Rate this Novel
Episode 4
یہ شخص سمجھتا کیا ہے خود کو. گھٹیا , لوفر , ایڈیٹ…
اِشمل غصے سے سٹاف روم سے اپنا پرس اُٹھاتی بڑبڑاتے ہوئے بولی.
جب اُسی وقت اُس کا فون بجا تھا.
غصے میں بنا انجان نمبر پر غور کیے اِشمل نے فون اٹینڈ کرتے کان سے لگایا تھا.
ہائے سویٹ ہارٹ کیسی ہو. کیسے لگے میرے فلاورز.
فون سپیکرز سے اُُبھرتی آواز سنتے اِشمل نے غصے سے دانت بھینچے تھے.
تمہارے پاس میرا نمبر کیسے آیا. اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے اتنے فضول لفظوں سے پکارنے کی.
اِشمل سٹاف روم سے نکلتی غصے سے بولی.
نمبر کیا میں تو تمہارا سارا بائیو ڈیٹا معلوم کروا چکا ہوں ڈاکٹر. گلشن کالونی میں رہتی ہو. والد صاحب ایک سرکاری ملازم ہیں. دو چھوٹے بہن بھائی ہیں. ہما اور احد. اور سچ اپنی ہونے والی ساسو ماں کا ذکر کرنا تو بھول ہی گیا میں. وہ ایک گھریلو سادہ سی خاتون ہیں.
اور رہی بات ایسے پکارنے کی تو اب بندہ اپنی ہونے والی بیوی کو اور کیسے پُکارے کوئی اچھا طریقہ ہے تمہارے پاس تو وہ ٹرائی کر لیتا ہوں میں.
آہان تفصیل سے اُس کی بات کا جواب دیتا اُسے مزید تپا گیا تھا.
یہ کیا بکواس ہے. جیسا تم سوچ رہے ہو ویسا کچھ نہیں ہوسکتا.
اِشمل اُس سے اِس طرح سب گھروالوں کی بارے میں سن کر گھبراتے ہوئے بولی. وہ اُس کی سوچ سے بھی بڑھ کر شاطر ثابت ہوا تھا. شاید وہ اُسے کچھ زیادہ ہی ہلکے میں لے رہی تھی.
لیٹس سی پھر کس کی سوچ پوری ہوتی ہے. اور ہاں آئندہ یہ ریڈ کلر پہنے نظر نہ آؤ تم مجھے. اِس کلر میں تمہیں دیکھنے کا حق صرف میرا ہے.
اِشمل چلتی ہوئی باہر آچکی تھی جب آہان کی بات پر اُس نے جلدی سے اِدھر اُدھر دیکھا تھا. جب اُس کی نظر کچھ فاصلے پر کھڑی بلیک شیشوں والی مرسڈیز پر پڑی تھی.
اِس طرح مجھے ڈھونڈنے کی کوشش مت کروں. اگر میں سامنے آگیا توتمہارے لیے ہی مشکل ہوگی. ویسے بھی اِس کلر میں جتنی خوبصورت تم لگ رہی ہو مجھ پر خود پر کنٹرول کرنا کافی مشکل ہوجائے گا.
آہان اُس کے اِردگرد دیکھنے والی حرکت پر چوٹ کرتے بولا.
تم ایک انتہائی پاگل اور بےشرم انسان ہو. ایسی بے ہودہ باتیں اپنی گرل فرینڈز سے کرو جاکر تاکہ کوئی فائدہ بھی ہو. اور آئندہ مجھے فون کرنے کی کوشش مت کرنا.
اِشمل اُس کی باتوں پر غصے سے سُرخ ہوتی فون بند کرکے پرس میں رکھتی وہاں سے ہٹ گئی تھی. کیونکہ واقعی اِس شخص کا کوئی بھروسہ نہیں تھا ابھی گاڑی سے نکل کر سامنے ہی نہ آجائے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
وہ گھر آکر بغیر کھانا کھائے سیدھی اپنے روم میں آگئی تھی. اور تب سے مسلسل کمرے میں پریشانی سے اِدھر سے اُدھر چکر لگارہی تھی. لیکن اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے.
تبھی موبائل وائبریٹ ہوا تھا سدرہ کا نمبر دیکھ کر اُس نے کال ریسیو کی تھی.
اِشمل کیا ہوا تم ہاسپٹل سے اِس طرح کیوں آگئی. یار اُس نے بکے ہی تو بھیجا ہے اِس میں اتنی پریشان ہونے والی کیا بات ہے. کب تک وہ ایسے کرے گا جب تمہاری طرف سے کوئی رسپونس نہیں آئے گا تو وہ خود ہی پیچھے ہٹ جائے گا.
سدرہ اُسے سمجھاتے ہوئے بولی.
سدرہ یہ شخص ایسے ٹلنے والا نہیں ہے. تم نہیں جانتی وہ میرے بارے میں ایک ایک بات معلوم کروا چکا ہے مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہے. وہ اِتنی آسانی سے میرا پیچھا چھوڑنے والا نہیں ہے. میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا بابا ہارٹ پیشنٹ ہیں اُنہیں میں کسی صورت کوئی ٹینشن نہیں دے سکتی اور ماما وہ تو ویسے ہی ہر بات کی اتنی ٹینشن لیتی ہیں. اور ابھی تو ویسے بھی گھر میں میرے رشتے کی بات چل رہی ہے.تم جانتی تو ہونا.
اِشمل شدید پریشانی سے بولی.
ہمہ کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو. بات تو واقعی پریشانی والی ہے. ویسے ایک آئیڈیا ہے میرے پاس کیا پتا کام کر جائے.
سدرہ کچھ سوچتے ہوئے بولی.
ہاں تو بتاؤ جلدی.
اِشمل جلدی سے بولی
اب اگر اگلی بار اُس نے تم سے کانٹیکٹ کیا تو تم اُسے صاف لفظوں میں بتا دینا کہ تم انگیجڈ ہو اور بہت جلد تمہاری شادی ہونے والی ہے.
سدرہ کی بات پر اِشمل ایک پل کے لیے خاموش ہوئی تھی.
تمہیں کیا لگتا میرے ایسا کہنے سے وہ پیچھے ہٹ جائے گا.
اِشمل کچھ دیر کے بعد بولی.
اب میں یہ تو نہیں کہہ سکتی پر ٹرائی کرنے میں کیا حرج ہے. کیا پتہ پیچھے ہٹ جائے.
اوکے دیکھتی ہوں پھر میں. بس اُس فضول شخص سے جان چھوٹ جائے میری.
اِشمل ناگواری سے بولی.
ویسے تم بھی ایک عجیب ہی لڑکی ہو باقی لڑکیاں جس بندے کا پیچھا کرتی ہیں. جس کے خواب دیکھتی ہیں. تم اُسی سے پیچھا چھوڑوانا چاہتی ہو.
سدرہ اُسے چھیڑتے ہوئے بولی.
تو یہ بندہ اُنہیں لڑکیوں کو مبارک ہو مجھے نہیں چاہئے ایسا فضول شخص.
اِشمل اُس کی بات پر چڑتے ہوئے بولی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بات سنو لڑکی دیکھائی نہیں دے رہا تمہاری پھوپھو آئی بیٹھی ہیں. اور تم منہ اُٹھا کر اپنے حُجرے میں گھسی جارہی ہو. جاؤ کچھ لے کر آؤ اِن کے لیے.
حنا جو سر جھکائے اپنے پورشن کی طرف جارہی تھی ہاجرہ بیگم کی چنگارتی آواز پر پلٹ کر اُن کی طرف دیکھا تھا. جو سفینہ بیگم اور اُن کے بیٹے عارفین کے ساتھ بیٹھی تھیں. ہاجرہ بیگم نے اب یہ اپنی عادت بنا لی تھی کہ ہر آئے گئے کے سامنے اُنہیں ایسے ہی ذلیل کرنا ہے.
اب یہاں کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو. جاؤ کچن میں.
ہاجرہ بیگم ایک بار پھر حقارت سے اُس کی طرف دیکھتے بولیں. حب حنا خاموشی سے سر جھکائے کچن کی طرف بڑھ گئی تھی. یہاں ہر کام کے لیے دس دس ملازم موجود تھے لیکن ہاجرہ بیگم جان بوجھ کر اُنہیں نیچا دیکھانے کے لیے سب کے سامنے ایسا کرتی تھیں.
ویسے بھابھی بہت اچھے سے سیدھا کرکے رکھا ہوا ہے آپ نے اِن کو.
سفیہ بیگم کی بات پر ہاجرہ بیگم مسکراتی اب اُن لوگوں کا قصہ شروع کرچکی تھیں. جب عارفین نے تاسف سے اُن دونوں کو دیکھا تھا. لیکن اُس نے خاموش رہنا ہی ٹھیک سمجھا تھا. کیونکہ اِن دونوں کے سامنے اُن کی سائیڈ لے کر وہ مزید کوئی نیا ڈرامہ نہیں کھڑا کرنا چاہتا تھا. عارفین کی نظریں بار بار بھٹک کر کچن کی طرف جا رہی تھیں جہاں کچھ دیر پہلے حنا نم آنکھوں کے ساتھ گئی تھی. اُسے حنا بچپن سے ہی بہت پسند تھی لیکن چاہ کر بھی وہ اپنی ماں کے سامنے اپنی پسندیدگی بتا نہیں سکتا تھا. کیونکہ وہ بھی اِن لوگوں کو اِتنا ہی ناپسند کرتی تھیں جتنا ہاجرہ بیگم.
اب وہ بس ﷲ سے بہتری کی دعا ہی کرسکتا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ڈاکٹر اِشمل کوئی پیشنٹ ہیں ڈاکٹر عثمان کے آفس میں بیٹھے ہیں. ڈاکٹر عثمان نے آپ کو بلانے کے لیے کہا ہے.
نرس کے پیغام پر وہ سر ہلاتی آفس کی طرف بڑھ گئی تھی.
دروازہ ناک کرتے وہ اندر داخل ہوئی تھی. ڈاکٹر عثمان کی چیئر تو خالی پڑی تھی. لیکن سامنے والی کرسی پر اُسے کوئی بیٹھا نظر آیا تھا. جیسے ہی وہ آگے بڑھی سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر اُس کا دماغ ایک پل کے لیے گھوم گیا تھا. جو مزے سے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھا اُسے مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا.
اُس پر غصے بھری نگاہ ڈال کر بغیر کچھ کہے اِشمل وہی سے واپس پلٹی تھی. جب آہان نے سرعت سے اُس کی کلائی پکڑ کر اُسے وہی روکا تھا. اور کھڑا ہوتا اُس کے سامنے آیا تھا.
اتنی بھی کیا جلدی جانے کی ڈاکٹر صاحبہ پہلے اپنے مریض کا چیک اپ تو کرلیں.
اُس کی آنکھوں میں جھانکتے وہ معنی خیزی سے بولا.
چھوڑو میرا ہاتھ. مجھے تم جیسے فضول اور گھٹیا انسان سے کوئی بات نہیں کرنی.
اِشمل غصے سے ہاتھ چھوڑواتی بولی. جب اُس کی بات پر آہان نے اُس کے بازو کو جھٹکا دے کر خود سے قریب کیا تھا.
اگر میں تمہاری ہر بات آرام سے سن لیتا ہوں تو اِس کا یہ مطلب نہیں تم مجھے کچھ بھی بولو گی. میری نرمی سے بات کرنے کا تم ناجائز فائدہ اُٹھا رہی ہو.
آہان سخت لہجے میں بولا.
تو کس نے کہا ہے تمہیں کہ آکر مجھ سے بات کرو. کیوں پیچھے پڑے ہو میرے.
اِشمل پیچھے کی طرف ہوتی اُسی کے انداز میں بولی.
اُس دن بتایا تو تھا کیا چاہتا ہوں میں.
آہان اُس کے غصے سے لال ہوتے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا.
میں تم جیسے انسان سے کسی صورت شادی نہیں کروں گی. اور تمہاری معلومات میں اضافہ کے لیے تمہیں بتادوں کہ میں انگیجڈ ہوں اور بہت جلد میری شادی ہونے والی ہے. اِس لیے شرافت سے میرے راستے سے ہٹ جاؤ.
اِشمل اُس سے اپنا ہاتھ چھوڑواتی وارن کرتے لہجے میں بولی.
جب اُس کی بات اور انداز پر آہان نے زور سے قہقہ لگایا تھا جیسے اِشمل نے اُسے شادی کی خبر نہیں کوئی جوک سنایا ہو.
اوہ نو یہ کیا کہہ رہی ہو تم اب کیا ہوگا. نہیں ایسا نہیں ہوسکتا.
اِشمل نے حیرت سے آہان کی طرف دیکھا تھا.
میری معصوم سی ڈاکٹر تمہیں کیا لگا تھا تمہاری اِس بات سے میں پریشان ہوجاؤ گا اور ایسے بولوں گا.
آہان اُس کے حیران چہرے کی طرف دیکھتا زرا سنجیدگی سے بولا.
تمہیں میں نے کیا کہا تھا تم صرف میری ہو. تو تمہیں کیا لگا تمہارے معاملے میں میں اتنا بے خبر رہوں گا. ایک ایک بات کا علم ہے مجھے. اور جو بات چل رہی تمہارے گھر میں وہ بھی بہت جلد ختم ہوجائے گی.
ابھی وہ مزید بات کرتا لیکن سیل فون پر آتی امپورٹنٹ کال کی وجہ سے نرمی سے اُس کا گال چھوتا وہاں سے نکل گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
احد اُس طرف بہت رش ہے اکیلے مت جاؤ آپی ابھی آرہی ہیں ڈانٹیں گی تمہیں.
ہما احد کو روڈ کے قریب کھڑے آئس کریم والے کے پاس جاتے دیکھ بولی. وہ لوگ اِشمل کے ساتھ شاپنگ کے لیے آئے ہوئے تھے. اِشمل اُنہیں وہی باہر رُکنے کا کہہ کر سدرہ کے ساتھ دوبارہ کسی کام سے اندر گئی ہوئی تھی. جب احد آئسکریم دیکھ کر اُس طرف بڑھا تھا.
کچھ نہیں ہوتا میں کوئی چھوٹا بچہ تھوڑی نہ ہوں. آپی کے آنے سے پہلے جلدی سے لے آتا ہوں.
ہما کو جواب دیتے وہ جلدی سے آگے چلا گیا تھا.
یار آہان آج کتنے دنوں کے بعد ملاقات ہوئی تم سے اتنے دنوں سے کہاں تھے.
حماد آہان سے بغلگیر ہوتے خوشدلی سے بولا.
میں تو اِدھر ہی تھا تم لگتا ہے آج کل کچھ زیادہ مصروف ہو.
آہان اُس کی طرف طنزیہ مسکراہٹ اُچھالتے بولا. جس پر حماد ڈھٹائی سے مسکرایا تھا.
مطلب تم اتنے غافل بھی نہیں ہو جتنا بنتے ہو. دو دن پہلے ہی وہ پاکستان آئی ہے. شاید کسی ایونٹ کے سلسلے میں. بہت ضد کررہی ہے تم سے ملنے کی.
حماد اُسے ٹاپ ماڈل صوفیہ کے بارے میں بتاتے ہوئے بولا. جو آہان رضا میر کی دیوانی تھی.
میں نے تم سے کچھ پوچھا اِس بارے میں.
آہان سرد نگاہ حماد پر ڈالتے بولا.
کیا تم اُس کی غلطی معاف نہیں کرسکتے. کتنی بار وہ تم سے معافی مانگ چکی ہے.
حماد ایک بار پھر اُس کی حمایت میں بولا تھا.
تم اچھے سے جانتے ہو میں کسی کو معاف نہیں کرتا بلکہ سزا دیتا ہوں. اور اُس کی سزا یہی ہے کہ میں اُسکی شکل بھی کبھی نہ دیکھوں. اور نہ ہی ابھی میرے پاس اتنا فضول وقت ہے اُسے ڈسکس کروں. گڈ بائے
آہان ابھی گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھنے ہی لگا تھا جب سامنے کا منظر دیکھ ایک پل کے لیے رُکا تھا.
اوہ شٹ.
سامنے سے وہ لڑکا اپنی ہی مستی میں چلا آرہا تھا.جب پیچھے سے ڈرائیور سے بے قابو ہوتا ٹرک اُس کے بہت قریب تھا.
وہ گاڑی کو وہی چھوڑتا اُس طرف بھاگا تھا.
احد سائیڈ پر ہو.
ہما احد کی طرف دیکھ کر زور سے چلائی تھی.
احد نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ٹرک اُس کے بلکل قریب پہنچ چکا تھا. اس سے پہلے کے ٹرک اُس سے ٹکراتا کسی نے اُسے بازو سے پکڑ کر ایک طرف کھینچا تھا.
آہان احد کو پکڑتے کر پیچھے کرتے پاس کھڑی گاڑی سے ٹکرایا تھا. احد نے اُس کا دوسرا بازو پکڑ کر خود کو گرنے سے بچایا تھا. وہ ڈر کے مارے ہولے ہولے کانپ رہا تھا.
آپ ٹھیک ہو.
آہان اُس کے سفید پڑتے چہرے کی طرف دیکھتے بولا. جب احد نے ہولے سے اثبات میں سر ہلایا تھا.
احد احد تم ٹھیک ہو. تمہیں لگی تو نہیں.
ہما روتے ہوئے احد کا چہرہ تھامتی بولی تھی.
آپ کا بہت بہت شکریہ. آپ نے میرے بھائی کی جان بچاکر ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے.
ہما آہان کی طرف دیکھتے تشکر بھرے لہجے میں بولی.
اِس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں ہے.لیکن آپ لوگ کیئر فل رہیں اتنی رش والی جگہ پر یوں لاپرواہی دیکھانا بہت خطرناک ہوسکتا ہے.
آہان نرمی سے اُس کو جواب دیتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا.
میں تم لوگوں کو وہاں ڈھونڈ رہی ہوں اور تم لوگ یہاں کھڑے ہو.
اِشمل اُن کو وہاں کھڑے دیکھ قریب آتے بولی.
کیا ہوا تم دونوں کو. ہما تم رو کیوں رہی ہو.
اِشمل اُن دونوں کی اُتری شکلیں دیکھ پریشانی سے بولی.
جب ہما نے نظریں نیچے کیے اُسے ساری بات بتائی تھی.
کیا. احد میری جان تم ٹھیک ہو کہیں چوٹ تو نہیں لگی. تم لوگوں کو منع کیا تھا. وہاں سے کہیں مت جانا.
اِشمل فکرمندی سے احد کو ساتھ لگاتے بولی.
وہ پہلے ہی اتنے ڈرے ہوئے ہیں تم اُنہیں مزید کیوں ڈانٹ رہی ہو. ہما جس نے احد کو بچایا وہ ہے کدھر.
کب سے خاموش کھڑی سدرہ اِشمل کو ٹوکتے ہما سے پوچھتے ہوئے بولی.
وہ اُدھر…. لگتا ہے وہ چلے گئے ہیں.
ہما اُس طرف اشارہ کیا تھا. جہاں کچھ دیر پہلے اُسے گاڑی میں بیٹھتے دیکھا تھا. لیکن اب وہ وہاں سے جاچکا تھا.
اچھا چلو گھر چلتے ہیں. ﷲ اُس شخص کو اِس نیکی کا اجر دے.
اِشمل احد کا ہاتھ تھامے اُن کو وہاں سے چلنے کا اِشارہ کرتے آگے بڑھی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
