Rate this Novel
Episode 1
ا
اِشمل سلمان آپ کا نکاح ارسلان احمد کے ساتھ باعیوض تین لاکھ حق مہر کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے.؟
مولوی صاحب کی آواز اُس کے کانوں میں گونجی تھی.
اِتنی بھی کیا جلدی ہے آپ کو مولوی صاحب کے دلہے کے آنے کا انتظار بھی نہیں کیا آپ نے.
اِس سے پہلے کے وہ اقرار میں جواب دیتی جب کمرے میں اُبھرتی ایک اور آواز سن کر وہ اپنی جگہ ساکت ہوئی تھی. جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا تھا وہ اُس تک پہنچ چکا تھا.
اِشمل نے جھٹکے سے چہرہ اُوپر اُٹھایا تھا جس کی وجہ سے گھوگنھٹ کی شکل میں لیا دوپٹہ شانوں پر ڈھلک گیا تھا. آہان رضا میر چہرے پر سرد تاثرات سجائے اُسے غصے سے گھور رہا تھا. اسلحہ سے لیس گارڈز اُس کے پیچھے موجود تھے.
مولوی صاحب آپ نکاح شروع کریں میری بیٹی کا نکاح ارسلان سے ہی ہوگا.
سلمان صاحب اُسے وہاں دیکھ کر دل میں موجود ڈر کے باوجود اپنے لہجے کو مضبوط بناتے بولے.
جب سلمان صاحب کی بات کو نظر انداز کرتے وہ شہانہ چال چلتا آگے بڑھ کر اِشمل کے ساتھ بیٹھی سدرہ کو ہٹنے کا اشارہ کرتا اُس کے ساتھ جا بیٹھا تھا.
تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی اور یہ…
اِشمل اُس کی حرکت پر طیش میں آتی ابھی بولی ہی تھی جب آہان کے اشارہ کرنے پر اُس کے آدمیوں نے اِشمل کے پاپا اور بھائی کے سر پر بندوق رکھی تھی. اِشمل نے آنکھیں پھاڑے آہان کی طرف دیکھا تھا. جو وارن کرتی نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا.
اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں. اِس کا ثبوت بھی تمہیں مل جائے گا اپنے باپ اور بھائی کھو کر اگر تم نے میرے ساتھ نکاح سے انکار کیا تو. بولو تیار ہو میرے ساتھ نکاح کے لیے.
اُس کی بات سنتے اِشمل نے روتی آنکھوں سے سلمان صاحب اور احد کی طرف دیکھا تھا اور بے بسی سے سر اثبات میں ہلایا تھا. اِس کے علاوہ اُس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا.
اِشمل تم ایسا کچھ نہیں کرو گی. کرنے دو اِسے جو یہ کرنا چاہتا ہے.
سلمان صاحب غصے سے آہان کی طرف دیکھتے چلاتے ہوئے بولے.
دیکھیے سر آپ لوگوں نے پہلے ہی فرار ہوکر جو اتنی بڑی غلطی کی ہے اُس کی سزا ابھی باقی ہے مزید کچھ ایسا نہ کریں جس پر آپ لوگوں کو پچھتانہ پڑے. معاف تو میں کسی کو کرتا نہیں ہوں کیونکہ یہ لفظ میری ڈکشنری میں ہے ہی نہیں.
آہان نے سخت لہجے میں اُنہیں باور کروایا تھا
بیٹا پلیز خدا کے لیے ایسا مت کرو میری بیٹی تم سے نکاح نہیں کرنا چاہتی. کیوں کر رہے ہو زبردستی. چھوڑ دو اِنہیں.
اسما بیگم روتے ہوئے اُس کے سامنے ہاتھ جوڑتی بولی تھیں. وہاں موجود باقی لوگ بلکل خاموشی سے اپنی جگہ ڈرے بیٹھے تھے. کوئی بھی اِن کے معاملے میں گھس کر اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا.
دیکھیں والدہ صاحبہ آپ میرے لیے بہت قابلے عزت ہیں ایسا مت کریں. اور اِس سب کا فائدہ بھی نہیں ہے. جب میں اپنی مرضی کرنے پر آؤں تو میری سگی ماں بھی مجھے نہیں روکتیں کونکہ وہ جانتی ہیں میں اپنا کہا پورا کرکے رہوں گا تو پلیز یہ سب کرکے مجھے شرمندہ کرنے کی ناکام کوشش مت کریں.
وہ ڈھٹائی سے بولتا اُنہیں خاموش کروا گیا تھا. اور اِشمل کا دوپٹہ پکڑ کر واپس گھوگھنٹ کی طرح اُس کے چہرے پر ڈال دیا تھا.
جب اُس کے اشارے پر مولوی صاحب نے نکاح پڑھوانا شروع کیا تھا اور وہ کچھ ہی دیر میں ناچاہتے ہوئے بھی اِشمل سلمان سے اِشمل آہان رضا میر بن چکی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صبح بخیر ایوری ون.
اِشمل ڈائنگ ٹیبل پر آتے بولی تھی.
اِشمل آرام سے بیٹھ کر کھانا کھاؤ یہ کیا طریقہ ہے ناشتہ کرنے کا.
اسما بیگم اُسے یوں ہی کھڑے کھڑے جوس کا گلاس منہ سے لگاتے دیکھ ٹوکتے ہوئے بولیں.
ماما پلیز ٹائم نہیں ہے میں لیٹ ہو رہی ہوں.
اِشمل جلدی جلدی بریڈ کھاتے بولی.
پاپا دیکھے اپنی لاڈلی بیٹی کی حرکتوں کو آپ صرف ہمیں ہی ڈانٹتے رہتے ہیں.
پندرہ سالہ احد منہ بناتے اِشمل کی چغلی کرتے بولا.
چپ کرکے بیٹھو چھوٹے. پاپا مجھے اِس لیے نہیں ڈانٹتے کے میں اپنی ڈیوٹی پر پہنچنے کے لیے جلدی کررہی ہوں تم دونوں کی طرح آہستہ آہستہ ناشتہ کرکے سکول سے لیٹ ہونے کی کوشش نہیں کر رہی.
اِشمل اُسے لتاڑتے ہوئے بولی. سلمان صاحب اُن کی باتوں پر مسکراتے خاموشی سے ناشتہ کر رہے تھے.
آپی لیکن آپ اِس بات سے انکار بھی نہیں کرسکتی کے آپ بابا کی کچھ زیادہ ہی فیورٹ ہیں.
ہما بھی منہ چڑاتے بولی کیونکہ وہ دونوں اِس بات سے بہت جیلس ہوتے تھے کے ہمیشہ سے اِشمل سلمان صاحب کی لاڈلی رہی تھی.
ہاں تو تم لوگ بھی بنو نا فیورٹ میں نے کب مناہ کیا ہے. پر اُس سے پہلے اپنی شرارتے کم کرنی پڑیں گی تم لوگوں کو جو کے تم دونوں کے لیے کافی مشکل کام ہے. اوکے میں جارہی ہوں اِن دونوں نے باتوں میں لگا کر مجھے مزید لیٹ کروا دیا ہے.
اِشمل سلمان صاحب اور اسما بیگم کا گال چوم کر اُن سے دعائیں لیتی اور اُن دونوں کو گھورتی جلدی سے وہاں سے نکل گئی تھی.
سلمان صاحب اور اسما بیگم کی تین اولادیں تھی. سب سے بڑی اِشمل سلمان جو ایم بی بی ایس کرنے کے بعد اب ایک پرائیوٹ ہاسپٹل میں جاب کر رہی تھی. جس کا شمار شہر کے بڑے ہاسپٹلز میں ہوتا تھا. اُس سے چھوٹی ہما سلمان تھی جو انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد اب یونیورسٹی میں جانے کا ارادہ رکھتی تھی. سب سے چھوٹا احد سلمان تھا جو میٹرک کا سٹوڈنٹ تھا.
سلمان صاحب ایک سرکاری ملازم سفید پوش سے انسان تھے. اُن کی زندگی کا گزر بسر بہت اچھے سے ہورہا تھا. وہ اپنے چھوٹے سے گھرانے میں بہت خوشحال اور مطمئن تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
دیکھئں آپ یوں آئی سی یو کے سامنے گنز اُٹھا کر نہیں کھڑے ہوسکتے پلیز آپ اُس طرف چلے جائیں.
نرس مسکین سی صورت بنا کر اُن ہٹے کٹے گارڈز کو دیکھتی بولی. جو اُس کے کتنی بار کہنے کے بعد بھی اپنی جگہ سے ہلے تک نہیں تھے.
جب تک میرے بیٹے کے بارے میں کوئی اچھی خبر نہ مل جائے یہ لوگ یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے. کیا کر رہے یہ ڈاکٹر اندر اتنی دیر سے بتاتے کیوں نہیں کچھ.
حسنین رضا میر پریشانی اور بے چینی کے ساتھ بولے تھے. اُن کا جان سے عزیز اکلوتا بیٹا اِس وقت آئی سی یو میں تھا. نشے میں گاڑی چلانے کی وجہ سے اُس کا بہت بُرا ایکسیڈنٹ ہوا تھا. اطلاع ملتے ہی وہ اپنے بھائی فرقان رضا میر کے ساتھ گارڈز کو لے کر شہر کے لیے نکل آئے تھے. لیکن ڈاکٹر اُنہیں کچھ بتا ہی نہیں رہے تھے. کس وقت سے اُن کی جان سُولی پر اَٹکی ہوئی تھی.
ڈاکٹر کیسا ہے میرا بیٹا اب. اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے اندر.
ڈاکٹر شہریار اور ڈاکٹر اِشمل کو آئی سی یو سے نکلتا دیکھ کر حسنین رضا میر جلدی سے اُن کی طرف بڑھتے بولے.
دیکھیں اُن کے بازو پر کافی گہری چوٹ آئی ہے. اور کچھ کانچ کے ٹکڑے ٹوٹ کر بازو میں پھنس گئے تھے. جس کی وجہ سے ہمیں سرجری کرنی پڑی. لیکن اب خطرے کی کوئی بات نہیں ہے اُنہیں روم میں شفٹ کیا جا رہا ہے. تھوڑی دیر میں اُنہیں ہوش آجائے گا.
ڈاکٹر شہریار نے تفصیل سے بتاتے اُن کی پریشانی دور کی تھی. حسنین رضا میر سکھ کا سانس لیتے پیچھے ہٹے تھے اور فرقان رضا میر کو گھر میں انفارم کرنے کا کہا تھا. جہاں سے کتنی بار فون آچکا تھا. وہاں بھی سب بہت پریشان تھے. گھر کی عورتوں کو اِس طرح ہاسپٹل میں آنے کی اجازت نہیں تھی.
اِشمل یہ جو پیشنٹ کل ایکسیڈنٹ کے بعد آیا ہے. کچھ زیادہ ہینڈسم نہیں ہے. یار اُس کی آنکھیں ہی بندے کو اپنا دیوانہ بنا دیتی ہیں. کاش تمہاری جگہ میری ڈیوٹی وہاں لگی ہوتی.
سدرہ اُس کے ساتھ سٹاف روم کی طرف جاتے ٹھنڈی آہ بھرتے بولی. جب اِشمل اُسے بس دیکھ کر رہ گئی تھی. صبح سے چار ڈاکٹر سے پہلے ہی وہ یہ بات سن چکی تھی.
کاش واقعی میری جگہ تمہاری لگ جاتی کیونکہ کل سے اُس نے مجھے تنگ کرکے رکھا ہوا ہے. ایک دن میں ہی دماغ خراب کردیا ہے میرا. اور دیکھتا ایسے گھور گھور کر ہے.اگر وہ میرا پیشنٹ نہ ہوتا تو بتاتی میں اُسے.
اِشمل دانت پیستی بولی.
