Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 06)

Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan

یہ یہ کیا کر رہے ہیں ابا ۔دانیہ گھبرائی اسکے ہواس بوکھلا گئے جب ارشد احمد نے اسکے ہاتھوں اور بازوں کو مضبوط رسی کے جال میں دھنس دیا ۔۔

اسے ابھی تک ۔معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ ۔۔اسکے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔۔

ابا ۔آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے بتائیں تو سہی ۔۔آپ ۔آپ کیا کر رہے ہیں

چپ کر ؟

ارشد احمد نے اسکے نازک چہرے پر ۔۔تھپڑ رسید کیا ۔۔مارنے لگا ہوں تجھ جیسی بچپن کو ۔۔سن لیا تو نے ۔۔۔

مار دوں گا ۔۔آج تجھے

ن۔۔۔ن۔نہیں ابا ۔۔خدا کے لیے ایسا مت کریئں ۔اسکی آنکھوں میں آنسوں کا دریا بہنے لگا ۔۔آواز ۔۔ہلک ۔میں ہی اٹک رہی تھی ۔۔وہ ہاتھ جوڑے ۔۔۔اپنے باپ کے سامنے

فریاد کر رہی تھی

ابا ۔خدا کے لیے میرا قصور کیا ہے جو آپ مجھے اتنی بڑی سزہ دے رہیں ہیں ابا کچھ تو بولیے ۔۔۔ مجھے پتا ہے ہم آپ کی سگی اولاد نہیں ۔۔لیکن ۔سگی اولاد کی طرح چاہا آپ کو ۔۔۔

وہ بے حس سخت دل انسان اسکی ایک بات نہیں سن رہا تھا ۔

وہ منتیں ۔۔فریادیں ۔سب کچھ تو کر رہی تھی

پسند کی شادی کرے گی ۔تو ۔ اسکی آنکھوں میں وحشی پن تھا ۔

خون سنوار تھا ۔۔۔

ن۔نہیں اب میں نے تو اسے منا کر دیا ۔۔جب آپ نے اجازت ۔نہیں دی ۔۔

دیکھ لیں ۔۔ابا خدا کے لیے ایک دفعہ مجھے معاف کر دیں ۔

کیا ملے گا آپ کو ایسا کر کے ۔

وہ گھر سے پیار سے سر پر ہاتھ رکھنا ۔۔وہ۔۔۔وہ۔۔سب دکھاوا ۔تھا کیا؟ ابا ۔

وہ ۔پیار ۔۔وہ اپنائیت صرف مجھے مارنے کے لیے کی تھی

ابا ۔خدا کی قسم ۔۔اگر ایک دفعہ ۔آپ مجھے کہتے ناں ۔۔دانیہ تجھے مرنا ہے ۔۔۔

میں خوشی خوشی چل دیتی ابا ۔۔کیونکہ مجھے آپ کا پیار چاہیے تھا وہ باپ والا جس کے لیے ہم ساری بہنیں تر سی تھی ۔۔

ایک بیٹی کا اپنے سوتیلے باپ ہی کو کیوں ۔۔اگر کیسی کو بھی کہے تو کس کا دل کرتا ہے وہ اپنی اولاد کے ساتھ ایسا کرے

اس نے سارا پیٹرول ۔۔اس کے اوپر پھینک دیا ۔۔

ابو ۔۔ایک آخری دفعہ ۔آپ سے کچھ مانگ رہی ہو ں خدا کے لیے میری دوسری بہنوں کے ساتھ ۔۔اس طرح کا ظلم مت کریے گا ۔۔

اور اپنی آنکھوں پر اور کا نو پر پٹی باند لیں کیونکہ جب تک میرا سات جسم جل کر راکھ نہ ہو جاے میں تب تک آپ سے معافی مانگتی رہوں گی ۔۔

شائد آپ مجھے معاف کردیں

خدا کی قسم جب دانی نے کہا ۔۔۔ارش ۔کانپ گیا ہو گا اتنا سخت باپ ۔۔جو آپ ہاتھوں سے ۔اپنی اولاد کو جلا دیا ۔۔

وہ جلتی رہی

اسکی آنکھوں میں کچھ اپنے تھے ۔۔

کچھ ۔۔خواب ۔۔کچھ ۔اپنے کی چاہت ۔۔

سب کچھ ۔۔اسی آگ میں جل گئے اور وہ سوتیلا شیطان سامنے کھڑا تماشہ دیکھتا رہ گیا ۔۔۔

د انیہ ۔اب ۔اس دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جا چکا تھی ۔۔

غیرت کے نام ۔۔پر ایک لڑکی قربان ۔۔

وہ گھر سے بھاگی نہیں تھی ۔۔ اسکے سوتیلے باپ آر نے سب ۔لوگوں کے سامنے ۔کہہ دیا ۔۔

کہ وہ بھاگ گئ ہے ۔۔ماں سب گھر والے روتے رہے لیکن ۔۔روشائل اس بات سے متفق نہیں تھی ۔۔

کیونکہ اسے یقین تھا کہ اسکی ناجی بھاگ نہیں سکتی ۔۔

کیونکہ اس نے خود ۔۔اس لڑکے کو منع کیا تھا ۔۔لیکن کیا کرتی کیسے وہ اپنے گھر والوں کو سب رشتہ داروں کو یقین ڈالتی

ارفع۔۔۔۔بیگم ۔۔۔۔۔۔ارشد علی نے اس قدر زور سے آواز لگائی ۔۔کہ سب ہر بڑا کر اٹھ بیٹھے

جی ۔۔۔آپ ٹھیک تو ہیں ۔۔

ارفع جلدی سے پانی کا گلاس لے کر آئی ۔۔۔

ارشد احمد ۔کے چہرے پر پسینہ آیا تھا ۔۔آصف واضح تھا انہوں نے کوئی بڑا خواب دیکھا تھا ۔۔

ک۔۔۔کچھ نہیں ۔۔میں ۔۔میں ٹھیک ہوں خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ۔۔ہے ۔کبھی کبھی نہ تو کبھی انسان کی پکڑ ہوتی ہے

***************************************

زخم تو بہت گہرے تھے لیکن مرحم لگانے والا کوئی نہیں تھا اپنے تو بہت تھے لیکن ساتھ دینے والا نہیں تھا ۔کیسے وہ چھپا لیتی تھی اپنے زخموں کو اس درد کو جو وہ ہر روز برداشت کرتی تھی ہر روز اسے اسکی عزت کا طعنہ دیا جاتا تھا اسکے دامن پر جو داغ لگ چکا تھا اب کبھی مٹانے والا نہیں تھا اسکی سہاہی ہلکی صرف ایک شخص کر سکتا تھا جسکی وجہ سے اسکی زندگی برباد ہوئی تھی اور وہ کوئی نہیں تھا بلکے اسکی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا تھا جیسے وہ نا چاہتے ہوے بھی کبھی بھلا نہیں سکتی تھی اور وہ شاویز سکندر تھا

جس نے شراب کے نشے میں دھند ہو کر اسکے دامن پر بد چلن اور بد کردار کا کیچڑ اچھالا تھا جو صرف اسکی سچائی بیان کر کے ہی دور ہو سکتا تھا

شاور اپنی مکمل سہی پر آن تھا ۔پانی کے گرتے قطرے اسکے زخموں کو اور گہرا کر رہے تھے

آ۔۔۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔ وہ چلا رہی تھی ۔۔۔۔اپنے ۔۔درد کو بھلانے ۔۔کے لیے ۔۔وہ مسلسل ۔۔اپنے ہاتھوں سے خود کو ۔۔نوچ رہی تھی

کیوں

کیوں ۔۔کیا ۔۔شاویز ۔۔کیوں کیا ۔۔کیا بگاڑا تھا میں نے تمھارا

کیوں تم میری زندگی میں آئے نا تو تم پیار کے لائق ہو نہ نفرت کے قابل ۔۔

************************************

تم ۔۔کیا ۔کر رہی ہو ؟

جیسے سارہ اندر داخل ہوئی وہ روشائل کو دیکھتے ہی ۔۔بگڑ گئ ۔۔

میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں ۔۔

گھونگی ہو کیا

وہ اسکے قریب گئ ۔۔

شاویز ۔۔۔۔کی شرٹ ہے ناں

تم شاویز ۔کی شرٹ پریس کر رہی ہو ۔۔

وہ چپ ۔۔بنا کچھ کہے پریس کر رہی تھی ۔۔

تمھاری ہمت کیسے ہوئی شاویز کی چیزوں کو ہاتھ لگانے کی

سارہ نے روشائل کے بازو سے پکڑ کر اسے دھکیلا۔۔۔

ہاتھ مت لگانا ۔۔مجھے دوبارہ ۔۔سن لیا تم نے

روشائل نے سارہ کا ہاتھ پکڑ کر ۔۔دھکیلا ۔۔

تمھارا کیا حق ہے ۔۔شاویز ۔پر بتاؤ کیا لگتی ہو تم ۔اسکی ۔۔

صرف ۔منگنی ہی ہوئی نہ ۔۔

تو وہ ٹوٹ بھی سکتی ۔۔

میں اسکی بیوی ہوں ۔۔۔تم سے پہلے ۔ اس پر میرا حق ہے ۔۔اس پر اور اسکی چیزوں پر ۔۔

تم کون ہوتی ہو ۔۔مجھے روکنے والی ۔۔

جیسے روشائل نے کہا ۔

سارہ نے اچانک اسکا ہاتھ پکڑ کر استری کے نیچے رکھ ۔۔دیا

اب بتاو ۔۔

وہ چلانے لگی ۔۔

ابھی ایک دو سکینڈ تھے کہ شاویز آگیا ۔۔

یہ کیا کر رہی ہو سارہ ۔۔

جیسے سارہ نے شاویز کو دیکھا ۔ جلدی سے پیچھے ہٹا ۔

شاویز ۔۔تم

یہ یہ نوکر ۔۔

وہ شبھ کچھ کہتی ۔۔کہ شاویز ۔نے اس کے منہ پر زور سے تھپڑ مارا

بیوی ہے وہ میری ۔۔۔میرے نکاح میں ہے وہ ۔۔

تمھاری ہمت کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی

جیسے روشائل نے سنا ۔۔وہ ایک دم سے ٹھہر گئ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *