Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan NovelR50660 Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 03)
Rate this Novel
Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 03)
Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan
اب کیا روتی رہو گی یا بتاو گی بهی کچه جیسے سبین نے کہا مرزا سکندر نے اسکی بات کاٹی
کیا بتانا ہے ..اب بتانے والا کچھ نہیں رہ گیا تمهارا بیٹا اس کی زندگی تباہ کر آیا ہے مجھے شرم اتی ہے کہ تم نے اسے یہ تربیت دی کہ لوگوں کے گھروں میں گس کر اپنے اس دو ٹکے ایڈوینچر کی خاطر اسکی زندگی تباہ کر دی …
یہ کیا کہہ رہیں ہیں مرزا صاحب آپ اس دو ٹکے کی لڑکی کے انسو زیافہ اہمیت رکهتے ہیں میرے بیٹے نے کچھ نہیں کیا .اس ..نے خود بلایا ہو گا ..ویسے بھی ان چهوٹے گهر والے لوگ اکثر بڑے گهرون میں رہنے کی خوائش رکهتے ہیں اور یہ مکار کے آنسو آپ کو سچے لگ رہے ہیں
سبین مرزا کی باتوں میں ایک تلخ لہجہ تها ..وہی لہجہ جو اسکے ابا مین تها …اسکی طنزا باتیں روشائل چپ چاپ سنتی رہی …
نام کیا ہے تمهارا سبین نے ایک بار پهر اس سے سوال پوچها
ر…روشائل
تو بی بی روشائل ..ہم پر اتنا احسان کر دو کہ یہ رونا دهونا بند کرو .
اور اوپر سٹور روم ہے وہی جا کر سو جاو آج سے وہی تمهارا ٹهکانہ ہے اگر اس گهر میں رہنا ہے نان تو اپنی زبان کو تالا لگا کر رکهنا ہو گا سن لیا تم نے
اور ہاں ایک بات اور …سبین روشائل کے قریب آئی
اگر تم نے میرے بیٹے کے کمرے یا اسکی طرف آنکهه اٹها کر دیکها نہ تو مجهے دیر نہیں لگے گی تمهیں گهر سے نکالتے ہوے
“جینا بهی نہیں ہے بس میں رونا بهی نہیں ہے بس میں دوریاں سہی نہ جائیں کیسی ہے لگن کی رسمیں” …
اس کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا تها در در کی ٹهوکریں کهانے سے بچنےکے لیے وہ اب یہی رہنا چاہتی تهی اور جاتی بهی کہاں سارا کچه تو برباد ہو گیا تها اس کے سارے اپنوں نے اسکے لیے دروازے بند کر دیے …تهے
اور سب سے بڑهه کر اسکا شوہر شاویز سکندر ..محص ایک نکاح نامہ پر دستخط کرنے کے علاوہ …اب اسکی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکهتا تها ..کہنے کو تو وہ اسکی بیوی تهی لیکن ..اسے بیوی کا کوئی حق نہیں دیا گیا تها . اسے گهر میں محض ایک کام کرنے والی نوکر کے علاوہ اور کچه نہیں سمجها جاتا تها
**********************************
(نہیں …..نہیں ابا ..اللہ کا واسطہ ہے مجهے نہیں پتا یہ کون ہے )
وہ ایک چهوٹے سے کمرے میں زمین پر لیٹی تهی ..دلہن کے لباس میں ملبوس ہونے کی وجہ سے …اسے شدید گرمی لگ رہی تهی ..سوتے ہوے بهی اسے وہی واقعہ بار بار یاد آرہا تها ….شائد اب یہ واقعہ روشائل کی زندگی کا ایک ایسا حصہ بن چکا تها ..جیسے وہ نا چاہتے ہوے بهی بهلا نہیں سکتی تهی ..
امی ……..
روشائل کی اچانک آنکه کهولی ….اسے اس رات سے جڑی ہر بات یاد آرہی تهی ..اور اسکی راتوں تک کی نیندیں اڑا دیتی تهی ..
روشائل کی انکهوں سے آنسو ..کا دریا بہہ رہا تها …وہ بار بار سانس لینے کی کوشش کر رہی تهی ..لیکن وہ سانس نہیں لے پا رہی ..تهی
اس چهوٹے سے کمرے ..جس میں نہ کوئی ..پینکها .تها اور لائیٹ کی روشنی نہ ہونے کے برابر تهی ..
اس گرمی کی حدت کو وہ برداشت نہ کر پائی اور اچانک وہ باہر نکلی ..
ابهی وہ باہر نکلی تهی کہ سامنے سے ..سبین اور شاویز سکندر ..آرہے تهے ..مسکراتے ہوے ..ایسے جیسے کچه ہوا ہی نہ ہو ..
اسکی گہری آواز اور پرکشس انکهیں پیشانی پر ہلکے ہلکے بال گرتے تهے جیسے وہ بار بار اپنے ہاتھ سے پیچهے کرتا ..بلیک کرتا شلوار کرتا جس کی ائیستنیں عموما کہنیوں تک کی ہوئی …
وہ اس رات والا شراب میں چور ..شاویز معلوم ہی نہیں ہو رہا تها .
ابهی شاویز ..روشائل کی طرف دیکهتا کہ سبین کی نظر اس پر پڑی
بیٹا تم نیچے جاو ناشتہ کے ٹیبل پہ میں آتی ہوں
اس نے مسکرا کر سر ہلایا ..یوں مانو ..اسے سب کچه بهول گیا ہو ..سب کچه جو اس نے کیا تها .. شائد اب وہ روشائل کو بهی پہچاننے سے انکار کر دے
تم ….تم .باہر کیسے نکلی ..
کتنی دفعہ کہا ہے ..کہ میرے بیٹے کے سامنے اپنی اس منہوس ..شکل کو دیکهنا ..تک نہیں ہے ..لیکن نہیں تمهین تو شوق ہے نہ ..اسکے سامنے جانے کا اسے بتانے کا کہ میں تمهاری بیوی ہوں ..
ن…ن..نہیں …وہ مجهے بہت گرمی لگ رہی تهی ..
او
اچها ..اب میڈم ..کو گرمی لگ رہی ہے …تو جس گهر سے ائی تهی وہی سے کپڑے نہیں لا سکتی تهی کیا ..
یان
ماں باپ نے بس ..ایسے لاوارثوں کی طرح رخصصت کر دیا ..
سبین کی باتیں دل کو چیر دینے والی تهی …روشائل بے بس تهی وہ کچه نہیں کہہ سکتی تهی
کوئی کپڑا نہیں ملے گا تمهیں …
ن..نہیں آنٹی پلیز ..بہت گرمی ہے ..
روشائل نے ایک بر پهر کہا ..
گل ناز …..گل.ناز ..جیسے سبین نے آواز دی گل ناز فورا ائی
جی بی بی جی .
اپنے کوئی کپڑے لے کر او ..جو ..بہت زیادہ پرانے ہو چکیں ہون
لیکن کیوں بی بی
میں جو کہہ رہی ہوں وہی کرو ..کپڑے لے کر آو ..اور اسے دے دو ..
اور کل سے تم نہ آنا کرنا کام پر..
سبین نے طنزا مسکراتے ہوے کہا
لیکن کیوں
کیونکہ ہمیں نئ کام والی مل گئ ہے
روشائل ..سہم گئ …
*****************************************
اسلام .و علیکم خالہ ..
و علیکم اسلام ..میری جان ..میں تمهارا ہی انتظار کر رہی تهی ..
ہو …دیکهیے پهر میں آ گئ ..
خالہ کی جان ..سبین نے یہ کہتے ہوے پهر سارہ کو اپنے گلے لگا لیا ..
میں نے سارے کمرون کی صفائی کر دی ہے ..اب کیا کرنا ہے روشائل ہاته میں کپڑا پکڑے لانچ میں داخل ہوئی ..
خالہ یہ کون ہے ؟
سارہ نے حیرانگی سے روشائل کی طرف دیکها ..جو سادہ کپڑوں میں بڑی خوبصورت لگ رہی تهی
یہ …یہ….میں نے کتنی دفعہ کہا ہے ..جب کوئی بهی مہمان ایا ہو ..تم اپنی شکل لے کر نہ آیا کرو
جاو ..دفع ہو جاو اور شاویز کا کمرہ صاف کرو ..
اور ہاں صرف کمرہ ہی صاف کرنا ..
سبین نے دانت پینچتے ہوے کہا …
سارہ کے سامنے …اسے یہ کہنا پڑا کیونکہ آج تک وہ کبهی شاویز کے کمرے میں گئ .
خالہ ویسے یہ ہے کون میرا مطلب ہے دیکهنے میں اچهی بهلی لگ رہی ہے
سارہ نے تشویش کرتے ہوے پوچها ..
ہاں…وہ…وہ بیٹا ..یہ .
یہ مجهے باہر بازار میں ملی تهی .. بچاری غریب ہے ناں .تو میں نے بهی ترس کها کر رکه لیا ..
سبین کی آواز لڑکهڑا رہی تهی …
خالہ مجهے سچ سچ بتائیں بات کیا ہے …
سارہ کے لہجے میں گرمی پیدا ہوئی ….
وہ بیٹا ..شاویز .
اسطرح سبین نے سارا واقعہ سارہ کو بتایا ..
جیسے سارہ نے سنا اسکے رونگهٹے کهڑے ہو گئے …
کیا ؟
شاویز کی بیوی ہے یہ؟
نہیں نہیں ..بیٹا کوئی بیوی نہیں ہے یہ ..نشے میں کوئی نکاح نہیں ہوتا .
سبین نے بات کو سنبهالنے کی کوشش کی .
بس کریں خالہ مجهے پتا ہے …اپنے بیٹے کی سائیڈ نہ لیں لیکن چاہے ..نکاح نشے میں کیا لیکن ساری رسم کے مطابق تو کیا ناں .. حق مہر سے لے کر گواہ تک سب کچه تو ہے نکاح نامہ میں اور آپ کہہ رہی ہیں یہ نکاح نہیں …
دیکهو ..میری جان سیدهی سی بات ہے ..شاویز ..اس نکاح کو نہیں مانتا پهر تم کیوں پریشان ہو رہی ہو ..وہ صرف تم سے پیار کرتا ہے مگنی تم دونوں کی ہو چکی ہے شادی بهی جلد ہی ہو جاے گی ..
لیکن خالہ ..اس کا کیا ..وہ تو اسکے نکاح میں ہے اور ویسے بهی شاویز نے کیا خود کہا ہے کہ ..وہ اس نکاح کو نہیں مانتا
کہا
ن..ن.نہیں ..بیٹا ..لیکن .مجهے یقین ہے وہ اسے طلاق دے دے گا بس مرزا صاحب کی اوٹ آف کنٹری جانے کی دیر ہے پهر دیکهنا کیسے میں اسے دهکے دے کر باہر نکالتی ہوں
ٹهیک ہے خالہ …لیکن زیادہ دیر تک نہیں …
ٹهیک ہے میری جان ..
ماما …وہ ہربڑی سے ..گهر داخل ہوا …شاویز ..بیٹا کیا ہوا ہے
کچه نہیں ماما وہ فاعل رہ گئ تهی بس اسی کے سلسلے میں ایا ہوں
شاویز …..
سارہ نے اسے آواز دی لیکن وہ جلدی سے اپنے روم کی جانب بڑا ..
سارہ ..وہ منہوس ..ابهی بهی شاویز کے کمرے میں ہے ..صفائی کے لیے گئ تهی ..
سبین گهبرا کر اٹھ کهڑی ہوئی
روشائل ..شاویز .کے واش روم سے باہر نکلی تهی کہ اچانک .شاویز سامنے آ گیا ..
وہ دهک سے کهڑی ہو گئ …
اسکا پاوں شاویز کے شوز کے اوپر اچانک آگیا ..
س…سوری …ایم ..رئیلی سوری ..روشائل نے ڈر کے مارے .اپنی آنکهیں بند کر لی ..
تب سے ..مسلسل یہی کہہ رہی تهی ..
شاویز نے جیسے روشائل کو دیکها …وہ وہی منجمد ہو گیا ..
اسکے چہرے کے تاثرات سے معلوم تها کہ اس نے روشائل کو پہچان لیا تها ..
وہ ابهی تک اپنے ہاتهوں کو .آگے منہ پر کیے کهڑی تهی ..
کچه نہیں ہوتا ..
شاویز نے جیسے کہا ..
وہ بهاگ کر باہر جانے لگی تهی کہ اگے سبین اور سارہ کهڑی تهی ..
آ….آنٹی ابهی روشائل کچه کہتی ہی کہ سبین نے ایک زور دار تهپڑ اسکے چہرے پر رسید کیا ..
بد چلن ..بد کردار لڑکی ..کیا چاہتی ہو تم ..کہ اتنے بڑے گهر کی بہو بنو گی ..
تو پهر تم بهی کان کهول کر بات سن لو ..
میں تمهیں اتنا زلیل کروں گی کہ تم خود اس گهر سے چلی جاو گی ..
خالہ چهوڑے اس دو ٹکے کی لڑکی کے کیا منہ لگنا ..
جیسے انہوں نے شاویز کو نیچے آتے دیکها ..
انہوں نے روشائل کو دهکا دے کر پیچهے کیا ..
ہیلو .بزی بواے .سارہ مسکراتے ہوے شاویز کے قریب گئ ..
شاویز نے مسکراتے ہوے ..جواب دیا ..ہاے .
اچها ..کہاں جا رہے ہو
جیسے سارہ نے سوال کیا ..
شاویز ..نے بڑے پیار بهرے لہجے میں کہا .
وہ ..یہ فاعل بابا کو دینی تهی ..ابهی وہی دینے چلا ہوں ..
میرے لیے تمهارے پاس ٹائم نہیں ہے
سوری سارہ ..کل ..کوئی پلین بناتے ہیں ..
بهلا کوئی اپنی منگتر کے ساته ایسا کرتا ہے …خوش نصیب ہو تم ..جیسے مجھ جیسی منگتر ملی
ہاہاہہاا شاویز نے قہقا لگایا اور باہر کی جانب بڑهه گیا ..
*********************************
ہیلو .. شاویز نے فون اٹهاتے ہی کہا
بتاو کیا پتا چلا ؟
شاویز کی آواز میں تجسس تها ..
صاحب بہت مشکل ہے …نہ تو آپ کے پاس اس لڑکی کوئی تصویر ہے جس سے اسکی شناخت کر لی جاے
اب اتنے بڑے شہر میں اسے ڈهونڈتے ہوے تهوڑا وقت لگ گا
جیسے بهی ہو جو بهی کرو ..مجهے وہ لڑکی کا پتا چاہیے
شاویز نے غصے میں کہتے ہوے فون بند کیا
**************************************
دیکهیے علی کے ابو ..ایک دفعہ تو اپنی بیٹی سے مل آنے دو
مجهے پورا یقین ہے روشائل ایسا نہیں کر سکتی ..وہ لڑکا جهوٹ بول رہا ہے
بکواس بند کرو ..تم .تمهیں کہا .اپنی بیٹیوں میں گندگی نظر آتی ہے
اگر آتی ہوتی ناں تو اپنی بڑی بیٹی کو ..فرار ہونے سے پہلے روک لیتی
اور چهوٹی … اب جو بهی ہے ..اسکا نکاح کروا چکاہوں اسکا اب ہم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے
مر چلی ہے وہ ہمارے لیے
جیسے ارشد علی نے کہا ..
ارفع بیگم وہی چپ ہو گئ ..
بس سسکیوں کی آواز تهی ایک دهبی ہوئی آواز ..جس کا درد نا قابل بیان ہے .
وہ ماں تهی ..کیسے ..وہ اپنی بیٹی کو بهول سکتی تهی
************************************
تو پهر شاویز ..بهابی کا کیا حال ہے
جواد نے طنزا کیا
جیسے جواد نے کہا ..شاویز ..نے ایک تیخی نگاہ ..ڈالی .
اور کہا .
کونسی بهابی ..
ارے ہماری بهابی جس سے تم نکاح کر کے آے تهے
بکواس بند کرو ..سن لیا تم نے اور رہی بات ..اسکی تو وہ میرا معاملہ ہے تمهیں کوئی ضرورت نہیں ہے
ہم تو چپ ہی ہیں لیکن سارہ کا کیا ..اسکا کیا کرو گے
جیسے پهر جواد نے کہا
شاویز نے جواد کا گریبان پکڑ لیا ؟
ارسل اور شہریار آگے بڑه کر انهیں ایک دوسرے سے الگ کیا
اللہ کا واسطہ ہے ایک دفعہ مجهے معاف کر دیں آئیندہ سے ..نہیں جاوں شاویز کے کمرے میں
وہ ..فریادیں کر رہی تهی ..
لیکن سنگ دل سبین .اسکو مارے جا رہی تهی
