59K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

آہان کو بیس منٹ ہوچکے تھے وہاں بیٹھے لیکن اِشمل ابھی تک اُس کے سامنے نہیں آئی تھی. سلمان صاحب بھی ڈرائنگ روم میں موجود تھے. آہان نے اپنے پچھلے رویے پر اُن دنوں سے شرمندگی کا اظہار کرتے معزرت کی تھی. جب اُسے شرمندہ دیکھ دونوں نے اُسے کھلے دل سے معاف کردیا تھا. سلمان صاحب کو وہ پہلی ملاقات سے کافی بدلہ اور سُلجھا ہوا لگا تھا. اور اپنی بیٹی کو اُس کے ساتھ خوش دیکھ اور اُس کا نصیب جان کر اُنہوں نے اُسے کھلے دل سے قبول کرلیا تھا.
اِشمل فوراً سے چلو باہر آہان کس ٹائم سے آیا ہوا ہے اور تم ابھی تک کمرے میں گھس کر بیٹھی ہو.
اسما بیگم اِشمل کے کمرے میں داخل ہوتے بولیں.
آپ ہی کی وجہ سے لیٹ ہورہی ہوں میں. یہ سب پہننے کی کیا ضرورت ہے ماما.
اِشمل چوڑیاں کلائیوں میں ڈالتے اُکتائے ہوئے لہجے میں بولی.
ماما ایک ہاتھ میں بہت ہیں نا اِن کو رہنے دوں.
اِشمل اُن کی طرف دیکھتی بےچارگی سے بولی. جب اسما بیگم نےاُس کی اُتری شکل دیکھ مسکرا کر اثبات میں سر ہلاتے اُسے باہر آنے کا کہہ کر کمرے سے نکل گئی تھیں.
اسلام و علیکم!
اِشمل نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے آہان کی طرف دیکھ کر سلام کیا تھا. آہان جو سلمان صاحب سے بات کررہا تھا اُس کی آواز پر سلام کا جواب دیتے اُس کی طرف دیکھا تھا.
لیکن اُس پر سے اپنی نظریں ہٹانا بھول چکا تھا جو مہرون کلر کے جدید طرز کے شارٹ فراک اور ٹراؤزر میں ہلکے پھلکے میک اپ اور جیولری پہنے اُس کا دل دھڑکا گئی تھی. اِشمل اُس کے اِس طرح بے خُود ہوکر دیکھنے پر خجل سی ہوتی اسما بیگم کے ساتھ صوفے پر جابیٹھی تھی.
آہان بھائی آپکو پتا ہے آپی پچھلے دو گھنٹوں سے آپ کے لیے تیار ہورہی ہیں.
ہما اِشمل کی طرف دیکھتے شرارتی انداز میں بولی. جس پر اِشمل نے اُسے ٹھیک ٹھاک گھوری سے نوازہ تھا جو آہان کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکی تھی. پھر ایسے ہی احد اور ہما اُسے آہان کے سامنے اُس کے حوالے سے چھیڑتے تنگ کرتے رہے تھے. جس پر اِشمل کو چڑتے دیکھ آہان نے بہت انجوائے کیا تھا.
آہان کو اِشمل کے گھروالوں سے مل کر بہت اچھا لگا تھا. بہت ہی خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا تھا. آہان نے آج اِشمل کا ایک نیا رُوپ ہی دیکھا تھا. محبت بھرا انداز جس طرح وہ سلمان صاحب اور باقی سب گھروالوں سے کیئر اور محبت سے پیش آرہی تھی آہان کے دل نے بھی یہ خواہش کی تھی کہ کاش وہ بھی اُس کی زندگی میں ایسے ہی امپورٹنٹ ہو اور وہ اُس سے بھی ایسے ہی بے انتہا محبت کرے لیکن فلحال اپنی بیوی کے مزاج دیکھ کر تو اُسے کوئی ایسی اُمید نظر نہیں آرہی تھی.
آہان چائے لے لیں.
کھانے کے بعد سب لوگ ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے. جب اِشمل چائے سرو کرتی آہان کی طرف بڑھی تھی. آہان نے سلمان صاحب سے بات کرتے جان بوجھ کر اِشمل کی طرف متوجہ نہیں ہوا تھا. جس کی وجہ سے اِشمل کو مجبوراً اُسے مخاطب کرنا پڑا تھا.
اُس کے اندازِ تخاطب پر آہان نے حیرانی سے اُس کی طرف دیکھا تھا. اُس کہ نظروں کا مطلب سمجھتے اِشمل نے چائے کا کپ اُس کی طرف بڑھایا تھا. کیونکہ باقی سب بھی اُنہیں کی طرف متوجہ تھے.
اوکے انکل آنٹی اب کافی دیر ہوچکی ہے. ہمیں اب نکلنا ہوگا. چلیں اِشمل.
اُن دونوں سے بات کرتے آہان اِشمل سے مخاطب ہوا تھا. اُس کی بات سن کر اِشمل انکار کرنے ہی والی تھی. لیکن اسما بیگم کے اشارے پر مجبوراً خاموشی سے اثبات میں سر ہلاگئی تھی.
اُن سب کے وہاں رات رُکنے کے بھرپور اسرار پر بھی آہان سہولت سے انکار کرتے اِشمل کے ساتھ وہاں سے نکل آیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

آہان اُسے اپنے شہر والے گھر میں لے آیا تھا. جو اُس نے لندن سے واپس آنے کے بعد لاہور میں رہنے کے لیے بنوایا تھا. وہ حویلی سے زیادہ یہاں رہتا تھا. جس کی شان و شوکت حویلی جیسی تو نہیں تھی لیکن اُس سے کم بھی نہیں تھی.
آہان اِشمل کو اپنے پیچھے بیڈ روم میں آنے کا کہہ کر اُوپر کی طرف بڑھ گیا تھا. وہ فریش ہوکر واش روم سے نکلا تو اِشمل اُسے بیڈ روم میں دیکھائی نہیں دی تھی. اِشمل کو دیکھنے وہ نیچے آیا تھا لیکن لاؤنج خالی دیکھ اُس نے فکرمندی سے ملازمہ کو بلا کر اِشمل کا پوچھا تھا جب ملازمہ کا جواب سُنتے آہان کی پیشانی پر سُلوٹیں اُبھری تھیں. ملازمہ کو بھیج کر وہ گیسٹ روم کی طرف بڑھا تھا. اندر داخل ہوتے اُس کی نظر اِشمل پر پڑی تھی. وہ جو بنا دوپٹے کے پر سکون سی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھے چوڑیاں اُتارنے میں مصرورف تھی آہٹ کی آواز پر اُس نے سر اُٹھا کر اُوپر دیکھا تھا. سامنے کھڑے آہان کو دیکھ کر اِشمل نے جلدی سے دوپٹے کی تلاش میں نظریں دوڑائی تھیں. جو بیڈ کے دوسری سائیڈ ہر گرے ہونے کی وجہ سے دیکھ نہیں پائی تھی.
تم یہاں کیا کررہی ہو. میں نے تمہیں بیڈ روم میں آنے کے لیے کہا تھا نا.
آہان اُس کے حسین سراپے کو گہری نظروں سے دیکھتے بولا.
مجھے آپ کے ساتھ اُس روم میں نہیں رہنا. میں یہی رہوں گی.
اِشمل اُس کی نظروں سے گھبرا کر رُخ موڑتے بولی.
اچھا اور اِس بات کی اجازت کس نے دی تمہیں.
آہان اُس کے قریب آتے بولا.
مجھے ہر بات میں کسی کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے.
اِشمل اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کی کوشش کرتے بولی.
جب آہان نے اُس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے بےحد قریب کیا تھا.
مطلب تم نہیں آؤ گی میرے ساتھ بیڈ روم میں.
آہان اُس کی کلائیوں میں موجود چوڑیوں کو چھوتے ہوئے بولا.
نہیں.
اِشمل اُس کی حرکت پر صرف اتنا ہی بول پائی تھی.
یہ کیا کر رہے ہیں آپ.
آہان مزید کچھ بھی بولے بغیر اُسے بانہوں میں بھرتے باہر کی طرف بڑھا تھا. جب اِشمل چلاتے ہوئے بولی.
وہی جو مجھے کرنا چاہئے.
وہ اِشمل کا شرم سے سُرخ پڑتے چہرے کی طرف دیکھتے بولا.
اِس بار میں انتہائی شرافت سے تمہیں یہاں لایا ہوں. اگر نیکسٹ ٹائم ایسی کوئی فضول حرکت کی تو انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی.
آہان اُس کو اچھے سے باور کرواتے بولا. جب اِشمل اُس کے اتنے قریب ہونے کی وجہ سے اپنی پوزیشن کاخیال کرتے کچھ بول بھی نہ سکی تھی کیونکہ واقعی اِس وقت وہ اُسے چھیڑ کر اپنے لیے ہی مشکل پیدا نہیں کرنا چاہتی تھی. آہان کے نیچے اُتارنے پر اِشمل جلدی سے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی تھی.
اِشمل کافی دیر بعد چینج کرکے نکلی تھی تاکہ آہان سو چکا ہو مگر اُسے بیڈ پر لیٹے موبائل پر مصروف جاگتے دیکھ وہ خاموشی سے ٹیرس کی طرف بڑھ گئی تھی.
ٹیرس پر آکر سامنے کا منظر دیکھ اِشمل کا خراب موڈ کافی حد تک بحال ہوچکا تھا. اُس سائیڈ پر سامنے ہی ٹیرس بنایا گیا تھا. وہاں کی گئی مدھم سی لائٹنگ کا پانی میں پڑنے کی وجہ سے پانی کی لہریں ہر طرف ایک دلکش سما باندھ رہی تھیں.
اِشمل کو یہ جگہ بہت پسند آئی تھی. کافی دیر وہاں کھڑے رہنے کے بعد وہ کمرے میں آئی. تو آہان کو سوتا دیکھ آرام سے اِشمل بستر کی دوسری طرف آکر بیٹھ گئی تھی.
پتا نہیں ہر ایک کو یہ شخص اتنا اچھا کیوں لگتا ہے. کسی کو کیوں نظر نہیں آتا یہ ایک نمبر کا انا پرست , خودسر اور بدتمیز انسان ہے جسے صرف اپنی اور اپنی خواہشات کی پرواہ ہے دوسرے لوگ جائیں بھاڑ میں.
اِشمل کی نظریں آہان کے مغرور نقوش پر تھیں. جو واقعی کسی کو بھی اپنا دیوانہ کرنے کی صلا حیت رکھتے تھے.
اِشمل آہان کی طرف دیکھتے اپنی ہی سوچوں میں گم تھی. جب آہان کی آواز پر چونک کر سیدھی ہوئی تھی.
ڈئیر وائف اگر تم نے اچھے طریقے سےمجھے گھور لیا ہو تو لائٹ آف کرکے سو جاؤ کافی رات ہوچکی ہے آج کے لیے میری اتنی بُرائیاں کافی ہیں.
اِشمل سمجھ رہی تھی کہ وہ سو چکا ہے لیکن بند آنکھوں سے بھی وہ اُس کی نظریں خود پر اچھے سے محسوس کر رہاتھا جب اُس کی بات پر اِشمل خفت ذدہ سی لائٹ آف کرتی بیڈ پر ایک طرف بلکل کونے پر ہوتے لیٹ گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

اُن کو وہاں آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا. آہان روز اُس کے اُٹھنے سے پہلے آفس کے لیے نکل جاتا تھا اور رات کو بہت لیٹ لوٹتا تھا. کہ اِشمل سو چکی ہوتی. اِشمل اِس روٹین سے تنگ آچکی تھی. وہ سوچ کر یہی آئی تھی کہ آہان رضا میر سے بلکل کوئی بات نہیں کرے گی لیکن یہ رویہ تو اُسی نے اپنا رکھا تھا جس سے اِشمل اتنی جلدی تنگ آچکی تھی. گھر کے ہر کام کے لیے ملازم موجود تھے اِس لیے وہ پورا دن فارغ ہوتی تھی جس سے وہ زیادہ کوفت کا شکار ہورہی تھی. وہ پورے گھر کا اچھا سے جائزہ لے چکی تھی لیکن صرف بیڈروم کے ساتھ بنا روم جو لاک تھا وہاں نہیں گئی تھی.
ساڑھے نو بجے کا ٹائم تھا جب آہان روم میں داخل ہوا تھا. اِشمل نے آج جلدی آنے پر اُسے حیرانی سے دیکھا تھا. آہان کافی تھکے ہونے کی وجہ سے اُس کے پاس صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھا تھا. اِشمل نے غور سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
کیا ہوا.
اُسے اپنی طرف دیکھتا پاکر آہان نے سوالیہ انداز میں پوچھا.
تم نے شراب پی ہوئی ہے.
اِشمل نے مشکوک انداز میں اُس کی طرف دیکھا تھا. جب آہان نے اُس کے انداز پر اپنی اچانک اُمڈ آنے والی ہنسی کو روکا تھا. اور شرارت کے موڈ میں آتے اثبات میں سر ایسے ہلایا تھا جیسے واقعی وہ نشے میں ہو.
اِشمل اپنا شک درست ہوجانے پر گھبرا کر اُس کے پاس سے اُٹھی تھی. جب پاس سے گزرتے آہان نے اُس کی کلائی پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا. اِشمل اِس اچانک حملے کے لیے بلکل تیار نہیں تھی سیدھی آہان کی گود میں جاگری تھی.
یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے.
آہان نے اُس کے گرد بازوؤں کا حصار باندھتے اُسے مکمل طور پر قید کیا تھا جب اِشمل اُس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرتے چلائی.
ہمیشہ مجھ سے دور ہونے کی کوشش میں کیوں رہتی ہو. اتنی زیادہ نفرت کرتی ہو مجھ سے.
آہان اُس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے بہکتے ہوئے بولا.
دیکھو تم ہوش میں نہیں ہو پلیز دور رہوں مجھ سے.
اِشمل کو اب اُس کے انداز سے خوف محسوس ہوا تھا.
ہوش میں ہوتے ہوئے کب پاس آنے دیتی ہو.
آہان نے اُس کے دائیں گال پر لب رکھے تھے. اُس کے لمس پر اِشمل نے کسمسا کر دور ہونا چاہا تھا لیکن آہان ابھی اُسے آزاد کرنے کے موڈ میں نہیں تھا. اُسے اِشمل کا یہ گھبرایا رُوپ دیکھ کر مزا آنے لگا تھا. جو اُس کو سچ میں نشے میں سمجھ کر بہت گھبراہٹ کا شکار ہوچکی تھی.
اور جیسے میری مان کر پیچھے ہٹ جاتے ہو نا تم.
اِشمل مسلسل اُس سے دور ہونے کے چکروں میں تھی. اُس کی بات سنتے آہان جھک کر اُس کے بائیں گال پر لب رکھ چکا تھا.
ایسا تو مت کہو. تمہاری ہی تو مانی ہے میں نے ورنہ اِن دوریوں کو کب کا مٹاچکا ہوتا میں.
آہان ایک جھٹکے سے اُسے صوفے پر گراتے اُس کو مکمل اپنے قبضے میں کیا تھا. اور اِشمل کی گردن سے دوپٹہ نکالتے اُس پر جھکا تھا. اِشمل نے اُس کے انداز پر خوفزدہ ہوتے زور سے آنکھیں میچی تھیں. جب وہ ہوش میں ہوتا تھا تو وہ لڑ جھگڑ کر کسی طرح بھی اُسے سے دور ہوجاتی تھی لیکن آج اُسے نشے میں ہونے کا سمجھ کر وہ اُسے سے بہت زیادہ گھبرا رہی تھی. جو واقعی آج اُس کی کوئی بات نہیں سن رہا تھا.
اُس کے ہونٹوں کا لمس اپنی گردن اور کندھے پر محسوس کرتے اِشمل کپکپا کر رہ گئی تھی کیونکہ اِس بار اُس کا لمس بہت شدت بھرا تھا. جسے مزید برداشت کرنا اُس کے بس سے باہر تھا.
اِشمل کو اپنے حصار میں کپکپاتے دیکھ آہان نے بغور اپنی ہر وقت لڑنے جھگڑنے کے لیے تیار شیرنی کو دیکھا تھا. جو اِس وقت بلکل بھیگی بلی بنی ہوئی تھی. اُس کی حالت دیکھ آہان سے اپنا قہقہ روکنا مشکل ہوگیا تھا.
آہان کے ہنسنے کی آواز سنتے اِشمل نے پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں. جو اُس پر جھکا آنکھوں میں بھرپور شرارت لیے مسکرا رہا تھا.
یار مجھے نہیں پتا تھا میرے شراب میں ہونے کا سن کر تم ایسے آرام سے میری بانہوں میں آجاؤ گی.
اِشمل نے اُس کی شرارت سمجھتے شدید غصے میں آتے اُسے گھورا تھا. اور اُس کے حصار سے نکلنا چاہا تھا. لیکن آہان نے اُسے ایسا نہیں کرنے دیا تھا.
