Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan NovelR50660 Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 05)
Rate this Novel
Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 05)
Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan
بھولی؟
نہیں ۔۔نہئں ۔وہ یہاں ۔۔یہاں دل میں بس چکی ہے
نام؟
یاد نہیں بس بچپن کی مگنی تھی
شاویز ۔۔کی
کی ہوئی باتیں ابھی تک روشائل کے دل و دماغ میں ایک نا بھولنے والی یادوں کی طرح گھوم رہی تھی اس کے لہجے میں ایک درد تھا انتظار کی ایک آس تھی وہ آج بھی اسی سے بے انتہا محبت کرتا تھا ۔اور اسکی محبت میں پاگل مجنو گلیوں گلیوں اپنے محبوب کی خاک چانتا اسکو ڈھونڈنے کے لیے بے پرواہ ۔۔عاشقوں کی طرح شراب پیتا اور اپنی محبت کو بھلانے کے لیے مجبورا سارہ سے مگنی کی اور مجھ سے؟
مجھ سے نکاح کیا ۔؟ نکاح نہیں تھا وہ ۔۔اس وقت میری زندگی کی نمائش لگی تھی سب لوگوں کے سامنے ایک وی نمائش جو میرے ابا نے میرے ہونے والے شوہر کے سامنے رکھی اور ایک شراب میں دھند شاویز سکندر کے نام ۔۔
میں جتنی بھی اس سے نفرت کر لوں لیکن نہیں کبھی اس سے الگ نہیں ہو سکتی ہاں اس چیز کا کوئی معنی نہیں کہ کبھی بھی وہ مجھے اپنی زندگی سے نکال دے یا مجھے ساری زندگی شراب میں دھند ہو کر اپنی بیوی تسلیم کرے گا لیکن جس چیز کو وہ ڈھونڈ رہا ہے ۔وہ شائد اسے کبھی نہیں ملے گی ۔کیونکہ ۔مجھے اس سے نفرت ہے ۔۔۔
وہ بار بار اپنے ۔۔دل کو اس بہلاوے میں بہکا رہی تھی ۔۔یہ سمجھانے کی کوششں کر رہی تھی کہ وہ شاویز سکندر سے نفرت کرتی ہے ۔صرف نفرت لیکن یہ دل لگی کی بازی ہے ۔جان جاے لیکن محبوب چاہے ستم گری میں ماہر ہی کیوں نہ ہو ۔پھر بھی یہ دل ۔۔اس سے نفرت کرنے سے گریز کرتا ہے وہ کیوں جب اس کی طرف دیکھتی تو اس کی طرف ایک کشش محسوس ہوتی کیوں مجھے تکلیف ہوتی ہے جب یہ شراب میں دھند گھر آتا ہے کیوں؟ آخر میں اسکی کیا لگتی ہوں ۔۔صرف نام کی بیوی ؟ یاں اسکی زندگی میں میری اہمیت صرف اتنی سی ہے کہ میں اسکے نکاح میں ہوں؟ایک بندش جس کی رسی شاویز سکندر کے ہاتھوں میں ہے جو کبھی بھی چھوڑ سکتا ہے ۔۔۔
بس کٹ پتلی کی طرح میری۔زندگی کا کھیل ہے شاویز سکندر ۔
انہی سوچوں میں گم تھی کی نماز فجر کی آذان گوجنے لگی وہ جلدی سے اٹھی نماز فجر ادا کی ۔۔
اور عموما ۔سار گھر کی صفائی کی ۔۔
وہ بار بار شاویز کے کمرے کو تک رہی تھی۔وہ ابھی۔تک نہیں اٹھا ۔۔تھا
دل پر جبر رکھتے ہوے وہ شاویز کے کمرے کے جانب بڑھی
دروازے کھٹکھٹانے کی ضرورت ہی نہیں تھی دروازہ کھولا تھا
جیسے وہ اندر بڑی ۔کمرے کی ساری چیزیں بکھری پڑی تھی ۔۔
اور وہ بیڈ کے ایک سائڈ کونے پر ۔۔۔سکڑتے ہوے لیٹا تھا صاف واضح تھا ۔۔کہ اسے ٹھنڈ لگ رہی تھی ۔۔۔
روشائل نے جلدی سے اے سی بند کیا ۔۔اور پنکھا آن کر دیا ۔اور کمبل شاویز پر اوڑ دیا ۔۔
اس کے لمبے لمبے بال ۔۔شاویز کے چہرے پر پڑے ۔۔جیسے ہی اسکی زلفوں نے سرگوشی کی وہ ۔۔تھوڑا سا ہیلا اور کروٹ بدلی ۔
روشائل جلدی سے پیچھے ہٹی ۔۔
اور شاویز ۔۔کے پیروں طرف دھیان دیا ۔۔جس میں ابھی ۔بھی ۔۔جرابیں پہنی تھی ۔۔
وہ بیڈ کے پیچھے رخ بڑی اسکے ۔۔پیروں سے جرابیں اتاری اسکے کے قریب پڑے شوز میں رکھی اور آئستہ آئستہ سارے کمرے کو صاف کیا ۔۔
جیسے اس نے الماری کا دروازہ کھولا ۔۔سارے کپڑوں کا تحس نحس تھا ۔۔کوئی بھی شرٹس ترتیب سے نہیں رکھی تھی ۔۔
اس نے شاویز کے آفس جانے کے لیے کپڑے نکالے سارے پریس ۔۔کیے
وہ گہری نیند ۔۔میں تھا ۔۔اور اسی کے خواب دیکھ رہا تھا ۔۔
جب بھی روشائل ۔۔اس کے آس پاس گزرتی ۔اسے یوں محسوس ہوتا ۔۔کہ شاید ۔۔اسکو کبھی دیکھا ہے لیکن پھر وہ نہیں میں سر ہلاتا
*************************************
جوس
روشائل نے یہ کہتے ہوے جوس کا گلاس ٹیبل پر رکھا
تھینک یوں
شاویز نے میٹھے بھرے لہجے میں کہا ۔
وہ جانے لگی تھی ۔۔۔پھر سے اسے روکا ۔۔
اور
وہ ہمیشہ کی طرح شاویز کی آواز تھی
ر۔۔۔ر۔۔۔
وہ لڑکھڑایا ۔شائد نام بھول گیا
روشائل
ہاں ایم سوری ۔۔۔۔یاد آیا اچھا روشائل وہ میں نے تمھیں کہنا تھا
کہ تم نے میرے روم کا سپیشلی الماری کا سیٹ اپ کیا تھینک یو سو مچ
اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے یہ تو میرا کام ہے
مطلب؟
مطلب آپ سمجھے گے نہیں
اسکے لہجے میں خفگی تھی ۔۔
وہ بنا دیکھا ۔۔۔سڑھیوں پر قدم رکھتے جا رہی تھی کہ یہ تک ہوش نہ رہی کہ آگے سڑھی ہے
لڑکھڑائی ۔۔اور پاوں پر دباو پڑنے پر زور سے گری آئی جیسے شاویز نے روشائل کی آواز
سنی وہ جھٹ سے ۔۔۔اوپر گیا
روشائل ۔کتنی دفعہ کہا ہے دھیان سے چلا کرو لیکن نہیں ۔ہمیشہ تم ایسے ہی چلتی ۔۔ہو
دیکھاو کہا چوٹ لگی ہے ۔۔دیکھاو ۔۔۔
نہئں ۔۔نہئں ۔۔رہنے دو ۔۔۔ پاوں پر ہلکی سی لگی ہے
یہ ہلکی ہے
دیکھاو تو سہی ۔۔۔
نیئں ۔۔۔۔شاویز ۔۔میں نے کہا نہ میں صیح ہوں
تم ایسے نہیں مانو گئ شاویز اٹھا اس نے روشائل کو اپنے ہاتھوں کے سہارے اوپر اٹھایا ۔۔۔۔
وہ گم سم ۔۔بس اسے دیکھتی جا رہئ تھی
وہ اس شخص سے نفرت کرنا چاہتی تھی لیکن ۔۔۔۔کیوں بار بار ۔۔وہ ناکام ہو جاتی ۔۔۔
اس کے چہرے پر ۔۔۔ایک پریشانی تھی ۔۔۔کیا شاویز کو بھی درد ہوئی ۔۔۔
وہ کیوں ایسا تھا ۔۔دو شخصیات جینے والا شخص ۔۔
آگے کرو پاوں ۔۔۔۔
روشائل ۔۔کو اپنا پاوں آگے کرنا پڑا ۔۔۔
اس نے کوئی میڈیسن ۔۔لگائی ۔۔۔
اسکے ۔ہاتھ ۔بلکل نرم تھے ۔۔۔جیسے جیسے وہ لگاتا وہ اپنی نشیلی آنکھوں سے روشائل کی طرف دیکھتا کہ کہی اسے درد تو نہئں کو رہئ
************************************
ارے واہ ۔۔۔میڈم ۔۔صاحبک اب ٹھیک نہ ہونے کا بہانا کرے گی ۔۔
ایک دن ۔باہر کیا گئ ۔تم نے اپنی اوقات دیکھا دی ۔۔۔
کام تو تمھیں کرنا پڑے گا ۔۔
چلو اٹھو۔۔
سبین ۔۔نے روشائل کا بازو پکڑا اور نیچے دیکھیلا ۔۔
یہ جو ناٹک کرتی ہو ۔۔اپنے پاس رکھو ۔۔اور کام پہ لگو
اس سے ۔۔صیح سے چلا ۔۔نہئں جا رہا تھا ۔لیکن وہ کیا کرتی مجبور تھی ۔۔
یہ کہتے ہوے سبین باہر نکلی اور فون کال اٹھائی
میں نے کیا کہا تھا ۔۔۔ایک کام ڈھنگ سے نہئں ہوتا ایک بات یاد رکھ لو۔۔شاویز ۔کو اس لڑکی کا پتا نہیں چلنا چاہیے ۔۔
آگے غریب ۔۔لوگ گھر میں کم ہیں جو دوسری کو لیں آئیں ۔۔
جو بھی کرو ۔۔اسے یقین دلاو ۔کہ اسکی شادی ہو چکی ہے
جی ٹھیک ہے میں پھر سے کوشش کرتا ہوں فون میں زے کیسی نے کہا اور فون بند ۔۔کر دیا
************************************
آج ۔۔پارٹی ہے شہریار ۔۔نے چونکتے ہوے سارہ سے پوچھا ۔۔
جی ۔
میںنے اور شاویز ۔ نے سوچا ہے ۔۔کیوں نہ تم لوگوں کو پارٹی دی جاے ۔۔ہماری اینگیجمنٹ کی
جیسے سارہ نے کہا
ارسل ۔نے ۔۔شاویز کی طرف دیکھا ۔۔جو ۔۔
فون مصروف تھا ۔وہ ابھی بھی اسے ڈھونڈنے کی کوشش میں لگا تھا ۔۔
کیوں بھئ ۔۔شاویز صاحب ۔۔جیسے جواد نے کہا
شاویز نے ۔
جواد کی طرف دیکھا ۔۔
ہاں ۔۔ٹھیک ہے ۔۔ اسے ابھی بھی ۔۔اسی کی فکر تھی ۔۔۔۔
اک گم سم سا سماں تھا ۔۔۔سب کے دلوں میں ایک خوشی کی لہریں جوم رہی تھی ۔۔سب رات کو ہونے والی پارٹی کے لیے بہت پرجوش تھے سہتے مسکراتے ہوے چہروں میں اسکا چہرہ ۔۔۔سونا تھا کیسی کو اپنانے کی چاہ میں ۔۔اسکی دل لگی ادھوری تھی ۔وہ کیسے سارہ سے منگی کر رہا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا اسکے پاس کوئی حل نہیں تھا کئ بار تو وہ ہار جاتا لیکن پھر یہ دل ۔۔میں میچے ۔۔جذباتوں کا سمندر ۔۔اسے سکون سے نہ بیٹھنے دیتا ۔وہ اپنی عاشقی کے لیے بے قرار تھا ۔اس کو ایک نظر دیکھنے کے لیے بے تاب تھا ۔
یہ تو بہت اچھا ہے ۔۔سارہ ایسے سب انجواے بھی کرلیں گے ۔تم اور شاویز ٹائم بھی سپینٹ کر لو گے تھوڑا۔۔ساتھ
روشائل سب کو کوک سرو کر رہی تھی ۔۔شاویز اور اسکے تمام دوست موجود تھے ۔
جیسے سبین نے کہا ۔روشائل نے شاویز کی طرف دیکھا ۔جو مسکرا تو رہا تھا ۔۔لیکن اسکی مسکراہٹ ۔۔صاف واضح تھی کہ ۔۔۔وہ رات کو ہونے والی پارٹی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی
تم کیا کر رہی ہو دے دیا ناں
جیسے سارہ نے روشائل کی طرف دیکھتے ہونے کہا ۔۔تلخ لہجہ ۔۔
اس نے معصومی سے سر ہلایا
تو پھر یہاں کیا کر رہی چلی جاو ۔۔جب ضرورت ہو گی تب بھلا لیں گے ۔۔
سبین نے طنز مسکراتے ہوے ۔۔سارہ کی طرف دیکھا جواد شہریار سب مسکراہٹ لیکن شاویز ۔۔کو بھی مجبورا ۔۔اس طنزا مسکراہٹ کا حصہ بننا پڑا
وہ آگے بڑھنے لگی تھی ۔۔کہ پیچھے سے ۔ارسل نے اسے روکا ۔۔
بھابھی رکیے جیسے ارسل نے کہا سب کے چہرے چونک گئے ۔۔
سارہ اور سبین نے ایک دوسرے کی طرف ۔۔حیرت سے دیکھا ۔یوں مانو جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہو شاویز ۔۔ارسل کی طرف دیکھ رہا تھا
شاید ۔ارسل ۔کچھ دیر پہلے روشائل کے ساتھ کی ہوئی بدتمیزی کا ۔۔بدلہ لیا تھا
وہ پلٹی نہیں تھی ۔۔بس اسکے قدم رک گئے ۔۔
بھابی روشائل ۔۔آپ بھی آئے
بھابی ؟ یہ کیا کہہ رہے ہو ارسل ۔۔یہ کوئی بھابی وھابی نہیں ہے ۔۔
سارہ نے وضاحت دی
خیر جہاں تک میرا علم ہے شاویز نے باقاعدہ نکاح کیا تھا روشائل کے ساتھ ۔۔
تو یہ بھی پتا ہو گا ۔کہ نشے میں کیا تھا ۔۔
کیا تو نشے میں تھا لیکن نکاح کے سارے رسم ادا کی تھی ۔۔اور اسے پتا بھی تھا
کیوں شاویز ۔
جیسے ارسل نے کہا ۔
شاویز چپ تھا ۔۔
وہ کیا کہتا ۔کیا بتاتا ۔۔کہ میں اسکے نکاح میں ہون نہیں ۔۔وہ سب کے سامنے مجھے کبھی تسلیم نہین کرے گا اس کے سامنے میں ۔۔نشے میں دھند ۔۔بیوی ہوں جو نشے ۔۔کہ بعد ۔۔میرا اسکے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ۔۔۔۔۔
قسمت نے ۔۔اسکے ساتھ انوکھا کھیل ۔۔۔کھیل رہا تھا ۔۔اسکا ۔شوہر ۔اسکے ہوتے ہونے دوسری لڑکی کے ساتھ مگنی کر رہا تھا ۔اور وہ کچھ نہیں کہہ سکتی تھی ۔۔
ارسل ۔۔اسکی اوقات ۔۔ہمارے گھر میں نوکر رانی جتنی ہے ۔۔ٹھیک ہے ۔۔صرف نوکر ۔۔
اور ۔یہ شاویز کی ۔بیوی نہیں ہے ۔۔
اور جس نکاح کی تم بات کر رہے ہو ۔۔۔تو وہ ۔شاویز ۔اسے آزاد کردے گا بہت جلد بس انکل کے باہر جانے کی دیر ہے
سب کے سامنے اسکا تماشہ بنایا جا رہا تھا ۔۔۔سب ہنس رہے تھے اور وہ کچھ نہیں کہہ رہا تھا ۔۔کیا کہتا میں اسکی کیا لگتی ہوں ۔۔جو وہ سب کے سامنے میری ۔۔۔وضاحتیں دیں ۔
ارسل ۔۔نے روشائل ۔۔کا درد سمجھا تھا وہ جانتا تھا ۔کہ یہ کس حال میں ہے ۔۔اسے یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ شاویز ۔۔کیوں سب کے سامنے اکیلا تنہا ۔۔چھوڑ دیتا تھا ۔۔
معصوم سا چہرہ ۔۔۔جس پر شرم وحیا کا پردہ تھا ۔۔تربیت ۔۔واضح تھی ۔۔۔تو پھر کیسے ۔۔شاویز نے اس بیچاری کی زندگی برباد کردی ۔۔اسکی عزت پر ۔۔بدچلن کا داغ لگا دیا ۔۔
*************************************
سبین ۔۔یہ میں کیا سن رہا ہوں ۔۔مگنی ۔۔
کی پارٹی ۔۔کیوں؟
مرزا سکندر ۔نے غصے سے فون میں بات کرتے ہونے کہا ۔وہ اپنے کام کے سلسلے میں اسلام آباد گئے تھے۔
کیا مطلب مرزا صاحب آپ کہہ کیا رہے ہیں ۔۔سارہ اور شاویز کی مگنی ہو چکی ہے اسکی پارٹی ہے اس میں اتنا ۔۔غصہ ہونے والی کیا بات ہے ؟
بات ہے؟
کیا ہے مجھے بھی تو پتا چلے؟
سبین صاحبہ ۔۔آپ کے بیٹے ۔۔نے آگے ایک معصوم کے ساتھ نکاح کیا ہے ۔۔پھر وہ کیسے دوسری شادی کر سکتا ہے
بس ۔۔مرزا صاحب بس کردیں ۔۔میں اس نکاح کو نہیں مانتی ۔۔ٹھیک ۔۔
سبین نے یہ کہتے ہونے فون بند کر دیا
نکاح۔۔نکاح ۔۔۔حد ہو گئ ہے ۔۔۔۔
سب تیاریاں ۔۔زور و شور پر تھی ۔۔سارہ اور سبین ۔۔نے اعلی ڈایزنر کے کپڑے پہنے تھے ۔۔۔
اتنے مہنگے کپڑے پہننے کے باوجود ۔۔سارہ میں وہ کشش نہیں تھی جو ۔
روشائل کے سادہ سے لباس میں تھی ۔۔
روشائل ۔۔نے ۔۔ بلیک پٹیلا ۔اور بلیک ہی قمیض پہنی تھی ۔۔کمر پر آتے لمبے بال ۔۔۔اور پرکشش چہرہ کوئی دیکھتا تو ایک منٹ نظریں نہ ہٹاپاتا ۔۔
ہاتھ میں ۔ٹرے پکڑے ۔۔وہ ۔شاویز کے دوستوں کو سرو کر رہی تھی ۔۔عجیب سی بات تھی ۔۔شاویز ۔۔تب سے مسلسل ۔۔روشائل کو ہی ۔دیکھ رہا تھا ۔۔
جو ارسل کو کوک پکڑا رہی تھی ۔۔
آپ کیسی ہیں؟
جیسے ارسل نے کہا ۔۔وہ رکی ۔
میں ۔۔۔ٹ۔۔ٹ۔۔۔ٹھیک ۔۔روشائل کی زبان لڑکھڑائی ۔۔
میں نے اکثر دیکھا ۔۔ہے جو لوگ درد ۔۔سہنے کے عادی ہوتے ہیں ۔اکثر ۔جھوٹ پہ ان کی زبان لڑکھڑائی ہے ۔۔
جیسے ارسل نے کہا
روشائل نے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
شاویز ۔مسلسل ۔۔اسکی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔سارہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی لیکن ۔۔بار بار کیوں ۔۔وہ ۔اسکی ۔طرف مائل ہوتا
شائد ۔۔اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔ارسل کا روشائل سے باتیں کرنا ۔
نہیں ۔۔۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔۔
اب جو ہو چکا ہے اسے اپنی بد نصیبی سمجھ کر تسلیم کر لیا ہے ۔۔
یہ چھوٹ ۔۔ارسل نے روشائل کے بازو دیکھے ۔۔۔
اس نے جلدی سے اسے ڈھنپا
کچھ نہیں
وہ جلدی سے کہتی ہوئی ۔۔چلی گئ ۔۔۔۔۔۔۔
روشائل ۔۔۔
وہ جانے لگی تھی ۔۔۔کہ شاویز نے اسے آواز لگائی ۔۔
سارہ نے ۔۔سبین کی طرف دیکھا ۔۔
ایک منٹ میں تم سے بات کرنی ہے
مجھ سے ؟
وہ حیران ہوئی
ہاں ۔۔۔
وہ دونوں ایک روم ۔میں ۔گئے ۔۔
وہ داخل ہوئی تھی کہ ۔۔شاویز نے جلدی سے پوچھا ۔۔
وہ ۔۔۔۔وہ۔۔۔تمھیں ۔۔ارسل کیا کہہ رہا تھا؟
کیا مطلب؟
مطلب واضح ہے روشائل ۔۔۔کیا کہہ رہا تھا؟
اسکے لہجے میں جلن تھی ۔۔
کچھ بھی کہہ رہا ہو ۔۔اس سے آپ کو کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے ۔۔
ہاں ہے غرض ۔۔ہے مجھے ۔۔۔۔ربی تو پوچھ رہا ہوں
اس نے روشائل کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور اپنی پوری قوت سے ۔دیوار کے ساتھ لگایا
کس حق سے؟
کیونکہ ۔۔تم میری ۔۔۔۔۔۔
جیسے شاویز نے کہا ۔۔وہ رک گیا ۔۔۔
بس ۔۔شاویز سکندر ۔یہی ۔۔غرض تھی ۔۔ارے ۔جب ۔۔تم میں ۔۔ہمت نہیں ہے تو پھر کیوں ۔۔غصہ کرتے ہو ۔۔
روشائل نے کہا ۔۔اور واہ سے چلی گئ ۔۔
باہر کا ماحول گرم تھا ۔۔سارہ ۔۔کو اس قدر غصہ تھا ۔۔۔اسکا دل کر رہا تھا وہ روشائل کو مار دے
**************************************
بتاؤ ۔۔کیا سمجھتی ہو خود کو؟
سارہ نے پورا کوک کا مگ اسکے کپڑوں پر پھینک دیا ۔۔
حور پڑی ہو کیا؟
یہی کہ میں شاویز کے سامنے جاوں گی اور وہ مجھے ۔۔۔ایکسپرٹ کر لے گا
ہی تمھاری سوچ ہے ۔۔۔شاویز صرف میرا ہے ۔۔اور ۔۔میں اسے کیسی اور کا نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔سمجھ گئ
****************(*****(********((*(*(*****
ابو ۔۔۔۔۔آپ؟
مجھے یہاں کیوں لائیں ہیں آپ نے تو کہا تھا ۔۔کہ تمھاری شادی کا جوڑا لانا ۔ہے
آپ مجھے یہاں کیوں لے کر آئیں ہیں ۔۔
ابو ۔۔۔
سچ سچ بتایا ناں ۔۔۔ہم کہاں آئیں ہیں ۔۔
دانیہ ۔۔نے چوکتے ہوے کہا ۔۔وہ ایک سنسان سی ۔۔جگہ پر تھی ۔۔
گھر سے وہ بنا بتایے اپنے ابا ارشد احمد کے ساتھ نکلی تھی ۔۔
