59K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

اب کیا ہوگا اِشمل.
سدرہ اُس کے پاس بیٹھتے بولی.
بابا نے تو اُن لوگوں کو صاف انکار کردیا ہے. اب پتا نہیں وہ کیا کرے گا.
اِشمل پریشانی سے سامنے دیکھتے بولی.
ویسےجب وہ گھر والوں کو انوالو کرچکا ہے تو مجھے وہ کافی سیریس لگتا ہے. کیا پتا واقعی تم سے محبت کرتا ہو. کیا تم ایک بار اُس کے بارے میں سوچ نہیں سکتی.
سدرہ کی بات پر اِشمل نے غصے بھری نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
تمہارے کہنے کا مطلب ہے. کہ میں اُس آوارہ شخص سے شادی کے لیے تیار ہوجاؤں. جو نشہ کرتا ہے. نامحرم عورتوں کے ساتھ رات دن گزرتے ہیں اُس کے. میں نے خود اپنی آنکھوں سے اُس دن اُس لڑکی کے اتنے قریب دیکھا ہے اُسکے. وہ جانتا ہے اُس کی باقی گرل فرینڈز کی طرح میں اُسے اتنی آسانی سے تو ملنے والی نہیں ہوں. اِس لیے یہ ڈرامہ رچا رہا ہے. اور جب دل بھر جائے گا اِس ڈرامے سے تو چھوڑ دے گا. محبت کرنے والے ایسے بے عزت نہیں کرتے جیسے وہ مجھے کررہا ہے.
اِشمل سدرہ کی بات پر غصے سے بھڑکتے بولی.
لیکن تم نے بھی تو کب آرام سے بات کی ہے اُس سے. ہمیشہ فضول باتیں اور انسلٹ ہی کی ہے. اور آج کل کے دور میں تو بہت کم ہی کوئی اتنا شریف ہوگا کہ جس کی کوئی گرل فرینڈ نہ ہو. اور وہ تو جس سوسائٹی میں رہتا ہے وہاں یہ سب نارمل باتیں ہیں.
سدرہ ایک بار پھر اُس کی وکالت کرتے بولی
سدرہ اگر تم نے ایسی ہی باتیں کرنی ہیں تو یہاں سے اُٹھ جاؤ میرا پہلے ہی دماغ خراب ہوا پڑا ہے مزید مت کرو.
اِشمل اُس کی باتوں پر کھرے لہجے میں بولی.
اچھا اچھا سوری غصہ مت کرو یہ بتاؤ سلمان انکل نے ارسلان کے گھروالوں سے کوئی بات کی پھر اِس بارے میں.
سدرہ اِشمل کاخراب ہوتا موڈ دیکھ کر بات بدلتے بولی.
پتا نہیں مجھے کچھ خاص نہیں پتا. ماما کہہ تو رہی تھیں کل کے آج بات کرنی ہے.
اِشمل کی بات پر سدرہ بس سر ہلا کر رہ گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

تمہارے کہنے پر ہم لوگ گئے اُن کے گھر لیکن اُنہوں نے صاف انکار کردیا ہے اِس رشتے سے. اُن کا کہنا ہے کہ اُن کی بیٹی کا رشتہ پہلے سے کہیں اور طے ہو چکا ہے. اور آہان ہمارا اور اُن لوگوں کا کوئی جوڑ نہیں ہے میرے خیال میں تو تم بھی ایک بار سوچ لو اپنے فیصلے پر.
حسنین رضا میر اُسے تفصیل بتاتے بولے.
شادی تو میری اُسی لڑکی سے ہوگی جوڑ ہے یا نہیں آپ اِس بات کی فکر مت کریں. اور گھر میں شادی کی تیاریاں شروع کر دیں. کیونکہ جلد ہی آپ کی بہو گھر آنے والی ہے.
آہان اُنہیں اپنی بات سمجھاتے نپےتلے لہجے میں بولا.
لیکن وہ لوگ تو انکار کر چکے ہیں پھر تم کیا کرو گے.
حسنین رضا میر اُس کی ضدی طبیعت سے اچھے سے واقف تھے اِس لیے اُس کی بات پر فکرمندی سے بولے.
یہ میرا مسئلہ ہے میں دیکھ لوں گا. آپ گھر میں سب کو انفارم کردیں. اپنی بیوی کے استقبال میں مجھے کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چاہئے.
آہان اپنے مخصوص انداز میں اُنہیں باور کرواتا فون رکھ چکا تھا.
کیا ہوا آپ پریشان لگ رہے ہیں کیا کہا آہان نے.
پاس بیٹھی ہاجرہ بیگم حسنین صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں.
مبارک ہو تمہیں جیسا تم اپنے بیٹے کو بنانا چاہتی تھی ویسا ہی بن گیا ہے. ہر بات میں اپنی چلانے کی قسم کھا رکھی ہے اُس نے. اُن لوگوں کے انکار کے باوجود بھی کہتا ہے وہی شادی کروں گا. اب پتا نہیں آگے کیا کرنے والا ہے.
حسنین رضا میر ہاجرہ بیگم کو سناتے ہوئے بولے.
تو کیا ہو گیا ہے اِس میں جب اُس کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش پوری ہوئی ہے. یہ تو پھر اُس کی پسند کی شادی کی بات ہے یہ پوری کیے بغیر وہ کیسے رہ سکتا ہے. اور کیا ہوا اگر وہ لوگ ہمارے سٹیٹس کے نہیں. میرے بیٹے کو اُس کی مرضی کرنے دیں. ویسے بھی جیسے ہر چیز سے بہت جلد اُس کا دل بھر جاتا ہے اِس شادی سے بھی ایسا ہی ہوگا. پھر میں اپنی پسند اور سٹیٹس کی بہو لاؤں گی.
ہاجرہ بیگم اُنہیں اپنی پلیننگ بتاتے بولیں. جب حسنین رضا میر اُن کی باتوں پر صرف سر جھٹک کر رہ گئے تھے. اُنہیں آج تک اپنی بیوی کے دماغ کی سمجھ نہیں آئی تھی.
حنا اِدھر آؤ جلدی ایک بڑے مزے کی نیوز ہے میرے پاس.
حفصہ عاصمہ بیگم کے کمرے میں داخل ہوتے حنا کو بھی آواز دیتےبولی.
یاﷲ خیر آرام سے کیا ہوگیا تمہیں.
عاصمہ بیگم اُس کی اتنی جلد بازی پر گھبراتے ہوئے بولیں.
آپ کو پتا ہے امی بھیا کی شادی ہو رہی ہے. واو کتنا مزا آئے گا. پتا نہیں بھابھی کیسی ہوں گی. بھیا کی پسند ہے پھر تو اچھی ہی ہوں گی نا.
حفصہ خوشی سے اُنہیں بتاتے ہوئے بولی.
تمہیں کس نے بتایا.
حنا بھی اُس کی بات سنتے اندر داخل ہوتی بولی.
ابھی میں نے بابا اور ہاجرہ امی کی باتیں سنی ہیں. بابا بھیا سے بات کر رہے.
حفصہ عاصمہ بیگم کے پاس بیٹھتے اُنہیں تفصیل بتانے لگی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

سلمان صاحب نے آج آفس سے چھٹی کی تھی. اِس لیے آج وہ گھر پر ہی تھے. جب بیل بجنے کی آواز پر وہ اُٹھ کر گیٹ کی طرف بڑھے تھے.
اسلام و علیکم انکل کیسے ہیں آپ.
سلمان نے حیرت سے ایک نظر سامنے کھڑے خوبرو نوجوان اور کچھ فاصلے پر گاڑی کے پاس کھڑے گارڈ کی طرف دیکھا تھا.
وعلیکم اسلام جی آپ کون میں نے پہچانا نہیں.
سلمان صاحب اُس کی طرف دیکھتے بولے جو اُن کی بات سن کر وہ مسکرایا تھا.
کیا آپ مہمانوں کو ایسے ہی دروازے پر کھڑا رکھتے ہیں. ہم اندر چل کر بھی بات کرسکتے ہیں.
آہان اُن کی طرف دیکھتا سوالیہ انداز میں بولا.
جب سلمان صاحب اُسے ساتھ آنے کا اشارہ کرکے اندر کی طرف بڑھ گئے تھے.
میرا نام آہان رضا میر ہے. جس کا کچھ دن پہلے رشتہ آیا تھا آپ کے گھر. مجھے نہیں لگتا اِس سے زیادہ تعارف کی ضرورت ہے آپ کو کیونکہ جہاں تک مجھے لگتا آپ کی بیٹی میرے بارے میں سب کچھ بتاچکی ہوگی.
آہان کی بات ہر سلمان صاحب کے چہرے کے تاثرات سرد ہوئے تھے. اندر داخل ہوتی اسما بیگم نے بھی آہان کی طرف دیکھا تھا. براؤن کلر کی قمیض شلوار میں ملبوس بالوں کو جیل لگا کر ایک سٹائل سے سیٹ کیے مضبوط مردانہ کلائی میں قیمتی گھڑی پہنے وہ ٹانگ پر ٹانگ چھڑہائے صوفے کی بیک سے ٹیک لگائے پرسکون انداز میں بیٹھا تھا. اگر اسما بیگم کو اِشمل اِس کی حرکتوں کا نہ بتاچکی ہوتی تو یہ روشن پیشانی والا نوجوان اُنہیں اِشمل کے لیے ارسلان سے ہزار گنا بہتر لگا تھا.
تو تمہارے گھر والوں کو میں اُس رشتے کا جواب بھی دے چکا ہوں پھر کیا لینے آئے ہو تم یہاں.
سلمان صاحب سپاٹ سے لہجے میں بولے.
وہ تو انکار میں جواب دیا آپ نے. میں اقرار میں جواب لینے آیا ہوں.
آہان اُن کی طرف دیکھتا بولا.
میری بیٹی کا رشتہ طے ہوچکا ہے اور کچھ دنوں میں اُس کا نکاح ہے. اِس لیے تم اُس کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو. نہ ہی وہ ایسا کچھ چاہتی ہے اور نہ ہی ہم.
سلمان صاحب اپنی کیفیت کنٹرول کرتے بولے.
نکاح تو اُس کا مجھ سے ہی ہوگا. چاہے آپ لوگوں کی مرضی اِس میں شامل ہو یا نہ ہو. دو دن ہیں آپ لوگوں کے پاس اچھے سے سوچ لیں. اگر آپ کا جواب اقرار میں ہوا تو بہت اچھی بات ہے. ورنہ میں اپنے طریقے سے اقرار کرواؤں گا پھر آپ اعتراض مت کیجئے گا.
آہان سنجیدہ لہجے میں اُنہیں اپنی بات سمجھاتے وہاں سے نکل گیا تھا.
اب کیا ہوگا سلمان یہ تو صاف دھمکی دے کر گیا ہے. یہ کچھ غلط نہ کریں ہماری بیٹی کے ساتھ.
اسما بیگم سلمان صاحب کے پاس آتے پریشانی سے بولیں. کیونکہ وہ باہر موجود آہان کا پروٹوکول دیکھ چکی تھیں. ہاتھوں میں بندوق اُٹھائے کھڑے گارڈز دیکھ کر تو اُنہیں ویسے ہی خوف آرہا تھا.
میں بات کرتا ہوں احمد سے.
سلمان صاحب فکرمندی سے کہتے وہاں سے اُٹھے تھے.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ماما اب بہت ہوگیا. وہ شخص ہمارے گھر آکر دھمکی دے کرگیا ہے. آپ پاپا سے کہیں پولیس کو انفارم کریں.
اِشمل اسما بیگم کی بات سنتے غصے سے بولی.
