Masoomiyat By Zarish Noor Readelle50109 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
ناول “” معصومیت””
از 🖋 زرش نور
قسط نمبر ۱۹
حیدر ائیر پورٹ پہنچ کر میرال کو کال کی اس کی آواز سنتے ہی میرال نے پھر سے رونا شروع کر دیا ۔ حیدر تھوڑی دیر میرال کے چپ ہونے کا انتظار کرتا رہا لیکن جب کافی دیر بعد بھی وہ چپ نہ ہوئی تو وہ بولو میرال اب اگر تم ایک آنسو بھی اور بہایا تو میں ابھی کے ابھی واپس آ جاؤں گا۔ میرال نے اپنے آنسو پونچھ لئے اور حیدر نے چند اور باتیں کرنے کے بعد کال بند کر دی اور اسے اپنا بہت سارا خیال رکھنے کی تاکید کرنا نہیں بھولا۔
یہاں پر اپنے آفس کی تمام زمہ داریاں وہ وہاج کے سپرد کر گیا تھا۔ وہاں پہنچ کر بھی وہ روز میرال کو دو سے تین بار کال کرتا تھا۔ میرال کو سارے دن میں بس اسی وقت کا انتظار رہتا تھا جس وقت اس کی کال آتی تھی۔ حویلی میں بہت سارے ملازم تھے کرنے کے لئے کام کوئی تھا نہیں۔ پھر بھی میرال ملازموں کے سر پر کھڑے ہو کر کھانا پکواتی وہ بس حیدر کے آنے تک خود کو مصروف رکھنا چاہتی تھی ۔ دادی اس کو حیدر کے بچپن کی باتیں بتاتی تھی کے جب اس کی ماں فوت ہوئی تو وہ کیسے بلک بلک کر روتا رہا اور پھر اس کے بعد اس نے اپنے گرد ایک خول چڑھا لیا وہ اپنے دادا کے علاوہ کسی سے باتیں شئیر نہیں کرتا ۔ انہیں اس کے ہر کام کی خبر ہوتی ہے وہ ان سے بہت محبت کرتا ہے اور وہ بھی اپنی ہر بات ان سے شئیر کرتا ہے۔ باپ سے تو عرصہ ہوا اس نے دعا سلام کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ لیکن ہاں اسے شایان اور شانزے سے بہت پیار ہے۔اپنی ماں کی نسبت سے اسےاپنے ننھیال والوں سے بھی پیار ہے وہاں بھی جاتا رہتا ہے۔
اس کے دادا تو چاہتے تھے کے وہ اس کی شادی نہ سہی اس کا ولیمہ ہی کر دیں وہ چاہتے تھے بہت شاندار طریقے سے سیلیبریٹ کریں گے لیکن وہ نہیں مانا کہتا ہے جو پیسے آپ میرے ولیمے پر خرچ کریں گے اس سے کسی غریب کو دے کر اس کا بھلا کر دینا۔ اللہ بخشے اس کی ماں کو وہ بھی ایسی ہی تھی تمہاری اور اس کی عادتیں بہت ملتی ہیں ۔ پہلے تمہیں دیکھ کے میں نے سوچا اس نے تم سے کیوں شادی کی ہے تم سے زیادہ خوبصورت لڑکیاں تو اس کے یونیورسٹی دور میں یہاں ہمارے گھر آتی رہی۔ لیکن جب سے تم یہاں آئی ہو تمہاری عادات تمہارا اٹھنا بیٹھنا دیکھ کر مجھے سمجھ آئی کے اس نے تم میں اپنی ماں کی شخصیت دیکھی ہے۔ اس کی ماں تو چلی گئی اس دنیا سے لیکن وہ ہر عورت میں اپنی ماں کو ہی ڈھونڈتا رہا ہے۔اس کا خیال رکھنا میرے بیٹے بہت اذیت والی زندگی گزاری ہے۔
میرال رات سونے کے لئے لیٹی تو اسے دادی کی ساری باتیں دماغ میں گونجنے لگی۔اس نے سوچ لیا کے وہ بھی اس کا ایسے ہی خیال رکھے گی جیسے وہ اس کا خیال رکھتا ہے۔
اس وقت ناشتے پر سب لوگ موجود تھے۔دادا جی حیدر نے کال پر بتایا تھا کے آج ان کے نانا آئیں گے۔وہ مجھے لینے آ رہے ہیں اگر آپ کی اجازات ہو تو میں جاؤں۔
شہباز خان کو آج سے ۳۰ سال پہلے کی ایسی ہی ایک صبح یاد آ گئی۔”” ابا جی مجھے لینے آج بابا آئیں گے اگر آپ کی اجازات ہو تو میں ان کے ساتھ جاؤں۔””انہیں لگا آج پھر ان کے سامنے سمعیہ بختاور کھڑی ہے۔
شہباز صاحب میرال پتر آپ سے کچھ پوچھ رہی ہے۔”ثریا بیگم نے شہباز خان کا کندھا ہلایا تو وہ ؤاپس حال میں لوٹے۔”
جی بیٹا چلی جانا۔
**”
حیدر نے دادا کو کال کی جی دادا جی میرال چلی گئی ہے۔ جی بیٹا چلی گئی ہے وہ مجھ سے اجازات لے کے گئی ہے وہ جانتے تھے کے وہ یہی بات جاننا چاہتا ہے کے وہ ان سے پو چھ کر گئی ہے کے نہیں۔وہ اسے اس سے زیادہ جانتے تھے۔
حیدر کی میرال سے بات ہو چکی تھی وہ جانتا تھا کے وہ یہاں سے جا چکی ہے ۔ اس نے میرال سے نہیں کہا تھا وہ دادا جی سے پوچھ کر جاۓ لیکن وہ چاہتا تھا کہ جن سے وہ پیار کرتا ہے اور جن لوگوں کی وہ عزت کرتا ہے ان سب کی میرال بھی عزت کرے اس کے کہنے سے نہیں بلکہ اپنے دل سے۔
میرال حیدر کی نانی سے مل کر بہت خوش ہوئی وہ اس سے بہت پیار سے ملی انہوں نے اپنی بہوؤں پوتوں سے سب سے ملایا میرال کو سب بہت پیار سے ملے لیکن حیدر کے ماموں کا بڑا بیٹا جس کا میرال کو نام بھی نہیں پتہ تھا وہ کچھ عجیب طرح سے میرال کو دیکھ رہا تھا میرال کا اس کو دیکھ کر عجیب خوف محسوس ہوا۔
نانی نے گاؤں سے آنے والے سب لوگوں سے میرال کو ملایا اور ساتھ کہیں یہ میرے حیدر کی دلہن ہے میری سمعیہ کی بہو۔ میرال کو یہاں آ کر بہت آچھا لگا لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی زندگی میں کیا طوفان آنے والا ہے۔
اس کی یہ ہستی بستی زندگی کون سے طوفان کے زیر اثر آ چکی ہے۔
حیدر کو آج بہت بے چینی تھی وہ صبح سے اب تک کوئی سات دفعہ میرال کو کال کر چکا تھا ۔ ہر بار اس کے پوچھنے پر وہ اسے بتاتی کے وہ بالکل ٹھیک ہے۔ حیدر نے دادا کو بھی کال کی انہوں نے بھی اسے بتایا کے وہ ٹھیک ہیں ۔
حیدر نے اپنی اس قدر بے چینی کی وجہ سے اپنا باقی کا کام اپنے ایک دوست کے سپرد کر پاکستان کے لئے اپنا ٹکٹ کروا دیا ابھی اس کا ایک پورا ہفتہ باقی تھااس کی واپسی میں ۔ لیکن اسے لگا شاید میرال سے اتنے دن دور رہنے کی وجہ سے اسے اتنی بے چینی ہو رہی ہے۔
اس نے اپنے آنے کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا وہ دادا جی اور میرال کو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔
❤️❣️❤️❣️❤️❣️❤️❣️
آپ سب لوگوں کا بہت شکریہ ناول کو اتنا پیار دینے کے لئے۔
