Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan NovelR50660 Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 08)
Rate this Novel
Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 08)
Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan
عشق وہ بلا ہے ۔۔۔۔جس کو چھوا ہے اس نے وہ جلا ہے
دل سے ہوتا ہے شروع پر کم بخت سر پر چڑا ہے کبھی خود سے کبھی خدا سے کبھی زمانے سے لڑا ہے اتنا بدنام پھر بھی ہر زبان پر اڑا ہے ۔۔۔۔۔
آج ۔۔اسے ۔۔اپنی بچپن کی محبت سے ملنا تھا جس سے وہ بچپن سے محبت کرتا تھا ۔۔۔اسے یاد تھا ۔وہ ہر اک پل جو اس نے ۔۔اسکے ساتھ بیتاے تھے ۔۔۔
آج اسے وہ مارا مار ۔۔۔پاگلوں کی طرح ۔۔ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔یہ دل کا راز تھا ۔۔وہ جب جب سانس لیتا تھا ۔۔تو ہر سانس پر اسکا عکس ۔۔آنکھوں میں آجاتا ۔۔۔اسکی وہ بالوں کی لمبی پونی ۔ ۔۔سب کچھ تو یاد تھا ۔۔۔ اسکا الٹا نام گڑیا جو وہ اسےاکثر کہتا تھا کیونکہ اسکا اصلی نام ۔۔اسے بیت مشکل لگتا تھا
لیکن ۔۔ کیوں ۔۔دل نے ۔اتنا فاصلے ڈال دیے ۔۔۔
اسلام و علیکم صاحب جی !
و علیکم اسلام اسکی سانسیں پھولی ہوئی تھی ۔۔۔
اسکا دل ۔۔۔زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔
کہاں ہے اڈرس ۔؟
جیسے شاویز نے کہا اس آدمی نے ۔۔۔ایک کاغذ کی چٹ پکڑا دی یہ لیں صاحب آپ کی امانت ۔
بہت مشکل سے ڈھونڈا ۔۔ہے ۔آپ کو نام تو یاد نہیں تھا ۔۔۔بس اتنا سا یاد ۔تھا ۔کہا اسکا باپ کوئی سونے کا کاروبار کرتا ہے
لیکن جب ہم نے پتا کیا ۔۔۔تو پتا چلا ۔۔وہ ۔۔تو مر گیا ۔۔
اسلیے بہت مشکل ہوئی اسکے اہل خانہ کو ڈھونڈتے ہوے
جیسے شاویز نے سنا ۔۔۔وہ دھک سے رہ گیا ۔۔
کیا ۔۔؟
اسے ۔۔۔کچھ کچھ یاد آرہا تھا ۔۔۔
لیکن ماضی کی تصویریں بہت دھندلی ہو چکی تھی ۔۔
بہت بہت شکریہ ۔۔یہ لو تمھارے پیسے شاویز نے اس آدمی کو پیسے تھما دیے
اور جلدی سے ۔۔۔گاڑی میں بیٹھ گیا
***************************************
وہ اپنے قدم تیزی سے اٹھا رہا تھا ۔۔۔اسکی آنکھیں ترس گئ تھی ۔۔۔ جیسے ۔۔اس نے اس محلے میں قدم رکھا ۔۔اسے یوں محسوس ہوا ۔۔وہ یہاں پہلے آچکا ہے ۔۔۔
مگر ۔۔۔اسے ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا تھا ۔۔قدم تیزی سے بڑھتے گئے اور آخر کار وہ اپنی منزل پر پہنچ ہی گیا ۔۔
جیسے ہی شاویز ۔۔نے وہ گھر دیکھا ۔۔۔وہ وہی رک گیا ۔۔اسکے پاوں وہی مجمد ہوگئے ۔۔۔یوں مانو وہ وہی سن ہو گیا ہو ۔۔بے جان ۔سا ۔جس میں اب کوئی حرکت نہیں تھی اسکی آنکھیں ۔۔۔ایک جگہ پر ٹھہر ۔۔گئ ۔۔۔
یہ ۔۔۔یہ ۔۔تو وہی گھر ۔ہے ۔۔
یہاں تو میں پہلے بھی آچکا ہوں
(یہ نکاح نہیں ہو ۔۔سکتا ۔۔۔۔۔۔) شاویز ۔۔کو ساری باتیں رفتہ رفتہ یاد آرہی تھی
(ابو اللہ کی قسم مجھے نہیں پتا یہ کون ہے میں اسے نہیں جانتی)
اسکی انکھون میں بے اختیار آنسو گرنے لگے ۔۔لیکن اسے جانا اسے دیکھنا تھا اپنی محبت کو
شاویز ۔نے دروازے پر دستک دی ۔۔اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے کیسے وہ سامنا کرے گا ان کے گھر والوں کا ۔۔آخر میں نے ان کی بیٹی کے ساتھ بہت برا کیا تھا ۔۔
آئی۔۔۔۔
گھر سے آواز آئی
جیسے ارفع بیگم نے دروازہ کھولا۔۔۔
وہ وہی دھنک رہ گئ ۔۔۔
اسکے لبوں سے بے اختیار نکلا ۔۔
تم ؟
م۔۔۔میری بیٹی کیسی ہے بیٹا! وہ ۔۔وہ ٹھیک تو ہے ناں ۔۔
خدا کے لیے اب اسکے ساتھ کوئی برا نہ کرنا میری بیٹی بہت بھولی ہے ۔۔۔
آگے تم نے اسکے ساتھ جو کر دیا ۔۔اس کا ۔نتجہ ہم بھگت رہے ہیں
ارفع بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔
آ۔۔۔۔آنٹی ۔۔کیا آپ ۔۔مرزا سکندر کو جانتی ہیں جیسے شاویز نے کہا
ارفع چونک گئ ۔۔۔
ایسے لگا وہ سوچ میں ڈوب گئ ہو ۔۔۔۔۔۔
اثابات سے محوس ہو رہا تھا کہ وہ ۔۔۔مرزا سکندر ۔کو جانتی تھی ۔
تم ۔۔۔کون ہو ۔اور تم کیوں ان کے بارے میں پوچھ رہے ہیں
میں۔۔۔میں انکا بیٹا ہوں شاویز سکندر
جیسے شاویز نے کہا
ارفع کی آنکھیں کھولی کی کھولی ۔۔رہ گئ ۔۔۔وہ ۔۔وہی رک گئ
کیا؟ ت۔۔۔تم مرزا سکندر کے بیٹے ہو ۔۔۔
ہ۔۔۔ہاں ۔۔۔میں انہی کا بیٹا ہوں ۔۔
نہیں ۔۔۔نہیں تم ۔۔ان کے بیٹے نہیں ہو سکتے وہ تو اتنا رحم دل ۔۔خوش صفت انسان تھے ۔۔تم ۔ان کے بیٹے نہیں ہو سکتے ۔۔
تمھیں پتا ہے میں کون ہوں ۔۔۔
میں ارفع وحید ۔۔ وحید احمد کی بیوی
یقین ۔۔کرو جیسے ۔۔ارفع نے کہا ۔۔
شاویز ۔۔لڑکھڑایا ۔۔
اسکی آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے ۔۔۔
آنٹی ۔۔۔مجھےبتائیں ۔۔۔۔ایسا کیا ہوا تھا کہ بابا اور انکل وحید ۔نے ایک دوسرے سے تعلقات توڑ دیے ۔۔۔۔
اور ۔۔ہمارا ۔
جیسے ساویز نے کہا ۔۔وہ وہی رک گیا ۔۔
اسکے بارے میں پوچھ رہے ہو ناں ۔۔۔۔۔
وہ وہی ہے جس کو تم نے شراب کے نشے میں دھند ۔۔۔نکاح کر کے لے گئے تھے ۔۔۔وہ وہی میری بدنصیب بیٹی ہے جس کی بچپن میں تمھارے ساتھ مگنی تھی ۔۔۔گڑیا ۔۔
وہی گڑیا جس کے بغیر ۔تم ایک دن نہیں رہ سکتے تھے ۔۔۔
روشائل ۔۔نام ہے گڑیا ۔۔کا ۔۔
آسمان ۔۔پھٹ گیا ۔۔شاویز ۔۔خود کو قابو میں نہیں رکھ پاراتھا
کیا گڑیا ۔۔۔۔روشائل ہے ۔۔
اسکی اواز میں سسکیاں پیدا ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔
(دور رہو ۔۔مجھ سے ۔۔نہ تم ایک اچھی لڑکی ہو اور نہ ہی ایک اچھی بیوی بن سکی ۔)
(یہ ۔۔یہ نکاح نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔)
ن۔۔۔نہیں ۔۔۔نہیں وہ گڑیا نہیں ہو سکتی ۔۔۔
آنٹی ۔۔شادی میں تو انکل ۔۔وحید نہیں تھے ۔۔۔
کیونکہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے ۔۔ان کی وفات کے بعد ۔۔میری ارشد علی سے نکاح ہو گیا ۔۔ وہ روشائل کا۔۔۔سوتیلا باپ ہے ۔۔
آ۔۔۔آنٹی ۔۔پلہز ۔خدا کے لیے مجھے ۔۔شروع سے بات بتائیں ایسا کیا ہوا تھا ۔۔
مرزا سکندر اور وحید احمد ۔بچپن کے بہت اچھے دوست تھے ۔۔اور یہ دوستی ۔۔اتنی مضبوط تھی ۔۔کہ شادی کے بعد ۔۔
وہ اکٹھے ہوتے تھے تمھارا اور ہمارے اہل خانہ سے کافی گہرا رشتہ ہو چکا تھا ۔۔
بزنس پارٹنر ۔تھے سونے کے وحید صاحب اور مرزا بھائی ۔۔
دونوں گھر میں خوشیاں تھی ۔۔۔دوستی کے رشتے کو اور مضبوط کرنے کے لیے ۔
تمھارا اور روشائل کی مگنی کر دی ۔۔تب ۔تم ۔10 سال کے تھے
اور روسائل 8 سال کی ۔۔
سب گھر والے خوش تھے سواے تمھاری ماں سبین کے ۔۔جو شروع سے ہی ہمیں پسند نہیں کرتی تھی ۔۔۔
بس اسی نفرت کے تلے ۔۔
اس نے ۔۔مرزا بھائی کو پتا نہیں کیا ایسا کہا
کہ مرزا صاحب نے سارے رشتے ناطے ایک سیکنڈ میں توڑ دیے ۔۔۔
تمھارا اور روشائل کا ایک دوسرے سے کافی دوستی ہو چکی ۔۔تھی
جو سب کچھ ٹوٹ گیا ۔۔
اور اسی غم ۔میں وحید صاحب ۔۔کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ اس دنیا سے چل بسے ۔۔
اسکے بعد میرا نکاح ارشد احمد سے ہوگیا تم ہم کراچی چھوڑ کر یہاں
اسلام آباد آگئے ۔۔
مجھے بس اتنا پتا تھا کہ تم ۔لوگ بھی کراچی سے اسلام آباد شفٹ ہو گئے ہو ۔
لیکن میں نے تمھیں دوبارہ کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔
بس
دیکھو ۔۔نا چاہتے ہوے ۔۔بھی کیسے قسمت نے تمھیں ہم سے ملا دیا ۔۔
بیٹا ۔یہ سب کچھ سبین نے کیا رشتوں میں دڑاڑئیں پیدا کر دی ۔۔
جیسے ۔۔جیسے ۔۔ارفع بیگم ۔۔حقیقت بتاتی جا رہی تھی ۔۔
شاویز ۔۔
کو اپنی ماں کا اصلی چہرہ پتا چلتا جا رہا تھا ۔۔
اسلیے ماما ۔نے جواد ۔۔کو۔۔۔مجھے یہ بتانے کے لیے کہا ۔۔کیونکہ انھیں پتالگ گیا تھا ۔۔کہ میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں ۔۔
جواد اور ماما ۔۔کس قدر ۔۔میں نے کبھی نہیں سوچا تھا
کہ ماما ایسا کرے گی ۔۔۔
وہ ۔۔۔بے ہوش و حواس ۔۔چل رہا تھا ۔۔
اسے ابھی اتک یقین نہئں ہو رہا تھا ۔۔کہ وہ لڑکی جیسے میں پاگلوں کی طرح ڈھونڈتا رہا ۔۔
وہ میے قریب ۔۔میری بیوی ۔۔
اور
میں اسے پہچان نہئں سکا ۔
ماما نے ایسا کیوں کیا ۔۔انکل وھید اور بابا کے درمیان دشنی ڈال کر