کوئی فائدہ نہیں. تمہارے پاپا کا کہنا ہے پولیس بھی اُنہیں لوگوں کے جیبوں میں ہوتی ہے اپنی ہی عزت خراب کرنے والی بات ہے اُنہیں اِس معاملے میں شامل کرکے.
اسما بیگم فکرمندی سے بولیں.
تو پھر اب پاپا نے کیا سوچا اِس بارے میں.
اِشمل پریشانی سے اُن کی طرف دیکھتے بولی.
احمد بھائی سے بات کی ہے تمہارے پاپا نے کل تمہارا نکاح ہے ارسلان سے.
اسما اُس کے پاس بیٹھتے بولیں.
ماما پر ایسے کیسے اتنی جلدی.
اِشمل اُن کی بات پر حیرانی سے بولی.
تمہارے بابا کا فیصلہ ہے یہ ہم اُن لوگوں کی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتے. ابھی صرف نکاح ہوگا. رخصتی حالات ٹھیک ہونے کے بعد اپنے ٹائم پر ہی ہوگی.
اسما بیگم اُسے سلمان صاحب کے فیصلے سے آگاہ کرتے بولیں. جب اِشمل نے خاموشی سے اُنہیں دیکھا تھا. اُس شخص سے تو وہ کسی صورت شادی نہیں کرنا چاہتی تھی کسی بھی قیمت پر اُسے اُس کے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتی تھی. ارسلان سے تو ویسے بھی اُس کی شادی ہونی ہی تھی تو ابھی ہی سہی. اِشمل کو اُس شخص سے جان چھوڑوانے کے لیے سلمان صاحب کا یہ فیصلہ مناسب ہی لگا تھا.
پر ماما یہاں پر تو وہ نکاح نہیں ہونے دے گا. جب اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کی خبر رکھی ہوئی اُس نے تو یہ بھی پتا چل جائیں گا.
تمہارا نکاح یہاں نہیں ہوگا بلکہ حیدر آباد میں تمہاری خالہ کے گھر ہوگا آج ہی ہمیں وہاں کے لیے نکلنا ہے. میں نے ساری پیکنگ کرلی ہے. تم بھی کھانا کھا کر تیار ہوجاؤ.
اسما بیگم اُسے ہدایت دیتی وہاں سے نکل گئی تھیں.
اِشمل کی بس اب یہی دعا تھی کہ کل تک سب کچھ خیر خیریت سے ہوجائے. اُس آہان رضا میر کی شکل دوبارہ نہ دیکھنی پڑے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

وہ لوگ رات کو ہی حیدرآباد پہنچے تھے. آج اُس کا نکاح تھا اُس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اُس کی زندگی کا سب سے امپورٹنٹ دن ایسا ہوگا. اُس کی دوستوں میں اِس سارے معاملے سے صرف سدرہ کو ہی علم تھا اِس لیے وہ بھی اِشمل کے ساتھ ہی وہاں آئی تھی. ہما اور احد بھی پریشان سے اِس سب معاملے پر حیران تھے.
اِشمل اپنی سوچوں میں ہی گم تھی جب سلمان صاحب مولوی صاحب اور باقی چند ایک قریبی لوگوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے تھے.
اِشمل سلمان آپ کا نکاح ارسلان احمد کے ساتھ باعیوض تین لاکھ حق مہر کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے.؟
مولوی صاحب کی آواز اُس کے کانوں میں گونجی تھی.
اِتنی بھی کیا جلدی ہے آپ کو مولوی صاحب کے دلہے کے آنے کا انتظار بھی نہیں کیا آپ نے.
اِس سے پہلے کے وہ اقرار میں جواب دیتی جب کمرے میں اُبھرتی ایک اور آواز سن کر وہ اپنی جگہ ساکت ہوئی تھی. جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا تھا وہ اُس تک پہنچ چکا تھا.
اِشمل نے جھٹکے سے چہرہ اُوپر اُٹھایا تھا جس کی وجہ سے گھونگھٹ کی شکل میں لیا دوپٹہ شانوں پر ڈھلک گیا تھا. آہان رضا میر چہرے پر سرد تاثرات سجائے اُسے غصے سے گھور رہا تھا. اسلحہ سے لیس گارڈز اُس کے پیچھے ہی موجود تھے.
مولوی صاحب آپ نکاح شروع کریں میری بیٹی کا نکاح ارسلان سے ہی ہوگا.
سلمان صاحب اُسے وہاں دیکھ کر دل میں موجود ڈر کے باوجود اپنے لہجے کو مضبوط بناتے بولے.
جب سلمان صاحب کی بات کو نظر انداز کرتے وہ شہانہ چال چلتا آگے بڑھ کر اِشمل کے ساتھ بیٹھی سدرہ کو ہٹنے کا اشارہ کرتا اُس کے ساتھ جا بیٹھا تھا.
تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی اور یہ…
اِشمل اُس کی حرکت پر طیش میں آتی ابھی بولی ہی تھی جب آہان کے اشارہ کرنے پر اُس کے آدمیوں نے اِشمل کے پاپا اور بھائی کے سر پر بندوق رکھی تھی. اِشمل نے آنکھیں پھاڑے آہان کی طرف دیکھا تھا. جو وارن کرتی نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا.
اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں. اِس کا ثبوت بھی تمہیں مل جائے گا اپنے باپ اور بھائی کھو کر اگر تم نے میرے ساتھ نکاح سے انکار کیا تو. بولو تیار ہو میرے ساتھ نکاح کے لیے.
اُس کی بات سنتے اِشمل نے روتی آنکھوں سے سلمان صاحب اور احد کی طرف دیکھا تھا اور بے بسی سے سر اثبات میں ہلایا تھا. اِس کے علاوہ اُس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا.
اِشمل تم ایسا کچھ نہیں کرو گی. کرنے دو اِسے جو یہ کرنا چاہتا ہے.
سلمان صاحب غصے سے آہان کی طرف دیکھتے چلاتے ہوئے بولے.
دیکھیے سر آپ لوگوں نے پہلے ہی فرار ہوکر جو اتنی بڑی غلطی کی ہے اُس کی سزا ابھی باقی ہے مزید کچھ ایسا نہ کریں جس پر آپ لوگوں کو پچھتانہ پڑے. معاف تو میں کسی کو کرتا نہیں ہوں کیونکہ یہ لفظ میری ڈکشنری میں ہے ہی نہیں.
آہان نے سخت لہجے میں اُنہیں باور کروایا تھا
بیٹا پلیز خدا کے لیے ایسا مت کرو میری بیٹی تم سے نکاح نہیں کرنا چاہتی. کیوں کر رہے ہو زبردستی. چھوڑ دو اِنہیں.
اسما بیگم روتے ہوئے اُس کے سامنے ہاتھ جوڑتی بولی تھیں. وہاں موجود باقی لوگ بلکل خاموشی سے اپنی جگہ ڈرے بیٹھے تھے. کوئی بھی اِن کے معاملے میں گھس کر اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا.
دیکھیں والدہ صاحبہ آپ میرے لیے بہت قابلے عزت ہیں ایسا مت کریں. اور اِس سب کا فائدہ بھی نہیں ہے. جب میں اپنی مرضی کرنے پر آؤں تو میری سگی ماں بھی مجھے نہیں روکتیں کونکہ وہ جانتی ہیں میں اپنا کہا پورا کرکے رہوں گا تو پلیز یہ سب کرکے مجھے شرمندہ کرنے کی ناکام کوشش مت کریں.
وہ ڈھٹائی سے بولتا اُنہیں خاموش کروا گیا تھا. اور اِشمل کا دوپٹہ پکڑ کر واپس گھونگھٹ کی طرح اُس کے چہرے پر ڈال دیا تھا.
جب اُس کے اشارے پر مولوی صاحب نے نکاح پڑھوانا شروع کیا تھا اور وہ کچھ ہی دیر میں ناچاہتے ہوئے بھی وہ اِشمل سلمان سے اِشمل آہان رضا میر بن چکی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