ایسے مت دیکھو ورنہ کہیں نشے میں نہ ہوتے ہوئے بھی میں بہک جاؤں.
آہان اُس کی قربت کے زِیر اثر خمار آلود لہجے میں بولا.
تم بہت بڑے ڈرامہ باز انسان ہو.
اِشمل اُس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اپنے اُوپر سے ہٹاتے غصے سے بولی. کیونکہ اِس شخص نے ابھی کچھ دیر پہلے اُس کی جان نکال کر رکھ دی تھی. دھڑکنیں ابھی تک جگہ پر نہیں آرہی تھیں.
میری جان تمہارے ساتھ رہتے مجھے روز اپنی ایک نئی خوبی پتا چلتی ہے جو آج تک کبھی کسی نے نہیں بتائیں مجھے.
آہان اُس کو آزاد کرتا پیچھے ہٹا تھا. جس پر اُس کا زرا دل نہیں تھا لیکن جب سے اُس پر اِشمل کے لیے اپنے دل میں موجود محبت واضح ہوئی تھی وہ اُس سے مزید زبردستی کرکے اپنا حق وصول نہیں کرنا چاہتا تھا. بنا کسی زور زبردستی کے وہ اِشمل کو اُسی محبت سے اپنی طرف بڑھتے دیکھنا چاہتا تھا. جتنی محبت وہ اُس سے کرنے لگا تھا.
اِشمل اُس کی شوخ شرارتی نظروں کو اپنے وجود پر محسوس کرتی جلدی سے باہر نکل گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

آہان آفس جاچکا تھا. اِشمل بھی ناشتہ کرتے باہر گارڈن میں آگئی تھی. اُسے ٹیرس کے بعد گھر کا یہ حصہ بہت پسند آیا تھا. جہاں مختلف قسم کے پھول پودوں سے گارڈن کو سجایا گیا تھا.
اِشمل کافی دیر وہاں بیٹھی رہی تھی جب اچانک اُس کا دھیان بیڈ روم کے ساتھ موجود روم کی طرف گیا تھا.
کچھ سوچتے اِشمل نے ملازمہ کو بلوا کر اُس روم کا لاک کھولنے کا بولا تھا.
بیگم صاحبہ آہان سر نے ہمیں سختی سے منع کیا ہے اُس روم میں جانے سے.
اُس کی بات سنتے ملازمہ آہستہ سے بولی.
آپ اُس روم کی کیز مجھے دیں میں خود نبٹ لوں گی آپ کے سر سے.
اِشمل کی بات اُس نے خاموشی سے سر ہلاتے کیز اُسے لا کر دے دی تھیں.
اِشمل نے اُس روم کا دروازہ کھولتے اندر قدم رکھا تھا. جب سامنے ہی موجود شیشے کی الماری میں سجی شراب کی بوتلیں دیکھ اُس کا دماغ گھوم گیا تھا.
تو اِس وجہ سے اِس روم کو لاک کرکے رکھا ہوا ہے. بہت شوق ہےنا دوسروں پر اپنی مرضی مصلت کرنے کا اب میں بتاتی ہوں تمہیں آہان رضا میر کتنا بُرا لگتا ہے.
اِشمل نے اردگرد نظریں دوڑائیں جب نظر دروازے کے پاس رکھی باسکٹ پر پڑی تھی. باسکٹ کو اُٹھا کر الماری کے پاس رکھتے اِشمل نے شراب کی ساری بوتلیں اُس میں ڈالی تھیں. اور ملازمہ کو بلاکر اُسے باہر پھینکنے کا کہا تھا. ملازمہ آہان کے غصے کی وجہ سے ایسا کرنے سے انکاری تھی لیکن پھر اِشمل کا حکم بھی نہیں ٹال سکتی تھی کیونکہ اِس بات کی بھی آہان نے ہی سختی سے ہدایت دی تھی. ناچار تین ملازمیں باسکٹ اُٹھا کر باہر کی طرف بڑھ گئی تھیں. اِشمل نے اپنی نگرانی میں وہ تمام بوتلیں ضائع کروائی تھیں. اور آہان کا غصے بھرا ری ایکشن کا سوچ کر مسکرائی تھی کیونکہ جس طرح کل آہان نے اُسے بے وقوف بنایا تھا اُس بات کا بدلہ بھی تو لینا تھا نا.

جاری ہے