Mera Dil Pukaare Tujhe  By Farwa Khalid Readelle50115

Mera Dil Pukaare Tujhe By Farwa Khalid Readelle50115 Last updated: 24 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Dil Pukaare Tujhe

By Farwa Khalid

سلمان صاحب نے آج آفس سے چھٹی کی تھی. اِس لیے آج وہ گھر پر ہی تھے. جب بیل بجنے کی آواز پر وہ اُٹھ کر گیٹ کی طرف بڑھے تھے. اسلام و علیکم انکل کیسے ہیں آپ. سلمان نے حیرت سے ایک نظر سامنے کھڑے خوبرو نوجوان اور کچھ فاصلے پر گاڑی کے پاس کھڑے گارڈ کی طرف دیکھا تھا. وعلیکم اسلام جی آپ کون میں نے پہچانا نہیں. سلمان صاحب اُس کی طرف دیکھتے بولے جو اُن کی بات سن کر وہ مسکرایا تھا. کیا آپ مہمانوں کو ایسے ہی دروازے پر کھڑا رکھتے ہیں. ہم اندر چل کر بھی بات کرسکتے ہیں. آہان اُن کی طرف دیکھتا سوالیہ انداز میں بولا. جب سلمان صاحب اُسے ساتھ آنے کا اشارہ کرکے اندر کی طرف بڑھ گئے تھے. میرا نام آہان رضا میر ہے. جس کا کچھ دن پہلے رشتہ آیا تھا آپ کے گھر. مجھے نہیں لگتا اِس سے زیادہ تعارف کی ضرورت ہے آپ کو کیونکہ جہاں تک مجھے لگتا آپ کی بیٹی میرے بارے میں سب کچھ بتاچکی ہوگی. آہان کی بات ہر سلمان صاحب کے چہرے کے تاثرات سرد ہوئے تھے. اندر داخل ہوتی اسما بیگم نے بھی آہان کی طرف دیکھا تھا. براؤن کلر کی قمیض شلوار میں ملبوس بالوں کو جیل لگا کر ایک سٹائل سے سیٹ کیے مضبوط مردانہ کلائی میں قیمتی گھڑی پہنے وہ ٹانگ پر ٹانگ چھڑہائے صوفے کی بیک سے ٹیک لگائے پرسکون انداز میں بیٹھا تھا. اگر اسما بیگم کو اِشمل اِس کی حرکتوں کا نہ بتاچکی ہوتی تو یہ روشن پیشانی والا نوجوان اُنہیں اِشمل کے لیے ارسلان سے ہزار گنا بہتر لگا تھا. تو تمہارے گھر والوں کو میں اُس رشتے کا جواب بھی دے چکا ہوں پھر کیا لینے آئے ہو تم یہاں. سلمان صاحب سپاٹ سے لہجے میں بولے. وہ تو انکار میں جواب دیا آپ نے. میں اقرار میں جواب لینے آیا ہوں. آہان اُن کی طرف دیکھتا بولا. میری بیٹی کا رشتہ طے ہوچکا ہے اور کچھ دنوں میں اُس کا نکاح ہے. اِس لیے تم اُس کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو. نہ ہی وہ ایسا کچھ چاہتی ہے اور نہ ہی ہم. سلمان صاحب اپنی کیفیت کنٹرول کرتے بولے. نکاح تو اُس کا مجھ سے ہی ہوگا. چاہے آپ لوگوں کی مرضی اِس میں شامل ہو یا نہ ہو. دو دن ہیں آپ لوگوں کے پاس اچھے سے سوچ لیں. اگر آپ کا جواب اقرار میں ہوا تو بہت اچھی بات ہے. ورنہ میں اپنے طریقے سے اقرار کرواؤں گا پھر آپ اعتراض مت کیجئے گا. آہان سنجیدہ لہجے میں اُنہیں اپنی بات سمجھاتے وہاں سے نکل گیا تھا. اب کیا ہوگا سلمان یہ تو صاف دھمکی دے کر گیا ہے. یہ کچھ غلط نہ کریں ہماری بیٹی کے ساتھ. اسما بیگم سلمان صاحب کے پاس آتے پریشانی سے بولیں. کیونکہ وہ باہر موجود آہان کا پروٹوکول دیکھ چکی تھیں. ہاتھوں میں بندوق اُٹھائے کھڑے گارڈز دیکھ کر تو اُنہیں ویسے ہی خوف آرہا تھا. میں بات کرتا ہوں احمد سے. سلمان صاحب فکرمندی سے کہتے وہاں سے اُٹھے تھے.

ماما اب بہت ہوگیا. وہ شخص ہمارے گھر آکر دھمکی دے کرگیا ہے. آپ پاپا سے کہیں پولیس کو انفارم کریں. اِشمل اسما بیگم کی بات سنتے غصے سے بولی. کوئی فائدہ نہیں. تمہارے پاپا کا کہنا ہے پولیس بھی اُنہیں لوگوں کے جیبوں میں ہوتی ہے اپنی ہی عزت خراب کرنے والی بات ہے اُنہیں اِس معاملے میں شامل کرکے. اسما بیگم فکرمندی سے بولیں. تو پھر اب پاپا نے کیا سوچا اِس بارے میں. اِشمل پریشانی سے اُن کی طرف دیکھتے بولی. احمد بھائی سے بات کی ہے تمہارے پاپا نے کل تمہارا نکاح ہے ارسلان سے. اسما اُس کے پاس بیٹھتے بولیں. ماما پر ایسے کیسے اتنی جلدی. اِشمل اُن کی بات پر حیرانی سے بولی.