Rate this Novel
Episode 13
اگر میں کمزور مرد ہوتا تو تم اِس طرح میرے سامنے کھڑے ہوکر یوں چلا نہ رہی ہوتی. اگر میں چاہوں تو ابھی اور اِسی وقت تمہاری بولتی بند کروا دوں. تم ایک لفظ کہنے کے قابل نہیں رہو گی میرے سامنے. لیکن میں ایسا کچھ نہیں کروں گا کیونکہ میں آہان رضا میر ہوں جسے خود پر اور اپنے نفس پر پورا کنٹرول ہے.
تم نے میرے کردار پر اُنگلی اُٹھائی ہے. تمہارے نزدیک میں ایک بدکردار انسان ہوں نا. تو ٹھیک ہے جو تمہیں سوچنا میرے بارے میں سوچوں کیونکہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کون میرے بارے میں کیا سوچتا ہے. نہ ہی آج تک میں نے کسی کے سامنے اپنی کوئی صفائی پیش کی ہے اور نہ ہی اب تمہارے آگے کروں گا.
آہان غصے سے اِشمل کی طرف دیکھتے بولا.
اور ہاں ایک اور بات..
آہان اِشمل کے بے انتہا قریب آتے بولا. شدید غصے میں ہونے کی وجہ سے اُس کے اتنے قریب آنے پر بھی اِشمل پیچھے نہ ہٹی تھی. دونوں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک دوسرے کی طرف رہے تھے. ایک کی آنکھوں میں غصہ اور بے پناہ نفرت تھی جبکہ دوسرے کی آنکھوں میں غصے کے پیچھے چھپی بے پناہ چاہت تھی. جس کو آج اُس نے خود پہلی دفعہ جانا تھا
میری ایک بات کان کھول کر اچھے سے سُن لو آج تو طلاق کا نام لیا ہے لیکن آئندہ اگر میں نے تمہارے منہ سے یہ بات سنی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا. تم سے نکاح کرتے وقت بھی میرا یہی ارادہ تھا اور اب بھی میں تمہیں کسی صورت نہیں چھوڑنے والا. چاہے میری زندگی میں کوئی اور لڑکی ہو یا نہ ہو. تم ہمیشہ میری زندگی میں ہی رہوگی. تم پر صرف اور صرف میرا حق ہے.
جو بات وہ آج اُسے بے حد محبت اور چاہت سے کہنے والا تھا. وہی بات بے انتہا غصے میں کہتے وہاں سے نکل گیا تھا. اِشمل اُس کی اِن باتوں کا اپنے مطابق معنی اخذ کرتی غصے سے پیچ و تاب کھا کر رہ گئی تھی. وہ اتنا تو جانتی تھی کہ وہ غصے کا کتنا تیز ہے اِس لیے اُسے غصہ دلا کر وہ اپنے حق میں فیصلہ کروانا چاہتی تھی لیکن یہاں تو سب کچھ اُلٹ ہوگیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کافی دیر ہوچکی تھی اُنہیں سفر کرتے ہوئے. جب اِشمل نے تھک کر سر سیٹ کی پُشت سے ٹکا دیا تھا. آہان لب بھینچے خاموشی سے ڈرائیونگ کررہا تھا. اُس نے ایک بار بھی اِشمل کی طرف نہیں دیکھا تھا. ہمیشہ سے گاؤں آتے جاتے ڈرائیور ہی گاڑی چلاتا تھا لیکن اِس بار آہان خود ڈرائیو کررہا تھا.
دو دن سے اُن لوگوں کی آپس میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی. اِشمل تو پہلے بھی اُس سے کوئی بات نہیں کرتی تھی لیکن دو دنوں سے آہان نے بھی اُسے مخاطب نہیں کیا تھا. جس کی اِشمل کو زرا برابر بھی پرواہ نہیں تھی.
آج صبح آہان نے اُسے شہر جانے کے لیے تیاری کرنے کا کہا تھا. جس پر اِشمل نے بغیر کوئی جواب دیے خاموشی سے عمل کیا تھا. شہر داخل ہوتے ہی آہان نے گاڑی اِشمل کے گھر کے راستے پر ڈالی تھی. جس پر اِشمل نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا تھا. اُسے آہان سے اتنی مہربانی کی اُمید بلکل نہیں تھی.
آہان نے گاڑی گھر کے سامنے روکی تھی. اِشمل گاڑی رُکتے ہی بغیر اُس کی طرف دیکھے جلدی سے اُتر گئی تھی. اور اُسی خاموشی سے گھر کے گیٹ کی طرف بڑھ گئی تھی. اُس نے ایک بار بھی پلٹ کر آہان کی طرف دیکھنے یا اُسے اندر آنے کا کہنے کی زحمت نہیں کی تھی. آہان اچھے سے اِشمل کے نزدیک اپنی اہمیت جانتا تھا لیکن پھر بھی دل کو کہیں نہ کہیں اُمید تھی کہ شاید وہ ایک بار خود سے مخاطب کرے لیکن پھر اپنے دلِ ناداں کی اِس خواہش پر ہنستے آہان نے گاڑی آگے بڑھا دی تھی.
آپی… ماما دیکھیں آپی آئی ہیں.
ہما اِشمل کو اندر داخل ہوتے دیکھ خوشی سے چلاتے اُس کی طرف بڑھی تھی.
کیسی ہے میری بہنا.
اِشمل اُسے گلے لگاتے پیار سے بولی.
ماما بابا آفس گئے ہیں.
اِشمل سب سے مل کر ڈرائنگ روم میں بیٹھتے بولی.
نہیں وہ آفس نہیں گئے. اُن کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ اپنے کمرے میں آرام کررہے ہیں.
ماما کیا ہوا بابا کو آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا.
اسما بیگم کی بات پر اِشمل پریشانی سے اُن کی طرف دیکھتے اپنی جگہ سے اُٹھی تھی.
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی دوائی لے کر سوئے ہیں.
سلمان صاحب کے روم میں داخل ہوتے اسما بیگم دھیرے سے بولی تھیں. اِشمل کچھ دیر اُن کے پاس بیٹھے فکرمندی سے اُن کی طرف دیکھتی رہی تھی. وہ اُسے پہلے سے کافی کمزور لگے تھے. تھوڑی دیر بعد اسما بیگم کے کہنے پر وہ اُٹھ کر اُن کے ساتھ باہر آگی تھی.
ماما بابا کی اتنی طبیعت خراب تھی اور آپ لوگوں نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا.
اِشمل اسما بیگم کی طرف دیکھتے شکوہ کناں لہجے میں بولی.
مجھے مناسب نہیں لگا اِس طرح تمہیں کال کرکے بلوانا.
پہلے تم مجھے یہ بتاؤ آہان اور اُس کے گھروالوں کا رویہ تمہارے ساتھ کیسا تھا.
اسما بیگم اُس کا ہاتھ تھامتے فکرمندی سے بولیں. جب اِشمل نے اُنہیں وہاں گزرے تمام حالات کے بارے میں بتایا تھا. سوائے آہان سے ہوئی اپنی آخری لڑائی کے.
اُس کی بات سن کر اسما بیگم کی پریشانی کافی حد تک کم ہوچکی تھی. اُنہیں آہان پہلی نظر میں ہی اتنا بُرا نہیں لگا تھا.
بیٹا جو ہوا ویسا نہیں ہونا چاہئے تھا. لیکن قسمت کا لکھا کوئی نہیں ٹال سکتا. وہ جیسا بھی ہے اب تمہارا شوہر ہے اور میرے مطابق اُس کا یہ سب کرنے کا طریقہ غلط تھا لیکن وہ انسان بُرا نہیں ہے. تم اِن پچھلی تمام باتوں کو بھول کر اُسے دل سے قبول کرلو. اب یہی تمہارے حق میں بہتر ہے.
اسما بیگم اُسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولیں. جب اُن کی بات پر اِشمل نے حیرانی سے اُنہیں دیکھا تھا. اُسے اسما بیگم سے اِس بات کی اُمید بلکل نہیں تھی.
ماما آپ جانتی بھی ہیں آپ کیا کہہ رہی ہیں. آپ مجھے اُس انسان کو قبول کرنے کو کہہ رہی ہیں جس نے ہر جگہ ہمارا تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے. بابا کی اِس حالت کا ذمہ دار بھی وہی شخص ہے. میں شدید نفرت کرتی ہوں اُس سے. مزید اُس کے ساتھ نہیں رہ سکتی.
اِشمل ناراضگی سے اُن کی طرف دیکھتے بولی.
اِشمل تم اِس وقت صرف جذباتی ہوکر سوچ رہی ہو. لیکن میں اتنا غلط فیصلہ تمہیں بلکل نہیں لینے دوں گی. اگر اُس کی وجہ سے ہمارا تماشہ بنا تھا تو اب دوبار پہلے سے زیادہ عزت بھی اُسی کی وجہ سے مل رہی ہے. وہی سب خاندان والے جنہوں نے اِس طرح نکاح کا سن کر ہم سے بائیکاٹ کر لیا تھا یہ پتا چلتے ہی کہ تمہارا نکاح حسنین رضا میر کے بیٹے آہان رضا میر سے ہوا ہے کتنی دفعہ ہمارے گھر کے چکر لگا چکے ہیں. اتنے بڑے خاندان کے ساتھ نام جڑ جانے کی وجہ سے اب پہلے سے بھی زیادہ عزت سے پیش آرہے ہیں. تم ایسے لوگوں کی وجہ سے یہ رشتہ ختم کرنا چاہ رہی ہو. اور تمہارے بابا کی طبیعت کا زمہ دار اگر تم اُسے ٹھہرا رہی ہو تو سوچو وہ یہ سب تو پھر بھی برداشت کر گئے ہیں. تمہارا اتنا بڑا فیصلہ سہہ پائیں گے.
اسما بیگم کے حقیقت بیان کرنے پر اِشمل نے دکھ سے اُن کی طرف دیکھا تھا.
ماما آپ چاہتی ہیں میں اپنی پوری زندگی کمپرومائز کرتے اُس شخص کے ساتھ گزار دوں جس سے میں دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کرتی ہوں. ماما ہمیشہ عورت کے لیے ہی یہ سب مجبوریاں اور کمپرومائز کیوں ہوتا ہے. حالات کے آگے ہمیشہ عورت ہی بے بس کیوں ہوتی ہے.
اِشمل آنکھوں میں آئے آنسو بے دردی سے جھٹکتے بولی.
اِشمل میری جان تم کچھ زیادہ سوچ رہی ہو. بیٹا میں تمہاری ماں ہوں کبھی تمہیں کوئی ایسا مشورہ نہیں دوں گی جس سے تم دکھی ہو. یا تمہاری آنے والی زندگی میں مشکلات آئیں. لوگوں کو تم سے زیادہ اچھے سے سمجھتی ہوں. اگر آہان بُرا ہوتا اور غلط ارادے سے تمہاری طرف بڑھتا تو یوں اپنے بڑوں کو بھیج کر ہمارے گھر رشتہ نہ بھجواتا. میں مانتی ہوں ضد میں آکر اُس نے جس طرح نکاح کیا وہ بہت غلط ہے لیکن پھر اُس نے سب کے سامنے تمہیں اپنا کر عزت دے کر اپنی غلطی کا کسی حد تک ازالہ بھی تو کیا ہے نا. تمہیں اُسے ایک موقع ضرور دینا چاہئے.
اسما بیگم کی بات پر اِشمل نے بس خاموشی سے اُن کی طرف دیکھا تھا. اُس نے ہمیشہ اُن کی ہر بات سنی اور مانی تھی اور زندگی کے ہر موڑ پر کامیاب بھی رہی تھی. لیکن اِس بار اُس کا دل اُن کی بات ماننے کو ہرگِز تیار نہیں تھا.
آپی آپ پریشان مت ہوں. میرے خیال میں آپ کو امی کی بات ماننی چاہئے.
اُسے خاموش دیکھ اسما بیگم وہاں سے اُٹھ گئی تھیں. جب ہما اُس کے پاس آتے بولی.
کیوں تمہیں بھی وہ شخص بُرا نہیں لگتا ہوگا.
اِشمل نے اُس کی بات پر گھور کر اُسے دیکھا تھا.
آپی وہ واقعی میں ویسے…
ہما پلیز مجھے مزید اُس شخص کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنی.
اِشمل اُس کی بات سنے بغیر جلدی سے بولی کیونکہ اِس وقت اُسے وہ شخص زہر سے بھی زیادہ بُرا لگ رہا تھا.
آپی پلیز میری بات تو سُن لیں. آپ کو کچھ بتانا ہے.
ہما نے پھر بولنا چاہا تھا جب اِشمل اُسکی بات سنے بغیر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
پاپا آپ اِس طرح بلکل اچھے نہیں لگ رہے بس جلدی سے ٹھیک ہو جائیں.
اِشمل سلمان صاحب کے پاس بیٹھی اُن کی طرف دیکھتے فکرمندی سے بولی.
اب میری بیٹی آگئی ہے نا میرے پاس اب میں جلد ہی ٹھیک ہو جاؤں گا.
سلمان صاحب اُس کا خوشی سے جگمگاتا چہرہ دیکھ آسودگی سے بولے.
اِشمل کو آج پانچواں دن تھا وہاں آئے. سلمان صاحب کی طبیعت کے خیال سے اُس نے اُن کے سامنے یہی ظاہر کیا تھا کہ وہ آہان کے ساتھ خوش ہے اور اِس رشتے کو دل سے قبول کر چکی ہے. اُس کے لیے سلمان صاحب کی صیحت سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا. اُس نے یہی سوچا ہوا تھا کہ اب وہ اُس شخص کے پاس واپس کبھی نہیں جائے گی لیکن اسما بیگم سے بات کرنے کے بعد اور سلمان صاحب کو دیکھ کر وہ اب اپنا فیصلہ بدل چکی تھی. وہ اتنی خود غرض نہیں بننا چاہتی تھی کہ اپنی خوشیوں کی خاطر اپنوں کو مزید کوئی تکلیف پہنچائے پہلے ہی اُس کی وجہ سے وہ لوگ بہت پریشانی اُٹھا چکے تھے.
لیکن آہان رضا میر کو اُس نے ابھی بھی معاف نہیں کیا تھا. اُس کے لیے دل میں موجود نفرت ابھی قائم و دائم تھی.
پاپا یہی آپ کی بیٹی ہیں نا ہم تو جیسے آپ کے کچھ نہیں لگتے.
سلمان صاحب کی بات پر ہما مصنوعی ناراضگی سے بولی. جب اُس کی بات ہر وہ دونوں مسکرا ئے تھے.
آپی آپ کو ماما بلارہی ہیں نیچے.
احد کمرے میں آتا اِشمل سے بولا. جب وہ اُس کی بات پر سر ہلاتی اُٹھ گئی تھی.
جی ماما آپ نے بلایا.
اِشمل کچن میں اُن کے پاس آتے بولی.
اِشمل آہان کو کال کرو ابھی اور رات کے کھانے ہر بلاؤ.
اسما بیگم کی بات پر اِشمل نے ناراضگی سے اُن کی طرف دیکھا تھا.
ماما اب ڈنر پر بلانے کی کیا ضرورت ہے. اتنی بھی عزت دینے کی ضرورت نہیں ہے اُس شخص کو.
اِشمل ناگواری سے بولی.
اِشمل وہ شوہر ہے تمہارا اور اِس گھر کا داماد. جتنا جلدی تم اِس رشتے کو قبول کرو اُتنا اچھا ہے. اور تمہارے پاپا بھی اُس کے بارے میں پوچھ رہے تھے.
اسما بیگم اُسے تنبیہی انداز میں کہتے فون اُس کی طرف بڑھایا تھا. جسے ناچار اِشمل کو پکڑنا پڑا تھا.
ﷲ جی پلیز وہ کال ہی اٹینڈ نہ کرے اور نہ ہی یہاں آئے.میں کم از کم ایک مہینے تک تو اُس کی شکل بلکل نہیں دیکھنا چاہتی.
اِشمل نے فون کان سے لگاتے دعا کی تھی. پہلی بیل پر کال اٹینڈ نہیں کی گئی تھی. اِشمل اپنی دعا قبول ہونے پر خوش ہوتی جب اسما بیگم نے اُسے دوبارہ کال کرنے کو کہا تھا. دوسری بار پر کال اٹینڈ کرتے آہان کی گھمبیر آواز سپیکر پر اُبھری تھی.
آہان میٹنگ میں بزی ہونے کی وجہ سے پہلے کال اٹینڈ نہیں کر پایا تھا. لیکن پھر اِشمل کے گھر کا نمبر پہچانتے اُس نے فوراً کال اٹینڈ کی تھی.
ماما تمہیں آج رات کے ڈنر پر بلا رہی ہیں.
بغیر کسی سلام دعا کے اُس کی آواز سنتے اِشمل فوراً بولی. جب اُس کی بات پر اسما بیگم نے غصے سے اُسے دیکھا تھا.
اِشمل کی آواز سنتے اُس نے گہرا سانس ہوا میں خارج کیا تھا. وہ سمجھ گیا تھا اُس سے زبردستی بلوایا جارہا ہے.
اسلام و علیکم! بیٹا کیسے ہو.
اسما بیگم اِشمل سے موبائل لیتے آہان سے بات کرتے بولیں.
بیٹا آپ اُس دن بھی اِشمل کو چھوڑ کر باہر سے لوٹ گئے. اور اُس کے بعد آئے بھی نہیں. لیکن آج آپ کو ڈنر ہمارے ساتھ کرنا ہوگا.
سلام دعا کے بعد اسما بیگم اُس سے بولیں. اِشمل وہی کھڑی اُن کے تاثرات سے سمجھنا چاہ رہی تھی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے.
اوکے بیٹا. پھر ہم آپ کا انتظار کریں گے.
اُس سے بات کرکے فون بند کرتی وہ اِشمل کی طرف مُڑی تھیں.
اِشمل آہان آج شام کو آرہا ہے. تمہارے بابا بھی ہوں گے آہان سے اچھے سے عزت سے پیش آنا اور شوہر کو تم کہہ کر نہیں آپ کہہ کر مخاطب کرنا چاہئے.
اسما بیگم کی بات سنتی اِشمل جل کر رہ گئی تھی.
ماما آپ لوگوں کا اتنا بڑا دل ہوسکتا ہے لیکن میرا نہیں ہے. اُس نے جو میرے ساتھ کیا ہے میں اُس کے لیے اُسے کبھی معاف نہیں کروں گی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
سر مے آئی کم اِن.
آہان اپنی ہی سوچوں میں گم بیٹھا تھا. جب مینیجر کی آواز پر چونک کر دروازے کی طرف دیکھا تھا. اور سر کے اشارے سے اُسے اندر آنے کی اجازت دی تھی.
سر اِس فائل پر سائن کر دیں.
وہ آہان کے سامنے فائل رکھتے بولا.
سر آج شام سات بجے آپ کی میٹنگ ہے فاروقی صاحب کے ساتھ.
فائل بند کرتے اُس نے آہان کو مخاطب کیا تھا.
کینسل کر دو مجھے ضروری کام سے کہیں جانا ہے.
آہان کی بات پر سر ہلاتے وہ وہاں سے نکل گیا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ میٹنگ بہت امپورٹنٹ تھی وہ آہان سے کوئی سوال کرنے کی جرأت نہیں کرپایا تھا. کیونکہ اُن کے باس کے پہلے ہی مزاج نہیں ملتے تھے اور اِن کچھ دنوں سے تو وہ ویسے ہی اُنہیں اُکھڑا اُکھڑا سا لگا تھا.
آہان کو اب اپنے آپ ہر ہی غصہ آرہا تھا. پورے پانچ دن ہوچکے تھے اِشمل کو دیکھے. جیسے جیسے دن گزر رہے تھے اُس کی بے چینی بڑھ رہی تھی. اُس نے بہت کوشش کی تھی کہ اُس کے بغیر رہ کر دل کو سنبھالے کے اِشمل اُس کے لیے اتنی امپورٹنٹ نہیں ہے. لیکن اُس کا دل مکمل طور پر اُس سنگدل لڑکی کا ہوچکا تھا. جو اُس سے بےحد نفرت کرتی تھی.
آہان نے غصے میں اِشمل سے یہ تو کہہ دیا تھا کہ اُسے کوئی پرواہ نہیں وہ اُس کے بارے میں کیا سوچتی ہے. لیکن دل کو شاید صرف اُسی کی پرواہ تھی. آج تک آہان نے کبھی اِس بات پر توجہ نہیں دی تھی کہ کون اُس کے حوالے سے کیا رائے رکھتا ہے. لیکن اُس دن اِشمل سے اپنے لیے وہ الفاظ سن کر اُسے بہت بُرا لگا تھا. وہ اُسے بتانا چاہتا تھا وہ اتنا غلط نہیں ہے جتنا وہ اُسے سمجھتی ہے لیکن شدید غصے اور انا میں کچھ نہیں کہہ پایا تھا.
گھر کے ماحول کی وجہ سے اُس نے ہمیشہ سے گھر سے دور رہنے کو ترجیح دی تھی. اتنے سارے اپنوں کے ہوتے اُس نے خود کو ہمیشہ تنہا ہی رکھا تھا. اپنے ماں باپ کے دوسروں سے رواں رکھے جانے والے رویے نے اُسے اُن سے بدظن کر دیا تھا.
ہاسٹل میں رہتے اُس کی دوستی حماد سے ہوئی تھی. جس کے والدین کی ڈیتھ ہوچکی تھی اور وہ اپنی نانی کے ساتھ رہتا تھا. حماد کی صحبت میں رہتے وہ غلط کاموں کی طرف راغب ہوچکا تھا. حماد اور اُس کے گروپ کے لیے سیگریٹ نوشی, شراب پینا اور لڑکیوں سے دوستی کرنا عام بات تھی آہستہ آہستہ وہ بھی یہ سب کام اپنا چکا تھا. لیکن ہمیشہ غیر لڑکیوں سے اُس کا تعلق ایک حد تک ہی رہا تھا اُس نے خود کو کبھی بھی اُس حد سے آگے تجاوز نہیں کرنے دیا تھا. بہت سی لڑکیوں نے اُس کی پرسنیلٹی اور سٹیٹس سے متاثر ہوکر اُس سے تعلق بنانا چاہا تھا لیکن وہ ہمیشہ اِس کام سے دور رہا تھا.
ہاسپٹل میں اِشمل کو دیکھتے پہلی بار اُسے کسی لڑکی نے اتنا اٹریکٹ کیا تھا. اُسے اِشمل کا اگنور کرنا بہت بُرا لگا تھا جس وجہ سے وہ اُسے جان بوجھ کر چڑانے لگا تھا اِشمل کی بدتمیزی اور اپنے لیے کہے گئے سخت الفاظ بھی حیرت انگیز طور پر اُسے بُرے نہیں لگتے تھے. اِسی دوران اُس کے دل نے پہلی بار کسی لڑکی کو پانے کی خواہش کی تھی. وہ اِشمل کو کسی بھی قیمت پر حاصل کرنا چاہتا تھا. وہ اُسے پوری عزت کے ساتھ اپنانا چاہتا تھا.لیکن اِشمل اور اُس کے گھروالوں کے رویے کی وجہ سے ضد میں آکر اُس نے غلط قدم اُٹھایا تھا. جس کے لیے اُسے اب بھی کوئی پچھتاوا نہیں تھا.
اِشمل کی اتنی شدید نفرت دیکھ اُسے نہیں لگا تھا کہ وہ کبھی بھی اُس کی محبت حاصل کرپائے گا. لیکن اُس کی کال اور جس طرح اسما بیگم نے اُس سے بات کی تھی آہان کے اندر ایک اُمید پیدا ہوچکی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے.
