Rate this Novel
Episode 3
واؤ آپی کیا بنا رہی ہیں آپ.
ہما کچن میں داخل ہوتی بولی.
اِشمل نے آج ہاسپٹل سے چھٹی کی تھی. اتنے دنوں کی ٹف روٹین سے وہ تھک چکی تھی. تھوڑا ریسٹ چاہتی تھی اور کل ہی اُس نے اپنے سینئر ڈاکٹر عثمان سے بات کرکے آہان رضا میر کے روم سے اپنی ڈیوٹی ہٹوا لی تھی. اب وہ کافی مطمیئن تھی. اور مزے سے کوکنگ کرتے آج کا دن انجوائے کر رہی تھی.
اُسے کوکنگ کرنے کا بہت شوق تھا. اور اُس کے ہاتھ میں ذائقہ بھی بہت تھا. اِس وقت بھی بریانی کی خوشبو پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی جس پر ہما کچن میں کھینچی چلی آئی تھی.
بریانی.. احد کی فرمائش پر…
اِشمل نے مسکراتے جواب دیا تھا.
بس اُسی کی بات کی اہمیت ہے آپ کے آگے میں جو اتنے دنوں سے کیک کی فرمائش کر رہی وہ بھول گئیں آپ.
ہما منہ پھلاتے ناراضگی سے بولی تھی.
میری ڈرامہ کوئین زرا فریج کھول کر تو دیکھو.
اِشمل کی بات پر ہما جلدی سے فریج کی طرف بڑھی تھی .
واؤ آپی یو آر دا بیسٹ.
فریج میں پڑا کیک دیکھ کر ہما پیار سے اُس کا گال چھوتی خوشی سے بولی. جس پر اِشمل ہلکا سا مسکرائی تھی.
واہ مزا آگیا آج تو کھانے کا.
سلمان صاحب ڈنر ختم کرتے بولے.
یہ آپ سب لوگ تو ایسے ظاہر کر رہے ہیں. جیسے روز بدذائقہ کھانا کھانے کو ملتا ہے آپ سب کو.
اسما بیگم مصنوعی ناراضگی چہرے پر سجاتی بولیں.
بیگم آپ بھی کھانا بہت اچھا بناتی ہیں لیکن جو بات میری بیٹی کے ہاتھ کے کھانے میں ہے وہ اُس میں نہیں.
سلمان صاحب مسکراتے بولے.
ہاں ویسے یہ بات تو میں بھی مانتی ہوں.
اسما بیگم پیار سے اِشمل کی طرف دیکھتی بولیں.
اچھا میں اپنے روم میں جارہا ہوں. تھوڑی دیر میں احمد نے آنا ہے تو اُدھر چائے بھجوا دیجئے گا.
سلمان صاحب اپنے دوست کا بتاتے وہاں سے اُٹھ گئے تھے. احمد اُن کے بہت قریبی دوست تھے اُن کا ایک دوسرے کے گھروں میں بہت آنا جانا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اُس ڈاکٹر کو بلاؤ مجھے اُس کے علاوہ کسی سے علاج نہیں کروانا.
آہان رضا میر اپنے وجیہہ چہرے پر غصے کے تاثرات سجائے سامنے کھڑی نرس کی طرف دیکھتا کرخت لہجے میں بولا. نرس اُس کے چلانے پر سہم کر جلدی سے وہاں سے نکلی تھی.
ڈاکٹر اِشمل پچھلے دو دنوں سے اُس کے روم میں نہیں آئی تھی اِس کا مطلب یہی تھا کہ اپنے کہے کے مطابق وہ اپنی ڈیوٹی ہٹوا چکی ہے وہاں سے.
ڈاکٹر اِشمل آپ کو ڈاکٹر عثمان بلا رہے ہیں.
وہ ابھی اپنی ڈیوٹی کرکے سدرہ کے ساتھ کینٹین میں آکر بیٹھی تھی. جب وارڈ بوائے اُس کے پاس آتا بولا.
اوکے اُنہیں کہیں میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں.
اِشمل کو شدت سے چائے کی طلب ہورہی تھی. چائے پیئے بغیر اُٹھنے کا اُس کا بلکل دل نہیں تھا.
وہ روم نمبر 27 کے پیشنٹ نے بہت ہنگامہ کھڑا کیا ہوا ہے. اِس لیے ڈاکٹر عثمان کا کہنا ہے کہ ابھی اور اِسی وقت اُدھر پہنچیں.
اُس کو نہ اُٹھتا دیکھ وارڈ بوائے پھر بولا تھا.
اُس کی بات سنتے چائے کی طرف جاتے اِشمل کے ہاتھ وہی رُکے تھے. آنکھوں میں ناگواری کی لہر دوڑ گئی تھی.
میں نے کہا تھا نا میر صاحب دیوانے ہوچکے ہیں تمہارے. کسی صورت اپنے روم سے تمہاری ڈیوٹی ہٹنے نہیں دے گے.
سدرہ اُس کا غصے سے لال ہوتا چہرہ دیکھ کر بولی.
جب اُس کی بات کا جواب دیے بغیر اِشمل غصے سے اُٹھی تھی.
ڈاکٹر عثمان اُسے روم کے باہر ہی کھڑے ملے تھے.
سر آپ نے بلایا مجھے.
روم کے دروازے کی طرف دیکھتی وہ خود پر کنٹرول کرتے بولی. اچھے سے جانتی تھی اُنہوں نے اُسے یہاں کیوں بلایا.
ڈاکٹر اِشمل معذرت کے ساتھ لیکن میں نے آپ کی اِس روم میں واپس ڈیوٹی لگا دی ہے. اگر یہ معاملہ میرے بس میں ہوتا تو میں ضرور آپ کے ساتھ تعاون کرتا.
اِشمل نے ڈاکٹر عثمان کی طرف نگاہ اُٹھا کر دیکھا تھا. جو اِس ہاسپٹل کے مالک ہونے کے باوجود بھی اُس رئیس ذادے کے سامنے کافی بے بس لگ رہے تھے.
اِشمل کو اپنا آرڈر سناتے اُس سے نظریں چراتے وہاں سے نکل گئے تھے.
اِشمل نے جیسے ہی روم میں قدم رکھا اُسکی نظر سامنے بیڈ پر تکیوں سے ٹیک لگا کر لیٹے آہان رضا میر پر پڑی تھی. جو چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے شوخ نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا.
مجھ سے پیچھا چھوڑوانے کی ناکام کوشش کرنا چھوڑ دو ڈاکٹر اِشمل سلمان.
اُسے سامنے کھڑے دیکھ وہ جتاتے لہجے میں بولا تھا. اور پھر بیڈ سے اُٹھتا اُس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا.
جب تم بلکل ٹھیک ہوچکے تو جاتے کیوں نہیں ہو یہاں سے.
اِشمل سر اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھتی بولی.
ٹھیک ؟ کس نے کہا میں ٹھیک ہوگیا ہوں. بلکہ تم نے تو مجھے مزید اپنا بیمار بنا دیا ہے.
آہان اُس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا.
دیکھو پلیز میں تمہارے ٹائپ کی لڑکی نہیں. میں ایک بہت ہی سادہ اور شریف گھرانے کی لڑکی ہوں پلیز تمہارے اِس بی ہیوئیر سے میری کافی بدنامی ہوسکتی ہے.
اِشمل تحمل سے اُسے سمجھاتے بولی.
کیونکہ ہاسپٹل میں وہ اپنے بارے میں آہان کی حرکتوں کی وجہ سے کچھ غلط باتیں سن چکی تھی.
ہاہاہاہا تو تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ میرا گھرانہ شریف نہیں ہے.
اُس کی بات کا اپنا ہی مطلب نکالتا وہ مزاق اُڑاتے بولا تھا.
جب اِشمل نے اپنی اتنی سنجیدہ بات کے ایسے جواب پر غصے سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
آہان کی نظریں اُس کے غصے سے پھولے چہرے پر اَٹک کر رہ گئی تھیں. وہ جب بھی غصے میں ہوتی تھی اُس کے گلابی نرم نرم سے پھولے ہوئے گال مزید پُھول جاتے تھے. اور اِس وقت بھی یہی ہوا تھا. جب اُس کے قریب کھڑے آہان رضا میر نے بے خودی میں اُن کو چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا. لیکن اُس کا ارادہ بھانپتے اِشمل اُس کا ہاتھ جھٹکتی پیچھے ہوئی تھی.
اپنا ہاتھ جھٹکے جانے پر آہان نے غصے سے اِشمل کی طرف دیکھا تھا. زخم کی پرواہ کیے بغیر اُس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا.
چھوڑو میرے ہاتھ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی. چھوڑو مجھے ورنہ میں شور مچا دوں گی.
اِشمل اُس سے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتی چلائی تھی.
اوکے مچاؤ شور. مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا پر تمہاری وہ کیا کہہ رہی تھی تم ……ہاں بدنامی ہوسکتی ہے.
اُس کی دونوں کلائیوں کو ایک ہاتھ کی گرفت میں لیتے دوسرے ہاتھ سے اُس کے گال کو چھوا تھا. اِشمل نے فوراً نخوت سے اپنا چہرہ پیچھے کیا تھا.
تمہارا یہ انداز میرے اندر موجود تمہیں حاصل کرنے کے جذبات کو مزید ہوا دے رہا ہے. اِس لیے میری بات کان کھول کر سُن لو اب سے تم پر صرف میرا حق ہے. اور ہاں وہ دنیا دیکھاؤے کے لیے باقی کی جو فارمیلیڑیز ہوتی ہیں وہ بھی جلد ہی پوری کردوں گا میں. ابھی تو میں جارہا ہوں اِس ہاسپٹل سے لیکن میری بات یاد رکھنا تم صرف میری ہو.
اُس کی کلائیوں کو اپنی سخت گرفت سے آزاد کرتے اُس پر ایک گہری نظر ڈالتا وہ وہاں سے نکل گیا تھا. اُس کے کچھ بہت امپورٹنٹ کام پینڈنگ تھے اِس لیے وہ مزید اب یہاں نہیں رُک سکتا تھا.
اِشمل نے اپنی کلائیوں کی طرف دیکھا تھا جو اُس شخص کی سخت گرفت کی وجہ سے بلکل لال ہوچکی تھیں. وہ دوپٹے سے اپنے گال کو رگڑتی پریشانی سے سر پکڑتی وہیں بیٹھ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بیٹا تم ریسٹ کرلو کچھ دن کام تو ہوتا رہے گا. ابھی دو دن پہلے ہی تو ڈسچارج ہوئے ہو. اور تب سے مسلسل کام میں مصروف ہو.
حسنین رضا میر اُس کی طرف دیکھتے فکرمندی سے بولے.
میں بھی تو اِسے کب سے یہی کہہ رہی ہوں. پر میری بات کب سنتا ہے یہ.
ہاجرہ بیگم بھی بےچارگی سے آہان کی طرف دیکھتی بولیں.
میں بلکل ٹھیک ہوں. اتنے دنوں سے ریسٹ ہی کر رہا ہوں.
آہان اُن کی باتوں پر سپاٹ سے انداز میں بولا.
پہلے آپ دونوں مجھے یہ بتائیں یہ حنا کی شادی کا کیا معاملہ ہے. میں نے آپ لوگوں کو مناہ کیا تھا نا. انکار کردیں اُن لوگوں کو حنا کی شادی وہاں نہیں ہوگی. میرے چند دنوں کی بے خبری میں آپ لوگوں نے اُس کی بات بھی پکی کر دی. میرا صرف ایکسیڈنٹ ہوا تھا مرا نہیں تھا.
آہان اُن دونوں کی طرف دیکھتا سرد تاثرات کے ساتھ بولا تھا.
ﷲ نہ کرے کیسی غلط بات منہ سے نکال رہے ہو.
دیکھا حسنین آپ نے میرے بیٹے کے آتے ساتھ ہی اُن ماں بیٹیوں نے کردی اِس سے ہماری چُغلی.
ہاجرہ بیگم غصے سے پہلو بدلتے بولیں.
تو کیا غلط کیا اُنہوں نے اگر آپ کی سگی بیٹی ہوتی تو کیا آپ اُس کے ساتھ بھی ایسے ہی کرتیں.
آہان ہاجرہ بیگم کی بات پر اُن کی طرف دیکھتا بولا.
لیکن میں اُن لوگوں کو زبان دے چکا ہوں.
آہان کی بات پر حسنین رضا میر فوراً بولے.
تو یہ بات آپ کو پہلے سوچنی چاہیے تھی. آپ تو جیسے یہ بات بھول ہی بیٹھے ہیں کہ وہ دونوں آپ کی سگی اولادیں ہیں. لیکن جو بھی ہے میں اِس بارے میں اب مزید کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا. حنا کی شادی وہاں بلکل نہیں ہوگی. اپنی سیاست کو آگے بڑھانے کا کوئی اور طریقہ ڈھونڈیں آپ. حنا کی شادی وہیں ہوگی جہاں میں چاہوں گا.
آہان حسنین رضا میر کو طنزیہ انداز میں باور کرواتا وہاں سے اُٹھ گیا تھا.
دیکھا کیسے آتے ساتھ ہی میرے بیٹے کو اُن لوگوں نے پٹیا پڑھا دیں اور آپ کا کہنا ہے کہ بے چاری ہیں وہ. بے چاریاں ایسی نہیں ہوتیں.
ہاجرہ بیگم اپنا پلین خراب ہونے پر غصے سے بھناتی بولیں. جبکہ حسنین رضا میر نے اِس وقت خاموش رہنا ہی ٹھیک سمجھا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کیا میں اندر آسکتا ہوں.
آہان دروازے پر ہلکا سا ناک کرتے بولا.
میری جان اندر آؤ وہاں کیوں کھڑے ہو.
عاصمہ بیگم آہان کی آواز سنتی خوشی سے بیڈ سے اُٹھتی بولیں.
ماشاءﷲ بیٹا کیسی طبیعت ہے اب تمہاری. تمہارے ایکسیڈنٹ کا سن کر تو دل اتنا بے چین تھا. اب تمہیں اپنے سامنے صحیح سلامت دیکھ کر سکون آیا.
عاصمہ بیگم اُس کی پیشانی پر بوسہ دیتی بولیں.
جب اُن کی اِتنی محبت پر وہ مسکرا کر رہ گیا تھا.
دیکھ لیں پھر آپ کی دعاؤں کی وجہ سے ہی میں بلکل ٹھیک آپ کے سامنے کھڑا ہوں.
آہان اُن کا ہاتھ تھام کر مجبت سے بولا.
ایک بات پر میں آپ سے بہت ناراض ہوں. اتنی بڑی بات ہوگئی یہاں اور آپ نے مجھے بتایا تک نہیں. اِس کا یہی مطلب ہے نا کہ آپ مجھے اپنا بیٹا نہیں سمجھتیں.
آہان اُن کی طرف دیکھتا ناراضگی سے بولا تھا.
ایسی بات نہیں ہے بیٹا تم جانتے ہو تم مجھے اپنی سگی اولاد سے بھی بڑھ کر عزیز ہو. میں کسی قسم کا کوئی فساد نہیں چاہتی تھی اِس لیے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا.
عاصمہ بیگم نظریں چُراتی بولیں. اب وہ اُسے ہاجرہ بیگم کی دھمکی کے بارے میں کیا بتاتیں. جو اُنہوں نے آہان کو کچھ بھی نہ بتانے کے لیے دی تھی. وہ نہیں جانتی تھیں آہان کو کیسے پتا چلا.
اسلام و علیکم بھائی. مجھے پورا یقین تھا آپ ضرور آئیں گے.
حفصہ آہان کو عاصمہ بیگم کے پاس بیٹھا دیکھ چہکتے ہوئے آگے بڑھی تھی.
کیسی ہے میری گڑیا.
آہان اُسے بازوں کے گھیرے میں لیتے محبت سے بولا.
میں بلکل ٹھیک ہوں. تھینکیو سومچ بھیا میری ایک کال پر فوراً آنے کے لیے.
حفصہ آہان کے ساتھ لگ کر بیٹھتے بولی. جب اُس کی بات پر عاصمہ بیگم نے اُسے گھورا تھا.
دیکھ رہے بھیا آپ امی مجھے کیسے غصے سے دیکھ رہی ہیں. کہ میں نے آپ کو کیوں بتایا. آپ کے جانے کے بعد یہ مجھے ڈانٹیں گی بھی.
حفصہ منہ بناتی آہان کو اُن کی شکایت کرتے بولی.
بلکل بھی نہیں بڑی امی میری گڑیا کو کسی نے نہیں ڈانٹنا. بہت اچھا کیا ہے اِس نے مجھے انفارم کرکے. اور آئندہ بھی ایسے ہی کرنا ہے.
آہان نے حفصہ کی سائیڈ لیتے کہا.
جس پر عاصمہ بیگم ہولے سے مسکرائی تھیں.
حنا نظر نہیں آرہی کہا ہے وہ.
آہان نے حنا کی غیر موجودگی نوٹ کرتے پوچھا تھا.
آپی اپنے کمرے میں ہیں.
حفصہ کے بتانے پر آہان اُس طرف بڑھ گیا تھا.
دروازہ کی آواز پر حنا نے سر اُٹھا کر دیکھا تھا لیکن سامنے کھڑے آہان کو دیکھ کر وہ روتے ہوئے بھاگ کر اُس کے گلے لگی تھی.
بھیا مجھے یہ شادی نہیں کرنی.
حنا اُس کے ساتھ لگی روتے ہوئے بولی.
رونے کی ضرورت نہیں ہے. تمہارا بھائی زندہ ہے ابھی تمہارے ساتھ کسی قسم کی کوئی ناانصافی نہیں ہونے دوں گا.
آہان کی بات پر حنا نے سُرخ آنکھیں اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تھا.
بابا نے میرا رشتہ طے کر دیا ہے.
حنا آنسوؤں کے درمیان بولی.
میں سب جانتا ہوں. اور میری بابا سے بات ہوچکی ہے. اب ایسا کچھ نہیں ہوگا. اس لیے اب یہ رونا بند کرو.
آہان نے اُس کے آنسو صاف کرتے پیار سے کہا. جس پر حنا نے آنکھوں میں حیرانی لیے اُس کی طرف دیکھا.
آپ سچ کہہ رہے ہیں.
اُس کی بات پر آہان نے اثبات میں سر ہلایا تھا.
تھینکیو سومچ بھائی آپ بہت اچھے ہیں.
حنا خوشی سے بھرپور لہجے میں بولی تھی. اُسے اپنا یہ بھائی جان سے بڑھ کر عزیز تھا. جو ایک گھنے سائے کی طرح ہر وقت اُن کے لیے موجود ہوتا تھا.
جب اُسے خوش دیکھ آہان بھی مسکرایا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حسنین رضا میر کے والدین کی ڈیتھ ہوچکی تھی. جو اُن کے لیے کروڑوں کا ورثہ چھوڑ کر گئے تھے. حسنین رضا میر بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے. اُن سے چھوٹی اُن کی بہن سفیہ تھی جو شادی کے بعد اپنے گھر میں آباد تھیں. اُن سے چھوٹے فُرقان رضا میر تھے جن کی شادی کے کچھ مہینوں بعد اُن کی بیوی کی ایک ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہوچکی تھی. جس کے بعد بہن بھائیوں کے بار بار کہنے پر اُنہوں نے دوسری شادی کرلی تھی. دوسری بیوی سے اُن کی تین اولادیں تھیں. دوبیٹے اور ایک بیٹی. حسنین رضا میر نے پہلی شادی اپنے والدین کی مرضی سے اپنی یتیم ماموں زاد عاصمہ بیگم سے کی تھی. جن سے اتنے سال اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اُنہوں نے اولاد کی خواہش میں دوسری شادی اپنی چچا زاد ہاجرہ بیگم سے کی تھی. ہاجرہ بیگم ایک بہت ہی تیز خاتون تھیں. ہاجرہ بیگم نے آہان رضا میر کو جنم دے کر حسنین رضامیر اور اِس پوری حویلی پر اپنا قبضہ جمالیا تھا. کچھ عرصے بعد عاصمہ بیگم کے ہاں حنا اور پھر حفصہ کا جنم ہوا تھا لیکن وہ حسنین رضا میر کو بیٹا نہیں دے پائی تھیں اور نہ ہی کبھی ہاجرہ بیگم جیسا مقام حاصل کر پائی تھیں. ہاجرہ بیگم نے اُن کی اور اُنکی بیٹیوں کی حیثیت حویلی میں ملازموں کے برابر ہی رکھی ہوئی تھی. وہ ہر وقت اُنہیں کسی نہ کسی طرح بے عزت کرنے اور نیچا دیکھانے کے چکروں میں لگی رہتی تھیں. آہان شروع سے ہی بہت حساس طبیعت کا مالک تھا. گھر کا ماحول اُسے بہت ڈسٹرب کرتا تھا. کچھ ہاجرہ بیگم کی تربیت کا اثر تھا کہ وہ کافی ضدی اور ہٹ دھرم ہوگیا تھا. اِس سارے ماحول سے تنگ آکر وہ زیادہ تر ہاسٹل میں رہنے لگا تھا جہاں وہ کافی بُری صحبت کا شکار ہوچکا تھا.
