Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 10)

Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan

کونسی سچائی؟ شاویز نے چونکتے ہوے ارسل کی طرف دیکھا

اس رات نشے میں دھند جو اسکے دامن پر کیچڑ اچھالا تھا اس بے قصور کو سب کے سامنے تم نے اپنے گندے الزام میں گھیرا تھا وہی سچائی ۔۔جا کر بتاو اسکے ظالم باپ کو تاکہ اسے سچائی پتا چلے کہ انکی بیٹی بدچلن اور اوارہ نہیں ہے

یہ کہتے ہی ارسل لمحے بھر کو خاموش ہو گیا ۔۔

مجھے آج بھی اسکی وہ سسکیاں یاد ہے ۔۔شا2۔جس میں سچائی کے آنسو تھے لیکن کوئی اسکی بات کا یقین نہیں کر رہا تھا ۔۔

پھر ارسل نے بات آگے بڑھاتے ہوے کہا ۔

م۔۔۔م۔میں بہت بدنصیب انسان ہوں نہ ارسل ۔۔

شاویز کے لہجے میں ندامت تھی ۔

نہیں میرے یار تو بدنصیب نہیں ہے تجھے بدنصیب بنایا گیا ہے آج تک سبین آنٹی نے تمھیں ان چیزوں کے بارے میں بتایا نہیں نکاح کوئی کاغذ میں کردیے دستخط نہیں ہوتے ۔اور کیسی لڑکی کی عزت کو بڑی محفل ۔میں سب کے سامنے ۔۔۔نیلام کرنا ۔کوئی زیب کی بات نہیں ہے مجھے افسوس ہے کہ آنٹی نے آج تک تمھیں کیوں نہیں بتایا

“میں ۔۔۔میں اب کیا کروں ارسل”

شاویز کے چہرے پر فکر ابھری

کرنا کیا ہے ۔۔کل جاوں ۔روشائل کے گھر اور اسکے ابا کو سارا سچ بتاو ۔مجھے امید ہے ۔سب کچھ ٹھیک ہو جاے گا ۔

———————————————————

روشائل ۔۔۔۔۔روشائل شاویز نے گھر داخل ہوتے ہی ۔اسکو پکارا ۔

سڑھیوں سے اترتی ہوئی ۔وہ آئی ۔۔

چلو جلدی تیار ہو جاو کہی جانا ہے؟

وہ پلٹا

کہا جانا ہے ؟

روشائل نے جیسے آگے سے سوال کیا شاویز نے اپنا پھر سے رخ اسکی طرف کیا

کیسی ضروری جگہ ؟

اس ضروری جگہ کا نام بھی ہوتا ہے؟

وہ تم گاڑی میں بیٹھو گی تو بتا دوں گا ۔۔

اگر میں کہوں کہ میں نہیں جا رہی تو ؟

تو میں کھینچ کے لے جاوں گا ۔

ایسے کیسے لے جاو ۔گے وہ یہ کہتے ہوے دوبارہ سڑھیوں کی طرف بڑھی ۔

تم سمجھ نہیں رہی میں کیا کہہ رہا ہوں ۔شاویز نے روشائل کو زور سے دھکیل کر اپنے نزدیک کیا ۔۔کہ روشائل کو اسکی دل کی دھڑکنے صاف سنائی دے رہی تھی ۔۔

بیوی ہو تم میری ۔۔کہو تو اٹھا کے لے جاوں ۔۔

ن۔۔۔ن۔نہیں ۔۔میں آتی ہوں روشائل نے گھبراتے ہوے کہا ۔

شاویز نے مسکراتے ہوے اسکا ہاتھ چھوڑا ۔۔جلدی کرو مسسز شاویز میں انتظار کر رہا ہوں گاڑی میں ۔۔۔

اس نے غصے سے تیور چڑھائی ۔۔اور اوپر چادر لینے چلی گئ ۔۔

وہ باہر گاڑی میں بیٹھا اسکا انتطار کر رہا تھا ۔۔۔

************************************(

اسلام و علیکم آنٹی

شاویز ہاتھ میں پھولوں کا گل دستہ اور کچھ تحائف پکڑے گھر میں داخل ہوا ۔

و علیکم اسلام بیٹا ۔ارفع نے اسے پیشانی پر بوسہ دیا

ماشاللہ بہت ہی پیارے لگ رہو آنکھیں تو بلکل مرزا بھائی جیسی ہیں گہری ۔۔۔

یہ ۔۔یہ۔آنٹی ۔میں آپ لوگوں کے لیے لایا تھا ۔۔

ارے بیٹا اسکی کیا ضرورت تھی ۔۔

نہیں ۔۔نہیں آنٹی یہ میرا اپنا گھر ہے ۔۔۔

اچھا چلو ٹھیک ہے ۔

ایک منٹ آنٹی آپ سے ملنے کوئی آیا ہے

جیسے شاویز نے کہا ۔۔

پیچھے سے روشائل ۔۔اندر آئی جیسے ماں نے اپنی اولاد کو اسنے پلٹ کے روشائل کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔

دونوں کی آنکھوں مین آنسو دریا کی طرح بہنے ۔۔ماضی کے زخم ۔۔پھر سے تازہ ہو گئے ۔۔

کیسی ہے میری بچی ۔۔۔ارفع بیگم بے اختیار روشائل خے چہرے کو چوم رہی تھی ۔۔ماں کا رشتہ ہی کچھ ایسا ہوتا ہے اسکی اولاد ۔۔چاہے جیسی بھی ہو ۔لیکن پھر بھی اپنی جان سے زیادہ پیار کرتی ہے ۔۔

م۔۔میں ٹھیک ہوں امی ۔۔۔آپ کیوں رو رہئ ہیں

روشائل نے اپنی ماں کا چہرہ جو آنسو سے بھیگ چکا تھا ۔۔صاف کیا ۔۔

نہیں ۔بیٹا ۔۔آج اتنے عرصے بعد تجھے دیکھا ناں ۔۔

بہت بہت شکریہ بیٹا ۔۔۔شاویز ۔۔

نہیں نہیں آنٹی اسمیں شکریہ والی کیا بات ہے ۔۔یہ اسکا گھر ہے

آو اندر ۔۔

وہ دونوں کمرے میں گئے ۔۔

روشائل تسمیہ اور علی سے ملی ۔بہن بھائیوں میں پیار دیکھ رہا تھا جیسے وہ دونوں بہن بھائی روشائل سے مل رہے تھے ۔۔

روشائل ۔۔تم یہی روکو ۔۔

شاویز نے اسے تسمیہ کے ساتھ رکنے کا کہا ۔۔

اور خود ارشد احمد کے کمرے میں گیا جہاں ۔وہ لاچاروں کی طرح چارپائی پہ لیٹا تھا ۔۔

اسلام و علیکم

شاویز نے انکے قریب بیٹھتے ہوے کہا

و علیکم اسلام ۔۔۔۔۔۔تم ۔۔تو وہی ہو ۔۔۔وہ نشے میں دھند جسکا ۔نکاح میری بیٹی سے ہوا تھا ۔۔

ارے کم بخت ۔تو یہاں کیا لینے آیا ہے تیرا نکاح کر تو دیا تھا ۔

اب کیا ۔ہمیں ذلیل کرنے آیا ہے ۔

ایک منٹ انکل میری بات سنیے ۔۔پھر آخر پہ آپ نے جو کہنا ہو گا وہ کہہ لیجیے گا ۔۔

اس رات جو بھی ہوا ۔۔اس میں آپکی بیٹی بلکل بے قصور تھی ۔

کیا مطلب ہے تیرا؟

مطلب یہ کہ ۔روشائل واقعی مجھے نہیں جانتی تھی کہ میں کون ہوں ۔۔ میں نے صرف شراب میں دھند ہو کر ایک ایسا مذاق کیا آپ لوگوں کے ساتھ جو شائد ۔۔ایک مذاق سے ۔۔بھی اوپر ہو گئا تھا ۔

واقعی ۔۔روشائل کا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔وہ بے قصور ہے اسکے دامن میں جو کیچڑ اچھالا گیا تھا وہ بے معنی تھا ۔بلکے ۔ارشد احمد آپکی بیٹی نہایت فرمابردار اور صبرو تحمل والی ہے ۔۔جسکی مثال نہیں ۔۔۔وہ الگ بات ہے کہ اسکی قسمت میں مجھ جیسے شخص کے ساتھ نکاح کرنا پڑ گیا ۔نہیں تو وہ اگر اتنی بد چلن ہوتی تو وہ اس دن ہی انکار کر دیتی جس دن ۔آپ اسکے لیے 40 سال شخص کا رشتہ لے کر ائے تھے ۔۔کیا اسنے انکار کیا ۔۔

بتائیں انکل ۔

کیا اس نے ایک دفع آپ کو آگے سے کہا کہ ابا مجھے یہ رشتہ نہیں منظور

نہیں کیا ۔۔کیونکہ وہ آپکی عزت کی رکھوالی کرنا جانتی تھی ۔

آپ اسے کیا کیا نہیں کہتے تھے ۔۔اسے معاشرے میں بد کردار کے طعنے دیتے ۔۔

لیکن ایک دفع بھی ۔۔ایک دفع بھی اسنے نہیں آپکی دوسری بیٹیوں نے ۔تسمیہ نے دانیہ نے ایک بار بھی بد زبانی کی

نہئں تو پھر آپ کیوں انھیں بد چلن اور بد زبان کہتے تھے ۔

بیٹیاں تو خدا کی نعمت ہوتی ہیں ۔۔

شاویز کے الفاظ ارشد علی ۔۔کے دل پر ایک خنجر کی طرح وار کر رہے تھے ۔۔اسکا دل ۔۔اور رگوں میں دوڑتا ہوا خون چلا اٹھا ۔جب انھیں سچائی معلوم ہوئی ۔۔

آنکھوں میں ندامت کے آنسو بہنے لگے اور بے اختیار ۔۔۔

وہ سارے لمحات یاد آ گئے ۔۔

جب انہوں نے آخری بات اپنی بڑی بیٹی کو ماتھے پہ چوم کر ۔گھر سے اسکی خوشی ڈھونڈنے کے بہانے لے گئے اور

اسے زندہ جلا دیا ۔۔اسے یاد انے لگی وہ ۔۔روشائل کی فریادیں جب وہ چیخ چیخ کر اپنی سچائی بیان کرتی تھی لیکن

کوئی اسکی بات پر یقین نہیں کرتا تھا

روشائل باہر کمرے کے دروازے کی ایک طرف کھڑی تھی اسکی آنکھوں سے بے اختیار آنسو آرہے تھے آج وہ شاویز سکندر سے نفرت نہیں کر سکتی تھی ۔۔یہی وہ شخص تھا جسکی سچائی سے اسکے دامن پر لگا داغ ہلکا ہو سکتا تھا

پہلی بار ارشد علی کی آنکھوں سے گرت آنسو دیکھ کر روشائل کا کیجہ منہ کو آگیا تھا شائد وہ جیسا بھی تھا لیکن ہے تو اسکا باپ

خ۔۔۔۔خ۔۔خدا کے لیے ایک دفعہ مجھے میری بیٹی سے ملا دو ۔۔۔

میں ۔۔میں بڑا بدنصیب ہوں ۔۔۔کہ میں نے اپنی ہی بیٹیوں پر شک کیا

یہ الفاظ ۔۔یقین مانو ۔۔روشائل ۔۔کی سسکیاں بلند ہوں گئ ۔۔تسمیہ ۔۔کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔ماں نے اپنے دل پر یاتھ رکھ لیا وہ الفاظ ۔۔تھے ہی کچھ ایسے ۔۔ایک سنگ دل شخص باپ کے الفاظ ۔

روشائل کمرے میں لڑکھڑاتے ہوے قدموں سے داخل ہوئی ۔۔

وہی شرم وحیا ۔۔کا کردار تھا ۔۔وہی نیک صلاحتیں جو ۔ارفع بیگم نے اپنی بیٹیوں کو دی تھی ۔۔

جیسے ارشد علی نے دیکھا ۔

اسنے بے اختیار اپنے دونوں ہاتھ جوڑ لیے ۔۔۔

م۔۔۔م۔مجھے معاف کر دو ۔۔بیٹا ۔۔مجھے معاف کر دو ۔۔

یہ باپ اور بیٹی کا رشتہ تھا ۔۔جو دنیا میں ۔۔۔سب سے زیادہ پیار خرنے والے رشتوں کے درمیان ہوتا ہے ۔۔۔

روشائل اپنے سارے غم زخم درد بھلا بیتھی تھی اسنے جلدی سے اپنے باپ کے ہاتھوں کو پکڑ لیا ۔۔

ن۔۔۔ن۔نہیں ابا خدا کے لیے ایسا مت کریں ۔۔آپ ۔۔میرے ابا ہیں اگر آپ میرے جسم خو ادھیڑ کر بھی رکھ دیتے تو پھر بھی میں آپ کو اف تک نہ کہتی ۔۔

ارشد احمد نے سنتے ہی ۔۔اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔

مجھے معاف کردے میری بچی میں بہت شرمندہ ہوں دیکھو نہ ۔۔آج اللہ نے مجھے صلہ دے دیا میں مزور ہو گیا ۔

تسمیہ ایک طرف کھڑی ۔۔رو رہی تھی ۔۔شاید وہ لمحہ ہی ایسا تھا جو دلوں کو تاڑ تاڑ کر دینے والا ۔۔

آو۔۔۔۔تسمیہ ۔۔تم آو ۔۔باپ کی پکار نے اسکے دل کو پگلا دیا وہ ۔جلدی سے ارشد احمد کے سینے سے لگ گئ جس کے لیے وہ ساری زندگی ترسی تھی ۔۔

ارشد احمد نے ۔دونوں کی پیشانی پر بوسے دیے اور ۔۔کہا ۔

میں ۔۔وعدہ کرتا ہوں بیٹا میں وحید احمد کی طرح تو نہیں لیکن ایک باپ ہونے کی حثیت ۔ساری خوشیاں تم لوگوں کو دوں گا ۔۔

دونوں کے چہرے پر آنسو بھی تھی اور ایک مسکراہٹ

لیکن بیٹا ایک بات ہے جو شاید تم دونوں مجھے کبھی معاف نہ کر سکو ۔۔

ارشد علی کو دانیہ کی وہ چیخیں یاد آگئ ۔۔

بیٹا ۔۔۔دانیہ گھر سے نہیں بھاگی تھی بلکے میں نے خود اسے اپنے ان گنگار ہاتھوں سے مار دیا ۔۔

کیا؟

ارفع بیگم کے منہ سے نکلا ۔۔

یہ ۔۔یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ

ہاں ارفع۔۔میں نے مارا ہے دانیہ کو ۔۔مجھے شک تھا کہ وہ بھاگ جاے گی ۔۔

وہ چلاتی رہی روتی رہی لیکن میں نے ایک دفعہ بھی اسکی فریاد نہئں سنی ۔۔۔

شاویز ۔۔روشایل ۔۔اور تسمیہ کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے ۔۔

تمھیں پتا ہے رات کو مجھے نیند کیوں نہیں آتی کیونکہ خواب میں مجھے دانیہ کی

وہ چیخیں یاد آتی ہیں ۔۔جب وہ مجھ سے منتیں کرتی تھی ۔۔فریادیں کرتی تھی

شاید مجھے خدا معاف کرے نہ کرے ۔۔لیکن خدا کے لیے مجھے معاف کر دو ارفع

واسطہ ۔۔یہ خدا کا واسطہ شاید اگر ۔۔ارشد علی روشائل کو نہ دیتا ۔۔تو کبھی نہ معافی کرتی یہی خدا کا واسطہ اگر ارفع بیگم کو نہ دیتا تو وہ معاف نہ کرتی

خدا سے بڑھ کر کوئی ذات نہئں ۔۔

جاو ارسد علی تمھیں معاف کیا ۔۔میری بیٹی بے قصور تھی ۔۔

مجھے پتا تھا ۔۔۔وہ ایسا قدم کبھی نہیں اٹھاتی ۔۔

ارفع یہ کہتے ہوے کمرے سے باہر نکل گئ ۔

———–”””–”””———————-‘-””’—–‘-”’———-

یہ ۔۔امی پانی لیں

روشائل نے ۔۔سبین کو پانی پکڑایا ۔

دفع ہو جاو ۔۔یہاں سے ۔۔۔تمھیں کوئی ضرورت نہیں ہے میری دیکھ بھال کرنے کی ۔۔

سبین کو ہارٹ اٹیک آنے کی وجہ سے اس کی طعبیت اب ناساز رہتی تھی لیکن ابھی بھی اسکے دل میں ۔۔۔روشائل کے لیے نفرت کم نہ تھی ۔۔

چاہے شاویز اور مرزا سکندر نے تمھیں قبول کر لیا لیکن میں نہیں کروں گی تم نے میری بھانجی کا گھر تباہ کر دیا میری بہو صرف سارہ ہے ۔

سن لیا تم نے

میں یہاں میڈیسن رکھ کے جارہی ہون کھا لیجیے گا ۔

روشائل نے تحمل بھرے لہجے میں کہا ۔۔

اور کمرے سے روانہ ہو گئ ۔۔

***************************************

روشائل ۔۔۔ روشائل ۔۔اٹھو ۔۔۔

رات کے بارہ بجے ۔۔شاویز نے اسے آواز ۔دی ۔

کیا ہوا ہے ؟

اٹھو تو سہی ۔۔

شاویز پلہز مجھے سونے دو ۔۔

اس نے کروٹ بدلی ۔۔۔۔

شاویز بیڈ سے اٹھا ۔

اور اسکا ہاتھ پکڑا ۔۔

اور اٹھایا ۔۔

ملکہ علیہ ۔۔ happy birthday miss roshyal

جیسے ۔شاویز نے کہا کمرے کی لائٹس آن ہو گئ ۔۔وہ ہاتھ میں کیک پکڑے ۔کھڑا تھا ۔

وہ بلکل حیران تھی کہ اسے ابھی تک اسکا ۔۔۔بیرتھڈے یاد تھا

کیا ہوا کیک کاٹو ۔۔

اس نے کیک نائیف اسے تھمایا ۔

ہیپی بھرتڈے ٹو یوں ۔۔۔ہیپی برتھڈے ٹو یوں ۔۔

شاویز نے کیک روسائل کو کھلایا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *