59K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

آہان تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے نکلا تھا. اُسے ایک عجیب بے چینی سی فیل ہورہی تھی دو دن سے اِشمل سے کوئی بات نہ کرنے کی وجہ سے اُس کا موڈ بھی بہت آف تھا.
ابھی وہ آدھے راستے پر ہی پہنچا تھا جب سیل پر ہما کی کال دیکھ اُس نے ریسیو کرتے فون کان سے لگایا تھا. لیکن ہما کی بات سنتے اُسے اپنی سانس رُکتے محسوس ہوئی تھی. اُس کی مزید کوئی بات سنے بغیر آہان نے گاڑی شاپنگ مال کی طرف موڑی تھی. گاڑی کو فل سپیڈ میں بھگاتے بیس منٹ کا راستہ پانچ منٹ میں طے کرتے وہ وہاں پہنچا تھا. وہاں لوگوں کا بہت رش موجود تھا. فائر بریگیڈ والے بھی پہنچ چکے تھے. سیکورٹی گارڈ لوگوں کی بھیڑ کو قابو کرنے کی کوشش کررہے تھے. آہان بھاگنے کے سے انداز میں گاڑی سے اُترتے تیزی سے بھیڑ کو چیرتے آگے کی طرف بڑھا تھا.
سر آپ اندر نہیں جاسکتے اندر بہت خطرہ ہے آگ ہر طرف پھیل چکی ہے.
اُسے اندر کی طرف جاتے دیکھ سیکورٹی گارڈز نے اُسے پکڑ کر روکنا چاہا تھا. آہان ایک پل کے اندر اِشمل تک پہنچ جانا چاہتا تھا. اِشمل کی جان خطرے میں ہونے کا سوچ وہ پاگل ہورہا تھا.
اندر میری بیوی موجود ہے ڈیم ایٹ.
آہان اُنہیں پکڑ کر دور پھینکتے اندر کی طرف بڑھا تھا. اُوپر کی نسبت نیچے والے فلور میں آگ کم پھیلی تھی ابھی. آہان بہت مشکل سے آگ کے بیچ میں سے راستہ بناتا آگے بڑھا تھا. سیکنڈ فلور پر جانے والی لفٹ مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آچکی تھی. آہان جلدی سے دوسری طرف سے ہوتے سیڑھیوں کی طرف بڑھا تھا. لیکن سیکنڈ فلور پر پہنچ کر اُس کے قدم تھم سے گئے تھے. ہر چیز آگ کی لپیٹ میں آچکی تھی. ہر طرف دھواں اور آگ کے شعلے بھڑکنے کی وجہ سے آہان کو راستے کا تعین کرنے میں بھی بہت دشواری کا سامنا ہو رہا تھا. لیکن وہ کسی صورت ہمت نہیں ہارنا چاہتا تھا اِشمل کو لیے بغیر یہاں سے باہر نکلنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا.
وہ ایریا بہت بڑا ہونے کی وجہ سے آہان اِشمل کو اتنی آسانی اور جلدی ڈھونڈ کافی مشکل تھا. جب کچھ سوچتے اُس نے موبائل نکالتے اِشمل کا نمبر ڈائل کیا تھا.
بیل جارہی تھی لیکن اِشمل نے کال ریسیو نہیں کی تھی. جس پر آہان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہورہا تھا. دوسری کے بعد تیسری کال پر فون اٹینڈ کر لیا گیا تھا. جب سپیکر پر اُبھرتی اِشمل کی گھبرائی ہوئی آواز سن کر آہان کے بے قرار دل کو جیسے قرار آیا تھا. اُس نے پہنچنے میں دیر نہیں کی تھی اُس کی اِشمل ٹھیک تھی اب وہ اُسے کچھ نہیں ہونے دے گا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

لوگوں کو بھاگتے دیکھ آگ کا سن کر اِشمل بھی گراؤنڈ فلور کی طرف بڑھی تھی جب افرا تفری کے عالم میں کیفے کے چھوٹے سے دروازے سے لوگ مشکل سے راستہ بناتے نکل رہے تھے. اِشمل آگے بڑھی تھی جب پاس سے گزرتے شخص کا دھکا لگنے سے اُس کا سر بُری طرح سامنے والی دیوار سے ٹکرایا تھا. اور وہ اپنے حواسوں پر قابو نہ رکھتے وہی بے ہوش ہوکر گری تھی.
جب اُس کو ہوش آیا تو اُس کے چاروں طرف آگ پھیل چکی تھی. پورا کیفے خالی ہوچکا تھا. آگ آہستہ آہستہ ہر چیز کو اپنے لپیٹ میں لے رہی تھی. آگ کو اپنے اردگرد دیکھ اِشمل کواپنی موت بہت قریب نظر آئی تھی. وہ اب کسی قسم کی مدد کی اُمید نہیں کرسکتی تھی کیونکہ اِس بھڑکتی آگ میں کوئی پاگل شخص ہی کود سکتا تھا. اور وہ یہ بات نہیں جانتی تھی کہ واقعی اُس کی محبت میں پاگل شخص اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اُس آگ میں کود چکا تھا.
اِشمل خوفزدہ انداز میں ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھی تھی. دھوئیں کی سمیل سے اُس کا سر بُری طرح چکرا رہا تھا. جب اُس کی آنسوؤں بھری آنکھوں کے سامنے پاپا, ماما , ہما اور احد کے ساتھ ساتھ اُس دشمنِ جاں کا چہرا بھی لہرایا تھا. جو اپنے حق جماتے محبت اور دھونس بھرے انداز سے اُس کے دل میں پورے طمطراق کے ساتھ براجمان ہوچکا تھا.
آہان رضا میر..
اِشمل نے محبت سے اُس کا نام پُکارا تھا. جب اچانک کچھ فاصلے پر گِرے موبائل پر نظر پڑتے اِشمل نے آگے ہوکر اُسے اُٹھایا تھا. موبائل پر جگمگاتا نمبر دیکھ اُس کا دل زور سے دھڑکا تھا. ابھی تو اُس نے آہان کو پوری شدت سے پُکارا بھی نہیں تھا.
اِشمل نے جلدی سے کال اٹینڈ کی تھی.
اِشمل ڈرنےکی ضرورت نہیں میں تمہارے قریب ہی ہوں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا. تم مجھے جلدی سے بتاؤں تم سیکنڈ فلور پر کس سائیڈ پر ہو.
اُس کی گھبرائی آواز سن کر آہان اُسے تسلی دیتے بولا.
نہیں آہان یہاں بہت آگ پھیل چکی ہے تم آگے مت آنا.
اِشمل اُس کی بات سنتے چلائی
اِشمل یہ ضد کرنے کا ٹائم نہیں ہے جو پوچھا ہے اُس کا جواب دو.
آہان اُس سے ڈبل آواز میں چلایا تھا.
میں کیفے کے اندر موجود ہوں. یہ لفٹ سے آگے دائیں طرف دو تین شاپ چھوڑ کر ہے.
اِشمل کی بات پر آہان کیفے کی لوکیشن کافی حد تک سمجھ چکا تھا. کیونکہ وہ نیچے سے لفٹ دیکھ چکا تھا کہ وہ کس سائیڈ پر ہے. اِشمل اُس سے زیادہ دور نہیں تھی.
اِشمل فون بند مت کرنا اوکے.
آہان اُسے ہدایت دیتا آگے بڑھا تھا.
بہت مشکل سے راستہ بناتے وہ کیفے کے بلکل سامنے پہنچ چکا تھا. جب اُس کی نظر شیشے کے پار موجود اِشمل پر پڑی تھی. اِشمل بھی اُسے دیکھ چکی تھی. کیفے میں داخل ہونے والا راستہ پوری طرح آگ کی لپیٹ میں آچکا تھا. آہان نے اردگرد نظریں دوڑائی تھیں جب اُس کی نظر ایک طرف پڑے قالین پر پڑی تھی. آہان نے قالین اُٹھا کر کھولتے اُس سے خود کو کور کیا تھا. اِشمل اُسے مسلسل سر ہلا کر اندر آنے سے منع کررہی تھی. آہان ایک ہی جست میں آگ میں کودا تھا. اِشمل اُسے اِس طرح آگ میں چھلانگ لگاتے دیکھ زور سے چلاتے بے ہوش ہوکر بیچے گری تھی.
آہان کیفے کے اندر پہنچا تھا قالین میں کور ہونے کی وجہ سے محفوظ رہا تھا لیکن قالین کو ایک کونے سے آگ پکڑ چکی تھی. آہان نے پاؤں مار کر پہلے آگ کو بھجایا تھا اور پھر بےتابی سے نیچے گری اِشمل کی طرف بڑھا تھا. اُس کا چہرا تھپتھپاتے اُسے ہوش میں لانے کی کوشش کی تھی لیکن اِشمل کو ہوش میں نہ آتے دیکھ آہان نے اُسے کندھے پر ڈال کر دونوں کے گرد اچھے سے قالین اوڑھی تھی اور احتیاط سے گزرتے وہاں سے نکل آیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

آہان پریشان نظروں سے بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹی اِشمل کو دیکھ رہا تھا. جس کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا. ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ڈاکٹر اُس کا چیک اپ کرکے گیا تھا. ڈاکٹر کے مطابق وہ ڈر اور دھویں کی وجہ سے بے ہوش تھی تھوڑی دیر میں ہی ہوش میں آجانا تھا.
آہان اِشمل کے پاس بیڈ پر آبیٹھا تھا. اور ہولے سے اُس کے ہاتھ کو تھام کر لبوں سے لگایا تھا.
آہان…نہیں آہان کو کچھ نہیں ہونا چاہئے.
اِشمل بند آنکھوں سے چلاتی یکدم ڈر کر اُٹھی تھی. جب آنسوؤں بھری آنکھوں کے ساتھ اپنے سامنے بیٹھے آہان کو دیکھا تھا. اور آگے ہوکر اُس کا چہرا دونوں ہاتھوں سے چھوتے اُس کا اپنے سامنے ہونے کا یقین کرنا چاہا تھا. آہان جانتا تھا وہ اِس وقت ڈر کے زیرِ اثر اپنے حواسوں میں نہیں تھی. اِس لیے اُسے سینے سے لگاتے اپنے ہونے کا احساس دلاتے خود میں بھینچا تھا.
آہان نے یہ کچھ گھنٹے جس اذیت میں گزارے تھے وہ مزید اِن کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا. اُسے آج شدت سے احساس ہوا تھا کہ یہ لڑکی اُس کی سانسوں سے بھی زیادہ ضروری تھی اُس کے لیے. اِشمل چاہے اُس سے جتنی بھی نفرت کرے لیکن اب وہ ایک پل بھی اُس کے بغیر جینے کا تصور نہیں کرسکتا تھا.
اِشمل بلکل اُس کے سینے سے چمٹی ہوئی تھی. اُس کے گرد بازو باندھے اُس کے سینے میں چہرا چھپائے وہ اُس سے کسی صورت جدا ہونے کو تیار نہیں تھی. اور آہان بھی کب ایسا چاہتا تھا. وہ بھی اُسے مکمل طور پر اپنے حصار میں لے چکا تھا.
اِشمل پوری رات ایسے ہی اُس کے سینے پر سر رکھ کر سوتی رہی تھی. صبح بہت لیٹ اُس کی آنکھ کھلی تھی. جب پورے حواسوں میں لوٹتے اپنی پوزیشن سمجھتی شرم سے سُرخ ہوئی تھی. وہ بلکل آہان کے اُوپر چڑھ کر سورہی تھی. اُس کا سر آہان کے چوڑے سینے پر دھرا اُس کے دائیں کندھے کی طرف لڑھکا ہوا تھا. اور بائیاں بازو سائیڈ سے آہان کی کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا. آہان کا بازو بھی اُس کے اُوپر ہونے کی وجہ سے وہ اُس کی قید میں تھی. ہمیشہ کی طرح آہان کو شرٹ لیس دیکھ اِشمل کو مزید حجاب نے آگھیرا تھا. وہ اُس کے اُوپر سے اُٹھنا چاہتی تھی لیکن ایسا کرنے سے آہان کی آنکھ کھلنے کا خطرہ تھا کیونکہ اِشمل جانتی تھی اگر آہان کی آنکھ کھل گئی تو اُس کی خیر نہیں. وہ ابھی اِسی شش و پنج میں مبتلا تھی لیکن مزید اِس پوزیشن میں رہتے اُس نے شرم سے ہی بے ہوش ہوجانا تھا اِس لیے آرام سے اُس کا بازو اپنے اُوپر سے ہٹانا چاہا تھا.
جاناں سونے دو تنگ مت کرو.
آہان نے اُس کی حرکت پر ٹوکتے کروٹ بدلتے اِشمل کو اپنے مزید قریب کرتے اُس کی گردن میں چہرا چھپایا تھا.
اِشمل نے اُس کے اِس عمل پر شرم سے دوھرے ہوتے اُس کی حصار سے نکلنا چاہا تھا. لیکن آہان ابھی چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا. اِشمل نے ایک نظر اپنے گرد لپٹے اُس کے کسرتی بازوؤں کو دیکھا تھا. اُسے آج آہان کی بانہوں میں رہنا بُرا نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایک سکون سا محسوس ہورہا تھا. اُس نے آہان کو سمجھنے میں غلطی کر دی تھی. وہ واقعی ایک خوبصورت دل کا مالک اور اُس سے بے انتہا محبت کرتا تھا. جس طرح وہ کل اُس کی خاطر آگ میں کودا تھا وہ یاد آتے ہی اِشمل کو اُس کے ساتھ اپنے پچھلے رویہ پر جی بھر کر پچھتاوا ہو رہا تھا. اور ساتھ اپنے دل میں اُس کے لیے پروان چڑھتے جذبوں کا بھی شدت سے احساس ہوا تھا. کیونکہ وہ خود بھی تو اُسے خطرے میں دیکھ کر برداشت نہیں کر پائی تھی.
اِشمل کو اِسی پوزیشن میں لیٹے آدھا گھنٹا گزر چکا تھا. جب اِشمل نے ایک بار پھر اُس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی تھی. آہان کی گرم سانسوں سے اُسے اپنی گردن جلتی محسوس ہوئی تھی.
جاناں مطلب تم پورا ارادہ کر چکی ہو مجھے سونے نہیں دینا.
آہان کی اُس کی ہلکے ہلکے جھٹکوں سے آنکھ کھل چکی تھی. اُس کے رُخسار کا بوسہ لیتے وہ خمار بھرے لہجے میں بولا.
تم سو جاؤ لیکن مجھے تو جانے دو بارہ بج چکے ہیں.
اِشمل اُس کے تیور سے گھبرا کر بولی.
تمہارے بغیر نیند کہاں آنی ہے.
آہان اُس کے چہرے پر بکھری بالوں کی لِٹوں کو کان کے پیچھے اڑستے بولا. اور اُس کے سُرخ چہرے پر جھکنے ہی والا تھا جب دروازے پر ہونے والی دستک پر دونوں اُس طرف متوجہ ہوئے تھے.
سر نیچے عارفین صاحب آئے ہیں.
آہان کے پوچھنے پر ملازمہ باہر سے ہی جواب دیتی پلٹ گئی تھی.
یار اِس کو بھی ابھی ہی آنا تھا.
آہان بدمزہ سا ہوتے بولا. کیونکہ اِشمل اُس کی بانہوں سے نکلنے میں کامیاب ہوتی واش روم کی طرف بڑھ گئی تھی.
ڈئیر وائف زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے. اِس فرار کا بدلہ میں رات کو سود سمیت لوں گا.
آہان کی پیار بھری دھمکی سنتے اِشمل کی دھڑکنے منتشر ہوئی تھیں. اِس شخص کی تھوڑی سی قربت برداشت نہیں ہوتی تھی. اور اُس کی شدتوں کا سوچ اِشمل کے ابھی سے ہی پسینے چھوٹ چکے تھے.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