پھر کچھ عرصہ لندن میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ واپس جب گھر لوٹا تو گھر کا ماحول ابھی بھی ویسا ہی تھا. بلکہ اب تو عاصمہ بیگم کے ساتھ ساتھ اُن کی بیٹیوں کو بھی ٹارچر کیا جارہا تھا. یہ سب دیکھنا اب مزید آہان کے بس میں نہیں تھا اُس نے حسنین رضا میر سے کہہ کر عاصمہ بیگم کو حویلی میں ایک الگ پورشن دلوا دیا تھا. جہاں اور تو نہیں لیکن وہ ہاجرہ بیگم کے ہر وقت کے طعنوں سے محفوظ تھیں.
اُن کے حالات دیکھ کر آہان عاصمہ بیگم اور اپنی دونوں بہنوں سے کافی قریب ہو گیا تھا. اور اپنی سگی ماں کی حرکتوں نے اُسے اُن سے کافی دور کر دیا تھا. یہ سب دیکھ کر ہاجرہ بیگم نے عاصمہ بیگم کو مزید تکلیف پہنچانا شروع کر دی تھی. وہ سمجھتی تھیں عاصمہ بیگم اُنہیں اُن کے بیٹے سے دور کر رہی ہیں. اور اِسی وجہ سے اُنہوں نے حنا کا رشتہ ایک کافی بڑی عمر کے شخص سے طے کروا دیا تھا.
آہان کو جیسے ہی حفصہ کے ذریعے پتا چلا تھا وہ فوراً وہاں پہنچا تھا. اور اُن دونوں کو یہ سب کرنے سے باز رکھا تھا. عاصمہ بیگم کو شروع سے ہی آہان بہت پیارا تھا اور اب اُس کے اتنا خیال اور عزت دینے پر مزید عزیز ہوگیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ڈاکٹر اِشمل یہ آپ کے لیے آیا ہے.
اِشمل سدرہ کے ساتھ وارڈ کا راؤنڈ لے کر واپس آرہی تھی جب نرس نے اُس کے پاس آتے سُرخ گلابوں کا فریش بکے اُس کی طرف بڑھایا تھا.
میرے لیے کس نے بھیجا.
اِشمل حیرت سے بکے تھامتی بولی. جب نرس لاعلمی سے سر ہلاتی آگے بڑھ گئی تھی.
ویسے جس نے بھی بھیجا ہے یہ ہے بہت خوبصورت.
سدرہ پھولوں کی خوشبو سونگتی بولی.
اِشمل بکے کو اُوپر نیچے کرکے دیکھ رہی تھی کہ بھیجنے والے نے کچھ تو رکھا ہی ہوگا بیچ میں. اُس نے زور سے ہلایا تھا جب اُس میں سے ایک چھوٹا سا کارڈ نکل کر نیچے گرا تھا.
جھک کر کارڈ اُٹھاتے اِشمل نے کھول کر دیکھا تھا. کارڈ پر لکھے الفاظ دیکھ اِشمل نے ناگواری سے بکے کو اُٹھا کر پاس پڑے ڈسٹ بن میں ڈال دیا تھا.
یہ کیا کیا تم نے دیکھاؤ مجھے کیا لکھا ہے اِس پر.
اِشمل جو کارڈ کے بھی ٹکڑے کرنے والی تھی سدرہ اُس کے ہاتھ سے لیتی بولی.
آہان رضا میر کی طرف سے پہلا نظر…
اِس سے پہلے کے سدرہ آگے پڑھتی اِشمل کارڈ اُس کے ہاتھ سے چھین کر ٹکڑوں میں تقسیم کرکے ڈسٹ بن میں پھینکتی آگے بڑھ گئی تھی.
