Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode 23

ناول ” معصومیت “”
از زرش نور
آخری قسط
میرال اور حیدر ناشتہ کر رہے تھے تبھی حیدر کے موبائل پر کسی کی کال آئی حیدر اپنا سیل فون لے کر باہر چلا گیا۔تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا ۔ میرال کے پوچھنے پر بتایا کے دادا جی کی کال تھی مکرم عباس خان اپنے ایک خاص آدمی مختیار کے ساتھ مارا گیا ہے۔
کیا !لیکن کیسے؟؟
حیدر نے غور سے میرال کی طرف دیکھا! میرال جب تمہیں وہ لوگ پکڑ کر لے کر گئے تو تم نے ان کا چہرہ دیکھا تھا۔
نہیں ان لوگوں نے ماسک پہنے ئوۓ تھے۔
میں آپ سے کیا پوچھ رہی ہوں حیدر۔
کیا پوچھ رہی ہو؟
یہی کے آپ کے اس کزن کو کیا ہوا ہے۔
قتل کیا ہے کسی نے ۔حیدر چبا چنا کر بولا۔
قتل ! کیسے، کہاں۔
گاؤں کے باہر دونوں کی لاشیں ملی ہیں کسی نے چاقو کے وار سے دونوں کو ختم کیا ہے۔
میرال ابھی مزید سوال جواب کے موڈ میں تھی لیکن حیدر ناشتہ ختم کر کے اٹھ گیا۔کمرے میں پہنچا تو سکندر صاحب کی کال آ گئی۔
حیدر میرال کی جان بچ گئی تھی نہ پھر یہ سب کیوں کیا ہے۔
تاکہ آئندہ میری فیملی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کے لئے میرے دشمن بھی سو بار سوچے۔
وہ تمہارا کزن تھا۔
اس نے میری میرال کو اپنی طرف سے ختم کر دیا تھا ۔میں اس پر کسی ٹیڑھی آنکھ بھی برداشت نہ کروں اور اس نے اسے موت کے منہ میں پہنچایا۔


شہباز خان میرال اور حیدر کا دھوم دھام سے ولیمہ کرنا چاہتے تھے لیکن حیدر نہیں مان رہا تھا۔
میرال ایک میگزین لے کر حیدر کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
کیا پڑھ رہی ہو؟
پڑھ تو نہیں رہی دیکھ رہی ہوں۔
اوکے کیا دیکھ رہی ہو؟
میں یہ برائیڈل ڈریس دیکھ رہی ہوں نہت خوبصورت ہے۔
حیدر نے میرال کے ہاتھ سے وہ میگزین لے لیا۔اس میں ایک مشہور ماڈل گولڈن کلر کے لہنگے جس پر گولڈن ہی کام کیا ہوا تھا پہنے ہوۓ تھی۔حیدر کو بھی وہ بہت آچھا لگا۔میرال میری اور تمہاری شادی تو بہت ہی اچانک ہوئی تھی ۔ کیا تمہیں بھی دل کرتا ہے کے کاش تم بھی دلہن بنتی۔
ہاں دل تو کرتا ہے لیکن آپ کو آچھا نہیں لگتا یہ سب تو مجھے بھی نہیں آچھا لگتا۔


حیدر نے دادا جی کو بولا کے وہ سب کو ولیمے کی دعوت دے دیں زیادہ لوگوں کو تو نہیں لیکن ہاں بس میرال کے گھر والے اور حیدر کے گھر والے اور ننھیال والوں کو۔
شہباز خان کو بھی حیرت ہوئی کہاں تو مان ہی نہیں رہا تھا اور اب خود ہی کہہ رہا ہے۔
حیدر نے میرال کے لئے وہی ڈریس لیا تھا اسے زیب تن کر کے آج میرال کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔حیدر نے خود بھی بلیک ٹیکسیٹو سوٹ پہن رکھا تھا جو بھی دیکھ رہا تھا وہ دیکھتا ہی رہ جاتا تھا۔
وہ میرال کے ساتھ سٹیج پر آ کر بیٹھا تو میرال اسے یک تک دیکھ رہی تھی اور واقعی وہ آج اتنا پیارا لگ رہا تھا کے اس سے نظر ہی نہیں ۂٹ رہی تھی۔میرال یہ سین میری طرف سے ہونا چاہئیے تمہاری طرف ے نہیں حیدر نے میرال کو خود کو تکتے دیکھ کر کہا ۔ میرال نے جلدی سے نظریں جھکا لیں۔
حیدر کی نانی ان کے ساتھ سٹیج پر آکر بیٹھی تو حیدر نے انہیں خود ہاتھ پکڑ کر سٹیج پرچڑھیاانہیں بیٹھا کر وہ گیا اور باری باری میرال کی نانی اور اپنی دادی کو بھی لی کر آیا اور پھر ان تینوں کو درمیان میں بیٹھا کر حیدر اور میرال ان کی سائیڈ پر بیٹھ گئے اور ان کے ساتھ تصویریں لیں۔
ولیمے کا فنکشن ایک ہوٹل میں تھا ہوٹل سے سب لوگ واپس اپنے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔
حیدر میرال کو گھر لے کر آیا تو میرال حیدر سے ناراض ہو گئی۔
ارے ہوا کیا ہے کچھ نتاؤ تو سہی ۔ ہونا کیا ہے حیدر صکندر انکل اور ندا آنٹی کو میں نے بہت کہا کے وہ گھر چلیں لیکن آپ نے ایک بار بھی انہیں نہیں کہا وہ بار بار آپ کی طرف دیکھ رہے تھے دونوں کے آپ انہیں کہیں گے لیکن آپ نے سب کو کہا لیکن انہیں نہیں۔آپ نے شانزے کو بھی نہیں کہا وہ آپ کی بہن ہے اور آپ سےبہت پیار کرتی ہے۔ یار مجھے دل نہیں کرتا جب ان سب کی مجھے ضرورت تھی تو ان لوگوں نے میرےُساتھ بھی ایسا ہی کیا۔بھول جائیں سب کچھ حیدر ۔
اوکے حیدر مفاہمتی انداز میں بولا۔
حیدر نے اسی وقت موبائل نکال کر حیدر کے نمبر پر کال کی انہوں نے دوسری ہی بیل پر کال اٹھا لی ۔حیدر خیریت ہے وہ پریشانی سے بولے ہم لوگ ابھی تو آۓ ہیں ۔
جی پاپا خیریت ہے وہ آپ لوگ گھر نہیں آۓ ۔ میں نے اس لئے کال کی ہے ہم لوگ ایک ہفتے کے لئے موریشیس جا رہے ہیں واپس آئیں گے تو آپ لوگ آئیے گا۔
جی ضرور سکندر حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے بولے۔وہ بہت خوش ہو گئے تھے۔کال بند کر کے حیدر نے میرال کی طرف دیکھامیڈم اب خوش ۔
جی خوش لیکن حیدر آپ تو مجھے بگاڑ دیں گے میری ہر بات مان کر ۔ کوئی بات نہیں میں رشتوںکے معاملے میں ویسے بھی بہت غریب ہوں سب کے حصے کا تم ہی منواُلینا۔
حیدر میرال کا لہنگا ہٹا کر اپنے بیٹھنے کی جگہ بنائی۔
اس نے میرال کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور سونے کے کنگن اسے پہناۓ ۔میرال میں تمہیں ہمیشہ بہت خوش رکھوں گا تمنے میری زندگی میں شامل ہو کر مجھے مکمل کر دیا ۔دور کہیں چاند ان دونو ن کے ملن پر ہنس رہا تھا آج دو ادھورے لوگوں نے مل کر اپنی زندگی مکمل کر لی تھی۔
جو مقصود ہو وہ آپ تک پہنچےگا چاہے دو پہاڑوں کے درمیان میں ہی کیوں نہ ہو ۔
جو مقصود نہیں ہے وہ نہیں پہنچے گا چاہےوہ آپ کے دو ہونٹوں کے درمیان میں ہی کیوں نہ ہو۔۔
ختم شد
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️