Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 07)

Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan

تم نے اس دو ٹکے کی لڑکی کی خاطر مجھے تھپڑ مارا

جیسے سارہ نے کہا شاویز اس قدر زور سے بولا کہ کمرے میں موجود ہر چیز یوں مانو کانپ گئ ہو

یہ دو ٹکے کی لڑکی نہیں ہے ۔۔سن لیا تم نے یہ دو ٹکے کی لڑکی نہیں ہے ۔۔بیوی ہے میری ۔۔بیوی سن لیا تم نے

اب اگر آئیندہ تم نے اسے ہاتھ لگانے یا اسے چھونے کی کوشش بھی کی تو مجھ سے بڑا کوئی نہی ہو گا

۔

شاویز کی آنکھیں سرخ ہو گئ تھی ۔۔

وہ بلکل خاموش کھڑی تھی ۔۔۔شاویز نے روشائل کا ہاتھ ۔۔اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا ۔۔

سارہ روٹی ہوئی نیچے ۔۔چلی گئ ۔۔

بیٹھو یہاں ۔۔۔۔۔۔

شاویز جلدی سے فرسٹ ایڈ بکس لے کر آیا ۔

کیا واقعی شاویز نے جو کہا تھا ۔۔وہ سچ تھا ۔کیا میری کوئی اہمیت اسکی زندگی میں ۔کیا واقعی وہ مجھے تسلیم کر چکا تھا ۔یا پھر یہ ۔نشے میں دھند ۔۔کوئی کھیل تھا ۔۔

لیکن وہ نشے میں نہیں تھا

درد تو نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ۔۔پٹی کرتے ہوے کہا ۔۔

ن۔ن۔نہیں ۔۔ہو رہا ۔۔وہ بس شاویز کی طرف دیکھتے جا رہی تھی ۔۔

اسے ابھی تک یقین نہیں ہو رہا تھا ۔۔

ٹھیک ہے تم ۔۔ریسٹ کرو ۔۔ شاویز کے کہنے پر وہ اٹھی اور باہر جانے لگی ۔۔

کہاں جا رہی ہو ؟

کمرے میں

اچھا۔۔۔۔۔ٹ۔۔۔۔ٹھیک ہےب۔۔وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن وہ کہہ نہیں پا رہا تھا

سنو ۔روشائل ۔۔

آخر اس نے اسے روک لیا

وہ پلیٹ اور اسکی طرف دیکھا ۔

ت۔۔۔۔تم میرے روم ۔میں لیٹ جاو ۔۔۔جیسے شاویز نے کہا ۔۔اسکا دل زور سے دھڑکنے لگا ۔۔۔پاوں وہی منجمد ہو گئے ۔۔

ن۔۔۔نہیں میں ۔اپنے روم میں ہی ٹھیک ہوں ۔۔

نہیں اب ریسٹ کرک بلاشبہ بعد میں چلی جانا

اس نے ۔۔روشائل ۔کو اپنے کمرے میں ہی رہنے دیا ۔

****************************************

کب ۔کرے گا ۔۔بتائیں ۔۔مجھے ۔۔

کب کرے گا شادی مجھ سے ۔۔

بس کردیں خال ۔بس کر دیں اپنے یہ جھوٹے وعدے اپنے پاس رکھیں ۔

آپ کو کیا لگتا ہے میں پاگل ہوں مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی ۔

سب جان گئ ہوں میں آپ کا بیٹا ۔اسے اپنی بیوی تسلیم کر چکا ہے

اور وہ اسے طلاق نہی دے گا ۔

اور آج اس دو ٹکے نوکر رانی کی وجہ سے مجھے ۔۔تھپڑ مارا ۔

وہ ہوتا کون ہے مجھ پر ہاتھ ۔اٹھانے والا

قام ڈاون ۔مائی پرسنس آئی نو تمھارا غصہ جائز بس مجھ پر یقین ہے ناں تمھیں

بولو ۔۔

بولو

جیسے بسیں نے کہا

سارہ نے سر ہلایا ۔

تو پھر ۔۔تم دیکھنا ۔۔اس ہفتے کے اندر اندر اس لڑکی کا ایسا حشر کروں گی ۔۔کہ شاویز اسے خود طلاق دے گا

بس ۔آج رات کو ۔تم تماشہ دیکھنا ۔۔

پر خالہ؟

بس بیٹا ۔۔اس تھپڑ کا اس نوکر رانی کو بہت بڑا ان جا بھگتنا ہوگا ۔۔

اب اسکو نکالنا میری ضد بن چکا ہے ۔جس چیز کا مجھے ڈر تھا ۔وہی ہوا ۔

جس چیز سے شاویز کو بچا بچا کر رکھتی تھی ۔۔۔

وہی ہوا

اب تم دیکھتی جاو ۔۔

*************************************

شاویز ۔۔ایک لمحہ کو سوچو۔روشائل کا قصور کیا ہے اس نے تمھارا اور تمھاری فیملی کا کیا ب یگاڑا ہے جو تم لوگ اس کے ساتھ اس قدر ۔۔۔ظلم کرتے ہو ۔۔اس بیچاری نے خود تو تم سے نہیں کہا تھا ۔کہ مجھ سے نکاح کر لو

یاد کرو وہ دن ۔۔۔جب تم نشے میں دھند اس کی زندگی برباد کر آئے تھے

اس میں غلطی کس کی ہے ۔۔صرف تمھاری ۔۔

شاویز ۔روشائل ۔۔نا صرف ایک اچھی لڑکی ہے بلکے ایک بہت اچھی بیوی ثابت ہو گی ۔

میں کہتا ہوں تم اسے تسلیم کر لو ۔۔

اور اس سے معافی مانگو ۔۔تم نے اس کے ساتھ بہت بڑا کیا ہے

ارسال نے شاویز کو سمجھاتے ہوے کہا

شاویز ۔۔کو پھر سے وہ سات واقعہ یاد آیا ۔

واقعی یہار اس میں روشائل کا کوئی قصور نہیں تھا ۔میں نے ہی اسکی زندگی برباد کر کے رکھ دی اور اب اسے اور ذیل کر رہا ہوں

میں آج رات ہی ماما سے بات کروں گا

************************************

وہ شاویز کمرے میں لیٹی تھی کہ ساتھ پڑے پی ٹی سی ایل پر کال آئی

روشائل نے فون اٹھایا

اسلام و علیکم

۔وعلیکم اسلام ۔میں شاویز

جیسے ۔۔شاویز نے کہا ۔۔روشائل کا دل دھڑکا

جی؟ کہیے

وہ۔۔۔وہ۔۔میں ں پوچھنا تھا ۔۔۔

وہ روکا

کیا پوچھنا تھا

وہ میں نے ۔۔پوچھنا تھا ۔۔کہ ٹائم کیا ہوا ہے ۔۔جیش شاویز نے کہا

روشائل ۔چونکہ کیا؟

آپ نے ٹائم پوچھنے کے لیے کال کی ہے

اس نے یہ کہتے ہوے زور سے قہقا ۔لگایا

آج وہ بہت عرصے بعد مسکرا رہی تھی ۔۔

بہت عرصے بعد اسکے چہرے پر ۔۔مسکراہٹ کا پہرا چھایا تھا

تم میرا مذاق بنا رہی ہو ۔

ن۔۔نہیں تو

اچھا اصل بات بتایں

تمھاری طبعیت کیسی ہے

ابھی ٹھیک ہے ۔۔

چلو ٹھیک ہے شاویز نے یہ کہتے ہوے فون بند کیا

پاگل ۔۔کہی کا ۔۔ایسے بھی کوئی کہتا ہے کیا

**********************************

آٹھ ۔۔۔۔آٹھ ۔۔نکل ۔۔۔

سبین روشائل کو گھسیٹتے ہوئی نیچے لے کر آرہی تھی ۔۔

آنٹئ ۔۔آنٹئ ۔۔یہ کیا کر رہی ہیں آپ ۔

ابھی تمھیں بتاتی ہوں ۔۔میں کیا کر رہی ہوں

میں نے کیا کیا ہے؟

جیسے روشائل نے کہا ۔۔۔

سبین نے ۔ روشائل کا زخمی ہاتھ کو اس قدر زور سے دبایا

کہ پورے گھر میں اسکی چیخنے بلند ہوئی ۔۔

ہوئی درد نہ ۔۔ایسے ہی درد میری بھانجی کو ہوئی تھی ۔۔بڑی تیری زبان چلنے لگی ہے ۔۔۔

کیا کہا تھا ۔۔میں نے ؟

کیا کہا تھا ؟ کہ میرے بیٹےسے دور رہنا

وہ ۔۔۔۔وہ

روشائل لڑکھرائی

تو سبین نے اسکے منہ پر زور سے تھپڑ رسید کیا

کیا ۔۔وہ۔۔۔وہ کر رہی ہو ۔۔

ابھی وہ دوسرا ہاتھ اٹھانے لگی تھی ۔۔کہ اسے کال آئی ۔۔

سبین نے کال

اٹھائی

صاحب شاویز ۔۔آرہے ہیں

جیسے

سبین نے سنا ۔

اس نے ساتھ پڑے گلدان سے ۔اپنے سر کو زخمی کر لیا

اور وہ نیچے گری تھی ۔۔

کہ ۔شاویز ۔ہاتھوں میں گلاب کے پھول لیے جو شائد وہ روشائل کے لیے لیا ہو ۔۔

وہ نیچے زمین میں گر گئے

اور اس نے بلند آواز میں کہا

ماما——-

ماما یہ ۔۔۔یہ کیسے ہوا ۔۔

اس نے سبین کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔

بیٹا۔۔ر ۔۔۔روشائل ۔نے مجھے مارا ۔۔۔میں ۔۔میں نے صرف

کام کا ۔پوچھا تھا ۔کہ مجھ سے جھگڑا شروع کر دیا ۔

جیسے سبین نے کہا

شاویز کہا بھلا رہ گیا

ن۔۔۔نہیں شاویز ۔۔۔روشائل نہئں۔۔نہیں میں سر ہلا رہی تھی

نہیں ۔۔۔شاویز ۔۔نہیں ۔وہ اپنی صفائی دینے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کے خلاف جو جھوٹ کا جال بچھایا گیا تھا روشائل اس میں بری طرح پھنس چکی تھی ۔۔

وہ سچی تھی لیکن سبین نے اسے جھوٹ کی زنجیروں میں قید کر ڈالا

سبین کے ماتھے پر کافی گہرہ زخم آیا تھا ۔۔اسکے سلسلے میں اسے ہوسپٹل لے جایا گیا ۔۔

پلیز شاویز ایک ۔دفعہ میری بات سن لو ۔۔ ۔

روشائل نے شاویز کو کہا ۔جو ہوسپٹل کے باہر گروانڈ میں بیٹھا

تھا ۔سبین ۔اب بلکل ٹھیک تھا اسے سونے والا انجکیشن لگایا گیا تھا تاکہ وہ آرام کر سکے

بس ۔۔۔۔اب۔۔ایک اورلفظ نہیں ۔۔کیا ۔کہنا چاہتی ہو تم جو تم نے کرنا تھا ۔وہ تم کر چکی ۔۔۔۔ہو

ن۔۔۔۔نہیں ۔۔۔شاویز ۔۔۔ جیسا تم سوچ رہے ہو ۔۔ویسا بلکل نہیں ہے میرا یقین کرو میں نے نہیں کیا یہ

تو پھر کس نے کیا؟ کون تھا گھر؟ بتاو ۔تمھارے علاوہ گھر میں کوئی نہیں تھا ۔۔

تمھیں کیا لگا تم جو بھی کرو گی مجھے پتا نہیں چلے گا ۔

ارے میں پاگل تھا جو یہ سوچ بیٹھا تم نہ تو ایک اچھی لڑکی بن سکی

اور نہ ہی ایک اچھی ۔بیوی بن سکتی ہو ۔۔۔

میں ۔۔نے کیوں سوچ لیا ۔۔۔کہ تم سب لڑکیوں سے مختلف کو ۔

لیکن نہیں ۔۔تم کس قدر ظالم ۔ہو ارے کیا ۔بیگاڑا تھا میری ماما نے تمھارا ۔وہ بھی تو تمھاری ماں جیسی تھی نہ ۔

تو پھر کیوں کیا ایسے

جواب دو

بولو ۔۔۔۔؟

کہا ۔۔کچھ بولو ۔گی ۔۔کیونکہ تمھارے پاس ۔اب کچھ کہنے کو بچا نہیں ہے

وہ مسلسل بولتا جا رہا تھا لیکن وہ خاموش تھی ۔۔چاہے وہ لاکھ کوشش کر لیتی ۔لیکن وہ شاویز کی نظروں میں جھوٹی ثابت ہو چکی تھی

سچ خاموش ہو گیا ۔

کیا کہتی وہ ؟ اب کچھ کہنے والا ۔نہیں رہ گیا تھا شاویز نے اپنی ماں کا جھوتا زخم کو تو دیکھ لیا لیکن ایک دفعہ بھی اسکے جلے ہوے ہاتھ کو نہیں دیکھا جس کو اتنی زور سے سبین نے دبایا تھا کہ

زخموں میں ۔خون رسنا شروع ۔ ہو گیا

***************************************

شاویز۔۔۔۔خالہ۔۔کیسی ہے ۔؟ سارہ بڑبراتئ ہوئی ہوسپٹل آئی ۔

ٹھیک ہیں وہ ابھی تو سو رہی ہیں اسکے بعد انھیں گھر لے جاسکتے ہیں

شکر ہے اللہ کا میں تو یہ خبر سن کر دھنگ رہ گئ ۔۔

مطلب کوئی انسان ۔اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہے ۔

کتنی بدتمیز ۔اور مکار نکلی یہ جس گھر میں رہتی ہو اسی پر وار کرتی ہے

سارہ نے شاویز کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوے اسے تسلی دی اور ساتھ طنزا مسکراہٹ سے روسائل کو دیکھ رہی تھی

میں تو کہتی ہوں اسے گھر سے دھکے مار کر نکالنا چاہیے ۔

اگر آج یہ کر رہی ہے تو پتا نہیں کل کو کیا کرے گی ۔

شاویز کچھ نہیں بول رہا تھا ۔۔

“تمھیں ہم سے بڑھ کر دنیا

دنیا تمھیں ہم سے بڑھ کر ہم کو تم سے بڑھ کر کوئی جان سے پیارا نہ ہو گا”

اور ہاں جتنی جلدی ہو سکے طلاق دو اسے اورآزاد کرو اس اوارہ کو ۔۔

یہ سنتے ہی روشائل وہاں سے چلی گئ ۔۔۔بدچلن ، بدکردار، بدتمیز، آوارہ ، اور کیا ۔کیا نہیں اسے کہا گیا تھا ۔

اسکی زندگی میں جو ہو چکا تھا وہ ناقابل برداشت تھا ۔لیکن

وہ ان امتحانات کو خاموشی سے۔اور گم سم سہہ لیتی کبھی ۔بھی زبان پر شکوے کا اف تک نہیں کیا ۔

اکیلی سڑک پر ۔۔چل رہی تھی ۔زندگی اسکے لیے اب درد کے سوا کچھ نہیں تھی ۔ اسکی چیخیں شاویز کو کیوں نہیں سنائی دیتی تھی وہ اب زندگی سے رسوا ہو چکی تھی ۔

اب اسکے دل میں کوئی چاہت نہیں تھی ۔۔کوئی خواب ۔۔نہیں تھا

(خدا کا واسطہ ہے ابو میں اسے نہیں جانتی ۔یہ کون ہے اور یہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے مجھے نہیں پتا)

اپنے گھر والوں سے اپنی ماں سے ملنے کے لیے بے تاب تھی جب جب وہ زندگی کے امتحانات سے تھک جاتی ۔۔تو وہ اپنے ماں کے سینے سے لگ کر روتی اس سے اسکے غم کا بھوج ہلکا ہو جاتا لیکن آج اسے ۔۔اپنے سینے سے لگانے والا کوئی نہیں تھا ۔

جتنی جلدی ہو سکے طلاق دو اس اوراہ کو اور آزاد کرو اسے ۔

سارہ کے الفاظ ۔کیسی خنجر کی مانند اس کے دل میں چبے تھے ۔۔

لیکن اسے امید تھی کہ شائد کبھی نہ کبھی غم کہ یہ بادل اسکی زندگی سے روانہ ہو جائیں گے اور اسکے دل مین چاہت کا سماں پیدا ہو گا ۔

میں نے کچھ نہیں کیا؟ میری کوئی غلطی نہیں ۔اسکی سسکیاں سنسان سڑک پر گونج رہی تھی ۔۔۔۔۔

اور وہ مسلسل یہی کہہ رہی تھی

شاویز اور سارہ ۔سبین کو لے کر گھر چلے گئے تھے شاویز نے مرزا سکندر کو اس حادثے کے بارے میں نہیں بتا یا تھا تاکہ وہ پریشان نہ ہو جائیں ۔۔لیکن اس نے ایک دفع بھی روشائل کے بارے میں نہئں سوچا

******************************************

ارے واہ خالہ آپ تو بہت اچھی ایکٹنگ کر لیتی ہیں ۔۔ اب دیکھتے ہیں کہ آپ کا یہ منصوبہ اپنے انجام تک پہنچتا ہے یا نہیں

ارے کیسے نہیں پہنچے گا سارہ ڈئیر تمھاری خالہ نے اتنا مضبوط جال بچھایا ۔ہے ۔کہ اس کی دھندیں اسقدر مضبوط ہیں کہ شیر بھی جال سے باہر نہیں نکل سکتا ۔

سبین نے مسکراتے ہوے کہا ۔

اچھا خالہ شاویز اسے طلاق تو دے دے گا ۔۔نہ

ارے کیسے نہیں دے گا ۔۔تم دیکھنا ۔۔اب ہوتا ہے کیا ۔۔شاویز ۔۔اس دو ٹکے کی لڑکی کو خود اپنے ہاتھوں سے باہر نکالے گا ۔

اچھا خالہ یہ ماہر رانی ہے کہا ۔۔۔۔

روشائل۔۔۔۔۔۔

سارہ ۔۔نے بلند آواز ۔۔میں

اسے پکارا۔۔۔۔۔۔۔

یہ آ کیوں نہیں رہی ۔۔۔

سارہ کو غصہ آیا ۔۔۔۔۔

گھونگی ہو سنائی نہیں دیتا کیا ؟

سارہ نے تلخ لہجے میں کہا ۔۔۔

وہ۔۔۔وہ۔میں ۔۔۔

کیا میں ۔۔میں لگا رکھا ہے بولنا نہیں آتا کیا اس نے روشائل کو بازو سے پکڑ کر دھکیلا ۔

او نازک کلی ۔۔کو رونا ۔آگیا ۔۔رونا تو ۔اب سٹارٹ ہو گا تمہارا جب شاویز تمھیں اس گھر سے ۔طلاق کے کاغذات تھما کے بھیجے گا ۔

بڑی زبان چلتی تھی نہ ۔کہ میں اسکی بیوی ہوں اس پر اور اسکی چیزوں پر میرا حق ہے ۔اب دیکھنا ۔ایسے تمھیں گھر سے نکالے گے ۔۔۔

کہ ساری زندگی در در کی ٹھوکرے کھاو گی ۔۔۔

چلو ۔۔اب دفع ہو جاے ۔۔۔۔

اس نے دھکا دے کر اسے کمرے سے باہر نکالا ۔۔

کیا واقعی شاویز ۔مجھے طلاق ۔دینے لگا ہے ۔۔میرا قصور کیا ہے؟ جو مجھے اتنی بڑی سزہ ۔مل رہی ہے ۔یا اللہ میں کیا کرو ۔اس مطلب پرست دنیا ۔میں کوئی تو ایسا ہو گا ۔۔جو مجھے ۔۔پناہ دے ۔۔نہ پوری زندگی ۔باپ کے پیار کو ترستی رہی ۔۔ماں سے الگ کر دیا ۔۔

اور ۔اب ایک ایسے شخص سے ۔۔محبت کر بیٹھی ۔۔جو نفرت کے قابل بھی نہیں ۔۔

اکیلے ۔۔ایک کونے میں ۔تنہا بیٹھی ۔۔۔اپنی بدنصیبی ۔۔کو کوس رہی تھی ۔سسکیوں ۔کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی آج اسے کوئی ۔سہارہ دینے والا نہیں تھا ۔

کوئی بھی ۔۔۔اس کی بات پر یقین کرنے والا نہیں تھا

*****************************************

سبین ۔کے فون ۔پر ۔۔۔مسلسل ۔۔گھنٹی بج رہی تھی ۔۔

لیکن ۔

وہ کال اٹھا ۔نہیں رہی ۔تھی ۔

ماما ۔۔۔۔۔آپ کا فون ۔

جیسے شاویز ۔نے کہا ۔

اس نے سکرین پر جواد کا نمبر دیکھا ۔۔۔۔

جواد؟

جواد ماما کو کال کیوں کر رہا ہے ۔ وہ ایک دم حیران رہ گیا ۔

اس نے جلدی سے فون اٹھایا ابھی وہ کچھ کہتا کہ ۔جواد نے پہلے پہل کی ۔

آنٹی ایک بہت بری خبر ہے

آپ کو ۔پتا ہے ۔۔۔

شاویز ۔۔جس لڑکی کو ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔لگتا ۔ہے ۔۔وہ اس کو ڈھونڈ لے گا ۔

جیسے شاویز نے سنا ۔۔ایک منٹ کے لیے وہ دھنک سا رہ گیا ۔

اسے یقین نہیں ہو رہا تھا ۔کہ جواد اور ماما کو کیسے پتا چلا ۔۔

آنٹی ۔۔مجھے پتا چلا ہے جو بندے اس نے چھوڑے تھے ۔۔

انھوں نے گھر ڈھونڈ لیا ہے ۔۔

کبھی بھی وہ شاویز کو کال کر سکتے ہیں آپ جتنی جلدی ہو سکے ۔۔کیسے بھی کر کے

شاویز ۔کا ۔فون اس سے ۔لے لیں ۔۔کوئی بھی بہانا ۔بنا دیں ۔۔

آنٹی میں نے ۔۔بہت کوشش کی تھی اسے یقین دلانے کی کہ اسکی شادی ہو چکی ہے لیکن ۔۔وہ مانتا ہی نہں تھا ۔یہی کہتا کہ وہ اسے مل جاے گی ۔۔۔۔

جواد کی باتیں ۔۔کیسی خنجر سے کم نہیں تھی ۔۔۔وہ لڑکھڑایا ۔۔۔

ایسے لگ رہا تھا ۔۔کہ

وہ اپنے ہوش کھو گیا ہو ۔۔ جواد ۔اور اسکی ماں ۔۔سگی ماں ۔نے ۔اسے اسکی محبت سے ملنے کے لیے کیوں روکا ۔

وہ کیوں ایسا کر رہی تھی؟

کیوں مجھے اس سے ملنے نہیں دیا؟

بہت سے سوال ۔۔اس کے ذہین میں پیدا ہو رہے تھے لیکن اس سے پہلے ۔اس نے ۔اپنی محبت سے ملنا تھا ۔اسے ایک نظر دیکھنا تھا ۔

جو ۔وہ دیکھنے کے لیے ترس گیا تھا ۔

اسکی محبت ؟

جس کے لیے ۔۔وہ اتنے سال خوار ۔ہوا تھا ۔۔۔آج ۔۔اسے ۔اسکی منزل مل ہئ گئ ۔۔۔

وہ پاگل عاشقوب کی طرح ۔۔نیچے ۔۔آ رہا تھا ۔۔

جیسے وہ سڑھیاں اتر رہا تھا ۔۔سامنے سے روشائل آرہی تھی ۔۔

لیکن اسے کوئی خبر نہیں تھی ۔۔۔

بس وہ ۔اس سے ملنے کے لیے جا رہا۔۔تھا

لیکن اسے

یہ نہیں معلوم تھا ۔۔کہ محبت تو دل کے قریب اور آس پاس ہوتی ہے

مگر اس نے کبھی ۔۔اپنے قریب دیکھا ہی نہیں تھا ۔۔

*************************************

ہیلو ۔۔؟

صاحب آپ کے لیے خوش خبری ہے ۔۔اسکا پتا چل گیا آپ جلدی سے ہمارے اڈے پر آجائیں ۔۔

ہاں ۔۔۔ہاں ۔میں ۔۔ابھی پہنچ رہا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *