Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Last Episode)

Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan

بیٹا تم نے مجھے اتنی جلدی معاف کر دیا ۔۔۔میں نے تم پر اتنا ظلم کیا

کیا کیا نہیں کہاتمھیں تمھارے کردار پر ۔۔انگلی اٹھائی ۔ حتی کہ میں یہ تک بھول گئ کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے کیسی پر انگلی اٹھانے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ چار انگلیاں ہمارے طرف بھی ہوتی ہیں ۔میں نہ تو ایک اچھی ساس اور نہ ہی اچھی ماں بن سکی ۔۔اپنے ہی سگے بیٹے کی خوشیوں کی دشمن تھی ۔۔اس قدر کہ اپنے ان ہاتھوں سے ۔۔۔خود اپنے بیٹے کی خوشیاں چھین لی ۔۔

اور اسکو اسکی محبت سے الگ سے الگ کرنے کی بہت کوششیں کی لیکن دیکھو نہ ۔۔اسکی محبت میں تڑپ تھی کیونکہ وہ گڑیا سے بہت پیار کرتا تھا اور کرتا ہے ۔۔۔اور تمھارا نکاح بھی اسی سے ہو گیا ۔۔

مجھے معاف کردو بیٹا میں بہک گئ تھی میں نے وحید صاحب اور مرزا سکندر کی دوستی میں دڑاڑ پیدا کر دی ۔۔۔

صرف اسلیے کہ تم دونوں کا رشتہ نہ ہو سکے ۔۔

لیکن میں شاویز کے دل سے کبھی تمھیں نکال نہیں پائی ۔۔

خدا کے لیے روشائل بیٹا مجھے معاف کردو ۔

جیسے سبین نے اپنے دونوں ہاتھ ۔۔اسکے سامنے کیے ۔۔اسنے جلدی سے ان ہاتھوں کو تھام لیا ۔۔

نہیں ۔نہیں آنٹی آپ ایسا مت کریں ۔۔اور رہی بات معافی کی تو میں نے آپکو معاف کیا ۔اگر میرا خدا اتنا رحیم و کریم ہے اور وہ چاہتے ہئں کہ آپ درست راستے پر چلیں تو پھر میں کیسے آپ کو روک سکتی ہوں

آپ میری بڑی ہیں ۔۔ہاں جو بھی غلطیاں ۔ماضی میں ہوں گی لیکن ان کی تلافی تو کی جا سکتی ہے ۔

اور مجھے یقین ہے امی ۔سب کچھ بلا کر پہلے جیسی ہو جائیں گئ

یہ سنتے ہی سبین پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور اسنے بے اختیار روشائل کو اپنے سینے سے لگا لیا

میری بچی ۔۔۔۔تم بہت اچھئ بیٹی ہو روشائل ۔۔

آپ بھی بہت اچھی ہیں روشائل کی آواز بھیگ گئ ۔۔خدا نے اسے اتنی خوشیوں سے نواز دیا ۔۔۔واقعی خدا تعالی بڑا نوازش والا ہے ۔جو اپنے بندے کو ۔۔امتحان میں کامیابی پر

بہت خوشیوں سے نوازتا ہے ۔۔اور آج اسنے مجھے میرئ زندگی کی ساری خوشیاں لٹا دی ۔کچھ ماضی کی تلخیاں تھئ

جو کبھی بھولی تو نہیں جا سکتی تھی لیخن بھولنے کی کوشش کی تو کی جاسکتی تھی ۔۔۔

زندگی کا یہ اصول ہوتا ہے ازمائش کے بعد ۔۔خوشی ۔دستک دیتی ہے ۔لیکن آزمائش کے مراحل اتنے آسان نہیں ہوتے ۔اس میں صبرو شکر ۔۔اور تحمل سے کام لینا پڑتا ہے اور اگر اسی ۔اصولوں کو ہم اپنا لیں تو ہماری زندگی سنور جاتئ ہے

وہ کہتے ہیں نہ ہر غم کی کالی رات کے بعد خوشی کا اجالا ضرور ہوتا ہے

*****************************************

ہیلو مسسز شاویز

شاویز ۔پلہز ایسے چوروں کی طرح نہ ڈرایا کرو ۔

کیوں ۔۔تم ڈر گئ ۔

نہیں میں تو نہیں ڈری ۔اسنے جوس کا گلاس پکڑتے ہوے کہا ۔

کہان لے کے جارہی ہو ۔۔؟

آنٹی کو جوس دینا ہے ۔

او اچھا ۔۔

کیوں کیا ہوا ہے ۔۔

ہوا تو کچھ نہیں ۔۔پر شاید اب ہو جاے ۔۔

کیا بات ہے ؟

بات یہ ہے ۔۔۔ملکہ عالیہ آج رات کو ڈنر کرنے ۔۔آپ میرے ساتھ باہر جائیں گی ۔

تو بولیے منظور ہے ۔۔

بلکل بھی نہیں ۔۔میں ۔اس معادے کو مسترد کرتی ہوں

دیکھ لیجیے نہیں تو ؟

نہیں تو ۔۔

اسنے بات آگے بڑھائئ

نہیں تو ۔۔ہم آپکی یاد میں ۔۔۔شراب پی لیں گے ۔

تم مجھے دھمکی دے رہے ہو ۔

نہیں میں تو بتا رہا ہوں ۔

ایسا کرنے سے کیا ہوگا

ہو گا تو کچھ نہیں ۔۔بس زرا گھر لیٹ آوں گا ۔

شراب؟ شاویز تمھیں میری قسم ہے کہ تم شراب نہیں پیو گے ۔۔

اس نے گھبراتے ہوے تلقین کی

جب تم آو گی نہیں تو ۔۔پھر کیسی کو تو ساتھ ہونا چاہیے

رات 9 بجے گاڑی میں

تمھارا انتظار کروں گا ۔

وہ یہ کہتے ہوے چلا گیا ۔۔

بلیک میلر کہی کا ۔۔۔روشائل نے دبے ہوے لہجے میں کہا اور سبین کے کمرے میں چلی گئ ۔

****************************************

مجھے بہت خوشی ہو رہئ سبین تمھارے اس فیصلے پر میں نے تو تمھیں پہلے کہا تھا کہ روشائل سے اچھی بیٹی اور بہو ہمارے شاویز کے لیے کوئی نہیں لیکن شاید تب تمھیں سمجھ نہئں آئی

تمھیں پتا ہے میں نے جب پہلی دفعہ دیکھا تھا اسے تو مجھے اس میں وحید کا عکس نظر آتا تھا ارفع بہن کی تربیت لیکن میں پہچان نہ پایا چلو جو بھی یو چکا ہے ۔۔

اب ہم پھر سے نئے سرے سے زندگی کا آغاز کریں گے

وحید اگر اس دنیا میں ہوتا تو اس سے معافی مانگتا

یہ کہتے ہی مرزا سکندر کی آنکھیں بھیگ گئ

پلیز مرزا صاحب آپ خود کو قصور وار مت ٹھہرایے ۔۔سارا زہر میں نے گولا تھا ۔آپکی دوستی میں دڑاڑ میں نے پیدا کی ۔

لیکن میں شرمندہ ہوں اپنے کیے پر ۔۔

خیر ۔۔سبین اب جو ہو گیا ۔

مرزا سکندر نے ارشد احمد کے گھر کے قریب گاڑی روکی

اور انکے دروازے پر دستک دی ۔

جیسے تسمیہ نے دروازہ کھولا۔

وہ وہی دھنک رہ گئ ۔۔

مرزا سکندر اور سبین نے باری باری اسے اپنے سینے سے لگایا

کون ہے تسمیہ ۔ ۔ کون آیا ہے یہ کہتے ہوے ارفع بیگم جب دروازے پر آئی ۔

اسکے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے

مرزا بھائی—-

(میرا تم سے تمھاری دوستی سے کوئی تعلق نہیں)

ارفع کو ساری ماضی کی یادیں ۔۔پھر سے تازہ ہو گئ ۔

اسکی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکلے ۔۔

آیے ۔۔نہ اندر آییں ۔

ارفع ۔۔میں

میں تم سے معافی مانگنے آئی ہوں اپنی ان تمام غلطیوں کی جو میں نے کی تھیں

مجھے علم ہے تمھارے لیے بہت مشکل ہے ۔مجھے معاف کرنا ۔

لیکن میں اپنی غلطیوں پر نادم ہون ارفع میں نے جو کچھ بھی کیا

وحید بھائی جیسے سچےانسان کی دوستی کو جھوٹا ثابت کیا ۔

مرزا کا تو کوئی قصور نہیں تھا ارفع جو بھی کیا میں نے کیا

مگر دیکھو نہ ۔قسمت نے ہمیں پھر سے جوڑ دیا ہمارے بچو ۔کا نکاح میں بندھنا ۔

ایک کڑی تھی جس نے ہم دونوں خاندانوں کو ملا دیا ۔

ارفع خاموش تھی وہ کیا کہتی ۔۔جو بھی کہنا تھا ۔۔وہ تو وحید صاحب کہتے لیکن اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے ۔۔

دیکھیں بھابی اپ فکر مت کریں ہم ارشد صاحب کا علاج بہتر سے بہتر کروائیں گے پریشانی والی کوئی بات نہیں ۔

مرزا سکندر نے تحمل انداز میں کہا

اچھا بھابی اب ہم چلتے ہیں آپ بھی آیئے نہ روشائل کو اچھا بھی لگے گا

جی جی ضرور ۔ارفع نے مسکراتے ہوے کہا

******************************************

وہ گاڑی میں بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا

9 بجنے میں 1 منٹ رہ گیا تھا کہ روشائل ۔ سامنئ سے آتی ہوئی معلوم ہوئی ۔۔۔

بلیک فراک میں ملبوس ۔انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔چہرے پر ۔۔رنگت کا نور تیخے نقوش اور معصومیت کا ۔پہرہ ۔تھا

کہ ہر کوئی دیکھتا رہ جاے ۔

مجھے پتا تھا تم آو گی ۔کیونکہ تم نہیں چاہتی تھی کہ میں شراب پیوں

نہیں ۔۔تو ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔جو تم سوچ رہے ہو ۔

ویسے آج تم بہت پیاری لگ رہی ہو

کیوں پہلے ۔نہیں تھی

نہیں ۔۔میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا ۔تم تو مجھے ہمیشہ سے ۔خوبصورت لگتی تھی اور لگتی ہو ۔

تبھی تو یہ دل تم پر ہار گیا ۔

اس نے ۔صرف تمھارے آگے گھٹنے ٹیک دیے ۔

واہ بڑی شاعرانہ باتیں کرنے لگے ہو

جی ۔۔آپ کی محبت کا اثر ہے ۔

تم ۔۔کوئی اور بات نہیں کر سکتے

جی ضرور کریں گے لیکن اسوقت صرف میں تو آپکی ہی باتیں کروں گا ۔

جیسے شاویز نے کہا ۔

وہ ہلکا سا مسکرا دی ۔۔۔

پاگل روشائل نے مسکراتے ہوے کہا ۔

تیرے پیار میں

شاویز نے ۔مسکراتے ہوے کہا ۔

***************************************

ارسل تو مجھے کہا لے آیا ہے

جیسے ارسل نے ۔۔شاویز کی آنکھوں سے پٹی کھولی ۔۔

شاویز ایک دم چونک گیا یہ وہی جگہ تھی جہاں یہ چاروں دوست بیٹھ کر اپنی زندگی کا ایک قیمتی وقت گزارتے تھے ۔

شاویز کی آنکھو ں میں آنسو اگئے ۔۔

دوستی کا رشتہ تھا ان کے درمیان لیکن جواد کی بے رخی ۔سے ۔

شاویز ۔اب کبھی اکھٹا نہیں

بئٹھا تھا ۔

یار شاویز ۔اب ایسے تو مت کر دیکھ معافی مانگتا ہوں یار مجھے معاف کردیے صرف ایک دفعہ ۔

سالے گلے سے لگا بڑا ترس گیا ہوں

جواد ۔

کی آنکھوں میں آنسو لہروں کی طرح ٹپک رہے تھے وہ اپنی غلطی پر شرمندہ تھا

چل پہچھے ہٹ ۔۔شاویز نے اسے دھکا دیا ۔

اور پھر زور سے اسے گلے لگا لیا ۔۔

یہ دوستی ۔کی مثال ہے یاروں ۔۔

کیونکہ دوستی وہ رشتہ ہے جو دلوں میں بس جاتا ہے ۔جو سانسوں کو جوڑ دیتا ہے ۔

پھر تعلق توڑنے کی بات ہی کیا ۔

آج چاروں دوست پھر سے مل کر اکھٹے بیٹھے تھے ۔۔ایک دوسرےکی زندگی ھالات جاننے کے لیے

سبکے چہروں پر الگ سی مسکراہٹ تھی

12 بج گئے ہیں ۔۔حد ہوتی ہے لاپرواہی کی بھی ۔

کہاں رہ گئے ہیں

پتا بھی ہے مجھے نیند نہیں آتی ۔لیکن انھیں کیا ۔انھیں تو مزہ آتا

ہے

وہ مین دروازے کے قریب کھڑی بار بار چکر لگا رہی تھی اور بار بار گھڑی کی طرف دیکھتی روشائل کا دل ۔بے قابو ہو رہا تھا

شاویز ۔۔۔

فون کیوں نہیں اٹھا رہے ۔

اللہ سب کچھ ٹھیک ہو ۔جاے ۔

وہ ابھی اسی فکر میں تھی کہ دروازہ کھولا

جیسے دروازہ کھولنے کی آواز روشائل نے سنی

جیسے اس نے شاویز کو دیکھا وہ بھاگ کر شاویز کے گلے لپٹ گئ

شکر ہے تم ٹھیک ہو پتا ہے تم نے میری جان نکلوا دینی تھی پتا بھی ہے شاویز میری کیا حالت یو جاتی ہے ۔۔۔جب تم گھر لیٹ آتے ہوے

وہ مسلسل بول رہی تھی ابھی تک اس نے مضبوطی سے شاویز کو جکڑا تھا

بات کرتے کرتے وہ اچانک رک گئ کیونکہ شاید وہ سب کچھ بول گئ تھی جو وہ شاویز –کے سامنے بولنے سے رکتی تھی

وہ ۔۔میں ۔۔میں ۔۔

روشائل موضوع تبدیل مرنا چاہ رہی تھی لیکن اسکی زبان اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی

شاویز نے اسے اپنے سامنے کیا اور اسکے ماتھے ہر چوما اور کہا جب تک تم میرے ساتھ مجھے کچھ نہیں ہو سکتا

وہ میں فرینڈز کے ساتھ لیٹ ہوگیا

اور ہاں

شراب کو ہاتھ نہیں لگایا

اس بات وہ دونوں مسکرا دیے

خوشیاں ہی خوشیاں انکی زندگی میں بھر آئی تھی ۔۔شاید جن کی توقع ۔روشائل نے نہیں کی تھی

سبین ۔مرزا سکندر ۔کا روشائل کے ساتھ اور اسکے گھر والوں کے رشتے اور گہرےمحبت کے رشتے میں بندھ گےے تھے

دونوں گھر آپس میں ہنسی خوشی ملتے

اور آخر بڑوں کے درمیان طہہ پانے والے فیصلے پر

روشائل

اور شاویز کی ایک بار پھر سب رشتہ داروں کے سامنے دھوم دھام سے شادی کی گئ

اور سب کے سامنے روشائل کو شاویز سکندر کی بیوی تسلیم کیا گئا

***********************************

دو سال بعد ۔

تمھاری عادتیں آج بھی ویسے کی ویسی ہیں شاویز ۔

جلدی اٹھو ۔۔

اتنا ٹائم ہو گیا ہے

روشائل نے شاویز کو آواز دیتے ہوے کہا

دی اینڈ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *