Masoomiyat By Zarish Noor Readelle50109 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
ناول””معصومیت””
از🖋 زرش نور
قسط نمبر ۱۴
میرال کو صفیہ بی کمرے میں چھوڑ کر چلی گئیں تب سے وہ اس کمرے کی خوبصورتی سے اس قدر متاثر ہوئی کے ابھی تک وہ کمرے کے بیچ و بیچ کھڑی چاروں اور کمرے کو دیکھ رہی تھی جو کمرا کم اور ایک بڑا ہال زیادہ لگ رہا تھا جس میں بے شمار قیمتی فرنیچر رکھا ہوا تھا کمرے کی ایک ایک چیز سے امارات ٹپک رہی تھی جہازی سائز بیڈ جس کے دونوں سائیڈ ٹیبلز پر خوبصورت ایمپورٹڈ لیمپ کمرے کے درمیان میں چھت سے لٹکتا خوبصورت فانوس جو لائٹ جلنے سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہیرے چمک رہے ہوں۔ دیواروں پر موجود بیش قیمت پینٹنگز وہ تو دیکھتی ہی رہ گئی۔
وہ آہستہ سے چلتی ہوئی آئی اور آ کر بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی کافی دیر انتظار کے بعد بھی جب حیدر نہیں آیا تو وہ پاؤں اوپر کر کے تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔اور سارے دن کے بارے میں سوچنے لگی آج کا دن اس کے لئے بہت مشکل لیکن آج کی شام کے بعد پتہ نہیں آگے میرے لئے آسانی ہے یا میری مشکلات بڑھنے والی ہیں۔یہی کچھ سوچتے ہوۓ اسے پتہ ہی نہیں چلا کے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔
حیدر نے شہباز خان سے طویل گفتگو کے بعد کال کٹ کی تبھی اس کا چوکیدار منور اس کی طرف بڑھا صاحب باہر گاؤں سے صنوبر آیا ہے وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔
بیھجو اسے اندر۔
اسلامُ علیکم صاحب
وعلیکم سلام! صنوبر اس وقت کیسے آنا ہوا۔
صاحب جی بس خبر ایسی تھی جو آپ کو لازمی بتانا تھی ۔
بولو کیا بات ہے ۔
صاحب آپ کے نانا کے گاؤں کے ساتھ والے گاؤں دیوی کے چوہدری دلاور کی اور آپ کے دادا کی کافی سالوں سے ان بن چل رہی ہے لیکن اس سال فصل کے لئے پانی کے سلسلے میں کچھ زیارہ ہی مسئلہ ہے۔ اس لئے مجھے گاؤں کے ایک آدمی نے بتایا ہے کے اس نے کچھ آدمی شہر بھیجے ہیں جن کو مقصد آپ پر حملہ کرنا ہے تاکہ بڑے صاحب کو ادھر لگا کر گاؤں کی فیصل خراب کر سکے۔ میں اسی لئے فورا سے پہلے آپ کے پاس پہنچا کہ آپ کو بتا دوں تاکہ آپ کوئی اپنی حفاظت کا انتظا م کر سکیں ۔
شکریہ صنوبر میں دیکھ لوں گا تمُ اب آرام
کرو۔
جی صاحب ۔
حیدر نے کچھ سوچ کر اپنے دوست ایس پی حمزہ ملک کو کال کی ضروری ہدایات کے بعد اس نے کال کاٹ دی۔اسے باتوں میں میرال کی تو یاد ہی نہیں رہی۔ وہ جلدی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا کمرے میں پہنچ کر اس نے دیکھا وہ نیم دراز سو رہی تھی حیدر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔ وہ واش روم میں گھس گیا شاور لے کر واپس آیا آ کر میرال کے اوپر کمبل ڈالا اور خود بھی وہیں سو گیا۔
میرال کی آنکھ کسی کٹھکے سے کھلی اس نے مندی مندی آنکھیں کھولی تو دیکھا حیدر نک سک سے تیار شیشے کے آگے کھڑا بال بنا رہا تھا میرال کو دیکھ کر اس کی طرف ایک نرم سی مسکراہٹ اچھالی ۔ میرال نے چہرہ پھیر لیا اور اپنے حلیے کو دیکھ کر شرمندہ ہو گئی وہ فینسی سرخ کلر کے کپڑوں میں ہی سو رہی تھی۔ اس نے بیڈ سے اتر کر چاروں طرف نظر دوڑائی اسے یاد آیا کے اس کا بیگ تو گاڑی میں ہی ہے۔
تمہارے کپڑے میں نے الماری میں لگوا دئے ہیں حیدر نے اس کی پریشانی بانپتے ہوئے اسے بتایا وہ خاموشی سے اٹھی اور کپڑے نکال کر واش روم میں چلی گئی۔
وہ باہر آئی تو وہ اپنے کوئی کاغذ ڈھونڈ رہا تھا۔
ایک نظر میرال کو دیکھ کر واپس اپنے کام میں مصروف ہوگیا ۔میرال ڈریسنگ کے آگے بیٹھ کر بال بنانے لگی اس نے سر سےدوپٹہ اتارکر گلے میں ڈالا اور کنگی کرنے لگی۔ حیدر نے میرال کے بال دیکھے اور تو دیکھتا ہی رہ گیا اس کے بال بہت بڑے تھے۔ کافی دیر اسے بالوں کے ساتھ الجھتے دیکھتا رہا پھر اٹھ کر آیا آکر میرال کے آگے سے پرفیوم اٹھایا اس دوران حیدر کا کندھا میرال کے کندھے سے ٹکرایا ۔ میرال کے ہاتھ وہیں رک گئے اس کی نظریں جھک گئیں حیدر نے جی بھر کے اسے شیشے میں دیکھا اور مسکرا کر کمرے سے نکل گیا۔
اس کے جانے پر میرال نے شکر ادا کیا اس کے سامنے بیٹھے ہونے کی وجہ سے اس سے کوئی کام ہی نہیں ہو رہا تھا ۔
تھوڑی دیر کے بعد دستک دے کر صفیہ بی اندر داخل ہوئیں بیٹا دیں برش میں آپ کو کنگی کر دیتی ہوں ۔ میرال نے خاموشی کے ساتھ کنگا انہیں دے دیا ۔ پہلی بار میرال کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی مطلب اسے پتہ چل گیا تھا کہ میں کنگی نہیں کر سکتی۔ صفیہ بی نے اس کی چٹیا کی اور میرال کو شیشے میں دیکھنے کے لئے بولا ۔
ٹھیک ہے بیٹا؟؟
جی ٹھیک ہے۔
آپ آ جائیے میں ناشتہ لگاتی ہوں آپ کے لئے ۔
میرال نے اثبات میں سر ہلایا ۔
صفیہ بی مسکرا دیں ۔
آ پ بہت خوبصورت اور معصو م ہیں اللہ پاک آپُکو ہمیشہ خو ش رکھے۔
آمین!!
صفیہ بی دنیا کےسبھی لوگ خوبصورت ہوتے ہیں بدصورتی تو ہمارے روئیوں اور سوچ میں ہوتی ہے۔اس نےُسر اوپر ا ٹھاکر دیکھا تو صفیہ بی تو کہیں نہیں تھیں لیکن دروازے پر حیدر ضرور کھڑا تھا۔
