Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 09)

Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan

یہ ۔نکاح نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔۔۔

اسے اپنے الفاظ بار بار یاد ارہے تھے کیسے اس نے اپنی ہی محبت کا سب کے سامنے مذاق بنا دیا ساری دنیا کے سامنے اسکے دامن پر ایک ایسا دھبہ لگا دیا ۔جو شاید اب کبھی نہیں مٹنے والا تھا ۔۔۔

آ۔۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔۔آ۔۔وہ اونچی اونچی ۔۔۔آواز میں چلا رہا تھا ۔۔اسے اپنے آپ سے نفرت ہورہی تھی کہ اسنے کیا کر دیا ۔۔وہ بار بار اپنے ہاتھوں سے خود کو مارتا ۔اسکی گہری نشیلی انکھوں میں ۔۔آنسو کا دریا بہہ رہا تھا ۔۔اس نے ۔ایک معصوم سی زندگی کی ۔۔۔زندگی کے ساتھ سب کے سامنے

۔نشے میں دھند ہو کر اسکی عزت کو سب کے سامنے نیلام کر دیا ۔۔کیا ۔کفارہ ہے ۔۔۔اس غلطی کا ۔؟ کیا کفارہ ادا کرتا ۔۔وہ اپنی محبت کو برباد کرنے کا

روشائل مجھے معاف کردو ۔۔مجھے معاف کردو میں نے تمھارے ساتھ بیت برا کیا ۔۔ہے ۔میں بہت برا شخص ہوں ۔تمھارے ساتھ اتنا سب کچھ ہوتا رہا ۔لیکن میں ۔۔۔

میں بے ہس ایک دفعہ بھی تمھارا خیال نہ کیا ۔۔اور دیکھو نہ خدا نے کیسی مجھے سزہ دی ۔۔میری محبت کو ہی نشانہ بنا ڈالا ۔۔

وہ ۔۔بے ہوش و حواس پیدل چل رہا تھا ۔۔آج وہ ۔بھلا ۔لگ رہا تھا ۔جس نے گھونگروں پہن کر اپنے محبوب کو منانا تھا آج وہ مجنو لگ رہا تھا ۔۔جس نے اپنے محبوب سے بات کرنے کے لیے ۔۔گلیوں کی خاک چاننی تھی ۔۔۔ یہ محبت کا وہ مرحلہ تھا ۔۔۔کہ جہاں عاشق کو اپنے محبوب ۔۔کو ۔پانے ۔کے لیے ۔۔۔زمین کی خاک کیا ۔۔۔اسکے لیے کیسی بھی لحد تک جانے پڑے تو جانا تھا ۔۔۔ کس ۔۔۔سے پوچھو ۔۔کیا ۔کہوں ۔۔۔یہ جہاں بے جان سا ہو گیا تھا خوشی کے ۔۔پل اب ۔۔ڈھونڈنا ۔مشکل تھے ۔۔۔کیونکہ ۔۔میں نے اسے زخم اتنے گہرے دیے تھے ۔۔۔۔جانے اسکے لبوں مین کتنے شکویں ہوں گے ۔۔۔جو بھی ہے میں نے اسکے ساتھ بہت برا کیا

شاویز ۔۔۔۔۔۔۔

شاویز ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ شاویز کہاں جارہا ہے میرے یار جواد نے شاویز کو روکا ۔۔۔

تمھین پتا ہے میں نے تمھیں کتنی کالز کی ہیں ۔کہاں تھے تم ؟

بولو؟

جیسے جواد نے کہا شاویز نے اسکے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کیا اور اسے اسکے گریبان سے پکڑ لیا ۔۔

بتا سالے کیوں کیا ۔تم نے؟

کتے کمینے ۔۔۔دوست تھا تو میرا ۔۔اور تم نے ہی میری پیٹھ پیچھے چھڑا کھوب دیا ۔۔۔کیوں مجھ سے جھوٹ بولتا رہا ۔۔کہ اسکی شادی ہو چکی ہے ۔۔۔

بتا ۔

یہ۔۔۔یہ۔۔۔کیا کہہ رہا ہے شاویز میں سمجھا نہیں ۔۔

واہ ۔۔واہ تیرا جھوٹ مجھے پتا چل چکا ہے ۔۔۔میں نے فون پر ساری باتیں سن لی تھی ۔۔تم نے میری ماں کے کہنے پر مجھے میری محبت سے ملنے نہیں دیا ۔۔

اتنے سال مجھے اس دھوکے میں رکھا ۔کہ اسکی شادی ہو چکی ہے۔وہ تو میں نے اینڈر کور ۔۔آدمی چھوڑے تھے نہیں تو ساری زندگی مجھے ۔۔نہ پتا چلتا

اور میں اپنی محبت کو یوں ۔۔ازیت کی آگ میں جلنے دیتا

تجھے پتا ہے ۔۔جس دن ۔۔تو نے مجھے ۔۔اس شادئ والے کے گھر بھیجا تھا

وہ کس کا گھڑ تھا ۔۔وہ میری محبت کا مقام تھا اور جس کو میں نکاح کر کے لایا

وہ تھی محبت میری میری بچپن کی منگتر ۔۔۔

تمھاری اور ماما کی لاکھ کوشیشوں کے باوجود میری زندگی خدا نے اسکے ساتھ جوڑ دی ۔۔

*******************************************

خدا کے لیے ۔۔۔آنٹی ۔۔مجھے گھر سے باہر مت نکالیں ۔۔

میں

میں وعدہ کرتی ہوں میں کیسی کونے میں پڑی رہوں گی لیکن خدا کے لیے مجھ پر ایسا ظلم نہ کریں

میں ۔۔کہاں جاوں گا ۔۔

جہاں بھی ۔جانا بھاڑ میں جاو ۔۔۔لیکن اپنی منہوس شکل کو لے کر دفعہ ہو جاو ۔

سارہ اس کا سامان لے کر آو

وہ دونوں بے ہس ۔۔۔

اسے جانوروں کی طرح کھینچتی ہوئی ۔۔۔نیچے لا رہی تھی ۔۔

انٹی ۔۔پلیز ۔۔ایسا تو مت کریں ۔۔۔میرے ساتھ ۔۔۔

میں

میں نے کیا بیگاڑا ہے اپ کا ۔۔

کیا ۔۔کہا ؟

کیا بیگاڑا ہے تم نے ارے میرا سار گھر کھا گئ ۔۔۔اور مجھ سے یہ پوچھ رہئ ہے ۔

وہ جیسے گھر داخل ہونے لگا ۔اسکے قدم وہی رک گئے ۔۔

تمھیں پتا ہے ۔۔ تجھے گھر سے نکالنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا ۔۔

سر پر گلدان خود مار دیا کہ کہی شاویز ۔۔تجھے نکال دے

جیسے شاویز نے سنا ۔۔۔وہ دھک سا رہ گیا ۔۔اسقدر جھوٹ بولا گیا تھا ۔۔اسکے ساتھ

نہ ۔۔خدا کے لیے ایسا مت کریں ۔۔۔میرا اب اس گھر کے علاوہ کوئی نہیں ہے

رکیے خالہ ۔۔یہ ایسے نہیں نکلے گی

سارہ نے آگے ہو کر اسکے نازک چہرے پر زور دار تھپڑ رسید کیا

جب شاویز نے یہ دیکھا وہ خود کو روک نہ پایا ۔۔

بس ۔۔۔۔

سارہ اور سبین کا رنگ اڑھ گیا ۔۔۔

شاویز ۔۔۔میری جان

تم ۔۔تم آگئے ؟

سبین نے آگے بڑھتے ہوے کہا ۔۔

وہ بنا جواب دیے ۔۔آگے بڑھا ۔۔

اور سارہ کو بازو سے پکڑکر باہر دھکیلا ۔۔

دفع ہو جاو ۔۔۔اس گھر سے ؟

بیٹا ۔۔یہ کیا ۔کر رہے ہو ؟ سارہ کو کیوں گھر سے نکال رہے ہو ۔وہ تمھاری ہونے والی بیوی ہیں

خاموش ہو جائیں اپ ۔ نہیں ہے وہ میری بیوی ۔سن لیا ۔

میں نکاح کر چکا ہوں روشائل کے ساتھ ۔۔۔وہ میری بیوی ہے ۔

اور آپ لوگوں کی ہمت کیسے ہوئی اسے گھر سے باہر نکالنے کی ۔۔

ب۔۔۔ب۔۔بیٹا ت۔۔۔تم نے خود تو ۔۔اسے باتیں کی تھی ۔

کب کہا؟

کب کہا ۔۔میں نے آپ ۔۔کو اسے گھر سے باہر نکالیں ۔۔

کب کہا ۔۔میں نے بتائیں

میں نے آج تک ۔۔ایک دفعہ اسے طلاق دینے کے بارے میں آپ سے کہا

نہیں نہ ۔۔

کیونکہ ۔۔۔وہ میری محبت ہے ماں میری محبت جیسے آپ نے مجھے چھپاے رکھا

شاویز؟

کچھ نہئں اب کچھ نہ کہے مجھے سب کچھ پتا چل چکا ہے ۔۔

وہ دھک سے رہ گی ۔۔۔۔۔محبت ؟ میں شاویز کی محبت تھی

بیٹا یہ ۔کیا کہہ رہے ۔۔ہو ۔۔

آپ کو پتا ہے ۔۔آپ نے جواد کے ساتھ جو ۔۔منصوبہ بنایا تھا ۔وہ بدقسمتی سے میں نے سن لیا تھا ۔۔

کیوں

آپ نے ایسا کیا ۔۔کیوں مجھے میری محبت سے ملنے کے لیے روکا

اور ۔۔پھر دیکھیں نہ ۔۔قدرت کا معجزہ ۔۔یہ کون ہے ۔۔

یہ ہی میری محبت ہے روسائل ارف گڑیا ۔۔۔انکل وحید کی بیٹی ۔کچھ یاد آیا

سبین نے جیسے سنا اسکے پاوں تلے زمین کسک گئ ۔۔۔۔ساری سچائی ۔شاویز کو کیسے معلوم ہوئی ۔

ادھر روشائل ۔۔۔بلکل ساکت کھڑی تھی ۔۔۔۔آخر کار ساویز سچ پتا چل گیا ۔ تھا مگر اسے یہ کس نے بتایا ؟

وہ ۔۔۔بے ہس کھڑی تھی ۔۔۔اسکی آنکھوں میں آنسو ۔۔بہہ رہے تھے ۔۔اج اسکو سب کے سامنے تسلیم کیا گیا اسکی عزت ۔اسکا مان شاویز سکندر تھا ۔۔

جس نے اسکی زندگی میں بہت درد دیے تھے ۔۔

روشائل ۔۔۔۔

شاویز نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روک لیا ۔۔اسنے ہاتھ بہت مضبوطی سے پکڑا تھا جو شائد وہ اب کبھی چھوڑنے والا نہیں تھا

اتنی جلدی کیسے بھول جاتی وہ درد ۔۔زخم ۔۔جو اسے شاویز نے دیے تھے ۔اتنی جلدی وہ ۔۔کیسے اس سے خوش ہو سکتی ۔۔اسکی وجہ سے جو اسکی بدنامی ہوئی تھی سب کے سامنے اسکی عزت کا تماشہ بنایا گیا تھا اسکا کیا ۔؟

روشائل ۔۔۔ پلیز ۔مجھے معاف کردو خدا کے واسطے مجھے معاف کردو میں نے تمھارے ساتھ بہت برا کیا ہے ۔۔

دیکھو روشائل ۔شاویز نے روشائل کی طرف رخ کیا اور اپنے دونوں ہاتھ اسکے کندھوں پر رکھے

تمھیں یاد ۔آیا ۔۔میں ۔۔۔میں شاویز ۔۔کچھ یاد آیا

وہ اسے کچھ یاد کروانے کی کوشش کر رہا تھا ۔اسے اپنی بچپن کی مگنی کے بارے میں بتانا چاہ رہا تھا ۔۔۔اور یہ کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتا ۔۔

میں ۔کیسی شاویز سکندر کو نہیں جانتی ۔۔۔

وہ پتھر دل نہیں تھی اسے بننے پر مجبور کیا گیا تھا ۔۔۔

روشائل نے یہ کہا وہ آگے بڑھنے لگی تھی ۔۔کہ ایک آواز نے اسکے قدم روک دیے ۔۔۔

اسکی سانسیں ۔۔تھم گئ ۔۔۔

گڑیا ۔۔میں تمھارا شاویز ۔۔

جیسے شاویز نے کہا اسنے اپنے سینے پر زور سے ہاتھ رکھا اور اپنے دل کو قابو میں پانے کی کوشش کی

مجھے سب کچھ پتا چل چکا ہے روشائل ۔۔۔ارف گڑیا ۔۔

وہ ابھی تک ۔۔وہی اسکی طرف پیچھا کر کے کھڑی تھئ۔

دیکھو روشائل ۔۔ہماری فیملیز کے درمیان ۔جو بھی کچھ ہوا وہ صرف ایک غلطی فہمی تھی ۔۔اور میں یہ غلط فہمی دور کروں گا ۔۔اور پھر سے دونوں گھروں میں خوشیاں لانے کی کوشش کروں گا اگر تم میرا ساتھ دوگی

کونسی خوشیاں کونسا ساتھ بتاو؟ تمھاری ماں نے جو کر دیا ناں شاویز سکندر ۔۔وہی بہت ہے ۔۔۔اب کوئی خوشیاں ہمارے گھروں میں دستک دے گی ۔۔۔کیونکہ میرا باپ مر چکا ہے اور میری ماں ایک ایسے ظالم شخص کے شکنجے میں بندھ چکی ہے جو ہر روز میری ماں کو طعنے دیتا ہے ۔۔

اور پتا ہے کیا کہتا ہے

کہتا ہے ارفع بیگم تیرے پہلے شوہر کی گندے خون کو میں تسلیم نہیں کروں گا ۔۔کیوں ۔۔کہ ایک تو تیری لڑکی گھر سے بھاگ گئ

اور دوسری نے ۔۔بھری برات میں اپنا عاشق بھلایا ۔۔اور اس سے نکاح کر لیا ۔

اب بتاو ۔کیا صیح کرو ۔کیا میرے ان زخموں کو صیح کر سکتے ہو ۔۔کیا ان کو بھر سکتے ہو ۔۔

یہ۔۔یہ ۔دیکھو ۔۔

کتنا ظلم کرتی تھی وہ مجھ پر ۔۔اور تم ؟ تم کیا تھے ۔۔۔

تم خاموشی سے میرا تماشہ بنتے دیکھ رہے تھے کیونکہ تمھیں کیا مجھ سے کوئی غرض تھی میں تو ایک آوارہ اور بد چلن لڑ کی تھی جیسے تم شراب کے نشے میں نکاح کر کے لے آئے ۔۔

اور آج ۔۔تمھاری ۔گڑیا نکلی اور مجھ سے معافی مانگ رہے ہو

فرض کرو شاویز اگر میں گڑیا نہ نکلتی وہی بے سہارا لڑکی ہوتی تو

کیا ۔تم ۔مجھے سب کے سامنے اپنی بیوی تسلیم کرتے ۔۔

نہیں ۔۔۔نہئں ۔۔کرتے کیونکہ تمھیں اپنی ماں کے جھوٹے زخم سچے لگتے ہیں میرے جلے ہوے ہاتھوں میں خون ۔رستا ہے تو رستا رہے ۔۔

وہ خاموش تھا آج وہ کچھ نہیں بول رہا تھا ۔۔۔کیا کہتا ۔۔اسنے نہ صرف اپنی محبت کے ساتھ بلکے ایک معصوم لڑکی کی ۔زندگی سب کے سامنے برباد کر دی تھی ۔۔اسکی آنکھوں سے مسلسل انسو بہہ رہے تھے ۔۔

تم ۔۔چاہے جتنی مرضی کوشش کر لو ۔۔لیکن ۔میں تمھین وہ چاہت نہیں دوں گی جو ایک بیوی اپنے شوہر کے لیے رکھتی ہے ۔وہ مقام کبھی نہیں ۔۔۔

روشائل نے یہ کہا اور وہاں سے چلی گئ ۔۔۔

“عشق ۔کا آخری مرحلہ تھا فراز ۔۔محبوب ۔۔ناراض تھا ۔۔”

*****************************************

ارفع ۔۔۔بیگم ۔۔۔۔۔

پانی لاو ۔۔

ارشد نے ۔۔۔اونچی آواز میں پکارا ۔۔

یہ۔۔یہ لیں ۔پانی ارفع نے ارشد علی کو سہارہ دے کر اٹھایا جو چارپائی پر بے سہاروں کی طرح لیٹا تھا ۔۔

ڈاکٹرز کا کہنا تھا ۔۔کہ انکی ٹانگ ۔خراب ہو چکی ہے جس کی وجہ سے وہ اب چل نہیں سکتے ۔۔

یہ خبر انکے گھر کے لیے بہت بری تھی ۔۔لیکن شاید یہ ارشد ۔کو اسکے کرموں کی سزہ ملی تھی ۔

جو وہ آج تک ۔اسنے اپنی بیٹیون کے ساتھ کیا ۔۔۔۔تھا ۔

اپنی بڑی بیٹی کا قاتل تھا یہ باپ ۔۔کیسے اللہ اسے چھوڑتا ۔اپنی بیٹیوں کو طعنے دینے والا تھا یہ شخص ۔۔اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانے والا شخص تھا ۔۔۔کیسے اسکے گناہوں کی تلافی ہوتی ۔۔

ارشد احمد کی رات کی نیندیں اڑ چکی تھی اسے ۔۔دانیہ کی وہ فریادیں ۔۔وہ منتیں ۔۔سونے نہیں دیتئ تھی ۔اسکا جلتے بدن میں ۔۔نکلتی چیخیں ۔۔۔اسے سونے نہیں دیتی تھی ۔۔

************************************

میرے کپڑے کہاں ہیں ؟

روشائل ۔اپنے کپڑے ڈھونڈ رہی تھی

میرے کمرے میں ہیں؟

وہ پلٹی سامنے شاویز کھڑا تھا ۔۔گرے کلر کی ٹی شرٹ جسکی عموما آستینیں کہنیوں تک ۔۔ساتھ بلیک پینٹ میں ملبوس وہ ہمیشہ کی طرح بہت ہی اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔

روشائل کو تو ہمیشہ سے ہی اچھا لگتا تھا ۔۔اسے تو اس سے اس دن ہی محبت ہو گئ جب اسنے سارہ کو تھپڑ مارا تھا ۔۔

لیکن اسکے زخم ۔۔اسکی بدنامی ۔۔شاویز ۔۔سے محبت کرنے سے روک لیتی ۔

وجہ؟

وجہ یہ کہ تم میری بیوی ہو؟

تو؟

تو یہ کہ تمھارے کپڑے میرے کپڑوں کے ساتھ الماری میں ہوں گے ۔۔

وہ مسکرایا

کس سے پوچھ کے رکھے ۔۔میں نے کہا تھا ۔وہ یہ کہتی ہوئی کمرے سے باہر نکلنے لگی ۔۔

کہ

شاویز نے اسے بازو سے کھینچا ۔۔اور اپنے نزدیک کیا ۔

مسسز شاویز اتنا گصہ اچھا نہیں ہے ۔۔۔ہاں مجھے پتا ہے جو بھی میں نے کیا وہ بھلایا نہیں جا سکتا ۔۔لیکن کوشش تو کر سکتے ہیں نہ ۔۔اور میں تو ہر ممکن کوشش کروں گا تمھیں ماننے کی ۔

زبردستی کرو ۔گے روشائل نے تیور چڑھائی ۔۔

بیوی ہو میری ۔۔اٹھا کے لے جاوں گا سب کے سامنے اسلیے خود ہی میرے کمرے کو اپنا کمرہ سمجھو ۔

بڑے بے شرم ہو ۔تم ۔۔میں بھی دیکھتی ہوں ۔کیا کرتے ہو ۔۔

وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر ۔۔آگے بڑھی

اچھا بات تو سنو ۔

وہ نہیں رکی ۔۔۔۔۔

میری شرٹ استری کر دو ۔۔میں نے آفس جانا ہے ۔۔

خود کر لو ۔۔مجھ سے نہیں ہوتے تمھارے کام ۔۔نہیں تو وہ اپنی سارہ کو بھلا لو ۔۔وہ کر دیتی ۔۔

دیکھ لو ۔۔تمھارے مجازی خدا ۔شوہر کا ہاتھ ۔۔جل جاے گا ۔۔

شاویز نے جیسے کہا ۔۔۔۔

ہاں کرو تمھیں تو پتا چلے

وہ نہیں رکی ۔۔۔۔۔

*************************************

روشائل بیٹا ۔۔ مرزا سکندر نے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔

وہ اونچی اونچی آواز میں رو رہی تھی ۔۔

نہ رو بیٹا نہ رو ۔۔میں بہت شرمندہ ہوں ۔۔مجھ جیسا کوئی بد نصیب کوئی نہئں ہو سکتا ۔۔کہ میں اپنی بیوی کی باتوں میں آگیا ۔۔اور اپنے بچپن سے سارے رشتے توڑ دیے ۔۔

اور جسکی وجہ سے میرا دوست مجھے چھوڑ کر چلا گیا ۔۔

مرزا سکندر کی آنکھوں سے ۔۔ندامت کے آنسو ۔۔گ رہے تھے انھیں ۔۔اپنے کیے پر شرمندگی تھئ ۔۔

اب کیا کر سکتے ہیں ۔۔ابو تو اب دنیا سے چلے گئے ۔۔۔

کچھ نہیں ہوتا ۔بیٹا سب کچھ ٹھیک ہو جاے گا ۔۔۔

شاویز ۔اب تمھاری زندگی میں آگیا ہے ۔۔۔تمھیں پتا ہے ۔۔وہ تمھیں ڈھونڈتا تھا ۔۔اور تمھاری وجہ سے ہی شراب پیتا جب تم نہئں ملتی تھی ۔۔

اور اب ۔۔وہ تو شراب کی طرف دیکھتا نہیں

لیکن بیٹا ۔۔پھر بھی تم نے ایک بیوی کی حثیت سے ۔۔ تم نے اسکا خیال رکھنا ہے ۔۔اسکی ماں تو اسکا دھیان نہ رکھ پائی

لیکن اب تم آگئ ہو نہ ۔۔

سب کچھ ٹھیک ہو جاے گا

روشائل ۔۔مرزا صاھب کی طرف دیکھ رہی تھی جس انسان سے وہ ۔۔نفرت کرنا چاہتی تھی وہی اسکی زندگی میں بار بار ۔آ رہا تھا ۔۔وہ اس سے نفرت کیوں نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ تھا تو اسکا شوہر ۔۔

اور ۔۔۔شاید۔۔محبت جو بچپن سے تھی ۔۔۔

وہ ۔الجھ کر رہ گئ تھی ۔۔

پیاس لگنے کی غرض سے ۔۔وہ باہر آئی تھی۔

جب وہ کچن میں آئی ۔

کہ شاویز ۔۔چاہے بنانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔

او شکر ہے تم آگئ ۔۔۔دیکھو ۔۔تب سے کوشش کر رہا ہوں لیکن ۔پتا نہیں ۔صیح چاے نہیں بن رہی ۔۔

جیسے روشائل نے ۔دیکھا ۔سارے کچن کو تحس نحس کیا تھا ۔۔

سوری ۔۔۔وہ مجھے ۔ چیزیں نہیں مل رہی تھیں ۔۔

پیچھے ہٹو !

وہ غصے سے اسکے ساتھ کھڑی ہوئی ۔۔

دیکھو ۔۔اتنی آسانی سے تو بن جاتی ہے چائے ۔۔سیکھ لو ۔

کیوں سیکھو ۔۔میری بیوی ۔ہے ۔۔وہ تو بنا سکتی ہے میرے لیے ۔۔

اچھا ۔۔! تمھاری بیوی ہے؟

ہاں ہے بڑی نک چڑی اور غصے والی ہے ۔وہ کہی دیکھے نہ ۔تو اسےکہنا سوری ۔۔۔

تڑپانے کے بعد ۔۔سوری ۔۔۔

اسنے چائے کا کپ اسکے نزدیک رکھا اور

پانی لے کر چلی گئ

***********************************

یار ۔وہ مان ہی نہیں رہی ارسل ۔۔۔

میں بہت کوشش کر رہا ہوں ۔۔۔وہ مان جاے ۔۔

واہ شاویز صاھب ۔۔کیا کہنے ہے آپ کے ۔۔۔اسکو اتنی اذیتیں دی ۔۔تمھاری ماں نے ظلم کے پہاڑ توڑے اس پر ۔

اور

وہ اتنی جلدی بھول جاے سب کچھ ۔۔

ہاں یار میں مانتا ۔میں شرمندہ ہوں ۔اسلیے معافی تو مانگ رہا ہوں ۔اس سے ۔۔

تم نے ۔اسکے ماں باپ کو سچائی بتائی؟ جیسے ارسل نے کہا

کونسی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *