Rate this Novel
Episode 11
بہت خوبصورت ہو آپ لیکن آپ نے اچھا نہیں کیا مجھ سے میرا حق چھین کر. آہان کی پہلی بیوی بننے کا حق صرف میرا تھا.
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ولیمے کی تقریب کے بعد اِشمل کو کمرے میں لایا گیا تھا جب آہان کی باقی کزنز تو وہاں سے نکل گئی تھیں لیکن آہان کی خالہ زاد بسمہ اُس کے پاس رُکتے کافی کھردرے لہجے میں بولی.
تو کیا تم پہلے سوئی ہوئی تھی. کر لیتی اُس بے ہودہ شخص سے شادی. آج میں تو اِس مصیبت نہ پھنسی ہوتی.
اِشمل نے اُس کی بات پر دل میں سوچا تھا. جب بسمہ نے اپنی اتنی بڑی بات کے جواب میں اُسکی خاموشی پر بےحد حیرانگی سے اُسے دیکھا تھا.
کافی مغرور لگتی ہیں آپ. مغرور ہونا بھی چاہئے آہان رضا میر کی بیوی ہونا کوئی عام بات نہیں. لیکن ایک بات یاد رکھیئے گا. آہان سے میری شادی تو ضرور ہوگی. اور بہت جلد اُن کی زندگی سے میں آپ کو نکال باہر کروں گی.
بسمہ اپنی بات کا جواب نہ ملنے پر اپنی توہین محسوس کرتی اُس کی طرف دیکھتے چیلجنگ انداز میں بولتی دروازے کی طرف بڑھی تھی.
اِشمل کو اُس کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی.
وہ پہلے ہی اتنے بھاری لباس میں مشکل سے کھڑی تھی اُس کو جاتے دیکھ شکر کا کلمہ پڑھتی ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی تھی.
تم یہاں کیا کررہی ہو.
روم میں داخل ہوتے آہان نے بسمہ کو اپنے کمرے میں دیکھ کر اپنے مخصوص سرد لہجے میں پوچھا تھا.
وہ میں اِشمل سے ملنے آئی تھی.
بسمہ اُس کو اچانک وہاں دیکھ کر گڑبڑائی تھی.
بھابھی ہے وہ تمہاری تمیز سے بھابھی کہہ کر پُکاروں تو زیادہ بہتر رہے گا.
اِشمل نے اُن دونوں کی باتیں سنتے پانی کا گلاس منہ سے لگایا تھا. جب آہان کی بھابھی والی بات پر اُس کی ہنسی نکل گئی تھی اور منہ میں پانی ہونے کی وجہ سے اِشمل کو زور سے کھانسی آگئی تھی. آہان اِشمل کے کھانسنے پر جلدی سے اُس کی طرف بڑھا تھا. اور بسمہ خونخوار نظروں سے اِشمل کی طرف دیکھتی وہاں سے نکل گئی تھی.
کیا ہوا تم ٹھیک ہو.
آہان اُس سے پانی کا گلاس پکڑتا اُس کی پیٹھ سہلاتے فکرمندی سے بولا.
اِشمل اثبات میں سر ہلاتے پیچھے ہوئی تھی.
آہان نے بغور اُس کے حسین رُوپ کی طرف دیکھا تھا. لائٹ براؤن میکسی میں بھاری خاندانی زیورات پہنے وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی. آہان کی خود پر گہری نظریں محسوس کرکے وہ وہاں سے ہٹنے ہی لگی تھی جب آہان اُس کے سامنے آتے راستہ روک چکا تھا.
میں اِس بھاری لباس میں بہت تھک چکی ہوں مجھے چینج کرنا ہے.
اِشمل اُسے سامنے سے ہٹنے کا اشارہ کرتی بولی جب آہان مزید قریب آیا تھا.
میں بھی تمہاری ہیلپ ہی کرنا چاہتا ہوں.
آہان نے کہتے ساتھ ہی دوپٹے کی پنز نکالتے اُسے اِس بوجھ سے آزاد کیا تھا.
اِشمل نے پیچھے ہونا چاہا تھا جب آہان نے اُسے کمر سے تھام کر ایسا کرنے سے روکا تھا.
آہان نے آہستہ سے اُس کے کان کو چھوتے اُن کو جھمکوں سے آزاد کیا تھا. اِشمل کے لیے اُس کی قربت کسی آزمائش سے کم نہیں تھی. مصلحت کے تحت وہ بہت مشکل سے وہاں کھڑی تھی. آہان نے ہاتھ اُس کی گردن کے گرد لے جاکر بھاری طلائی ہار کو اُس سے جُدا کیا تھا اور اپنی پاکٹ سے ایک بے حد نازک سی چین نکال کر اُس کے گلے میں پہناتے جھک کر اُس پر ہونٹ رکھ دیے تھے اور ساتھ ہی ایک شوخ سی جسارت کی تھی جس پر اِشمل شرم اور غصے سے سُرخ پڑتی اُس کے حصار سے نکلتی ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بھائی میں اُس شخص کو چھوڑو گا نہیں. اُس نے وہاں سب کے سامنے بے عزت کرکے مجھے اپنے گھر سے نکالا. بہت خوشیاں منا رہا ہے نا یہ میر خاندان. مزہ تو تب آئے گا جب بہت جلد اپنے جوان بیٹے کی لاش دیکھیں گے اپنے دروازے پر .
ملک حسیب بدلے کی آگ میں جلتے بولا.
حسیب جوش سے نہیں ہوش سے کام لو. آہان رضا میر کو اِس طرح ختم کرنا آسان نہیں ہے. اُلٹا ہم اپنا مزید نقصان کروائیں گے. اور ابھی تو اُس سے بہت حساب نکلتے ہیں. اتنا جلدی اُس کو اُوپر پہنچانے میں بھی تو مزہ نہیں آئے گا.
ملک ذیشان اپنے چھوٹے بھائی کا غصہ کم کرتے بولا. ملک حسیب نے ویل چیئر پر بیٹھے اپنے بھائی کی بات پر اُس کی طرف دیکھا تھا.
آپ کیا کہنا چاہتے ہیں بھائی.
ملک حسیب اُس کے پاس بیٹھتے بولا.
آہان رضا میر کو بھی ختم کریں گے لیکن پہلے اُس کو اچھا خاصہ تڑپا کر. اُسے ایسی جگہ پر وار کرو جہاں وہ سہہ نہ پائے اور تڑپ کر رہ جائے. اُسے میں ویسے ہی بے بس اور لاچار دیکھنا چاہتا ہوں جیسا اُس نے مجھے کیا ہے.
ملک ذیشان اُسے مشورہ دیتے شیطانی مسکراہٹ سے بولا.
جب ملک حسیب نے اُس کی بات پر قہقہ لگاتے پرسوچ انداز میں اُس کی بات کی تائید کی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اِشمل صبح سو کر اُٹھی تو اُسے آہان کمرے میں کہیں نظر نہ آیا تھا. وہ لاپرواہی سے سر جھٹکتی واش روم کی طرف بڑھ گئی تھی. تھوڑی دیر بعد جب وہ فریش ہو کر نکلی تو تب بھی اُسے بیڈ روم خالی ہی ملا تھا. جب اُس کی نظر بیڈ پر پڑے آہان کے بجتے فون پہ پڑی تھی. اِشمل آگے بڑھی تھی لیکن یوں بنا اجازت کے موبائل اُٹھانا اُسے غیر اخلاقی حرکت لگی تھی. لیکن پھر یہ سوچ کرکے اِس شخص نے اب تک کونسی اُس کے ساتھ اخلاقی حرکت کی تھی جو وہ اِس بات کا خیال رکھے.
سکرین پر ایک بےحد حسین اور ماڈرن سی لڑکی کی تصویر جگمگا رہی تھی. یہ وہی لڑکی تھی جس کو اُس دن ہاسپٹل میں اِشمل نے آہان کے بے حد قریب دیکھا تھا. وہ منظر یاد آتے ہی اِشمل نے جلدی سے کال ریسیو کرتے فون کان سے لگایا تھا.
آہان میں اتنے دنوں سے تمہیں کال کررہی ہوں. نا تم میری کال اٹینڈ کررہے ہو نہ ہی میسج کا ریپلائے کر رہے ہو. دیٹس ناٹ فیئر.
موبائل سے تانیہ کی ناراض سی آواز اُبھری تھی.
دیکھئے آہان رضا میر کی شادی ہوچکی ہے اور میں اُن کی وائف بات کررہی ہوں. اِس طرح کسی کے شوہر کو کال کرکے ڈسٹرب کرنا اچھی بات نہیں.
اِشمل دل ہی دل میں آہان کا کام خراب کرنے کا سوچ کر مسکرائی تھی.
اب جب اِس کی گرل فرینڈ ناراض ہوکر اُسے چھوڑ دے گی تب مزہ آئے گا.
واٹ…
اِشمل نے تانیہ کی بس اتنی ہی آواز سنی تھی جب پیچھے کھڑے اُس کی بات سنتے آہان نے اُس کے ہاتھ سے موبائل لیا تھا.
اِشمل نے فوراً پلٹ کر آہان کی طرف دیکھا تھا جو اُسے خوشمگی نظروں سے گھور رہا تھا.
ہیلو بےبی کیسی ہو.
آہان جان بوجھ کر تانیہ کو اِس انداز میں مخاطب کرتے بولا.
جب اِشمل اُس کی بات پر غصے سے وہاں سے ہٹنے لگی تھی لیکن آہان نے اُس کی کلائی کو اپنے قبضے میں لیتے قریب کیا تھا.
آہان یہ تمہاری وائف نے کال اٹینڈ کی تھی. مجھے یقین نہی آرہا. لگتا ہے ایک دن میں ہی اپنی بیوی کے دیوانے ہوچکے ہو. جو اُس کو اتنا حق دے دیا کہ اُس نے اِس طرح تمہاری کال اٹینڈ کرلی.. ورنہ آہان رضا میر سے بغیر پوچھے کوئی اُس کی اتنی پرسنل چیز کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کرسکتا.
تانیہ بے حد حیرت سے بولی. کیونکہ اُسے اچھے سے پتا تھا آہان اپنی پرسنل چیزوں کے معاملے میں کتنا جنونی تھا.
ہاہاہا کچھ ایسا ہی ہے. لیکن فلحال مجھے خود اپنی کنڈیشن سمجھ نہیں آرہی.
اِشمل مسلسل اُس سے اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کررہی تھی. لیکن آہان اُسے اتنی آسانی سے چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا. اِشمل نے اُس کے ہنسنے پر آہان کو غصے سے گھورا تھا. اُسے تو لگا تھا. اِس انکشاف پر اُس کی گرل فرینڈ ناراض ہوکر اُس سے لڑائی کرے گی. پر لگتا تھا وہ بھی اِس شخص کی طرح ڈھیٹ تھی.
ہممہ کافی لکی گرل ہے جس نے آہان رضا میر کو اپنا دیوانہ بنا لیا ہے.
تانیہ حسرت بھرے لہجے میں بولی.
آہان نے اِشمل کا بازو اُس کی کمر کے گرد موڑتے اُسے جھٹکے سے اپنے قریب کیا تھا جب اِشمل نے دوسرا ہاتھ اُس کے سینے پر رکھتے درمیان میں فاصلہ قائم کرنے کی کوشش کی تھی.
آہان تم سن رہے ہو میری بات….
تانیہ آہان کی خاموشی پر بولی تھی. لیکن وہ اُس کی سن ہی کب رہا تھا. آہان نے اپنا چہرا اِشمل کے چہرے کے قریب کرتے اُس کی گال کو چھوا تھا.
تانیہ میں کل آرہا ہوں لاہور پھر بات ہوتی ہے. اوکے بائے
آہان نے تانیہ کی مزید کوئی بھی بات سنے بغیر کال کاٹ دی تھی.
آہان رضا میر چھوڑو مجھے. یہ گھٹیا حرکتیں جاکر تم اپنی گرل فرینڈ سے ہی کرنا.
اِشمل غصے سے اُس سے دور ہوتی تپے ہوئے لہجے میں بولی.
لیکن ابھی تو میری گرل فرینڈ کو ہی تم نے یہ کہہ کر دوبارہ فون کرنے سے منع کیا نا کہ ہم ہزبینڈ وائف کو ڈسٹرب نہ کرے.
آہان اتنی جلدی اُسے بخشنے کے موڈ میں بلکل نہیں لگ رہا تھا. اُس کے کیچڑ میں مقید بالوں کو ہاتھ بڑھا کر اُس نے آزاد کیا تھا. جو ایک آبشار کی طرح دونوں کے گرد پھیل گئے تھے.
غلطی ہوگئی مجھ سے معاف کردو.
اِشمل اُس سے دور ہونے کی کوشش کرتے بولی.
اور میری بیوی کو یہ پتا ہونا چاہئے کے میں کبھی کسی کی غلطی معاف نہیں کرتا.
آہان اُس کے بالوں میں چہرا چھپاتے خمار آلود لہجے میں بولا تھا.
جب اُسی وقت دروازے پر نوک ہوا تھا. اِشمل جلدی سے اُسے دور ہوئی تھی. لیکن آہان کی طبیعت پر یہ مداخلت سخت گِراں گزری تھی. آہان کے غصے سے پوچھنے پر ملازمہ باہر سے ہی ناشتہ لگ جانے کا پیغام دیتی وہاں سے ہٹ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
سب بتایا ہے سفیہ نے مجھے. اپنی اِن حرکتوں سے باز آجاؤ ورنہ تمہارے باپ اور بھائی کے سامنے تمہارے سارے کرتوت کھول کر رکھ دوں گی میں.
ہاجرہ بیگم پاس سر جھکا کر کھڑی حنا پر گرجتے بولیں.
جب اِشمل نے ڈرائنگ روم میں قدم رکھا تھا. آہان آج صبح ہی کسی کام سے شہر جاچکا تھا. اِشمل جانتی تھی اپنی اُس گرل فرینڈ سے ہی ملنے گیا ہوگا کل فون پر اُسے یہی تو کہہ رہا تھا. اِشمل کو اِس طرح خاموش ہوکر ایک جگہ بیٹھنے کی عادت بلکل نہیں تھی وہ کمرے میں بیٹھ بیٹھ کر تنگ آچکی تھی. ہاجرہ بیگم بھی اُسے کتنی بار باہر آنے کا کہہ چکی تھیں. اِس لیے وہاں آئی تھی لیکن اندر کا منظر دیکھ کر اُس کے قدم وہی رُک گئے تھے.
لیکن ہاجرہ امی اُس دن عارفین بھائی نے حنا کو بات کرنے کے لیے روکا تھا اِس سب میں حنا کا کوئی قصور نہیں.
سفیہ بیگم نے ہاجرہ بیگم کو اُس واقعہ کے بارے میں بڑھا چڑھا کر بتایا تھا. اور ہاجرہ بیگم نے پہلے کب اُن کو بےعزت کرنے کا موقعہ ہاتھ سے جانے دیا تھا جو اب ایسا کرتیں.
تم چپ کرو لڑکی تم سے بات نہیں کررہی میں. تمہارے بھی کچھ زیادہ پَر نکل آئے ہیں میں کرتی ہوں تمہارا بھی بندوبست.
ہاجرہ بیگم حفصہ کی طرف ناگوار لہجے میں دیکھتے ہوئے بولیں. حفصہ نے ایک افسوس بھری نظر آنسو بہاتی عاصمہ بیگم پر ڈالی تھی جو نہ کبھی اپنے حق کے لیے لڑی تھی نہ آج اُن کی حمایت میں کچھ بول پائی تھیں.
اسلام و علیکم!
کب سے باہر کھڑے یہ سب تماشہ دیکھتے آخر کار اِشمل نے اندر قدم رکھا تھا.
وعلیکم اسلام بہو آؤ بیٹھو.
ہاجرہ بیگم سامنے پڑے صوفے کی طرف اشارہ کرتے اِشمل کو دیکھتے خوش دلی سے بولیں.
اُسے اندر آتا دیکھ حنا جلدی سے اپنے آنسو صاف کرتے رُخ موڑ گئی تھی.
ہاجرہ بیگم نے اِشمل سے اُس کے گھر والوں کا پوچھتے حنا سے اُس کا دھیان ہٹانا چاہا تھا. وہ نہیں چاہتی تھیں. کہ اِشمل کو اِس بارے میں کچھ بھی پتا چلے اور بات آہان تک پہنچے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے.
