Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 04)

Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan

آ……آ…..آ…… اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تها وہ چلا رہی تهی درد سے کرہا رہی تهی معصوم چہرے سے گرتے آنسو چیخ چیخ کر اس بات کی گواہی دے رہے تهے کہ درد کی انتہا ہو چکی تهی کمرے میں بے سہارہ لیٹی ہاتھ اور بازوں پر کالے پٹے سے مارے گئے نشان نیلے ہو چکے تهے زخم گہرے ہونے کی وجہ سے وہ برداشت نہ کر پائی . جب جب کالے پٹے سے ضرب ..اس کے نازک کلیوں جیسے ہاتهوں پہ لگتی تو وہ چلا اٹهتی تهی .اس قدر درد ہوتا کہ وہ خود کو سہارہ نہ دے پاتی ..

روشائل …وہی زمین پر گم سم پڑی تهی کہ اچانک دروازہ کهولنے کی آواز آئی ..

اسکی بڑی بڑی آنکهیں ..جس کی پلکیں آنسوؤں سے پوری طرح بهیگ چکی تهیں ..ان کو حرکت دی .

مرزا سکندر ہاتھ میں دودھ اور دوائی پکڑے داخل ہوے جیسے روشائل نے دیکها وہ فورا اٹه کهڑی ہوئی ..

بیٹهو ..بیٹا بیٹهو ..

مرزا سکندر نے بڑے نرم لہجے میں کہا .

یہ لو دودھ پیو انہوں نے گلاس آگه بڑهایا .

ن..ننہیں ..انکل .میں ٹهیک ہوں

کیسے ٹهیک ہو بیٹا ..مجهے پتا لگ گیا ہے ..میں اس پر بے حد شرمندہ مجهے زرا سا بهی اندازہ نہیں تها تمهارے ساته اس قدر وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے

اب تو عادت ہو چکی ہے درد سے بڑا پرانہ واسطہ ہے شائد اب ان زخموں کی درد اتنی نہیں ہوتی جتنی اپنوں کے دیے ہوے زخموں کی ہوتی ہے اور یہ زخم ایسے زخم ہیں جو ساری عمر نہیں بهرے گے اور نہ ہی اسکی کوئی دعا میسر ہے میری زندگی میں شائد یہ سب کچھ لکها جا چکا تها

روشائل کی آواز میں اس قدر درد تها کہ یقین مانو مرزا سکندر کی آنکهیں بهیگ گئ انہوں نے بے اختیار اسے اپنے سینے سے لگا لیا

صبر کرو میرے بچے صبر کرو اللہ صبر کرنے والوں کے ساته ہوتا ہے مجهے پورا یقین ہے شاویز تهمیں ہی تسلیم کرے گا اور تم ہی اس گهر کی بہو بنو گی اور رہی بات سبین کی میں نے اسے کہہ دیا ہے وہ آج کے بعد تمهیں ہاته نہیں لگاے گی ..

کتنا اپنا پن تها ..ان کی باتوں میں آج اتنے سالوں بعد کیسی نے روشائل کو یوں پیار کیا تها باپ والا پیار جس کے لیے وہ ہمیشہ ترستی رہی آج اس کا دل کر رہا تها کہ وہ اونچا اونچا روے اور اپنے درف کو خوشی میں بدلے کیونکہ آج اسے مرزا سکندر کے روپ میں اللہ نے اسے باپ عطا کر دیا

ک…کیا میں آپ کو بابا بلا سکتی ہوں

وہ دروازے کی جانب بڑهے تهے جیسے انہوں نے روشائل کی یہ بات سنی وہ پلٹے اور میٹهی سی مسکراہٹ چہرے پہ سجاے …

اور ہاں میں سر ہلایا …

یہ دیکهتے ہی روشائل کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئ درد بڑے جذبات کو خوشی کے کچه لمحے میسر ہو گئے ..یوں مانو جیسے اسے ساری دنیا کی دولت مل گئ ہو .

“بابا آپ نے دیکها نہ آپ کی گڑیا درد چهپانا سیکھ گئ درد میں خوشی سے ہسنا سیکھ گئ .”

کیا کہا ..پڑهے گی تو .. ارشد علی نے روشائل کے بالوں کو نوچتے ہوے باہر لے کر آئے

ابا آپ کس مٹی کے انسان ہیں جو اپنی ہی اولاد پر شک کی زنجیریں باندهی ہیں .

جیسے روشائل نے کہا انہوں نے ایک زور دار تهپڑ اسکے معصوم چہرے پر رسید کیا .

کیا .کہا …اب زبان چالے گی تو میرے سامنے بڑی بہن جو رنگ دیکها کر گئ ہے ..تیرے بهی وہی لچهن ہیں ..بتا تو کس کے ساته بهاگے گی تاکہ ہم اپنی بدنامی ..کی پہلے سے تیاریاں شروع کر لیں .

بس کردے ابا بس کردے ..اللہ کا واسطہ ہے اپ کو …

آپ کو زرا سا بهی رحم نہیں آتا ..ارے کون سا ایسا باپ ہے جو اپنی اولاد کے ساته اس قدر وحشیانہ سلوک کرتا ہے بیٹیاں تو باپ کی گڑیا ہوتی ہیں ناں تو پهر ہم کیوں نہیں کیا قصور ہے ہمارا ..یہی کہ ہم آپ کی سگی اولاد نہیں ..کیا یہ ہمارا گناہ ہے کہ ہم آپ کو ابا کہتے ہیں ..اتنی بری تهیں تو ہمیں مار دیتے ایسے ہر روز ہمارے کردار پر کیچڑ اچهالتے

اور رہی بات باجی دانیہ کی …تو وہ بهاگی نہیں ہے …میرا دل کہتا ہے وہ بهاگی نہیں ہے .اسکے ساته کچه ہوا ہے

ایک دم سے روشائل اپنے خواب سے بیدار ہوئی ..

دانیہ ..باجی دانیہ کیسی ہوں گی ..کیوں میرا دل کہتا ہے ان کے ساته کچه ہوا ہے

روشائل جلدی سے اٹهی اور نماز فجر ادا کرنے کے لیے .. بڑهی

*****—–‘-‘———”’****************

ہاتھ ٹوٹے ہیں کیا ..جلدی جوس لے کر آو شاویز آتا ہو گا ..

“جی آئی”

روشائل نے بڑے نرم لہجے میں کہا وہ ہاتھ میں جوس کا جگ پکڑے آگے بڑه رہی تهی ..کہ اچانک

شاویز اس کے سامنے آگیا .

اور جوس کا جگ اسکے کپڑوں پر بری طرح گر گیا ..

روشائل کی سانسیں وہی رک گئ ..

ارے کم بخت سبین نے اپنے ہاتھ کو قابو میں کیا ..وجہ مرزا سکندر نے منع کیا تها

اندهی ہو کیا ؟ نظر نہیں آتا ساری ساری رات سوئی رہو گی تو ..یہی حال ہو گا ناں .

جاو

شاویز کو کپڑا دو

ج..جی.اچها

وہ جلدی سے شاویز کے روم کی جانب بڑهی وہ واش روم مین سنک کی جانب کهڑا تها ..

یہ لیجیے ..میں ..میں صاف کر دیتی ہوں ..

جیسے روشائل نے کہا..

اس نے ایک نظر اس کی طرف دیکها ..جو نطرین جهکاے کهڑی تهی …

روشائل آگے بڑهی ..اور کپڑے سے اس کی ٹی شرٹ پر گرے جوس کے نشان صاف کرنے لگی ..

وہ ناچاہتے ہوے بهی .اس سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تها ..

ہلکی سی مسکراہٹ سے اس کی طرف دیکهتا جب ..وہ مسلسل آدهے گهنٹے سے اپنی کوشش مین ناکام تهی داغ .گہرا تها …ایسے تو نہیں صاف ہونا تها

لیکن .وہ کوشش کر رہی تهی .

“میرے خیال سے ..یہ ایسے نہیں ہو گا ” جیسے شاویز نے کہا

روشائل نے اپنا ہاتھ روک لیا

جاو میری نیو شرٹ پریس کرو ..

جی..ٹهیک ہے ..

جیسے وہ آگے بڑهنے لگی

پیچهے سے کیسی نے روک لیا

سنو

وہ پلٹی

ماما نے جو کہا ..اسکو دل پر مت لینا .

روشائل نے سر ہلایا

اور چلی گئ

************************************

وہ سارے گهر کی صفائی ..کر چکی تهی ..

تهکن سے اسکا پورا جسم ٹوٹ رہا تها ..وہ تهوڑی دیر آرام کرنا چاہتی تهی ..

ابهی وہ لیٹنے لگی تهئ

کہ

سبین نے آکر ..اسے اٹهایا

سنو ! میں زرا …اج رات ..کہی باہر جا رہی ہوں ..مرزا صاحب کے ساتھ .اپنی اوقات میں رہنا تم ..سمجه گئ ناں .

انہوں نے …اپنے الفاظ میں روشائل کو سمجهایا ..

رات کے دس بج چکے تهے

وہ لاونچ میں کهڑی چکر لگا رہی تهی ..بار بار اسکی نظریں گهڑی کی جانب بڑهتی ..

کہاں رہ گئے ہیں

آئے کیوں نہیں ابهی تک …

وہ سونے کی کوشش کرتی لیکن اس سے سویا نہیں جاتا ..تها .

جتنے دن وہ ..یہاں تهی وہ ہر روز شاویز کا انتظار کر کے سوتی جب تک وہ گهر نہ آ جاتے ..تب تک

میں تمهیں ڈهونڈ کے چهوڑوں گا ..

کہا .چپی ہو تم ..

وہ شراب میں دهند گهر میں داخل ہوا .

جیسے روشائل نے دیکها وہ دوڑ کر ..اسے سہارہ دینے کے لیے آگے گئ ..

تمهیں پتا ہے میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں لیکن وہ مجهے ملتی نہیں ..اس لیے مجبورا مجهے ..سارہ سے مگنی کرنی پڑی ..

وہ خاموشی سے اسے اوپر لے کر جا رہی تهی …اسکی انکهوں میں انسو ٹپکنے لگے

تم رو کیوں رہی ہو .بتاو ..

روشائل نے اسے بیڈ پر لٹایا .

کچه نہیں ..

وہ جانے لگی تهی کہ پیچهے سے شاویز نے اسکا ہاته پکڑ لیا

کہا جا رہی ہو ..

اپنے کمرے میں .

کیوں

کیا مطلب کیوں ..

تم میری بیوی ہو ….میں نے تم سے نکاح کیا ہے .جیسے شاویز نے کہا

اسکے پاوں وہی منجمد ہو گئے …

اسکا دل زور سے دهڑکنے لگا .

وہ آج بهی نشے میں ہی اسے اپنی بیوی کہہ رہا تها ..ج نشہ اتر جاے گا وہ سب کچھ بهول جاے گا .

شراب کیوں پیتے ہو ..وہ اسک قریب بیٹهی تهی .

اسے بهلانے کے لیے ..

بهولی

نہئں ..نہیں بهولتی وہ ..یہاں ..یہاں اس دل میں راج کیا ہے .

کہا ہے وہ .

پتا نہیں ..بس اتنا پتا ہے اسکی شادی ہو چکی ہے …

نام؟

یاد نہیں ..بچپن کی مگنی تهی ..بس .

جیسے شاویز نے کہا ..روشائل چپ ہو گئ ..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *