Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan

یہ لڑکی کی زندگی کا سب سے خوشگوار لمحات میں سے ایک لمحہ ہوتا ہے ۔۔۔۔
لیکن میرے لیے ندامت کے علاوہ کچھ نہیں ۔۔
برات آنے والی ہے ۔۔۔۔
پورا گھر خوشیوں سے چہک اٹھا ۔۔۔
اماں اس نے بے چینی سے اپنی ماں کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اسکے معصوم چہرے ۔۔۔پر ایک ڈر کی لہر تھی ۔۔۔سہمی سی ۔
کچھ نہیں ہوتا بیٹا یہ تو خوشی کا موقع ہے اسکی ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے تمھارے ابا جیسے بھی ہیں سخت دل ، بے رحم لیکن مجھے ان پر پورا یقین ہے کہ وہ تمھیں کیسی ارے غیرے کے ہاتھ میں نہیں دے گے ۔۔۔
ارفع بیگم نے روشائل کو اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا ۔۔لیکن انھیں اندر سے ابھی بھی ڈر تھا کہ کہی برا نہ ہو جاے کیونکہ گھر میں روشائل کے ابا ارشد علی کے علاوہ کسی نے اس کے ہونے والے شوہر کو نہیں دیکھا ۔تھا ۔
"اب کیا یہاں رونا دونا کرتی رہو گی یا اسے باہر بھی لے کر آو گی بہت رو لیا ہے رخصتی کے لیے بھی کچھ بچا کہ رکھ لو ۔۔
ارشد احمد چھڑی کا سہارہ لیتے ہوے کمرے میں داخل ہوے ان کے لہجے میں تلخ کلامی تھی جو دلوں میں آگ لگ جاتی تھی باپ جیسی نرمی کلامی ان میں نہیں تھی ۔
روشائل کی 3 بہنیں تھیں سب سے بڑی دانیہ منجلی روشائل اور سب چھوٹی تسمیہ اور سب سے چھوٹا بھائی علی ۔
گھر کا ماحول ہمیشہ ڈرا اور سہما ہوتا تھا وجہ ۔۔۔ان کے ابو ارشد علی کا غصہ تھا اپنی بیٹیوں پر طعنہ بازی ان کو معاشرے میں بدنام کرنے کے طعنے دیتے تھے اکثر روشائل اسکا شکار بنتی کیونکہ اس کی بڑی بہن دانیہ پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی ارشد احمد کے لگاتار نہ کہنے پر اخر اس نے گھر سے فرار ہونے کا فیصلہ کر لیا
اسی وجہ سے ارشد احمد کا غصہ اپنی بیٹیوں پر اور زیادہ بڑھ گیا اور انھوں نے روشائل اور تسمیہ کی پڑھائی رکوا دی ۔۔روشائل کالج کے اخری سال میں تھی جب اس نے پڑھنا چھوڑ دیا
جبکہ تسمیہ نے دسویں جماعت کے امتحان دیے تھے اسکے بعد وہ کیسی کالج میں نہیں جا سکی البتہ ان کا چھوٹا بھائی سکول جاتا تھا ۔
شاویز ۔۔سکندر نام ہے میرا ۔۔۔۔۔سن لیا تم لوگوں نے ۔۔شاویز سکندر ۔۔
مرزا سکندر کا اکلوتا بیٹا ۔جس کے لیے کوئی بھی چیز حاصل کرنا مشکل نہیں
تو پھر وہ کیسے نہیں مجھے مل سکتی ۔۔۔۔کیسے نہیں مل سکتی ۔۔
شاویز ۔۔کی زبان لڑکھڑا رہی تھی منہ سے آتی شراب کی بدبو ۔۔صاف واضح تھا کہ وہ نشے میں دھند تھا ۔۔
ہاتھ میں پکڑی شراب کی بوتل ۔۔۔۔
جو آدھی ہو چکی تھی ۔۔
ابھے سالے کتنی دفعہ بتا چکا ہوں تجھے میں کہ تیری نامعلوم محبوبہ کی شادی ہو چکی ہے ۔۔۔۔ وہ جا چکی ہے اپنی شوہر کے ساتھ لیکن تو ہے ۔۔مانتا نہیں
شاویز ۔۔کے دوست شہریار نے اسے بتایا ۔۔جو گاڑی کے آگے ٹیک لگاے کھڑا ۔۔تھا
ج۔۔۔۔ج۔۔جھوٹ ۔۔ی ۔۔یہ ہو نہیں سکتا ۔۔کہ اسکی شادی ہو جاے ۔۔۔وہ میری ہونے والی بیوی ۔
جیسے شاویز نے کہا ۔۔
اسکے دوسرے دوست جواد نے بات کاٹی
بیوی تھی ۔۔۔
ابھے ۔۔بچپن کی کہی مگنی تھی نکاح نہیں تھا جو ابھی تک تیرے انتظار میں ہوتی ۔۔
اور وہ ابھی تک تجھے بھول چکی ہو گی ۔۔۔اور تو ہے ۔۔پاگل مجنو کی طرح ۔۔اس کو ڈھونڈتا ہے ۔۔
جیسے جواد نے کہا ۔۔۔شہریار اور ارسل نے قہقا لگایا
شاویز ، شہریار، جواد ، اور ارسل تینوں بہترین دوست تھے چاروں ہی اچھے ھھرانے سے تعلق رکھنے والے لیکن شاویز ان تینوں سے زیادہ امیر تھا ۔۔۔
مرزا سکندر کی پراپرٹی کا اکلوتا وارث جو تھا ۔۔۔
اچھا ۔۔شاویز ۔۔۔یار کوئی ایڈوینچر ۔۔ہی کرتے ہیں ۔۔آج ۔۔ہمیں ایسا ایڈوینچر کر کے دیکھا ۔جو کیسی نہ کیا ہو ۔۔آج تک
جیسے ارسل نے کہا ۔۔
شاویز نے ۔۔ساتھ ۔۔گاڑی پر رکھی ایک اور شراب کی بوتل اٹھائی ۔۔اور لڑکھڑاتے ہوے گاڑی سے ٹیک آگے کی ۔۔اور چند قدم آگے ۔۔بڑا ۔۔
کون سا ایسا ایڈوینچر ہے جو تیرے یار نے آج تک نہیں کیا ۔۔
کوئی دنیا میں ایسا کام نہیں ہے جو میں نے نہ کیا ہو ۔۔
شاویز ۔۔نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔
اچھا ۔۔۔ھواد نے طنزا کیا ۔۔
اگر ایسا ہے ۔۔تو اج ۔۔پھر یہ کر ۔۔۔
کیا ؟
شاویز ۔۔نے جواد کی طرف دیکھا ۔۔
یہ جو ۔۔۔گھر ہے ۔۔۔
یہ سامنے ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *