Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

ناول “” معصومیت “”
از🖋 زرش نور
قسط نمبر ۱۲

بلیک کلر کی مرسڈیز اس وقت تیز رفتاری کے ساتھ گاؤں کی طرف بڑھ رہی تھی ۔اس میں بیٹھا حیدر سکندر بہت احتیاط کے ساتھ ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ اس وقت اس کے ساتھ کوئی اور بھی موجود تھا وہ بہت غصے میں لگ رہا تھا۔ اس کے ساتھ موجود دوسرا وجود دروازے کے ساتھ چپک کر بیٹھی تھی۔ اور یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کہ نہ جانے اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔گاڑی جوں ہی گاؤں کی حدود میں داخل ہوئی اسے لگا کہ اب وہ اپنے حواس کھو دے گی۔ حویلی کے اندر جوں ہی گاڑی داخل ہوئی حیدر تیزی سے گاڑی سے نکلا اور دوسرے وجود کو گھسیٹتے ہوۓ اندر لے جا کر بڑے ہال میں صوفے پر پھنکنے کے انداز میں بٹھایا ہال میں موجود اس وقت گھر کے ساری ہی لوگ موجود تھے۔ سکند شہباز خان اٹھے اور آ کر حیدر کو ایک زور دار تھپڑ رسید کیا اس کے بعد وہ زویا کی طرف بڑھے لیکن راستے میں حیدر دیوار بن گیا۔ میں اسے یہاں واپس اسی شرط پر لایا ہوں کے اسے کوئی ہاتھ نہیں لگاۓ گا۔
تم یہ کہہ کر سکندر خان حیدر کی طرف بڑھے ۔
سکندر رک جاؤ !! میں نے اسے یہ گارنٹی دی تھی ۔
سکندر مٹھیاں بھینچ کر ایک طرف بیٹھ گئے اور خون خوار نظروں سے دونوں کو دیکھنے لگے۔
بس جو ہونا تھا ہو چکا !! اب آگے کی سوچئے فاروق جو بیٹی کی حالت سیکھتے ہوۓ پریشان سے کہہ رہے تھے۔
ہہم !! ٹھیک کہہ رہے ہو تم فاروق تمُ لڑکے والوں کو کوئی بہانہ بنا کر نہ کر دو اور آج شام کو حیدر اور زویا کا نکاح ہو گا۔
حیدر کو لگا اس کے سر پرکسی نے بم برسا دیا ہو ۔ وہ ایک جھٹکےسے مڑا۔
لیکن میں زویا سے نکاح نہیں کروں گا۔
کیوں نہیں کرو گے اب کی بار شہباز کی غصے سے بھری گرج دار آواز آئی۔جب تم اسے گھر سے بھگا کر لے جا سکتے ہو شادی کیوں نہیں کر سکتے۔
میں! میں اسے گھر سے بھگا کر لے کے گیاہوں۔
لڑکی بولو کیا میں تمہیں گھر سے بھگا کر لے کر گیا ہوں ۔ حیدر نے اپنی توپوں کا رخ زویا کی طرف کیا۔
سب لوگوں کی نظریں اس بار زویا پر جمی تھیں زویا نے سب کی طرف دیکھا اور ہولے سے گردن اثبات میں ہلا دی۔
حیدر یک ٹک اس کے جھوٹ پر اسے دیکھنے لگا ۔
زویا نے ایک نظر حیدر کے بے یقین چہرے پر ڈالی اور واپس جھکا لی۔
زویا کا جواب سن کر سب لوگ ایک ایک کر وہاں سے جانے لگے اور حیدر وہاں اکیلا رہ گیا۔ تبھی حیدر کے موبائل رنگ ہوئی اس کا اس وقت کسی سے بھی بات کرنے کا دل نہیں کر رہا تھا۔ حیدر نے کال کاٹنے کے لئے موبائل نکالا لیکن سکرین پر موجود نمبر دیکھ کر اس نے جھٹ سے کال ریسیو کی۔


میرال کا آج پہلا پیپر تھا وہ پیپر دے کر نکلی تو تیز بارش تھی صبح جب وہ گھر سے نکلی تھی تو ہلکی ہلکی بوندہ باندی تھی لیکن اس وقت لگ رہا تھا کے ایک طوفان آیا ہوا ہے ساتھ میں کالی اندھیری رات کافی دیر وہ انتظار کرتی رہی پھر اللہ کا نام لے کر کانپتے دل کے ساتھ نکل پڑی تھوڑا سا ہی آگے چلی تھی اس کے سارے کپڑے گیلے ہو گئے۔ چادر بھی گیلی ہو کر جسم کے ساتھ چپک سی گئی۔اگلے بس سٹاپ پر وہ بیٹھ گئی اور گاڑی کا انتظار کرنے لگی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کے پورے شہر میں ایک سیلاب آ چکا ہے اور آج اس کا گھر پہنچنا مشکل ہی ہے۔
کافی دیر انتظار کے بعد اس نے پاس کھڑے دو تین لوگوں سے گے بس نہ آنے کی وجہ پوچھی ۔
بی بی کس دنیا میں ہو اتنی بارش ہو چکی ہے پورے شہر میں سیلاب آیا ہوا ہے ۔ آج کوئی گاڑی نہیں آۓ گی۔
میرال کی تو جان پر بن گئی اگلے دس منٹ میں میرال نے احمر ،عاطر، وھاب ماموں،فرقان ماموں سب کے نمبر ٹرائی کر چکی تھی لیکن کسی کا نمبر نہیں مل رہا تھا۔وہ روہانسی ہو گئی اور ہمت کر کے اس نے قدم آگے بڑھاۓ تھوڑا سا ابھی آگے گئی تھی کے وہ اپنی دونوں چپلوں سے بھی محروم ہو گئی۔ وہ واپس پہلے والی جگہ پر آ گئی اور بیٹھ کر رونا شروع کر دیا۔آس پاس کھڑے لوگ حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے۔میرال نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ پھر سے موبائل نکالا اور باری باری سب کے نمبر ایک بار پھر سے ٹرائی کیے۔لیکن کسی کا بھی نمبر نہیں مل رہا تھا۔اپنے کونٹیکٹ چیک کرتے ہوۓ ایک نمبر پر وہ رک گئی اور پھر کچھ سوچ کر نمبر ڈائل کر دیا۔


حیدر نے کال ریسیو کی اور دوسری سائیڈ کی بات سن کر اندھا دھند گاڑی کی طرف بڑھا اور کسی کو بتاۓ بغیر گاؤں سے نکل آیا۔اس کے بس میں نہیں تھا کے وہ گاڑی کو اُڑا کر مطلوبہ مقام تک پہنچا دے۔ بہت ہی ریش ڈرائیونگ کر کے وہ اگلے ڈیڈھ گھنٹے میں وہ وہاں موجود تھا آگے بیٹھے ہوۓ وجود کو دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔ لیکن اس کی حالت دیکھ کر وہ اپنے آپ سے شرمندہ ہو گیا۔اس نے پاس جا کر اس کا بیگ اٹھایا اور وہ بھی خاموشی سےساتھ چل پڑی۔ اسے گاڑی میں بیٹھا کر وہ ایک قریبی دوکان میں چلا گیا تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا۔ گاڑی میں بیٹھ کر اس نے بیگ میں سے چپل نکال کر اس کے پیروں میں رکھے اور چادر اس کی گود میں رکھ دی۔ میرال نے بھی بغیر حیل وحجت کے اس نے دونوں چیزیں لے لیں۔اس نے بلیک کلر کی خوبصورت کڑاھائی والی شال رکھی تو حیدر کچھ دیر کے لئے مبہوت ہو کر اسے دیکھنے لگا۔اس نےُسوچا کے کاش وقت یہی رک جاۓ۔


آفریدی منزل میں اس وقت سب لوگ پریشان تھے پلوشے بیگم تھوڑی دیر کے بعد سرد آ ہیں بھر رہی تھیں تبھی گیراج میں گاڑی رکنے کی آواز آئی تھوڑی دیر کے بعد میرال اندر داخل ہوئی اور اس کے پیچھے حیدر اندر آیا۔ میرال آ کر نانی کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی ۔ احمر اٹھ کر حیدر سے ملا باقی سب بھی میرال کو اگنور کر کے حیدر کی طرف بڑھے سب سے مل کر حیدر نے بتایا کے میں گزر رہا تھا تو دیکھا یہ سٹاپ پر بیٹھی نظر آئیں ۔ یہ اپنے جوتے بھی کھو چکیں تھیں تو میں انہیں گھر چھوڑنے چلا آیا۔
اس کی بات سن کر سب نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ حیدر نے میرال کی طرف دیکھا تو اس نے مشکور نظروں سے اسے دیکھا۔
تبھی پلوشے بیگم بولیں بی بی تم اس وقت کی تھی کہاں ۔ احمر نے اپنی ماں کو اشارے میں چپ رہنے کو کہا لیکن وہ نظرانداز کر گئیں۔
حیدر نے دیکھا کے میرال سہم سی گئی۔تبھی وہ بولا آنٹی شہر کے حالات بہت خراب تھے۔
پلوشے بیگم کو حیدر کا اس کی حمایت کرنا آچھا نہیں لگا۔
نہ بیٹا ہمیں تو اس پہ یقین نہیں نہ جانے کہاں منہ کالا کر کہ آئی ہے۔
حیدر نے حیرانگی سے انہیں دیکھا یہ آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔
بیٹا جی آپ خود بتائیں ایسی لڑکی کے ساتھ کوئی شادی کرے گا جو آدھی رات کو کسی غیر مرد کے ساتھ ایسی حالت میں گھر آۓ۔
خیر کسی کو چھوڑیں کیا آپ ایسی لڑکی کے ساتھ شادی کریں گے۔
بس اس کے بعدحیدر کی برداشت ختم ہو گئی۔
حیدر جا کر یاور خان کے قدموں میں بیٹھ گیا اگر آپ مجھے اس قابل سمجھیں تو میں میرال سے ابھی میرال سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔

❤️💖💕💓💟💝💚💜🤎💞💘💗💛🧡🖤💙