59K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

حنا دعا مانگ کر جائے نماز سے اُٹھی تھی. اور کس ٹائم سے بجتے موبائل کو اُٹھایا تھا. انجان نمبر دیکھ ایک پل کے لیے تو اُس کا دل نہیں کیا تھا اُٹھانے پر لیکن پھر کچھ سوچتے اُس نے کال ریسیو کی تھی.
ملک ذیشان بات کررہا ہوں. اور میری بات سنے بغیر فون رکھنے کی غلطی مت کرنا ورنہ تمہارا ہی نقصان ہوگا.
دوسری طرف کی بات سنتے حنا اپنی جگہ پر کانپ کر رہ گئی تھی. ملک ذیشان اب اُس کو کس ارادے سے فون کررہا ہے. اب پھر کون سی نئی سازش ہے اُس کی. حنا نے چہرے پر آیا پسینہ صاف کرتے پریشانی سے سوچا تھا.
تم نے مجھے فون کیوں کیا ہے. مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی.
حنا ڈرتے ڈرتے بولی.
کیوں بھول گئی اتنی جلدی اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا نا. تمہارے اُس بھائی نے میرے ساتھ کیا کیا تھا. تمہیں کیا لگا میں اتنی آسانی سے بھول جاؤ گا تمہیں. میں نے تمہیں صرف یہ بتانے کے لیے فون کیا ہے کہ اگر اپنے بھائی کا عبرت ناک انجام نہیں دیکھنا چاہتی تو جو میں کہوں گا تمہیں وہ کرناہوگا. کیونکہ ہر بار کی طرح قسمت اُس کا ساتھ نہیں دے گی. اچھے سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا اپنے بھائی کی زندگی چاہتی ہو یا اپنی خوشی. اور ہاں اگر تم نے اُسے یا کسی اور کو اِس فون کا بتانے کی کوشش کی تو تمہارا بھائی جان سے جائے گا.
فون بند ہوچکا تھا لیکن حنا اُسی طرح اپنی جگہ ساکت سی کھڑی تھی. آنکھوں سے گر کر آنسو اُس کا چہرہ بھگو چکے تھے. گرنے کے سے انداز میں وہ وہی بیڈ پر بیٹھ گئی تھی.
اُس کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا کرے ایک مصیبت ابھی ختم نہیں ہوتی تھی جو دوسری شروع ہوجاتی تھی. وہ اپنی اِس زندگی سے ہی تنگ آچکی تھی جس میں آزمائشیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں.
نہیں میری وجہ سے بھیا کو کچھ نہیں ہونا چاہئے. لیکن میں اُس شخص کی بات بھی تو نہیں مان سکتی. میں کیا کروں میرے رب میری مدد فرما.
حنا چہرا دونوں ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

اِشمل ٹیرس پہ کھڑی تھی جب اُسے آہان کی گاڑی پورچ میں رُکتے دیکھائی دی تھی. اُس نے جان بوجھ کر اُس روم کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا تھا.
ابھی پانچ منٹ ہی گزرے تھے جب اُسے آہان کی غصے سے چلانے کی آواز آئی تھی. اِشمل کو آج اُس کی اِس طرح غصے بھری آواز سن کر بہت مزا آرہا تھا. کیونکہ ویسے تو آہان نے اُس کی کسی بھی بات پر غصہ نہ کرنے کی قسم کھا رکھی تھی. اُس کے اتنے بُرے رویے کا بھی آہان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا.
اِشمل مسکرا رہی تھی جب آہان اُسے ڈھونڈتا کمرے میں داخل ہوا تھا. ٹیرس پر اُس کو موجود دیکھ وہ اُس کی طرف بڑھا تھا. اُس کا غصے بھرا چہرہ دیکھ اِشمل نے اپنی مسکراہٹ چھپانے کے لیے چہرا نیچے کر لیا تھا. لیکن اُس کی مسکراہٹ آہان نوٹ کرچکا تھا.
اِشمل یہ کیا حرکت تھی.
آہان کڑے تیوروں سے اُسے گھورتے بولا.
کونسی حرکت.
اِشمل انجان بنتے بولی.
تم اچھے سے جانتی ہو میں کس بارے میں بات کررہا ہوں. اِس لیے مجھے سیدھی طرح سے جواب چاہئے.
آہان اُس کے قریب آتے بولا.
مجھے اپنے گھر میں حرام چیز نہیں رکھنی تھی اِس لیے پھینک دی. اور مجھے یہ غصہ دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے میں تم سے ڈرنے والی نہیں ہوں.
اِشمل اُس کی طرف دیکھتے ڈرے بغیر بولے.
آہان کو اُس کا اپنا گھر کہنا بہت اچھا لگا تھا.
غصہ ؟ تو تمہیں لگ رہا ہے میں غصے میں ہوں اِس وقت.
ڈیئر وائف ابھی تک تم نے میرا غصہ دیکھا ہی نہیں ہے. اور میری یہی کوشش ہے کہ کبھی دیکھو بھی نہیں.
آہان اُس کی بات پر مسکراتے بولا.
اُسے مسکراتے دیکھ اِشمل کو اپنی پوری محنت پر پانی پھیڑتا محسوس ہوا تھا.
بہت ہی کوئی ڈھیٹ انسان ہے یہ.
اِشمل اُسے گھورتے دل میں بولی.
لیکن جو تم نےمجھ سے پوچھے بغیر میری اتنی امپورٹنٹ چیز ویسٹ کر دی اُس کی سزا تو ضرور ملے گی تمہیں.
آہان اُس کے قریب ہوتے بولا. اِشمل نے وہاں سے ہٹنا چاہا تھا جب آہان نے ٹیرس کے جنگلے پر اُس کے دونوں طرف ہاتھ رکھتے اُسے اپنی قید میں لیا تھا.
کیا مطلب کیسی سزا.
اِشمل اُس کی طرف دیکھتے ناسمجھی سے بولی.
شراب پی کر مجھے سکون ملتا ہے. اِک نشہ سا طاری ہو جاتا ہے. جو ہر غم بھلا دیتا ہے. تمام تھکن دور کر دیتا ہے. اب جب کہ تم نے اُسے ضائع کردیا ہے. تو اُس کی کمی تمہیں پوری کرنی ہوگی.
آہان اُس کے نرم ہونٹوں پر انگھوٹھا پھیرتے بولا.
کیا نہیں یہ غلط بات ہے. ….
اِشمل اُس کی بات سمجھتے ابھی بولی ہی تھی جب آہان اِشمل کے چہرے کو دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لیے اُس کے ہونٹوں کو قید کرچکا تھا. اِشمل اُس کے پر شدت لمس پر تڑپ کر رہ گئی تھی. اور دونوں ہاتھوں سے اُسے پرے دھکیلنا چاہا تھا جبکہ اُس کی مزاحمت پر اُس سے دور ہونے کے بجائے آہان کے عمل میں مزید شدت آئی تھی. جب کچھ دیر بعد اُس کی حالت پر رحم کھاتے آہان اُس سے دور ہوا تھا. اِشمل نے گہرے گہرے سانس لیتے چہرا اُس کے سینے پر ٹکایا تھا. اُسے لگا تھا وہ ابھی گر جائے گی.
آہان نے اِشمل کے کانپتے وجود کو اپنے حصار میں لیا تھا.
میری معصوم سی ڈاکٹر کیوں مجھ سے مقابلہ کرنے کی کوشش کرتی ہو. نازک جان سی تو ہو تم میرے زرا سے لمس پر یہ حال ہے اگر کسی دن سچ میں تمہاری بنائی گئی اِن نازک سی دیواروں کو توڑ کر تمہارے بہت قریب آگیا تو کیا ہوگا تمہارا. اور جو آج غلطی کی ہے اُسی کی یہ خوبصورت سی سزا تو روز ایسے ہی ملتی رہے گی. تھینکس میرا اتنا خوبصورت نقصان کرنے کے لیے.
آہان اُس کے کان میں سرگوشی کے سے انداز میں بولا تھا. اُس کی بات سنتے اِشمل فوراً اُس کے حصار سے نکلی تھی اور غصے بھری نظروں سے اُسے گھورا تھا. آہان محبت سے اُس کے سُرخ چہرے کو دیکھتے مسکرایا تھا.
ٹیرس کا منظر کچھ ہی دیر میں بدلی چکا تھا. جہاں تھوڑی دیر پہلے اِشمل مسکراتے اور آہان غصے میں کھڑا تھا. وہی اب آہان مسکرا رہا تھا اور اِشمل شدید غصے میں آچکی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

اِشمل نے آہان سے اجازت لے کر دوبارہ سے ہاسپٹل جوائن کرلیا تھا. گھر میں بیٹھ بیٹھ کر وہ بُری طرح تنگ آچکی تھی. جس وجہ سے آہان نے بھی اُس کی بوریت کے خیال سے آرام سے اجازت دے دی تھی. لیکن آہان کے آڈر کے مطابق وہ ڈرائیور کے ساتھ ہی آتی جاتی تھی.
سدرہ بھی اُس کے واپس ہاسپٹل میں آجانے کی وجہ سے بہت خوش ہوئی تھی. اور اُسے آہان کے حوالے سے خوب چھیڑا بھی تھا کیونکہ اِشمل نے اُسے اپنے تعلق کی حقیقت نہیں بتائی تھی. صرف اتنا ہی کہا تھا کہ آہان کا رویہ اُس کے ساتھ بہت اچھا ہے.
اِشمل اِس وقت بھی ایک بچے کے پاس کھڑی اُس سے اُس کی طبیعت کا پوچھ رہی تھی. جب نرس اُس کے پاس آئی تھی.
ڈاکٹر صاحبہ وہ گارڈ نے بتایا ہے باہر کوئی صاحب کھڑے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں ابھی.
نرس کی بات پر اِشمل کو لگا تھا آہان ہی ہوگا شاید. اِس لیے مریض کو کچھ ہدایت دیتی باہر کی طرف آگئی تھی.
گارڈ کے اشارے پر وہ آگے بڑھی تھی لیکن آہان کی جگہ کسی انجان شخص کو گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے دیکھ وہ حیران ہوئی تھی. کیونکہ اِس شخص کو پہلے اُس نے کبھی نہیں دیکھا تھا.
گاڑی کے پاس کھڑا ملک حسیب اِشمل کو وہی رُکتا دیکھ مسکراتے ہوئے آگے بڑھا تھا. اور اُس کے پاس پہنچتے اُسے سلام کیا تھا.
سوری میں نے آپ کو پہچانا نہیں.
اِشمل سلام کا جواب دیتے اُس اجنبی کی طرف دیکھتے بولی.
آپ کیسے پہچان سکتی ہیں مجھے ہم آج پہلی بار مل رہے ہیں. مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے ڈاکٹر اِشمل کیا ہم وہاں بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں.
ملک حسیب بہت ہی مہذب انداز میں سامنے ہاسپٹل کے گارڈن میں پڑی چیئرز کی طرف اشارہ کرتے کہا.
اُس کی بات پر اِشمل نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اثبات میں سر ہلاتے اُس طرف چلنے کا کہتی آگے بڑھی تھی.
جی فرمائیں کیا بات کرنی ہے آپ کو مجھ سے.
اِشمل بیٹھتے ہی فوراً بولی.
ملک حسیب اِشمل کی خوبصورتی سے کافی متاثر ہوا تھا.
آہان رضا میر کافی خوبصورت بیوی ڈھونڈی ہے تم نے. جسے ایک نظر دیکھ کر ہی میری نیت خراب ہو گئی ہے.
ملک حسیب اِشمل کی طرف دیکھتے دل ہی دل میں مکاری سے مُسکرایا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

آہان آج میٹنگ سے جلدی فارغ ہوگیا تھا. ہما اور احد کا اُسے دوبار فون آچکا تھا. کہ اِشمل کو لے کر گھر آئے. اِس لیے آج وہاں جانے کا سوچتے وہ آفس سے جلدی نکل آیا تھا.
ہاسپٹل میں پہنچ اُس نے گارڈ کو اِشمل کو بلانے کا کہا تھا. جس پر گارڈ نے اُسے سامنے کی طرف اشارہ کرتے اِشمل کا بتایا تھا. آہان گارڈ کے بتانے کے مطابق اُس طرف بڑھا تھا لیکن سامنے کا منظر دیکھ اُس کا خون کھول اُٹھا تھا. غصے سے مُٹھیوں کو بھینچتے وہ آگے بڑھا تھا.

جاری ہے.