Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan NovelR50660 Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 11)
Rate this Novel
Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 11)
Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan
تھینک یوں روشائل نے ہلکا سا مسکراتے ہوے کہا ۔
اٹس اوکے ۔تمھاری برتھڈے میں کبھی نہیں بھولتا ۔اچھا میں تمھارے لیے
گفٹ لایا ہوں ۔پہلے کھڑی ہو
شاویز۔۔۔۔۔۔۔۔
کھڑی تو ہو ۔۔۔شاویز نے روشائل کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا ۔
ڈائمنڈ ۔۔۔رینگ روشائل نے چونکتے ہوے شاویز کی طرف دیکھا ۔
ہاں کیوں پسند نہیں آئی ۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔ایسے تم نے
او۔۔۔مس۔۔۔بریک لگاو ۔کچھ نہیں ہوتا ۔تم میری بیوی ہو اور شوہر کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی کو خوش رکھے ۔اسکی ہر ضروریات زندگی پوری کرے ۔۔
اور شوہر جو بھی چیز تحفہ وغیرہ لاے نہ تو بیوی کو خوشی سے قبول کر لینا چاہیے ۔
ارے واہ آپ تو بہت نیک پروین ہے ۔۔
دیکھ لو پھر تمھارا شوہر کتنا سمجھ دار ہے ۔۔۔
لگتے تو نہیں ہو ۔
کیوں ازما کے دیکھ لو ۔۔
نہیں ۔۔میں نہیں ازماتی ۔وہ بیڈ کی طرف بڑھنے لگئ
کہا جا رہئ ہو ۔شاویز نے ہاتھ پکرتے ہوے کہا
جہنم میں جانا ہے کیا؟
ہاے جہنم میں وہ تو عورتوں کی کثرت تعداد کا ٹھکانا ہے
ہاہا جیسے تو سارے مرد جنت میں ہی ڈالیں جائیں گے ۔۔
ہو سکتا ہے ۔شاویز نے مسکراتے طنزا کیا
تمھاری سوچ ہے ۔۔وہ یہ کہتی ہوئی پھر مڑی
اچھا سنو تو سہی ۔۔
کیا شاویز ۔۔۔
تھوڑی دیر اور باتیں کر لیں
صبح آافس جانے کا ارادہ نہیں ہے کیا؟
تم کہو تو نہیں جاوں گا ۔۔۔
نہئں میں تو ہرگز نہیں کہون گئ ۔۔۔
اچھا میں نے تمھیں کچھ کہنا ہے ۔۔۔
اس نے روشائل کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے ۔
دیکھو روشائل میں جانتا ہوں زندگی نے ہمیں کیسے ملایا یہ ناقابل توقع تھا اور تم نے جو کچھ بھی سہا ماما کا ظلم ۔میری تیخی باتیں ان سب کا ذمہ دار میں ہوں ۔۔لیکن میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں ۔۔اور ہمیشہ یہ میرے دل میں رہے گا چاہے تم مجھے معاف بھی کردو ۔لیکن اب میں تمھیں مزید کوئی دکھ نہئں دوں گا میں وعدہ کرتا ہوں روشائل میں تمھاری ساری زندگی خوشیوں سے بھر دوں گا ۔مشکل وقت ہو یا کچھ بھی ۔تمھارا شوہر قدم بہ قدم تمھارے ساتھ ہے ۔
ارے واہ ۔۔یہ تو بہت بڑا احسان ہو گیا شاویز ۔چلو اب ۔۔سو جاو ۔۔
ظالم بیوی ۔قدر کرو میری
شاویز نے ہستے ہوے کہا
روشائل مسکرائی اور لیٹ گئ ۔۔۔
نیند کہاں آنی تھی اسے وہ تو بس ۔۔۔اسے روک رہی تھی کیونکہ اسے پتا تھا کہ ۔اگر شاویز سے وہ اور باتیں کرتی ۔تو وہ خود ۔کو اسکے سامنے کمزور محسوس کرنے لگتی ۔
اسکی باتیں یاد کرتے ہوے وہ مسکرا رہی تھی ۔۔اور دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتی ۔۔کہ اسنے اسکا امتحان کامیاب کر لیا ۔
شاویز تم میری زندگی کا ایک ایسا حصہ بن چکے ہو ۔جس کے بغیر میں ایک پل نہیں گزار سکتی ۔۔پتا نہیں کیوں ۔میں خود کو تمھارے سامنے کمزور محسوس کرنے لگتی ہوں جب جب تم میری پرواہ کرتے ہو ۔جب گھر آتے میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہو ۔جب جان بھوج کر مجھے بلانے کی کوشش کرتے ۔ہو اور بار بار مجھ پر اپنا حق جتاتے ہو پتا نہیں کیوں ۔بڑھتے دنوں میں مجھے تمھاری یہ باتیں حرکتیں بھانے لگی ہیں ۔۔
چاہے تم جیسے بھی ہو لیکن اب میں ۔تمھاری ہوں ۔۔اور یہ بات ۔شاید مجھ سے کبھی نہ اقرار ہو سکے ۔۔
کیونکہ ۔شاید ماضی کے زخم اتنی گہرے نشانات چھوڑ گئے ہئں ۔کہ روح کانپ اٹھتی ہے
روشائل شاویز کی طرف ۔منہ کیا تھا جو سویا ہوا تھا ۔۔
*****************************************
شاویز ۔۔۔۔اٹھو ۔۔۔۔
اٹھو بابا نیچے تمھارا ناشتے پر انتظار کر رہے ہیں ویسے حد ہوتی ہے
کتنی دفع کہہ چکی ہوں میں
میں جانے لگی ہوں ۔۔ٹھیک ہے بعد میں آتے رہنا ۔۔
اچھا ۔۔اچھا ۔۔
آگیا ۔
ہاں اجا پلیز یہ میں نے تمھارے کپڑے نکال کر رکھیں ہیں فرش ہو کر جلدی سے نیچے آجاو ۔۔
روشائل یہ کہتی ہوئی کمرے سے باہر روانہ ہوئی
یہ لیں بابا آپکا جوس ۔
تھینک یوں سو مچ ۔۔بیٹا ۔
آو تم بھی کرو ناشتہ
جی
روشائل یہ کہتے ہوے چیر پر بیٹھ گئ ۔۔
سبین کو ناشتہ دے دیا ۔۔
جی ہاں ملازمہ کے ہاتھ بجھوا دیا تھا آپکو تو پتا ہے وہ مجھے دیکھنا پسند نہیں کرتی ۔۔
کچھ نہئں ہوتا بیٹا سب کچھ ٹھیک ہو جاے گا ۔۔
شاویز ۔
جی بابا جانی ۔
وہ آج ہماری میٹینگ تھی ۔۔مسڑ معقصود کے ساتھ ۔۔
جی آج 11 بجے ہے ۔
چلو ٹھیک ہے ۔
میں چلتا ہوں ۔۔
مسڑ مرزا کہتے ہوے باہر کی جانب روانہ ہو گئے ۔۔
***************************************
ہیلو ۔سارہ میری جان ۔۔۔
میرے پاس آجاو ۔۔میں بہت بیمار ہوں ۔۔
تو؟
وہ اکھڑی
تو کیا بیٹا ۔میں اس منہوس ۔کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی
دیکھیں خالہ ۔وہ منہوس تو اب آپکے گھر کی بہو بن چکی ہے اب چاہے آپ اسے جو مرضی کہیے آپکے بیٹے نے اسے گھر سے نکالنے کی بجاے مجھے گھر سے نکالا ۔
ارے واہ
سارا کھیل آپ کھیلتی رہی ۔۔۔شاویز کے ساتھ اور ویلن میں ۔واہ بہت اچھا گیم پلین کیا ہے
یہ۔۔یہ۔تم کیا کہہ رہی ہو بیٹا ۔
وہی کہہ رہی ہوں جو آپ نے سوچا اور کیا ۔اور ایک بعد یاد رکھ لیں میں نے شادی صرف شاویز کے ساتھ کرنی ہے ۔۔۔
پورے خاندان کے ساتھ نہئں کہ سب کا ٹھیکا ۔۔نہیں لیا میں نے سن لیا
آپ نے بھاڑ میں آپ اور آپکا بیٹا
سارہ نے یہ کہتے ہوے فون بند کیا
سبین ۔وہی دھنک سی رہ گئ ۔۔۔اسکا اپنی بہن کا خون ہی اسکے ساتھ ۔اتنی بدتمیزی کی ۔۔۔سارہ جس کے لیے میں نے اس لڑکی کو اتنی باتیں سنائی
اور ۔آج وہی مجھے بے سہارہ چھوڑ گئ ۔۔
شاید یہ مجھے سزہ ملی ہے ۔۔جو میں نے اس کے ساتھ اس قدر ظلم کیا ۔۔
سبین کی آنکھوں میں آنسو بہنے لگے ۔۔۔اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ اونچی اونچی روے لیکن وہ کیا کرتی
آنٹی یہ دوائی لیں
جیسے روشائل اندر داخل ہوئی ۔۔۔
اس نے میز پر دوائی رکھی اور باہر جانے لگی
روکو ۔۔
سبین کے کہنے پر اسکے قدم وہی رک گئے
ادھر آو ۔۔میرے پاس بیٹھو ۔۔
سبین نے اپنے ہاتھ سے ۔۔بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
وہ ہچکچائی اور بیڈ کی طرف بڑھی
سبین نے روشائل کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور کہا
اگر میں یہ کہو ۔کہ مجھے معاف کر دو تو کیا تم میرے سارے ظلم بھلا کر مجھے معاف کر دو گئ
سبین کی آواز میں ندامت ۔۔جھلکی ۔۔
آنسو سے اسکا چہرہ بھیگا تھا
جی میں آپ کو معاف کر دوں گی کیونکہ ۔عفودرگزر کرنا سب سے بڑی بات ہے ۔
تو خدا کے لیے روشائل مجھے معاف کر دو ۔۔
میں ۔۔میں نے تمھارے ساتھ بہت برا کیا ہے ۔۔تمھیں اتنی اذیتیں دی ۔
بس ایک دفعہ مجھے معاف کردو ۔شاید تمھارے ساتھ یہ سب کچھ کرنی کی سزہ پائی ہے کہ اب اپنے ہی ۔۔مجھے چھوڑ گئے
نہیں آنٹی ایسی باتیں مت کریں انشااللہسب کچھ ٹھیک ہو جاے گ اور رہی بات معاف کی وہ تو میں آپکو کب کا کر چکی ۔
پلیز آپ رویے مت ۔۔
کیا کروں روشائل یہ آنسو رکتے نہیں ۔۔
مجھے خوشی کے اللہ نے آپکو سیدھے را ستے پر چلای
