوہ اُبھرا تھا.
” میں نے تو بہت سارے غلط کام کیے ہیں. مگر آپ کا اشارہ کس جانب ہے میں سمجھ نہیں پایا.”
سیاہل خان سمجھتے ہوئے بھی جیسے انجان بنا تھا.
” سائیں آپ نے آج جان بوجھ کر جرگہ اُسی ٹائم بیٹھایا نا تاکہ خانی اسجد بلوچ بھی سب کچھ سنیں اور دیکھیں. اور آپ سے نفرت کریں. “
سیاہل کی نظریں میران کا ہاتھ تھامے گاڑی میں بیٹھتی خانی پر جمی ہوئی تھیں.
” جب آپ کو سب معلوم ہے تو مجھ سے سوال کرنے کا مطلب. “
سیاہل خان نے سکرین پر نظریں گاڑھے تصدیق کی تھی.
” گستاخی معاف سائیں مگر آپ ٹھیک نہیں کررہے. یہ سب کرکے آپ خود کو تکلیف پہنچا رہے ہیں. اور ہم سب آپ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے. چاہے اُس کے لیے ہمیں اپنی جان بھی قربان کرنی پڑے. سائیں خدا کے لیے مجھے اپنے حکم سے آزاد کردیں.”
مقابل کے لہجے میں سیاہل خان کے لیے بے پناہ عقیدت اور محبت تھی.
” آپ نے غلط کہا. میں خود کو تکلیف نہیں پہنچا رہا بلکہ آگے آنے والی بہت بڑی تکلیف سے بچنے کی کوشش کررہا ہوں.
اور اگر میرے خلاف جاکر آپ کو کچھ بھی کرنا ہے آپ کی مرضی. میں نے نہ پہلے آپ پر کبھی کوئی دباؤ ڈالا ہے نہ اب ڈالوں گا.”
سیاہل خان نے اپنی بات کہتے کال کاٹ دی تھی.

جاری ہے.