Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan NovelR50660 Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 02)
Rate this Novel
Mein Us ke Nikah Mein Hoon (Episode 02)
Mein Us ke Nikah Mein Hoon by Iqra Khan
یہ جو سامنے گھر ہے نا جیسے جواد نے کہا سب کی نظر اس گھر کی جانب متوجہ ہو گئ جو لائٹس سے جگمگا رہا تھا یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے ساری چاندنی نے اس گھر کو اپنے لپیٹے میں لے لیا بجتے ہوے بینڈ باجے چیخ چیخ کر خوشی کا اظہار کر رہے تھے
جواد تیرے کہنے کا کیا مطلب ہے ارسل نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا جو طنزا مسکرا رہا تھا ۔۔
مطلب یہ کے ہمارا ایڈوینچر بواے اس شادی کے گھر میں جاے اور ایک ایسا ایڈوینچر کر کے آئے جس سے ہماری آنکھیں کھولی کی کھولی رہ جائیں
جیسے جواد نے کہا شہریار اور ارسل چونک گئے ۔۔
ابھے پاگل ہو گیا ہے شادی کا گھر ہے اور نشے میں ہے وہ اگر اس حالت میں جاے گا تو مار کھا کر ہی آئے گا اور دیکھ برات آرہی ہے مطلب لڑکی کی شادی ہو رہی ہے جواد ۔۔تو ہوش میں تو ہے ۔۔
جیسے شہریار نے کہا ۔۔شاویز ۔۔آگے بڑھا ۔۔اور کہا ۔۔
بس سب چپ کر جاو ۔۔۔۔تم لوگ میں اس گھر میں جاوں گا ۔۔اور تم سب دیکھنا ۔۔ایسا ایڈوینچر کروں گا کہ تم سب لوگ حیران رہ جاو گے ۔۔
شاویز کی آواز میں نشہ پن تھا صاف ظاہر تھا کہ وہ اندھا دھند نشے میں تھا ۔۔اور نشے کی آر میں اس نے شادی والے گھر جانے کا فیصلہ کر لیا ۔۔
جواد ۔۔ہنس رہا تھا ۔۔اور شاویز کو اکسا رہا تھا کہ تم سے یہ نہیں ہو گا لیکن اس نے اپنی عزت اور اپنے دوست کے سامنے اپنے آپ کو سب سے بڑا ایڈوینچرر ثابت کرنے کے لیے جانا پڑا
لیکن شہریار اور ارسل اس بات پر متفق نہیں تھے ۔
لیکن شاویز ۔۔نے سب کی ان سنی کی اور اس شادی والے گھر کی طرف بڑگیا
*(******************************************
شرم نہیں آتی آپ کو آپنی بیٹی کے لیے یہ رشتہ ڈھونڈتے ہوے
ارفع بیگم نے چلاتے ہوے کہا ۔۔
کیو کیا ہوا ہے صیح اور اچھا بھلا تو ہے اور ویسے بھی تیری بیٹیوں کے لیے یہی بہتر ہے
خدا کا خوف کرو ارشد وہ تمھاری بھی بیٹیاں ہیں اور میری پھل جیسی بچی کو اس 40 سال بوڑھے آدمی سے بیاہ رہے ہو ۔۔مجھے شرم آ رہی ہے تمھں اپنا شوہر کہتے ہوے جو اپنی بیٹیوں سے اس قدر نفرت کرگا ہے کہ اپنی 25 سالہ بیٹی کو کیسی کے بھی ہاتھوں دینے لگے ہو ۔۔ارے بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہے ۔۔لیکن تم جیسے سنگ دل انسان کو کیا پتا ۔۔
میں اپنی بیٹی کو ۔۔اس کے ساتھ نہیں جانے دوں گی میں یہ نکاح نہیں ہونے دوں گی
جیسے ارفع بیگم نے کہا ۔۔
ارشد نے اس کے منہ پر اس قدر زور سے تھپر رسید کیا ۔۔
اور اپنی وحشی آنکھوں سے کہا
وہ میری بیٹیاں نہیں ہیں سن لیا تم نے ۔۔۔وہ تیرے شوہر کہ پہلی اولاد ہیں میرا صرف ایک بیٹیا ہے علی ۔۔اور تیری بیٹیوں کی یہی اوقات ہے ارے شکر کرو میں انکی شادیاں کر رہی ہوں ورنہ ان کو کون رئیس زادے رشتے دینے والے ۔
ارفع بیگم وپی چپ ہو گئ ۔۔اس کے پاس اب کچھ بو لنے والا رہ ہی نہیں تھا ۔۔
روشائل ماموش تھی بلکل خاموش اسکی آواز پر چپی کی مہر لگدیگئ تھی ۔۔۔وہ سنگ دل۔ہو ج
چکی تھی ۔۔وہ کچھ نہیں کہہ سکتی کچھ بھی نہیں ۔۔اور آخر وہ کہہ بھی دیتی تو کیا اس کے اب رک جاتے نہیں ۔۔وہ کبھی نہیں مانتے ۔۔انہوں نے اج تک انھیں صرف باپ کا نام دیا لیکن پیار نہیں وہ ساری زندگی باپ کے پیار کو ترستی رہی ۔۔ان کے سگے باپ یعنی ارفع کے پہلے شوہر کا کار ایکسیڈینٹ میں موت ہو گئ تھی اس کے بعد ارفع نے اپنے دور کے رشتہ دار یعنی ارشد علی سے نکاح کر لیا ۔۔۔اس دن کے بعد آج تک ۔ارشد نے روشائل ۔۔دانیہ۔اور تسمیہ کو اپنی سگی اولاد طرح پیار نہیں کیا ۔
ر۔۔۔روکو ۔۔۔۔جیسے شاویز نے کہا ۔۔سب لوگوں کی توجہ اسکی طرف متوجہ ہو گئ جو ہاتھ میں شراب کی بوتل پکڑے ۔۔لڑکھڑاتے ہوے چل رہا تھا ۔۔۔اسکی آواز سب سے الگ تھی ۔۔۔
سب لوگوں کے دلوں میں کئ کئ طرح کے سوال پیدا ہونے لگے ۔۔
یہ۔۔۔یہ
۔شادی نہیں ہو سکتی جیسے شاویز نے کہا ۔۔۔
وہاں موجود سب لوگوں کی نظریں وہی منجمد ہو گئ ۔۔سب اس کی بات پر ۔۔۔حیران اور چونک گئ ۔۔روشائل کے ساتھ بخٹھا دلہا وہ ہر بڑا کر اٹھ بخٹھا ۔۔روشائل کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئ ۔۔۔اس نے ۔۔اپنا گھوگنٹ اتارنا چاہا ۔۔لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی ۔۔
ابھے کون ہے ۔۔تو ۔۔شرابی ۔۔یہاں
کیسے آگیا ۔۔تو چل نکل یہاں سے
ارشد علی نے شاویز کو دھکیلا ۔۔
میں نے کہا یہ شادی نہیں ہو سکتی ۔۔جیسے شاویز نے پھر کہا ۔۔
وہ دلہا آگے بڑھا ۔۔اور غصے سے اسکا گریبان پکڑا اور کہا ۔۔
سالے کون ہے تو ۔۔۔اور یہاں کیا کرنے آیا ہے
ہاہاہاہہاہا یہ ۔تو ۔۔ان کی بیٹی کی بتا سکتی ہے کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں
جیسے شاویز نے کہا ۔۔روشائل ۔۔کا دل منہ کو آگیا ۔۔اس نے گھونگٹ اتارا ۔۔
اور ایک نظر اسکی طرف دیکھا
نو بلیک ٹی شرٹ پینٹ میں ملبوث تھا ۔۔اسکی سرخ آنکھیں ۔۔اور بال آنکھوں پر پڑتے تھے گہری آواز ۔۔
ارشد احمد اور اس دلہے نے روشائل کی طرف دیکھا
جو نہیں ۔ نہیں میں سر ہلا رہی تھی ۔۔روشائل کے چہرے کے تاثرات سے صاف واضح تھا کہ وہ شاویز کو نہیں جانتی تھی پبر یہ کیوں ایسا کہہ رہا تھا ۔
بکواس بند کرو میری بیٹی کو کیسے پتا ہو گا میری بیٹی کا تجھ سے کیا رشتہ ہے
رشتہ ہاہہاہاہاہا ابھے بوڈھے میں تیری بیٹی کا عاشق ہوں ۔۔تیری بیٹی کا یار نخسے خود تیری بیٹی نے آج یہاں بلایا تھا ۔۔
تاکہ میں یہ شادی روک سکو جیسے شاویز نے کہا خدا قسم ۔۔۔آسمان پھٹ گیا ارفع کا کلیجہ منہ کو آگیا ۔۔وہاں کھڑے سب لوگ ۔۔طرح طرح کی باتیں کرنے لگے ۔۔
ن۔۔۔ننہیں ۔۔نہیں ابا ۔۔میں میں اسے نہیں جانتی مجھے نہیں پتا یہ کون ہے ۔۔یہ یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔۔
جھوٹ بول رہا کے ۔۔۔ارشد علی نے یہ کہتے ہوے روشائل کے چہرے پر تھپڑ رسید کیا ۔۔
ابو خدا کا واسطہ ہے مجھ پر یقین کریں میں اسے نہیں جانتی اور نہ ہی میں آج تک اس سے ملی ہوں ۔۔
چپ کر ۔۔۔۔ارشد نے اپنا دوسرا ہاتھ اٹھانے لگے تھے کہ ارفع نے ان کا ہاتھ روک لیا ۔۔
علی کے ابا ۔۔روشائل ۔۔سچ بول رہی ہے اسے واقعی نہیں اس لڑکے کا پتا
تو کیا ۔۔یہ خود آگیا ۔۔ہے بتاو ۔۔اسے اس نے بلایا ہے تو آیا ۔۔ہے
جیسے ارشد نے کہا ۔۔
شاویز لڑکھڑایا
اور شراب کی بوتل نیچے پھینکی اور کہا
ہاں انکل ۔۔مجھے اج روشائل نے خود یہاں بلایا ۔۔ہے ۔۔بتاو نہ ۔۔روشائل ۔۔۔ سب کو ہم ایک دوسرے سے کتنا پیار کرتے ہیں رات کو گھنٹے گھنٹے تک باتیں کرتے تھے بتاو ۔۔
شاویز آج کیس ۔۔معصوم کی زندگی ۔۔برباد کر رہا تھا ۔۔وہ نشے میں ۔۔دھند ۔۔تھا ۔۔اسے یہ تک نہیں معلوم ۔تھا کہ اسکے جھوٹ سے ۔۔کیسی کی زندگی برباد ہو گئ ۔۔
پہلی بہن ۔۔بھاگ گئ چھوٹی بھی تو ویسی ہی نکلے گی اج ۔۔ایک عشق سامنے آیا ہے کل کو پتا نہیں کتنے اور آئیں گے ۔۔ برات میں موجود ایک شخص نے کہا ۔۔
چلو بھیا ۔۔ہم اس بد لن لڑکی کے ساتھ کوئی نکاح نہیں رکھنا ۔۔چہتے ۔۔براتییہ کہتے ہوے روشائل کے اگے تھوکتے ہوے چلے گئے ۔۔
وہ وہی کھڑی تھی بس چپ ہو گئ ۔۔۔اس کی زبان ۔۔چپ ہو گئ کیا کہتی ۔۔وہ کیا صفائی دیتی کوئی اسکی بات پر یقین نہیں کر رہا تھا ۔۔سب کے سامنے اس کی عزت کو اچھالا گیا اب کوئی اسے نہیں تھامے گا ۔
ابو ۔۔اللہ کا واسطہ ہے ۔۔آپ ۔۔کو میں قسم کھاتی ہوں مجھے نہیں پتا یہ ایسا کیو کہہ ر
رہا ہے ۔۔۔
روشائل نے اپنے ابا کے پاوں پکڑ لیے سارے براتی جا چکے تھے ۔۔
دفعہ
ی ہو گندی ۔۔بد چلن ۔باپ کی اولاد ۔۔ارشد نے ۔۔روشائل کو لات مار کر پیچھے کیا ۔۔
اور شاویز ۔۔کو پکڑ کر ۔۔چیر پر بیٹھایا جو پوری طرح نشے میں دھند تھا ۔۔
قاری صاحب اسکا نکاح پڑھاو ۔۔۔
جیسے ارشد علی نے کہا ۔۔روشائل ۔۔کی سانسیں رک گئ ۔۔اس نے ۔۔اپنی باپ کی طرف دیکھا ۔۔جو ۔۔اب اسکا نکاح ۔۔ایک نشے میں دھند ۔۔شخص کے ساتھ کر رہے ۔تھے ۔۔
وہ ہار گئ ۔۔آج اسے اسکی زندگی نے بہت بڑا ۔۔دکھ دے دیا ۔۔تھا ۔۔۔
روشائل کا چہرہ آنسووں سے بھیگ چکا تھا آج اسکے دامن پر اپنی بہن کی طرح اوارہ ،بدچلن ، بد کردار کا جھوٹے داغ لگ چکے تھے جیسے وہ اگر ساری زندگی بھی دھوتی رہتی وہ اب کبھی مٹنے والے تھے اور نہ ہی ہلکے ہونے والے ۔۔۔آج شاویز سکندر نے اس معصوم کی زندگی ایک ایڈوینچر کے اڑے میں تباہ کردی آج اسکی دنیا ہی اجڑ گئ تھی ۔۔۔اسکی قسمت نے کیسا کھیل کھیلا ۔۔کہ اسکا نکاح اس شخص کے ساتھ ہو گیا جو ۔۔پر چور نشے کی حالت میں تھا ۔۔جیسے یہ تک پتا نہیں چل رہا تھا کہ دستخط کہاں کرنے ہیں
نکاح ہو چکا تھا ۔ ارفع بیگم ۔۔وہی چپ ۔۔بدنامی کے طعانوں سے ۔۔ڈری کھڑی تھی ۔۔۔
چل اٹھ ۔۔روشائل کے باپ نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا ۔۔
آج سے یہ تیری بیوی ہے ۔اب چاہے اس کے ساتھ جو مرضی کر اسے مار یا رکھ جو بھی ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کیونکہ ہمارے لیے یہ مر چکی ہے بدچلن لڑکی ۔۔۔
ا۔۔۔۔ابا ۔۔میری ایک دفعہ بات سنیں ۔
جیسے روشائل نے کہا ۔ ارشد احمد نے اسکے چہرے پر زور سے تھپڑ رسید کیا اور کہا ۔۔
دفعہ ہو جا ۔۔بد کردار ۔۔۔مجھے تمھاری کوئی صفائی نہیں سننی جو تو ہے آج وہ ظاہر ہو چکا ہے
رو کیوں رہی ہے ۔۔اب تو تیرے عاشق سے نکاح ہو گیا ۔تیرا ۔
اور نکل جا اب ہماری زندگی سے اب کبھی ہمارے گھر کا رخ نہ کرنا ۔۔
سن لیا تم نے
ا۔۔۔۔ابا آپ کو خدا کا واسطہ ہے ایسا مت کریں میرے ساتھ
ا۔۔۔اماں آپ ابا کو سمجھاے نہ ۔۔واقعی میں اسے نہیں جانتی ۔۔میں اس کے ساتھ نہیں جاو ں گی
خدا کے لیے ۔۔سب چپ کیوں ہو گئے ہو ۔۔کچھ تو بولو ۔۔تسمیہ ۔امی ۔۔
وہ چلا رہی تھی لیکن ۔۔کوئی اسکی فریاد نہیں تھا ۔۔
ارشد احمد اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹتا ہو ا باہر ۔دروازے تک لے گیا ۔۔
دفع ہو جا یہاں سے
ارشد احمد نے یہ کہتے ہوے دروازہ
ابا میں نے کچھ نہیں کیا ۔میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔
**********************
وہ بے ہوش و حواس چل رہا تھا شاویز کو یوش تک نہیں تھی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے
روشائل اس کے پیچبے پخچبے تک۔۔تھی اسکی سسکیوں سے اسکا چہرہ بھیگ چک تھا ۔۔لیکن وی نشے میں زھند آگے بڑھ رہا تھا اسے اس کے ساتھ جانا پڑا اور وہ کرتی ہی کیا ۔۔اسکے سارے رستے تو بند کر دیے تھے شاویز نے ۔۔آج سے وہ اپنی ساری زندگی اسکے نام کر بیٹھی تھی ۔
ابھے شہریار ۔۔یہ شاویز ۔کس کو ساتھ لے کر آ رہا ہے
جیسے شہریار نے دیکھا ۔۔وہ وہی ہکا بھکا رہ گیا شاویز آگے نشے میں دھند لڑکھڑا کر چل رہا تھا اسکے پیچھے وہ چل رہی تھی
لو ۔۔کر آیا میں ایڈوینچر۔
جیسے شاویز نے کہا ۔ارسل شاویز کے قریب گیا ۔۔
اور کہا
ابھے سالے یہ کیا کر آیا ہے ۔۔
ک۔۔کچھ نہیں میں نے کیا کیا ہے ۔۔
نکاح کر لیا تم ب
نے اسکے ساتھ ۔۔۔
جیسے ارسل نے کہا ۔۔شاویز ہسا اور کہا
نہیں نہیں بس ایک جگہ دستخط کیے ہیں اور پتا ہے میں نے ادھر جا کر کیا کہا ۔۔
جیسے شاویز نے کہا
روشائل کا دل پھٹ گیا ۔۔ایسا لگا جیسے کیسی نے اسکے جسم سے روح تک کھینچ لی لو
وہ شخص جو نکاح کو ایک دستخط کی حد تک سمجھتا ہے وہ ۔۔ساری زندگی اسے کیا تحفظ دے گا
*********************
وہ لڑکھڑاتے ہوے قدموں سے آگے بڑھا
جیسے وہ گھر کا دروازہ کھولنے لگا
اسے محسوس ہوا کوئی اسکے پیچھے ہے
جیسے اس نے رخ بدلا ۔۔
وہ دلہن کے لباس میں ملبوس تھی دونوں ہاتھ زور سے پیچے تھے سسکیوں کی آواز آرہی تھی
آپ ۔۔آپ کون ہیں میڈم اور یہاں کیا کر رہی ہیں
جیسے شاویز نے کہا
روشائل نے چونک کے شاویز کی طرف دیکھا
وہ میری زندگی میں آیا تھا
خوابوں کا شہزادہ بن کے نہیں
زندگی کچھ ہی پلوں میں برباد کر گئا
میری ۔
اپنے نام میری ساری زندگی لے گیا
یہ کیسا ۔۔نکاح رشتہ ہے
کچھ ہی پلوں میں ۔۔میں مجھے ہی بھول گیا
بیوی ہوں تمھاری روشائل نے اس قدر زور سے کہا ۔۔کہ وہ پیچھے ہٹا ۔
میری زندگی برباد کر دی تم نے ۔۔اور مجھ سے پوچھ رہے ہو کون ہوں میں ۔کیا ملا ۔۔
بتاو ۔مجھے کیا ملا تمھیں میری زندگی برباد کر کے ۔کیا بیگاڑا تھا میں نے تمھارا
کیوں۔۔میرے دامن پر کیچڑ اوچھالا تم نے بتاو ۔۔
مجھے
روشائل نے شاویز کا گریبان پکڑا تھا ۔
جیسے ۔۔گیٹ کیپر نے یہ سب کچھ دیکھا وہ جلدی سے ۔۔اندر گیا ۔۔
گھر کی لائٹس آن ہو گئ ۔۔۔گھر نہیں وہ ایک اعلی شان بنگلا ۔تھا ۔
رئس زادے ہو ناں ۔ بڑا شوق ہے ایڈوینچر کرنے کا کہ یہ تک بھول جاتے ہو ۔۔کہ انسانی زندگی کے ساتھ ہی ایڈوینچر کر چھوڑتے ہو ۔۔
ک۔۔کون ہو ۔۔تم سبین مرزا
اور مرزا سکندر اپنی آنکھیں ملتے ہوے نیچے آئے رات کے 1 بج رہا تھا
میں تم سے پوچھ رہی ہوں
کون ہو تم اور ۔۔میرے بیٹے کو کیا کہہ رہی ہو
جیسے سبین نے کہا ۔۔شاویز بولا ۔۔ماما مجھے نیند بہت آئی ہے میں اپنے کمرے میں چلتا ہوں
روکو۔۔شاویز ۔۔
مرزا سکندر نے شاویز کو آواز ۔دی
بتاو ۔۔کیا کر کے آے ہو اس بچی کے ساتھ ۔۔۔
روشائل ۔۔کو مرزا سکندر کی آواز میں اپناہٹ محسوس ہوئی ۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہیں سکندر صاحب شاویز ۔۔
کو کیسے پتا ہو گا ۔۔یہ تو یہ لڑکی ہی بتا سکتی ہے ناں
بتاو ۔۔اب کیا ۔۔یہاں کھڑے کھڑے روتی رہو گی یاں کچھ بتاو گی بھی ۔۔
وہ ابھی کچھ کہتی کہ ۔۔
سشاویز نے لڑکھڑاتی زبان میں کہا
ماما وہاں ۔اسکے گھر میں گیا ایڈوینچر کے سلسلے میں اور وہاں جا کر ۔۔۔۔
میں نے کہا ۔۔کہ یہ شادی نہیں ہو سکتی اور اسکے باپ نے کہا
کہ یہ میرے نکاح میں ہے
