Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

ناول “” معصومیت””

از زرش نور

قسط نمبر ۹

احمر کے ساتھ میٹنگ کے بعد پی سی ہوٹل کی لابی سی گزرتے ہوۓ حیدر سکندر کے ہونٹوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ تھئ۔اس نے احمر کی کمپنی کے ساتھ کے ایک کانٹریکٹ سائن کیا تھا جس میں حیدر انویسمینٹ کر رہا تھا۔ وہ یہ سب ان کی فیملی سے قریب ہونے کے لئے کر رہا تھا۔ ایسی چھوٹی موٹی ڈیل اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ اس کا مشن اب بس میرال کو پانا تھا۔کیونکہ وہ جان چکا تھا کے وہ بہت معصو م ہے اور وہ اس سی کالز پہ بات کر کے یا کسی اور طریقے سے نہیں بلکہ پورے عزت واحترام سے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا۔

احمر بہت خوش تھا حیدر سے ملاقات کے بعد اس نے سب سے پہلے وھاب صاحب کو کال کر کے ڈیل کی کامیابی کا بتایا۔
انہوں نے احمر کو مبارک باد دی۔
وھاب احمر سے بات کر رہے تھے تبھی
ریحانہ بیگم ان کے پاس آئیں !!
بھائی صاحب آپ کو اماں جی اور ابا جی اپنے کمرے میں بلا رہے ہیں۔
جی میں آتا ہوں ۔

وھاب میں نے ایک فیصلہ کیا ہے اگر تمہیں اعتراض نہ ہو تو۔
جی بو لئیے ابا جی ۔
وھاب میں چاہتا ہوں میرال اپنے گھر کی ہو جاۓ اور میں احمر اور اس کی بات پکی کرنا چاہتا ہوں ۔ کیا تمہیں کوئی اعتراض ہے۔
نہیں ابا جی بالکل بھی نہیں ۔میرال تو مجھے بہت عزیز ہے میری بہن کی نشانی ہے۔ میں تو ہمیشہ سے ہی ایسا چاہتا تھا۔
ٹھیک ہے پھر تم پلوشے اور احمر سے بات کر لو۔

تمہیں اعتراض کیا پلوشہ ؟
میں اپنی بھانجی حیا سے احمر کا رشتہ کرنا چاہتی ہوں ۔
تم عاطر کا جہاں دل کرے کر لینا۔میں ابا جی کو زبان دے چکا ہوں اور مجھے میرال بہت عزیز ہے۔
تبھی دروازے پر دستک دے کر میرال اندر آئی اندر کا ماحول دیکھ کر اسے لگا کے وہ غلط وقت پر آگئی ہے۔
ممانی آپ کو مامی بلا رہی ہیں کچن میں۔
مر گئی ہے ممانی!! وہ بڑبڑائیں۔
میرال حیران ہو کر انہیں دیکھنے لگی۔
اب کیا دیکھ رہی ہو جاؤ بی بی آ رہی ہوں۔
بیٹا آپ جاؤ اماں جی کے پاس اب کی بار وھاب صاحب بولے۔
جی ! وہ دلگرفتہ سی وہاں سے چلی آئی۔
کیا کرتی ہو کیسے بات کر رہی ہو بچی سے۔
یہی تو ہے سارے فتنے کی جڑ۔
میں تمہیں سمجھا رہا ہوں دوبارہ اس طرح کی بدتمیزی نہیں چلے گی!آئی سمجھ۔
وہ ہنہہ کہہ کر کمرے سے نکل گئیں۔

رات کو وھاب نے احمر کو اپنی سٹڈی میں بلایا۔
احمر مجھے تم سے ایک اہم بات کرنی ہے بیٹا تمہاری دادی اور دادا نے تمہارے اور میرال کے رشتے کی بات کی ہے لیکن انہوں نے کہا ہے کے میں تم سے پوچھ لوں اگر تمہاری مرضی ہو تو میں انہیں ہاں کہہ دوں۔نہیں بابا دادا اور دادی نے یہ بات سوچی بھی کیسے کے میں اس ان پڑھ گوار سے شادی کروں گا۔
شٹ اپ احمر! تم بھی اپنی ماں کی زبان میں بات کر رہے ہو۔
سوری بابا لیکن یہ حقیقت ہے ایک تو وہ پڑی نہیں ہے اور ساتھ میں وہ بہت بزدل اور دبو سی لڑکی ہے۔ مجھے اپنی لائف پارٹنر کنفیڈنٹ اور ویل ایجوکیٹیڈ چاہئیے ۔ جو میرے سوشل سرکل میں آسانی سے ایڈجسٹ ہو سکے۔
احمر وہ مجھے بہت عزیز ہے۔میں تمہیں عاق کر دوں گا۔
نہیں ماموں !! اسی وقت میرال کمرے میں داخل ہوئی۔
ماموں کیا آپ بھی سمجھتے ہیں کے آپ کی بیٹی اتنی گئی گزری ہے کے آپ کسی کی منتیں کریں گے وہ مجھ سے شادی کر لے۔
نہیں بیٹا میں جانتا ہوں وہ بہت خوش نصیب ہو گا جس کا تجھ سے نصیب جڑے گا۔
لیکن بیٹا میں اماں جی اور ابا جی کو کیا منہ دیکھاؤں گا۔
وہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔
ٹھیک ہے! وھاب صاحب نے خشمگیں نظروں سے بیٹے کو دیکھا۔

❤️🧡💛💚💚💜🖤🤎💗💓💞💕❣️💖💘💝💟