Rate this Novel
Episode 36
ہمیشہ اپنی محبت کا امتحان دیتے آج سیاہل خان بھی خانی کے دل میں اپنی محبت کی شدت جاننا چاہتا تھا. خانی کو کسی قیمت پر وہ اِن لوگوں کے ساتھ اِس حویلی سے باہر ایک قدم بھی نہیں بڑھانے دیتا. یہ بات بول کر وہ صرف خانی کے خیالات جاننا چاہتا تھا کہ کیا وہ اِس بات سے بدگمان ہوکر اُس کی بے پناہ محبت اور ریاضت کو یوں بے مول کر جائے گی. یا آج کے دن اُس کی محبت کا مان رکھتے اُسے سُرخرو کرے گی.
سیاہل کی بات پر خانی ایک سخت سی گھوری سے اُسے نوازتے بعد میں نبٹنے کا سوچتی پہلے اپنے بھائی اور چچا کی جانب متوجہ ہوئی تھی.
” یہ شخص تمہارے آدھے خاندان کو تو ختم کر ہی چکا ہے. باقی جو رہ گئے ہیں اُن کو بھی کردے گا. اور سب جانتے بوجھتے تمہیں ابھی بھی اِس شخص پر بھروسہ ہے. اِس نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کروایا وہ بھی تب جب میں اپنی بیوی کے ساتھ تھا. تمہارے سامنے یہ مجھے صرف تمہاری نظروں میں اچھا بننے کے لیے چھوڑ آیا. ورنہ درحقیقت یہ مجھے مروانا چاہتا ہے. “
میران نے نفرت بھری نظروں سے بڑے ہی پرسکون انداز میں بیٹھے سیاہل کو گھورتے خانی کو اُس کے خلاف کرنا چاہا تھا.
سیاہل خان تو جیسے ریلیکس سے انداز میں اپنا معاملہ کلیئر کیے بیٹھا تھا. کہ چاہے خانی اُس پر اعتبار کرے یا نہ کرے وہ خانی کو کسی قیمت پر خود سے جدا نہیں کرسکتا تھا. چاہے ہمیشہ کے لیے ناراض ہوجاتا (جو کہ ناممکن تھا.) مگر خانی کو رہنا تو اُس کے پاس ہی تھا.
” بھائی آپ جس یقین کہ ساتھ میرے شوہر پر یہ الزام لگا رہے ہیں. اُتنے ہی یقین سے میرے سر کی قسم کھا کر اِس بات کی تصدیق کردیں تو شاید میں اِس بارے میں کچھ سوچ بھی لوں. کیونکہ مجھے اپنے شوہر پر پورا بھروسہ ہے. وہ ایسی گھٹیا حرکت کر ہی نہیں سکتے. اور جس بات سے آپ ہچکچا رہے ہیں. میں وہی کرسکتی ہوں. آپ کے سر کی قسم کھا کر پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں. یہ آپ کی غلط فہمی ہے.
اگر سیاہل خان نے میران بلوچ کو مارنا ہوتا تو بہت پہلے مار دیا ہوتا.
میرے شوہر کو اچھے سے پتا ہے میری لائف میں کون کتنی اہمیت رکھتا ہے. تو میری وجہ سے آپ کو نہ پہلے کبھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے سیاہل خان نے نہ آگے کبھی کریں گے. میں گارنٹی دیتی ہوں آپ کو اِس بات کی. “
خانی ایک ہی سانس میں بولتی اپنے شوہر پر لگایا گیا پہلا الزام نہایت ہی خوبصورتی سے اُن لوگوں کے منہ پر ہی لوٹا گئی تھی.
جبکہ سیاہل خان تو اپنی شیرنی کا یہ نیا رُوپ دیکھ بھونچکا گیا تھا. سیاہل خان کی آنکھوں کی سنجیدگی اب دلکش مسکان میں بدل گئی تھی.
اتنے زبردست دفاع پر اُس کا دل چاہا تھا. ابھی ایک حسین انعام دے ڈالے اپنی خانی کو.
خانی جو اتنے کانفیڈنس سے اپنے غصے سے بھرے بیٹھے تایا اور بھائی کے سامنے بول رہی تھی. اُس کی ایک وجہ وہاں سیاہل خان کی موجودگی تھی. جو یہ جنگ اُسے خود لڑنے دینا چاہتا تھا. مگر اُس کے ساتھ پھر بھی موجود تھا.
میران کو اب خانی پر غصہ آرہا تھا. جب سیاہل نے اُس کے باپ کا قتل قبول کرتے اُسے جانے کا بول دیا تھا. تو وہ کیوں آنے کا نام نہیں لے رہی تھی.
” ٹھیک ہے میں مانتا ہوں. شاید شک کی بنیاد پر خود پر ہوئے حملے پر میں سیاہل خان پر الزام لگا رہا ہوں. مگر اِس بات کو تم کیسے نظر انداز کر سکتی ہو کہ تمہارا شوہر تمہارے باپ کا انتہائی بے دردی سے قتل کرچکا ہے. کیا تم اِس شخص کی باتوں میں آکر اتنی پاگل ہوچکی ہو. کہ اپنے باپ کے قاتل کے ساتھ رہنے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے تمہیں. “
میران نے خانی کو قہر برساتی نظروں سے دیکھتے پوچھا تھا. اُسے خانی کا سیاہل کی حمایت کرنا ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا.
” میں ضرور دوں گی آپ کی بات کا جواب مگر پہلے آپ کو میری بات کا جواب دینا ہوگا.
اگر آپ کی آنکھوں کے سامنے ایک شخص آپ کے باپ کو بے دردی قتل کرکے غلط نیت سے آپ کی ماں کی جانب بڑھ رہا ہو تو کیا کریں گے آپ. خاموش تماشائی بنے سب دیکھتے رہیں گے.”
خانی کے انکشاف پر جہاں میران کو جھٹکا لگا تھا. وہیں سیاہل بھی خانی کے سچائی سے واقفیت پر حیران ہوا تھا. انا بی نے تو اُسے یہی بتایا تھا. کہ اُنہوں نے خانی کو ابھی اِس حقیقت سے آگاہ نہیں کیا. تو مطلب خانی نے اِس حقیقت کو جاننے کے بعد بھی اُسے قبول کیا. اور کبھی اُسے بھنک بھی نہیں لگنے دی.اور نہ ہی کبھی اِس حوالے سے کوئی روڈ بی ہیوئیر شو کروایا.
سیاہل کو یہ سب جان کر بہت زیادہ خوشی ہوئی تھی. اُس کے دل میں موجود آخری پھانس بھی نکل گئی تھی.
” کیا مطلب ہے تمہاری اِس بات کا. “
میران عجیب سی کیفیت کا شکار ہوا تھا.
” وہی جو آپ سمجھ چکے ہیں. سیاہل خان جس کنڈیشن میں تھے. اُس میں کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا. “
خانی نے اُس وقت کا شکر ادا کیا تھا. جب اُس رات ڈیرے پر جاتے نجانے کس خیال کے تحت انا بی نے خانی کے سامنے اِس سچائی سے پردہ اٹھا دیا تھا. خانی کو یہ سن کر گہرا صدمہ پہنچا تھا. مگر اُسے کہیں بھی سیاہل خان غلط نہیں لگا تھا.
اُس دن جب اُس کے بابا اسجد بلوچ نے سیاہل کو اُس کے ماں باپ سمیت شہر سے آتے کڈنیپ کیا تھا. تو اُس کے بابا کو بے دردی سے مارنے کے بعد اُن کے قدم بُری نیت سے حسنہ بیگم کی جانب اُٹھے تھے. سیاہل خان کو تو وہ بچہ مان کر بعد میں نبٹنے کے لیے نظر انداز کر گئے تھے. اور یہی اُن کی سب سے بڑی بھول تھی.
سیاہل جو اچھے سے جانتا تھا. اُس کے بابا خفیہ طور پر شرٹ کے اندرونی حصے میں اپنی گن چھپا کر رکھتے تھے. وہ جلد سے بے سُدھ پڑے اپنے بابا کی گن ڈھونڈ کر اپنی ماں کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کرتے اسجد بلوچ پر فائر کھول گیا تھا.
جسے بعد میں اُس کے آدمیوں نے آکر اپنے سر لے لیا تھا. تب اگر سیاہل خان قاتل ثابت ہوجاتا تو اُس کا سردار بننا مشکل تھا. اِس لیے یہ بات دبا دی گئی تھی. لیکن پھر بعد میں یہ راز بھی سب کے سامنے آگیا تھا. جس کا کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہوتے ذوالفقار بلوچ کچھ نہیں کرپائے تھے.
” کیا بکواس کیے جارہی ہو تم. پاگل ہوگئی ہو کیا. اپنے مرے باپ کے بارے میں اتنا گند کیسے بک سکتی ہو تم. “
کب سے خاموش بیٹھے ارشد بلوچ میران کو خانی کی باتوں میں آتا دیکھ اور بازی اپنے ہاتھ سے نکلتے دیکھ خانی پر چلائے تھے.
” میری بیوی سے زبان سنبھال کر بات کرو ارشد بلوچ. ورنہ تمہاری یہ گندی زبان گدی سے کھینچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی مجھے. “
سیاہل ارشد بلوچ کی بات پر اُن سے دوگنی آواز میں دہاڑا تھا. خانی کی زرا سی بھی بے عزتی آخر سیاہل برداشت کر بھی کیسے سکتا تھا.
میران نے خاموش نظروں سے سیاہل خان کی جانب دیکھا تھا. اتنا عرصہ جس بات پر وہ اِس شخص سے شدید نفرت کرتا آیا تھا. اِسے مروانا چاہا تھا. اُس بات کے تو کوئی معنی کی نہیں تھے. اپنے آپ کو سیاہل کی جگہ پر ہونے کا سوچ کر اُس کی روح کانپ جاتی تھی.
میران کی آخری فکر جو خانی کی اِس حویلی میں حیثیت کو لے کر تھی. وہ سیاہل خان کے اُس کے دفاع کرنے اور خانی جس انداز میں اپنے شوہر کی محبت میں ڈٹی کھڑی تھی. وہ یہی ثابت کررہا تھا کہ اُس کی بہن خان حویلی میں بہت خوش تھی. سیاہل خان اور باقی حویلی والے اُسے اُس کا اصل مقام دے چکے تھے.
میران کو اِس سے بڑھ کر کچھ نہیں چاہیے تھا. اُسے صرف اپنی بہن کی خوشی عزیز تھی.
انتقام کی پٹی آنکھوں سے ہٹتے ہی اُسے اُن دونوں کی ایک دوسرے کے لیے محبت کی شدت صاف نظر آئی تھی.
” خانی میں بہت شرمندہ ہوں. بچپن سے ہی میرے دل میں سیاہل خان کے خلاف اِس قدر انتقام کی آگ لگا دی گئی تھی. کہ میں نفرت اور بدلے سے ہٹ کر کچھ سوچ ہی نہیں پایا. اور اپنی بہن کو سمجھنے کے بجائے اُس کی خوشیوں بھری زندگی میں آگ لگانے کی کوشش کرتا رہا. ہوسکے تو مجھے معاف کردینا. چلیں تایا جان. “
میران کی اِس وقت عجیب سی کیفیت ہورہی تھی. اپنے باپ کے حوالے سے اتنے بڑے انکشاف نے اُسے اندر سے توڑ دیا تھا. وہ اپنے باپ کے اِس بھیانک رُخ سے واقف نہیں تھا.
” میران تم کیسے اِن کی باتوں پر بھروسہ کرسکتے ہو. یہ صرف من گھڑت کہانیوں سے زیادہ کچھ نہیں ہے. میرا بھائی ایسا بلکل نہیں تھا. “
ارشد بلوچ کا دل چاہ رہا تھا. یہاں موجود تینوں افراد کا اپنے ہاتھوں سے قتل کردے. جو اُن کی برسوں سے کی گئی پلاننگ کو ایک جھٹکے میں مٹی میں ملا گئے تھے.
” تایا جان اب اِس حوالے سے باقی سب باتیں گھر جاکر ہی ہونگی. “
میران نے اُنہیں خاموش رہنے کی ہدایت کی تھی.
” بھائی…. “
خانی جانتی تھی اُس کا بھائی بُرا نہیں تھا. بس غلط لوگوں اور ایموشنز میں پھنس کر وہ غلط راستے پر نکل آیا تھا.
مگر اب جب اُس کی آنکھیں کھل چکی تھیں. اور جس فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے اُس نے خانی سے معافی مانگی تھی. خانی کا دل اُس کے لیے بالکل صاف ہوگیا تھا.
خانی کے پکارنے پر میران نے رُک کر اُس کی جانب دیکھا تھا. خانی چہرے پر آسودہ سی مسکراہٹ سجائے اُس کے سینے سے جالگی تھی.
” تھینکیو سو مچ بھائی. اور آئم سوری میں نے آپ سے بہت بار بدتمیزی کی.
بھائی میں سیاہل خان سے بہت زیادہ محبت کرتی ہوں. وہ بہت اچھے ہیں. اگر ہوسکے تو میری خاطر اُن سے صلح کرلیں. “
خانی میران سے ملتی پیچھے ہٹی تھی. خانی کے چہرے کی رونق دیکھ جہاں سیاہل خان کا دل پرسکون ہوا تھا. وہیں ارشد بلوچ کے اندر الاؤ بھڑک اُٹھے تھے. اُنہوں نے اپنا جوان بیٹا کھویا تھا. اتنی آسانی سے تو وہ سیاہل خان کو چھوڑنے والے نہیں تھے. اور اب تو اُن کے انتقام کی آگ میں جلنے کے لیے میران بھی شامل ہوچکا تھا.
میران خانی کی بات پر دل سے مطمئن ہوتا. اُس سے پیار کرتے پلٹنے ہی لگا تھا. جب سیاہل خان کی آواز نے اُس کے قدم ایک بار پھر روک دیئے تھے.
” میران بلوچ اچھا لگا دیکھ کر کہ تم نے بے جا نفرت اور بدلے کی آگ میں جلتے اپنے احساسات اور انسانیت کو مرنے نہیں دیا.
میری تم سے کبھی کوئی دشمنی نہیں رہی. اِس لیے تمہیں ایک مخلصانہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں. کہ اپنے اردگرد نظریں دوڑاؤ اور سوچوں کہ اگر میں نے تم پر حملہ نہیں کروایا تو اور کون ہے جو تمہیں مارنا چاہتا ہے. کہیں تم اپنے اردگرد آستین کے سانپ تو نہیں پال رہے. “
سیاہل نے میران کو مخاطب کرتے اُسے آنے والے خطرے سے باور کروایا تھا. جبکہ اُس کی گہری طنزیا نظریں ارشد بلوچ پر جمی ہوئی تھیں.
جنہیں محسوس کرتے ارشد بلوچ کا دل چاہا تھا. اپنے بیٹے کے اِس قاتل کا سینہ یہی گولیوں سے چھلنی کر دے. مگر اِس وقت اُن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے. یہاں کوئی جذباتی قدم اُٹھا کر وہ اپنی موت کو آواز نہیں دینا چاہتے تھے.
میران سیاہل کا اشارہ اچھے سے سمجھ چکا تھا. وہ پہلے ہی اپنی کی گئی غلطیوں کی وجہ سے سیاہل خان کے آگے بہت شرمندہ تھا. اور اب اُس کی اپنی بھلائی میں کہی بات اُس کو مزید شرمسار کر گئی تھی.
کبھی بھی انسان کو جذبات میں آکر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے. جو بہت میں اُسے شرمندگی کے گڑھے میں دھکیل دے. جیسا اِس وقت میران کے ساتھ ہورہا تھا.
میران بنا کچھ بولے سیاہل کی بات پر اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے نکل گیا تھا.
اُن کے جاتے ہی خانی خونخوار تیور لیے سیاہل خان کی جانب پلٹی تھی.
” سردار سیاہل موسٰی خان بہت آسان ہے نا. آپ کے لیے بول دینا کہ میں یہ حویلی چھوڑ کر چلی جاؤں. میرے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتے نا آپ تو مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے. آپ سے بات کرنے کا. خبردار جو اب آپ میرے قریب آئے یا مجھے مخاطب کرنے کی کوشش بھی کی تو. مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا. “
خانی غیض و غضب کی تصویر بنی اپنی جانب آتے سیاہل خان کو اُنگلی اُٹھا کر وارن کرتے بولی.
جبکہ سیاہل اپنی شیرنی کی دھاڑ پر ہونٹوں پر بے ساختہ اُمڈ آنے والی مسکراہٹ نہیں روک پایا تھا. جسے دیکھ خانی کے غصے میں مزید اضافہ ہوا تھا.
مطلب سردار صاحب اُسے سیریس لے ہی نہیں رہے تھے.
” پر میرا قصور کیا ہے سردارنی جی جس کی اتنی سنگین سزا سنائی جارہی ہے. “
اُس کے غصے کی وجہ جانتے بوجھتے سیاہل معصوم بنا تھا. جو خانی کو مزید آگ لگا گیا تھا.
سیاہل خان نے اُسے روکنا چاہا تھا. مگر اُس کے پاس آنے سے پہلے ہی وہ سیاہل کو تیز گھوری سے نوازتے وہاں سے نکل گئی تھی.
سیاہل خان کو اِس وقت خانی کی ناراضگی بھی مزا دے رہی تھی. سیاہل خان کا دفاع کرتے اپنے تایا اور بھائی کے سامنے جیسے ڈٹ کر کھڑی ہوئی تھی. وہ سب دیکھ سیاہل کی خوشی بیان سے باہر تھی. خانی اُس کی محبت نہیں عشق تھی. جو آج اپنوں کے خلاف جاکر اُس سے وفا نبھا گئی تھی.
سیاہل خان اتنا خوش پہلے کبھی نہیں ہوا تھا جتنا اِس وقت تھا.
مسکراہٹ اُس کے لبوں سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی. وہ خانی کی ناراضگی اور غصے بھرا رُوپ سوچ کر دلکشی سے مسکراتے باہر کی جانب بڑھ گیا تھا. ابھی اُسے اپنی روٹھی شیرنی کو بھی منانا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
میران اِس وقت بہت لو فیل کررہا تھا. وہ حویلی واپس آکر بنا کسی سے کوئی بات کیے اپنے کمرے میں آگیا تھا. روم میں داخل ہوتے ہی اُس کی نگاہوں نے بے اختیار کسی کو تلاشا تھا.
گاؤں واپس آتے وقت اُسے شہرین کو اکیلا شہر چھوڑنا مناسب نہیں لگا تھا. اِس لیے وہ شہرین کو اُسی حالت میں ساتھ لے آیا تھا.
لیکن اُس کے بعد اب تک اُس کی شہرین سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی. وہ اُس دن پارٹی میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے میران سے اِس قدر شرمندہ اور گھبرائی ہوئی تھی. کہ سامنے آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی. ابھی بھی شاید اُسی کی آمد کا سن کر وہ کمرے سے نکل گئی تھی.
میران جو خانی کے منہ سے اپنے باپ کے متعلق ساری سچائی جاننے کے بعد ذہنی طور پر بہت ڈسٹرب تھی. شہرین کے خیال پر اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی. اُس نے انٹر کام پر شہرین کو روم میں بھیجنے کا حکم دیا تھا.
جب کچھ دیر بعد شہرن روم میں داخل ہوتے دکھائی دی تھی.
” سائیں آپ نے بلایا مجھے کوئی کام تھا کیا. “
شہرین سر جھکائے بیڈ پر بیٹھے میران کے قریب آئی تھی.
میران کی نظریں سیاہ چادر میں لپٹی شہرین پر ٹکی ہوئی ہیں. جو اُس کے پہلے دیئے جانے والے آرڈر کے مطابق خود کو اچھے سے اُس سے چھپائے ہوئے تھی. لیکن آج جب میران بلوچ کے جذبات شہرین کے حوالے سے بدل چکے تھے تو اُسے یہ تھان دنیا کی سب سے ناپسندیدہ چیز لگ رہا تھا.
” روم میں میرے سامنے اِس کو کرنے کی ضرورت نہیں ہے. چینج کرو اِس تھان کو. “
میران اِس وقت اپنے جذبات و احساسات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے بہت نارمل لہجے میں اُس سے مخاطب ہوا تھا. لیکن اُس کی بات پر جہاں شہرین کو پسینے چھوٹے تھے.وہی اُس کا خمار آلود انداز خطرے کی گھنٹی بجا گیا تھا.
شہرین خاموشی سے الماری کی جانب بڑھی تھی.
میران بنا کسی ہچکچاہٹ کے پورے استحقاق سے شہرین کی ایک ایک حرکت نوٹ کررہا تھا. جبکہ میران کی تیز نظروں کی تپیش پر شہرین کو اپنی ہتھیلیاں بھیگتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں.
شہرین نے جیسے ہی شال اُتاری تھی. اُس کا دلفریب سراپا میران کا سانس روک گیا تھا. پرپل ڈریس میں وہ سادہ سے حلیے میں بھی میران بلوچ کے دل کی دنیا میں طوفان برپا کر گئی تھی.
” میرے سر میں درد ہے. سر دباؤ میرا. “
میران نے اُس کے قریب آنے پر اگلا حکم صادر کیا تھا. اُس کی ہر بات کسی روبوٹ کی طرح مانتی وہ اِس بار بھی خاموشی سے میران کے قریب آئی تھی.
میران کو جہاں پہلے اُس کے یوں کسی روبوٹ کی طرح ہر حکم کی تعمیل کے لیے ہاتھ باندھے کھڑا ہونا بُرا لگتا تھا. اب کہیں نہ کہیں اُسے مزا آنے لگا تھا. وہ اِس شہرین کو بدلنا چاہتا تھا. اُسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اُس کی باندی نہیں بیوی ہے. جس کو حق ہے اپنے جذبات اور احساسات بیان کرنے کا. مگر اُس کو اُس کی حیثیت باور کروانے سے پہلے میران اِن لمحوں سے لُطف اندوز ہونا چاہتا تھا.
” اِس طرح نہیں. ایسے تو تم تھک جاؤ گی. یہاں بیٹھ جاؤ. “
میران نے اُسے کھڑے دیکھ بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا.
پرپل سوٹ میں شہرین کا نازک رعنائیاں بکھیرتا وجود اُسے اپنی جانب متوجہ کررہا تھا.
شہرین خاموشی سے میران کے آرڈر کے مطابق بیڈ پر ٹک گئی تھی. لیکن اُس کی دھڑکنوں نے اودھم تو اُس وقت مچایا جب میران اُس کی گود میں سر رکھے نیم دراز ہوا تھا.
” کیا ہوا سر دباؤ میرا. “
شہرین کو ساکت بیٹھا دیکھ میران نے ٹوکا تھا. جس پر کپکپاتا ہاتھ اُس کی پیشانی پر رکھتے وہ ہلکا ہلکا مساج کرنے لگی تھی. اُس کی اُنگلیوں کی پوروں کی نرماہٹوں پر میران کو اپنے رگوں و پے میں ایک سکون سا اُترتا محسوس ہوا تھا.
میران بلوچ کی اتنی قربت پر شہرین کی نازک جان اِس وقت عذاب کے زیرِ اثر تھی. اُس کی تیز ہوتی سانسیں اور دھڑکنوں کی بڑھتی رفتار اُسے پاگل کررہی تھی.
” کیا تم اپنے گھر والوں سے ملنا چاہو گی. “
اچانک کیے جانے والے میران کے سوال پر اک پل کے لیے شہرین کا ہاتھ رُکا تھا. لیکن پھر اپنے کام میں مصروف ہوتے وہ آنکھوں کی نمی پیچھے دھکیل گئی تھی.
” نہیں سائیں. “
شہرین کی نم آلود آواز اور غیر متوقع جواب پر میران نے حیرت سے سر اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا.
” کیوں نہیں ملنا چاہتی. “
میران کی نظریں شہرین کے لال اناری چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں.
” کیونکہ میرے ماں باپ کی ڈیتھ ہوچکی ہے. اور گھر والوں میں کوئی موجود نہیں ہے. سوائے چچا چچی کہ جو خون بہا میں دے کر اپنی جانب سے نہایت خوشی سے مجھے مرا ہوا قرار دے چکے ہیں. “
شہرین نے شاید پہلی بار اتنی تفصیل سے کوئی جواب دیا تھا. اُس کا بھیگا لہجہ میران کا دل بے چین کرگیا تھا. یہ نازک سی لڑکی اپنے اندر اتنے دکھ لیے ہوئے تھی. میران جیسے اُسی لمحے خود سے عہد کرگیا تھا. کہ اِس پیاری لڑکی کو اتنا پیار دے گا کہ وہ اپنے پچھلے سارے دکھ بھول جائے گی.
اپنے ماتھے پر رکھی اُس کی ہتھیلی کو اپنی گرفت میں لے کر میران نے لبوں سے لگائی تھی. جس پر واقعی شہرین لمحے کے ہزارویں حصے میں اپنی گزری تلخ زندگی کی سوچوں سے نکلتی حیا سے مزید لال ہوئی تھی.
اُس کے ویران چہرے پر بکھرتے رنگ میران بلوچ کی بے چینی میں کمی کر گئے تھے.
” تم اتنی معموم ہو بھی نہیں. میری اور فاکیہ کی ساری گفتگو سنتی رہی کبھی بتایا ہی نہیں کہ تم سب سمجھتی ہو. ویسے کیا کیا باتیں سنی تھی تم نے ہماری. “
میران کی اچانک بدلتی ٹیون شہرین کے اوسان خطا کررہی تھی.
شہرین کی خاموشی پر میران نے اُسے اپنے اُوپر جھکاتے اُس کا چہرا اپنے چہرے کے بلکل قریب کیا تھا. اتنا کہ دونوں کی سانسیں ایک دوسرے میں الجھنیں لگی تھیں.
” وہی جو آپ اُسے بولتے تھے. “
شہرین کی حالت خراب ہورہی تھی.
” کیا بولتا تھا. “
میران بے خودی کے عالم میں بولا. شہرین کی سانسوں کی مہک اُسے بُری طرح بہکا رہی تھیں.
” وہ شاید آپ کی مجھ سے شادی کرنے پر ناراض تھیں. تو آپ انہیں منا رہے تھے. اور بہت جلد اُن سے شادی کرنے کی بات کررہے تھے. “
شہرین تو میران کے حکم کی تعمیل ایسے کرتی تھی کہ اگر اُس کی حکم عدولی کرنا بہت بڑا گناہ ہو. اِس لیے ابھی بنا اُس کی شرارت سمجھے وہ کسی رٹو طوطے کی طرح بول گئی تھی.
بریک تو اُسے تب لگی جب اُس کے کانوں میں میران کا قہقہہ گونجا تھا.
” غلط کہا تھا میں نے. تم واقعی بہت معصوم ہو. “
میران کے مذاق اُڑاتے انداز پر شہرین اُسے گھور بھی نہ سکی تھی. وہ اُس کے بہت قریب تھی. میران کی گرم سانسیں اُس کا چہرا جھلسائے ہوئے تھیں.
” تم میری ہر بات کیوں مانتی ہو. “
میران نے شہرین کی جھکنے کی وجہ سے آگے آجانے والی چوٹی کو ہاتھ پر لپیٹ کر ہلکا سا جھٹکا دیتے اُس کو اپنے مزید قریب کیا تھا.
” سائیں آپ میرے شوہر ہیں. آپ کے ہر حکم کی تعمیل کرنا میرے لیے جان سے بڑھ کر ہے. “
شہرین اپنے کپکپاتے لہجے کو نارمل رکھنے کی کوشش کرتے بنا سوچے سمجھے روانی میں بول گئی تھی.
جبکہ اُس کی بات پر میران کے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ آجانے کے ساتھ ساتھ اُسے ایک شرارت سوجھی تھی.
” اوکے تو مجھے تم سے یہاں کِس چاہئے. “
میران نے چہرے پر سنجیدگی لیے آرڈر دیا تھا. مگر اُس کی آنکھیں مسلسل مسکرا رہی تھیں.
” سائیں یہ آپ کیا کہہ رہے. “
شہرین نے گھبراہٹ کے مارے آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھا تھا. مگر میران کے چہرے کے تاثرات اُسے بلکل بھی قابلے رحم نہیں لگے تھے.
” کیا ہوا ابھی تو تم نے کہا. حکم کی تعمیل کے لیے جان بھی دے سکتی ہو. یہ تو بہت چھوٹا سا کام ہے. “
میران کی شوخیاں عروج پر تھیں. شہرین کو وہ کسی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں لگا تھا.
وہ اُسے بھلا کیا بتاتی اُس کا یہ حکم جان دینے سے بھی زیادہ مشکل تھا.
میران نے آنکھیں بند کی تھیں تاکہ اُس کی مشکل کچھ آسان ہو. لیکن کچھ لمحوں کے بعد بھی کوئی لمس تو محسوس نہیں ہوا تھا. مگر چہرے پر گرنے والے آنسوؤں پر میران نے چونک کر آنکھیں کھولتے اُسے دیکھا تھا.
شہرین کو روتا دیکھ میران جھٹکے سے اُٹھ بیٹھا تھا.
” کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو. “
میران اُس کے پاس ہوتے اُس کا آنسوؤں سے تر چہرا دونوں ہاتھوں میں تھام گیا تھا.
” سائیں آپ ایسا کیوں کررہے ہیں. اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو مجھے کوئی اور سزا دے دیں. یہ سزا میرے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے. آپ کا اِس طرح میرے قریب آنا مجھے چھونا بہت اذیت میں مبتلا کر رہا ہے.”
شہرین آنسوؤں کے درمیان بمشکل بولی تھی. جبکہ اُس کی بات پر میران کو دھکا سا لگا تھا. وہ اس کی محبت کو کس قدر غلط انداز میں لے چکی تھی. اُس کے خالص جذبوں کو وہ اُس کی ہوس سمجھ کر سزا سے تشبیہ دے رہی تھی.
یہ سب سوچتے میران کا دماغ گھوم چکا تھا. میران نے انتہائی طیش کے عالم میں شہرین کو کمر سے دبوچ کر اپنے قریب تر کیا تھا.
میران کا چہرا غصے سے لال دیکھ شہرین کی سانسیں حلق میں اٹکی تھیں. اُسے شدت سے اپنے غلط بول جانے کا احساس ہوا تھا.
” اپنی بات کا مطلب سمجھتی ہو. میرا قریب آنا تمہیں سزا معلوم ہورہا ہے. ایسی کیا اخلاقیات سے گری حرکت کردی میں نے. تمہیں میں اِس سے بھی زیادہ قریب لانے کا حق رکھتا ہوں. اور وہ میری ہوس نہیں. میرا حق ہے. اگر چاہوں تو کچھ ہی لمحوں میں تم سے اپنا حق وصول کرسکتا ہوں. مگر شکر کرو. میران بلوچ تمہارے معاملے میں اب بہت نرم ہوچکا ہے.
محبت کرنے لگا ہے تم سے. کیا تمہیں ایک بار بھی میرے والہانہ انداز سے اِس بات کا احساس نہیں ہوا. یا میرے لمس میں ایسا کیا گھٹیا پن محسوس ہوا تمہیں. جو تم میری محبت کو اتنے غلط معنوں میں لے گئی. “
میران کا غصے سے بُرا حال ہورہا تھا. شہرین کے الفاظ کسی ہتھوڑے کی طرح اپنے دماغ پر لگتے محسوس ہورہے تھے. شہرین کو جھٹکے سے خود سے دور کرتا وہ بیڈ سے اُٹھ گیا تھا. جبکہ شہرین جو اُس کے محبت کے اظہار پر ہکا بکا سی تھی. اُس کی ضبط سے ہوتی لال آنکھیں دیکھ کر اور اُس کے یوں ناراض ہوکر دور جانے پر تڑپ اُٹھی تھی.
” سائیں میری بات..……”
شہرین نے کچھ بولنا چاہا تھا. حب میران نے ہاتھ اُٹھا کر اُسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا.
” بہت ہرٹ کیا ہے تم نے آج شہرین. نجانے کب سے یہ دل اندر ہی اندر تمہیں چاہنے لگا ہے. میرا قصور ہے کہ میں نے خود اپنی محبت کو سمجھنے میں دیر کردی.
مگر اتنے ٹائم میرے ساتھ رہتے تمہیں میرے کردار کی پختگی کا اندازہ تو ہو جانا چاہئے.اگر میں اتنا ہی ہوس پرست ہوتا تو…… “
میران سختی سے ہونٹ بھینچتا اپنی بات ادھوری چھوڑتا روم کا دروازہ زور سے بند کرتے باہر نکل گیا تھا. جبکہ اُس کی ادھوری بات کا مطلب سمجھتے شہرین شرم سے لال ہوئی تھی.
اِس وقت اُسے خود پر شدید غصہ آنے کے ساتھ ساتھ میران کی لال اذیت بھری آنکھیں دیکھ تکلیف بھی بہت ہورہی تھی.
وہ میران کو اتنا غلط کیسے بول سکتی تھی. اتنے وقت ایک ساتھ رہتے میران نے بھلا کب اس سے زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی.
شہرین کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا کہ کہیں میران اُس کی اِس بات پر غصے میں آکر اُسے چھوڑ ہی نہ دے. ہمیشہ کے لیے خود سے جدا نہ کردے. کیونکہ اب میران کے بغیر رہنا اُس کے لیے ناممکن اور جان لیوا امر تھا.
شہرین کو اطلاع ہوچکی تھی کہ میران خانی سے مل کر آیا تھا. اور کسی بات پر حد سے زیادہ ڈسٹرب بھی تھا.
اب اِس بات کا احساس ہوتے کہ میران سکون حاصل کرنے اُس کے پاس آیا تھا. اور وہ بھی اُسے بُری طرح ہرٹ کر گئی تھی شہرین کا دل بے چینی اور بے قراری کی حدود تجاوز کر گیا تھا.
وہ میران بلوچ کو سکون دینے تو نہیں ہاں مگر مزید ذہنی ٹینشن دینے میں کامیاب ہوچکی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے…
